سردیوں کی ایک خنک رات تھی۔ علی وحید ملازمت کے سلسلے میں اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اس اجنبی شہر میں آیا تھا۔ راستے میں ٹرین خراب ہونے کی وجہ سے یہاں پہنچنے تک رات کے نو بج چک تھے اوراس وقت چاند آہستہ آہستہ بلند ہو رہا تھا۔ فضا میں بلا کی سردی تھی جس کی وجہ اس کے دانت بج اٹھے۔
"سر، یہاں قریب میں رہائش کے لیے مناسب کرایہ میں کوئی ہوٹل مل سکتا ہے؟" علی نے ایک قلی سے پوچھا
"یہاں سے تقریبا آدھا پون میل مسافت پر آزادی ہوٹل واقع ہے۔ وہاں آپ کو رہائش اور کھانا مل سکتا ہے۔" قلی نے سڑک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا۔
علی نے اس کا شکریہ ادا کیا اور بتائے گئے راستے پر چل پڑا۔ لاہور ہیڈ کوارٹر سے اس کی تعییناتی اس شہر میں ہوئی تھی اور صبح اسے برانچ آفس میں جا کر اطلاع کرنا تھی۔ تاہم رہائش کے انتظام کی ذمہ داری اس کی اپنی تھی۔
علی سترہ سالہ نوجوان تھا۔ وہ اس وقت قیمتی اور پرتکلف لباس میں ملبوس تھا۔ اس کی رفتار میں ایک گونہ تیزی تھی۔ اس سڑک کے دونوں جانب ایک ہی وضع قطع کے اونچے اونچے مکانوں کی لمبی لائن تھی۔ہرگھر کے سامنے ایک سا برامدہ اور کھڑکیاں تھیں۔ داخلی دروازے تک جانے کے لیے چار پانچ زینے چڑھتے تھے۔ لگتا تھا کبھی یہ گھربہت خوبصورت رہے ہوں گے لیکن اب چاند کی ہلکی روشنی میں بھی کھڑکیوں اور دروازوں سے روغن کی اترتی ہوئی تہیں اور دیواروں میں پڑی ہوئی دراڑیں صاف نظر آرہی تھیں۔
اچانک علی کی نظر چند گز کے فاصلے پر ایک کھڑکی پر پڑی۔ سڑک کا یہ حصہ سٹریٹ لائیٹ کی روشنی میں خوب جگمگا رہا تھا۔ اس کھڑکی کے سہارے ایک چھوٹا سا بورڈ آویزاں کیا گیا تھا " بستر اور ناشتہ "۔ یہ گھر باقی گھروں سے خوبصورت نظر آرہا تھا۔ سامنے گل داؤدی کے گملے رکھے ہوئے تھے۔ کھڑکی کے دونوں جانب لٹکتے سبز رنگ کے مخملی پردوں کے سامنے کھلے ہوئے پھول بہت بھلا منظر پیش کر رہے تھے۔ پردوں کے درمیان سے کمرے کا اندرونی منظر صاف نظر آ رہا تھا۔ وہ جائزہ لینے کے لیئے کھڑکی کے قریب ہو گیا۔ سامنے انگیٹھی میں آگ جلتی نظر آرہی تھی۔ نیم روشن کمرے میں جہاں تک وہ دیکھ سکا یہ کمرہ اعلی فرنیچر سے آراستہ دکھائی دے رہا تھا۔ انگیٹھی کے سامنے قالین پر لمبے بالوں کا ایک کتا اپنی تھوتھنی پیٹ سے لگائے سو رہا تھا۔ ایک کونے میں بڑے سے پنجرے میں بند ایک طوطا بھی نظر آیا۔ علی اس جگہ کی خوبصورتی سے بہت متاثر ہوا۔ "یقیننا یہ جگہ آزادی ہوٹل سے زیادہ آرام دہ ہو گی۔" اس نے سوچا
تاہم ہوٹل میں رہتے ہوئے بوریت کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ بہت سے لوگ وہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔ وہ اس سے پہلے ایک ہوٹل میں ٹھہر چکا تھا اور اسے وہاں رہنا اچھا لگا تھا۔ تاہم کسی گھر میں کرائے پر رہنے کا اسے اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اس لیے وہ تھوڑا سا خوفزدہ تھا۔
سردی میں چند منٹ سوچ بچار کے بعد اس نے فیصلہ کیا بہتر ہے کہ پہلے آزادی ہوٹل کا بھی معائنہ کر لیا جائے۔ وہ جانے کے لیے مڑا۔ لیکن اس کے ساتھ عجیب معاملہ ہوا۔ اسے ایسے لگا جیسے اس چھوٹے سے بورڈ نے اس کے قدم روک لیے ہوں اور وہ اسے پکار پکار کر کہ رہا ہو " بستر اور ناشتہ، بستر اور ناشتہ، بستر اور ناشتہ"۔ آخر ایک نامعلوم قوت کے تحت اس نے اپنے آپ کو کھڑکی سے داخلی دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے پایا۔
اس نے گھنٹی کا بٹن دبایا۔ گھر کے اندر کہیں دور اس کی بازگشت سنائی دی۔ اور پھر یک دم ---یک دم ہی کہنا چاہئیے کیونکہ وہ ابھی اپنی انگلیاں بٹن سے ہٹا بھی نہ پایا تھا--- دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور اسے استقبالیہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک خاتون کھڑی دکھائی دی۔ اس کی عمر پنتالیس پچاس برس کے قریب ہو گی۔
"بیٹا اندر آ جاؤ" اس نے نرمی سے کہا اور راستہ دینے کے لیے ایک طرف ہو گئی۔
وہ لاشعوری طور پر آگے بڑھا لیکن پھر رک گیا۔
"میں نے کھڑکی میں یہ اشتہار پڑھا تھا" اس نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا۔
"ہاں مجھے پتا ہے"
"مجھے ایک کمرے کی ضرورت ہے"
"ہاں بیٹا، تمہیں بالکل تیار کمرہ ملے گا" خاتون نے نرمی سے کہا۔ اس کی آنکھوں سے مہربانی جھلک رہی تھی۔
" میں آزادی ہوٹل کے ارادے سے جا رہا تھا کہ آپ کے اشتہار نے میری توجہ اس طرف مبذول کروائی۔"
"بیٹا، تم باہر سردی میں کیوں کھڑے ہوئے، اندر کیوں نہیں آجاتے"
"آپ کا کرایہ کتنا ہو گا؟"
"دوسو تیس روپے ایک رات کا خرچ، اس رقم میں ناشتہ بھی شامل ہے۔" پیشکش کافی سستی تھی اور علی ذہنی طور پر اس سے دگنی رقم خرچ کرنے کے لیے تیار تھا۔
"اگر یہ رقم زیادہ ہے تو میں تھوڑا سا کم بھی کر سکتی ہوں،" خاتون نے مزید کہا، " کیا تم ناشتے میں انڈے پسند کرتے ہو؟ آج کل انڈے خاصے مہنگے ہیں۔ ان کے بغیر کرائے میں تیس روپے کی کمی ممکن ہے"
"دو سو تیس روپے معقول رقم ہے، میں رہائش لینا چاہتا ہوں"
"تو پھر جلدی سے اندر آ جاؤ"
خاتون کا رویہ غیر معمولی طور پر مہربان تھا۔ ایسے ہی جیسے وہ اپنی کسی پھوپھی یا خالہ کے ہاں آیا ہو۔
علی نے ہیٹ اتارا اور دہلیز کے اندر قدم رکھ دیا۔
"اسے یہی کھونٹی پر لٹکا دو" وہ خاتون بولی "لاؤ میں کوٹ اتارنے میں تمہاری مدد کرتی ہوں"
اسے ہال میں اس کے علاوہ کوئی ہیٹ، کوٹ یا چھتری وغیرہ نظر نہ آئی۔
"مجھے تمہارے آنے سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ " اس نے مسکراتے ہوئے کہا "کبھی کبھار ہی تو مجھے کسی مہمان کو خوش آمدید کہنے کا موقع ملتا ہے۔"
"میرا خیال تھا کہ یہاں بہت سے لوگ رہنے کے خواہش مند ہوں گے۔" علی نے کہا
"ہاں بیٹا، تم نے بالکل صحیح کہا ۔ لیکن میں مہمانوں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتی ہوں۔"
"اوہ، اچھا"
"لیکن میں بہرحال ہر وقت تیار رہتی ہوں۔ تاہم ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے کہ کوئی ایسا مہمان آئے جو میرے گھر کے شایان شان ہو۔ اور بیٹا، جب کوئی ایسا مہمان آتا ہے تو مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے"۔ اس نے آدھی سیڑھیوں میں رک کر پیچے آتے علی کے سراپا کا جائزہ لیا۔ "بالکل تمہاری طرح " اس کی نظریں دوبار علی کےسر سے لے کر پاؤں تک گئیں۔
دوسری منزل پر پہنچ کر اس نے علی کو بتایا کہ یہ میرا کمرہ ہے۔ اس کے بعد اور سیڑھیاں چڑھ کر وہ تیسری منزل پر پہنچے۔
"یہ ساری منزل تمہاری ہے" اس نے کہا "یہ رہا تمہارا کمرہ۔ مجھے امید ہے تم اسے بہت پسند کرو گے۔" ایک چھوٹے سے آراستہ بیڈروم میں داخل ہوتے ہوئے وہ گویا ہوئی۔ " سامنے کھڑکی سے سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوتی ہے، پرویز صاحب۔ آپ کا نام پرویز ہی ہے نہ؟"
"نہیں" اس نے جواب دیا۔ "میرا نام علی وحید ہے"
"کتنا پیارا نام ہے۔ میں نے بستر کو گرم رکھنے کے لیے اس میں گرم پانی کی بوتل رکھ چھوڑی ہے۔ یہ دیکھو۔"
"شکریہ آنٹی"، علی نے کہا "میں آپ کا بےحد شکر گزار ہوں"
واقعی بستر بہت آرام دہ اور گرم لگ رہا تھا۔
"شکر ہے آپ اندر آ گئے ورنہ میں تو پریشان ہی ہو گئي تھی۔" اس نے سنجیدگی سے کہا۔
"سب ٹھیک ہے۔ آپ کو میرے متعلق پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔" علی نے اپنے سوٹ کیس کو کھولتے ہوئے کہا۔
"اچھا بیٹا کھانے کے متعلق تو تم نے کچھ بتایا ہی نہیں۔ راستے میں کھانا وانا کھایا تھا یا نہیں؟"
"مجھے اس وقت بالکل بھوک نہیں ہے۔" علی نے جواب دیا "ابھی تو میں صرف آرام کرنا چاہتا ہوں تاکہ صبج جلدی اٹھ سکوں۔ کل مجھے دفتر جا کر رپورٹ بھی کرنا ہے-"
"ٹھیک ہے۔ میں اب چلتی ہوں۔ ہاں، ایک بات تو میں بھول ہی گئی۔ تمہیں یہاں کے قانون کے مطابق ابھی مہمانوں کی کتاب میں اندراج بھی کرنا ہے۔ اس لیے تھوڑا آرام کر کے نیچے ڈرائینگ روم میں آ جانا۔" خاتون نے ہاتھ سے الوداعی اشارہ کیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
یہ خاتون غیر معمولی طور پر مہربان لگ رہی تھی۔ تاہم اس میں علی کے لیے پریشانی کی کوئی بات نہ تھی۔ اور اگر اسے پہلے کوئی خوف تھا بھی توخاتون کے نرم لہجے نے اسے ختم کر دیا تھا۔ اس کی مہربان شخصیت سے علی نے اندازہ لگایا کہ شاید خاتون کا کوئی بیٹا جنگ میں مارا گیا ہے یا کسی اور طرح کھوگیا ہے اور وہ اس صدمے کو ابھی بھلا نہیں پائی۔
علی ہاتھ منہ دھونے کے بعد نیچے ڈرائینگ روم میں آ گیا۔ یہ وہی کمرہ تھا جسے اس نے کھڑکی سے دیکھا تھا۔ توقع کے مطابق اس نے اسے بہت آرام دہ پایا۔ مہمانون کے اندراج کے لیے رکھی گئی کتاب اسے ایک بڑے پیانو پر کھلی ہوئی ملی۔ اس نے اپنا قلم کھولا اور اپنا نام پتہ لکھنے لگا۔ اس صفحے پر علی کے علاوہ دو اور مہمانوں کا بھی اندراج تھا۔ وہ عام عادت کے مطابق انہیں پڑھنے لگا۔ ان میں سے ایک نام تھا کریم مشہود اور دوسرا نام تھا تنویرغوری۔
یہ نام پڑھ کر علی کو ایک جھٹکا لگا۔ دونوں نام اسے مانوس سے لگے۔ "مجھے لگتا ہے کہ میں یہ نام پہلے بھی کہیں سن چکا ہوں، لیکن کہاں؟" وہ سوچنے لگا
"کریم مشہود" اس نے اپنے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے بلند آواز سے کہا، "تنویر غوری"
"دونوں بہت پیارے لڑکے تھے" علی کو اپنے عقب مین آواز سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو مالکن مکان چائے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔
"یہ دونوں نام مجھے جانے پہچانے لگتے ہیں" اس نے کہا
"کیا واقعی! دلچسپ بات ہے"
"مجھے یقین ہے میں نے یہ دونوں نام پہلے بھی کبھی سنے ہیں۔ شاید اخبار میں۔ کیا یہ دونوں بہت مشہور لوگ تھے؟ جیسے مشہور کرکٹر یا فٹ بالر یا اور کسی وجہ سے مشہور"
"میرا نہیں خیال کہ وہ دونوں مشہور تھے۔ تاہم میں اتنا ضرور بتا سکتی ہوں کہ میرے پچھلے دونوں مہمان بہت نفیس اور خوبصورت تھے۔" خاتون نے چائے کو میز پر لگاتے ہوئے کہا۔
"اچھا یہ تنویر غوری صاحب تو تقریبا دو سال پہلے یہاں آئے تھے" علی نے اندراج کی تاریخ دیکھتے ہوئے کہا۔
"اچھا! اور کریم مشہود تو اس سے بھی لگ بھگ ایک سال پہلے یہاں آیا تھا۔ یعنی آج سے تین سال پہلے۔ آہ، وقت کیسے پر لگا کر اڑتا جاتا ہے لیکن پتا بھی نہیں چلتا۔ کیوں بھئی مجید صاحب"
"مجید نہیں وحید۔ میرا نام علی وحید ہے"
"معافی چاہتی ہوں۔ میری یادداشت بہت کمزور ہو گئی ہے۔ ابھی آپ سے نام پوچھا تھا اور ابھی بھول بھی گئی۔" وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولی۔
"مجھے ان دونوں ناموں میں ایک طرح کا تعلق بھی نظر آ رہا ہے جیسے وہ دونوں ایک ہی وجہ سے مشہور ہوئے ہوں۔ شاید آپ میری بات سمجھ سکیں۔ جیسے وسیم اکرم اور وقار یونس یا قائداعظم اور علامہ اقبال"، اس کی سوچ ابھی تک ان ناموں پر ہی اٹکی ہوئی تھی۔
کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات آپ یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ دماغ کے گرد چکر لگاتی رہتی ہے لیکن پکڑ میں نہیں آتی۔ یہ صورت حال بعض اوقات پہت پریشان کن ہو جاتی ہے۔ علی کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو رہا تھا۔
"آؤ بیٹا چائے پی لو، ورنہ تو یہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔" خاتون نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
"مجھے یقین ہے میں نے یہ نام اخبار کی شہ سرخیوں میں دیکھے تھے۔ ایک منٹ، ابھی مجھے ان کے متعلق یاد آ جائے گا۔"
"کریم مشہود، کریم مشہود لاہور کے سنٹرل ماڈل سکول کا ایک طالبعلم تھا جو ایک لمبی سیر کے لیے نکلا تھا اور پھر ایک دن اچانک۔۔۔"
"تم چائے میں چینی لو گے؟"
"جی ہاں، شکریہ۔ پھر ایک دن اچانک۔۔۔"
"سنٹرل ماڈل سکول کا طالب علم؟" وہ بولی "نہیں بیٹا، میرا مہمان کریم مشہود تو پنجاب یونیورسٹی کا گریجوایٹ تھا۔ اس لیے اس کا تو اس بات سے کوئی تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔"
"چائے تیار ہے۔ اب آ جاؤ" وہ صوفے کی خالی سیٹ کو تھپتھپاتے ہوئے بولی۔
علی آہستگی سے چلتا ہوا سیٹ پر بیٹھ گیا۔ خاتون نے چائے کی پیالی اس کی طرف کھسکا دی۔ علی نے آہستہ آہستہ چائے کی چسکیاں لینا شروع کر دیں۔ اس نے محسوس کیا کہ خاتون مسلسل اس کو دیکھ رہی ہے۔
کچھ لمحے کے بعد وہ بولی،" کریم مشہود چائے کا بے حد شوقین تھا۔میں نے اپنی زندگی میں کسی کو اتنی چائے پیتے نہیں دیکھا۔"
"میرا خیال ہے کریم نے حال ہی میں یہ جگہہ چھوڑی ہے۔"
"چھوڑی ہے؟ کہاں بھئی۔ وہ تو ابھی تک یہی ہے، تنویر اور کریم دونوں یہاں پر ہیں، اوپر چوتھی منزل انہیں کی ہے"
علی نے کپ آہستگی سے میز پر رکھ دیا اور خاتوں کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور اسے تھپکی دیتے ہوئے بولی
"بیٹا تمہاری کیا عمر ہو گی بھلا؟"
سترہ سال"
"سترہ سال" وہ چلائی۔ "یہ تومناسب ترین عمر ہوتی ہے۔ کریم جب میرے پاس آیا تھا تو اس کی بھی یہی عمر تھی۔ تنویر البتہ اٹھائیس سال کا تھا۔ لیکن اس کی جلد تو کسی بچے کی طرح ملائم تھی۔ ذرا داغ نہ تھا۔ اس کے دانت بھی بہت خوبصورت تھے۔ ہاں دانت تو تمہارے بھی بہت خوبصورت ہیں"
"یہ باہر ہی سے خوبصورت ہیں۔ اندر سے تو بہت سی بھرائی کی جا چکی ہے۔" علی نے کہا
پھر ان کی گفتگو میں وقفہ آ گیا۔ علی نے اپنے نچلے ہونٹ کو بھینچ رکھا تھا۔ وہ سامنے کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔ " اوہ میرے خدا، کیا وہ طوطا خنوط شدہ ہے۔ "
"ہاں بالکل، اور اسے میں نے خود حنوط کیا ہے۔ اپنے پالتو جانوروں کو مرنے کے بعد میں خود حنوط کرتی ہوں۔ تم نے یہ کتا نہیں دیکھا؟ اسے بھی میں نے ہی حنوط کیا ہے"
اب علی نے انگیٹھی کے سامنے پڑے کتے کی جانب نظر کی۔ واقعی اس نے اس سارے وقت میں ذرا بھی حرکت نہیں کی تھی۔ اس نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو اس کی جلد سخت اور ٹھنڈی تھی۔
"اوہ میرے خدایا" اس نے کتے سے نظریں ہٹا کر خاتون کی جانب تحسین آمیز نگاہوں سے دیکھا، "بہت شاندار کام کیا گیا ہے"
"کیا تم اور چائے لو گے؟"
"جی نہیں، شکریہ" علی کو چائے کا ذائقہ پسند نہیں آیا تھا جو کافی حد تک کڑوے باداموں سے ملتا جلتا تھا۔
"کیا تم نے مہمانوں کی کتاب میں اپنا نام و پتہ لکھ دیا ہے؟"
"جی ہاں"
"یہ ٹھیک ہے۔ اب اگر میں تمہارا نام بھول بھی گئی تو نیچے آ کر دیکھ لیا کروں گی۔ میں ابھی تک ان دونوں لڑکوں کے نام اسی طرح روز دیکھا کرتی ہوں، کریم مشہود اور - - - -"
"تنویر غوری" علی نے فقرہ مکمل کیا۔" کیا پچھلے تین برس میں ان دونوں کے علاوہ کوئی اور مہمان بھی یہاں ٹھرا ہے؟"
خاتون نے کپ کو ہٹاتے ہوئے شفقت سے جواب دیا، "نہیں بیٹا، تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں"
ختم شد
ان پودوں میں سے ہے جن کی افادیت کا زمانہ قدیم سے انسان قائل ہے۔ ذائقے کے لحاظ سے بادام دو طرح کے ہوتے ہیں، کڑوے اور میٹھے۔ میٹھے بادام کے درختوں پر سفید پھول آتے ہیں جبکہ کڑوے بادام کے پھول اکثر گلابی رنگ کے ہوتے ہیں۔
بادام کا پودا پانچ سال میں پھل دینا شروع کر دیتا ہے۔ پھول سے مکمل بادام بننے کا عمل سات سے آٹھ ماہ میں مکمل ہوتا ہے۔ اس پھل کے بڑے برآمدی ممالک میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ، اسپین، شام، اٹلی، ایران اور مراکش ہیں۔ دنیا کی کل پیداوار کا 40 فیصد امریکہ میں کاشت ہوتا ہے۔
بادام میں ایک انزائم املسن پایا جاتا ہے جو پانی کی موجودگی میں ایک اور مالیکیول گلائکوسائیڈامیگڈالن کے ساتھ تعامل کر کے ہائیڈروجن سائیانائیڈ بناتا ہے۔ ہائیڈروجن سائیانائیڈ ایک مہلک زہر ہے۔ ایک کڑوے بادام میں 4 سے 9 ملی گرام تک یہ زہر موجود ہوتا ہے۔ زیادہ مقدار میں کڑوے بادام کھانا جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔
معلومات: ویکیپیڈیا (Almond)
مشہور برطانوی لکھاری اور فائیٹر پائیلٹ تھے۔ انہوں نے بچوں اور بڑوں کے لیے بے شمار یادگار کہانیاں اور ناول لکھے ہیں۔ ان کی کہانی دی لینڈ لیڈی انگریزی ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتی ہے اور سکولوں کے نصاب میں شامل ہے۔ موجودہ کہانی اسی سے ماخوذ ہے۔ ایک پائیلٹ کی حیثیت سے انہوں نے رائل ائیر فورس کی جانب سے حصہ لیا۔ ایک مشن میں پانچ سے زیادہ جرمن جہاز گرا کر "ماہر ہواباز یا Flying Ace" کے اعزاز کے حامل ہیں۔ یہی اعزاز پاکستان کے ایم ایم عالم کو بھی حاصل ہے۔