جب سے دنیا مادر وجود میں آئی ہیں اور انسانی شعور و عقل نےاس دنیا کہ سمجھا ہے تب سے انسان دنیا کہ مختلف وطنوں میں اپنے رنگ و نسل کہ ساتھ زمانہ جھالت کہ بعد قریب رہا ہے ۔ اور قریب رہنے کا مقصد انسان کی سالمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ جب سے دنیا مادر وجود میں آئی ہیں اور انسانی شعور و عقل نےاس دنیا کہ سمجھا ہے تب سے انسان دنیا کہ مختلف وطنوں میں اپنے رنگ و نسل کہ ساتھ زمانہ جھالت کہ بعد قریب رہا ہے ۔ اور قریب رہنے کا مقصد انسان کی سالمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ انہیں ریاستوں میں لوگوں نے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے اپنی ثقافت کو اجاگر کر کے رکھا۔ یہی ثقافتیں ناصرف کہ رہنے ،سمالیت کا حصہ بنی بلکہ لوگوں کی پہچان بھی بنی ۔
ویسے دنیا میں تو کئی ممالک ہیں جن کی پہچان ان کی ثقافت بنی ۔ اور وہاں کے لوگوں کو ساتھ جوڑ کر رکھا ان میں سے پاکستان کا صوبہ سندھ بھی ایک ہے ۔ سندھ کی سرزمین تاریخی سیاسی ثقافتی اور محاشی لحاظ سے ایک شاھوکار تہذیب کی عکاسی کرتی رہی ہے ۔ جس میں تاریخ سے پہلے یا تاریخ کہ بعد آنے والے ادوار کی نشانیاں آج بھی سمائے موجود ہیں۔ سندھ کی ثقافت تاریخ کے لحاظ سے ہمشیہ لبھانے والی رہی ہے جس کا ثبوت آج بھی سندھ کے باسیوں میں نظر آتا ہے ۔ سندھ کے لوگوں کی مہمان نوازی بھی ان کی ثقافت کا حصہ ہے اور اسی ثقافت میں سندھ کی اوطاق بھی شامل ہے ۔ اوطاق سندھی معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے.
اوطاق کا ماحول
اوطاق اوئلی قدیم زمانے سے سندھ کہ لوگوں کی پہچان رہی رہے جہاں معاشرتی مسائل کو زیربحث لایا جاتا ہے بلکہ مہمان نوازی کھانے پینےاور رہنے کا بھی انتظام کیا جاتا ہے اور معاشرے کے پوشیدہ مسائل بھی زیربحث لائے جاتے ہیں ۔ سردیاں ہو یا گرمیاں دونوں میں اوطاق کا اپنا ہی ایک الگ اہم کردار رہتا ہے ۔ گرمیوں میں نماز عشاء کے بعد ایک دوسرے کے دکھ درد سننے اور سنانے اوطاق آ جاتے ہیں جو رات کے دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں چلتی رہتی ہیں ۔سردیوں میں مچ کچھری کا اوطاقوں میں انتظام ہوتا ہے جہاں پر ہر عمر کے افراد جمع ہوتے ہے بچوں سے لیکر بوڑھوں تک ایک ساتھ بیٹھ جاتے ہیں۔
اوطاق میں مچ کچھری
گاوں دہیاتوں میں اوطاقیں کسی انٹیرمینٹ جگہ سے کم نہیں ہیں وہاں پر شعر و شاعری داستان گوئی کہ ساتھ ساتھ موسیقی کی محفل بھی انقعاد کی جاتی ہے صرف یہ ہی نہیں اوطاق کو دکھ سکھ فوتگی اور شادی کے وقت لوگ جمع ہوجاتے ہیں اور ایک دوسروں کو پرسہ دینا ہو یا خوشی کا جشن منانا ہوں لوگ اکھٹے ہوجاتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں یہ جگہ انسانی زندگی سے آباد رہتی ہے ۔ شادیوں کے وقتوں میں اطاقوں میں محفلوں کا سما ہوتا ہے جب کہ دکھ کے دنوں میں اسے تعزیت کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
اوطاق میں محفل
کسی بھی معاشرے میں اوطاق جسے مسکن کا ہونا انتھائی اہم مانا جاتا ہے جو کہ سندھ کے لوگوں کو ان کے ابا و اجداد کی وراثت میں منتقل ہوتا آیا ہے ۔ جدید انسانی معاشرے میں اوطاق جسیے مسکن کا ہونا اہم و لازم جزو ہے جہاں انسان اپنی زندگی کی الجھنے میں بیٹھ گیا ہے اوطاق انسانوں کو آپس میں جوٰڑے رکھنا کا واحد ذریعہ ہے جہاں دکھ و سکھ کو بانٹا جائے۔