Bandhani : The craft of Khatri Community
Text, audio and photo story by Sumair Abdullah
May 28, 2021
Bandhani : The craft of Khatri Community
Text, audio and photo story by Sumair Abdullah
May 28, 2021
چُنری کے کام سے وابستہ لوگ اپنا پیشہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے
ایک وقت تھا جب شادی بیاہ میں خواتین کے لیے چُنری کا استعمال ایک عام بات تھی۔ مگر کچھ سالوں سے اس روایت میں کمی آتی جارہی ہے۔
پاکستان کی آزادی کے بعد بھارت سے آنے والوں میں کھتری برادری بھی شامل تھی جو اب پاکستان کے شہر کراچی میں مقیم ہیں۔ یوں کھتری برادری کے پاکستان آنے کے بعد سے چُنری کی روایت پڑ گئی تھی۔
محمد سہیل کھتری کا تعلق کراچی کی جونامارکیٹ برتن بازار سے ہے۔ وہ کہی دہائیوں سے چُنری کے کام سے منسلک ہیں۔ سہیل کھتری کے مطابق، ان کی دُکان سے زیادہ تر ہندو اور کھچی کمیونٹی کی خواتین ہی یہ چُنری خریدتی ہیں کیونکہ شادی کے موقع پر دلہن کو پہنائی جاتی ہےجبکہ مسلمانوں کی کھتری کمیونٹی میں اس چُنری کا استعمال بہت کم ہوگیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ، کچھ خواتین صرف بطورِ فیشن ہم سے یہ چُنری خریدتی ہیں۔ ہمارے پاس مختلف کاریگر ہیں جو یہ چُنری تیار کرتے ہیں جبکہ ثقافتی چُنری اندرونِ سندھ میں موجود ہیں بوڑھی خواتین تیار کرتی ہیں۔
سہیل کھتری کے مطابق، ماضی میں ململ کے کپڑے پر یہ چُنری تیار کی جاتی تھیں لیکن اب کاریگرنہ ہونے کی وجہ سے شیفون کے کپڑے پر چُنری تیار کی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ،جونا مارکیٹ کراچی میں ان کی دُکان کے علاوہ بھی چُنری کی 4 دُکانیں موجود تھیں لیکن کام اور کاریگر نہ ہونے کی وجہ سےاُن دکانداروں نے یہ پیشہ چھوڑ دیا۔ اب وقت کے ساتھ ساتھ یہ پیشہ ختم ہوتا جارہا ہے کیونکہ یہ کام صرف اُنہی افراد کو آتا ہے جو بھارت سے سیکھ کر آئے تھے ، پاکستان میں اس کام کے کاریگر موجود نہیں۔