Khairpur's Dates خیرپور کی کھجوریں
Khairpur's Dates خیرپور کی کھجوریں
Text, photos & video: Abdul Karim Memon
July 19, 2021
صوبہ سندہ کا تاریخی شہر ضلعہ خیرپور میرس اپنی منفرد و ساھوکار تھذیب و تمدن کو سمائے آج بھی اسی رواداری کہ ساتھ خطے پاکستان میں موجود ہے۔ خیرپور شہر کی پہچان اسکا تاریخی قلعہ کوٹڈیجی، فیض محل و دیگر سیاحتی مقامات ہیں۔
اس شہر سے تعلق رکھنے والے کئیں افراد نے سیاست، ادب، فلسفہ، سماجیات و تعلیم کہ میدان اپنی خدمتیں سرانجام دی ہیں۔ پاکستان کہ سب سے بڑے، حفتہ زبانے شاعر و صوفی بزرگ حضرت سچل سرمست کا تعلق بھی اسی ضلعہ سے ہے۔
اس کہ علاوہ اس شہر کی مقبولیت کو چارچاند لگانے والی چیز اس کا سابقہ شاہی ریاست ہونا، اور یہاں کی موجودہ شاہی کھجوروں کا گڑھ ہونا ہے۔
یہاں سے برآمد کی گئی کھجوروں نا صرف آپ اور ہم اپنے گھروں میں استعمال کرتے ہیں۔ بلکہ دنیا کہ کئیں خطوں میں اسکا ذائقہ پسند کیا جاتا ہے۔
تو آئیں چلتے کھجوروں کی طرف۔
خیرپور کی کھجوریں نا صرف خوشبو، رنگ، ذائقہ میں اپنی مثال آپ ہیں۔ بلکہ انکے بننے کا مشکت بھرا طریقہ کار بھی دل لبھانے والا ہے۔
کھجور و چھوہارے کہ بننے والا عام و سادہ سا دن بنے والا طریقہ کار،
در حقیقت محنت، مشکت و وقت لینے والے مراحل و دیگر طریقہ کار سے گذرتا ہے۔
کھجور کے پیڑ سے کھجور و چھوہارے پانے سے پہلے کھجور کہ پیڑ کو۔ گھڑھ یعنے کھریدہ جاتا ہے. اس کام کو کرنے کے لیے کئی افراد مقرر کیئے جاتے ہیں جنکو مقامی زبان میں چاڑھے یا چڑہ نے والے کہا جاتا ہے۔ اسکے بعد جب کھجور کا پیڑ کھجور دینے کہ لیئے تیار ہوتا ہے، تب نر کھجور یعنے میل پام ٹری سے بیج یا تار نکال کر اس کھرید نے والی جگہ یا چپڑی پر فیمیل یعنے مادی کھجور کہ پیڑ میں ڈال دیئا جاتا ہے، اس عمل کو کرنے کہ لیے چاڑھے کو دو سے تین بار پیڑ پر چڑھنا پڑتا ہے، اور جب موسم خراب ہو یا ٹھنڈی ہو تو اس عمل کو کرنے کہ لیے پانچ سے چھے بار بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کہ بعد کھجور حاصل کرنے کہ لیے ایک اور مرحلے کھجور کے پیڑ کو گزارا جاتا ہے، جسکو عام زبان میں چھانگ یعنے جب پھلی نکل آنا شروع ہو تب کیئا جاتا ہے۔ تب وہی چاڑھے پیڑ پر چڑھتے ہیں اور چھانگ کو بناتے ہیں۔ اس کہ بعد اس کھجور کہ پیڑ کو لم( lama) کی جاتی ہے۔ لم کا مطلب جب کھجور نکل نا شروع ہوتی ہے۔تب یے عمل اس لیئے کیا جاتا ہے کہ چھڑی کی پوزیشن برابر ہو۔ اور پیڑ کا یک طرفہ وزن نا ہونے کی وجہ سے پیڑ ٹیڑھا ہونے کہ بجائے سیدھا رہے۔ اسکے بعد کھجور کی چھڑی پکنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اور جب چھڑی پک کر تیار ہوجاتی ہے تب ایک اور محلہ آتا ہے۔ جس کو کرنے کہ لیئے دو افراد اہم ہوتے ہیں ایک تو چاڑھا دوسرا رسی والا۔ چاڑھا کھجوروں سے بھری چھڑی کو رسی کی مدد سے نیچے پھینک تا ہے۔
اس کہ بعد اس چھڑی میں سے ڈنگ یعنے آدھا پکا ہوا اور آدھا کچا کھجور ایک ایک کر کہ چنا جاتا ہے جسکو بعد میں دھوپ میں سکھا کر خشک کیئا جاتا ہے اس ڈنگ سے بننے والا کچا کھجور دھوپ میں خشک ہوکر نرم اور میٹھا کھجور بنتا ہے۔ چھوہارے بنانے کہ لیئے کچی کھجوروں سے بھری چھڑی کو چھانا جاتا ہے۔ چھاننے کہ عمل کہ بعد کھجوروں کو صاف پانی میں دھو کر ایک بڑی سی کڑاہی یا تئی میں پانی ڈالا جاتا ہے اور اس کو مٹی سے بنے ہوئے چولہے پر آگ لگا کر پانی کو گرم کیا جاتا ہے، اور اسی گرم پانی میں ڈنگ کو تقریبا" ایک گھنٹے تک پکایا جاتا ہے۔ اس عمل سے گزرنے والے دو اقسام کے چھوہارے بنتے ہیں جس میں سے ایک کو کالا چھوہارا اور دوسرے کو پیلا چھوہارا یا گولڈن برائوں کہا جاتا ہے۔ کالے چھوہارے کو صاف و عام سادے پانی میں پکایا جاتا ہے۔ جب کہ پیلے چھوہارا بنانے کہ لیئے اس گرم پانی میں رنگ کاٹ نامی کیمیکل ڈالی جاتی ہے۔ یے رنگ کاٹ نامی کیمیکل انڈیا، دبئی، اور سعودی عرب سے امپوڈ کیا جاتا ہے۔ چھوہارے پکانے کا عمل مشکل، مشکت محنت اور کبھی کبھی جان لیوا بھی ہو تا ہے۔
اس کہ بعد گزرنے والے دونو اقسام کہ چھوہارے کو کڑاہی سے نکال کر پیڑ کی چھال سے بنے کھاری یعنے ٹوکری میں ڈال کر کئی ایکڑ پر مشتمل زمین پر سکھایا جاتا ہے۔ خاص تور پر کھجور کی چھڑی سے بننے والے پتری پر اس سکھانے والی جگہ کو مقامی زبان میں مزدو(پڑ) بولتے ہیں۔
چھوہارے دھونے، پکانے، سکھانے کہ لیئے کئی افراد پر مشتمل لیبر کی ضرورت ہوتی ہے، جن کا کھانا سونا رہنا اسی جگہ پر کیئا جاتا ہے۔
اس کہ بعد اس خشک کھجور، اور سوکھے چھوہارے کو بوریوں میں بھر کر منڈی میں پہچایا جاتا ہے۔ ہم آپ کو یہاں یے بھی بتاتے چلیں کہ پاکستان کی سب سے بڑی کھجور منڈی سکھر ہے کھجور منڈی ہے۔
منڈی میں آتے ہی کھجوروں کا ریٹ فکس کرنے کہ لیئے بولی لگائے جاتی ہے۔ اور اس طرح جہاں کھجور کو اتنے سارے مراحل سے گزارنے والا کسان منڈی کہ کوچے سے بڑا بے آبرو ہو کر نکل آتا ہے۔ منڈی میں اپنا مال لیکر جانے والا کسان اسکی چیز کا صحیح ریٹ نا ملنے کی نا امیدی لیکر سینے میں دفن کرتا ہے۔
لیکن کسان کہ سپنوں کو چکنا چور کرتی ہوئے آنکھیں باقی مزدور کو بتا دیتی ہیں کہ ان کہ محنت کا پھل جو ملا وہ نا کافی ہے، کھجور کی فصل کسان کو قرض میں ڈبا دیتی ہے۔ اور وہی ھاری جو اس سال بڑے خوشی اور امید سے فصل اگاتا ہے وہ اپنی محنت کا صحیح پھل نا ملنے پر اگلے سال کھجور اگانے کہ لیئے ہزار بار سوچتا ہے۔