Photos, Audio & video: Abdul Karim Memon
Text: Usama Hassan Soomro
July 19, 2021
پاکستان دنیا کے ممالک کی اس صف میں شمار ہوتا ہے جو اپنے نہری نظام کی بدولت مشہور ہیں۔ پاکستان ایک نہری ملک ہونے کہ ساتھ ساتھ، ایک زرخیز بھی ہے جہاں پر تیار ہونے والی فصل نہ صرف پوری دنیا میں برامد ہوتی ہے، بلک اسکو استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
ویسے تو پاکستان اپنے زرعی زمین کی پیدار میں مشہور ہے لیکن، پاکستان کا خطہ صوبہ سندہ اسکی ٓبپاشی کی نظام کی ہجھ سے منفرد ہے، پاکستان کا سب سے بڑا دریائے سندہ ہے جو کہ گلگت کے وادئے کیلاش سے نکل کر زمینوں کو سیراب کرتا ہوا ٹھٹہ کے قریب اختتام پزیر ہوتا ہے۔
دریائے سندھ کے بہاؤ پر منگلا اور تربیلا ڈیم بنائے گئے ہیں اور صوبہ سندھ میں پانی کو روکنے کے لیے گڈو، سکھر اور کوٹڑی کے مقام پر تین بیراج تعمیر کیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے سندہ سے مزید کئنال نکالے گئے ہیں، اوی پھر انہیں کئنالز میں سے مزید پانی کو بھیجا جاتا ہے، جس طرح بئراج پر دروازے لگائے جاتے ہیں پانی کو موسم کے حوالے سے کم یا زیادہ کرنے کہ لیئے اسی طرح چھوٹے ان کئنالزاور ان میں سے نکلے شاخوں پر بھی دروازے لگائے جاتے ہیں۔
اسی طرح کا ہی ڈسٹرکٹ سکھر میں بھٹی فال کے نام سے مشھور شاخ ہے جسکو ریگیولیٹ کرنے کے لیے دروازوں کو موسم، اور فصل پر کھولا اور بند کیا جاتا ہے۔ پانی کو اس ایراضی میں ۲۰ اکٹوبر سےلیکر سمببر تک چھوڑا جاتا ہے فصل کی وجھ سے اس کہ بعد پھر اپریل سے لیکر جولاء تک پانی کو چھوڑا جاتا ہے، کیونکہ اس کہ بعد بارشوں کی وجہ سے پانی کو روکا جاتا ہے کہ کہیں مختلف شاخوں سے چھورا گیا پانی سیلاب کی صورت نا اختیار کر لے۔