External Links

    Dr Abdul Qadeer Khan's column's collection
    Source: The Daily Jang
    Collection Period: December 2008 to December 2009 (Index not complete)
    Compiled by: Abu Bakar Siddique
     

    شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک,,,,سحر ہونے تک… ڈاکٹر عبدالقدیرخان 11/12/2008  2

    محسنِ پاکستان کی رہائی سے، سحر ہونے تک....آن ریکارڈ…جبار مرزا  11/13/2008  7

    ملکی بحران ۔امریکہ نواز پالیسیوں کا نتیجہ,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان  11/19/2008  9

    ہمیں اعلیٰ ماہرین کی ضرورت ہے,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  12/3/2008  14

    یاد ماضی عذاب ہے یارب!,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان  12/17/2008  20

    ہمارا قابل فخر علمی ورثہ ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان  1/7/2009  25

    فنّی تعلیم,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان   1/14/2009  32

    ہماری انجینئرنگ کی تعلیم,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   1/21/2009  38

    چند دلچسپ واقعات ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  1/28/2009  44

    زراعت۔ دھیان دو یا فاقہ کشی کرو,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان  2/4/2009  50

    زراعت پر کچھ اور تبصرہ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان  2/11/2009  56

    میٹالرجی کی تعلیم کی اہمیت....... سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان  2/18/2009  63

    تعلیم ۔ پرانی خوشگوار یادیں,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  2/25/2009  69

    بنیادی تعلیم ۔ مزید تبصرہ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان  3/4/2009  76

    بنیادی تعلیم ۔ مزید تبصرہ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان  3/5/2009  80

    اچھا نظام حکومت,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  3/18/2009  82

    بیگمات بھوپال ۔ سنہری دور ....سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  3/26/2009  88

    زراعت سے متعلق اہم مضامین,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  4/1/2009  91

    زراعت سے متعلق اہم مضامین ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  4/2/2009  94

    میکانیکل انجینئرنگ کی اہمیت,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  4/8/2009  97

    میکانیکل انجینئرنگ کی اہمیت,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  4/9/2009  100

    ذِلّت و تباہی کے اسباب,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان  4/15/2009  104

    ذِلّت و تباہی کے اسباب....سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  4/16/2009  108

    ماحولیات کے مسائل ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان  4/22/2009  112

    ماحولیات کے مسائل ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان  4/23/2009  116

    پرانی تاریخ اورموجودہ سیاست,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان  4/29/2009  119

    پرانی تاریخ ۔ موجودہ سیا سی حالات ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان 5/6/2009  124

    اسلام میں رواداری اورمعافی کا تصور,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان  5/20/2009  131

    یوم تکبیر اور بیتے لمحات ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹرعبدالقدیرخان  5/27/2009  135

    یوم تکبیر اور بیتے لمحات ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان (گزشتہ سے پیوستہ) 5/28/2009  139

    دوغلی سیاست,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان  6/3/2009  141

    دوغلی سیاست....سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان(گزشتہ سے پیوستہ)  6/4/2009  145

     

    شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک,,,,سحر ہونے تک… ڈاکٹر عبدالقدیرخان        11/12/2008

    کیا پوچھے ہے مجھ سے میری خاموشی کا باعث

    کچھ تو سبب ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

    1961ء میں جب میں اعلیٰ تعلیم کے لئے برلن کی مشہور ترین ٹیکنیکل یونیورسٹی میں تعلیم کے لئے روانہ ہونے لگا تو میں نے سوچا کہ جرمنی کے حالات

    سے پاکستانی عوام خاص کر طلبہ کو مطلع کروں گا۔ اس وقت روزنامہ جنگ کا دفتر کراچی برنس روڈ پر تھا۔ میں کالج کے دوران (ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس

    کالج) ہمیشہ اس دفتر کے سامنے سے گزرتا تھا میں پہنچ گیا کہ یہاں میر خلیل الرحمن صاحب سے ملاقات کرلوں اور ان کا مشورہ حاصل کرلوں۔ اس وقت تقی

    صاحب ایڈیٹر ہوا کرتے تھے انہوں نے فوراً میر صاحب سے ملاقات کرا دی۔ نام سنا تھا اب ذاتی طور پر شناسائی ہوگئی۔ میر صاحب خوبصورت، بارعب شخصیت

    کے مالک تھے درازقد تھے اور ان کی ذہانت ان کی کشادہ پیشانی سے صاف عیاں تھی۔ انہوں نے نہایت خلوص سے ملاقات کی اور میری تجویز کو بہت پسند

    کیا اور کہا کہ میں ضرور برلن سے جنگ کے قارئین کو وہاں سے مطلع کروں اور اس طرح میں جرمنی کے لئے روانہ ہوگیا۔ برلن اس وقت مشرق و مغرب کی

    سیاسی کشمکش کا اکھاڑہ تھا صرف 10 دن پیشتر مشرقی برلن (یعنی مشرقی کمیونسٹ جرمنی نے) دیوار کھڑی کردی تھی لاتعداد جرمن کمیونسٹوں سے

    جان چھڑا کر مغربی برلن بھاگ رہے تھے اور روز کئی VOPOS یعنی مشرقی برلن کی ملیشیا کی گولیوں کا شکار بن رہے تھے اوپر روسی مگ جہاز دن بھر ساؤنڈ

    بیریر توڑ رہے تھے میرا ہوسٹل برانڈین برگر ٹور یعنی گیٹ سے 15 منٹ کے فاصلہ پر تھا اور وکٹری کالم کے بالکل قریب تھے۔

    میں نے وہاں سے روزنامہ جنگ کو ”مکتوب برلن“ کے نام سے مراسلہ جات بھیجنا شروع کردیئے جو جنگ میں باقاعدگی سے شائع ہونے لگے یہ سلسلہ دو

    سال جاری رہا اور میں نے جنگ میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اس وقت کے برلن کے میئر جناب ولی برانٹ ایک روز یقیناً جرمنی کے چانسلر بن جائیں گے اور

    وہ چند سال بعد بن گئے۔ 1963ء کے اواخر میں برلن سے میں ہالینڈ میں ڈیلنٹ کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی چلا گیا اور مکتوب برلن لکھنا بند کردیا۔

    حالات حاضرہ کی وجہ سے میں نے سوچا کہ کیوں نہ پھر طبع آزمائی کی جائے اور ملک کے اہم موضوعات پر کچھ لکھا جائے۔ مجھے لکھنے کا ہمیشہ سے

    شوق ہے اور کوئی اہم بات ہو تو ضرور لکھ ڈالتا ہوں، بس عادت ہے #

    چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

    مطلب یہ نہیں کہ عوام میرے خیالات و جذبات سے ناواقف ہیں #

    میں چپ بیٹھا ہوا ہوں اور یہ معلوم ہوتا ہے

    کہ جیسے اک زمانہ کہہ رہا ہے داستاں میری

    دیکھئے جب بھی کوئی شخص کسی اخبار میں مضامین لکھنا شروع کرتا ہے تو لوگ اس کا مقصد یا اس کا سبب تلاش کرنے لگتے ہیں #

    گماں اگر تمہیں کچھ ہو تو ہو مگر ہم کو

    سکون ملتا ہے روداد غم سنانے سے

    ہم سب جانتے ہیں کہ خیر و شر کا تضاد ہمیشہ سے دنیا میں رہا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس بارے میں خبردار کیا ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ

    مجھے شرپسندوں اور ظالموں کے شر سے محفوظ رکھ۔ بعض خودغرض، غاصب لوگ خالصتاً ذاتی مفاد کے لئے عوام کے مفادات کو پیروں تلے روند ڈالتے ہیں۔

    طاقت کا نشہ انہیں مدہوش کردیتا ہے اور نعوذباللہ وہ اللہ کے وجود اور قوت سے بھی منکر ہو جاتے ہیں۔ مشرف کی مثال آپ کے سامنے موجود ہے #

    ہر دور میں انسان نے ڈھائے ہیں مظالم

    ہر دور میں انسان خدا بنتا رہا ہے

    لیکن نعوذباللہ خدا بننے کے گھمنڈ میں انسان خدا نہیں بن جاتا حالانکہ وہ اکثر خدا کی موجودگی کو بھول جاتا ہے #

    ظالموں نے سمجھ یہ رکھا ہے

    جیسے دنیا میں اب خدا ہی نہیں

    ناخدا کو خدا کا رتبہ دینے میں ہماری بیوروکریسی اور خوشامدیوں کا بڑا ہاتھ ہے مشرف صرف ایف اے پاس تھا جو ہم عموماً چپراسی کے طور پر بھرتی کرتے ہیں

    ایک غلط طریقہ ترقی سے ہمارا سپہ سالار بن گیا اور ہمیں یہ دیکھ کر قے آتی تھی کہ یہ کم عقل نہایت تعلیم یافتہ لوگوں کو اور ماہرین کو، معاشیات، تعلیم،

    خارجہ، زراعت، صنعت پر سامنے بٹھا کر لیکچر دیا کرتا تھا اور وہ اس کے آگے گردن ہلا ہلا کر واہ واہ کیا کرتے تھے ایک عقلمند ذی فہم حکمراں (یا ڈکٹیٹر) کا

    طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنے رفقائے کار چاپلوسی کی بنیاد پر نہیں چنتا بلکہ ان کی مہارت اور علم کی بنیاد پر ان کے مشوروں کو سنتا ہے اور ان کو اہم

    پروجیکٹس کی تکمیل کے لئے تمام مدد مہیا کرتا ہے۔ مشرف کے بارے میں افواہ گشت کرتی رہتی تھی کہ وہ اپنے فوجی ساتھیوں سے شکایت کرتا تھا کہ ”

    مجھے دکھ اور پریشانی ہوتی ہے کہ اگر کم پڑھ یا جاہل لوگ میری بات نہیں سمجھتے تو کوئی بات نہیں مگر پڑھے لکھے لوگ میری بات نہیں سمجھتے۔“ وجہ

    آپ پر عیاں ہے۔ بندوق کی لبلبی دبانے اور عقل و فہم کی بات کرنے میں فرق صاف ظاہر ہے۔

    خودغرض اور موقع پرست لوگ ایسے حکمرانوں کی جھوٹی تعریف میں قلابے ملا دیتے ہیں اور اس کو افلاطون بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ان حرکتوں سے

    ملک کی بنیادیں کھوکھلی کردیتے ہیں۔ یہ لوگ ہٹلر اور اس کے وزیر پروپیگنڈہ کے طریق کار پر عمل کر کے اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ حکمراں اس کو سچ ماننے لگتا

    ہے اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے۔ نتائج ملک کی تباہی کی شکل میں نکلتے ہیں اسی قسم کا ایک جھوٹ مجیب الرحمن نے بولا تھا کہ جوٹ کی

    قیمت فروخت سے حاصل کردہ رقم سے مغربی پاکستان والوں نے کراچی کی فٹ پاتھیں سونے کی اینٹوں سے سجائی تھیں۔ جھوٹ بڑا تھا فوراً قبول ہوگیا۔

    میں دسمبر کے چوتھے ہفتہ میں کرسمس کے موقع پر پاکستان آیا تھا۔ یہ 1975ء کی بات ہے یعنی تقریباً 33 سال پہلے۔ میں بھٹو صاحب کی درخواست پر آیا تھا

    اور بیگم، دونوں بیٹیاں (7 سال اور 1/2 5 سال) اور مجھے 15 جنوری کو واپس جانا تھا۔ بھٹو صاحب کی مخلصانہ درخواست اور وطن کے مفادات کی خاطر ہم نے

    ایک لمحہ بھی تامل نہیں کیا اور بہترین کیریئر، بڑی تنخواہ اور اعلیٰ سہولتیں چھوڑ کر رک گئے۔ یہاں پہلی تنخواہ 3 ہزار روپے چھ ماہ بعد ملی نہ ہی حکومت نے

    کچھ پیشکش کی #

    عجب نعمت عطا کی ہے خدا نے اہل عزت کو

    عجب یہ لوگ ہیں غم کھا کے دل کو شاد کرتے ہیں

    ملک کے نام نہاد ماہر سائنسدانوں نے بھٹو صاحب اور غلام اسحاق خان صاحب کے کان بھرے کہ یہ نوجوان انجان چھوکرا آپ کو بے وقوف بنانے آیا ہے چند دن

    کھائے گا پیئے گا اور راستہ لے گا۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی پیچیدگیاں اور مشکلات بتائیں اور یہ بھی کہ دنیا کے صرف تین نہایت ترقی یافتہ ممالک یعنی

    ہالینڈ، جرمنی اور انگلینڈ اس میں مہارت رکھتے ہیں اور انہوں نے یہ مہارت 20 سال کی محنت اور تقریباً 2/ارب ڈالر خرچ کر کے حاصل کی ہے۔بھٹو صاحب اور غلام

    اسحاق خان صاحب اصحاب بصیرت تھے۔ انہیں میری راست گوئی پر قطعی شک نہ تھا اور نہ ہی میں نے کوئی غلط بات ان سے کہی۔ مجھ سے بعض لوگوں نے

    کہا کہ ان سے کہہ دوں تین سال میں ایٹم بم بنا دیں گے۔

    میں نے جھوٹ بولنے سے انکار کردیا وہ اس بیان بازی پر اپنی خارجہ پالیسی کا تعین کرتے اور پھر منہ کی کھانا پڑتی اور چند مشہور سائنسدانوں نے یہ ارادہ کیا

    کہ کسی غار میں 2 یا 3 ہزار ٹن آتشی مادہ رکھ کر اور اس میں کوئی تابکاری مادہ رکھ کر دھماکا کردیں اور بھٹو صاحب کو تسکین ہو جائے گی اور ان کا جنون

    ختم ہو جائے گا۔ دیکھئے سیاستدان اگر جھوٹ بولیں تو یہ ان کا پیشہ ہے اور وہ بے شرمی سے اپنے پیشے کی پریکٹس عام سیدھے سادے عوام پر کرتے

    رہتے ہیں لیکن ہم سائنسدانوں اور انجینئروں پر یہ فرض ہے کہ اپنے پیشے اور ضمیر کا لحاظ رکھ کر ہمیشہ سچ بولیں۔ میں نے تو ہمیشہ اسی اصول پر کام کیا اور

    کبھی غلط بیانی سے کام نہیں لیا #

    صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ

    کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

    عرض مدعا یہ ہے کہ میں نے اپنے رفقائے کار کے ساتھ مل کر ناممکن کو ممکن کردیا اور صرف 8 سال کے قلیل عرصہ میں اور نہایت خطیر رقم خرچ کر کے اس

    پسماندہ ملک کو ایک ایٹمی قوت بنا دیا۔ بھٹو صاحب، غلام اسحاق خان اور جنرل ضیاء الحق نے بلا خوف و خطر پوری مدد دی۔ نیک نیتی اور صدق دل و محنت

    سے جو کام بھی کیا جائے اللہ تعالیٰ یقیناً کامیابی عطا کرتا ہے۔ محترمہ بے نظیر صاحبہ کی مدد سے یہ ملک ایک میزائل قوت بنا۔ میری درخواست پر انہوں نے

    مجھے چین اور شمالی کوریا سے میزائل پروگرام حاصل کرنے اور شروع کرنے کی اجازت دی اس میں جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے کلیدی

    کردار ادا کیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اگر لاتعداد خودغرض، راشی، ضمیر فروش اس ملک کو بھوکے بھیڑیوں کی طرح کھانے میں لگے ہوئے ہیں مگر پھر بھی بہت

    سے مخلص، دیندار اور اہل ہنر دل و جان سے خدمت کر کے اس وطن عزیز کو آہستہ آہستہ ترقی کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں۔ ہم انشاء اللہ ان لوگوں کی

    مدد سے اس ملک کو ایک ترقی یافتہ، فلاحی اسلامی مملکت بنا دیں گے۔

    میں اپنی زندگی کا بیشتر بلکہ تقریباً تمام حصہ گزار چکا ہوں۔ جب اپنی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو سکون و اطمینان قلب ہوتا ہے کہ میں نے اپنی بساط کے مطابق

    اپنے وطن عزیز کی خدمت کردی۔ میں نے اپنے ملک پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اس بڑے احسان کا جو اس ملک نے مجھ پر کیا ہے ، تھوڑا بہت حصہ ادا کرنے

    کی کوشش کی ہے۔ میں نے تقریباً 15 سال یورپ میں اعلیٰ تعلیم اور فنی مہارت حاصل کی اور میں اس کو ملک کے مزید اہم کاموں کے لئے استعمال کرنا چاہتا

    تھا۔ 1999ء میں میں نے سیارہ فضا میں چھوڑنے کی تجویز پیش کی مگر اس ایف اے پاس ڈکٹیٹر نے منظور نہیں کی۔ بہرحال مجھے وطن عزیز کی خدمت پر فخر

    ہے میں نے ایٹمی، میزائل قوت مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ لاتعداد تعلیمی و فلاحی ادارے قائم کئے ہیں اور خیبر سے گوادر لوگوں کے دلوں میں جو میری محبت

    ہے وہ میرا سب سے بڑا انعام ہے۔ ایک ذلیل، غدار غیرملکی ایجنٹ نے صدارت کا خول پہن کر مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر اپنے مکروہ ارادے میں

    ناکام رہا اور خود سخت ذلیل و خوار ہو کر ایوان صدر سے نکالا گیا اب یہ خودساختہ کمانڈو زندگی بھر اس ملک کی سڑک پر قدم نہیں رکھ سکتا۔ عوام اس کے

    ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل و کوؤں کو کھلا دیں گے۔ میرا تعلق تو سترہ کروڑ عوام سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور مجھے وطن عزیز کی خدمت سے کوئی نہیں روک

    سکتا۔ ہمارے سامنے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربانی کی سنہری مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے جان دے دی مگر ملک کا سودا نہیں کیا اور

    زندہ جاوید ہوگئے۔ یہی وجہ ”سحر ہونے تک“ کے موضوع سے گاہے بگاہے اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہے یعنی #

    ”شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک“

     

               

     

               

               

    محسنِ پاکستان کی رہائی سے، سحر ہونے تک....آن ریکارڈ…جبار مرزا        11/13/2008

    محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے میری 1983ء سے یاد الله ہے یورینم کی افزودگی سے اردو ادب تک ہر قسم کے موضوع پر میری ڈاکٹرعبدالقدیر خان

    سے گفتگوہوتی رہتی ہے، میں جن دنوں مرکز کا ایڈیٹر تھا ان دنوں توہمیں قلمی محاذ پر ڈاکٹرعبدالقدیر خان کا خدمت کرنے اور ان کے کارناموں کو خراج پیش

    کرنے کا بھرپور موقع ملا تھا، جس کی پاداش میں مجھے ذاتی طور پر خفیہ والوں کی طرف سے مشکلات کا سامنا بھی رہا، مگر میری وہ ساری تکالیف اور

    مشکلات اس ایک عمل کے سامنے کم تر تھیں جو محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو عالم اسلام میں پہلی ایٹمی قوت ہونے کے اعزاز سے

    سرفرازکیا تھا، تاریخ کی درستگی کے لئے لکھے دیتا ہوں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا پہلا باقاعدہ انٹرویو جنوری 1984ء میں ہفت روزہ چٹان کے لئے میں نے کیا تھا،

    میرے ساتھ اس میں یونس خلش بھی شامل تھے۔ ان دنوں راولپنڈی جنگ کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر جناب شورش ملک ہوا کرتے تھے، خدا کروٹ کروٹ ملک صاحب کو غریق رحمت کرے، کہ جب میں نے ان سے کہا کہ پہلا انٹرویو میریا کیا ہوا ہے اور کریڈٹ نوائے وقت لے جانے کی کوشش کرتے ہوئے 10 فروری 1984ء کے اخبار میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انٹرویو دیا جارہا ہے، جس کے جواب میں جس دن نوائے وقت نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انٹرویو شائع کیا تھا اسی روز راولپنڈی جنگ نے ہفت روزہ چٹان کا انٹرویو جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کرکے نوائے وقت کا پہلے انٹرویو کرنے کا دعویٰ غارت کردیا تھا، میرا مقصود یہاں ملک کے ان دو بڑے اخباروں کا تقابلی جائزہ نہیں، میں محسن پاکستان کے حوالے سے گذشتہ روز نوائے وقت میں چھپنے والے اس اشتہار کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس میں عجیب بچگانہ انداز میں کہا گیا کہ آپ کو نئے دوست مبارک پھر یہ کہ بادل نخواستہ محسن پاکستان کی رہائی تک کا کالم بھی بند کریا گیا، ساتھ ساتھ یہ بھی باور کرایا گیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائی کی مہم کی وجہ سے کروڑوں کے اشتہارات بھی بند رہے، سچی بات ہے مجھے اس قسم کے ردعمل کی توقع نہ تھی کیونکہ مجید نظامی صاحب کے عمر کیاس حصے میں جہاں انسان فرد نہیں رہتا ادارہ بن جاتا ہے۔ اور ادارے پلک جھپکنے میں نہیں بن جاتے، اشتہار میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو محسن پاکستان بھی لکھا ہوا تھا، ان سے محبت اور دوستی کا بلند و بالا دعویٰ بھی رقوم تھا اور ساتھ لاتعلقی کا اعلان بھی کر ڈالا ! آغا

    حشر کاشمیری نے کہا تھا کہ

    محبت میں لٹتے ہیں دین اور ایماں

    بڑا تیر مارا جوانی لٹا دی

    اس اشتہار کے حوالے سے کل جب میری ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میرے لیے سبھی محترم ہیں، میں نے جو کچھ بھی کیا وہ پاکستان اور اسلام کے لیے کیا ہے، اسی طرح مجھ سے محبت کرنے والے بھی ہر رنگ و نسل اور مختلف مکتہ فکر کے لوگ ہیں، انہوں نے کہا کہ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مجید نظامی صاحب کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے انسان ہیں، لیکن اگر حوصلے میں بھی بڑا پن دکھاتے تو ان کی ساری محنت ان کے اپنے ہی اخبار میں چھپنے والے چند جملوں کی وجہ سے ضائع نہ جاتی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا تھا کہ نوائے وقت اگر مزید مشکل کی اس گھڑی میں میرے ہم قدم نہیں رہ سکتا تھا تو خاموش رہتا، اشتہار چھاپ کر خود کو ملامت نہ کرتا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان دراصل قومی اثاثہ

    ہیں، وہ کسی ایک فرد یا ادارے کی میراث نہیں، ان کی خدمات کے بدلے میں جو جتنا ان سے خلوص کا مظاہرہ کرسکے ضرور کرے، اس میں شک نہیں کہ نوائے

    وقت اپنا ایک قارئین کا حلقہ رکھتا ہے مگر جنگ قدرے وسیع نیٹ ورک کا حامل ادارہ ہے۔ ”محسن پاکستان کی رہائی“ تک یقیناً ایک توجہ طلبہ پروگرام اور غصے

    میں آ کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اشتہار کے ساتھ نا صرف انہوں نے پروگرام ختم کردیا بلکہ اپنے نا پختہ نظریات کا ثبوت دیا ہے، مگر تاریک رات کے چنگل سے ہی

    اجالا پھوٹتا ہے، اس میں شک نہیں کہ سخر ہونے والی ہے، لیکن ہم سب کو اس تاریک سفر میں ”سحر ہونے تک“ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تنہائی کا احساس

    نہیں ہونے دینا چاہیے، کیونکہ

    اگنی ہو، ناگ ہو یا پرتھوی کے واسطے

    ہیبت کی جو لکیر ہے عبد ا لقدیر ہے

     

               

               

               

    ملکی بحران ۔امریکہ نواز پالیسیوں کا نتیجہ,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان        11/19/2008

    آپ کچھ بھی سوچ رہے ہوں کچھ بھی پڑھ رہے ہوں! گھوم پھر کر وہی دہشت گردی اور امن و امان کی طرف چلی جاتی ہے۔ اس حوالے سے ہم ایک کرب ناک دور

    سے گزر رہے ہیں۔ اور میرا دل مسلسل بے چین رہتا ہے۔

    مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کیلئے

    اک درد مسلسل جاگتا ہے دل و جاں کو بہم کرنے کیلئے

    ٹی وی پر خبر آتی ہے۔ خودکش حملہ 31 لوگ ہلاک ہوگئے 75 سے زیادہ زخمی، چند کی حالت بہت نازک ہے، صدر مملکت، وزیر اعظم اورمشیر داخلہ نے سخت

    مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نے ہلاک ہونے والوں کے خاندان کو 3 لاکھ اور زخمیوں کے خاندان والوں کو ایک لاکھ روپیہ دینے کا حکم دیا ہے۔ گویا اگر امریکہ ہمارے

    سولہ کروڑ لوگوں کی قیمت فی شخص تقریباً 5 ہزار ڈالر دیدے تو ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانا بالکل آسان ہے۔ آپ سوچئے اس مہنگائی کے زمانہ میں کم از کم

    پانچ چھ نفری کا خاندان تین لاکھ (جس کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ صحیح حق دار تک پہنچتے ہیں یا نہیں ،دینے کی بجائے حکومت کو چاہیے

    کہ ایسے المناک حالات میں ایک مناسب رقم ماہانہ پنشن کی صورت میں ادا کرتی رہے کہ غم زدہ خاندان والوں کا مستقل دانہ پانی چل سکے۔ اس بات سے

    مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آگیا ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی مرحوم پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین تھے نہایت قابل ایڈمسٹریٹر کنپ کراچی پنسٹک اسلام

    آباد اور سیکڑوں اعلیٰ سائنس دان ان کی دوررسی اور عقل و فہم کے مرہون منت ہیں۔ وہ بہت اچھے اور فی البدیہہ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ایک

    روز ایک امریکن سفارت کار ان کو مشورہ دینے لگا کہ آپ کو چاہیے کہ اتنی محنت مشقت اور رقم گندم کی کاشت پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے ہمارے پاس

    وافر مقدار میں فالتو گندم پڑا ہوا ہے وہ ہم آپ کو پی۔ 480 پروگرام کے تحت مفت دیدیا کریں گے۔ ڈاکٹر عثمانی نے گھور کر اس کی طرف دیکھا اور کہا جناب عالی

    اگر تجہیز و تدفین مفت کردی جائے تو کیا تمام امریکن خودکشی کرلینگے اس امریکن کا چہرہ قابل دید تھا

    خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے

    مسلماں کو ہے ننگ وہ بادشاہی

    اب بات پھر وہی اس مسئلے کو خوش اسلوبی، افہام و تفہیم سے ختم کرنے کی ہے۔ ہم میں اب بھی کئی کروڑ شہری موجود ہیں جو انگریز کے دور حکومت کا

    امن و امان دیکھ چکے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک بڑے شہر میں ایک انگریزکمشنر، ایک ڈپٹی کمشنر،ایک آئی جی پولیس اور ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس۔ بعض اوقات

    ڈپٹی کمشنر مقامی بھی ہوتا ہے۔ یہ چار پانچ گورے اس طرح امن و امان قائم رکھتے ہیں۔ ہمارے عمر رسیدہ لوگ اب بھی حسرت سے کہتے ہیں کہ وہ زمانہ کتنا

    اچھا تھا آپ نے کبھی غور کیا کہ اس کامیاب حکومت کا راز کیا تھا۔ راز یہ تھا کہ انگریز ہمیشہ علاقہ کی پولیس میں اسی علاقہ کے لوگوں کو بھرتی کر کے ذمہ

    داری سونپتا تھا۔ مجھے یاد ہے ہمارے یہاں بھوپال میں ہمارے تھانہ کا انچارج ایک ہیڈ کانسٹیبل ہوتا تھا اور تمام سپاہی بھی ہمارے محلہ کے ہوتے تھے۔ ہیڈ

    کانسٹیبل کو ہم ہیڈ صاحب کہتے تھے۔ کوئی جرم ہو یا مجرم ایک یا دو دن میں پکڑ لیا جاتا تھا۔ کبھی کوئی جرم بغیر حل ہوئے نہ رہا۔ یہاں لیاقت علی خان،محترمہ

    فاطمہ جناح، ضیاء الحق اور محترمہ بے نظیر صاحبہ جیسی شخصیات کے قتل کا معمہ حل نہ ہو سکا۔ یہی اُن تمام دوسرے بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا

    حال ہے۔ آج تک کوئی حل نہیں نکلا۔ عموماً فوراً چند بے گناہ لوگوں کو پکڑ لیا جاتا ہے اور چند دن بعد خاموشی سے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔

    اب تک حکومت نے اس سلسلہ میں جو بھی اقدام کیے ہیں وہ ناکام رہے ہیں۔بدقسمتی سے انہوں نے قبائلیوں میں نفاق ڈالنے کی کوشش کی ہے، نام نہاد

    لشکر تیار کرنا اور قبائلیوں کو لڑانے کی اسکیم بالکل وہی طریقہ کارہے جو سراج الدولہ کے خلاف انگریزوں نے میر جعفر اور اس کے حواریوں اور ٹیپوسلطان کے

    خلاف میرصادق اور اس کے حواریوں نے کیا تھا۔ جعفر اور صادق کا جو حشر ہوا تھا عوام اس سے واقف ہیں۔ قبائلی علاقہ میں یہ تمام کارروائی امریکنوں کے ایما

    اور ان کو خوش کرنے کے لیے جاری ہے۔ میں پہلے 1957ء ایک طالب علم کی حیثیت سے اور پھر 1967ء میں اپنی بیگم(غیر ملکی) کو لے کر دور دراز علاقوں میں

    پھرا تھا۔ کبھی کہیں امن و امان کی پرابلم نہ تھی۔ جب مشرف نے 9/11 کے بعد امریکہ کا پوڈل بننا شروع کیا اور مغربی شاطروں سے اپنی پیٹھ پر تھپکی لگوانا

    شروع کی اور اپنے ہی بہادر اور غیور عوام کے خلاف ملٹری ایکشن شروع کیا اور پھر لال مسجد کے مدرسہ میں ہزار کے قریب کم سن معصوم بچے اور بچیوں کو

    فاسفورس بم مار کر زندہ جلا دیا تو پھر پٹھانوں نے بھی ہتھیار اٹھا لئے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے، جس طرح امریکہ ویت نام سے اور روس افغانستان سے دم

    دبا کر بھاگے تھے اسی طرح امریکہ اور اس کے حواری افغانستان سے بھاگ جائیں گے اور جو یہ زخم خود اپنے بہن بھائیوں اور بچوں پر لگایا ہے وہ کبھی نہیں

    ٹھیک ہو گا۔

    بہت سے لوگ عقلمندانہ مشورہ جات دے رہے ہیں، سیاسی لوگ تو اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں حکومت کے عہدے اور پیسے لے کر حکومت کا گانا گا رہے ہیں

    اور بعض اوقات افہام و تفہیم کی بات کرتے ہیں مگر چند نہایت محب وطن پٹھان بہت صحیح اور عقلمندانہ مشورہ دے رہے ہیں مگر جب کان بند ہوں، آنکھیں بند

    ہوں، دماغ پر پردہ پڑا ہو تو پھر کون ان کی بات سنتا ہے۔ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں رستم شاہ مہمند، جناب بریگیڈیئر محمود

    شاہ، محمد کامران خان، خالد عزیز، امیر عثمان، زاہد سعید اور پروفیسر محمد یوسف بنگش شامل ہوں، یہ ایک ہفتہ میں ایک فعال حل پیش کرسکتے ہیں، اس پر

    عمل کریں اور اس ناسور کو ختم کرسکتے ہیں۔ اس کمیٹی میں سابق گورنران جنرل علی جان اورکزئی اور جنرل محمد عارف بنگش اور موجودہ گورنر جناب اویس

    غنی بھی بہت اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ جنرل اورکزئی نے مشرف کا میر جعفر بننے سے انکار کردیا تھا جس طرح جنرل عبدالقادر نے بلوچستان میں میر صادق

    بننے سے انکار کردیا تھا۔

    انگریز کے دور اور بھوپال کی پولیس وغیرہ کا تذکرہ اس لئے کیا تھا کہ نوڈیرو کے صدر مملکت، ملتان کے وزیراعظم اور گوجر خان کے آرمی کے سربراہ یا سیالکوٹ

    کے مشیر وزارت داخلہ اس مسئلے کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے جس طرح وہاں کے مقامی لوگ، اس لئے میں امید کرتا ہوں صدر مملکت، وزیراعظم اور آرمی

    چیف جو کہ سمجھدار اور تجربہ کار ہیں میرے مشورے پر عمل کرکے ان لوگوں سے مشورہ کریں گے جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے میں مجھے نظام

    الملک طوسی کی ہدایت یاد آتی ہے یہ سلجوقی سلطان جلال الدین ملک شاہ کے وزیراعظم تھے اور عمر خیام اور حسن بن صباح ان کے ہم عصر اور اچھے

    دوست تھے۔ حسن بن صباح پہاڑوں کے بزرگ (The old man of the mountain) مشہور تھے۔ انہوں نے نقلی جنت بنائی تھی اور لوگوں کو بھنگ پلا کر اس جنت

    کی سیر کراتے تھے اور حکمرانوں کا قتل کراتے تھے، ان سے حکمراں کانپتے تھے عمر خیام نہ صرف اعلیٰ درجہ کے شاعر تھے بلکہ مشہور حساب داں اور ماہر

    فلکیات بھی تھے۔ نظام الملک طوسی کی ہدایت اپنے عہدیداروں کو یہ تھی ”سمجھدار لوگوں سے مشورہ کرنا عقلمندی اور بصیرت کی علامت ہے کیونکہ ممکن

    ہے کہ بعض لوگ تم سے اس معاملہ میں زیادہ سمجھ بوجھ رکھتے ہوں اور تمہاری رہنمائی کرسکیں۔ حکمران وقت کو چاہیے کہ بلا تاخیر سمجھدار اور محب وطن

    پٹھانوں سے مشورہ کر کے جلد از جلد ملک ٹوٹنے سے بچائیں۔ جہاں تک افغان سود خوروں کا تعلق ہے تو صرف شیخ سعدی کا یہ فرمان کافی ہے۔

    اگر قحط رجال افتدزائیں سہہ انس کم گیری

    زافغاں کینہ می آمد، زکمبوہ حیلہ می آمدز کشمیری نمی آمد

    بجزاندوہ ودل گیری

    کچھ لوگ پاکستان کے دشمن ہیں، تھے اور رہیں گے۔ ان سے اور مشرکوں سے مل کر اپنے ہی لوگوں کا قتل عام ملکی سلامتی کیلئے بے حد خطرناک ثابت ہو

    گا۔ مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں کی وجہ سے ملک ایک بحران کا شکار نتیجہ ہے اور ہماری شومئی قسمت دیکھئے جو حکمران قومی مینڈیٹ سے حکومت

    میں آئے انہوں نے عوام کی امنگوں کا پورا احترام نہیں کیا۔ ہمیں شرم آتی ہے اور سر ندامت سے جھک جاتا ہے کہ اس 17 کروڑ عوام اور ایٹمی اور میزائل

    صلاحیت والا ملک اور خاص طور پر اس کا دارالحکومت سیرالیون کے دارالحکومت فری ٹاؤن اور آئیوری کوسٹ کے دارالحکومت آبی جان سے بھی بدتر اور ہولناک

    نظر آتا ہے۔

    یہاں کوئی محفوظ محسوس نہیں کرتا بین الاقوامی ادارے اپنے تمام اسٹاف کو ملک چھوڑنے اور خاص طور پر اپنے اہل و عیال کو فوراً پاکستان سے باہر جانے کی

    پالیسی پر عمل کرا رہے ہیں۔ انٹرنیشنل اسکول اسلام آباد ویران ہو گیا ہے یہ ہے اس مملکت خداداد کی حالت اگر آپ تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیں تو آپ کو

    ہمیشہ یہی نظر آئے گا کہ جس مسلمان قوم یا اسلامی ملک نے کافروں اور مشرکوں سے دوستی کی اور کھلم کھلا الله رب العزت کے فرمان سے انحراف کیا

    ان کا حشر بہت برا ہوا۔ شریف مکہ کی غداری اور یہودی مملکت کا قیام ‘ عربوں کا امریکہ کا ساتھ دینا اور عراق کی تباہی‘ پاکستان کا امریکہ کا ساتھ دینا اور

    افغانستان اور اپنے قبائلی علاقوں کی تباہی‘ الجیریا میں امریکنوں کا ساتھ او رملک کی تباہی‘ کشمیر کا مسئلہ چونکہ ہم نے انگریزی فوجی سربراہ بنادیا تھا۔

    ملک شام کو توڑ کر لبنان کا قیام‘ بوسینیااور چیچینیا کا المیہ ‘ انڈونیشیا کا امریکہ سے میل جول اور نتیجہ میں مشرقی تیمور (E.T) کا قیام‘میرجعفر ‘ میر صادق کا

    انگریروں سے میل جول و غداری اور ہندوستان کی اسلامی مملکت کا خاتمہ‘ یہ سب الله تعالیٰ کے فرمان کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ یہودی اور عیسائی

    کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔

    جب میں حکومت کا ایڈوائزر بنایا گیا تو میں نے آنے والے حالات کا احساس کرکے مشرف کو ایک مشورہ پیش کیا جس میں ہمارے قبائلی علاقہ کے عوام کو

    پاکستانی زندگی میں شامل کرنے کا طریقہ کار تھا۔ اس کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ اور نوجوانوں کو مذہبی انتہاپسندی سے دور رکھنا تھا۔ میرا مشورہ بہت

    سادہ مگر نہایت عملی تھا میں نے مشورہ دیا تھا کہ ہمارے قبائلی علاقے میں لاتعداد پیشہ ورانہ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (VTI) بنائے جائیں اور ساتھ میں ہوسٹل

    بنائے جائیں۔ یہ اسکول قریب قریب ہوں کہ بچے بہ آسانی آجاسکیں۔ دور دراز کے بچے ہوسٹل میں قیام کریں۔تمام نوجوان بچوں کو اس میں داخل کیا جائے اور ہر

    بچہ کو 500 روپیہ ماہانہ (بمشکل چھ ڈالر کے برابر) وظیفہ دیا جائے۔ مجھے پورا یقین تھا غریب والدین اپنے بچوں کو دینی مدرسوں کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں

    داخل کرینگے یہ بچے تین سال میں ہنر مند قوت بن جائیں گے اور آہستہ آہستہ مذہبی انتہا پسندی ختم ہوجائے گی اور مدرسوں کو خودکش حملہ آور نہ ملیں

    گے۔ غیر ممالک نے قبائلی علاقہ میں ترقی دینے کے لئے بہت فنڈ مہیا کئے تھے اور یہ رقم اس پروگرام کی کامیابی کے لئے کافی تھی اس طرح صحیح مثبت

    اقدام اٹھانے سے بچے اوزار اور آلات استعمال کرنے میں مہارت حاصل کرتے نہ کہ رائفل چلانے اور قتل کرنے میں۔یہ پروگرام نہایت آسانی سے 2 سال میں زمین

    پر کھڑا کیا جاسکتا تھا۔

     

               

               

               

    ہمیں اعلیٰ ماہرین کی ضرورت ہے,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان        12/3/2008

    ہمارا ملک اس وقت سخت مشکل حالات سے گزر رہا ہے، قانون، امن وامان کو علیحدہ چھوڑ دیں تو اس وقت سب سے بڑی پرابلم، مرحلہ مالی مشکلات کا ہے۔

    سخت محنت، بھاگ دوڑ اور دنیا کے کئی ممالک کو ہمخیال ہمدرد بنانے اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو قبول کرنے کے بعد ہم اس میں کامیاب ہوئے کہ ہمیں

    سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا قرضہ مل گیا۔ یہ ایک مردہ کے بدن میں تھوڑی آکسیجن ڈالنے کے برابر ہے۔ ہم کتنے عرصہ اس مشکل کو برداشت کر سکیں گے

    وہ وقت ہی بتلا سکے گا۔

    ہماری ان مشکلات میں خود کو پھنسانے کی کئی وجوہات ہیں اور اخبارات آجکل اس موضوع پر ماہرین کی تشریحات سے بھرے ہوئے ہیں۔ کچھ حکومتی عقل کل

    اپنی ماہرانہ رائے اور اعمال کی وجوہات بتاتے ہیں اور کچھ عوامی ماہرین ان تمام کمزوریوں اور عیبوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہم اس مشکل

    دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ دوا جاری ہے مگر مریض قریب المرگ ہوتا جا رہا ہے معاشی حالات میں معاملات میں زیادہ مہارت رکھنے کی وجہ سے میں صرف چند

    ان حلوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ہمارے کام آسکتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہماری برآمدات اور درآمدات میں ایک وسیع خلیج ہے ہم تقریباً دس ارب ڈالر کا

    زیادہ سامان درآمد کرتے ہیں اور اس طرح ہمیشہ سخت دباؤ میں رہتے ہیں۔ زیادہ درآمدات تیل کی وجہ سے ہیں مگر اس کے علاوہ بھی لاتعداد ایسی چیزیں ہیں

    جو ہم ملک میں پیدا کرسکتے ہیں یا بنا سکتے ہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ہم اگر تھوڑی محنت کریں اور صحیح طریقے سے اس معاملے کو حل کرنا چاہیں

    تو آسانی سے گندم کی پیداوار اور دوسرے اناج کی پیداوار بڑھا کر خودکفیل ہو سکتے ہیں بلکہ کوشش کریں تو برآمد بھی کر سکتے ہیں ابھی چند سال پہلے

    تک ہم گندم، چینی وغیرہ برآمد کرتے تھے اور آج بھی چاول برآمد کرتے ہیں مگر بدقسمتی دیکھئے اور اپنی اہلیت اور جہالت دیکھئے کہ ہم آج گندم چینی، دالیں

    اور تو اور سبزیاں تک درآمد کر رہے ہیں۔ ادرک، پیاز، لہسن، ٹماٹر تک درآمد کئے جا رہے ہیں۔ شرم کی بات ہے۔ میں ایک انجینئر اور سائنسدان کی حیثیت سے اس

    پرابلم سے واقف تھا اور دیکھ رہا تھا کہ مستقبل میں ہم کو مالی، معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور صنعتی ترقی ہی اس کا حل ہے میں نے تقریباً 25

    سال پیشتر جنرل ضیاء الحق کو مشورہ دیا تھا کہ ہم فوراً آٹو موبیل انڈسٹری لگائیں چونکہ یہ صنعتی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں چاہئے

    کہ ہم کاریں، ٹرک، ٹریکٹر، جیپ، بل ڈوزر، موٹر سائیکلیں وغیرہ بنانا شروع کر دیں۔ ایک میٹالرجیکل انجینئر کی حیثیت سے آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ کار، ٹرک، جیپ

    وغیرہ بنانے میں ہر قسم کی دھاتیں اور غیردھاتی میٹریل استعمال ہوتے ہیں اس میں انجینئرز کو ان دھاتوں اور غیردھاتوں کو ڈھالنے، مشین کرنے وغیرہ میں

    مہارت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ انجن، گاڑی کو اسٹارٹ کرنے کا میکانزم الیکٹرونک کنٹرول وغیرہ اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ کام یا صنعت ہمیں اربوں ڈالر

    کی بچت دے سکتی تھی۔ مگر میری یہ قیمتی رائے نہ سنی گئی اور نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ کئی سال بعد جاپان گیا اور وہاں ایک بڑی صنعتی کمپنی کے

    مینجنگ ڈائریکٹر سے ملا، یہ برلن میں رہ چکا تھا اور مجھ سے جرمن زبان میں بات چیت کر کے بے حد خوش ہوا اس نے بتلایا کہ وہ کئی بار پاکستان گیا ہے اور

    اس کو یہ دیکھ کر سخت تعجب اور دکھ ہوا تھا کہ اتنے بڑے ملک کے باوجود اتنے دوردراز فاصلوں کے باوجود سفر اور سامان کی منتقلی کی ضرورت کے باوجود

    اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ہم نے آٹو موبیل انڈسٹری نہیں لگائی تھی جو کہ تقریباً تمام صنعتی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے میرا دل چاہا

    کہ کسی پتھر سے اپنا سر پھوڑ لوں۔ میری اتنی اہم تجویز کو جنرل ضیاء نے درآمدات کرنے والوں کے مفاد کی خاطر قبول نہ کیا اور ملک کو نہ صرف اربوں ڈالر کا

    نقصان ہوا بلکہ ہم ایک اچھی صنعتی بنیاد رکھنے سے محروم ہو گئے جس طرح کہوٹہ کے نیوکلیئر پلانٹ کی وجہ سے لاتعداد اہم صنعتی میدانوں میں فائدہ ہوا

    اور کروڑوں ڈالر کی دفاعی مصنوعات بنائی جا سکیں اسی طرح ایک آٹو موبیل انڈسٹری ہمیں ایک صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی۔

    دیکھئے بات ٹیکنالوجی کی ہورہی تھی مگر ٹیکنالوجی اور سائنس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس لئے ہم ہمیشہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بات ایک ہی سانس

    میں کرتے ہیں۔ بغیر سائنس کے ٹیکنالوجی اندھی ہوتی ہے اسے ایک رہنما اور اچھی نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں چونکہ سائنس کا تمام کام ہائر

    ایجوکیشن یعنی ایچ ای سی کے ذمہ ہے۔ اس لئے میں گھوم پھر کر پھر وہیں آگیا ہوں اور پچھلے ایک مضمون میں بیان کئے معاملات کی طرف توجہ دلانا چاہتا

    ہوں۔

    ایک اور اہم مسئلہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بارہ میں سابق وزیر جناب اسحٰق خان خاکوانی اور میرے تاثرات تھے میں نے صاف صاف بیان کردیا تھا کہ ڈاکٹر عطاء

    الرحمن میرے دوست ہیں۔ میں ان کی عزت کرتا ہوں ان کا تعلق دہلی کے نہایت باعزت گھرانے سے ہے اور ان لوگوں نے تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا

    تھا۔ مرحوم پروفیسر سلیم الزماں صدیقی کی تحریری درخواست پر میں نے خود جاکر صدر جناب فاروق احمد خان لغاری سے ڈاکٹر صاحب کے لئے ہلال امتیاز

    منظور کرایا تھا جب مشرف 2001ء میں مجھے وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی کا عہدہ دینے کی پیشکش کی تو میں نے انکار کرنے کے بعد پروفیسر عطاء الرحمٰن کا

    نام پیش کیا اور مشورہ دیا کہ ان کو بتادیا جائے اور میرے اس مشورہ کی بناء پر ہی وہ وزیر بنائے گئے تھے۔ ایچ ای سی کے قیام کا مقصد ٹھیک تھا مگر

    بدقسمتی سے 8 سال کے قیام اور اربوں روپیہ کے مصارف کے بعد کارکردگی میری نگاہ میں قابل افسوس رہی۔ غیر ملکی رسالوں کو انٹر نیٹ کے ذریعہ مہیا کرنا

    یا لاتعداد لوگوں کو وظیفہ دے کر باہر بھیجنا کوئی بڑا کام نہیں۔ پچاس سال تک ڈپٹی سیکریٹریز اور سیکشن آفیسرز یہ کام کر ہی رہے تھے اور ہزاروں طلباء نے اس

    دوران میں غیر ملکیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی خود پروفیسر عطاء الرحمن غالباً اس طریقہ کار کے تحت باہر گئے ہوں گے۔ میرا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ

    تمام دعوؤں کے باوجود نہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن اور نہ ہی کوئی ان کے ساتھی ملک کے لئے قابل قدر کام کرسکے۔ آپ کو بنگلہ دیش کے کیمسٹری کے نوجوان

    پروفیسر ابوالحسام کے بارہ میں بتانا چاہتا ہوں۔ پروفیسر ابوالحسام (Abul Hussam) امریکا کی میسن (Mason) یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر ہیں انہوں

    نے زہریلی دھات آرسینک (Arscnic) کو پانی سے علیحدہ کرنے کا نہایت مفید اور اہم طریقہ کار دریافت کیا۔ اس اہم کام کے انعام کے طور پر ان کو نیشنل اکیڈمی

    آف انجینئرنگ نے گرینجر چیلنج ایوارڈ (Graninger Challenger Award) دیا اور اس کے ساتھ دس لاکھ ڈالر اور گولڈ میڈل بھی دیئے گئے۔ پانی میں آرسینک کی

    موجودگی سے کروڑوں عوام سخت بیماری کا شکار ہورہے تھے اور پروفیسر ابوالحسام کے اپنے گاؤں میں بنگلہ دیش میں سب لوگ بیمار تھے۔

    انہوں نے ایک فلٹر سسٹم بنام SONO ایجاد کیا اور اس کی قیمت صرف 35 ڈالر ہے اس فلٹر کی مدد سے اب ایشیا اور افریقا میں کروڑوں افراد اس زہریلی دھات

    سے محفوظ ہوگئے ہیں۔ یہ ہے قابل تحسین کام۔ کاش HEJ انسٹی ٹیوٹ یا HEC کوئی ایسی کارکردگی دکھا سکتے آپ کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ORS یعنی

    Oral Dehydration کو بھی بنگلہ دیشی بھائیوں نے ایجاد کیا تھا آج اس نمک کے استعمال سے دنیا میں کروڑوں لوگوں کی جان بچ جاتی ہے ورنہ جس کو بھی

    ڈائریا ہوا اور بدن میں پانی کی کمی ہوئی اس کی موت یقینی تھی۔ پروفیسر ابوالحسام کو یہ انعام پچھلے سال ملا تھا۔

    اس کے علاوہ آپ سنگاپور کی مثال لیجئے جہاں کی آبادی بمشکل 45 لاکھ ہوگی۔ انہوں نے پچھلے دنوں نہایت بری اپاہج کرنے والی بیماری الزہائمر (Alzheimer)

    کا علاج معلوم کرلیا ایک فارماسیوٹیکل کمپنی نے منہ سے کھانے والی دوا ایجاد کی ہے جو سیکڑوں کروڑ لوگوں کی زندگی بہتر بناسکے گی۔ یہ کام انسانیت

    کے لئے قابل تحسین ہے۔

    ایک دوسری مثال کینیڈا کے انجینئر اینڈریو بینیڈیک AndrewBenedek کی ایجاد ہے۔ اس نے ایک فلٹریشن طریقہ ایجاد کیا ہے جس سے پانی کی تمام آلودگی دور

    ہوجاتی ہے۔ یہ وہی اصول ہے جو یورینیم کی افزودگی میں ڈفیوژن طریقہ کار میں استعمال ہوتا ہے۔ بہت ہی باریک باریک سوراخ والے فلٹر بنائے جاتے ہیں اور تقریباً

    ایک ہزار مائکرون سے شروع ہو کر ایک دس ہزار ویں مائکرون تک کے سوراخ ان فلٹروں میں ہوتے ہیں آپ کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ ایک مائکرون ایک ملی

    میٹر کا دس لاکھواں حصہ ہوتا ہے۔ اس ایجاد سے تمام ضائع ہونے والا پانی صاف کیا جاتا ہے اور دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے یہ اعلیٰ تعلیم کو مفید کام میں

    استعمال کرنے کی اچھی مثال ہے۔

    ایک اور مثال کیوبا جیسے چھوٹے ملک کی دوں گا جو تقریباً پچاس سال سے سخت امریکی معاشی ناکہ بندی کا شکار ہے اس کے باوجود بیوٹیکنالوجی اور

    جینٹک انجینئرنگ میں قابل تحسین ترقی کی ہے۔ آپ کو تعجب ہوگا کہ کیوبا اس ٹیکنالوجی کے ذریعہ تقریباً پانچ سو ملین ڈالر ہر سال کماتا ہے۔ ہم کو بھی ایسی

    ہی قسم کی مہارت حاصل کرنا چاہئے۔

    ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ملک نے پروفیسر عبدالسلام، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی، ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی، پروفیسر باقی بیگ، پروفیسر عطاء الرحمن،

    پروفیسر رضی الدین صدیقی، پروفیسر اصغر قادر اور پروفیسر ریاض الدین اور پروفیسر فیاض الدین جیسے اعلیٰ سائنسدان پیدا کئے ہیں اور انشاء اللہ پیدا کرے گا۔

    میری عرض یہ ہے کہ ہمیں کئی ہزار پی ایچ ڈی لوگوں کے بجائے کئی ہزار انجینئرز کی ضرورت ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور دولت

    اس کے انجینئرز کی کارکردگی اور مہارت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ہمیں لاکھوں فنی ماہرین کی اشد ضرورت ہے۔ اپنے ان مہربانوں سے جو ہمارے مباحثہ پر اعتراض

    برائے اعتراض کرتے ہیں اور اپنا نام بنانا چاہتے ہیں یہ عرض ہے کہ مندرجہ ذیل شعر پر غور کیجئے اور خاموش رہئے۔

    کتنی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کو

    تم نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دی ہے

     

               

               

               

    یاد ماضی عذاب ہے یارب!,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان        12/17/2008

    ہماری سب کی زندگی میں کچھ واقعات ہوتے ہیں کہ وہ کبھی نہ کبھی ہمیں یاد آتے رہتے ہیں۔ بعض واقعات بہت خوشگوار ہوتے ہیں اور بعض بہت ہی تکلیف دہ۔

    خوشگوار واقعات کی یاد جب آتی ہے تو ہمارے چہرہ پر مسکراہٹ آ جاتی ہے اور ہم دل ہی دل میں اس واقعہ کو یاد کر کے خوش ہوتے ہیں، ایسے واقعات عموماً

    مختصر ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس نا خوشگوار واقعات کی یاد بہت دیرپا اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ کچھ یادیں امتحان سے وابستہ ہوتی ہیں کہ امتحان بہت سخت

    تھا، سخت پریشانی تھی اور نیندیں اڑ گئی تھیں۔ کچھ یادیں بعض مشکل اور تکلیف دہ واقعات سے وابستہ ہوتی ہیں جو آپ نہ کبھی بھلا سکتے ہیں اور نہ ہی وہ

    جلد آپ کو اس سے نجات دیتی ہیں۔

    خوشگوار واقعات تو میری زندگی میں بہت آئے اور اللہ تعالیٰ کا کرم رہا کہ ان کی یادیں آج بھی نہایت خوشگوار ہیں۔ تعلیم میں کامیابی، شادی، بچوں کی پیدائش،

    ان کی تعلیم، اچھی باعزت ملازمت، پاکستان میں آمد اہم کام کا کامیابی سے مکمل کرنا اور ملک کو ناقابل تسخیر دفاع مہیا کرنا اور سب سے بڑھ کر عوام کی

    دلی اور والہانہ اور بے لوث محبت، مگر سب سے برا اور تکلیف دہ واقعہ جو آج بھی دل میں خنجر کی طرح چبھتا رہتا ہے، وہ ہے 16 دسمبر 1971ء میں مشرقی

    پاکستان میں ہماری افواج کی ذلت آمیز شکست اور ہتھیار ڈالنا۔ ہر سال جونہی دسمبر کا مہینہ قریب آتا جاتا ہے میرا دل غم سے بیٹھا جاتا ہے۔ ایک ذہنی کرب

    میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔ یہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب، دن ہے اور جو لوگ اس کو بھول گئے ہیں یا بھولنا چاہتے ہیں وہ بے حس ہیں اور اگر خدانخواستہ یہ ملک

    بھی تباہ ہو جائے تو ان کو کچھ درد تکلیف نہ ہو گی۔

    اکتوبر 1971ء میں، میں نے اپنی ڈاکٹریٹ کی تھیسس مکمل کر لی تھی اور داخل کر چکا تھا۔ پچھلے کئی ماہ سے اپنے کام سے متعلق بین الاقوامی رسالہ

    جات میں ریسرچ مقالہ جات شائع کر رہا تھا، مگر چند ماہ سے نہ دماغی سکون تھا اور نہ ہی کام میں دل لگ رہا تھا۔ مجھے ایک کتاب کی تکمیل کرنا تھی، جو

    اپنے ہالینڈ کے پروفیسر ڈاکٹر ولیم برگرس کی سالگرہ پر ان کو پیش کرنا چاہتا تھا۔ میں نے دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کے بین الاقوامی شہرت یافتہ

    پروفیسروں سے اس کتاب کے لئے مقالے لکھوائے تھے اور خود بھی ایک مقالہ لکھا تھا اور یہ کتاب ہالینڈ کی مشہور کمپنی نے شائع کی تھی جو ایک بڑی

    تقریب میں ڈیلفٹ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی میں جس میں امریکہ، انگلستان، فرانس، جرمنی، آسٹریا، ہالینڈ وغیرہ کے پروفیسروں نے شرکت کی تھی، پروفیسر

    برگرس کو پیش کی گئی تھی۔

    جب مارچ 1971ء میں یحییٰ خان نے جنرل ٹکا خان سے مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن کرایا تو میں نے یہی یقین کیا کہ واقعی مشرقی پاکستان والے

    دہشت گرد ہندوستانیوں کی مدد سے وہاں گڑبڑ کرا رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ جب اخبارات اور ٹی وی نے حقائق بیان کرنے شروع کئے تو دماغ الجھن میں پڑ گیا۔ میں

    نے کراچی میں ایوب خان کے ابتدائی دور میں فوجیوں کو دیکھا تھا اور میرے دل میں ان کی بے حد عزت تھی، مگر اب جب نہتے بنگالیوں کا قتل عام دیکھا، ہزاروں

    حاملہ لڑکیوں کو دیکھا اور نہایت اندوہناک تصاویر دیکھیں کہ کتے بچیوں کی لاشیں گھسیٹ رہے تھے اور ان کو کھا رہے تھے تو بے حد دکھ ہوا۔ میرے ساتھ بازو

    والے فلیٹ میں ڈاکٹر عبدالمجید ملا اور ان کی بیگم ڈاکٹر عائشہ قیام پذیر تھے۔ میڈیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کر رہے تھے۔ ڈھاکہ سے تھے اور ہمارے بے حد

    اچھے دوست تھے اور فرشتہ خصلت تھے۔ ان کی دو بچیاں ہماری بچیوں کی ہم عمر تھیں اور بے حد اچھی دوست تھیں۔ ہمارے تعلقات میں فرق نہیں آیا مگر

    جب ملتے تھے تو اندرونی طور پر یہ احساس ہو رہا تھا کہ درمیاں میں خلیج پیدا ہو رہی ہے۔ بیوون یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ نے پاکستان کے خلاف جب

    مظاہرہ کا انتظام کیا تو میں نے سمجھا بجھا کر وہ ملتوی کر دیا کہ طلباء اور اساتذہ کو سیاست میں نہیں پڑنا چاہئے۔ اس سے پیشتر 1965ء میں، میں نے ہالینڈ

    میں مشہور پروفیسر ڈاکٹر ڈے ینگ کو کشمیر کے بارے میں تفصیلی خط لکھ کر اور بات کر کے پاکستان کے موقف کا قائل کر دیا تھا۔ وہ اس وقت جنگ کے دوران

    ہندوستانی نقطہ نظر زیادہ پیش کرتے تھے۔ انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا تھا اور پھر متوازن تبصرہ کرنے لگے تھے۔ اس کے بعد 16 دسمبر 1971ء کا دن آیا اور

    مجھے اپنی آنکھوں سے وہ سیاہ ترین دن بھی دیکھنا پڑا جب جنرل امیر عبداللہ خان نیازی پلٹن میدان میں بیٹھ کر ہندوستانی جنرل ارورا کے سامنے شکست

    نامے اور ہتھیار ڈالنے کے معاہدہ پر دستخط کر رہے تھے۔ میں کئی دن نہ سو سکا، بھوک مر گئی اور کئی کلو وزن کم ہو گیا اور یہی افسوس کرتا رہا کہ اللہ پاک

    تو نے مجھے یہ منحوس دن کیوں دکھانے کو زندہ رکھا۔ جس وقت مغربی پاکستان کی فوج نے مشرقی پاکستان میں بدنام زمانہ آرمی ایکشن شروع کیا اس وقت

    ہمارے انقلابی مرحوم شاعر حبیب جالب نے یہ قطعہ کہا تھا۔

    1971ء کے خون آشام بنگال کے نام

    محبت گولیوں سے بو رہے ہو

    وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو

    گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے

    یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

    (مشرقی پاکستان میں فوج کشی کے موقع پر )

    بعد میں معتبر ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ فوج نے سو سے زیادہ بنگالی دانشوروں کو گرفتار کر کے ڈھاکہ کے باہر قتل کر کے اجتماعی قبر میں دفن کر دیا

    تھا۔ مجھے ان باتوں پر یقین نہ آتا تھا، لیکن جب پاکستان آیا اور میرے ساتھ کام کرنے والے پرانے فوجی سپاہیوں اور نچلے درجہ کے افسران سے تفصیلات کا علم

    ہوا تو میرا سر شرم سے جھک گیا۔ رہی سہی کسر مشرف نے اپنی ہی فوج کو اپنے ہی عوام کے خلاف استعمال کر کے اور لال مسجد میں معصوم بچوں کو

    فاسفورس بم سے جلا کر اور مار کر پوری کر دی۔ فوجی کارروائی دیکھ کر جو اپنے ہی عوام کے خلاف قبائلی علاقہ میں جاری ہے دکھ ہوتا ہے۔ ہر خبر غور سے

    پڑھتا ہوں تو فوراً میرے پرانے دوست محسن بھوپالی کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے۔

    اس لئے سنتا ہوں محسن ہر فسانہ غور سے

    اک حقیقت کے بھی بن جاتے ہیں افسانے بہت

    میں 1972ء کے اوائل میں امسٹرڈم چلا گیا اور وہاں یورینیم کی افزودگی میں مہارت حاصل کی۔ مجھے پھر بھی ہر وقت 16 دسمبر 1971ء یاد آ کر دکھ دیتا رہتا تھا،

    جب 18 مئی 1974ء کو ہندوستان نے دنیا کو دھوکہ دے کر ایٹمی دھماکہ کیا اور بھٹو صاحب کی بار بار وارننگ کو نظر انداز کیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اب

    پاکستان کا قیام و وجود بہت خطرہ میں پڑ گیا ہے اور ہندوستان ہمیں چند سالوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ ستمبر 1974ء کو میں نے بھٹو صاحب کو بم بنانے کی

    پیش کش کی تو انہوں نے فوراً آنے کی دعوت دی۔ ان کو تمام چیزیں بتلا کر واپس چلا گیا، مگر جب اواخر دسمبر 1975ء میں ان کی دعوت پر دوبارہ آیا تو کچھ کام

    نہیں ہوا تھا، جب میں نے ان کو یہ بتلایا تو انہوں نے درخواست کی کہ میں واپس نہ جاؤں اور رک کر ایٹم بم بناؤں، باقی حالات کہ کس طرح سب کچھ چھوڑا،

    کتنی خطیر تنخواہ پر کام کیا اور کن کن مشکلات و سازشوں کا سامنا کرنا پڑا، اب ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ میرے رفقائے کار اور میں نے نہایت کم عرصہ میں اس

    ملک کو ایک ایٹمی اور میزائل قوت بنا دیا اور ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ میں نے اربوں ڈالر کی ٹیکنالوجی دی اور ایک پائی معاوضہ کا نہیں ملا، لیکن

    اب موجودہ حالات میں جب غور کرتا ہوں تو اکثر یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہ ٹھیک قدم تھا، وہ فوج جو ذلت سے ہتھیار ڈال کر 2 سال قید میں رہی، جن کو میں نے

    ہندو فوجیوں سے ڈنڈے اور لاتیں کھاتے دیکھا تھا اور جو واحد طور پر میرے کام سے مستفید ہوئی اس نے اپنے محسن کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اس ملک کی

    تاریخ میں ایک سیاہ ترین باب رہے گا۔ ٹیکنالوجی میری تھی، میں لایا تھا اور پاکستان نے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا تھا اور ہم نے این پی ٹی پر دستخط بھی

    نہیں کئے تھے، پھر بھی بے رحم ڈکٹیٹر نے مجھے ذلیل کرنے کی کوشش کی۔ ناکام رہا اور خود ذلیل ہو کر چلا گیا۔

    آپ کی کونسی بڑھی عزت

    میں اگر بزم میں ذلیل ہوا

    حالات کی نزاکت کو دیکھ کر اور ملکی مفاد کی خاطر زبان کھولنا بھی مناسب نہیں اور یہ کام بھی تو مشکل ہے کہ آپ عدلیہ کو حقائق سے آگاہ کر سکیں یہ

    سوالیہ نشان ہی ہے۔

    کیا عدالت کو یہ باور میں کرا پاؤں گا

    ہاتھ تھا اور کسی کا مرے دستانے میں

    دنیا میں یہ عام رواج ہے کہ اگر فوج شکست کھائے تو افسران کی فوراً چھٹی کر دیتے ہیں مگر ہمارے افسران خوش قسمت تھے کہ نہ صرف وہ باعزت بحال رہے

    بلکہ اعلیٰ عہدوں پر ترقی بھی مل گئی۔ ان کی اور ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ انہیں دوبارہ جنگ نہ لڑنا پڑی۔

    احمد فراز مرحوم نے ڈھاکہ میں فوجی میوزیم دیکھ کر جن احساسات کا اظہار کیا تھا وہ آج بھی ہم سب کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

    بنگلہ دیش

    ( ڈھاکہ میوزیم دیکھ کر )

    کبھی یہ شہر میرا تھا زمین میری تھی

    مرے ہی لوگ تھے میرے ہی دست و بازو تھے

    میں جس دیار میں بے یار و بے رفیق پھروں

    یہاں کے سارے صنم میرے آشنا رو تھے

    کسے خبر تھی کہ عمروں کی عاشقی کا مآل

    دل شکستہ و چشم پُر آب جیسا تھا

    کسے خبر تھی کہ اس دجلہٴ محبت میں

    ہمارا ساتھ بھی موج و حباب جیسا تھا

    خبر نہیں یہ رقابت تھی ناخداؤں کی

    کہ یہ سیاست درباں کی چال تھی کوئی

    دو نیم ٹوٹ کے ایسی ہوئی زمیں جیسے

    مری اکائی بھی خواب و خیال تھی کوئی

    یہ میوزیم تو ہے اس روز بد کا آئینہ

    جو نفرتوں کی تہوں کا حساب رکھتا ہے

    کہیں لگا ہوا انبار استخواں تو کہیں

    لہو میں ڈوبا ہوا آفتاب رکھتا ہے

    کہیں مرے سپہ سالار کی جھکی گردن

    عدو کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا سماں

    مرے خدا میری بینائی چھین لے مجھ سے

    میں کیسے دیکھ رہا ہوں ہزیمت یاراں

    ستم ظریفی یہ دیکھئے جو کام میں نے کیا جس کا سب سے زیادہ فائدہ جن کو پہنچا اور جو ہتھیار ڈالنے کی ذلت کے بجائے سر اٹھانے کے اور سیدھا چلنے

    کے قابل ہوئے، انہوں نے جو کچھ میرے ساتھ سلوک کیا اسے احسان فراموشی ہی کہہ سکتے ہیں۔ اگر جناب بھٹو ، غلام اسحاق خان ، جنرل محمد ضیاء الحق

    اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اس پروگرام کو نہ چلنے دیتے اور مدد نہ کرتے اور جناب میاں نواز شریف جراّت اور حب الوطنی کا مظاہرہ نہ کرتے تو ہم سب ایل

    کے ایڈوانی کے حکم اور خواہش کے مطابق گردنیں جھکا کر ادب سے اس کے سامنے مارچ کر رہے ہوتے۔ جوں جوں دسمبر آتا ہے دل سے ایک ہی دعا ایک ہی

    التجا نکلتی ہے۔

    یاد ماضی عذاب ہے یا رب

    چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

     

               

               

    ہمارا قابل فخر علمی ورثہ ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان      1/7/2009

    ۱۹۶۱ میں جب میں اعلیٰ فنی تعلیم کے لیے برلن کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی گیا تو سب سے زیادہ کمی اول تو اپنے ہم زبان دوستوں کی محسوس ہو ئی

    اور دوم انگریزی کے اخبارات،کتابوں کی غیر موجودگی۔ ہر اتوار کو میں ریلوے اسٹیشن جا کر لندن کا مشہور اخبار سنڈے آبزرور خرید لیا کرتا تھایہ خاصا ضخیم ہوتا

    تھا اور دنیا بھر کی خبروں سے آگاہی حاصل ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ میں نے برٹش کونسل کا پتہ حاصل کر لیا جو ریلوے اسٹیشن کے بالکل قریب ہی تھااور

    یہ دونوں چیزیں ہمارے ہوسٹل سے بمشکل پندرہ منٹ کے فاصلہ پر تھیں ۔ ہم بآسانی پیدل چلے جاتے تھے درمیان میں بہترین پارک تھا ،اس میں سے گزرنا بہت

    اچھا لگتا تھا۔بعد میں واحد پاکستانی طالبعلم اختر علی سے بہت گہری دوستی ہو گئی یہ الیکٹرانک انجینئرنگ کے بہت ذہین طالبعلم تھے ۔ آج کل کیلی فورنیا

    میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم دو پاکستانیوں کے مقابلے میں وہاں اسّی سے زیادہ ہندوستانی طلبہ تھے۔

    کراچی میں ڈ ی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج میں ۱۹۵۳ء سے ۱۹۵۷ء تعلیم کے دوران میں اپنے چند دوستوں کے ہمراہ پاکستان چوک میں برٹش کونسل

    جایا کرتا تھااور وہاں کی لائبریری سے کتابیں مستعار لیا کرتا تھا، مجھے علم تھاکہ برٹش کونسل میں اچھی کتابوں کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ جب برلن میں برٹش کونسل

    کا پتہ مل گیا تو طبیعت خوش ہو گئی اور میں نے وہاں سے لاتعداد معلوماتی کتابیں لے لے کر پڑھنا شروع کر دیں اور اپنی معلومات میں اضافہ کیا۔ وہاں مجھے جو

    ایک نہایت ہی اعلیٰ کتاب پڑھنے کا موقع ملا وہ انگلستان کے نہایت مشہور ریاضی دان پروفیسر ڈاکٹر الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ (Alfred North Whitehead)کی”سائنس

    اور فلاسفی پر مضامین“ (Essays on Science & Philosophy) تھی۔ یہ پروفیسر انگلستان کے دوسرے نہایت مشہور ریاضی دان برٹرینڈرسل کے استاد اور نہایت

    عزیز دوست تھے۔ ان دونوں نے ریاضی پر جو کتاب لکھی تھی وہ اس مضمون پر بائبل سمجھی جاتی ہے،اس کا نام (Principia Mathematica) ہے۔ آپ کو علم ہے

    کہ Bertrand Russell جنگ اور ہتھیاروں کے سخت خلاف تھے اور ہندوستان کی آزادی کے لیے بہت سرگرم رہے تھے، ان کو ادب کا نوبل انعام بھی ملا تھا۔

    قبل اس کے کہ میں اصلی موضوع کی جانب رجوع کروں ایک نہایت ضروری بات عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ جب میں ۷۶ ۹ ۱ ء میں واپس آیا اور یورینیم کی افزودگی کا

    کام شروع کیا تو دیکھا کہ ہمارے لوگ جب کبھی کوئی مضمون یا رپورٹ لکھتے تھے تو کوشش ہوتی تھی کہ مشکل ترین الفاظ لکھ کر اپنی انگریزی زبان پر مہارت

    کا مظاہرہ کریں اس کوشش میں اکثر اصل مفہوم پس پشت چلا جاتا تھا۔ میں ان کو ُبلا کر سمجھاتا تھا کہ ہنر یہ نہیں کہ آپ مشکل زبان استعمال کریں، ہنر یہ

    ہے کہ نہایت سادی زبان استعمال کر کے اپنا مفہوم پیش کر دیں۔ میں اس سلسلے میں ان کو مشورہ دیتا تھا کہ وہ برٹرینڈرسل کی چھوٹی چھوٹی اعلیٰ کتب

    کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ نہایت سادہ زبان میں اس نے کتنی پیاری اور اہم باتیں بیان کی ہیں، اب بھی یہی مشورہ اُن لوگوں کے لیے جو مضامین اور رپورٹس

    لکھتے ہیں۔ وہ بمباسٹک الفاظ استعمال نہ کریں اور سادہ اچھے الفاظ استعمال کریں اس سے تحریر بھی جاذب اور بآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے۔

    دیکھئے پروفیسر ڈاکٹر الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ کا ذکر اس لیے آ گیا تھاکہ وہ بعد میں انگلستان سے امریکہ چلے گئے تھے اور ریاضی دان کے بجائے ایک اعلیٰ

    فلسفی کے طور پر مشہور ہوئے۔ ان کا ایک بیان ہماری قوم اور اہل اقتدار کے لیے ایک مسیحانہ پیغام کی حیثیت رکھتا ہے ۔ سو سال پہلے جو بیان انہوں نے دیا

    تھا وہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ کا کام دے سکتا ہے انہوں نے کہا تھا:۔

    "In the conditions of modern life the rule is absolute: the race which does not value trained intelligence, is doomed. Not all your heroism, not all your

    social charm, not all your wit, not all your victories on land or at sea, can move back the finger of fate. Today we maintain ourselves, tomorrow science

    will have moved over yet one more step and there will be no appeal from the judgement which will be pronounced on the uneducated"

    ”آج کل کے ترقی یافتہ زمانے میں یہ اصول حرف آخر ہے کہ وہ قوم جو اپنے تجربہ کار ذی فہم و عقلمند لوگوں کی قدر نہیں کرتی اور ان کو اہمیت نہیں دیتی اس

    کے مقدر میں عبرت ناک انجام اور تباہی لکھی ہے۔ تمام بہادری، تمام معاشرتی کشش، تمام ظرافت و تیز فہمی، سمندروں اور زمین پر تمام فتوحات قسمت کا

    لکھا رتی برابر تبدیل نہیں کر سکتے۔ ہم آج اگر اپنی زندگی کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہیں تو سائنس یقیناً ایک قدم آگے بڑھ چکی ہو گی اور اس فیصلے

    کے خلاف ہم کوئی اپیل نہیں کر سکیں گے جو کہ غیر تعلیم یافتہ، غیر تجربہ کار قوم کے خلاف دیا جائے گا۔“

    یہ بیان تو تقریباً سو سال ہی پہلے کا ہے۔ ہمارے مذہب میں تعلیم اور علم پر جتنا زور دیا گیا ہے اتنا کسی اور مذہب میں نہیں دیا گیا۔ چودہ سو سال پیشتر ہمارے

    پیارے نبی حضرت محمد نے علم حاصل کرنے کی یوں ہدایت فرمائی تھی۔ ”اُطلبوالعلم وَلو باِلصیّن“ یعنی اگر تم کو علم حاصل کرنے کے لیے چین بھی جانا پڑے

    تو جاؤ۔ اس زمانہ میں چین دنیا کے دوسرے کنارے پر دور دراز ملک تصور کیا جاتا تھا اور رسول کا فرمان یہ بتلاتا تھا کہ خواہ تم کو علم حاصل کرنے کے لیے دنیا

    کے دور دراز ملک میں ہی کیوں نہ جانا پڑے، جاوٴ اور علم حاصل کرو۔

    ایک اور حدیث نبوی ہے کہ ”قیامت کے دن شہیدوں کا خون اور علماء کی استعمال شدہ روشنائی کی اہمیت برابر ہو گی۔“ امیر المومنین حضرت علی کا فرمان

    ہے کہ علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے جبکہ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے، علم چرایا نہیں جا سکتا جبکہ مال چرایا جا سکتا ہے، لوگ علم والے کی درازی عمر کی

    دعا کرتے ہیں جبکہ مال والے کے جلد مرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔“

    سورة توبہ آیت نمبر ۱۲۲ میں اللہ رب العزت نے ہدایت کی ہے کہ حالات جنگ میں تمام قبیلے ایک ساتھ روانہ نہ ہو جائیں بلکہ ہر قبیلے میں سے ایک جماعت

    پیچھے ٹھہر جائے اور دین (دین و علم مرادہے) کے علم کی تبلیغ کریں اور جب لوگ ان کے پاس واپس آئیں تو تنبیہ کریں تا کہ وہ علم حاصل کریں۔“ اللہ رب العزت

    یہاں علم حاصل کرنے کی ہدایت فرماتے ہیں اور اس کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ کچھ لوگوں کو جہاد میں شرکت کے بجائے علم حاصل کرنے اور اس کو

    پھیلانے کا حکم دیا ہے۔

    برٹرینڈرسل جن کا ذکر میں شروع میں کر چکا ہوں بہت صاف گو اور بہادرشخص تھے، اپنی ایک کتاب میں انہوں نے بائبل میں لاتعداد نا قابل قبول باتیں بتا کر اعلان

    کیا تھا کہ وہ اس وجہ سے عیسائیت قبول نہیں کر سکتے۔

    انہوں نے اپنے ایک مضمون میں مسلمانوں کی علم و سائنس میں ترقی کی بے حد تعریف کی اور لکھا کہ مسلم اندلس یعنی اسپین میں جبکہ اعلیٰ

    یونیورسٹیاں کام کر رہی تھیں اور تعلیم کا اور معلومات کا معیار بہت اعلیٰ تھا اس وقت یورپین ممالک میں لوگ لغوی یا بطور استعارہ درخت کے پتوں سے ستر

    پوشی کرتے تھے۔ دنیا کی تاریخ مسلمان سائنسدانوں کے ناموں اور ان کے کارناموں سے بھری پڑی ہے، اس وقت جبکہ یونان و روم کے عالم اپنی تمام ذہانت

    فلسفہ اور فنِ آلات حرب بنانے میں مصروف تھے، مسلمان حکماء اور ماہرین سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر کے اپنا لوہا منوا رہے تھے۔

    تقریباً ۷۵۰ سے ۱۱۰۰ ء تک یعنی ساڑھے تین سو سال کا عرصہ مسلمان سائنسدانوں ، انجینئروں، اور فلسفیوں کے ”دور حکومت“ کا وقت تھا۔ ان میں جو بہت

    مشہور ہوئے ان میں چند کے نام یہ ہیں۔ ابوعبداللہ البطانی (ماہر فلکیات، ریاضی)، ابو ریحان البیرونی (فلکیات،ریاضی)، الولوفا محمدالبرحانی (ریاضی) ،ابوالنصر

    الفارابی (سائنس ،فلسفہ، ریاضی ،طب، موسیقی ،عمرانیات)ابوعلی حسن ابن الحیشم (فزکس، روشنی کی خصوصیات)، ابن النفیس(طب)،ابن رشد(

    طب،موسیقی، قانون ، فلسفہ)، ابن سینا ( طب، فلسفہ، ریاضی ، فلکیات)،ابو مروان ابن زہر(طب)،جابر ابن حیان(کیمسٹری)،محمدبن موسیٰ

    الخوارزی(ریاضی،فلکیات،جغرافیہ)، عمر خیام(ریاضی، فلکیات، ادب)، یعقوب ابن اسحاق الکندی(فلسفہ،ریاضی، فلکیات، جغرافیہ)،محمد ابن ذکریا الرازی(طب،

    کیمسٹری)،نصیر الدین الطوسی(سائنس، ریاضی، فلکیات، طب، مذہب)،ابو القاسم الزھراوی ( طب ، سرجری) وغیرہ وغیرہ اور کئی نامور ہستیاں گزری ہیں۔

    مسلمان عالموں (سائنس دان ، ریاضی دان ، فلسفی) کے بارے میں آ پ کسی بھی اچھی انسائیکلوپیڈیا یا اچھی کتب میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔اس

    کے علاوہ اس ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے۔ www.paspk.org

    اس سلسلے میں آپ کو مغربی افریقہ میں واقع مالی کے شمال میں مشہور تاریخی شہر ٹمبکٹو کے بارے میں بتلانا چاہتا ہوں کہ وہاں بارہ سوسال پیشتر ایک

    اعلیٰ یونیورسٹی تھی جہاں ۲۵ ہزار طلبہ تمام دنیائے اسلام سے آ کر تعلیم حاصل کرتے تھے اس تاریخی ِاسلامی شہر کو میں کئی بار گیا ہوں۔ نہایت غریب

    مگرنہایت اچھے مسلمان رہتے ہیں ،وہاں ہزار سال سے پرانی کئی مساجد ہیں۔ میری درخواست پر جناب پرنس کریم آغاخان نے مساجد کی مرمّت اور کئی

    فلاحی کاموں کی ذمہ داری لے لی تھی۔جنوبی افریقہ نے وہاں کے نایاب وتاریخی دستاویزات کی حفاظت کے لیے ایک نہایت اچھا سینٹر تعمیر کر دیا ہے۔

    علم حاصل کرنے اور پوچھنے سے نہ شرمانے کے بارے میں ۱۱ سو سال پہلے یعقوب ابن اسحق الکندی نے سنہری نصیحت ان الفاظ میں کی تھی”ہمارے لئے

    یہ مناسب ہے کہ ہم سچائی کو قبول کرنے میں ہرگز شرمندگی محسوس نہ کریں اور خواہ وہ کسی بھی ذرائع سے آئے اس کو قبول کریں اور یاد کریں ۔ وہ لوگ

    جو سچائی کی بلندی حاصل کرتے ہیں ان کے لئے اس سچائی حقیقت سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ۔ اس سے نہ تو عزت و وقار میں کمی ہوتی ہے اور نہ ہی

    وہ شخص ذلیل و خوار ہوتا ہے جو اس( سچائی حقیقت ) کو تلاش کرتا ہے۔“

    مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم کو بھی علم ہے کہ اللہ رب العزت نے کلام مجید میں بار بار قدرت کی کارکردگی کا مطالعہ کرنے اور اس کو سمجھنے اور علم

    حاصل کرنے کا حکم فرمایا ہے، سورة رحمن ، سورة یٰسین میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ رب العزت نے یہ حکم دیا ہے کہ گزشتہ ظالموں ،

    کافروں ، منافقوں کے عبرت ناک انجام سے سبق حاصل کریں ۔

    کلام مجید میں تقریباً ۲۵۰ آیات کا تعلق قانونی معاملات سے ہے جبکہ اس کے مقابلے میں تقریباً۷۵۰ میں اللہ رب العزت مسلمانوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ

    قدرت کا مطالعہ کریں، اس کے بارے میں سوچیں اور اجتہاد کریں اور سائنٹیفک مہم جوئی کو اپنی امہ کا ایک لازمی جز بنا لیں۔ اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب

    نے قدرت کو سمجھنے اور علم حاصل کرنے کی اہمیت پر زور نہیں دیا۔ میں یہاں کلام مجید کی صرف دو آیات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں۔(۱) کیا

    یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کو کس طرح پیدا کیا ہے اور آسمان کو کہ کس طرح بلند کیا گیا ہے اور پہاڑوں کو کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں اور

    آسمان کی طرف کہ کس طرح بلند کیا گیا ہے اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے۔(سورة غاشیہ، پارہ ۳۰) ۔ (۲) بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق

    اور رات اور دن کی تبدیلی میں عقل والوں (سمجھنے والوں ) کے لیے نشانیاں ہیں۔ (سورة آل عمران، پارہ ۴)۔ ایک اور اہم آیت جس میں اللہ رب العزت نے عالم

    یعنی ماہر علم کی فوقیت، تعظیم و تکریم کا ذکر فرمایا ہے وہ سورة نمل کی چالیسویں آیت ہے اس میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح ایک عالم یعنی صاحب علم

    نے پلک جھپکتے ہی سیکڑوں میل دور سے ملکہ سبا کا شاہی تخت حضرت سلیمان کے قدموں میں لا ڈالا تھا جبکہ ایک نہایت طاقتوجن نے اس سے کہیں

    زیادہ وقت لینے کا اظہار کیا تھا۔

    اس مضمون میں چند قرآنی آیات کا حوالہ دینے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جن قدرتی رازوں کا ذکر ہمارے پروردگار اور ہمارے رسول نے ہمیں چودہ سو سال بیشتر

    کر دیا تھا وہ مغربی سائنسدانوں نے بمشکل چند سال بیشتر ”حیران کن“ معلومات و ایجادات کے طور پر پیش کر کے بھنگڑا ڈالا ہے۔ میری تمام طلبا و طالبات سے

    درخواست ہے کہ وہ ضرور وقت نکال کر کلام مجید کامع ترجمہ مطالعہ کریں تاکہ ان کو علم ہوکہ ہمارا پروردگار یقینا ہر راز کو جانتا ہے اور اس نے اپنے کلام میں

    صاف صاف اس کا تذکرہ کر دیا ہے۔

    یہ ابتدائی مضمون میں نے اپنے ان عزیز قارئین کے لئے لکھا ہے جن کو ہمارے قیمتی و سنہری علمی ورثہ سے واقفیت نہیں ہے اور مطالعہ کا موقع نہیں ملا

    ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جن کو اللہ نے مجھ سے زیادہ عقل و فہم اور تجربہ عطا فرمایا ہے اور ہمارے ملک میں ایسے دانشوروں کی کمی نہیں ہے۔

    اپنے آئندہ مضامین میں ٹیکنیکل تعلیم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کروں گا اور اپنی تعلیم و تجربہ کی روشنی میں چند مشورے بھی دوں گا ، اس امید کے

    ساتھ کہ ان سے طلباوطالبات ، انجینئر اور سائنسدان مستفید ہو سکیں گے۔

     

               

               

               

    فنّی تعلیم,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان                1/14/2009

    ہر قوم و ملک کے لئے تعلیم ایک انتہائی اہم موضوع ہے اور اس موضوع پر اس قدر لکھا جا چکا ہے کہ اس پر مزید طبع آزمائی کرنے میں جھجک محسوس ہوتی

    ہے۔ رپورٹس، مضامین، سالانہ رپورٹیں، بین الاقوامی بنک، بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اور اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنٹیفک ادارے کی رپورٹیں، ملکوں کے بارے

    میں تمام تفصیلات، مثلاً کتنی رقم تعلیم پر خرچ ہوتی ہے، تعلیم یافتہ لوگوں کی نسبتاً تعداد، اسکولوں اور کالجوں میں طلباء و طالبات کی تعداد اور ان بچوں کی

    تعداد جن کو تعلیم کے مواقع مہیا نہیں ہیں، بتاتی ہیں۔ ہمارے یہاں بھی اعداد و شمار اتنی بار تقاریر و مضامین میں دہرائے گئے کہ بعض جاہل یا کم تعلیم یافتہ

    لوگ بھی ان کو دہرا کر اپنی قابلیت منوانے کی کوشش میں لگ گئے تھے۔

    ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ تعلیم ہر دکھ و مرض کی دوا ہے۔ ایسا نہیں ہے اور یہ تمام مشکلات حل نہیں کر سکتی۔ ہمارے دوست ملک سری لنکا کی مثال

    ہمارے سامنے ہے جہاں شرح تعلیم تقریباً اٹھانوے فیصد ہے، مگر غربت، بیروزگاری اور پسماندگی نے اس ملک کو بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ اسی قسم کی مثالیں

    مشرقی یورپ اور لاطینی امریکہ میں مل سکتی ہیں۔

    مجھے پوری طرح اس بات کا علم اور احساس ہے کہ جن لوگوں نے اس موضوع پر لکھا ہے، انہوں نے صدق دل سے سخت محنت و مشقت کی ہے اور پوری

    کوشش کی ہے کہ وہ حقائق کو صحیح طور پر پیش کریں اور تمام اعداد و شمار کی صحیح عکاسی کریں۔ اس کالم میں ( اور بعد میں پیش کئے جانے والے

    کالموں میں ) جو کچھ پیش کیا گیا ہے اس کا زیادہ تر حصہ میری ذاتی رائے پر مبنی ہے جو میری اپنی تعلیم اور تجربہ کی بنیاد پر میں نے قائم کی ہے۔ دوسرے

    ماہرین کا تذکرہ کرنا یا ان کے کام کا حوالہ دینا نہ صرف مشکل ہے بلکہ تقریباً نا ممکن ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو اہم چیزیں، حقائق تو یاد رہتے ہیں،

    مگر ان کے لکھنے والوں کے نام یاد نہیں رہتے۔ اس کے علاوہ جب آپ ایسے موضوع پر لکھنا شروع کرتے ہیں تو پھر آپ کے اپنے خیالات دوسرے نظریات پر حاوی

    ہو جاتے ہیں اور ایک ایسی چیز سامنے آتی ہے جو ہمارے اپنے تعلیمی نظام سے مطابقت رکھتی ہو اور قابل استعمال ہو۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ذریعہ

    ان ماہرین کی سمجھ میں آ جائے گا جو اس میدان میں سرگرم عمل رہے ہیں یا انہوں نے اس موضوع پر وسیع مطالعہ کیا ہے۔

    ہم جانتے ہیں کہ زمانہ قدیم سے انسان کی یہی کوشش رہی ہے کہ وہ زمین کے زیادہ سے زیادہ ذخائر کا استعمال کرے تاکہ ایک آرام دہ اور پرآسائش زندگی

    گزار سکے۔ جوں جوں انسان کے دماغ کی نشوونما میں اضافہ ہوا، اس کی ضروریات میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور انسان نے قدرت کے راز معلوم کرنے کی جدوجہد

    شروع کر دی تاکہ ان کی مدد سے زندگی کو مزید آرام دہ بنا سکے۔ ابتداء میں ترقی کی رفتار تھوڑی سست تھی، لیکن پچھلے چند عشروں میں حیران کن ترقی

    ہوئی ہے۔ پچھلی دو صدیوں میں اس قدر ایجادات اور معلومات ہوئی ہیں کہ ان کی تعداد بنی نوع انسان کی تعداد سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ سائنس اور

    ٹیکنالوجی کے میدان میں انتہائی حیران کن ترقیاں ہوئی ہیں، خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد کی ایجادات اور قدرت کے رازوں کے بھید کھولنے کی رفتار

    نے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔

    اس حکایت کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمام ایجادات اور معلومات کا منبع مغربی ممالک میں ہے۔ دوسرے ممالک میں صرف جاپان نے ہر فنی میدان میں اعلیٰ

    مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ تیسری دنیا و ترقی پذیر ممالک تو صرف استعمال کرنے والے ہیں اور اس کے لئے ان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے اور اس کے نتیجہ

    میں خود ان کے ہاں ترقی میں رکاوٹیں اور فقدان ہے۔ اس طرح یہ اندھیرے میں بھٹکتے پھر رہے ہیں اور اپنی جہالت، نا اہلی کی بہت بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

    ایشیا، افریقہ اور لاطینی ممالک کے مقابلہ میں اسلامی ممالک کی حالت بھی کچھ مختلف یا بہتر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ عرب ممالک بھی جن کے پاس نہایت

    قیمتی تیل کے ذخائر ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ایک نہایت اہم خطہ پر قابض ہیں، وہ بھی سائنٹیفک اور انجینئرنگ کے میدان میں کوئی قابل قدر ترقی نہیں کر

    سکے ہیں اور نہ ہی مغربی ممالک کی اجارہ داری سے آزاد ہو سکے ہیں۔ ان ممالک میں جو کچھ بھی ترقی کا معیار یا نمونہ سمجھا جاتا ہے وہ تمام درآمدی

    ٹیکنالوجی کو حاصل کر کے ملک میں استعمال کرنا یا اپنی ضروریات کے مطابق اس کو تبدیل کرنا شامل نہیں ہے۔ یہ سمجھ لیں کہ نہایت اہم یا پیچیدہ پلانٹ یا

    آلات خریدتے ہیں اور ان پر بٹن دبانے اور ان کو چلانے کی تربیت حاصل کر لیتے ہیں اور اگر اس کارکردگی میں نہایت معمولی سا بھی نقص پیدا ہو جائے تو فوراً

    گورا صاحب بہادر بڑے معاوضہ پر آتا ہے اور چند منٹوں یا گھنٹوں کے بجائے کئی دن عیاشی کرتا ہے اور کام کر کے بڑا معاوضہ لے کر چلا جاتا ہے۔ مغربی ممالک

    میں جو لوگ معمولی سے ٹیکنیشین کے طور پر ملازم ہوتے ہیں، وہ عرب ممالک میں بڑے انجینئر کے طور پر عیاشی کرتے ہیں، بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں اور

    گھر میں دو دو ملازمین کام کرتے ہیں۔ بلا ٹیکس جو رقم کمائی ہوتی ہے، اس سے جا کر اچھے مکانات خریدتے ہیں، ورنہ ایک چھوٹے سے گھر یا فلیٹ کی

    ادائیگی کے لئے 25,30 سال مزدوری کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے ٹیکنالوجی کا حاصل کرنا ان ممالک کو مغربی ممالک کا محکوم بنا دیتا ہے اور وہ ہمیشہ

    ہمیشہ کے لئے ان کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔ یہ پالیسی اور روایت ختم کرنے میں ہی ان ممالک کی بہتری اور بقا ہے۔ اس کے لئے بے حد فوری ضرورت ہے کہ

    ہم دل و جان، محنت و مشقت سے ٹیکنیکل میدان میں ترقی کریں اور کوشش کریں کہ جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر ترقی یافتہ مغربی قوموں کی صف

    میں شامل ہو سکیں، لیکن اس کی کم ہی امید ہے۔

    اسلامی دنیا میں تحقیق اور نتائج پر مبنی ریسرچ کی سخت ضرورت ہے اور اس کیلئے مناسب اداروں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف سماجی (Social)

    بلکہ قدرتی (Natural) سائنسی مضامین پر ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ ایسے ادارے بنانے کے لئے ہمیں پرانے روایتی طریقہ کار کو خدا حافظ کہنا پڑے گا جو

    ابھی تک ہمارے تعلیمی اداروں میں رائج ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ طلباء و طالبات کو جدید عملی اور صنعتی ریسرچ کے مواقع مہیا کئے

    جائیں تاکہ وہ اسلامی ممالک میں بھی اور پاکستان میں بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کا معیار بلند کر سکیں۔ یہی حال سماجی مضامین کا بھی ہے۔ ہمارے

    خیالات، تصورات، ملفوظات جو دوسرے ذرائع سے حاصل کردہ نتائج پر مبنی ہوتے ہیں، ہماری عقل و فہم پر اثر انداز ہو کر ان کی نشوونما کرتے ہیں۔ افسوس اس

    بات کا ہے کہ غیر ملکی خیالات، تصورات، پالیسیاں ہماری طرز زندگی اور خیالات کو ایک خاص ڈھانچہ میں ڈھالتی ہیں اور ان کو اپنی مرضی کی پالیسیوں کا پابند

    کر لیتی ہیں اور ہم اس قابل نہیں رہتے کہ بذات خود قدرت کا مطالعہ کریں، اس کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش

    کریں۔

    اس وقت جبکہ دنیا انتہائی تیز رفتاری سے ٹیکنیکل میدان میں رواں دواں ہے، ہمارے ملک میں حالت قابل رحم اور افسوسناک ہے۔ یہی نہیں بلکہ قابل افسوس

    بات ہے کہ ان اسلامی ممالک میں جو نہ صرف مالدار ہیں بلکہ ان کے پاس تعلیم یافتہ اور ماہر انجینئر موجود ہیں، ان کی حالت بھی افسوسناک ہے اور سائنسی

    اور ٹیکنیکل میدان میں ان کی ترقی قطعی قابل تحسین یا قابل رشک نہیں ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ بغیر ضروری بنیادی ڈھانچہ اور سہولتوں

    کے اور ضروری ماہر انجینئروں کے کوئی ترقی نہیں کی جا سکتی ہے۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ اعلیٰ سائنسی اور انجینئرنگ

    تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں۔ پچھلے دنوں پاکستان میں ایسے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کی اسکیم قابل تحسین تھی، مگر بد قسمتی سے ان پر عمل

    کرنے کا طریقہ کار بالکل غلط تھا اور نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً 10 سال میں ایک بھی بین الاقوامی معیار کا ادارہ قائم نہیں ہو سکا۔ اس قسم کے ادارے ایک نہایت

    اچھا تعلیمی ماحول مہیا کرتے ہیں اور آپس میں صحت مندانہ مقابلہ کی اسپرٹ اجاگر کرتے ہیں۔ آپس میں گفت و شنید کے درمیان نئے نئے خیالات و تصورات

    سامنے آتے ہیں۔ ایسے اداروں کی کامیابی کے لئے پہلی شرط اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار اساتذہ کی موجودگی ہے جو طالب علموں کے جذبات و جستجو

    کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ایسے تعلیمی اداروں کے قیام کا مطلب کلرک یا نا اہل سائنسدان اور انجینئر پید اکرنا نہیں ہوتا بلکہ ایسے ماہرین جو مشکل اور

    پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، فیصلہ کرنے کی جرأت رکھتے ہوں اور اپنے ماتحتوں کی رہنمائی کر سکیں۔ اس طریقہ سے وہ نہ

    صرف اپنا مستقبل روشن بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے ملک کو صحیح معنوں میں تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن بھی کر سکتے ہیں۔

    ہمیں یہ نہ بھولنا چاہئے کہ سائنٹیفک اور ٹیکنیکل تعلیم کا میدان بالکل اور ایک خاص اہم نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہ بھی ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ سائنٹیفک اور

    ٹیکنیکل تعلیم نہ ہی آسان ہے اور نہ ہی سستی ہے۔ تقریباً 30 سال پیشتر علم و ادب کے گہوارہ اور خزینہ ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر جناب ڈیرک بوک نے

    یونیورسٹی کو چندہ دینے والے مخیر حضرات سے بلا روک ٹوک کہا تھا کہ ” اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ تعلیم بہت مہنگی ہے تو براہ مہربانی جہالت کو اپنا کر دیکھ

    لیں “۔ اس ایک جملے نے تمام راز فاش کر دیئے تھے۔

    میں نے اپنے پچھلے کالم میں مشہور برطانوی ریاضی دان اور فلسفی پروفیسر الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ کی تنبیہ کا تذکرہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ انہوں نے وارننگ دی

    تھی کہ وہ قوم جو اپنے تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ماہرین کی قدر نہیں کرتی اور ترقی کے دور میں شانہ بشانہ نہیں چلتی، اس کے مقدر میں ذلت اور بربادی لکھی

    ہوتی ہے۔ اگر ہم اس پر عمل نہ کریں گے تو حالات اور بھی خراب ہوں گے۔

    ہمارے اپنے قائداعظم جو نہ تو سائنٹسٹ تھے اور نہ ہی انجینئر تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو بے حد عقل و فہم عطا فرمائی تھی۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی

    و تعمیر کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کی اہمیت کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا۔ ” ہمارے لوگوں کو فوراً سائنٹیفک، ٹیکنیکل میدان میں مہارت حاصل کرنے کی اشد

    ضرورت ہے تاکہ ہمارے ملک کی معاشی حالت کے مستقبل کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ نہ بھولنا چاہئے کہ ہمارا مقابلہ اس دنیا سے ہے جو اس سمت میں بہت

    تیزی سے رواں دواں ہے “۔

    میں اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ جب تک پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کا معیار اچھا نہ ہو گا، ہم ایک مضبوط، اعلیٰ سائنٹیفک اور ٹیکنیکل سوسائٹی نہیں پیدا کر

    سکتے۔ مٹی کی بنیاد پر دس منزلہ تو کیا ایک منزلہ عمارت بھی نہیں ٹھہرتی۔

    ایک اور بات جس کی طرف میں خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں یہ خام خیالی عام ہے کہ پوری قوم کا حق ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل

    کرے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ سہولت میسر نہیں ہے اور بمشکل دو فیصد طلبا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت مجھ پر

    اس وقت عیاں ہوئی جب میں برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ کے پہلے دن لیکچر ہال میں گیا تو ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر انجینئر واگن

    نے تمہیدی کلمات کے بعد کہا ” عزیز دوستو! اپنے سامنے والے طالب علم کو دیکھو، اپنے پیچھے والے کو دیکھو، اپنے دائیں جانب والے کو دیکھو اور اپنے بائیں

    جانب والے کو دیکھو۔ تم میں سے صرف ایک طالب علم یہاں سے ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا “۔ میں وہ خوش قسمت تھا کہ کامیاب ہو کر نکلا تھا۔ یہ بات

    ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ تجربہ کار اور ہنر مند ٹیکنیشین اور تجربہ کار اور ڈگری یافتہ سائنسدانوں اور انجینئروں کے درمیان ایک نہایت اچھا توازن ضروری ہوتا

    ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ان کے نچلے درجے کے ہنر مند اور تعلیم یافتہ ٹیکنیشینز کی کثرت پر منحصر ہے۔ یہ لوگ عموماً مڈل اسکول

    ( ہمارا ہائی اسکول) کے بعد تین سال کا سخت فنی کورس کر کے ماہر ورکشاپ مین پاور بن جاتے ہیں۔ کچھ لوگ چھ جماعت کے بعد تین سال کا تربیتی کورس

    کر کے اچھے کارکن بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ ٹیکنیکل ڈرائنگز پڑھ سکتے ہیں اور تمام پرزہ جات بنا سکتے ہیں۔ میں یہاں پھر وہی سنہری قول دہرانا چاہتا ہوں کہ کسی

    بھی ملک کی خوشحالی اور ترقی کا راز اس کے انجینئروں کی کارکردگی پر منحصر ہے اور ان کی مہارت کی عکاسی کرتا ہے۔

     

               

               

               

    ہماری انجینئرنگ کی تعلیم,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان      1/21/2009

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان ریسرچ لیبارٹریز جس کو عوام خان ریسرچ لیبارٹریز یا کے۔آر ۔ایل کے نام سے جانتے ہیں باقاعدگی سے ہر سال نہایت اہم سائنسی ،انجینئرنگ

    کے مو ضوعات پر کانفرنس منعقد کیا کرتی تھی۔یہ موضوعات عموماً لیبارٹریزکے اہم کاموں سے متعلق ہوتے تھے اور ان کی بہت افادیت بھی تھی۔ اس کانفرنس

    کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ غیر ملکی ماہرین کی ایک بہت بڑی تعداد کو دعوت دی جاسکے اور ہمارے پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئروں کو موقع فراہم کیا جا سکے

    کہ وہ ان ماہرین سے ملاقات کر سکیں اپنے موضوعات پر بحث کرسکیں اور ان سے مفید مشورہ جات حاصل کر سکیں ۔ اس کا ایک یہ بھی فائدہ ہوتا تھا کہ بعد

    میں ہمارے نوجوان سائنسدان اور انجینئر ان رابطوں کی وجہ سے غیر ملکی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے چلے جاتے تھے ۔ اس کانفرنس میں

    ایسے مضامین جیسے اعلیٰ دھاتیں (Advanced Materials ) دھاتوں کے اجزاء کی تبدیلی(PhaseTransformation )، سافٹ ویئر انجینئرنگ (Software

    Engineering)، کمپوٹیشنل فلیوڈ ڈائنامکس (Computational Fluid Dynamics)، ایصالِ بجلی کی اعلیٰ دھاتیں (Super Conductors) ، مقناطیسی دھاتیں

    (Magnetic Materials) ، مشینوں میں تھرتھراہٹ (Mechanical Viberations)،بایومیڈیکل سائنسز (Biomedical Sciences)، ویکیوم ٹیکنالوجی (Vaccuum Technology)

    وغیرہ وغیرہ ۔(ان مضامین کے اردو ترجمہ میں اگر غلطی ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں)۔ اس کانفرنس میں ہمارے اپنے سائنسدانوں اور انجینئروں کو یہ موقع ملتا تھا

    کہ وہ اپنی ریسرچ پر مبنی مقالے پیش کریں اور غیر ملکی ماہرین کے تبصروں اور ہدایتوں سے استفادہ حاصل کر سکیں ۔ اس کانفرنس میں ہمیشہ امریکہ ،

    انگلینڈ، جرمنی ، فرانس ،ہالینڈ ، بیلجیم، آسٹریا، ہندوستان ، جاپان، چین، سوئٹزرلینڈ، ترکی، سعودی عرب، بحرین، مصر، ازبکستان وغیرہ کے پروفیسر اور ماہر

    حصہ لینے آتے تھے اور کانفرنس کے چند ماہ کے اندر ہی اس کانفرنس کی تفصیلات شائع کرتے تھے جس سے پوری دنیا کے سائنسدان ، انجینئر استفادہ

    حاصل کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اب یہ روایت ختم کردی گئی ہے ۔ یہ اسی طرح ہے کہ فصل کی کھاد اور پانی بند کر دیا جائے۔

    1976ء میں جب جناب بھٹو صاحب کی ہدایت پر میں نے یورینیم کی افزودگی کا پروگرام اور بعد میں 1981ء میں جنرل ضیاء الحق کی ہدایت پر ایٹم بم بنانے کا

    پروگرام شروع کیا تو مجھے فوراًَ احساس ہوا کہ ہمارے طلباء کا معیار بہت کم تھا اور یورپی طلباء کے مقابلے میں یہ بہت کم جانتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ ان کی

    معلومات میں فقدان تھا بلکہ خود اعتمادی بالکل غائب تھی۔ مجبوراًَ مجھے ان میں سے ہی لوگوں کا چناؤ کرنا پڑا اور بفضلِ خدا ہم خاصے کم عرصہ میں اپنے

    مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

    مجھے آج بھی وہ واقعہ یاد ہے کہ انٹرویو کے دوران ہماراسابقہ ایک ایسے امیدوار سے پڑا جس کو اپنی عقل و فہم پر کچھ زیادہ ہی اعتماد تھا اور بار بار امتحانات

    میں اپنی اوّل پوزیشن اور گورنمنٹ کالج سے ایم ایس سی فزکس میں اوّل آنے اور رول آف آنر کا بھنگڑا مار رہا تھا۔ جب میرے ساتھی سوال کرچکے تو میں نے

    اس سے سوال کیا کہ وہ دو مقداروں xاور y کوبراہ راست تعلق/ Linear relation کو گراف کی شکل میں بتلا دے۔وہ یہ سادہ جواب نہ دے سکا ، بعد میں دوسرا

    سوال تھا کہ ایک دھات کے تار کے ٹکڑے کو کس طرح کسی آسان تجربہ سے جانچا جا سکتا ہے کہ وہ بجلی کو اچھی طرح منتقل کرنے والا یعنی کنڈکٹر یا بری

    طرح منتقل کرنے والا یعنی سیمی کنڈکٹر ہے۔ اس سوال نے غبارہ کی ہو ا نکال دی اور صاحب بہادر کو اپنے عقل و فہم کے معیار کا علم ہو گیا۔

    کئی سال بعد لاہور میں راوین (Ravians)کا سالانہ جلسہ تھا مجھے جناب ڈاکٹر عارف مرحوم نے جو مرحوم وزیرِاعلیٰ و فرشتہ خصلت غلام حیدر وائیں کے مشیر

    تھے مہمان ِخصوصی کے طور پر دعوت دی تھی۔اس محفل میں سابق وزیرِاعلیٰ مرحوم جناب حنیف رامے اور جناب محترم مجید نظامی صاحب بھی موجود

    تھے۔باری باری تمام صاحبانِ اقتدار نے اپنے سابقہ ادارہ کی تعلیم اور لیڈر پیدا کرنے کی صلاحیت کے بارے میں رطب اللسانی کی اور ایک صاحب تو اتنے جوش

    میں آئے کہ بولے کہ پاکستان پر ہم ہی حکومت کرتے ہیں چونکہ اسلام آباد کی ٹاپ بیوروکریسی میں اکثریت ہماری ہی ہے۔ میں اپنے خیالات بیان کرنے سے

    نہیں جھجکا اور صرف یہ عرض کیا کہ جنابِ عالی ہر میدان میں ملک جس ابتری وبدانتظامی کا شکار ہے وہ آپ لوگوں کی کارکردگی نہیں بلکہ ناکارکردگی کا جیتا

    جاگتا اور بولتا بالتا ثبوت ہے اور آپ اس پر فخر کر رہے ہیں؟

    میں اپنے فار غ التحصیل و تعلیمیافتہ سائنسدانوں اور انجینئروں کے بارے میں یہ ضرور عرض کروں گا کہ وہ جس حالت ِ زارکے شکار ہیں اس میں ان کا بہت ہی کم

    قصور ہے یہ ہمارا فرسودہ اور ناکارہ تعلیمی نظام ہے جس کا وہ شکار ہو گئے ہیں ۔ نہ ہی مناسب سہولتیں اور نہ ہی ان کو وہ مناسب ماحول میسر ہے جو اچھے

    سائنسدان، انجینئر پیدا کرتا ہے ۔الزام بے چارے اساتذہ پر آجاتا ہے حالانکہ عموماََ ہمارے یہاں بی ایس سی کی تعلیم تک بچے ٹھیک ٹھاک علم حاصل کر لیتے

    ہیں صرف سخت کمی پر یکٹیکل کے لیے نا کافی اور ناقص آلات کی ہے۔اس کے بعد حالات بد سے بد تر ہوتے جاتے ہیں ، اقرباپروری ، بے ایمانی ، دوسروں کے

    کام کو چرا کر اپنا بنا کر پیش کرنا عام ہو جاتا ہے۔ میں برسوں کئی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے سنڈیکیٹ کا ممبر رہا ہوں اور ایسے شرمناک واقعات کا سامنے آنا عام

    بات تھی۔ ہماری ایک کانفرنس کے دوران ایک انگریز پروفیسر نے یونہی پوچھ لیا کہ ہماری سرکاری یونیورسٹیوں میں ماہانہ فیس کیا ہے جب میں نے ان کو بتلایا کہ

    چند ڈالر ہیں تو مسکرا کر بولے کہ ہاں جو مال نکل رہا ہے وہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

    ہمارے نظام تعلیم کا سب سے بڑا نقص رٹا بازی ہے۔ طلباء کو شروع ہی سے تمام کورس حفظ کرنے کی ترغیب اور ہدایت دی جاتی ہے ان کو اپنی اندرونی

    صلاحیتوں کو اْجاگر کرنے کے مواقع نہیں دیے جاتے اور عموماََ یہ کہا جاتا ہے کہ بس پچھلے پانچ سال کے پیپر یاد کر لو تو امتحان میں اعلیٰ نمبروں سے

    کامیابی یقینی ہے۔اس طرح طلباء اپنی ذہانت کی نشو و نما کئے بغیر دنیا کی مشکل پرابلم حل کرنے کے لیے چھوڑ دیے جاتے ہیں جس میں وہ عموماََ ناکام

    ہوجاتے ہیں ۔ہم کو علم ہے کہ میٹرک یا ہائی سکول کی تعلیم بہت سخت ہوتی ہے جوں جوں ہم آگے بڑھتے جاتے ہیں نسبتاََ تعلیم آسان ہو جاتی ہے۔آپ نے

    دیکھا ہو گا کہ بعض لوگوں کی بی ۔اے اور ایم ۔اے کی ڈگریا ں تو درست ہیں مگر میٹرک کی ڈگری جعلی ہے۔

    پاکستان کی کسی یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی ڈگری لے کر باہر جا کر پی ایچ ڈی کرنے میں زیادہ دشواریاں پیش نہیں آتیں ۔ یہ وقت کی بات ہوتی ہے

    اور تھوڑی سی محنت کی ضرورت ہے عموماََ دوسرے پی ایچ ڈی کرنے والے مقامی طلباء اور سپروائزر بھی ترقی پذیر ملک کا طالبعلم سمجھ کر مدد کر دیتے

    ہیں اس طرح ڈگری تو مل جاتی ہے مگر بنیاد بے حد کمزور رہتی ہے اور معلومات ایک نہایت محدود مضمون تک رہتی ہیں۔یہ کمی دور کرنے کے لیے ہم نے کے آر

    ایل میں ایک نہایت مفید طریقہ کار اپنایا تھا ہم نے اپنے ملک سے ہر سال چند اچھے بی ایس سی پاس طلبا ء کا چنا ؤ کیا اور ان کو انگلینڈ کی اچھی

    یونیورسٹیوں میں داخلے دلا دیے وہاں انہوں نے3 یا 4 سال میں بی ایس سی آنرز کیا اس طرح ان کی نہایت اچھی اور مضبوط بنیاد پڑ گئی۔ ان کو بعد میں وہیں

    ایم ایس سی کی تعلیم بھی حاصل کرنے دی،واپس آ کر انھوں نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور چند سال کام کرنے کے بعد ہم نے انہیں پی ایچ ڈی کرنے

    بھیج دیا۔ ان سب لڑکوں نے دہاں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہر سال ان کے پروفیسروں کی رپورٹ ان کے بارے میں بہت اچھی ہوتی تھی۔یہ انجینئر اور

    سائنسدان نہ صرف اپنے فن میں ماہر ہو گئے بلکہ انھوں نے وہاں جلد فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی۔یہ پالیسی میں نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر

    شروع کی تھی میں کراچی سے بی ایس سی کر کے جرمنی چلا گیا تھااور وہاں اور ہالینڈ میں پانچ سال کی سخت اور مفید تعلیم کے بعد ایم ایس سی

    ٹیکنالوجی کی ڈگری حاصل کی تھی اور بعد میں پی ایچ ڈی انجینئرنگ میں کی تھی۔یہ مضبوط بنیاد بعد میں اس قدر مشکل اور پیچیدہ کاموں کو خوش اسلوبی

    سے کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بے حد مدد گار ثابت ہوئی تھی۔

    جہاں تک انجینئرنگ کی تعلیم کا تعلق ہے یہ ایک وسیع ، مختلف فنون پر مبنی علم ہے جو انجینئر کوزندگی میں مختلف میدانوں میں ایک چیلنج پیش کرتی

    ہے۔ہم کو یہ علم ہے کہ ایک انجینئر کو اپنے پیشہ کی ادائیگی میں ڈیزائن ، ریسرچ، پروجیکٹ کی تکمیل ، چیزوں کی تیاری اور ان کی اچھی طرح فروخت جیسے

    اہم مشکلات و مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صرف وہی انجینئر جن کی تعلیم اچھی اور ٹھوس بنیاد پر ہوئی ہو ، اپنے فن میں ماہر ہوں اور فیصلہ کرنے کی اہلیت

    رکھتے ہوں ، ایسے چیلنج سے خوش اسلوبی اور کامیابی سے سرخرو ہو سکتے ہیں ۔

    ہمارے انجینئروں کی نشونما میں بہت بڑی خامی صنعتی تجربہ کا فقدان ہے جو ان کو تعلیم کے دوران نہیں ملتا۔جب میں برلن گیا تھا تو یہ لازمی تھا کہ طالبعلم

    نے چھ ماہ کسی اچھے صنعتی ادارے میں کام کیا اور اس کی باقاعدہ رپورٹ لکھی ہوجو یونیورسٹی کو پیش کرنا تھی اور جرمن زبان اچھی طرح آتی ہو۔ روانگی

    سے پیشتر میں نے تین ماہ کراچی میں جرمن فرم سیمنس(Siemens) میں کام کیا تھا اور جرمنی پہنچ کر مزید چھ ماہ ایک صنعتی ادارہ میں کام کیا اور شام

    کوایک یونیورسٹی میں جرمن زبان سیکھی ۔ اسی قسم کی شرائط یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی رائج ہیں۔اس قسم کا صنعتی تجربہ انجینئر کی تعلیم میں

    ایک بیش قیمت حصہ ہوتا ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اس قسم کی سہولتیں یا توہیں ہی نہیں یا بہت کم ہیں ۔ وہاں دوسری اہم چیزانجینئروں کے لیے

    تمام صنعتی اداروں کا دورہ ہے نہ صرف یہ اپنے ملک میں کیا جاتا ہے بلکہ ہر سال کوئی غیر ملک چنا جاتا ہے اور وہاں کم از کم دو ہفتوں تک مختلف صنعتی

    اداروں کا دورہ کیا جاتا اور اہم صنعتوں سے واقفیت حاصل کی جاتی ہے۔ میں نے اپنی تعلیم کے دوران جرمنی ، ہالینڈ، ڈنمارک، سوئیڈن، انگلینڈ، بیلجیم، فرانس،

    آسٹریا اور اٹلی کا دورہ کیا تھا اور ہمارے گروپ کو اہم صنعتوں کی کارکردگی سے آگاہ کیا گیا تھااور یونیورسٹیوں کا دورہ بھی شامل تھا۔یہ تجربہ انسان بیش بہا

    دولت دے کر بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ ضرورت ہے کہ ہمارے ملک میں بھی ایساہی نظام قائم کیا جائے ، انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ طلبا ء کو

    چھٹیوں میں اپنے یہاں کام کرنے دیں، ان کو وظیفہ دیں اور حکومت اس کے صلہ میں ٹیکس میں سہولت دے۔

    سائنسدانوں اور انجینئروں کے لیے ہمیشہ مشکل و پیچیدہ پرابلم کا سامنا کرنا اور ان کو حل کرنا ہوتا ہے، قدرتی رازوں کی موشگافیوں کو سلجھانا ہوتا ہے اور

    بنی نوع انسان کے آرام اور استعمال کی اشیاء بنانے کی محنت کرنا پڑتی ہے ۔ بہت سی ایسی چیزیں جو ہم آجکل کی روزمرّہ زندگی میں استعمال کر رہے ہیں

    وہ چند سال پیشتر ایک خواب اور ناممکن نظر آتی تھیں ۔اس چیز کو مشہور امریکی موجد رابرٹ ایچ گوڈارڈ(Robert H.Goddard) نے ان الفاظ میں بیا ن کیا تھا۔”یہ

    کہنا بہت مشکل ہے کہ کیا چیز ناممکن ہے کیونکہ کل کا خواب آج کی امید ہے اور وہ کل کی حقیقت ہو گی“تعلیم میں سرمایہ کاری کبھی ضائع نہیں جاتی

    مشہور چینی فلسفی کوان چنگ(Kuan Chang )نے سینکڑوں سال پیشتر یہ بے بہا نصیحت کی تھی۔”اگر تم ایک سال کی پلاننگ کر رہے ہو تو ایک بیج بو دو،

    اگر دس سال کے لیے تو ایک درخت لگا دواور اگر سو سال کے لیے تو پھر عوام کو تعلیم دو۔ جب تم ایک بیج بوتے ہو تو صرف ایک فصل کاٹتے ہو لیکن جب تم

    عوام کو تعلیم دوگے تو تم سینکڑوں فصلیں کاٹ سکو گے۔“

    میں نے اپنے پچھلے کالم میں ہمارے مشہور مسلما ن ا سکالر یعقوب ابن اسحق الکنِدی کی سنہری نصیحت کا ذکر کیا تھاکہ سوال کرنے اور پوچھنے میں کبھی

    جھجک محسوس نہیں کرنا چاہئے کہ اس طرح انسان حقیقت سے آگاہ ہوتا ہے اور علم سیکھتا ہے اسی طرح کی نصیحت کسی فارسی دانشمند (کیا شیخ

    سعدی تھے؟)نے یوں بیان کی ہے۔

    بپرُس ہرچہ ندانی کہ زال پْرسیدن

    دلیلِ راہ تو باشد بعِزُّد انائی

    یعنی ”پوچھ! جو کچھ تو نہیں سمجھتاہے اور یہ پوچھنے کی جھجک تیرے لیے عزت و کامیابی کی دلیل ثابت ہو گی“ ان تمام لوگوں کے لیے جن کو علم حاصل

    کرنے کی خواہش و جستجو ہے یہ دونوں نصیحتیں آج بھی اسی طرح مفیدہیں جس طرح کہ جب یہ کہی گئی تھیں۔

     

               

               

               

    چند دلچسپ واقعات ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان      1/28/2009

    میرا ارادہ کسی ٹیکنیکل یا تعلیمی موضوع پر کالم لکھنے کا تھا لیکن چند نہایت دلچسپ واقعات یاد آ گئے تو سوچا کیوں نہ آپ کو ان سے آگاہ کروں۔

    ۱) آپ کو یاد ہو گا کہ یکم ستمبر ۲۰۰۷ء کو شیر شاہ شمالی بائی پاس پل مشرف کے ہاتھوں افتتاح کے صرف بیس دن بعد گر گیا جس سے نہ صرف اربوں روپے

    کا نقصان ہوا بلکہ چھ قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہو گئی تھیں۔ذمہ دار لوگوں کے خلاف کوئی ایکشن اس لئے نہ لیا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)

    کے سربراہ میجر جنرل فرخ جاوید جنرل پرویز مشرف کے دوستِ خاص تھے اوراس بارے میں کئی اور طرح کی افواہیں بھی گشت کر رہی تھیں لیکن ابھی چند دن

    پیشتر وزیراعظم کے انسپیکشن کمیشن کے چیئرمین نے اس حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پر پریس کو آگاہ کیا اور پل کی ناقص تعمیر اور ٹوٹنے کی ذمہ داری

    جنرل فرخ جاوید اور ان کے ساتھی الطاف چوہدری پر ڈال دی۔ تمام لوگوں کی طرح مجھے بھی یہی یقین تھا کہ کئی دوسرے حادثوں کی طرح یہ معاملہ بھی

    کسی فائل کا حصہ بن گیا ہو گا جس طرح محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل بھی دھیرے دھیرے لیاقت علی خان کی فائل بنتی جا رہی ہے۔اس وجہ سے وزیراعظم کے

    انسپیکشن کمیشن کی رپورٹ بڑی خوش آئند ہے۔اس واقعے نے مجھے پھر نظام الملک طوسی کی یاد دلا دی جو سلجوقی سلطان جلال الدین ملک شاہ کے

    وزیراعظم تھے، یہ نہایت دیندار، ذہین، اللہ تعالیٰ کے آگے ہمیشہ سربسجود اور حکومتی انتظامات کے اعلیٰ ترین ماہر تھے۔ انہوں نے حکومتی انتظامات پر ایک

    نہایت بیش قیمت کتاب ”سیاست نامہ“ کے نام سے ترتیب دی تھی اس میں اچھی حکومت کرنے کے اعلیٰ طریقے اور حکمران کو وہ تمام اعمال کرنے کی

    ہدایت جو اس کو عوام میں ہر دل عزیز کر دیں بیان کئے گئے ہیں۔اپنے اس سیاست نامہ میں نظام الملک طوسی نے کئی دلچسپ واقعات بیان کئے ہیں جو ایک

    طرح سے ہدایت ہیں ۔ پل کے حوالے سے جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ میں یہاں دہراتا ہوں ۔” کہاوت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے والد حضرت عمر بن

    خطاب سے بوقتِ وفات دریافت کیا کہ اب ان کی ملاقات ان سے کب اور کہاں ہو گی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اگلی دنیا میں تو حضرت عبداللہ بن عمر نے

    عرض کیا کہ وہ ان سے جلد ملاقات چاہتے ہیں ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ وہ ان کو خواب میں اسی رات یا دوسری رات کو یا تیسری رات کو ملنے آئیں گے لیکن

    ۱۲ سال تک حضرت عمر بیٹے کے خواب میں نہیں آئے اور جب ۱۲ سال بعد آپ خواب میں تشریف لائے تو بیٹے نے شکایت کی کہ آپ نے تو فرمایا تھا کہ تین

    راتوں کے اندر اندر تشریف لائیں گے لیکن یہ تو ۱۲ سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ وہ بے حد مصروف تھے کیونکہ بغداد کے قرب میں

    ایک پل خستہ ہو گیا جو ان کے زمانہ میں تعمیر ہوا تھا اور ذمہ دار لوگوں نے اس کی مرمت نہیں کی تھی ۔ ایک بکری کی اگلی ٹانگ ایک سوراخ میں پھنس کر

    ٹوٹ گئی تھی اور میں اس تمام عرصہ میں اس کی جواب دہی کرتا رہا ہوں ۔“

    اس واقعے کا اخلاقی پہلو سب پر عیاں ہو جانا چاہئے خواہ کارندے ہوں یا حکمران، حقیقت یہ ہے کہ اس مملکت خداداد پاکستان میں ہر شخص اپنی مرضی کا

    مالک ہے نہ کسی کا احتساب ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کو سزا دی جاتی ہے۔ نظام الملک طوسی کا ”سیاست نامہ“ سچائی، ایمانداری، قرآنی آیات، احادیث اور

    شریعت پر مبنی ہے ۔ یہ اس ہندو چانکیہ ، جوچندرگپت موریہ کا وزیراعظم تھا، کی سیاسی اور سفارتی ہدایات سے بالکل مختلف ہے جو جھوٹ ، بے ایمانی اور

    دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔

    ۲)ہمارے تعلیم یافتہ عوام نے لفظ انشقاق یا انفجار (Fission ) کا نام سنا ہے اور اکثر ایٹمی ہتھیار بنانے میں اس عمل کی اہمیت سے واقف ہیں عام عوام اس کی

    تاریخ یا اہمیت سے زیادہ واقف نہیں اس لئے اس بارے میں چند معروضات پیش کر رہا ہوں ۔۱۹۳۲ء میں انگریز سائنسدان جیمز چیڈوِک (James Chadwick ) نے ایٹم

    کے قلب (Nucleus) میں ایک نیوٹرل یعنی غیر برقی چارج والا ذرّہ (Neutron) دریافت کیا تھا یہ پہلے سے وہاں مثبت چارج والے ذرّہ پروٹون (Proton) کے علاوہ

    تھا۔اس ذرّہ کی موجودگی کی پیشگوئی دوسرے انگریز سائنسدان رَدرَفورڈ (Rutherford) نے ۱۹۲۰ء میں کر دی تھی لیکن اسی رَدرَفورڈ نے ایٹمی قوت کے

    سول مقاصد کے استعمال کے نظریہ کو احمقانہ خیال (all moonshine) قرار دیا تھا۔اس دریافت کے بعد یورپ و امریکہ میں سائنسدانوں نے مختلف اقسام کے

    ایٹموں پر نیوٹران مارنے اور اس کے اثرات کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ اٹلی کے مشہور نوبل انعام یافتہ فرمی(Fermi) نے یورینیم کے ایٹم پر جب نیوٹران مارے تو

    معلوم ہوا کہ کئی دوسرے اقسام کے ایٹم(دھات)بن جاتے ہیں اس نے غلطی سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یورینیم خود سے زیادہ بھاری دھات میں تبدیل ہو گیا ہے

    لیکن اسی وقت برلن میں (جی ہاں وہی مشہور برلن) اْوٹوہان (Otto Hahn) جس کو ۱۹۴۴ء میں نوبل انعام ملا تھا اور اس کے ساتھی اشٹراسمن (Strassmann)

    نے نہایت جامع اور صحیح کیمیائی طریقے سے معلوم کیا کہ بیریم (Barium) دھات بن گئی تھی اور فرانس میں ایرینے جولیو کیوری (Irene Joliot-Curie) نے

    ایسے ہی تجربہ میں لنتھالم (Lanthalum) دھات دریافت کی ۔ اس درمیان میں اْوٹوہان کی پرانی طویل رفیقہ کار لیزے مائٹنر (List Meitner) اور اس کا بھانجا اْوٹو

    فِرِش (Otto Frisch) ہٹلر کی یہود نسل کشی پالیسی سے ڈر کرسوئیڈن اور ڈنمارک بھاگ گئے تھے۔ اْوٹوہان نے اپنے تجربوں کے نتائج سے لیزے مائٹنر کو آگاہ

    کیا ۔ چند دن بعد ہی کرسمس کی تعطیل میں اْوٹوفِرِش اپنی خالہ کے پاس گیا تو دونوں نے ان نتائج پر غور شروع کر دیا اور فوراً اس اہم نتیجے پر پہنچے کہ

    نیوٹران کے ٹکراؤ سے یورینیم کا قلب تقریباً دو برابر ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا (جو مختلف دھاتیں تھیں ) اور ان کا مجموعی وزن یورینیم کے قلب کے اصل وزن

    سے۲۰ فیصد کم تھا دونوں نے نہایت اہم نتیجہ اخذ کیا کہ یہ غائب شدہ وزن قوت یعنی انرجی میں تبدیل ہو گیا تھا جو بہت زیادہ تھی ۔لیزے مائٹنر نے یہ بھی فوراً

    حساب لگا کر معلوم کر لیا کہ یہ تقریباً دو سو ملین الیکٹران وولٹ (200 Mev ) کے برابر ہوتی ہے، بس یوں سمجھ لیں کہ یہیں سے ایٹمی دور شروع ہوا تھا۔

    اْوٹوہان اور اشٹراسمن کے تجربے اور نتائج سے واقف ہو کر ایک اور مشہور جرمن خاتون سائنسدان ایڈانوڈک(Ida Noddak ) نے فوراً یہ تشریح پیش کی کہ ہان اور

    اشٹراسمن نے غالباََ یورینیم کے قلب کو نیوٹران سے دولخت کر دیا ہے یہ ۱۹۳۴ء کی بات ہے ۔جرمنوں کی بدقسمتی اور مغربی ممالک کی خوش قسمتی تھی

    کہ ہان اور اشٹراسمن اور دوسرے جرمنوں نے اس صحیح تشخیص پر دھیان نہیں دیا اگر وہ اس کو سمجھ کر کام شروع کرتے تو دوسری جنگ عظیم سے پہلے یا

    اس کے شروع ہونے تک جرمن سائنسدان ہائزین برگ (Heisinberg) اور اس کے ساتھی ایٹم بم بنا لیتے۔

    یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ اْوٹو فِرِش نے ایٹم کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کو انشقاق یعنی Fissionکا نام دیا تھا انہوں نے یہ تشبیہ بیالوجی میں ایک سیل(Cell)

    کے دو حصوں میں بٹ جانے سے مستعار لی تھی۔ اوٹو فِرِش نے امریکہ میں ایٹم بم کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کیا اور بعد میں انگلینڈ میں پروفیسر کے

    فرائض انجام دیئے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی اوٹو فِرِش اور ایک اور جرمن مہاجر سائنسدان پروفیسر روڈولف پائیرلس(Rudolf Peierls) نے حساب لگا کر سب سے

    پہلے ایٹم بم کی تیاری کے امکان پر ایک رپورٹ حکومت برطانیہ کو کوڈ نام (Maud Report) کے نام سے پیش کی تھی جس کے بعد ہی حکومت نے سنجیدگی

    سے اس اہم کام پر کام شروع کر دیا تھا۔

    اوٹو فِرِش کا قصہ بیان کرنے کا مقصد ایک نہایت دلچسپ واقعہ بیان کرنا تھا۔ ۱۹۳۳ء میں اوٹوفِرِش بذریعہ ٹرین برلن سے ماسکو جا رہے تھے جہاں انہیں ایک

    کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔اسی ڈبہ میں ہومی بھا بھا جو بعد میں انڈین اٹامک کمیشن کے چیئرمین بنے، بھی بیٹھے تھے۔راستے میں جان پہچان ہو گئی اور

    انہوں نے ماسکو میں ایک ہی ہوٹل میں قیام کیا۔ ایک روز بھا بھا نے اوٹو فِرِش کو بتلایا کہ وہ واپس لندن جا کر ہندوستان روانہ ہو جائے گا جہاں وہ ٹاٹا ریسرچ

    انسٹیٹیوٹ کا سربراہ بنے گا، ساتھ ہی اس نے پوچھا کہ کیا فِرِش اس کو گائگر کاؤنٹر (Geiger Counter ) استعمال کرنا سکھا سکتا ہے ؟ فِرِش کے تعجب کی انتہا

    نہ رہی کہ کیمبرج یونیورسٹی سے فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری والا ایک چھوٹا سا آلہ استعمال کرنا نہیں جانتا ۔ یہ آلہ تابکار شعاعوں (Radioactivity) یا ذرات

    کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے اور کوٹ کی جیب میں رکھا جا سکتا ہے۔مجھے اس آلے کا استعمال برلن میں پہلے سال سکھایا گیا تھا۔

    ۳) ایک اور دلچسپ واقعہ ۱۹۵۳ء کا ہے جب میں کراچی میں ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج میں فزکس کا پریکٹیکل کر رہا تھا۔ ہمارے ڈیمانسٹریٹر نئے

    تعلیم یافتہ مرزا عبدالباقی بیگ تھے یہ ذہین انسان تھے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ جانے کے منتظر تھے۔ ہم کو ورنیئر کیلیپرس (Vernier

    Callipers) اور مائیکرو میٹر (Micrometer) دیئے گئے تھے کہ ان کی مدد سے دھات کی شیٹ کے ایک ٹکڑے کی موٹائی اور ایک تار کا قطر معلوم کرنا تھا۔ ہمیں

    سکھایا گیا تھا کہ کس طرح ان آلات کا صحیح استعمال کیا جا سکتا تھا اور صحیح طریقے سے پیمائش کی جا سکتی تھی۔باقی بیگ سامنے ٹیبل و کرسی پر

    بیٹھے تھے تھوڑی دیر میں ہمارے پروفیسر ڈی سوزا (De Souza )آگئے اور باقی بیگ کے سامنے بیٹھ گئے۔ انہوں نے میز پر رکھے کیلیپر اور مائیکرومیٹر کو اٹھا کر

    باقی بیگ سے اس کو استعمال کرنے کا طریقہ دریافت کیا ۔ باقی بیگ جواب نہ دے سکے اور نہ ہی صحیح طریقہ سے استعمال کر سکے، پروفیسر ڈی سوزا نے

    پھر ان کو ان آلات کے استعمال کرنے کا طریقہ کار بتایا ۔ باقی بیگ نے بعد میں امریکہ میں فزکس میں پی ایچ ڈی کی اور نیویارک کے راکیفیلر انسٹی ٹیوٹ

    (Rockefeller Institute) میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بن کر دنیا میں نام پیدا کیا ان کا کام بہت اعلیٰ تھا اور انہوں نے بہت شہرت حاصل کی ہماری بدقسمتی

    کہ وہ نوبل انعام حاصل نہ کر سکے اور صرف ۵۵ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔۱۹۷۶ء کے اواخر میں مرحوم آغاشاہی نے ان سے ملاقات کی تھی اور انہیں

    پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا چیئرمین بننے کی پیشکش کی تھی چونکہ مرحوم وزیراعظم بھٹو منیر احمد خان کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔پروفیسر باقی بیگ

    زمانہ شناس اور سمجھدار تھے انہوں نے نرمی سے یہ پیشکش نامنظور کر دی او ر پاکستان نہ آئے۔

    ۴) ایک آخری دلچسپ واقعہ ۱۹۸۴ء کا ہے۔ میں غلام اسحاق خان صاحب، صاحبزادہ یعقوب خان ،ایچ یو بیگ صاحب اور جنرل عارف کے ساتھ پنسٹیک

    (PINSTECH) میں میٹنگ میں حصہ لینے گیا۔ میٹنگ کے بعد ہمیں نیو لیبز(New Labs) کا دورہ کرایا گیا وہاں ہاٹ لیب (Hot Lab) تھی جہاں تابکار اشیاء کا استعمال

    ہوتا تھا اور حفاظتی شیشے کے اندر ایسی اشیاء رکھی ہوئی تھیں اور باہر سے ایک مینوپلیٹر (Manipulator) کے ذریعے ان اشیاء کو ہلایا جا سکتا تھا ۔ یہ آلہ بس

    آپ پُتلی کے کھیل کی طرح سمجھ لیں جس میں ڈوریوں کی مدد سے پتلی کو نچایا جاتا ہے جبکہ اس آلہ میں دونوں ہاتھوں میں گرفت ہوتی ہے جن کی مدد

    سے شیشے کے پیچھے اندر کرین کی طرح اشیاء کو پکڑا جا سکتا ہے اور جائے مقررہ پر رکھا جا سکتا ہے ۔ غلام اسحاق خان صاحب نے اس محکمہ کے

    سربراہ سے کہا کہ وہ ذرا اس کو چلا کر دکھا دیں ۔ ان صاحب کا رنگ زرد ہو گیا اور کہا کہ وہ نہیں جانتے اور ٹیکنیشن جو یہ کام جانتا ہے اس کو آج آنے سے منع

    کر دیا تھا۔غلام اسحاق خان صاحب ششدر رہ گئے اور مسکرا کر کہا کہ انہوں نے لاتعداد مرتبہ کہوٹہ میں ورکشاپوں کا دورہ کیا ہے وہاں تو محکمے کا سربراہ اپنے

    محکمے کے تمام آلات استعمال کر سکتا ہے۔ یہ میں نے پہلے دن سے ہی ہدایت کی تھی کہ محکمے کے سربراہ کا اپنے محکمے کے آلات سے پوری طرح

    واقف ہونا لازمی ہے۔تمام سائنسدانوں اور انجینئروں سے درخواست ہے اور نصیحت ہے کہ وہ اپنے محکمے میں استعمال ہونے والے آلات و ایکوپمینٹ سے پوری

    طرح آگاہی حاصل کریں اور اپنے ماتحتوں اور ساتھیوں کی نگاہ میں باوقار اور باعزت رہیں۔ آپ کی عزت جب ہی ہوتی ہے جب دوسروں کو علم ہو کہ آپ اپنے کام

    سے پوری طرح واقف ہیں اور ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔

     

               

               

               

    زراعت۔ دھیان دو یا فاقہ کشی کرو,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان        2/4/2009

    سوئیڈن میں زراعت کی ایک یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے والی ایک ہونہار طالب علم محمد بنیامین ( وہی نام جو ہمارے پیغمبر حضرت یوسف

    کے چھوٹے بھائی کا تھا ) نے میری توجہ ملک میں زراعت کے شعبہ میں خستہ حالی اور نئے نئے شہروں کی تعمیر اور زرعی زمین کے دھیرے دھیرے فقدان

    کی طرف دلائی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس وقت جبکہ ہم صرف بجلی بجلی کا رونا رو رہے ہیں، زراعت اور آنے والے طوفان کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا۔

    صرف اس وقت جب ملک میں گندم، چینی، سبزیوں اور کھانے کے تیل کا فقدان ہوتا ہے تو شور مچایا جاتا ہے۔ حکومت گندم، گنے کے کاشتکاروں کے منہ میں

    لولی پاپ رکھ کر وقتی طور پر ان کو خاموش کر دیتی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت حل ہو جاتا ہے اور اگلے سال پھر وہی مسئلہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

    ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کی معاشیات بہت حد تک زراعت پر منحصر ہے کیونکہ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے۔ یہ ہماری قومی معاشیات (GDP) کا بڑاحصہ مہیا

    کرتی ہے اور اندازے کے مطابق آدھے سے زیادہ آبادی اس پیشے سے منسلک ہے۔ ہماری زراعت کا زیادہ تر انحصار پانی پر ہے، جو تقریباً چار ہزار میل لمبی

    نہروں پر مبنی ہے۔ یہ دنیا کا وسیع ترین نہری سسٹم ہے۔ زیادہ تر پانی دریائے سندھ سے آتا ہے جبکہ تھوڑا بہت پانی پنجاب کے دوسرے دریاؤں سے بھی حاصل

    ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے خراب نظام نکاسی کی وجہ سے بہت ساری قیمتی زمین سیم (Salinity) کا شکار ہو جاتی ہے۔

    جیسا کہ ہم جانتے ہیں گندم ہمارے یہاں اہم فصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ چاول، باجرا، مکئی، گنا، جو، دالیں، سبزیاں، پھل، روئی وغیرہ کی کاشت ملک کے

    لئے اہم ہے۔ باسمتی چاول اور روئی ہمارے بہت قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہیں۔ ان چیزوں کے علاوہ تمباکو، تل اور مچھلی، جھینگے وغیرہ اہم اشیاء ہیں جو

    ملک میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور برآمد بھی کی جاتی ہیں اور قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہیں۔

    اب چند معروضات زرعی سائنس کے بارے میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ زمانہ قدیم سے زراعت نے تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور اکثر تاریخ کے رخ کا تعین کیا

    ہے۔ لوگوں نے لمبے لمبے فاصلے طے کئے اور نقل مکانی کی تاکہ سبز وادیاں اور دریا تلاش کر سکیں اور وہاں بس کر کاشتکاری کر کے آرام کی زندگی گزار

    سکیں۔ اس مقصد کے لئے خونریز جنگیں لڑی گئیں اور ہزاروں لوگوں کا قتل ہوا۔

    دنیا میں تقریباً اسّی فیصد آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے اور اہم مسائل فصلوں کی تیاری اور ان کی فراہمی و دستیابی ہے، بین الاقوامی تجارتی نظام ہے،

    زمین کو فعال بنانے کے مسائل ہیں، زمین کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہے اور خاص طور پر قدرتی وسائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال اور اس کے ماحولیات پر

    برے اثرات ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں زراعت آبادی کے نسبتاً کم فیصد لوگوں پر انحصار کرتی ہے مگر حکومت کے بجٹ کا ایک حصہ اس پر خرچ کیا جاتا ہے۔ عوام

    کو اچھا کھانا پینا ملتا ہے، اس طرح خوراک کی ضرورت سے زیادہ فراہمی، زراعت کاروں کو سرکاری امداد، زمین کا متبادل استعمال اور زرعی فارموں کی

    موجودگی کا ماحولیات پر نسبتاً بہت کم اثر پڑنا، جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ ان کو کسانوں کی مستقل آمدنی اور دیہاتی

    معاشیات کو ٹھوس بنیادوں پر قائم رکھنا ہوتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہو گا کہ ہالینڈ جیسا چھوٹا سا ملک جو سطح سمندر سے کئی گز نیچے ہے، سالانہ 5/

    ارب ڈالر کے پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے۔

    ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک کو اس کے برعکس بڑی آبادی کو خوراک مہیا کرنا وہ بھی تب جبکہ قدرتی وسائل بہت کم ہوتے ہیں، انتہائی غربت، آبادی کا

    تیزی سے اضافہ اور ماحول کی خرابی جیسے مسائل دن بہ دن بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں اور خاص طور پر ہمارے اپنے ملک میں اس

    بات کی اشد ضرورت ہے کہ لوگوں کو زراعت، باغبانی، خوراک سے متعلق ٹیکنالوجی اور ان چیزوں سے متعلق اچھی تعلیم و تربیت دی جائے۔ یہی نہیں بلکہ

    ہمارے ملک میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ لوگوں کو معاشیات و انتظامات (Economics & Management) کی تعلیم دی جائے جس کا تعلق زراعت، خوراک

    اور ان سے متعلق صنعتوں سے ہو۔

    دو بہت بڑی مشکلات یا مراحل جن کا پاکستان کو فوری اور سخت سامنا ہے، وہ آبادی میں بے انتہا اضافہ اور شہروں اور رہائشی اسکیموں کا بے انتہا پھیلاؤ ہے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ پنجاب میں ہے۔ خاص طور پر ساہیوال، اوکاڑہ، ویہاڑی، ملتان وغیرہ میں جیسا کہ بنیامین نے مجھے آگاہ کیا ہے۔ اس وجہ سے لاکھوں

    ایکڑ زرخیز زمین ضائع ہو رہی ہے جن پر رہائشی سوسائٹیاں بنائی جا رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اور بہت اچھی زرخیز زمین سیم کا شکار ہو کر بیکار ہوتی جا

    رہی ہے۔

    ہماری آبادی میں اس وقت فی منٹ پانچ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے اور ہماری آبادی میں جس قدر تیزی سے یہ اضافہ ہو رہا ہے اس کی موجودگی میں ہم کبھی بھی

    اپنے وسائل کو ترقی نہیں دے سکتے، یہ تقریباً نا ممکن ہوتا جا رہا ہے کہ سب کو مناسب قیمت پر کھانا، کپڑا اور مکان مل سکے۔ آزادی کے وقت مغربی اور

    مشرقی پاکستان کی مجموعی آبادی تقریباً آٹھ کروڑ تھی اور اب صرف اس حصہ کی آبادی تقریباً سترہ کروڑ ہو گئی ہے۔ ہم اس اضافے کی رفتار سے کبھی بھی

    اپنے وسائل نہیں بڑھا سکتے۔ اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارے دیہی علاقوں کے عوام کو خاندانی منصوبہ بندی کی ضرورت و اہمیت کی تعلیم

    دی جائے۔ یہ جنگی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے اور وہی حکمت عملی اختیار کی جائے جو چین، جاپان اور یورپی ممالک نے اپنائی ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ

    ہمارے دیہی علاقوں میں جو صحت کے مراکز قائم ہیں، وہاں لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کو تربیت دی جائے کہ وہ خواتین کو منصوبہ بندی کے تین ماہ والے ٹیکے لگوانے کے

    فوائد بتلائیں اور وہاں باقاعدہ رجسٹر رکھیں اور خواتین کو نوٹ بک دیں جس میں ٹیکوں کا اندراج کیا جائے، جو عورت ٹیکہ لگوائے اور باقاعدگی سے لگوائے اس کو

    ہر مرتبہ 2 ہزار روپے دیئے جائیں۔ تین ماہ میں دو ہزار کی رقم کوئی زیادہ نہیں ہے اور غریب خواتین یقیناً بخوشی یہ ٹیکے لگوا لیا کریں گے۔ اللہ کی نعمت سے دو

    بچوں کی پیدائش کے بعد میں نے خود اپنا آپریشن (Vasectomy) کرا لیا تھا تاکہ مزید اولاد پیدا نہ ہو اور ہمیں اس پر کبھی بھی افسوس نہیں ہوا۔ ہمیں چاہئے کہ

    دیہی علاقوں میں صاحب اثر اور علماء کی خدمات بھی حاصل کریں اور مساجد کے اماموں کو اس قومی، اہم فریضہ کی انجام دہی کے لئے مناسب معاوضہ

    بھی دیں۔

    توڑا کمر شاخ کو کثرت نے ثمر کی

    دنیا میں گرا بناریٴ اولاد غضب ہے (ذوق)

    ہمیں اس کا علم ہونا چاہئے کہ زراعت ہماری معاشیات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ہماری پیداوار کا 25 فیصد حصہ ہے۔ یہ ہمارے تقریباً 17,16 کروڑ عوام کو

    خوراک مہیا کرتی ہے۔ یہ ہماری برآمدات کا تقریباً 70,80 فیصد ہے۔ یہ ہمارے محنت کشوں کی تقریباً 50 فیصد قوت استعمال کرتی ہے اور ہمارے دیہی علاقوں کی

    آبادی کا ذریعہ معاش ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایک طرح کا خام مال ہوتا ہے جو بہت سی صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے اور اندرونی مارکیٹ میں مقامی طور پر

    تیارکردہ اشیاء کی مارکیٹ بھی مہیا کرتی ہے۔

    اور ہمیں یہ بھی پورا علم ہے کہ آبادی کے اضافے کیساتھ ساتھ رہائشی علاقوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ یہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ تقریباً 30 سال

    پیشتر ایک چینی وفد پاکستان آیا تھا۔ میں نے ان کو اپنے شہروں اور کچھ دیہاتی علاقوں کی سیر کرائی، چینی وفد کے سربراہ وزیر نے مجھ سے کہا کہ ہم ایک

    شدید تباہی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام زرخیز زمینوں پر ہم سیمنٹ اور اینٹیں جما رہے ہیں اور چند سال بعد فصلیں اگانے کے لئے زمین ہی نہ

    ملے گی۔ اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ شہروں میں تعمیر اور شہروں کے باہر تعمیرات کے بارے میں سخت ترین قواعد بنائے جائیں اور ان پر عمل بھی کیا

    جائے۔ شہر اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تعمیر بنجر علاقوں میں کی جائے تاکہ زرخیز زمین کاشتکاری کے لئے محفوظ رہے۔ اگر ہم نے اس حکمت عملی پر فوراً

    عمل کرنا شروع نہ کیا تو ملک میں نہ کاشتکاری کیلئے زمین ہوگی اور نہ ہی کھانے کو کافی غلہ ہو گا اور نہ ہی ستر پوشی کیلئے کپڑا۔ انہوں نے نہایت ہی

    محبت سے مجھ سے کہا: ڈاکٹر خان چند سالوں میں تمہارے ہاں صرف مکانات ہی مکانات نظر آئیں گے۔ تمہاری تمام سرسبز زمین مکانوں کی نظر ہو جائے گی۔

    اونچی عمارتوں اور فلیٹس کا رواج قائم کرو۔ یہ عمارتیں صاف ستھری ہوں اور ان کے نیچے ہر گز دکانوں کی اجازت نہ دو ورنہ کراچی کی طرح غلاظت ہی غلاظت

    نظر آئیگی۔ شاپنگ سینٹر علیحدہ قرب میں بنوا دو اور رہائشی عمارتوں کے سامنے خوبصورت چھوٹے چھوٹے باغات لگوا دو متوسط طبقہ بخوشی ان میں رہے گا،

    جیسا کہ مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک میں رواج ہے۔

    ایک اور بڑا مسئلہ گرین ہاؤس کے اثرات (Green House Effect) ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی زیادتی کی وجہ سے سورج کی حرارت زمین کی

    نچلی فضا میں محسوس ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے زمینی حرارت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کا نہ صرف فصلوں پر بے حد برا اثر پڑتا ہے بلکہ مچھلیوں

    کی پیدائش بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ چند دن پیشتر ایک انگریزی روزنامہ میں جناب آصف علی برو نے اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے بتلایا

    کہ اگرچہ پاکستان دنیا کی گرین ہاؤس گیس کی پیداوار کا صرف صفر اعشاریہ چار فیصد پیدا کرتا ہے لیکن پھر بھی سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں

    اس کا بارہواں نمبر ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس آفت سے بچنے کے لئے ہمیں چاہئے کہ ہم بائیو ٹیکنالوجی میں زیادہ سے زیادہ رقم لگائیں تاکہ ہم زیادہ پیداوار

    والی، خشک سالی، سیلاب اور سیم سے محفوظ رہنے والی فصلیں کاشت کر سکیں۔ پاکستان میں چند اچھے ادارے اس میدان میں سرگرم عمل ہیں مگر

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زیادہ توجہ سے اس میدان میں کام کریں اور حکومت کو چاہئے کہ وہ فراخ دلی سے اس کی مالی امداد کرے تاکہ ہمارے مستقبل

    کا دفاع ہو سکے۔ میں نے خود کراچی یونیورسٹی میں ایک اعلیٰ بائیو ٹیکنالوجی اور جینیٹک انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ Institute of Biotechnology & Genetic

    Engineering تقریباً سات سال پیشتر قائم کیا تھا جو اسی میدان میں کام کر رہا ہے۔

    زراعت کے میدان میں اپنی معلومات کے بارے میں ” من آنم کہ من دانم “ والی بات ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ طفل مکتب ہوں لیکن میری جان پہچان اور تعلق،

    دوستی جن چند ماہرین سے رہی ہے اس سے میں نے تھوڑا بہت علم حاصل کر لیا ہے، جن ماہرین کے علم، مضامین اور دوستی سے میں نے بہت کچھ سیکھا

    ہے، ان میں جناب شفی نیاز ، جناب ظفر اقبال، ڈاکٹر محمود حسن خان ( جو کینیڈا میں پروفیسر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ) قابل ذکر ہیں۔ یہ لوگ اس

    میدان میں ماہر ہیں اور حکومت کو چاہئے کہ ان ماہرین کی مدد حاصل کرے، فراخ دلی سے مالی مدد دے اور ملک اور قوم کو آنے والے طوفان سے بچائے۔

    اپنے اس کالم کا اختتام کرنے سے پہلے آپ کی خدمت میں خلیل جبران مرحوم کے یہ سنہری الفاظ دہرانا چاہتا ہوں۔ میں نے صرف لفظ ترس، رحم (Pity) کی

    جگہ لفظ لعنت (Curse) استعمال کیا ہے۔

    ” لعنت ہے اس قوم پر جو عقیدوں سے پُر ہے مگر مذہب سے عاری ہے۔ لعنت ہے اس قوم پر جو اپنا بنایا ہوا کپڑا نہیں پہنتی ہے، روٹی کھاتی ہے، جو اپنی کاشت

    سے تیار کردہ نہیں، جو مشروب پیتی ہے وہ اپنے پھلوں سے تیار کردہ نہیں، اس قوم پر جو دہشت گرد کو ہیرو مانتی ہے اور چمک دمک والے غاصب کو اپنا ہیرو

    مانتی ہے“۔

    ” لعنت ہے اس قوم پر کہ جس کی آواز بلند نہیں ہوتی، سوائے جنازہ میں شرکت کرتے وقت، جو اپنے کھنڈرات میں کھڑے ہو کے شیخیاں مارتی ہے اور اس وقت

    تک مزاحمت نہیں کرتی جب تک اس کی گردن تلوار اور تختہ و دار کے درمیان نہیں رکھ دی جاتی“۔

    اگر ہم ” دہشت گرد “ کو ڈکٹیٹر اور ” چمک دمک والے “ کی جگہ ” میڈل اور فیتے “ سے بدل دیں تو ہمارے ملک و قوم پر یہ بات صادق آ جاتی ہے۔

     

               

               

               

    زراعت پر کچھ اور تبصرہ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان  2/11/2009

    اپنے پچھلے کالم میں ، میں نے زراعت کی اہمیت اور اس پر توجہ دینے کی فوری ضرورت پر کچھ تبصرہ کیا تھا۔ یہ مسئلہ اور خطرہ اس قدر اہم ہے کہ میں اس پر

    مزید تبصرہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

    سب سے پہلے تو میں جناب احمد رافع عالم سے سخت معذرت خواہ ہوں کہ میں نے اپنے کالم میں جناب آصف علی ابرو کے تبصرے کا ذکر کیا مگر ماحولیات پر

    ان کے اہم اور معلومات سے پُر کالموں کا تذکرہ کرنا بھول گیا۔ میں ان کے کالموں کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتا ہوں اور ان کو اتنے معلومات سے پُر اہم کالموں

    کی تحریر پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان خطرات کی نشاندہی اور توجہ راغب کرنے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے یا حکمران امیر بخارا نصر اللہ

    خان کی طرح بیجوں پر آیت کریمہ پڑھوا کر ان مشکلات سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ جب روسیوں نے وسطیٰ

    ایشیائی ممالک پر قبضہ کرنا شروع کیا اور اپنی ناکامیوں سے تجربہ حاصل کر کے ریلوے لائن ڈال کر سامان حرب، رسد اور فوج کو تیزی سے جائے ضرورت پر

    پہنچانے کا بندوبست کر لیا تھا، ساتھ میں بحیرہ کیسپین میں بندرگاہ بنا لی تھی کہ وہاں سے بآسانی نہایت تیزی سے خیوا (Khiva) پر قبضہ کرنے کے قابل تھے

    اور خیوا پر قبضہ بخارا پر قبضہ کا پیش خیمہ تھا۔ یہ میں تقریباً 1850ء کے لگ بھگ کی بات کر رہا ہوں۔ اس وقت روس دھیرے دھیرے ایک ایک کر کے تمام چھوٹے

    ممالک کو ہضم کرتا جا رہا تھا۔ بخارا کی حکومت خاصی بڑی اور اہم تھی۔ بخارا بہت خوبصورت شہر تھا، چوڑی سڑکیں تھیں، باغات ہی باغات تھے۔ اس پر انگریزوں

    کی، ایرانیوں کی اور روسیوں کی نگاہیں تھیں۔ اس مملکت میں خیوا، خوقند (Khokand)، سمر قند (Samar Kand) وغیرہ سب شامل تھے۔ اس وقت بخارا

    جاسوسوں کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ انگریز، ایرانی، روسی، چینی جاسوس تاجروں اور سیاحوں کے بھیس میں وہاں موجود تھے۔ انگریز فاصلے اور راستے کی مجبوری

    کی وجہ سے صرف سفارتی سازشوں میں مبتلا تھے۔ آخر کار 1868ء میں روسیوں نے بخارا پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ پورے وسطی

    ایشیاء کو فتح کرنے میں روس کے بمشکل چار سو فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ تقریباً دس سال پیشتر میں نے اپنے رفقاء کار کے

    ساتھ ازبکستان کا دورہ وہاں کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی پولات حبیب اللہ کی دعوت پر کیا تھا۔ یہ فزکس کے اعلیٰ استاد، پروفیسر تھے تو ہم نے تاشقند، سمر

    قند، بخارا وغیرہ کی سیر کی تھی اور خلیل جبران کا وہ قول یاد آ گیا تھا کہ ہم اپنے کھنڈرات کے درمیان کھڑے ہو کے شیخیاں مارنے میں ماہر ہیں۔ وہاں کی

    حکومت نے تمام تاریخی عمارات و مقامات کی بہت اچھی طرح مرمت کر دی ہے اور یہ شہر قابل دید ہیں۔ وہاں ( اور ترکی میں ) جا کر ہمیں اپنے عالی شان

    ماضی کا احساس ہوتا ہے۔ دیکھیں بات نکلتی ہے تو کہاں چلی جاتی ہے۔ کہنا یہ چاہتا تھا کہ 1868ء میں جب روسی توپیں شہر کی فصیلوں کو گولوں سے اڑا

    رہی تھیں تو امیر بخارا نے درباریوں سے کہا کہ تمام مساجد میں ایک ایک لاکھ مرتبہ آیت کریمہ (سورة الانبیاء۔ 87 ویں آیت) کا وظیفہ پڑھا جائے۔ ابھی وظیفہ شروع ہی ہوا تھا کہ فصلیں گر گئیں اور شہر پر روسیوں نے قبضہ کر لیا۔ کبھی کسی کالم میں، میں اپنے اس دورے کے بارے مین تاثرات قلمبند کروں گا۔ اس وقت یہ فکر ہے کہ ہم وظیفے پڑھ رہے ہیں اور دودھ اور شہد کی نہروں کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر زراعت کو نظر انداز کیا تو فاقہ کشی اور موت نتیجہ نکلے گا۔ بغیر بجلی کے تو انسان زندہ رہ سکتا ہے مگر بغیر خوراک کے چند دن گزارنا بھی نا ممکن ہے۔اپنے محترم دوست ماہر زراعت شفیع نیاز صاحب سے گفتگو میں انہوں نے چند نہایت اہم نکات پر روشنی ڈالی تھی، وہ یہاں قابل بیان، قابل فکر و غور ہیں۔

    (1) کاشتکاروں کو یہ عام شکایت ہے اور اس میں وہ حق بجانب بھی ہیں کہ ان کو اپنی فصلوں کی مزدوری، ان کی لاگت اور محنت کے مطابق نہیں ملتی۔ فصل

    پیدا کرنے کی رقم اس سے زیادہ ہوتی ہے جو حکومت ان کو دیتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کاشتکار دل برداشتہ ہو کر دوسرے پیشے کی تلاش کرتے ہیں۔

    حکومت کی جانب سے کئے گئے انتظامات قطعی غیر تسلی بخش ہوتے ہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ تقریباً بیس سال سے جو ادارہ حکومت کو تمام

    مسائل کا حقیقی جائزہ لے کر، نہایت غور و غوض سے اور زراعت سے وابستہ افراد سے تبادلہ خیال کر کے مختلف فصلوں کی امداد یعنی سپورٹ اور اس پر

    عملدرآمد کرنے کی سفارشات کرتا تھا۔ 1981ء سے یہ عمل شروع ہوا تھا مگر مشرف کے فوجی قبضے کے بعد یہ مفید پالیسی ختم کر دی گئی۔ وجہ یہ بتائی

    گئی کہ عالمی مالی ادارے اس کے خلاف تھے اور فری مارکیٹ کو فروغ دینے پر زور دے رہے تھے۔ گندم کا بحران ہمیشہ غلط تخمینے کی وجہ سے ہوا ہے اور

    یہی بات چینی کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔

    عالمی ادارے اپنے پروردہ سابق وزیراعظم اور وزراء کے ذریعے اس سازش میں کامیاب ہو گئے اور ہماری معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا۔ مشرف کے ساتھی اپنے ملک

    دشمن عزائم میں اپنے سربراہ کی سرپرستی میں سینہ پھیلائے پھرتے رہے اور ایک اچھی عملی پالیسی پر عمل نہیں ہوا۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ فصل پیدا کرنے میں تین چیزیں زیادہ اہم ہیں۔ زمین، پانی اور ہوا، ہوا پر ہمارا کنٹرول نہیں اور کچھ نہیں کر سکتے لیکن زمین کے بارے میں یہ

    بتلانا چاہتا ہوں کہ ہمارا کُل رقبہ تقریباً 80 ملین ہیکڑ ( 100 ہیکڑ ایک مربع کلومیٹر کے برابر ہے ) میں سے صرف 22 ملین ہیکڑز زیر کاشت ہے اور تقریباً 8 ملین ہیکڑ

    پر مزید کاشت کی جا سکتی ہے۔ اس میں سے تقریباً 19.5 ہیکڑ پر پانی کے ذریعے (نہری، ٹیوب ویل) فصلیں اگائی جا سکتی ہیں۔ وزارت زراعت کے اعداد و شمار

    کے مطابق پچھلے دو سالوں میں ٹیوب ویل کے پانی میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں تقریباً دس لاکھ ٹیوب ویل ہیں جن میں سے تقریباً 86 فیصد ڈیزل پر چلتے ہیں۔

    پچھلے دو تین سالوں میں تقریباً تین لاکھ ٹیوب ویل کا اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں کمر توڑ اضافہ کی وجہ سے فصلوں کی کاشت

    کی قیمت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

    آپ کو علم ہے کہ زمین کو اچھی کاشت کے قابل رکھنے کے لئے کھاد لازمی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں مصنوعی کھاد کی قیمت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔

    نتیجہ یہ نکلا کہ کاشتکاروں نے کھاد کے استعمال میں کمی کر دی اور اس کے نتیجے میں فصل کی مقدار اور کوالٹی میں بہت فرق پڑ گیا۔ آج کل نقلی کھاد،

    کھاد کی ناقابل ادا قیمت اور غیر دستیابی نے کاشتکاروں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہیں۔ حکومت اگر مناسب قیمت پر ضرورت کے مطابق کھاد مہیا نہ کر

    سکے تو ایسے وزیر اور اس کے عملے کو کسی اصطبل کا نگراں مقرر کر دینا چاہئے۔ زراعت کے پیشے سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں، نائٹروجن اور فاسفورس

    کھاد میں1:2 کی نسبت ہوتی ہے لیکن آج کل یہ 1:4 تک پہنچ گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ فی ایکڑ پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اگر حکومت اس ملک اور

    کاشتکاروں کو بچانا چاہتی ہے تو اس کو چاہئے کہ کھاد کی قیمت میں فوراً اتنی کمی کر دے کہ اس کا استعمال 1:2 کی نسبت تک آ جائے تاکہ کھاد کا استعمال

    بڑھے، کاشتکاروں کو فائدہ پہنچے اور فصلوں کی مقدار میں اضافہ ہو جائے۔ اسی طرح کیڑے مکوڑے مارنے والی ادویات کی قیمتوں میں بھی بے حد اضافہ ہوا

    ہے اگر ان کی قیمتیں کم نہ کی گئیں تو کاشتکار مجبور ہو کر ان کا استعمال کم کر دیں گے اور فصلوں کو بہت نقصان پہنچے گا۔ اس وقت جو قابل موت یا عمر قید

    کی سزا کے جرم ہونے چاہئیں، وہ نقلی کھاد، نقلی کیڑے مکوڑے مارنے والی دوائیں، کھانے کی اشیاء میں ملاوٹ اور نقلی ادویات ہیں۔ ان جرائم پر نرمی دکھانے

    والے مجرموں کے معاون ہیں لیکن بے ایمانی اور رشوت ستانی اس قدر عام ہے کہ یہ کام جاری ہیں اور حکومت کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔ شاید حکمران اپنے فرائض

    منصبی سے بے خبر ہیں۔

    راہوں سے بے خبر ہیں ہمارے یہ رہنما

    ہیں منزلیں کہاں، یہ کہاں ڈھونڈنے لگے

    چند تجاویز جن کا تذکرہ شفیع نیاز صاحب نے کیا تھا اور جن کو میں ابھی بھی نہایت اہم اور قابل عمل تصور کرتا ہوں، وہ یہ ہیں۔ (1) حکومت کو فصلوں کی

    امدادی قیمتیں بروقت مشتہر کرنا چاہئیں اور ان پر سختی سے بروقت عملدرآمد کرنا چاہئے۔ (2) یہ امداد قیمتوں کو مقرر کرنے والے ادارے ایگریکلچر پالیسی

    انسٹی ٹیوٹ کو پوری طرح فعال کیا جائے اور اس کو خودمختار ادارہ بنایا جائے۔ اس میں قابل اور تجربہ کار ماہرین کو لگایا جائے اور اس کو ہر طرح کی سہولت دی

    جائے (3) کیونکہ زرعی اعداد و شمار نہ صرف ہمارے عوام بلکہ بین الاقوامی ماہرین بھی شکوک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لیے یہ لازم ہے کہ ان کو قابل

    قبول اور قابل اعتبار بنایا جائے (4) وہ تمام وسائل جن کی کاشتکاروں کو فصل اگانے میں ضرورت پڑتی ہے، ان کی قیمتیں نہایت مناسب سطح پر رکھی جائیں تاکہ

    فصلوں کی قیمت میں زیادہ لاگت نہ آئے۔ ان کو دیکھ کر ہی فراخ دلی سے امدادی قیمتیں مقرر کی جائیں۔ بجائے اس کے کہ چند چالاک چوروں کے اربوں روپے

    کے قرضے معاف کئے جائیں، وہ رقم کاشتکاروں اور فصلوں کو اگانے پر صرف کی جائے۔ (5) جیسا کہ پچھلے کالم میں تحریر کر چکا ہوں کے شہروں کے پھیلاؤ اور

    زرخیز زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیم پر فوراً سخت پابندی لگائی جائے (6) ایگریکلچر پالیسی انسٹی ٹیوٹ کو چاہئے کہ وہ اپنے ماہرین کی تحقیق کے مطابق حکومت

    کو اپنی سفارشات پیش کرے کہ کن کن فصلوں کی ملک کو ضرورت ہے اور مستقبل قریب میں ضرورت پڑے گی اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے کیا کیا جائے

    (7) وہ فصلیں کاشت کی جائیں جن کو پانی کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی مثلاً گنا اور چاول بہت پانی مانگتے ہیں۔ ان کے بجائے ایسی فصلوں کو ترجیح دی جائے

    جن سے کاشتکار کو فی ایکڑ اچھی قابل قبول آمدنی ہو جائے اور جتنی کہ چاول یا گنے سے ہوتی ہے۔ یہ خیال رکھا جائے کہ نسبتاً کم پانی استعمال کریں۔

    ایسی فصلوں کو بھی ترجیح دی جائے جو نمکین اور سیم زدہ زمین پر اگائی جا سکیں (8) چونکہ پانی کی قلت میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس لیے بہت

    ضروری ہے کہ حکومت وہ سفارشات جو کہ اس موجودہ پانی کو کیسے طریقہ آبپاشی کے ذریعے استعمال کریں، ایک مہم کے ذریعے کاشتکاروں کو بتلائے مثلاً

    کھلی آبپاشی (Flat) کے بجائے گہری نالیاں بنا کے (Furrow) استعمال کریں۔ ریزر سے زمین ہموار کرائیں (Raser Land Levelling) اور مشرق وسطیٰ میں عام رائج

    طریقہ آبپاشی پودوں کو قطرہ بہ قطرہ پانی دینے (Drip Agriculture) کا طریقہ کار استعمال کیا جائے۔ حکومت کا اولین فرض ہے کہ عوام کو مناسب مقدار میں اور

    مناسب قیمت پر اناج حاصل ہو سکے، مناسب ذخیرہ گاہیں یا گودام ہوں کہ وقت ضرورت ان سے اناج حاصل کیا جا سکے اور اس خوراک اور اناج کو قوت بخشش

    ہونا چاہئے کہ بدن کی صحت مندی کی گارنٹی دے سکے۔

    حقیقت یہ ہے کہ حکومتوں کے غلط اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس کھانے کی اشیاء اور دوسری اشیاء میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہر سال ہو رہا ہے اور غریب اور

    متوسط طبقہ کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ یہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کی مملکت خداداد پاکستان ہے جہاں لوگ بھوکے مر رہے ہیں، بچے بلک رہے ہیں

    اور خودکشیاں ہو رہی ہیں۔

    تقسیم کے فوراً بعد ہندوستان کے پہلے نائب وزیراعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل نے قلم کی ایک جنبش سے تمام ریاستیں اور جاگیردارانہ نظام ختم کر دیا تھا۔ آج

    ہندوستان اس عقلمندانہ پالیسی کے ثمرات کھا رہا ہے اور ہم اپنی احمقانہ پالیسیوں سے آج بھی جاگیردارانہ اور وڈیرہ نظام کی لعنت کا کفارہ ادا کر رہے ہیں۔

    چند لوگ ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔ انہیں زراعت سے نہیں سیاست سے دلچسپی ہے کہ بغیر فکر و محنت کے آمدنی کا اچھا ذریعہ ہے اور پھر اثر

    و رسوخ سے بھی زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

    ہمیں علم ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کے بعد ہمارا سب سے زیادہ زرمبادلہ خوردنی تیل، چائے وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ ہمارا

    نہری نظام تقریباً چار ہزار میل لمبائی پر پھیلا ہوا ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم نہروں کے کنارے تین چار قطاروں میں چھوٹے قد کے زیادہ پھل دینے والے ناریل کے درخت

    لگا دیں اور ان کی اچھی طرح نگرانی کریں۔ ناریل کا تیل بہت مفید ہوتا ہے اور کھانے میں استعمال ہو سکتا ہے، اسی طرح نمی والے علاقوں میں تاڑ (Palm) کے

    درختوں کی کاشت کریں تاکہ ان کے پھلوں سے خوردنی تیل حاصل کیا جا سکے، اس کے علاوہ سورج مکھی (Sun Flower) کے پودوں کی کاشت بھی بکثرت

    کرنے کی ضرورت ہے۔ ایبٹ آباد، مانسہرہ وغیرہ میں چائے کی کاشت کی جا رہی ہے، اس پر زیادہ دھیان دینا چاہئے، کاشتکاروں کی خوب مدد کرنی چاہئے کہ

    چائے کی درآمد پر جو سیکڑوں ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں وہ بچائے جا سکیں۔

    کئی سال پیشتر میرے عزیز دوست پروفیسر ڈاکٹر محمود حسن خان نے ایک نہایت اہم مضمون ”پاکستان میں زرعت کا بحران“ کے عنوان سے لکھا تھا۔ اس

    بحران کی وجوہات بیان کی تھیں اور ان کے کچھ حل بھی بتائے تھے۔ یہ نہایت قیمتی مشورے تھے مگر ہماری روایات کے مطابق ہم کبھی ایسی مفید باتوں یا

    مشوروں پر عمل نہیں کرتے۔ لنڈا بازار کا ایک بی اے یا میٹرک پاس وزیر عقل کُل ہوتے ہیں اور سب سے بہتر جانتے ہیں۔ ایسے معاملات سمجھنے کے لیے آپ کو

    ایک ذوالفقار علی بھٹو چاہئے۔ بد قسمتی سے ان کو 1971ء کے بعد زیادہ پرسکون وقت ہی نہیں ملا کہ وہ ایسے مزید کام کرتے جس طرح کے ایٹمی پروگرام کیا

    تھا۔

    2008-09ء میں جو بجٹ پیش کیا گیا تھا، اس میں زراعت کی پالیسی پر کچھ اہم یا خاص اقدامات کا ذکر نہ تھا۔ چند چھوٹے چھوٹے پروگراموں کا ذکر تھا جن کا

    مقصد کاشتکاروں کو کچھ سہولت اور مدد دینا تھا مگر زراعت کی جتنی اہمیت ہماری معیشت اور بقا کے لئے ہے اس کی اتنی اہمیت نہیں دی گئی۔ برادرم

    شفیع نیاز صاحب نے اس پر تفصیلی تبصرہ کیا تھا جو قابل مطالعہ اور قابل عمل تھا۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ ڈاکٹر ظفر الطاف کے تجربہ اور ذہانت سے فائدہ

    اٹھائیں، وہ اس میدان میں ماہر ہیں۔

    ہماری تمام پالیسیاں ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور امریکہ کی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مرہون منت ہیں۔ جو حکم ملتا ہے اس پر عمل کیا جاتا ہے۔

    ضرورت سے زیادہ کیا جاتا ہے کیونکہ بعد میں گرین کارڈ اور وہاں کی ملازمت مدنظر ہوتی ہے۔ جہاں تک ملکی نظام کا تعلق ہے تو یہ شعر اس کی بالکل صحیح

    عکاسی کرتا ہے۔

    اس گھر کا سب نظام ہے غیروں کے ہاتھ میں

    باہر ہے میرے نام کی تختی لگی ہوئی

     

               

               

               

    میٹالرجی کی تعلیم کی اہمیت....... سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان        2/18/2009

    میرے کالموں پر طالبعلموں ، اساتذہ ، دانشوروں وغیرہ کے ردعمل کی اس قدر تعداد ہے کہ میں معذرت خواہ ہوں کہ ان سب کو جواب دے سکوں ، مجھے بتایا گیا

    ہے کہ ان مضامین کو پڑھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں جاتی ہے ۔ آج کل اس قدر اہم موضوعات پریشانیاں ، تکالیف کا لوگوں کو سا منا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ

    ہر موضوع پر کچھ تحریر کروں گویا ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے“۔میں نے اپنے پچھلے دو مضامین میں زراعت کی اہمیت اور ہماری بقا کے لیے

    اس کی اہمیت پر معروضات پیش کی تھیں اور آنے والے سخت خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اس علم کے ماہرین کافی عرصہ سے اس بارے

    میں حکومت کو خبردار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور میں نے اس مہم و کوشش میں صرف اپنی آواز کو شامل کیا ہے ۔ لاتعداد طالبعلموں ، اساتذہ اور

    دانشوروں نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ تعلیم پر مزید لکھوں ، خاص طور پر انجینئرنگ کی تعلیم پر ۔ برادرم پروفیسر سبحانی نے کئی مرتبہ اخبارات کے

    ذریعے ابتدائی یعنی پرائمری تعلیم کی اہمیت کے بارے میں توجہ دلائی ہے ۔ حقیقت ہے بھی یہی کہ اچھی بنیاد کے بغیر مضبوط عمارت کی تعمیر ناممکن ہے ۔

    جیسا کہ آپ کی اکثریت کو علم ہے کہ میں ایک میٹا لرجیکل انجینئر کے ساتھ ساتھ سائنسدان بھی ہوں، میں دراصل فزیکل میٹالرجسٹ ہوں تھوڑی مشکل ان

    انگریزی اصطلاحات کو اردو میں ترجمہ کرنے میں پیش آتی ہے۔فزیکل میٹالرجی کا مضمون بہت حد تک فزکس، ریاضی اور کیمسٹری کے مضامین پر مبنی ہے اور

    ان کے ساتھ ساتھ لاتعداد انجینئرنگ مضامین بھی اس میں شامل ہیں ۔یہ مضمون ایک خاص وسیع بنیاد مہیا کرتا ہے جس کی وجہ سے آپ انجینئرنگ کے

    بیشمار پرابلم یا مسئلے حل کر سکتے ہیں۔اس فن یا تعلیم کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس میں ہی مہارت کی وجہ سے میں یورینیم

    کی افزودگی اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جیسے مشکل ترین کام کی تکمیل میں رہنمائی کر سکا تھا۔ یورینیم کی افزودگی کو لوگ بجا طور پر ایک فزکس کی

    پرابلم سمجھتے ہیں لیکن فزیکل میٹالرجی میں فزکس کی اعلیٰ تعلیم بہت بڑا رول ادا کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ میکینکل انجینئرنگ ، کیمیکل انجینئرنگ ،

    الیکٹرانکس ، کمپیوٹر سائنس، ویکیوم ٹیکنالوجی وغیرہ بھی اس فن یا میدان میں اہم رول ادا کرتے ہیں اسی طرح میزائل یا ہتھیاروں کی تیاری میں متعدد علوم کا

    استعمال ہوتا ہے اور میٹا لرجیکل انجینئرنگ میں حاصل کی گئی معلومات و تجربہ اس میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔انجینئرنگ کی تعلیم یا پیشہ کے لیے سب سے

    بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص دیوار میں کیل ٹھونک دیتا ہے یا سائیکل کی چین چڑھا لیتا ہے وہ اپنے آپ کو مکینیکل انجینئر سمجھنے لگتا ہے اور اگر کوئی

    شخص کسی چھوٹے سے برتن میں کوئلوں کی آگ پر کوئی دھات پگھلا کر کسی شکل میں ڈھال دے تو وہ میٹالرجیکل انجینئر بن جاتا ہے، اسی طرح اگر کوئی

    شخص تار پر پلگ لگادے یا ٹوٹا ہوا بلب بدل دے تو وہ الیکٹریکل انجینئر بن جاتا ہے ۔ اس کالم کا مقصد یہ ہے کہ میں آپ کو فزیکل میٹالرجی کے مضمون کے بارے

    میں اور سائنس و ٹیکنالوجی اور صنعت میں اس کی اہمیت سے آگاہ کروں ۔ جو لوگ اس میدان میں کام کر رہے ہیں اور تعلیم حاصل کی ہوئی ہے وہ تو یہ باتیں

    جانتے ہیں مگر اکثریت اس فن ِ تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں ہے اس لئے یہ کالم لکھا ہے ۔اگر یہ کہا جاتا ہے کہ کسی ملک و قوم کی خوشحالی اور ترقی کا

    انحصار اس کے انجینئروں کی کارکردگی اور صلاحیت پر منحصر ہوتا ہے تو یہ بے جا نہیں ہے اور یہ بھی مبالغہ آمیزی نہ ہوگی کہ اگر کہا جائے کہ انجینئرنگ

    پروفیشن کی ریڑھ کی ہڈی میٹالرجیکل انجینئرنگ ہے۔ خواہ ایک سلائی کی سوئی ہو یا جہاز ہو میٹالرجی کی معلومات اور استعمال کے بغیر کچھ بھی بنایا نہیں

    جا سکتا ۔ ان تمام کاموں میں جو صنعت استعمال ہوتی ہیں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم رول ادا کرتی ہے یعنی محنت، میٹیریلز(دھاتیں) ، مشینیں ،

    محنت کا طریقہ کار اور مالی وسائل ، ان میں میٹیریلز یعنی دھاتیں اور ان کو کس طرح ضروریات کی چیزوں کی شکل دینا اور استعمال کرنا سب سے اہم حصہ

    ہے۔میٹالرجی کی تعلیم ایک عملی علم یا ٹیکنیک ہے جو ٹھوس دھاتوں اور ان کے مرکبوں کی فزکس اور کیمسٹری پر انحصار کرتی ہے ۔ یہ دھاتوں کی معدنیات

    سے دھاتوں کی تیاری، ان کی صفائی اور ان کو حتمی شکل دینے کا ہنر ہے ۔ یہی نہیں بلکہ یہ علم دھاتوں اور ان کے مرکبوں کا ایٹمی سطح پر ان کی ساخت

    اور ان کا ان دھاتوں اور مرکبوں کی قوت اور خصوصیات پر اثرات کے بارے میں معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ ایٹمی سطح پر ساخت اور اس کا دھاتوں کی خصوصیات پر

    اثر نئی نئی طاقتور اور اعلیٰ دھاتوں کے مرکب بنانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں جو کہ دور جدید کی اہم ضرورت ہے۔ دھاتیں اور ان کے مرکب ہمارے معاشرہ میں

    ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں خواہ یہ ہوائی جہازوں کی صنعت ہو، پلاسٹک ہو، کاروں کی صنعت ہو، سرامکس ہوں، الیکٹرانکس ہو یا میڈیکل صنعت ہو۔ اس

    طرح میٹریل سائنس اور انجینئرنگ ان تمام دھاتوں اور میٹریلز کامطالعہ اور تحقیق کرتی ہے جو کہ موجودہ انتہائی ترقی کے دور میں تمام انجینئرنگ، سائنٹیفک،

    میڈیکل میدانوں میں استعمال ہوتی ہیں یا استعمال ہو سکتی ہیں۔ ایک میٹالرجیکل انجینئر کا اہم رول و ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ مناسب ترین دھات یا مرکب کا

    چناؤ کرے جو کسی خاص ، اہم کام کی ضرورت کے لئے درپیش ہو۔ اس کے علاوہ ان کی ذمہ داری میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ جو کام کرنا ہو اس کا آسان اور

    بہترین طریقہ نکالیں جو قابل اعتماد بھی ہو اور کفایت شعارانہ بھی ہو ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک میٹالرجیکل انجینئر کودھاتوں اور ان کے مرکبوں

    (Materials & Alloys) کی ساخت کو مختلف حالات ، درجہ حرارت اور ماحول میں سمجھنا پڑتا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ان چیزوں کا ایٹمی ،الیکڑانک اور

    مالیکولر ساخت اور پھر ان اجزا (Crystals) اور دانوں (Grains) کا جوڑ ساخت اور نیوکلیئر گٹھ جوڑ یعنی (Nuclear Conflagration) کے بارے میں بھی پوری معلومات

    حاصل کرنا ہوتی ہیں۔ان مطلوبہ معلومات کی اہم ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ ان کی مدد سے انجینئر دھاتوں اور مرکبوں کی میکانیکی قوت اور مشکل ترین

    حالات میں قوت برداشت ، الیکٹریکل مقناطیسی اور آپٹیکل خصوصیات کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرتے ہیں۔ میٹالرجیکل اور میٹریلز انجینئرنگ کا مضمون

    بہت وسیع ہے۔ یہ نہ صرف دھاتوں اور دوسری تعمیری اشیاء مثلاً دھاتیں اور ان کے مرکب، سرامکس(Ceramics) ، پولی ایسٹر (Polyester) ، شیشہ(Glass) ،

    کمپوزٹس(Composites)، سیمی کنڈکٹرز (Semi-Conductors) بلکہ ان میدانوں (Disciplines)سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے یعنی فزکس، کیمسٹری اور انجینئرنگ کے

    لاتعداد موضوعات ۔ یہ مضمون نہایت دلچسپ ، جستجو سے پُر اورڈائنامک ہے یعنی آپ کو مسلسل اپنی دماغی صلاحیتوں کو استعمال میں لانا پڑتا ہے

    مسلسل نئی نئی ایجادات کی جستجو میں رہنا پڑتا ہے۔ یہ اس لئے بے حد ضروری ہے کہ زمانہ جس تیزی سے ترقی کر رہا ہے اگر میٹالرجیکل و میٹریلز

    انجینئرنگ سے اپنے آپ کو پوری طرح واقف نہ رکھے تو چند ماہ یا ایک سال میں عہد ماضی کی یادگار بن جاتا ہے۔ موجودہ ترقی کے دور میں ایک میٹالرجیکل و

    میڑیلز انجینئر کو بہت ہنر مند ماہر ، مارکیٹ سے پوری طرح واقف، معاشیات کی سمجھ بوجھ ماحولیات کی اہمیت سے آشنا اور انسانی ضرورت سے پوری طرح

    واقف ہونا ضروری ہے۔میٹالرجیکل انجینئرنگ ایک وسیع میدان میں مہارت مہیا کرتی ہے اس میں نہ صرف ضروری بنیادی مضامین شروع میں پڑھائے جاتے ہیں بلکہ

    آہستہ آہستہ بہت اہم اور ترقی یافتہ (Advanced) اور خصوصی مضامین (Specilaized Subjects) پڑھائے جاتے ہیں۔مختصراً یہ عرض کروں گا کہ میٹالرجیکل اور

    میٹریلز انجینئرنگ ان انجینئروں کے لیے ایک نہایت اعلیٰ مضمونِ تعلیم ہے جو مختلف صنعتوں ،میں تحقیق کرنے میں اور معاشیات کے میدان میں کام کرنے میں

    دلچسپی لیتے ہیں ۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ ملازمت کی ضروریات اور میدان میں کچھ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اسی وجہ سے میٹالرجیکل اور میٹریلز

    انجینئروں کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے اور مستقبل میں یقینا اس پیشہ میں ڈگری یافتہ انجینئروں کی مانگ موجود رہے گی اور اگر ہمارے ملک

    میں ان ماہرین کے تجربہ اور تعلیم سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو ہم پسماندگی میں ہی رہیں گے۔ یہاں کچھ معلومات ان مضامین کے بارے میں عرض کروں گا جو بیرون

    ممالک میں میٹریلز اور میٹالرجیکل انجینئروں کو کم و بیش لازمی پڑھائے جاتے ہیں ۔یہ معلومات خاص طور پر انجینئرنگ کے طالبعلموں اوراساتذہ کے لیے ہیں۔ ایک

    سال جو خاص مضامین پڑھائے جاتے ہیں اور جو میں نے بھی پڑھے تھے وہ یہ ہیں۔ Advanced Mathematics, Applied Mechanics, Atomic Physics, Electronics,

    Quantum Mechanics, Nuclear Physics, Ternary Alloys, Chemical Physics, Computational Design, Cast Iron, Powder Metallurgy,Principles of Metallurgy

    وغیرہ، وہ مضامین جو پورے دو سال پڑھائے جاتے ہیں ان میںTheoretical Physics, Fluid Dynamics, High pressure Physics, Solid State Physics, Steel Making &

    Applied Thermodynamics وغیرہ وغیرہ ، چار سال جو خاص مضامین پڑھائے جاتے ہیں ان میں Materials & Alloys (Ferrous & non-Ferrous)ان کی تیاری اور

    خصوصیات وغیرہ ۔ دوسرے مضامین جومختلف مدتوں کے لیے پڑھائے جاتے ہیں ان میں Vacuum Technology, Reactor Materials & Engineering, Metals &

    Alloys (Production & Properties), Non-Destructive Testing,Physical Metallurgy,WeldingTechnology,Ceramics X-ray Difraction and Crystallography,

    Corrosion Technology, Machine Design, FoundryTechnology,Mineralogy,Composite Materials, Industrial Management, Industrial Psychologyان مضامین

    کے علاوہ دوسرے ایسے اہم مضامین پڑھائے جاتے ہیں جن کا تعلق خاص و اہم Metals & Alloys سے ہوتا ہے جو موجودہ ترقی کے دور میں روزمرہ کی صنعتوں

    اور سائنٹفیک آلات، کارخانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان مضامین کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ بہت وسیع عملی تجربے کئے جاتے ہیں ۔ آپ کو تعجب ہو گا کہ

    فزکس ، کیمسٹری ، الیکٹرانکس ، میکنیکل انجینئرنگ اور کیمیکل انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے بھی میٹالرجی و میٹریل سائنس کے چار سالہ مضامین لازمی طور

    پر پڑھنے پڑتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکوں میں مختلف مضامین میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وسیع معلومات کے حامل ہوتے ہیں اور

    لاتعداد قسم کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یورپی یونیورسٹیوں میں پانچویں سال میں ایک ریسرچ تھیسس لکھنا ہوتا ہے اس قسم کی تعلیم اور

    اس کے ساتھ میرا صنعتی تجربہ ایک نہایت قیمتی سرمایہ تھا جس کی وجہ سے میں اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دے سکا ۔ یہ بات سمجھ

    لینا ضروری ہے کہ بغیر اس مضمون کی اچھی تعلیم کے نہ ہی ایٹمی ری ایکٹر ، ہوائی جہاز، کاریں ، کیمیائی کارخانے بنائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی روزمرہ کی

    گھریلو اشیاء تیار کی جا سکتی ہیں۔یہ بات قابل بیان و دلچسپ ہے کہ میٹالرجی و میٹریلز سائنس کا ایک منفرد مضمون کے بننے سے پیشتر اس میدان میں تمام

    اہم کام اور ترقی فزکس اور کیمسٹری کے ماہرین نے کی تھی اور آج بھی ان دو مضامین میں مہارت رکھنے والے میٹالرجی اور میٹریلز سائنس کی تحقیق اور ترقی

    میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

    ایک اور اہم حقیقت جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ ، انگلینڈ ، جرمنی، فرانس، روس، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، سوئیڈن، جاپان اور نئے دور میں چین اور جنوبی

    کوریا میں صنعتی ترقی اور خوش حالی میں میٹالرجی کی تعلیم و ترقی نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں، ہوائی جہازوں، پانی کے

    جہازوں، ٹرینیں، اسٹیل ملز، کاریں ، نیوکلیئر پاور پلانٹس غرض روزمرہ ہر چیز تک میٹالرجی کی تعلیم اور ہنر پر منحصر ہے۔پاکستان کی پسماندگی کا بہت بڑا سبب

    ہمارے رہنماؤں کی نااہلی اور مستقبل کی ضرورت سے ناواقفیت اور میٹالرجی کی صنعت کو بالکل نظر انداز کر دینا ہے۔ اگر پاکستان کے قیام کے فوراً ہی بعد ہم

    اسٹیل ملز اور کاروں کی صنعت قائم کر دیتے تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو چکا ہوتا۔ اپنا کالم ختم کرنے سے قبل مشہور فلسفی ٹامس ہکسلی

    (Thomas Huxley) کی ایک نہایت سنہری کہاوت بیان کرنا چاہتا ہوں ۔” شاید تمام تعلیم کا نہایت قیمتی نتیجہ یہ ہے کہ یہ انسان کو اس قابل کر دیتی ہے کہ

    انسان وہ کر سکے جو اس کو کرنا ہی ہے، جب وہ کرنا ہی ضروری ہوتا ہے چاہے اس کو یہ پسند ہو یا نہ ہو ۔ یہ زندگی کا پہلا سبق ہوتا ہے جو یاد کرنا اور سیکھنا

    ضروری ہوتا ہے اور انسان جس قدر جلدی سبق سیکھنا شروع کر دے یہ غالباً آخری سبق ہوتا ہے جو وہ مکمل طور پر سیکھتا ہے“۔

     

               

               

               

    تعلیم ۔ پرانی خوشگوار یادیں,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  2/25/2009

    16 دسمبر 1971ء کی ذلت آمیزشکست اور پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے والے منظر کو بار بار بھلانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں ۔

    یادِ ماضی عذاب ہے یارب

    چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

    لیکن ایک یادداشت ایسی ہے کہ میں اس کو دنیا کی تمام دولت کے بدلے بھی بھولنا پسند نہیں کروں گا اور یہ یاد داشت اسکول کے طالب علمی کا زمانہ ہے۔

    یہ ایسی خوبصورت یادیں ہیں جو ابھی تازہ ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کل کی بات ہے ۔ جب کبھی میں تنہا ہوتا ہوں میں اپنی کرسی پر بیٹھ کر آنکھیں

    بند کر کے تقریباً 65سال پیشتر بھوپال کے اسکولوں میں پہنچ جاتا ہوں ۔ میرے والد برٹش انڈیا میں وسطی صوبہ جات یعنی سی پی میں ہیڈ ماسٹر اور

    سپریٹنڈنٹ آف اسکولز کے عہدے سے ریٹائر ہو کر بھوپال میں واپس آ کر بس گئے تھے یہ ناگپور یونیورسٹی سے گریجویٹ تھے اور انگریزی اور ریاضی میں ماہر

    تھے پورا شہر ان کی بے حد عزت کرتا تھا۔

    قبل اس کے کہ میں اپنی تعلیم کے بارے میں عرض کروں چند باتیں بھوپال اسٹیٹ کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں ۔ یہ ہندوستان کے بالکل قلب میں ہے تقسیم سے

    پیشتر اس کی آبادی تقریباً سات لاکھ نفوس پر مشتمل تھی اس ریاست کا رقبہ تقریباً سات ہزار مربع کلو میٹر تھا ۔ اس کو ہندوستان کا سوئٹزرلینڈ کہنا مبالغہ

    آمیزی نہ ہو گا اس میں گھنے جنگلات تھے ، دریا تھے ، اونچے اونچے پہاڑ تھے اور باکثرت جنگلی جانور مثلاً شیر، تیندوے ، ریچھ، جنگلی کتے، سور، مگرمچھ،

    ہرن، چکارے، سانبھر، نیل گائے، طاؤس اور لاتعداد قسم کے پرندے تھے۔ بھوپال شہر دہلی، بمبئی اور امرتسر،کلکتہ ریلوے لائن پر ہونے کی وجہ سے اہم جنکشن

    تھا ۔ بھوپال شہر میں ساتھ جھیلیں تھیں جن میں سے ایک غیر منقسم ہندوستان کا سب سے بڑا تالاب کہلاتی ہے۔ ان جھیلوں اور تالابوں میں کثرت سے

    مچھلیاں اور جھینگے تھے اور ہمارا گھر بڑے تالاب سے بمشکل ایک کلومیٹر پر تھا ۔ بھوپال ایک پہاڑی سرزمین پر واقع تھا شہر میں لاتعداد گھاٹیاں تھیں اور سائیکل

    چلانے والوں کو اکثر اتر کر پیدل چل کر کچھ فاصلے طے کرنا پڑتے تھے۔ میرے بچپن کے زمانے میں شہر کے وسط سے بمشکل پانچ کلو میٹر دور رات کو شیر

    ،تیندوے ، ریچھ مل جاتے تھے ۔ بھوپال میں لاتعداد نہایت خوبصورت مساجد تھیں اور تقریباً ہر دو سو گز پر ایک مسجد موجود تھی ۔ بھوپال میں لاتعداد حُفّاظ تھے

    اور ماہ رمضان میں یہ دور دراز علاقوں میں جا کر تراویح پڑھایا کرتے تھے۔

    پوری آبادی کا بمشکل پچیس ، تیس فیصد حصہ مسلمانوں پر مبنی تھا اور یہ پٹھان تھے ۔ باقی آبادی ہندوؤں، اور پرانے مقامی باشندوں گونڈ اور بھیل پر مشتمل

    تھی۔بھوپال و سیہوردوخاص شہروں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی ، فوج اور پولیس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی مگر تجارت اور سرکاری ملازمتوں میں ہندو،

    مسلمان ملے جلے کام کرتے تھے ۔ وزیراعظم عموماً ہندو ہوتا تھا اور یہ بیگمات بھوپال کی دوربینی کی عکاسی کرتا تھا ۔ بھوپال میں ہمیشہ امن و امان رہتا تھا ۔

    ریاست خاصی کھاتی پیتی ریاست تھی ،نہ غربت تھی ، نہ بیروزگاری تھی اور فقیروں کا تو نام و نشان ہی نہیں تھا ۔مسلمان زیادہ تر پٹھان تھے اور ان کا تعلق

    صوبہ سرحد کے علاقے تیراہ سے تھا ۔ اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال کے بعد مغلیہ حکومت بکھر گئی تو بھوپال شہر سے بیس کلو میٹر دور رائسین کے قلعہ

    کے سربراہ سردار دوست محمدخان نے بھی خودمختاری اختیار کر لی اور چند سال بعد بھوپال کی رانی کملاپتی نے شہر بھوپال ان کو بطور شکریہ حوالہ کر دیا

    کیونکہ دوست محمد خان نے اس کے شوہر کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچا دیا تھا۔ بھوپال میں ہم یا تو پٹھانوں سے واقف تھے یا کالے کپڑے پہنے کابلی

    سودخوروں سے جو ہمیشہ لوگوں کو بہکا کر رقم سود پر دینے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔پاکستان آکر مجھے نت نئے ناموں سے واقفیت ہوئی ۔ والدہ کی

    طرف سے ہمارا تعلق تراہ کے پٹھانوں سے ہے اور والد کی طرف سے غور سے آئے اُزبک نسل سے تھا جو سلطان شہاب الدین کے ساتھ آئے تھے اور پرتھوی

    راج کو شکست دی تھی ۔

    اب میں چند باتیں ان لوگوں سے مخاطب ہو کر کہنا چاہتا ہوں جو بلا سوچے سمجھے اور تمام خطرناک نتائج سے غافل ہو کر بچیوں کے اسکول اور کالج مسمار

    کر رہے ہیں ۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ سردار دوست محمد خان کی رحلت کے بعد یعنی 1740ء کے بعد پانچ خواتین نے بھوپال پر حکمرانی کی ۔ ماجی ممولہ

    جو کہ نواب یار محمد خان کی بیوی تھی جو سردار دوست محمد خان کے بعد نواب بنے تھے۔بہت ذہین اور قابل خاتون تھیں اور اپنے شوہر کی وفات کے بعد انہوں

    نے کئی برس اپنی کم سن بیٹی قدسیہ بیگم کے سربراہ کے طور پر حکومت کے انتظامات خوش اسلوبی سے سر انجام دیئے ۔ اس کے بعد سکندر بیگم ،

    شاجہان بیگم اور سلطان جہان بیگم بھوپال کی حکمران رہیں ۔ان تعلیم یافتہ اور دور بین قابل حکمرانوں نے بھوپال کو ایک مثالی فلاحی اور ترقی یافتہ ریاست بنا

    دیا۔یہ فراوانی سے فارسی ، اردو بولتی تھیں اور انگریزی بھی سیکھ لی تھی ۔ یہ پردہ نہیں کرتی تھیں اور روز عوام کے لیے دربار لگاتی تھیں ۔ آپ کو علم ہے کہ

    حج اور عمرہ کے دوران عورتوں کو منہ چھپانا سختی سے منع ہے تو پھر یہ پابندی ہمارے بعض لوگ کیوں خواتین پر جبراً نافذ کرنا چاہتے ہیں جو نہ اللہ کا اورنہ ہی

    اس کے پیارے نبی کا حکم ہے۔انہوں نے ریاست بھوپال میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے لاتعداد علیحدہ علیحدہ مدارس قائم کئے، تعلیم مفت تھی اور کتابیں مفت

    دی جاتی تھیں ۔ نواب سلطان جہان بیگم نے سر سید احمد خان کو کثیر رقم برائے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے دی اور وہ اس یونیورسٹی کی

    پہلی چانسلر تھیں ۔ بعد میں ان کے بیٹے نواب حمید اللہ خان بھی اس یونیورسٹی کے چانسلر بنے ۔ یہ اس یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے۔بھوپال پر پڑوس کے

    جنگجو مرہٹوں نے کئی سخت حملے کئے اور ایک بار تین سال محاصرہ کئے رکھا مگر ان بیگمات نے خود فوج کی سربراہی کی ، بہادری سے دشمن کا مقابلہ

    کیا اور ان کو شکست دے کر بھگا دیا۔

    آپ ضرور غور کریں کہ اگر یہ پٹھان بیگمات تعلیم یافتہ نہ ہوتیں اور تعلیم کو فروغ نہ دیا ہوتا تو میں آج ایک سائنٹسٹ و انجینئر کے بجائے یا تو موچی ہوتا یا پتھر

    توڑنے والا یا ایک خرکار۔ ہماری والدہ نے ہم بہن بھائیوں کو بچپن میں تعلیم دی، اسپتال لے جا کر علاج کرایا ، میری بیوی نے میری دونوں بچیوں کو ہوم ورک کروانے

    میں رہنمائی کی اور اب میری دونوں بیٹیاں ہماری نواسیوں کو روز پڑھاتی ہیں ۔اگر آپ لڑکیوں کو تعلیم نہیں دیں گے تو آدھی قوم جہالت کا شکار ہو جائے گی اور

    آپ ان کو اچھی بیوی اور اچھی ماں بننے سے روک دیں گے۔آپ ان کو والد و شوہر کی رحلت کے حادثہ سے نمٹنے کے قابل نہ ہونے دیں گے ، آپ ان کو اسلام ،

    صحت ، صحت مند خوراک کے بارے میں علم حاصل کرنے سے محروم کر دیں گے ۔ آپ ان کو معاشرے کا ایک مفید شہری بننے سے محروم کر دیں گے اور آپ

    کو اس نقصان کا کبھی اندازہ نہ ہو گا۔ ماں کی محبت و مدد کے بغیر بہت سے لڑکے اور لڑکیاں اسکول چھوڑ دیتے ہیں اور جہالت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ ہم کس

    طرح پھر اچھے سمجھدار مسلمان قوم بن سکتے ہیں۔ آپ لڑکیوں کو تعلیم سے نہیں روک رہے بلکہ آپ پوری قوم کو جہالت کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں ۔کیا

    آپ کو علم نہیں کہ حضرت خدیجہ تعلیم یافتہ اور کامیاب تاجر تھیں اور آپ نے خود ہمارے پیارے رسول سے نکاح کرنے کی خواہش کر کے شادی کی تھی۔

    اب کچھ آج کل کی تعلیم کے بارے میں ۔ مجھے علم ہے کہ ایک کثیر تعداد مضامین ، رپورٹیں ، مشوروں، مختلف ماہرین اور کمیٹیوں کے تیار کردہ اس موضوع پر

    موجود ہیں ۔ ان میں ہمارے اسکولوں میں طریقہ تعلیم پر بحث کی گئی ہے کیونکہ ابھی تک نتیجہ صفر رہا ہے اس لئے میں نے سوچا کہ شاید میری معروضات

    صاحب اقتدار لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیں اور وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کر کے عمل کرنا شروع کر دیں ۔میں یہاں نہ تو اعداد و شمار اور نہ ہی

    طریقہ تعلیم پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں بلکہ اس طریقہ تعلیم کے بارے میں کچھ عرض کروں گا کہ جس نے عام سرکاری مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے ہم

    جیسے طلبا کو اچھے کام کرنے کے قابل بنایا تھا۔ سب سے پہلے تو یہ لازمی ہے کہ پاکستان کے تمام علاقوں میں اور تمام اسکولوں میں یکساں نظام تعلیم

    برائے مدارس نافذ کیا جائے اور اپنے اپنے علاقوں کی مادری زبانوں کو سلیبس کا لازمی حصہ قرار دیا جائے ۔ قدرتی بات اور ضرورت ہے کہ ملک کی یکجہتی کی

    خاطر اردو زبان کو لازمی قرار دیا جائے۔اپنے دور اسکول کا نظام بتانا چاہتا ہوں ۔شروع کے دو سالوں میں ہمیں بنیادی اردو ، ریاضی ، قرآن، دینیات اور لکھنا سکھایا

    گیا تھا۔تیسری جماعت میں سنجیدگی سے تعلیم شروع ہوئی اس میں اردو، ریاضی ، اسلامیات ، انگریزی وغیرہ کی تعلیم تھی ۔ جوں جوں ہم کلاس میں آگے

    بڑھتے گئے ان مضامین کی تعلیم کی وسعت میں اضافہ ہوتا گیا اور ساتھ میں تاریخ ہند، تاریخ انگلستان ، برصغیر کا جغرافیہ، یورپین ہسٹری، انگریزی گرامر،

    کمپوزیشن اور اچھی انگریزی جیسے مضامین شامل ہو گئے۔مڈل اسکول میں ہم فارسی اور عربی میں سے ایک مضمون لے سکتے تھے ، ساتھ میں الجبراء ،

    جیومیٹری ،ریاضی بھی شامل ہو گئے۔نویں اور دسوں جماعت میں ہم فزکس ، کیمسٹری یا باٹنی، زولوجی لے سکتے تھے ساتھ میں اناٹامی و فزیالوجی لازمی

    مضامین تھے۔اس وقت ہم انگریزی میں شیکسپیئر، یٹنی سن، ورڈز ورتھ، ٹیگور، برٹرینڈرسل ، بائرن وغیرہ کا کلام پڑھ رہے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے اردو اور

    انگریزی میں اچھی مہارت حاصل کر لی اور دنیا کے جغرافیہ اور ہندوستان، انگلستان ، یورپین تاریخ سے پوری طرح بہرہ ور تھے۔مجھے بعد میں یہ علم ہوا کہ ہمارا

    میٹرک میں حاصل کیا ہوا انگریزی اور اردو کا علم پاکستان کے کالجوں کی تعلیم سے بہتر تھا سب سے بہتر اور قابل فخر بات جو تھی وہ یہ تھی کہ ہم اپنے مذہب

    ، تہذیب و تمدن سے پوری طرح آشنا تھے ۔ اردو میں ہم نے اپنے تمام مشہور شعراء مثلاً انشاء، مومن، سودا، غالب، ذوق، میر انیس، درد، داغ، اقبال، جوش و

    جگر کی نہ صرف سوانح حیات پڑھی تھیں بلکہ ان کا چیدہ چیدہ کلام بھی پڑھ لیاتھا۔یہ اس وقت کی نشونما اور تعلیم کا ہی اثر ہے کہ میں آج بھی اپنے ادب کی

    خوبصورتی ، چاشنی سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں ، سائنٹسٹ اور انجینئر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ خشک و تنگ مزاج ہوں ، میں مغربی ادب اورکچھ اچھی

    موسیقی کو بھی پسند کرتا ہوں مگر اپنا قیمتی ورثہ ہرگز بھولنے کو تیار نہیں ہوں۔ اردو اور فارسی زبان میں جو گہرائی و چاشنی ہے وہ سوائے عربی زبان کے

    کسی اور زبان میں نہیں ہے۔آپ مہدی حسن ، غلام علی، منّی بیگم، اقبال بانو، ملکہ پکھراج، عابدہ پروین اور نصرت فتح علی وغیرہ کی زبانی غزلیں و صوفیانہ

    کلام سن کے دیکھیں ۔بھوپال میں ہائی اسکول امتحانات اجمیر(راجپوتانہ) بورڈ کے تحت ہوتے تھے جو کہ ہندوستان کے مشکل ترین بورڈز میں سے ایک تھا اور

    بیگمات بھوپال کا مقصد ایک غیر جانبدارانہ اعلیٰ بورڈ کے زیر نگرانی امتحانات کرانا تھے۔میں کوئی وجہ نہیں دیکھتا کہ اس سے ملتا جلتا نظام پاکستان میں کیوں

    اچھے نتائج نہیں دے گا۔ہم عام سرکاری مدارس میں تعلیم حاصل کر کے جو مفت تھی اور اس کے باوجود جب میٹرک پاس کر کے کالج میں گئے تو مجھ میں ان

    لڑکوں کے مقابلہ میں جو انگریزی زبان میں پڑھائے جانے والوں اسکولوں سے آئے تھے قطعی کسی قسم کا احساس کمتری نہ تھا اور بھوپال کے لاتعداد تعلیم

    یافتہ لوگوں کی کارکردگی اس نظام کی کامیابی کی کھلی مثال ہے۔اسی قسم کا نظام چند معمولی تبدیلیوں یعنی کمپیوٹر کی تعلیم شامل کر کے ، آج بھی

    اُتنے ہی اچھے نتائج دے گا۔کسی بھی تعلیم کے نظام کے اچھا ہونے، قابل قبول ہونے اور شہرت حاصل کرنے کے لیے ایمانداری ، نظم اور یکسوئی اساتذہ اور

    طالب علموں کے کردار کا لازمی جز ہونا ضروری ہے۔ ہم آج کل سوات و قبائلی علاقوں میں لڑکیوں کے اسکولوں کے مسمار کئے جانے پر بہت لعن طعن کر رہے

    ہیں (جو یقیناً قابل نفرت ، قابل احتجاج اور ناقابل معافی عمل ہے )مگر دوسری جانب ہم پنجاب ، سندھ، بلوچستان میں ہزاروں ویران ، غیر زیر استعمال اسکولوں

    کے بارے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جہاں امن ہے، جہاں آپ کی حکمرانی اور قانون ہے پہلے وہاں تو نظام ٹھیک کریں قبل اس کے کہ دوسری

    طرف انگلی اٹھائیں۔ ہزاروں سرکاری اسکولوں کی حالت شرمناک ہے۔ اگر یہ کام نہ کیا گیا تو چند سالوں میں پاکستان میں ایک چھوٹا سا طبقہ تو اعلیٰ تعلیم

    یافتہ ہو گا اور باقی تمام قوم جاہلوں ، غیر تعلیم یافتہ اور نا اہل عوام پر مشتمل ہو کے رہ جائے گی۔میں جو بات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے

    کہ جبکہ یونیورسٹی سطح پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں اپنی زبان ، تہذیب و تمدن کو اسکول کی تعلیم کی

    سطح پر بہت اہمیت دینے کی ضرورت ہے ، جب تک آپ کو اپنی تاریخ ، تہذیب و تمدن، ادب سے واقفیت حاصل نہیں ہوگی اور اس پر فخر نہ کریں گے آپ کو

    دوسروں کے مقابلہ میں ہمیشہ احساس کمتری کا احساس رہے گااور جب کوّا ہنس کی چال چلتا ہے تو نہ ہی وہ کوّا رہتا ہے اور نہ ہی ہنس بن جاتا ہے اسی

    وجہ سے وزارت تعلیم اور حکومت پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسکول کی تعلیم پورے ملک کے لیے نہ صرف یکساں کر دے بلکہ اس میں ہماری ،

    تہذیب و تمدن سے متعلق تعلیم ایک لازمی حصہ ہونا چاہئے۔ انگریزی زبان کے اسکولوں میں بھی اردو کی چند سالہ تعلیم ملک کی یکجہتی کے لیے بے حد

    ضروری ہے۔ یہ موضوع اتنا اہم ہے کہ انشاء اللہ اس پر مزید طبع آزمائی کروں گا۔

     

               

               

               

    بنیادی تعلیم ۔ مزید تبصرہ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان 3/4/2009

    اپنے پچھلے کالم ”تعلیم، پرانی خوشگوار یادیں“ میں میں نے اپنے تعلیمی نظام میں تہذیب و تمدن کی اہمیت پر روشنی ڈالی تھی اور توجہ دلائی تھی کہ کس

    طرح ہم اپنے پرانے ،قدیم سنہری ورثہ کو نظرانداز کر کے ہنس کی چال چلنے کی جدوجہد میں لگ گئے ہیں ۔ اسی سلسلے میں آپ کی خدمت میں دو نہایت

    اہم واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں جن سے ہمیں قومی ورثہ، تہذیب و تمدن کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔

    (۱) سوئے مکہ یا مکہ کی راہ میں کے مشہور مصنف و نو مسلم محمد اسد جو پہلے یہودی تھے اور لیو پولڈ وائس (Leopold Weiss ) کے نام سے جانے جاتے

    تھے اور بعد میں نہایت مشہور عالم دین کے طور پر سامنے آئے انہوں نے اپنی اوپر بیان کردہ کتاب میں ایک واقعہ بیان کیا ہے جو ہمارے سربراہان نظامِ تعلیم کی

    آنکھیں کھولنے کو کافی ہے۔ وہ پہلے سعودی عرب میں بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کے بہت ہی قریبی دوست بن گئے تھے اور ان کی مجلس کا حصہ تھے ۔ وہ

    مغربی ممالک کو ابن سعود کی اہلیت وضرورت کے بارے میں جرمنی کے مشہور اخبار میں مضامین لکھ کر آگاہ کرتے تھے ۔اپنے صحافتی فرائض کی ادائیگی میں

    انہوں نے تمام مسلم ممالک کا دورہ کیا ، عربی زبان پر مقامی لوگوں کی طرح مہارت حاصل کی اور کلام مجید کا نہایت سلیس ترجمہ اور تفسیر انگریزی زبان میں

    تیارکر کے شائع کرائی، انہوں نے اپنی کتاب میں تذکرہ کیا کہ جب وہ ایران گئے تو انہیں یہ دیکھ کرنہایت تعجب اور خوشی ہوئی کہ عام آدمی یعنی ماشکی ،

    قصاب، قہوہ خانے والے شام کو بیٹھ کر حافظ، سعدی، جامی اور رومی وغیرہ کے کلام سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور ان لوگوں کو اپنے ان عالموں کا کلام

    زبانی یاد تھا جبکہ انسان یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ مغربی ممالک میں عام لوگ تو کیا بلکہ اوسط تعلیم یافتہ لوگ بھی شیکسپیئر،ورڈزورتھ ، بائرن ، ٹینی

    سن یا گوئٹے جیسے مشہور شاعروں ادیبوں سے کچھ واقفیت رکھتے ہوں۔

    ان میں ہی محمد اسد کے بارے میں اہم واقعہ بیان کرناچاہتا ہوں۔ ابن سعود کی قربت کی وجہ سے بہت سے درباری ان کے حاسد ہو گئے تھے اور بادشاہ کے

    کان بھرنے لگے تھے۔ اسد کو جب یہ بھنک پہنچی تو انہوں نے ایک دن ابن سعود سے کہا کہ لوگ مجھے عیسائی یا یہودی جاسوس ہونے کا شبہ کر رہے ہیں،

    میں چاہتا ہوں کہ ملک چھوڑ دوں تاکہ بادشاہ اس بہتان بازی سے محفوظ رہیں، ابن سعود نے کہا کہ محمد اسد میں نے بھی یہ باتیں سنی تھیں لیکن ایک دن

    میں نے مسجد نبوی میں خود خواب میں تم کو اذان دیتے دیکھا ہے ۔ اللہ کی قسم جو شخص مسجد نبوی میں اذان دے رہا ہو نہ ہی وہ غیر مسلم ہو سکتا ہے

    اور نہ ہی وہ ہمارے خلاف جاسوسی کر سکتا ہے ۔ پاکستان کے قیام کے بعد محمد اسد نے پاکستانی شہریت حاصل کر لی تھی جو ان کی وفات تک قائم رہی

    اور وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مندوب کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیتے رہے تھے اور مسلم ممالک کی آزادی کے لیے بہت پر اثر تقاریر کرتے

    تھے ۔

    (۲)دوسرا واقعہ میں نے ازبکستان میں دیکھا ۔ میں اپنے چند رفقاء کار کے ساتھ وہاں کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی پروفیسر پولات حبیب اللہ کی دعوت پر

    ازبکستان گیا تھا۔ پروفیسر حبیب اللہ بین الاقوامی شہرت کے فزکس کے پروفیسر تھے انہوں نے ہمیں تاشقند، ثمرقند ،بخارا وغیرہ کی سیر کرائی اور وہاں کی

    یونیورسٹیاں بھی دکھائیں ۔ ایک روز مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ انگریزوں نے آپ پر ڈیڑھ سو ، دو سو سال حکومت کی مگر آپ کی تہذیب و

    تمدن کو غارت نہیں کیا ، روسیوں نے ہمیں تباہ کر دیا ، ہماری تہذیب و تمدن کو نیست و نابود کر دیا یہ علاقہ جو علم و ادب و اسلام کا گہوارہ تھا اس کی بنیادیں

    کھود دیں۔ ہمارا خط تحریر تبدیل کر کے (عربی رسم الخط سے روسی رسم الخط میں ) ہمارا روحانی ، تاریخی، ادبی تعلق نہ صرف چینی ترکستان یعنی

    سنکیانگ بلکہ ایران، ترکی اور عرب ممالک اور ہندوستان سے کاٹ دیا ۔ عربی رسم الخط کی وجہ سے ہم فارسی شعراء اور کلام مجید اور عربی ادب سے قریب

    تھے رسم الخط بدلنے سے ہمیں ہماری تہذیب و تمدن سے اجنبی بنا دیا گیا۔ خوش قسمتی سے اب ان مسلمان ریاستوں نے اب اپنی پرانی ثقافت ، تاریخ،

    تہذیب و تمدن، کو دوبارہ اجاگر کرنا شروع کر دیا ہے تمام تاریخی عمارات کی مرمت، مساجد و مدارس کی مرمت کر دی گئی ہے اور ڈاکٹر حبیب اللہ نے بتایا تھا کہ

    اب اپنے پرانے اسلامی ناموں کو بھی واپس رائج کرنے کی کوشش ہو رہی ہے یعنی جو پہلے ابراہیم تھا اور جس کو روسیوں نے ابراہیموف کر دیا تھا اب واپس

    ابراہیم ہو جائے گا۔

    (۳) میں خود اپنے سامنے ہونے والے واقعے کا تذکرہ کروں گا۔ اپنے طالبعلمی کے دور میں ہم لوگ ناظم آباد میں رہتے تھے ہمارا مکان بڑے میدان و پاپوش نگر کے

    درمیان تھا۔ شام کو ہم چند دوست ناظم آباد کے بس اسٹاپ جا کر ایک دوست کو بس میں بٹھایا کرتے تھے راستہ میں ایک کواٹر میں ایک قصاب کی دکان تھی

    شام کو وہاں چار پانچ اشخاص چارپائیوں پر بیٹھ کر چائے نوشی کرتے رہتے تھے۔ ایک روز جب ہم وہاں سے گزر رہے تھے تو ان میں سے ایک شخص بڑے ترنم

    سے غالب کی غزل سنا رہا تھا اور جب ہم وہاں پہنچے تو وہ یہ مصرع گارہا تھا۔

    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

    خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

    جب وہ دو تین مرتبہ یہ مصرع گا چکا تو اچانک رک کر ساتھیوں سے کہنے لگا ۔ گردنیں تو ہلا رہے ہو تغافل کے معنی بھی جانتے ہو ؟ ایک شخص نے فوراً اس کا

    مطلب بتا دیا ۔ میں وہ خوشگوار ماحول آج تک نہیں بھولا ہوں اور جب میں نے محمد اسد کی کتاب پڑھی اور ایران والا واقعہ پڑھا تو ناظم آباد کے قصاب اور غالب

    یاد آگئے۔کاش ہمارے اسکولوں میں بھی اردو زبان ، ہمارے شعراء اور ان کے کلام سے متعلق مزید تعلیم دی جائے تاکہ ہم اپنی تہذیب و تمدن سے بہرہ ور رہ

    سکیں ۔

    اب کچھ باتیں ابتدائی یا اسکولی تعلیم کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یہ مسئلہ نہایت اہم ہے ۔ پوری قوم کے مستقبل کا انحصار اس پر ہے اور ہماری آئندہ

    نسلوں کی خوشحالی بھی اس پر منحصر ہے مگر قبل اس کے کہ میں اس بارے میں کچھ معروضات پیش کروں میرے ایک تعلیم سے متعلق کالم پر ہمارے ایک

    عقل ِ کل ماہر معاشیات کے تبصرہ پر اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔میں نے عرض کیا تھا کہ صرف تعلیم ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا امرت دھارا نہیں ہے

    اور اس سلسلے میں سری لنکا کی مثال دی تھی جہاں تقریباً اٹھانوے فیصد آبادی لکھ پڑھ سکتی ہے مگر پھر بھی ملک بہت غریب اور پسماندہ تھا۔ ان ماہر

    معاشیات نے جن کے سابقہ اور موجودہ ساتھیوں نے ملک کو جس حال میں چھوڑا ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ فوراً تبصرہ کر ڈالا کہ میں نے سری لنکا

    کی مثال تو دے دی مگر میں شاید ایسی مثال پیش نہ کر سکوں جہاں پاکستان جیسی جہالت اور کم علمی عام ہو اور وہ ترقی یافتہ ہو۔میں نے یہ دعویٰ نہیں

    کیا تھا یا کہنے کی کوشش کی تھی کہ ہم اپنی وسیع کم علمی اور جہالت کی وجہ سے ترقی کر سکتے ہیں میں یہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ابتدائی

    تعلیم کے ساتھ ساتھ بعد میں فنی مضامین کی تعلیم اور صنعتی ترقی یا صنعتوں کا قیام ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بے حد ضروری ہے ۔(جاری ہے )

     

               

               

               

    بنیادی تعلیم ۔ مزید تبصرہ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان 3/5/2009

    (گزشتہ سے پیوستہ)

    ان صاحب نے خود ہی قائد اعظم کے یہ الفاظ دہرائے ہیں” تعلیم کا مقصد صرف اسکول کی تعلیم ہی نہیں ہے، فوری اور اہم ضرورت ہمارے عوام کو سائنٹیفک اور

    ٹیکنیکل تعلیم دینا ہے تاکہ وہ ہماری آئندہ خوشحال زندگی کی تعمیر کر سکیں اور ہم پر لازم ہے کہ یہ انتظام کریں کہ ہمارے عوام سائنس ، تجارت ،خرید و فروخت

    اور خاص طور پر اچھی منصوبہ بندی سے قائم شدہ صنعتیں قائم کر سکیں لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمارا مقابلہ ایسی دنیا سے ہے جو بہت تیزی سے

    اسی سمت میں ترقی کر رہی ہے اور میں یہ بات نہایت زور دے کر کہوں گا کہ زیادہ سے زیادہ توجہ ٹیکنیکل اور پیشہ ورانہ تعلیم پر دی جائے ۔“

    پرائمری یا ابتدائی اسکولی تعلیم پر لا تعداد مضامین ، رپورٹیں ، مقالے لکھے جا چکے ہیں اور یہ عموماً ہر قسم کے اعداد و شمار سے پُر ہوتے ہیں ۔ میں ان

    اعداد و شمار کا نہ قائل ہوں اور نہ ہی ان پر یقین رکھتا ہوں ۔ یہاں سوال اعداد و شمار کا نہیں بلکہ اس مشکل مسئلے کو حل ہونا چاہئے اور ہمیں صحیح اور قابل

    عمل حل کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے ۔ ہمارے قومی دستور کی شق نمبر 37 میں ہمارے عوام کا تعلیم حاصل کرنے کا حق مانا گیا ہے ۔ اسی طرح بین

    الاقوامی اعلان برائے انسانی حقوق بھی اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ہر انسان کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے ۔ اس قسم کے بیان کاغذ کی حد تک

    ہی رہتے ہیں اور عملی طور پر ہمارے یہاں جو اسکولوں کا حال یا تعلیم کا نظام یا معیار ہے وہ نہایت ناقص اور شرمناک ہے۔ انگریز پروفیسر پیٹر ٹائمس (Peter

    Tymms) نے کہا ہے کہ ریسرچ و تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ابتدائی عمر کی تعلیم آئندہ کی نشوونما عقل و سمجھ کے لیے بے حد ضروری ہے جبکہ تعلیم کے ہر

    سال پر پوری توجہ دینی چاہئے لیکن بچپن کے پہلے پانچ سال پر بہت زیادہ توجہ دینا چاہئے چونکہ یہ بہت حسّاس وقت ہوتا ہے۔

    میں نے اپنے پچھلے کالم میں بھوپال میں اسکول کی تعلیم کے بارے میں کچھ تفصیلات بیان کی تھیں۔ آج ساٹھ سال بعد بھی میں اس نظام کی اچھائی کا قائل

    ہوں۔ اس وقت نہ ”ماہرین “تعلیم تھے نہ کمیشن بٹھائے جاتے تھے اورنہ ہی بین الاقوامی ادارہ اعداد و شمار ہمارے چہروں پر مارتے تھے۔ یہاں ہر وقت یہ شکایت

    رہتی ہے کہ مناسب بجٹ نہیں دیا جاتا۔ حقیقت اس کے بر عکس ہے ، مناسب بجٹ ملتا رہتا ہے لیکن نااہلی اس کے استعمال میں ہے۔ وزیر تعلیم خواہ صوبائی ہو

    یا وفاقی عموماً تعلیم کی موشگافیوں سے ناواقف ہوتا ہے صبح سے شام تک نااہل لوگوں کو سفارش کی بنیاد پر نوکری دیتا ہے اور اسے اتنی فرصت ہی نہیں

    ہوتی کہ وہ اسکولوں اور دوسرے تعلیمی اداروں کا دورہ کرے ، سختی کرے ، محبت سے بات کرے اور ماتحتوں سے کام لے کہ وہ کم از کم ٹھیک طریقہ سے کام

    کریں ۔پرانے زمانے میں اساتذہ کی عزت والدین کے برابر تھی آج کل ان کی عزت صرف اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ پرچہ آؤٹ کر دیں یا امتحان میں ناانصافی

    سے اعلیٰ نمبروں سے پاس کر دیں ، اساتذہ میں وہ جذبہ ِ خدمت، محبت علم تقریباً عنقا ہوگیا ہے لوگ صرف پیسے کمانے کے چکر میں لگے رہتے ہیں اور

    اسکول میں پڑھانے کے بجائے ٹیوشن پر زیادہ زور اور توجہ دی جاتی ہے ۔

    ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی تعلیم مختلف طریقوں سے بچوں کی نشوونما پر مثبت اثرات ڈالتی ہے اس سے نہ صرف ذاتی خوشحالی کی بنیاد پڑتی

    ہے بلکہ آئندہ پیشہ ورانہ زندگی میں بھی بے حد مفید ثابت ہوتی ہے ۔ بنیادی تعلیم بچیوں کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ بعد میں ماں بن کر بچوں

    کی تربیت اچھی کر سکتی ہیں۔ نوبل انعام یافتہ پروفیسر اُمرتیہ سین نے ابتدائی تعلیم پر بہت اہمیت دی ہے کہ اس سے ایک اچھی تندرست، خوشحال قوم کی

    بنیاد ڈالی جاتی ہے ۔

    پاکستان میں بنیادی تعلیم اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ غیر تعلیم یافتہ لوگ بہت آسانی سے نہ صرف معاشی معاملات میں بلکہ مذہبی معاملات میں بھی

    گمراہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔بنیادی تعلیم حاصل کر کے بچے ،بچیاں کلام مجید مع ترجمہ اور احادیث کا اور اسلامی تاریخ کا خود مطالعہ کر سکتے ہیں اور بعد میں

    اپنے بچوں کو بھی ابتدا میں گھر پر تعلیم دے سکتے ہیں ۔

    بات وہیں پرآ کر ختم ہوتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام نہایت ناقص ہے اور ہماری معاشی ضروریات اور تہذیب و تمدن اور قومی ورثہ کو سمجھنے میں مددگار ثابت

    نہیں ہوتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک طالبعلم یا طالبہ ہائی اسکول کی تعلیم مکمل ہونے تک اسلام ، اردو ادب اور پاکستان و اسلام کی تاریخ سے مکمل واقفیت

    حاصل نہیں کر پاتا یاکر پاتی تو پھر اس نے اگلی زندگی میں بمشکل یہ معلومات و علم حاصل کرنا ہے ۔ مصیبت یہ ہے کہ پچھلے ساٹھ سالوں میں ماہر تعلیم

    لوگوں اور غیر ماہرین نے بہت دعوے کئے ہیں بڑے بڑے عہدے اور انعامات حاصل کئے ہیں مگر حالات پہلے سے زیادہ ناقص ہیں ۔یہ سب کچھ دیکھ سوچ کر مظفر

    حنفی کا یہ شعر یاد آتا ہے ۔

    سوائے اس کے مرے بس میں اور ہے بھی کیا

    یہی کہ رونے کے موقع پہ مسکرا دوں گا

     

               

               

               

    اچھا نظام حکومت,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  3/18/2009

    جب میں کہوٹہ کی لیبارٹریز کا سربراہ تھا تو میں نے یہ اصول بنایا ہوا تھا کہ کبھی جھمگٹا لگا کر میٹنگ نہ کروں ۔ مجھے علم تھا کہ جہاں کہیں زیادہ افراد جمع

    ہوئے وہاں اہم باتیں چھوڑ کر دوسری باتوں کہ طرف توجہ دلانا شروع کر دیتے ہیں اور وقت ضائع ہو جاتا ہے ۔ میں اپنے تمام سینئر افسران کے ساتھ لنچ کرتا تھا اور

    اگر کوئی افسر کھانا نہ بھی کھانا چاہے تو بھی اس سے درخواست کرتا تھا کہ وہ ضرور آکر ساتھ بیٹھ جائے اور چائے ہی پی لے ۔یہ آدھے گھنٹے کا لنچ آج بھی

    میر ے رفقاء کار کی حسین یاد ہے ۔ ہم مذاق کرتے تھے ، لطیفے سناتے تھے اور سیاسی گفتگو پر تبصرہ بھی کر لیا کرتے تھے ۔ یہ تھوڑا سا وقت تمام تھکان

    دور کر دیتا تھا اور ہم تازہ دم ہو کر پھر اپنے کام میں لگ جایا کرتے تھے ۔اگر مجھے کوئی اہم بات پر گفتگو کرنا ہوتی یا کوئی افسر اپنے کام سے متعلق بات کرنا

    چاہتا تو میں لنچ کے بعد دعوت دیتا تھا کہ میرے ساتھ بازو میں میرے دفتر میں بیٹھ جائیں ہم سکون سے مسئلے پر بحث و غور وخوض کر لیتے ہیں ، اگر کسی

    ایک یا دو اور ساتھیوں کی ضرورت ہوتی تو ان کو بھی بلا لیتا ۔ اس طرح یہ مسئلہ فوراً حل ہو جاتا تھا۔میری عادت تھی کہ میں روز پورے پلانٹ کا دورہ کرتا تھا اور ہر

    سیکشن میں اس کے سربراہ کے ساتھ بیٹھ کر اس کے کام سے واقفیت حاصل کر کے اور مشورہ دے کر آگے بڑھ جاتا تھا ۔اس طرح صبح اور دوپہر کے وقت دس

    بارہ سربراہوں سے ملاقات کر کے کام کی ترقی اور مشکلات سے پوری واقفیت رہتی تھی ۔سب سے پہلے صبح پنڈی آفس میں گھنٹہ ، ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھ کر تمام

    انتظامی امور کے بارے میں مشورہ ، ہدایت دے کر کہوٹہ جاتا تھا اور شام کو واپسی میں پھر گھنٹہ ، ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھ کر چیک کر لیتا تھا کہ تمام کام خوش

    اسلوبی سے ہو گئے ہیں ۔ میرے ممبر فنانس جو کہ بائیس گریڈ یعنی سیکریڑی کے عہدہ کے تھے وہ لوگوں کو بتایا کرتے تھے کہ منسٹری میں جو کام ہم ہفتوں

    میں کرتے تھے وہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک بیٹھک میں انجام پا جاتے ہیں ۔میرا جونیئر سے جونیئر اسٹاف بھی مجھ سے ہر وقت مل سکتا تھا اور اپنے مسائل

    کے بارے میں بات چیت کر سکتا تھا ۔ادارہ میں تقریباً دس ہزار افراد کام کرتے تھے اور میں سب کام کی اہمیت اور مشکلات سے پوری طرح واقف تھا۔ یہ دنیا کی

    مشکل ترین ٹیکنالوجی تھی جو ہم ایک نہایت پسماندہ ملک میں حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے ۔ اپنے اچھے دوستانہ ماحول کا نتیجہ کامیابی کی شکل

    میں نکلا اور آج بھی میر ے رفقاء کار ان خوشگوار دنوں کو یاد کرتے ہیں اور مس کرتے ہیں ۔ میں نے پورے پچیس سال میں کبھی کسی رفیق کار سے اونچی آواز

    میں بات نہیں کی ، کبھی نکتہ چینی نہیں کی اور نہ ہی ڈرایا دھمکایا ۔ ایک مرتبہ میں نے اپنے ایک سینئر رفیق کار کو اپنے ایک ملاقاتی سے بات کرتے سنا کہ

    ڈاکٹر خان کی سب سے اچھی خوبی یہ ہے کہ وہ بجائے بحث و مباحثہ کے ہر مشکل کا حل تلاش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور کبھی کسی پر الزام تراشی

    نہیں کرتے ۔

    ایک دلچسپ واقعہ بیان کرنا پسند کروں گا ۔ میرے پرانے ساتھی نسیم خان صاحب جو کنٹرول اور آٹومیشن کے ڈی جی تھے ، نہایت قابل اور اپنے فن میں ماہر

    تھے پلانٹ کا تمام کمپیوٹر کنٹرول انہوں نے ہی بنایا تھا ایک روزمیرے پاس تشریف لائے اور ایک اہم کام پر بات کرنا چاہی ۔ میں نے مسکرا کر کہا کہ اگر آپ یہ بتانے

    آئے ہیں کہ یہ کام نہیں ہوا تو کیا بات کریں گے، کافی پیتے ہیں اور پلانٹ کا چکر لگاتے ہیں اور اگر آپ یہ بتا رہے ہیں کہ آپ نے وہ مشکل پرابلم حل کر لی ہے تو یہ

    آنکھیں اور کا ن آپ کے ہیں ۔ خوش قسمتی سے وہ خوشخبری دینے آئے تھے کہ وہ مشکل مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا تھا۔

    میں جو بات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اپنے رفقاء کار سے حسن سلوک سے پیش آنا، ان کی ہمت افزائی کرنا ان کو اپنا ساتھی

    سمجھنا اور ان کی عزت کرنا وہ اعمال ہیں جو آپ کو اپنے مشکل سے مشکل کام میں کامیابی حاصل کرنے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ یہ بھی

    ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ کثیر تعداد میں لوگوں کو بٹھا کر لمبی لمبی میٹنگ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، وقت ضائع ہوتا ہے اور معاملات کے حل طوالت

    کا شکار ہو جاتے ہیں۔آپ ہی سوچیں کہ کیا ستّر یا اسّی شرکاء کی موجودگی میں کوئی مفید بحث ہو سکتی ہے یا کسی مشکل مسئلے کا حل نکل سکتا ہے

    ۔ ایسی میٹنگ میں تو صرف طے شدہ معاملات میں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہئے ۔ تمام معاملات پہلے ہی مختصر سی میٹنگ میں حل کر لینا چاہئے۔

    میں یہ بات مانتا ہوں کہ اس ملک میں ذہین لوگوں کی کمی نہیں ہے کسی اور ملک میں شاید اتنے انسان ہوں جو قابل عمل اسکیموں ، سفارشات وغیرہ تیار

    کرنے کے قابل ہوں گے اور جو اس قدر زیادہ وقت اور رقم اس معاملے میں خرچ کرتے ہوں اور یہ رپورٹیں وغیرہ لاتعداد اعداد وشمار ، بنیادی معلومات اور گراف پر

    مشتمل ہوتی ہیں اور الماریوں کی زینت بن کر اپنے اوپر دھول جماتی رہتی ہیں ۔ وہ دانشور اور عملی ماہرین جو باہر سے تعلیم و تجربہ لے کر آتے ہیں ان کی

    کوئی نہیں سنتا اور انھیں کُھڈّے لا ئن لگا دیا جاتا ہے ۔ اس خرابی کی بنیادی وجہ ہمارے سول سروس کا نہایت بوسیدہ اور ناقص نظام ہے ۔ عموماً لوگ ایک

    معمولی سی بی اے کی ڈگری لے کر انتخابی مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں ۔ اس نظام میں اقرباء پروری ، رشتہ داری ، مراسم بہت بڑا رول ادا کرتے ہیں ۔یہ عام

    تاثر ہے اور لوگ یقین بھی کرتے ہیں کہ با اثر سرکاری ملازمین ، وزراء ، سیاستدان کے بچے عموماً بآسانی چن لئے جاتے ہیں جبکہ اچھے عام لوگوں کے بچے نا

    کام ہو جاتے ہیں

    جہاں تک اچھے نظام حکومت کا تعلق ہے ، ہمیں اس موضوع پر ہزاروں نہیں تو سیکڑوں رپورٹیں مل سکتی ہیں ۔ اس مسئلے پر کئی کمیٹیاں اور کمیشن بنائے

    گئے تھے سب سے آخری کمیشن ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم کیا تھا جو گورنر اسٹیٹ بنک کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے اور مشرف ان کو ایک

    اچھی نوکری دینے اور نوازنے پر تلا ہوا تھا ۔ اس قسم کی کوششوں کی سب سے بڑی خامی اور ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ایک اچھی قابل عمل تجویز

    دینے کی اہلیت نہیں رکھتے ، کسی دوسرے اعلیٰ عہدے پر کام کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ دوسرے اہم معاملات میں بھی مہارت حاصل ہو ۔ جیسا کہ مرحوم

    غلام اسحاق خان صاحب فرماتے تھے اس قسم کی رپورٹیں عموماً اعداد و شمار کی ہیرا پھیری پر مبنی ہوتی ہیں ۔اگر حکومتی ادارہ یہ رپورٹ تیار کرتا ہے تو ہر

    چیز لاجواب اور اگر کسی مخالف ادارے نے لکھی تو ہر چیز غلط ، سیاہ، یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی اور بین الاقوامی ادارے ان رپورٹوں کو عموماً غیر معتبر اور

    جھوٹ کا پلندہ سمجھتے ہیں ۔

    میں آپ کی توجہ ترقی یافتہ ممالک کی انتظامیہ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں میں پندرہ برس باہر رہا ، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ذمہ دار عہدوں پر کام کیا۔ میں

    نے دیکھا کہ وہاں پر وزارت کے لوگ مستقل طور پر اسی وزارت میں کام کرتے ہیں ، مہارت حاصل کرتے ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر پہنچ کر ریٹائر ہو جاتے ہیں ، انہیں

    اپنے کام میں پوری مہارت ہوتی ہے ۔ وزراء سیاسی شخصیات ہوتی ہیں اور وہ وزارت کے کاموں میں دخل اندازی نہیں کرتے، خود کو حالات سے باخبر رکھتے ہیں

    اور حکومت کی پالیسی کی تکمیل کو یقینی بناتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت کی تبدیلی سے وزارت کے کاموں میں فرق نہیں پڑتا اور اچھی پالیسی

    جاری رہتی ہے ۔

    واپس اپنے نظام حکومت کی طرف میں عرض کروں گا عموماً ایک معمولی سا بی اے کی ڈگری یا بہت ہو تو ایم اے کی ڈگری لے کر مقابلے کے امتحان میں

    شرکت کی ، اثر و رسوخ ، رشتہ داری، سیاسی تعلقات وغیرہ نے کمال دکھائے(ایک نمبر کے سوال کے دو نمبر مل جاتے ہیں)اور نوکری مل گئی، بابو بن گئے ،

    کچھ کورس کر لئے اور اب صرف وقت کی بات ہے بڑھتے بڑھتے سول سروس کی مواج یعنی سیکریڑی بن گئے ۔ تانہ بانہ کھینچ کر کچھ عرصہ باہر کوئی کورس کر

    آئے اور زندگی بھر اس چھ ماہ یا سال کے کورس کے بھنگڑے مارتے رہے۔اب نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیں ایک اعلیٰ افسر مل جاتا ہے جو اپنے میدان میں کوئی

    مہارت نہیں رکھتا ۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ ایک قابل اور سمجھدار افسر تعلقات کے نہ ہونے کی وجہ سے ترقی نہیں کر سکتا ۔ اب مصیبت یہ ہے کہ یہ افسر ایک

    محکمہ سے دوسرے محکمہ میں تبدیل ہوتا رہتا ہے اور ہر نئی جگہ ایک ”ماہر“ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے ۔میں ان افسران پر قطعی تنقید کرنا نہیں چاہتا ، میں

    اپنے نظام پر لعن طعن کرنا چاہتا ہوں جو ایسے افسران پیدا کرتا ہے جو اپنے فن و میدان میں مہارت نہیں رکھتے اور نہایت فنی نوعیت کے عہدوں پر بٹھا دیئے

    جاتے ہیں۔ایک روز یہ افسر سیکریڑی تعلیم، دوسرے دن سائنس و ٹیکنالوجی، تیسرے دن محنت، چوتھے دن صنعت، پانچویں دن زراعت وغیرہ وغیرہ ۔ اب آپ ہی

    سوچیں کہ وہ کون سا امرت دھارا ہے جو یہ ایک گھونٹ پی کر ہر فن میں ماہر ہو جاتے ہیں ۔ان محکموں کے لئے اعلیٰ تعلیم اور متعلقہ شعبوں میں تجربوں کی

    اشد ضرورت ہے ۔غیر فنی وزراتوں میں تبادلہ تو قابل قبول ہو سکتا ہے مگر اہم فنی نوعیت کے اداروں میں ان کی تعیناتی تباہی کو دعوت دینا ہوتی ہے ۔ صرف ایک

    محکمہ جو اس قسم کی تباہی سے تھوڑا محفوظ ہے وہ وزارت خارجہ ہے جہاں لوگ اپنے میدان میں مہارت حاصل کرتے ہیں اور تمام عمر ایک ہی جگہ کام کرتے

    ہیں لیکن بعض اوقات حکمران اپنے سیاسی چمچوں کو اور ڈکٹیٹر فوجیوں کو اس محکمہ میں گھسیڑ دیتے ہیں۔ سول سروس کے افسران کے بار بار تبادلے سے

    جو نتیجہ نکلتا ہے وہ مشہور انگریز مصنف جارج برناڈ شا نے نہایت موضوع الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ” وہ کچھ بھی نہیں جانتا اور اس وہم میں مگن ہے کہ ہر

    چیز جانتا ہے“۔ان تمام معروضات کا مقصد اور مشورہ یہ ہے ۔

    (۱) براہ مہربانی پروفیشنل لوگوں کو خاص فنی وزارتوں کے لیے بھرتی کیجئے اور تمام زندگی ان کو وہیں پھلنے پھولنے اور مہارت حاصل کرنے کی سہولت مہیا

    کیجئے ان کو دھوبی کا کتا نہ بنائیں ۔ وہ اس طرح اپنے میدان میں تجربہ اور مہارت حاصل کریں گے اور بہت مفید ثابت ہوں گے چین سے اور دوسرے ترقی یافتہ

    ممالک سے سبق حاصل کیجئے ۔ آپ کو بتاؤں کے سنکیانگ کے کورکمانڈر جنرل ماسین تیس سال سے وہاں تعینات تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ محاورتاً

    وہ اپنی آنکھیں بند کر کے اپنے علاقے کے چپہ چپہ میں گھوم پھر سکتے ہیں ۔

    (۲) ہمارے پولیس کے ارکان اور افسران نہ صرف اپنے صوبہ بلکہ اپنے علاقہ سے بھرتی کئے جانے چاہئیں ۔ ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں افسران کی

    تعیناتی نقائص سے پُر ہے اور اس کے کوئی اچھے نتائج نہیں نکلتے ۔ ایک افسر جس کا اس علاقہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ وہاں کے معاملات میں دلجوئی

    سے دلچسپی نہیں لیتا اور نہ ہی وہاں کے لوگوں سے واقف ہوتا ہے ۔عموماً سیاسی توڑ جوڑ کا حصہ بن جاتا ہے ، پیسہ بناتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے ۔ اگر

    افسران کو دوسرے صوبوں سے اور وہاں کی پولیس کی کارکردگی سے واقفیت ہی دلانا ہے تو چند ماہ اس صوبہ کے دارالحکومت کے پولیس ہیڈ کواٹر میں

    تعینات کر دیں، یہ کافی ہے

    آخر میں مشہور سائنسدان آئن اشٹائن کا مقولہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا تھا” انسان خواہ کتنا ہی تجربہ حاصل کر لے وہ ایک گھٹیا یا اوسط درجہ کی

    قابلیت والے کو کبھی بھی غیرمعمولی ذہنیت یا غیر معمولی فطرت والے انسان میں تبدیل نہیں کر سکتا“اسکے ساتھ ساتھ ایک مشہور فارسی نصیحت، وارننگ

    بھی تحریر کروں گا جو محکموں کے سربراہوں ، حکمرانوں ، سیاستدانوں کیلئے مناسب ہے۔”اے تیزی طَبع تو بَرمن بَلاشُدی“ یعنی بعض اوقعات بہت زیادہ چالاکی

    ایک بلا یا لعنت بن جاتی ہے۔

     

               

               

               

    بیگمات بھوپال ۔ سنہری دور ....سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان   3/26/2009

    (گزشتہ سے پیوستہ)

    شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب جانے والی ہر ٹرین بھوپال سے گزرتی ہے ۔ اس سے بھوپال کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے اور تجارت اور خوشحالی میں

    اضافہ ہوا۔پہلی ٹرین 1884ء کو بھوپال میں داخل ہوئی تھی۔بھوپال کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے عیاں ہے کہ وہ ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے مدھیہ

    پردیش کا دارالحکومت ہے ۔

    شاہجہاں بیگم کے بعد ان کی بیٹی سلطان جہاں بیگم بھوپال کی نواب بن گئی تھیں اور انہوں نے 1901ء سے 1926ء تک حکومت کی یہ نہایت ذہین، زمانہ

    شناس اور ایک اعلیٰ منتظمہ تھیں اور ان کے دور میں بھوپال نے بہت ترقی کی۔ انہوں نے لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے لاتعداد اسکول کھلوائے، عورتوں اور مردوں

    کے لیے جدید اعلیٰ اسپتال قائم کیے ، پکی سڑکیں تعمیر کرائیں ، سڑکوں کو بجلی سے روشن کیا۔ تقسیم سے پہلے بھوپال کی سڑکوں پر ٹھنڈی مرکری

    لائیٹس لگی ہوئی تھیں ۔ ان کے دور میں کئی اہم صنعتی ادارے بھی قائم ہوئے اور وہاں شہریوں کو کبھی بیروزگاری کا سامنا نہ کر نا پڑا ۔ پورے شہر میں جگہ

    جگہ پانی کے نل لگے ہوئے تھے اور مسافروں کے لئے سرائے خانہ تھے جہاں مفت قیام و طعام کا بندوبست تھا ۔ ایک نہایت اہم واقعہ بتانا چاہتا ہوں۔ 1903ء میں

    سلطان جہاں نے حج کا ارادہ کیا ، تمام خاندان والے ساتھ تھے۔ ایک بڑا جہاز چارٹر کیا گیا تھا پورے شہر میں اعلان کیا گیا تھا کہ جو بھوپالی مسلمان ساتھ جانا

    چاہے جا سکتا ہے اور تمام مصارف بیگم کے ذمے ہوں گے۔آپ کو تعجب ہو گا کہ ایک فرد نے بھی اس پیشکش کو منظور نہیں کیا اور سب نے یہی کہا کہ حج

    عبادت ہے اور اگر اللہ تعالیٰ صلاحیت دے تو خود کرنا چاہئے، مفت میں جائز نہیں ۔ذرا آج کل کے کروڑ پتیوں کو ہمارے ملک میں دیکھیں جو عوام کی زکوٰة کی

    دولت بے دریغ استعمال کر کے عمرے اور حج کرتے ہیں اور فخر کرتے پھرتے ہیں ۔ اخبارات کی رونق بن جاتے ہیں ۔ نواب سلطان جہاں بیگم نے سر سید احمد خان

    کی فراخدلانہ مالی مدد کی اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعمیر مکمل کرائی۔ آپ علیگڑھ یونیورسٹی کی پہلی چانسلر بھی تھیں ۔سلطان جہاں نے روضہ

    مبارک کے دروازے کے سامنے ایک اچھا کشادہ مکان خرید کر بھوپال کے حاجیوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد نواب بھوپال نے یہ پاکستان کو

    تحفے میں دے دیا اور یہ پاکستان ہاؤس بن گیا۔

    سلطان جہاں کے بعد ان کا بیٹا حمید اللہ خان 1926ء میں بھوپال کے نواب بنے۔ یہ بہت ذہین، دوربین اور علیگڑھ کے گریجویٹ تھے آپ علیگڑھ یونیورسٹی کے

    چانسلر بھی تھے ان کی سیاسی اور انتظامی بصیرت نے ان کو ہندوستان میں نہایت اہم شخصیت بنا دیا تھا۔ چیمبر آف پرنسیس کے چیئرمین بھی تھے ، دل

    میں پکے مسلم لیگی اور قائد اعظم کے عزیز دوست ، انہوں نے ہی گاندھی کو تقسیم ہند پر راضی کیا تھا ۔قائداعظم کی خواہش تھی کہ یہ پاکستان آ جائیں یا

    وزیراعظم بن جائیں اور یا پھر ان کے بعد گورنر جنرل بن جائیں مگر نواب نے اپنی رعایا کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور ہر طرح سے پاکستان کی مدد کرتے رہے۔نواب

    حمید اللہ خان نے نہایت قابل اور مشہور شخصیات کو بھوپال بلا کر ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا ان میں سے چند کے نام درج کرتا ہوں ۔چوہدری سر ظفر اللہ

    خان، سر جوزف بھور، سر راس مسعود ، چوہدری خلیق الزماں ، سر عبدالرحمن صدیقی،غلام محمد، علامہ سید سلیمان ندوی( میں نے کئی بار ان کی امامت

    میں نماز عیدیں ادا کیں)، علامہ محمد اقبال وغیرہ۔ علامہ محمد اقبال اکثر نواب بھوپال کے مہمان کی حیثیت سے تشریف لاتے تھے اور صدر منزل میں قیام

    کرتے تھے ۔ نواب صاحب نے اس زمانہ میں ان کا پانچ سو روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تھا اور سر راس مسعود کی درخواست پر اور بھی مدد کیا کرتے تھے ۔ نواب

    صدیق حسن خان اور برکت اللہ بھوپالی کی دینی اور علمی قابلیت سے کون واقف نہیں ہے۔ بیگمات بھوپال نے بھوپال کو نہ صرف ایک مضبوط ، اسلامی فلاحی

    ریاست بنا دیا تھا بلکہ اس کو علم و ادب و تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور جدید روشن خیال حکومت میں تبدیل کر دیا تھا۔

    بھوپال پر سابق سیکریڑی خارجہ اور نواب حمید اللہ خان کے نواسے شہریار محمد خان نے دو اعلیٰ معلوماتی کتب لکھی ہیں ان میں بھوپال کے تفصیلی حالات و

    تاریخ ہیں۔(۱) بیگمات بھوپال (Begums of Bhopal)جس کو لندن کی فرم Taurisنے شائع کیا ہے اور (۲) (Princess Abida Sultan - The Rebel Princess) جس کو

    پاکستان سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے ۔

     

     

     

               

               

               

    زراعت سے متعلق اہم مضامین,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان        4/1/2009

    تقریباً دس سال پیشتر مجھے لاہور میں آنکھوں سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس میں چیف گیسٹ یعنی مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ میرے

    ساتھ انگلینڈ کی رائل آپتھالوموجیکل سوسائٹی یعنی آنکھوں سے متعلق امراض اور علاج کی سوسائٹی کے صدر بیٹھے تھے نام یاد نہیں یہ یاد ہے کہ انہیں ”

    سر“ کا خطاب ملا ہوا تھا۔کانفرنس کی کارروائی شروع ہونے سے پیشتر ان صدر موصوف صاحب نے مزاحیہ لہجہ میں مجھ سے دریافت کیا کہ مجھے تھوڑا تعجب

    ہے کہ ایک نیوکلیئر سائنٹسٹ ایک آنکھوں سے متعلق کانفرنس میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کر رہا ہے ۔ جب میں نے مسکرا کے جواب دیا کہ جنا ب

    عالی یہ خاکسار بھی دو آنکھیں رکھتا ہے تو وہ مسکرا پڑے اور کہا آپ نے مجھے خاموش کر دیا ۔ یہ واقعہ یہ بتاتا ہے کہ اگرچہ میں ماہر زراعت نہیں ہوں مگر سب

    کی طرح اچھی خوراک ، پھل، سبزیوں سے پوری طرح لطف اندوزہوتا ہوں اور مجھے ان کی رسد اور پیدائش میں دلچسپی ہے ۔ اپنے پچھلے دو زراعت سے

    متعلق مضامین میں آپ کی توجہ اس خطرہ کی جانب دلائی جو ہمیں فاقہ کشی کی جانب دھکیل رہا ہے اور اس کی وجہ سے آبادی میں لامحدود اضافہ ،

    شہری آبادی کا پھیلاؤ، زرخیز زمینوں پر تعمیرات ، سیم و تھور کا اضافہ بتایا تھا۔ ساتھ ہی میں نے بیو ٹیکنالوجی کی اہمیت کے بارے میں کچھ معروضات پیش کی

    تھیں میں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ حکومت کو فوراً ضروری اقدام کرنا چاہئے اور زراعت کے ماہرین کی خدمات سے پورا ستفادہ کرنا چاہئے۔ ابھی چند دن

    پیشتر اپنے دورہ چین میں صدر زرداری کے وفد میں ڈاکٹر ظفر الطاف کی شمولیت یقیناً اچھا فیصلہ تھا ہم چین سے زراعت کے میدان میں بہت کچھ سیکھ

    سکتے ہیں کہ کس طرح وہ زمین کا اور پانی کا اچھا استعمال کر رہے ہیں۔ چین جانے والے جن لوگوں نے دیہاتوں کا دورہ کیا ہے وہ بتا سکتے ہیں کہ وہاں زمین کا

    چھوٹا سا ٹکڑا بھی بیکار نہیں چھوڑا گیا ہے۔ بعض علاقوں میں ایک ہی وقت میں تین فصلیں لگی ہوئی ہوتی ہیں ۔اونچے پہاڑی علاقوں میں چائے ، اس سے نیچے

    ڈھلونوں پر مکئی اور نیچے میدانی علاقہ میں گندم، چاول یا سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں اس کے برعکس ہمارے ملک میں جگہ جگہ ہزاروں ایکڑ زمین خالی پڑی

    نظر آتی ہے ، بہت سی نرم زمین بارش سے کٹ کر گہرے گہرے گڑھوں میں تبدیل ہو گئی ہے جو نہایت آسانی سے ہموار کر کے قابل کاشت بنائی جا سکتی

    ہے اور اس کے لئے چین کی طرح فوجی انجینئروں کی خدما ت حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ایک سائنٹسٹ کی حیثیت سے میں ہمیشہ اہم عملی سائنسی

    مضامین میں دلچسپی لیتا رہا ہوں ۔ موضوع کی اہمیت جان کر میں نے تقریباً اٹھارہ سال پیشتر کے آر ایل میں بیوٹیکنالوجی اور جنیٹک انجینئرنگ کا محکمہ قائم

    کیا تھا ۔بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدان ڈاکٹر سید قاسم مہدی کو اس محکمہ کا انچارج بنایا تھا ۔بہت ہی کم عرصہ میں یہ لیبارٹری دنیا کی اعلیٰ ترین

    اداروں میں شمار ہونے لگی تھی اور کئی بین الاقوامی ادارے اس کی مالی امداد کر کے اپنے لئے ریسرچ کرانے لگے تھے، اس ادارے کے کارکنوں نے وراثتی

    اندھے پن وغیرہ کی وجوہات جاننے کیلئے قابل تحسین کام کیا کیونکہ مجھے اس بات کا احساس تھا کہ یہ علم اکیسویں صدی کا ایک اہم علم ہو گا میں نے

    کراچی یونیورسٹی میں ایک بہت اعلیٰ انسٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جنیٹک انجینئرنگ قائم کیا جو تقریباً دس سال سے قابل تحسین کام سر انجام دے رہا ہے

    اور طلباء و طالبات اس میدان میں مہارت حاصل کر رہے ہیں اور زراعت اور انسانی جینیات (Human Genetics )پر کام کر رہے ہیں۔ اس میدان میں قدرت نے پاکستان

    کو چند قابل و تجربہ کار سائنسدان عطا کئے ہیں ، ڈاکٹر سید قاسم مہدی اور ڈاکٹر انور نسیم انسانی جینیات میں جبکہ ڈاکٹر مجتبیٰ نقوی ، ڈاکٹر خوشنود علی

    خان، ڈاکٹر ظفر الطاف، ڈاکٹر عبداللہ کوثر ملک، ڈاکٹر خالد محمود خان، ڈاکٹر امیر محمد خان ، جناب شفیع نیاز صاحب وغیرہ زراعت کے فن میں ماہر ہیں ۔ نیشنل

    انسٹیٹیوٹ آف بیوٹیکنالوجی اور جینٹک انجینئر نگ فیصل آباد اور انسٹیٹیوٹ آف بیوٹیکنالوجی اور جنیٹک انجینئرنگ جام شورو جو پاکستان اٹامک انرجی کے تحت

    کام کر رہے ہیں اور پارک (PARC) جسکے سربراہ ڈاکٹر ظفر الطاف ہیں اور پنڈی اور فیصل آباد کی زراعت کی یونیورسٹیاں بہت اچھا کام کر رہی ہیں ۔ حکومت کا

    فرض ہے کہ وہ نہ صرف ان اداروں کی توسیع کرے بلکہ فراخدلانہ امداد دے کر ان کو موقع دے کہ وہ زراعت کے معاملے میں تحقیق کریں اور ملک کو آنیوالے

    خطرات سے بچائیں ۔

    میں اب زراعت سے متعلق ان چند مضامین یا ٹیکنیکس کے بارے میں عرض کروں گا جن کے ذریعے زراعت میں پیشرفت کی جاتی ہے یہاں مقصد ماہرین کو

    سمجھانا نہیں بلکہ عام عوام کو، حکمرانوں کو اور نادہندہ افسران کو اس بارے میں کچھ عقلمند بنانا ہے۔ بیالوجی سب سے اہم مضمون ہے جو ہمیں پودوں ،

    درختوں، جانوروں اور انسانوں کے بارے میں معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ اس مضمون کی مدد سے ہم اس ترقی یافتہ دور میں پیش آنے والے مسئلوں کو سمجھتے

    ہیں ، آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی بدن کے سیل(CELL) کی ساخت کی معلومات جو اخلاقی اور پیشہ ورانہ

    تنازعات کو جنم دیتی ہیں اس کو سمجھنے میں یہ مضمون مدد دیتا ہے ۔ پچھلے چند سالوں میں بیالوجیکل سائنس میں غیر معمولی تیز رفتار ترقی کی اہم وجہ

    یہ ہے کہ سائنسدانوں کو اس حقیقت کا احساس ہو گیا ہے کہ تمام نباتات حیوانات خواہ وہ جرثومہ (Microbe ) ہو، پھپھوند (Fungus ) ہو، پودا ہو یا جانور ہو سب

    کی پیدائش ایک ہی طریقہ سے ظہور پذیر ہوئی ہے ۔

    بیالوجیکل دنیا بہت باعمل (Dynamic)، پیچیدہ(Complex ) اور پُر کشش(Fascinating) ہوتی ہے۔ اس کو سمجھنے کی جدوجہد ہماری قدرتی اور فطری جستجوہے

    جو ہمیں اپنے لئے صحت کے بہتر مواقع ، اچھی زندگی، ٹیکنیکل ترقی کی موجودگی اور اپنے ماحولیات کو ٹھیک رکھنے کیلئے اُکساتی رہتی ہے۔ اسی طرح جینا

    مکس (Genomics) اور بیوانفارمیشن(Bioinformation) کا وہ علم جو مادہ یا جرثومہ کی ساخت، اس کا کام ، اس کا وجود میں آنا اور اس کی مکمل نقشہ گیری

    کرتے ہیں، تحقیق کے نئے علم ہیں اور یہ ہمیں نباتات، حیوانات ،انسانوں کے انفرادی اختلافات بتاتے ہیں جو ان کی نشوونما کے دوران ظہور پذیر ہوتے ہیں اور

    بیالوجیکل تضاد کا انکشاف کرتے ہیں ۔

    بیالوجی یعنی علم حیات زندہ نباتات، حیوانات کا علم ہے اور چھوٹے چھوٹے جرثوموں سے شروع ہو کر آبادی اور ماحولیات تک اس کا دائرہ کار ہے ۔ بہت سے

    دلچسپ اور فوری توجہ کے متقاضی سوالات جو حیاتیاتی علوم (Biological Sciences ) مالیکیولر اور سیل بیالوجی (Molecular & Cell Biology ) ، طور

    طریق(Behavior ) ، ماحولیات(Ecology)، نشوونما(Evolution)، حیاتی اِختلافات(Biodiversity )، قدرتی وسائل و ماحول کا تحفظ اور نگہداشت(Conservation) سے

    تعلق رکھتے ہیں وہ اسی علم کے دائرہ کار میں آتے ہیں ۔ بیالوجی یعنی علم حیات ایک ایسا علم ہے جو سائنس کے عالم و ماہر کو ایک وسیع علم سے مثلاً

    علم انسانیت سے بہرہ ور کرتا ہے۔

    بیالوجیکل سائنسز یعنی علوم حیات بہت ہی ہیجان کن، جوش دلانے والا اور تیزی سے پھیلنے والا علم ہے جو بہت سی مختلف سطحوں پر قابل استعمال ہوتا

    ہے مثلاً علم حیات کا تحفظ (Conservation Biology) اور جرثومہ کی نسلیات یعنی Molecular Genetics۔ پچھلے چند سالوں میں زندہ چیزوں پر تحقیق ، ریسرچ نے

    بے حد ترقی کی ہے اور نئے علوم پر بھی کام ہوا ہے مثلاً جرثومہ کا علم حیات (Molecular Biology) ، علم اعصابیات(Neuroscience) اور ماحولیات (Ecology) پر

    تحقیق میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔(جاری ہے)

     

               

               

               

    زراعت سے متعلق اہم مضامین ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان        4/2/2009

     

    (گزشتہ سے پیوستہ)

    یہ تحقیق و ترقی انسانیت پر اہم اثرات مرتب کر رہی ہے اور خاص طور پر ادویات ، ماحولیات اور زراعت کے محکمہ خوش انداز طریقہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔اس

    نہایت تیز رفتار ترقی نے ان مضامین یا شعبوں میں موجود اختلافات کو کم و بیش مٹا دیا ہے مثلاً ایک بیالوجسٹ جو کہ گرم علاقوں کے پودوں میں تحقیق کرنے

    میں دلچسپی رکھتا ہے وہ ان تمام آلات اور طریقہ تحقیق کا استعمال کر سکتا ہے جو کہ میڈیکل ریسرچ کے لیے ناگزیر یا لازمی ہیں ۔اس سے آپ کو یہ نتیجہ اخذ

    کر لینا چاہئے کہ بیالوجی کے مضامین میں مہارت رکھنے والے سائنسدان ملک کی فنی ضروریات اور ترقی میں اہم رول ادا کرتے ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ کرتے

    رہیں گے۔

    بیالوجی کو آپ سادہ الفاظ میں ایک متفرق شعبوں پر مبنی سائنس کہہ سکتے ہیں جو کہ لاتعداد مختلف ٹیکنیکل طریقہ جات استعمال کرتی ہے جن کی مدد

    سے متفرق معاشی اور صنعتی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔ بیالوجی کی سائنسی اور نظریاتی بنیاد مالیکیولر بیالوجی(Molecular Biology) ،

    جنیٹکس(Genetics) ، بیوکیمسٹری(Biochemistry)، مائکروبیالوجی (Microbiology )اور کیمیکل اور پروسیس انجینئرنگ (Chemical & Process Engineering) پر مبنی

    ہے۔ بیوٹیکنالوجی کی بعض ایجادات میں انسولین(Insulin)، انٹرفیرون(Interferon)، انسانی نشوونما کے ہارمون(Human Growth Hormone )، معدہ سے نکلنے

    والے لعاب کو روکنے والے ہارمون(Somatostatin) اور جراثیم کش دواؤں (Antibiotics) پر مبنی ہے۔ اس فہرست میں ایسے انجکشن بھی شامل ہیں جن کو جنیاتی

    مواد یعنی سیل وغیرہ کو ملا کر بنایا جاتا ہے یعنی (Recombinant Vaccines) اور تجارتی سطح پر قابل خرید تشخیص اور تحقیق کرنے والے چھوٹے بکس یعنی

    (Kits

    حقیقت یہ ہے کہ بیوٹیکنالوجی کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال سے بھی پرانی ہے جبکہ خمیر زدہ آٹے سے پہلی روٹی تیار کی گئی تھی، پہلی شراب تیار کی

    گئی تھی اور پہلا پنیر اور دہی تیار کئے گئے تھے ۔بیوٹیکنالوجی کا جدید دور 1868ء میں شروع ہوا جب جرمن سائنسدان ایف مائشر (F.Miescher) نے پہلی مرتبہ

    اپنی ہی طرح کا پیدا کرنے والا مادہ یعنی (DNA) دریافت کیا۔ ڈی این اے وراثتی معلومات رکھتی ہے جو لحمیات (Protein)یعنی تمام ذی حیات اجسام کا لازمی

    جزو ہے جو کہ جرثومہ یعنی (Cell)کی ساخت اور کارکردگی کے لازمی جزو ہیں۔ بیوٹیکنالوجی کی تبدیلات کرنے کی قوت کا زیادہ انحصار عمل انگیز لحمیہ

    یعنی(Enzymes) پر منحصر ہے جو کہ ردعمل تیز کرنے والے لحمیہ یعنی (Catalytic Proteins) ہوتے ہیں۔DNAہی سیل (Cell) کی تقسیم پر اختیار رکھتی ہے ان

    میں فرق محسوس کرتی ہے اور یہ بھی طے کرتی ہے کہ یہ سیل زندہ رہے گا یا ضائع ہو جائے گا۔

    بیو ٹیکنالوجی روز بروز نہایت اہم مضمون بنتا جا رہا ہے جو کہ زراعت کی مسلسل ترقی کے لئے اہم رول ادا کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افزائش مچھلی

    ،جنگلات کے بڑھانے اور کھانے کی اشیاء کے حصول میں بھی بہت اہم ہے۔جب اس ٹیکنالوجی کو دوسرے مضامین کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے تو یہ روز بروز

    بڑھتی آبادی سے نمٹنے اور رہائشی علاقوں کے پھیلنے والے مسائل سے نمٹنے کے طریقہ کار بتاتی ہے اور یہ ہمارے ملک سے براہ راست وابستہ ہے۔

    مختصراً ہماری حکومت کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ نہایت فراخدلی سے فوراً اس اہم ٹیکنالوجی یعنی بیوٹیکنالوجی اورجنیٹک انجینئرنگ میں سرمایہ کاری کرے ۔

    جو ادارے اس میدان میں کام کر رہے ہیں ان کو وسعت دینا چاہئے ، نئے ماہرین جو باہر سے اس میدان میں جدید علم حاصل کر کے آ رہے ہیں ان کو استعمال کرنا

    چاہئے ، جدید ترین آلات و تحقیقی سہولتیں فراہم کرنا چاہئے ۔ اس کا بہترین نتیجہ عوام کی خوشحالی اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کی شکل میں سامنے

    آئے گا، کسان کو بہتر کثیر پیداوار والی فصلیں اور عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں میسر ہوں گی۔ یہ دکھاوے یا شعبدہ بازی کا علم نہیں یہ اکیسوں صدی کا اہم

    ترین علم ہے ۔

    وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے

    تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

     

     

     

     

     

               

               

               

    میکانیکل انجینئرنگ کی اہمیت,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان 4/8/2009

    اپنے ایک پچھلے کالم میں میں نے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں مہارت اور اہمیت کا تذکرہ کیا تھا۔ اسی طرح میں آپ کو اس

    کالم میں میکانیکل انجینئرنگ کی اہمیت پر کچھ روشنی ڈالنا چاہتا ہوں ۔ میٹالرجیکل اور میکانیکل انجینئرنگ کے ساتھ الیکٹرانکس انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنسز کے

    علوم کی شمولیت ملک کو ایک نہایت اچھی اور مضبوط بنیاد مہیا کرتی ہے جس پر ایک بہت اچھا صنعتی ڈھانچہ تیار کیا جا سکتا ہے۔میٹالرجیکل انجینئرنگ اور

    میکانیکل انجینئرنگ کے علوم دو جڑواں بچوں کی طرح ہیں اور مجھے ان دونوں میں کام کرنے کا شرف حاصل رہا ہے اور ان سے خاصی واقفیت ہے اسی وجہ

    سے میں آپ کی خدمت میں میکانیکل انجینئرنگ کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں چند معروضات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

    آپ کو علم ہونا چاہئے کہ تمام انجینئرنگ کے علوم میں میکانیکل انجینئرنگ کے علم کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہ نہایت عام طریقہ کار استعمال کر

    کے انجینئرنگ کے مسائل کو حل کرتا ہے ۔ یہ ایک وسیع ، مختلف مضامین پر مبنی اور دماغی ذہنیت کا کثرت استعمال پر مبنی مضمون ہے جس میں ترقی یافتہ

    خالص علمی (Theoretical)، فنی(Technical)اور پیشہ ورانہ (Professional)عمل کا بہت دخل ہوتا ہے ۔میکانیکل انجینئر آپ کو صنعتی ، فنی اور تجارتی فیصلوں کو

    حل کرنے کی کلیدی پوزیشن پر نظر آتے ہیں اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر عوام الناس کی حالت بہتر بنانے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔خواہ ہوائی جہاز

    کی تیاری ہو یا ایئر کنڈیشننگ پلانٹ ہو یا میڈیکل میدان میں استعمال ہونے والی ٹنلنگ مشین)(Tunneling Machine اور اسکیننگ مشین (Body Scanners) ہوں یا

    فنی مشاورت ہو یا معالی مشاورت و ہدایت ہو ، میکانیکل انجینئر اہم رول ادا کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ میکانیکل انجینئر ان تمام مشینوں ، آلات ، سہولت دینے والے

    سسٹم کی تیاری میں اہم رول ادا کرتے ہیں جن کو ہم ایک لمحہ سوچے بغیر روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔

    اسی وجہ سے میکانیکل انجینئر کے سامنے پیشہ ورانہ زندگی میں لاتعداد مختلف اقسام کے میدانوں میں کام کرنے کے مواقع اور چیلنج مل جاتے ہیں ۔ایک

    تربیت یافتہ میکانیکل انجینئر لاتعداد مختلف صنعتوں میں کام کر سکتا ہے اور اپنے ہنر کا کمال دکھا سکتا ہے مثلاََ وہ ہوائی اور خلائی مشینوں ، کاروں اور اس

    سے متعلق دوسری مشینوں، الیکٹرانکس اور پیداوار میں کام آنے والی مشینوں کی تیاری میں اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ ہر زمانہ میں میکانیکل انجینئر کی ضرورت

    رہی ہے اور رہتی ہے اور معاشی حالات کے اونچ نیچ کے باوجود اس کو ہمیشہ مواقع میسر رہتے ہیں کیونکہ ایک صنعت میں کمی دوسری صنعت میں اضافہ

    سے دور ہوجاتی ہے۔یہ انجینئر ہمیشہ ایک اہم رول ادا کرتے رہتے ہیں اور نئی مشینوں کی ایجاد، تیاری ، نئے آلات اور صنعتی پیداوار میں جدت ، بہتری کے آلات ،

    مشینوں کی پیداوار و ایجاد میں اہم رول ادا کرتے ہیں جو بنی نوح انسان کی روزمرہ زندگی کو آرام دہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ یہاں البتہ ایک اہم ضرورت

    انجینئر کو اپنی تخلیقی سوچ و بچار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوتا ہے اور اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک میکانیکل انجینئر نہ صرف سائنسی

    اصولوں سے واقف ہو بلکہ وہ انجینئرنگ کے اصول اور طریقہ کار سے بھی پوری طرح آشنا ہو اور مہارت رکھتا ہو۔ان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فطری یعنی

    فزیکل سائنسز میں اور اپنے پیشے سے متعلق تمام امور سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہوں ۔

    آج کے ترقی کے دور میں میکانیکل انجینئر کو عموماً ایک اہم وسیع اعلیٰ تعلیم مہیا کی جاتی ہے جو اس کو اس قابل کرتی ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ دور کے

    چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کر سکے ۔میکانیکل انجینئر نہ صر ف زمین اور ہوا میں کام کرنے والی مشینوں کا تصور میں خاکہ تیار کرتے ہیں ان کو عملی شکل

    دیتے ہیں، نمونے بناتے ہیں اور ان کو قابل استعمال بنانے سے پہلے ضروری تبدیلیاں کرتے ہیں اور ایندھن، ایٹم، ہوا اور سورج کی شعاؤں کو بجلی میں تبدیل

    کرتے ہیں اور ذہین مشینیں اور روبوٹس بناتے ہیں جو صنعتی میدان میں اہم کردار ادا کرتی ہیں وہ ایک بجلی سے چلنے والی کار کا نمونہ تیار کر سکتے ہیں،

    کاروں اور صنعتی کارخانوں کے لئے کمپیوٹر اور کنٹرول سسٹم بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کمپیوٹر اور میکانیکل اور انرجی سسٹم کے درمیان کام کرنے والا

    رابطہ سسٹم (Interface) بھی بنا سکتے ہیں اور بناتے ہیں ۔ اس کے علاوہ صنعتی کارخانوں میں استعمال ہونے والی قوت کا صحیح اور کفایتی نظام، الیکٹرانک

    مصنوعات کا ڈیزائن و تیاری، نئی دھاتوں کی ایجاد اور میڈیکل اور اعلیٰ کارکردگی کے سسٹم بھی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    جدید میکانیکل انجینئرنگ کی تعلیم، اچھی غیر ملکی تعلیمی اداروں میں نہ صرف عام روایتی مضامین مثلاً اسٹریس انالیسس(Stress Analysis) ڈائنامکس

    (Dynamics)، ہیٹ ٹرانسفر (Heat Transfer)اور فلیوڈ میکانکس(Fluid Mechanics)، پڑھائے جاتے ہیں بلکہ جدید علوم مثلاً مائیکرو پروسیسر کنٹرول (Micro

    processor Control) اور کئی مضامین جو مل کر کمپیوٹر ایڈیڈ انجینئرنگ (Computer-Aided- Engineering CAE)بھی پڑھائے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کمپوٹیشنل

    ماڈلنگ ٹیکنیکس(Computational Modelling Techniques CMT) یعنی فائنائیٹ ایلیمنٹ انالیسس(FiniteElement Analysis FEA) اور کمپوٹیشنل فلیوڈ ڈائنامکس

    (Computational Fluid Dynamics CFD) ایک میکانیکل انجینئر کو یہ مہارت بہم پہنچاتی ہیں کہ وہ کسی بھی میکانیکل سسٹم کی کارکردگی کے بارے میں قابل

    بھروسہ پیشگوئی کر سکتے ہیں ۔ کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (Computer-Aided Deisgn CAD) اور کمپیوٹر ایڈیڈ مشینز (Computer-Aided Machines CAM) کو استعمال

    کر کے میکانیکل انجینئر یہ یقینی بناتے ہیں کہ مصنوعات کو تصور (Concept) سے تیار شدہ چیز تک تیزی سے بہم پہنچایا جا سکے۔

    مختصراً یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ ایک میکانیکل انجینئر انجینئرنگ کے پیشے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک اچھے انسٹی ٹیوٹ یا یونیورسٹی سے

    میکانیکل انجینئرنگ میں ڈگری یافتہ انجینئر اس قابل ہوتا ہے کہ وہ :

    (۱)کسی پرابلم کو صحیح طریقہ سے سمجھ سکے اور عملی اور تصوراتی انجینئرنگ مسائل، پروجیکٹ حل کر سکے۔

    (۲)معاشی اور سوشل مجبوریوں کو سمجھ سکے جو انجینئر نگ سسٹمز اور مصنوعات کے حصول میں حائل ہو جاتی ہیں۔

    (۳)عملی تجربہ حاصل کر لیتا ہے کہ ہر طرح کا تخمینہ اور پیمائش کر سکے صحیح آلات کا استعمال کر سکے اور صحیح معلومات حاصل کر سکے۔

    (۴)اپنے خیالات و معمولات کو تحریری و زبانی طور پر اور کمپیوٹر کے ذریعے دوسروں تک بہم پہنچا سکتا ہے۔ میکانیکل انجینئرنگ میں اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے والا

    انجینئر نہ صرف تھیوریٹیکل یعنی خالص علمی بلکہ عملی متوازن تعارف ان تمام اصولوں سے متعلق حاصل کرتا ہے جن کا تعلق نہ صرف انجینئرنگ کے قوانین

    سے ہوتا ہے بلکہ عملی میدان میں اہم صنعتی پروجیکٹس سے بھی ہوتا ہے۔ (جاری ہے)

     

               

               

               

    میکانیکل انجینئرنگ کی اہمیت,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان 4/9/2009

     

    (گزشتہ سے پیوستہ)

    تعلیم کے شروع میں اہم بنیادی مضامین کی تعلیم حاصل کی جاتی ہے اور انجینئر اس دور میں جو مضامین پڑھتا ہے وہ اس کیلئے بعد میں پیشہ ورانہ زندگی

    میں بے حد کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ عام مضامین میں انجینئر ریاضی ، میکانکس اور تھرموڈائنامکس شامل ہوتے ہیں جبکہ جدید علوم میں کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن،

    مینوفیکچرنگ اینڈ ٹیسٹنگ (Computer-aided Design, Manufacturing and Testing CADMAT) کے ساتھ ساتھ تجارت، فنانس اور قانون کی تعلیم اہم حصہ ہوتی

    ہے۔پچھلے چند سالوں میں الیکٹرانکس میں حیرت انگیز ترقی نے میکانیکل انجینئرنگ کے علم پر بہت اہم اور گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کل لاتعداد انجینئرنگ پروجیکٹس

    ایسی ہوتی ہیں جن میں انجینئر کو میکانیکل انجینئرنگ اور الیکٹرانکس میں مہارت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک مثال آپ کے سامنے مختلف انجنیوں کی کارکردگی

    کو کنٹرول کرنے میں الیکٹرانکس اور کمپیوٹر کا مشترکہ عمل ہے۔ جو علم اب میکانیکل انجینئرنگ اور الیکٹرانکس کو مشترکہ کرتا ہے اس کو میکا ٹرانکس

    (Mechatronics) کہتے ہیں۔ یہ بہت اہم مضمون بن گیا ہے اور ان انجینئروں کے لئے بہت اہم ہے جو ایک تجزیہ کار یعنی انالیٹیکل راستہ اختیار کر کے اعلیٰ

    مشینیں، سسٹمس اور مصنوعات کے ڈیزائن کا پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ بآسانی خود ایسے انمل یا ملے جلے

    (Hybrid) ڈیزائن کر سکتے ہیں ان کو ایک دوسرے سے وابستہ کر سکتے ہیں ان کی تحقیق کر سکتے ہیں جن میں نہ صرف میکانیکل بلکہ الیکڑانکس کمپوننٹس

    یا پرزہ جات شامل ہوتے ہیں یعنی یہ سسٹم میکانیکل اور الیکٹرانکس ٹیکنالوجی کی مشترکہ ٹیکنالوجی پر منحصر ہوتا ہے ۔

    آٹوموبیل انجینئرنگ جو کہ میکانیکل انجینئرنگ کا اہم حصہ ہے دور جدید میں بہت دلچسپ اور بین الاقوامی تجارت میں اعلیٰ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی

    صنعت ہے۔ بہت سخت تجارتی مقابلہ، خریداروں کی سخت معیاری شرائط اور بہت سخت ماحولی شرائط، پابندیوں کی وجہ سے نئی ایجادات، رہنمائی اور

    کارکردگی ،کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے بہت ضروری ہے ۔

    دور جدید میں کمپیوٹر پر مبنی انجینئرنگ پروجیکٹس کے لئے ایسے انجینئروں کی ضرورت ہے کہ جو لازمی طور پر کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور اس کے ذریعے کسی چیز

    کا خاکہ یا نقشہ اور استعمال کرنے یعنی (Computational and Simulation Skills) میں مہارت ہو اور ساتھ میں انجینئرنگ کے مضامین میں اچھی ٹھوس معلومات

    ہوں ۔ اپنے قارئین سے جو انجینئرنگ کے موضوع اور مضامین سے اور خاص طور پر میکانیکل انجینئرنگ کے مضمون سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے میں ان کی

    خدمت میں یہ عرض کروں گا کہ میکانیکل انجینئر کو نہ صرف اپنے فنی مضامین میں پوری طرح ماہر ہونا چاہئے بلکہ ان کے علاوہ بنیادی اہم مضامین کا بھی پورا

    علم ہونا چاہئے ۔ ایک جدید سلیبس میں میکانیکل انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ میٹالرجی، کمپیوٹر اور الیکٹرانکس کے مضامین بھی شامل ہوتے ہیں اور اگر انجینئر

    نے اپنی ڈگری کسی اچھی غیر ملکی یونیورسٹی سے حاصل کی ہے تو عموماًَ وہ مختلف اقسام کے پروجیکٹ بآسانی اور خوش اصلوبی سے سر انجام دے

    سکتا ہے ۔اگرآپ ان مضامین کی فہرست دیکھیں جو عہد جدید میں ایک میکانیکل انجینئر کو پڑھنا پڑھتے ہیں تو آپ پر دہشت طاری ہو جائے گی کہ یہ اتنے سخت

    اور اہم مضامین ہیں اگر آپ ایک ایسی ٹیم کی تشکیل کر لیں جس میں میٹالرجیکل ، میکانیکل، الیکٹرانکس اور کمپیوٹر انجینئر شامل ہوں تو وہ مشکل سے

    مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ پروجیکٹ کو خوش اصلوبی سے پایہ تکمیل کو پہنچا سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے بہت کم تعداد باہر سے تعلیم

    یافتہ اچھے میکانیکل انجینئروں کی ہے ۔ہمارے ملک میں خاص مسئلہ اور دشواری اچھے سامان سے آراستہ لیبارٹریز کی کمی کا ہے، تعلیم دینے کے جدید آلات

    کا فقدان ہے اور جدید مشینوں اور آلات کے نمائشی نمونوں کے کٹے ہوئے سیکشنوں کی کمی یا فقدان ہے۔جب میں جرمنی ہالینڈ اور بیلجیئم میں زیر تعلیم تھا

    تو میں باقاعدگی سے وہاں یونیورسٹیوں میں میکانیکل انجینئرنگ کے شعبوں میں جایا کرتا تھا اور وہاں جدید مشینوں اور آلات کے کٹے ہوتے نمونوں کو دیکھ کر

    حیران و ششدر رہ جاتا تھا اور بے حد خوش ہوتا تھا۔ آپ یہ لاتعداد چیزیں بند شکل میں دیکھتے ہیں اور آپ کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے اندر انسان نے کیا

    معجزات بند کر رکھے ہیں۔ اس قسم کے نمونے دیکھ کر بھی ایک انجینئر بہت کچھ سیکھ لیتا ہے ۔بد قسمتی سے ہمارے یہاں ان کا فقدان ہے۔ ایک بہت اہم بات

    کہ جس کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب تک حکومت کسی پروگرام یا پروجیکٹ کو قومی سطح پر اپنا کر اس کی مکمل سرپرستی نہ

    کرے وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوتی ۔ آپ کے سامنے کہوٹہ کہ مثال ہے حکومت کی مکمل سرپرستی اور مدد نے ہمیں اس قابل کر دیا تھا کہ ہم نے پوری دنیا کی نظر

    میں ایک ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا۔سائنسی اور ٹیکنیکل ریسرچ اداروں کی کامیابی کے لیے یہ لازم ہے کہ ان کو بیرونی لوگوں کی دخل اندازی سے بالکل

    محفوظ اور علیحدہ رکھا جائے۔مشہور سائنسدان پروفیسر البرٹ آئن اسٹائن نے ایک مرتبہ یہ کہا تھا” کوئی بھی ذہین بیوقوف کسی بھی چیز کو بڑا کر کے پیش

    کر سکتا ہے اس کو زیادہ پیچیدہ بنا سکتا ہے اور زیادہ پُر تشدد بنا سکتا ہے لیکن اس کو ٹھیک کرنے اور دوسری یا صحیح جانب کو لے جانے کے لئے ایک نہایت

    ہی ذہین اور قابل شخص اور سخت جرأت کی ضرورت ہے۔“ ایک انجینئر کی حیثیت سے ہمارا فرض اور کام یہ ہے کہ ہم ایک قابل عمل ، جلد مکمل ہونے والا، قابل

    بھروسہ اور باکفایت حل ہر مسئلے کے لئے تلاش کریں اور تجویز پیش کریں۔ یہاں یہ ضرب المثل صادق آتی ہے وہ جو کبھی کوشش نہیں کرتا وہ ہمیشہ ناکام رہتا

    ہے اور وہ جو کوشش کرتا ہے وہ توقع سے زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔ہمارے یہاں بہت سا ہنر صرف جرأت کی اور پہلا قدم اٹھانے کے فقدان کی وجہ سے ضائع ہو جاتا

    ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے زیادہ تر انجینئر اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ کسی بھی اہم اور مشکل پروجیکٹ یا کام کو کامیابی اور خوش اصلوبی سے تکمیل

    تک پہنچانے کے لئے وقت، محنت و جرأت مندانہ اقدام لازمی ہوتے ہیں۔

    میرے برلن میں پرانے ساتھی اور بہترین دوست اور الیکٹرانکس کے اعلیٰ انجینئر اختر علی نے ایک نہایت اہم غور و غوض کرنے والی نصیحت ہمارے طلبہ اور

    اساتذہ کے لئے کی ہے۔ ” تعلیم ایک ایسا عمل ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا جہاں طالبعلم نہ صرف علم حاصل کرے بلکہ اس کی اس طرح ہمت افزائی کی جائے

    کہ وہ اس میں خود بھی اضافہ کرے۔ طالبعلموں میں تنقیدی و تخلیقی سوچ بچار کی ہمت افزائی کی جائے اور سالانہ انفرادی ریسرچ پروجیکٹ کی ہمت افزائی

    کی جائے۔ اس طریقہ سے طالبعلموں کو اپنی ذاتی قابلیت اور اہلیت کو سمجھنے اور اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے اور خود اعتمادی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اس

    طرح وہ دور جدید کے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوتے ہیں اور دوسروں کی نقل نہیں کرتے ۔ ہمارے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم دوسروں کی نقل

    کریں بلکہ خود بھی تخلیق کریں اور بعض میدانوں میں مہارت حاصل کر کے بنی نوح انسان کے معلوماتی خزانے میں اپنا قیمتی حصہ ڈالیں۔“

     

     

     

     

     

               

               

               

    ذِلّت و تباہی کے اسباب,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   4/15/2009

    اپنے چند پچھلے کالموں میں میں نے اپنی بچپن کی تعلیم ، بھوپال کی بیگمات کی روشن خیالی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں اور زراعت و انجینئرنگ کے بعض

    مضامین پر کچھ روشنی ڈالی تھی اور چند دلچسپ واقعات بھی بیان کئے تھے۔ میں نے بھوپال میں مذہبی تعلیم اور اُسی ماحول میں اپنی پرورش کا تذکرہ بھی

    کیا تھا ۔بھوپال سے ہجرت کئے تقریباً ستّاون سال ہو گئے ہیں مگر وہ ماحول ، وہ مذہب سے محبت اور نماز کی پابندی رمضان کی چہل پہل اور عید پر خوشیوں

    کے سماں آج بھی نگاہوں میں گھومتے رہتے ہیں ۔اللہ رب العزت کا بہت کرم ہے آپ پر کہ آپ اپنے بچپن کے خوشگوار ماحول کو یاد کر سکیں۔ کلام مجید کی تعلیم

    ، اسلامیات یا دینیات کی تعلیم، آپس میں محبت ،میل جول، غربت و گنا گری ایسی خوشگوار یادیں ہیں کہ جس قدر بھی اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا جائے کم

    ہے۔یہ بچپن کی تعلیم اور اچھا ماحول آئندہ زندگی کو بری باتوں سے محفوظ رکھنے اور ہمیشہ اللہ رب العزت کا خوف دل میں رکھنے میں بہت اہم تھا۔آپ کو تعجب

    ہو گا کہ میرے والد جن کا تعلیم سے تعلق تھا اور والدہ جنہوں نے گھر میں ہی اچھی تعلیم حاصل کی تھی اور ہماری تربیت کی تھی انہوں نے ہم سے کبھی یہ

    نہیں کہا کہ سگریٹ مت پینا، شراب مت پینا ، غلط کام نہ کرنا وغیرہ مگر یہ گھر کا ماحول تھا اور ان کی مثال سامنے تھی جس کی وجہ سے ہم غلط کاموں

    سے محفوظ رہے بلکہ غلط کام کرنے کی جرأت ہی نہ ہوئی۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔ ہمارے پڑوس میں میاں جان

    خان رہتے تھے یہ گورنمنٹ پریس کو بجلی مہیا کرنے والے جنریڑ کے انچارج تھے ان کے تین بیٹے رزّاق ، رؤف اور عزیز ہم تینوں بھائیوں حفیظ، قیوم اور میرے بہت

    جگری دوست تھے ۔ ہم ساتھ کھیلتے تھے ، پتنگ بازی کرتے تھے، تالاب میں نہاتے تھے ، مچھلیاں شکار کرنے جاتے تھے، رزّاق تعلیم میں ٹھیک نہ تھا ، فیل ہو کر

    قیوم بھائی کے ساتھ رہ گیا اور پھر فیل ہو کر میرا کلاس فیلو بن گیا ، ہمارے تعلقات میں کسی قسم کا تصنع احساس برتری یا کمتری نہ تھا اور یہ تینوں لڑکے

    میرے والدین کو اماں اور ابا کہ کر مخاطب کرتے تھے۔رزّاق روز آ کر میرے والد سے اسکول کا سبق پڑھ لیا کرتا تھا ۔ بہت مشکل سے اس نے بورڈ سے آٹھویں

    جماعت پاس کر لی اور پٹواری کی ملازمت کے لئے کامیاب ہوگیا ۔ رزاق روزمرہ کی زندگی میں خاصہ چالاک تھااور وہ چھٹیوں میں ”میں عالم تم معمول“ کے کھیل

    میں شرکت کر کے اچھے پیسے بنا لیتا تھا۔جب وہ پٹواری کی ملازمت پر بھوپال کے قریبی شہر رائسین جانے لگا تو میرے والد سے ملنے آیا اور دعا کی

    درخواست کی ، مجھے آج بھی یاد ہے کہ میرے والد نے کہا ”رزّاق تو بہت چالاک ہے اور پٹواری کی ملازمت میں بہت گڑبڑ ہوتی ہے تو نے اگر جعل سازی کی تو

    جیل جائے گا ۔“ 1967ء میں اپنی بیگم کے ساتھ ہالینڈ سے پاکستان آیا تو بمشکل ایک ہفتہ کا ویزہ ملنے پر ان کو بھوپال دکھانے لے گیا ۔ موقع سے فائدہ اٹھا کے

    دہلی اور آگرہ بھی دکھا دیئے ۔ بھوپال میں ہم سے فوراً رزّاق ملنے آیا ، صحت اچھی ، خوش باش،میں نے پوچھا کیا حال ہے ،ملازمت کیسی چل رہی ہے ؟ بولا

    کہ غلط کام کرنے اور رشوت لینے کے لاتعداد مواقع آتے ہیں جب بھی شیطان وسوسہ ڈالتا ہے تواللہ بخشے ابا کا چہرہ نظرآجاتا ہے اوران کے الفاظ کان میں

    گونجنے لگتے ہیں کہ غلط کام کیا تو جیل جائے گا۔فوراً لاحول ولاقوة پڑھ کے وہ بات دماغ سے نکال دیتا ہوں۔ پچھلے سال میرے بڑے بھائی حفیظ اپنی بیگم کے

    ساتھ بھوپال گئے وہاں بھابی کے بہن بھائی ہیں رزاق فوراً رائسین سے جو تقریباً بیس میل دور ہے بھوپال پہنچا اور بھائی سے ملا ، حفیظ بھائی نے بتایا کہ

    ماشاء اللہ اب توانا تھا (پہلے دبلا پتلا تھا ) اور چھوٹی چھوٹی خوبصورت داڑھی رکھی ہوئی تھی ۔ اس نے بتایا کہ جب حج سے واپس آیا تو چند سال پیشتر اس

    نے داڑھی رکھ لی اور اب باعزت پینشن یافتہ زندگی گزار رہاہے اور اس نے فوراً حفیظ بھائی کو میرے والد کی نصیحت یاد دلائی اورکہاکہ اللہ کے کرم سے اس نے

    کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا اور ہمیشہ ابا کی نصیحت کو یاد رکھا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔

    جب مرحوم بھٹو صاحب نے مجھے یورینیم کی افزودگی کرنے کے فرائض سونپے تو میں نے کہوٹہ میں دو باتوں کا بہت خیال رکھا ۔ اول تو یہ کہ ہر بلڈنگ میں

    نمایاں جگہ پر بانی پاکستان قائد اعظم کی تصویر لگوائی تاکہ ہم یہ نہ بھولیں کہ ہم کس کے مرہون منت ہیں، کہ آزاد ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزار رہے

    ہیں اور دوم یہ کہ میں نے عمارات میں بھی اور باہر بھی فرمان الٰہی اور احادیث اور اقوالِ خلفائے راشدین کے بورڈ بنواکے لگوائے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کو اور اس

    کی نعمتوں کو یاد رکھیں اور احادیث اور اقوالُ و خلفائے راشدین سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔ میں نے بہت نمایاں طور پر سورة اشُعرآء کی 83 سے 85 تک

    آیات اور ان کا ترجمہ فریم کر کے لگوایا ۔ ان آیات مبارکہ کا ترجمہ یہ ہے: ” اے پروردگارمجھے علم و دانش عطا فرما اور نیکوکاروں میں شامل کر اور آئندہ نسلوں

    میں میرا ذکر نیکی کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے جنت الفردوس کے وارثوں میں شامل کر۔“

    میرا مقصد اس تمحید سے یہ ہے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم پر بہت ذمہ داریاں ہیں، ہمارا فرض ہے کہ نہ صرف اپنے بچوں کو جھوٹ نہ بولنے ، بے

    ایمانی نہ کرنے اور منافقت نہ کرنے کی ہدایت کریں بلکہ خود ان کے لئے مثالی کردار ادا کریں ۔ میرے والدین کی ہمیشہ یہ نصیحت رہتی تھی کہ بیٹا جھوٹ نہ

    بولنا ، بے ایمانی نہ کرنا ۔کبھی اللہ کے عتاب کا شکار نہ ہو گے ۔ میں دراصل اپنی قوم کی موجودہ ذلت اور تباہی کی جانب مارچ کی وجہ سے پریشان ہوں جن

    کو ہم نے اپنی زندگی ، دین ، ایمان کا لازمی جز وبنا لیا ہے۔

    ہم کو علم ہونا چاہئے کہ چند ایسے کام ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ سخت ناپسند کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا اور گناہگار

    ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اس کے عذاب سے کبھی نکل نہ پائیں گے مثلاً جھوٹ بولنا ، بے ایمانی کرنا ، منصف کا انصاف نہ دینا ، ناپ تول میں گڑبڑ کرنا ،

    والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آنا ، غیر اخلاقی کاموں کا مرتکب ہونا ،غیبت کرنا سخت و بڑے گناہوں میں شمار کئے جاتے ہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ

    کی ناراضی اور عتاب ان لوگوں پر نازل ہوتا ہے جو ان کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن چند دوسرے گناہ ایسے ہیں جن کی بخشش نہیں ہے اور اس کے گناہگار ہمیشہ

    ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ۔ ان میں (1) اللہ تعالیٰ کی ذات سے ناامید ہونا (2) کسی مسلمان کا بلاوجہ قتل کرنا (3) شرک و کفر کرنا اور (4) منافقت کرنا یعنی

    قول و عمل میں تضاد ہونا۔

    کلام مجید میں ناپ تول میں گڑ بڑ نہ کرنا ، جھوٹ نہ بولنا ، غیبت نہ کرنا، غیر اخلاقی کاموں سے اجتناب کرنے اور منصف کا انصاف دینے کے بارے میں صاف صاف

    ہدایات ہیں ۔ غیبت کو تو زنا سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے اور اس عمل کو ایسا ہی کہا گیا ہے کہ جیسا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا۔ آپ کو علم ہو گا کہ

    سلطان علاؤالدین خلجی کے زمانے میں جو ایک نہایت اعلیٰ اور سخت منتظم تھے کم سامان دینے والے کا گوشت کاٹ کے وہ کمی پوری کر دی جاتی

    تھی۔(جاری ہے)

     

               

               

               

    ذِلّت و تباہی کے اسباب....سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان  4/16/2009

    (گزشتہ سے پیوستہ)

    اسی طرح منصف کو انصاف دینے کا حکم ہے مگر حدیث میں اس کو وارننگ ہے کہ اگر انصاف نہیں دیا تو جہنم میں قیام ہو گا ، مگر میں یہاں آج منافقت کے بارے

    میں عرض کروں گا ، کلام مجید میں کم از کم چودہ مرتبہ منافقت کے بارے میں ذکر آیا ہے اور سخت تنبیہ دی گئی ہے ۔ میں یہاں سورة توبہ کی آیت نمبر اڑسٹھ

    کا حوالہ دوں گا جہاں اللہ رب العزت نے منافقوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے ۔ ” اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ

    ہمیشہ جلتے رہیں گے جس کے وہ مستحق ہیں اور اللہ نے ان پر لعنت کر دی ہے اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔“آیت نمبر اُنسٹھ میں ان کو بتایا گیا ہے کہ یہ

    پہلے منافقوں کی طرح ہیں جن کا عبرت ناک انجام ان کے سامنے ہے ۔ اسی طرح سورة البقرہ میں آیت نمبر 9 میں اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کے بارے میں فرمایا

    ہے ” یہ لوگ(منافقین) اللہ سے اور اہل ایمان سے دغا کرتے ہیں اور دراصل یہ اپنے آپ ہی کو دغا دیتے ہیں “۔ اسی طرح سورة النساء میں آیت نمبر 138سے

    145تک ایسے لوگوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ ” (اے پیغمبر) منافقوں کو بتا دیں کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے یہ وہ لوگ ہیں جو

    مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا مددگار بناتے ہیں کیایہ ان (کافروں ) کے پاس عز ت تلاش کرتے ہیں ؟جب کہ عزت تو ساری اللہ تعالیٰ ہی کے واسطے ہے ۔“

    آیت نمبر 145 میں فرمایا ہے کہ منافق دوزخ کے سب سے نچلے درجہ (یعنی سب سے زیادہ تکلیف دہ ) میں ہوں گے۔“ اسی طرح سورة التوبہ میں غزوہٴ تبوک

    کی طرف اشارہ کیا ہے (آیت 74) جہاں سے واپسی پر بارہ منافقین نے حضور کو شہید کرنے کی ناپاک سازش کی تھی آیت 80میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم

    سے خطاب کر کے فرمایا” اگر آپ ان کے لئے ستر بار بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔“دراصل اس آیت کا نزول عبداللہ بن

    ابی رئیس المنافقین کی نماز جنازہ پڑھنے کا واقعہ ہے ۔

    عبداللہ بن ابی کے انتقال پر ان کے صاحبزادہ (جو ایک نہایت سچے مسلمان تھے ) نے رسول سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی ، حضرت عمر نے

    مشورہ دیا کہ اس دشمنِ اسلام کی نماز جنازہ نہ پڑھائی جائے مگر رسول نے بلحاظِ شفقت بیٹے کی درخواست قبول کر لی اور حضرت عمر کے مشورے کو

    نظر انداز کر دیا اور نماز جنازہ پڑھا دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جس میں صاف صاف فرمایا گیا ہے کہ آپ حضور اکرم کے استغفار کے باوجو د اللہ تعالیٰ

    منافقوں کی مغفرت نہیں فرمائیں گے ۔ آیت نمبر 84 میں سخت ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ان منافقوں میں سے کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں اور نہ ہی

    کبھی ان کی قبروں پر حا ضری دیں۔کئی تفاسیر میں عبداللہ بن ابی کے تفصیلی حالات درج ہیں ۔سب سے بڑھ کے قرآن مجید میں سورة المنافقون (پارہ 28)

    نازل کی گئی جس میں ان منافقوں کی خراب خصلتیں، ان کی پوشیدہ دشمنی اور ریشہ دوانیوں کا ذکر کیا گیا ہے اس میں بھی اسی رئیس المنافقین عبداللہ

    بن ابی کا تذکرہ ہے ۔

    میرا مقصد ان باتوں کے بیان کرنے کا یہ ہے کہ آج کل ہماری قوم میں لوگوں کی اکثریت ایسے کاموں کو جائز سمجھنے لگی ہے اور بلاخوف و خطر و بلا جھجک

    ان کو روزمرہ کی زندگی میں اپنا لیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان اور قرآن کی روشنی میں حرام ہیں یا نہایت برے مانے جاتے ہیں ۔

    آپ پورے ملک میں جدھر بھی نظر ڈالیں ، رشوت ستانی ، کھانے کی چیزوں اور دواؤں میں ملاوٹ ، ناپ تول میں بے ایمانی ، جھوٹ بول کر قر ض لینا اور واپس نہ

    کرنا ، دھوکہ دے کر معصوم غریب لوگوں سے رقم ہتھیا لینا ، کھلے عام غیبت کرنا ، بے شرمی سے منا فقت میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینا ، فرائض سے کوتاہی

    کرنا ، وعدے پورے نہ کرنا، یہ ہماری قوم کا اخلاق بن گیا ہے یعنی حال یہ ہے کہ:

    لوگوں نے سمجھ یہ رکھا ہے

    جیسے دنیا میں اب خدا ہی نہیں

    بہت بڑی مشکل یہ ہے کہ عوام کی اکثریت کلام مجید کا مطالعہ نہیں کرتی کُجا کہ ترجمہ کے ساتھ تلاوت کرنا ۔ اگر لوگ ترجمہ کے ساتھ تلاوت کرنے لگیں تو وہ

    خوف و دہشت سے کانپنے لگیں اور بہت سے غلط کام چھوڑ دیں۔ میں اپنے ہم وطنوں سے نہایت عاجزی سے درخواست کرتا ہوں کہ اللہ کے واسطے یہ تمام

    برے کام چھوڑ دیں ، کھانے کی چیزوں اور دواؤں میں ملاوٹ نہایت ہی گھناؤنا جرم ہے، رشوت ستانی ، انصاف مہیا نہ کرنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، منافقت کرنا ،

    یہ سب ایسے گناہ ہیں کہ اللہ رب العزت کے ہاں بڑی سخت گرفت ہو گی کیونکہ بلاشبہ اللہ کی گرفت بہت سخت اور بہت دکھ دینے والی ہے ۔ یہ لوگ ایسی

    غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی حرکتوں اور اعمال سے واقف نہیں ہیں حالانکہ فرشتے ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا حساب رکھتے ہیں اور یومِ

    قیامت یہ سب ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔

    میں یہاں آپ کی خدمت میں سورة ابراہیم کی بیالیسویں آیت پیش کرناچاہتا ہوں اس کوغور سے پڑھیں اور کئی بار پڑھیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ بہت صاف صاف

    لوگوں کو وارننگ دیتا ہے ،

    فرمان الٰہی ہے” اور تم اس گمان میں نہ رہنا کہ ظالم اور گناہگار جو اعمال کر رہے ہیں اللہ ان سے بے خبر ہے وہ تو ان کو (حُجّت پوری کرنے کے لئے) اس دن تک

    مہلت دیتا ہے ( یعنی یوم قیامت تک) جبکہ دہشت کے سبب ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” پھر ہم

    آہستہ آہستہ ان کو اس طریقے سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر نہ ہو گی ہم تو ان کو (بغرض حُجّت) مہلت دیئے جاتے ہیں اور ہماری تدبیر بہت قوی ہے۔“

    میری عرض اپنے تمام مسلمان بھائیوں ، بہنوں سے یہ ہے کہ اللہ کے واسطے ان احکامات کو مد نظر رکھیں اور ان تمام غلط اور گناہ کے اعمال سے باز آئیں ۔ایک

    اچھے ایماندار معاشرے کی تشکیل کریں اور دین ، دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوں ۔ ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ بلا شبہ اللہ کی گرفت بہت سخت اور بہت دکھ دینے

    والی ہے ۔ یومِ قیامت کو نہ بھولو اللہ کا وعدہ ہے اور وہ یقینا آنے والا ہے اگر آپ کو جہنم کی آگ کا اندازہ کرنا ہے تو برائے مہربانی ماچس کی تیلی جلائیں اور

    اس وقت تک پکڑے رکھیں کہ جب تک وہ آپ کی انگلی کو جلادے ، اس جلن سے جو بہت ہی کم ہے آپ کو جہنم کی آگ کی شدت و تکلیف کا احساس ہو

    جائے گا ۔

    اللہ کے فرمان کو یاد رکھو کہ اس نے فرمایا ہے کہ ہم ظالموں اور گناہگاروں کی کھال (جو کہ حساس ترین چیز ہے) کو بار بار تبدیل کرتے رہیں گے تا کہ وہ اپنے

    گناہوں کا مزہ چکھیں ۔ میں آپ سے یہ درخواست نہیں کر رہا کہ آپ حضرت عمر یا حضرت عمربن عبدالعزیز بن جائیں ، آپ صر ف ایک نیک اور ایماندار مسلمان

    اور اچھے پاکستانی بن جائیں اور پاکستان کو ایک فلاحی اسلامی مملکت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

     

     

     

     

     

     

               

               

               

    ماحولیات کے مسائل ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان      4/22/2009

    چند سالوں سے ماحولیات اور اس سے متعلق مسائل دنیا میں ایک اہم موضوع بن گئے ہیں۔ ہر قومی لیڈر اور مشہور شخصیت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ

    اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرے اور ماحولیات کو جن خطرات کا سامنا ہے اس سے عوام کو آگاہ کرے۔ عوام توقع کرتے ہیں کہ یہ لوگ خلاء میں اوزون

    (Ozone)کی تہہ کی بربادی جو کلوروفلورو کاربن گیسوں کی وجہ سے اس پر ہو رہی ہے، ماحول کی درجہ بدرجہ گرمی جو کہ گرین ہاؤس سے خارج شدہ گرمی

    سے ظہور پذیر ہو رہی ہے، طویل مدت والے کیڑے مار دواؤں کے فصلوں پر زہریلے اثرات اور بیوڈائیورسٹی (Biodiversity)یعنی مختلف اقسام کے زند ہ اجسام کی

    تباہی، یہ سب مل کر اوزون کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ مسائل خاصے پیچیدہ ہیں اور ان کے کئی پہلو بھی ہیں۔ ان مسائل کو ٹھیک طریقہ سے سمجھنے

    کے لئے ہمیں ایک سائنسی بنیاد پر تحقیقی معائنہ کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ماحول کو ایک وسیع پیمانہ پر بھی سمجھنے کی

    ضرورت ہوتی ہے۔

    آبادی کی درجہ بدرجہ زیادتی نے قدرتی وسائل پر بے حد دباؤ ڈال رکھا ہے ۔ ابھی پچھلے سالوں میں دنیا میں اس بات کااحساس ہوا ہے کہ آبادی میں اضافہ ایک

    طوفان کا پیش خیمہ ہے اور اس سے ماحول بری طرح تباہ ہو رہا ہے ۔

    چرنوبل (Chernobyl) کی طرح تباہ کن ایٹمی حادثات نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی عمل کس طرح بین الاقوامی سطح پر تباہی پھیلا سکتا ہے۔ اس قسم کے

    حادثات کی سنجیدہ تحقیق کے لئے لازمی ہے کہ ان تمام اصولوں اور طریقہ کارکو سمجھنے کی بہت ضرورت ہے جو ماحولیات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اس میں

    توازن قائم رکھتے ہیں اور اس کے تسلسل کو یقینی بناتے ہیں ۔ ماحولیات کا ہر مسئلہ ہمارے لئے ایک سائنٹیفک چیلنج ہے اور یہ مسئلہ یا پرابلم عموماً کیمیائی

    نوعیت کی ہوتی ہے ۔

    ایک چھوٹے کالم میں تفصیلی طور پر ان تمام ماحولیاتی مسائل پر بحث کرنا ناممکن ہے جن کا عموماً دنیا کے لاتعداد ممالک کو اور پاکستان کو خاص طور پر سامنا

    ہے۔ ان مسائل میں سے چند مسائل پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔

    تیزابی بارش (Acid Rain) یہ اصطلاح ایک انگریز کیمیائی ماہر رابرٹ انگس (Robert Angus) نے 1852ء میں ایجاد کی تھی اس کا تعلق تیزاب سے ہے جو ذرّات کی

    شکل میں ہوا میں شامل ہو جاتا ہے اور بارش کے پانی میں شامل ہو کر جب زمین پر گرتا ہے تو اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ تیزابی ذرّات عموماً موٹر

    گاڑیوں سے اخراج ہونے والی گیسوں اور کوئلے سے چلنے والے بجلی پید ا کرنے والے کارخانوں سے اخراج ہونے والی گیسوں سے ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں۔

    یہ عموماً بارش ، برف، ژالہ، کہر، پالا، اوس کی شکل میں زمین پر گرتے ہیں ۔اس شکل میں یہ تیزاب نہ صرف قدرتی ماحول کا توازن بلکہ فصلوں وغیرہ کو ناقابل

    تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ ماہر ماحولیات اس نہایت خطرناک اور بڑے خطرہ سے نمٹنے کے لئے نت نئے طریقے تلاش کرنے میں مصروف ہیں اور اس پر خاصی رقم

    خرچ کی جارہی ہے ۔

    ہوا کی آلودگی۔ یہ نہ صرف عمارات کے اندر بلکہ باہر بھی پائی جاتی ہے اور ہمیشہ سے عوام کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت رہی ہے اس کا وجود قدرتی بھی

    ہے اور انسان کی عملداری بھی اور یہ گیس یا ذرّات کی شکل میں پائی جاتی ہے ۔ سب سے زیادہ ذریعہ موٹر گاڑیوں سے خارج شدہ گیس اور کوئلے سے

    چلنے والے پاور پلانٹس ہیں ۔ ماہر ماحولیات اس مصیبت سے چھٹکارہ حاصل کرنے اور اس پر کنٹرول کرنے کے لئے آبادی میں اضافہ پر کنٹرول، بجلی کے استعمال

    میں کمی، موٹر گاڑیوں کے استعمال میں کمی ، آلودہ پٹرول اور تیل کے استعمال میں کمی اور چیزوں کے استعمال سے پیدا ہونے والے فضلہ میں کمی کے

    پروگراموں پر عمل پیرا ہیں لیکن آبادی میں اضافے سے اس مہم میں بہت مشکلات کا سامنا ہے ۔

    گلوبل وارمنگ (Global Warming) یعنی زمینی فضا میں افزائش حرارت ۔ اطلاعات کے مطابق یہ اصطلاح سب سے پہلے جیمز ہینسن(James Hansen) نے جو کہ

    گوڈارڈ انسٹیٹیوٹ ناسا، امریکہ (Goddard Institute, NASA) کے ڈائریکٹر تھے استعمال کی تھی جب وہ امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے انرجی و قدرتی وسائل

    کے سامنے بیان دے رہے تھے ۔ اس وقت انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ مسئلہ نہ صرف حقیقی تھا بلکہ بے حد خطرناک بھی تھا۔ عرف عام میں اب یہ

    گرین ہاؤس اِفیکٹ (Green House Effect) کہلاتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے حرارت یا گہری سطح زمین پر پھیل جاتی ہے اور کرہٴ زمین کے درجہ حرارت میں

    اضافہ ہو جاتا ہے اور ماحولیات کے لئے سخت مضر ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، جنگلات کی کٹائی ،موٹر گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ، کچرے کوڑے

    کا ہر جگہ پھینکنا، اوزون کی کمی وغیرہ وغیرہ سب ہی مل جل کر اس مصیبت میں اضافہ کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ذرائع ابلاغ نے اس مسئلے کو

    سنجیدگی سے زیر بحث لانا شروع کر دیا ہے اور تمام سرکاری ، نیم سرکاری اور پرائیویٹ ادارے اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    خطرناک کچرا کوڑا۔ بنی نوع انسان بہت بڑی تعداد میں خطرناک کچرا کوڑا پیدا کرتے ہیں جو بغیر سوچے سمجھے باہر پھینک دیا جاتا ہے ۔ یہ دانستہ اور نادانستہ

    طور پر صنعت اور عوام پیدا کرتے ہیں ۔ ہر سال اس خطرناک کچرے کوڑے کی وجہ سے عوام لاتعداد بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خطرناک کیمیائی عناصر اور

    کیڑے مار دواؤں کا استعمال نہ صرف انسانوں کے لئے متعدد بیماریوں کا سبب بنتی ہیں بلکہ جانوروں اور فصلوں کو بھی بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔پاکستان میں جو

    چاہے وہی کرتا ہے نہ مناسب قوانین ہیں اور نہ ہی ان کی پاسداری یا نفاذ کیا جاتا ہے اور پورے ملک میں خطرناک نقلی کیمیائی مصنوعات اور کیڑے مار دوائیں

    کھلے عام بک رہی ہیں اور استعمال ہو رہی ہیں ۔ سب سے بڑی اور خطرناک پرابلم یا مسئلہ صنعتی اداروں اور فیکٹریوں کا خطرناک فضلہ دریاؤں اور پانی کے نالوں

    میں ڈالنا ہے جس سے پینے کا پانی صحت کے لئے بے حد مضر ہو جاتا ہے اور عوام کی بہت بڑی تعداد خطرناک بیماریوں کا شکار ہو کر فوت ہو جاتے ہیں۔

    آبادی میں اضافہ۔ 1968ء میں پول اِیرلش (Paul Ehrlich)نے اپنی مشہور زمانہ کتاب”آبادی کا بم“ (The Population Bomb) شائع کی ۔ اس نے اس کتاب میں کہا کہ

    زراعت کے فن میں ترقی کی وجہ سے آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور خطرہ کی سطح پر پہنچ گئی اور اس وجہ سے ماحول پر بہت سخت دباؤ پڑ گیا

    ہے۔ اس میں غربت اور غیر ترقی یافتہ ممالک نے بہت ہی منفی کردار ادا کیا ہے کیونکہ ان کی حکومتوں نے نہ ہی عملی اور نہ ہی کارگزاری دکھانے والے

    اقدامات کئے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ہمارے مستقبل کا اللہ ہی حافظ ہے اور مستقبل قریب میں تباہی کا پیغام آجائے گا۔

    اوزون (Ozone)کی مقدار میں کمی۔ اوزون کی تہہ زمین کو سورج سے خارج ہونے والی الٹراوائلیٹ برقناطیسی شعاؤں سے محفوظ رکھتی ہے اس تہہ میں کمی

    سے زمین پر نہایت تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ سب سے بڑا اثر کلوروفلورو کاربن گیسوں (CFCs)کے اخراج کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ۔ بہت سے ترقی یافتہ

    ممالک اس پر رضا مند نہیں ہو رہے کہ CFCs کی تیاری میں کمی کر دیں یا بالکل بند کر دیں کیونکہ اس سے مالی فوائد وابستہ ہیں۔ اس عمل سے ماحولیات کے

    لئے بڑے خطرات موجود ہیں ۔شروُڈ رُولینڈ (Sherwood Rowland) اور ماریو مولینا (Mario Molina) نے 1974ء میں پیشگوئی کر دی تھی کی 99فیصد تمام CFCsکے

    ذرّات ماحول میں چلے جائیں گے۔ اوزون کی سطح میں کمی یا ٹوٹ پھوٹ سے نہ صرف انسانوں کی جلد میں کینسر کا ذریعہ بلکہ پودوں اور درختوں کا طرز

    زندگی بھی تبدیل ہو جائے گی جس کے نتیجے میں فصلوں کا سلسلہ خراب ہو جائے گا اور سمندری حیاتیات یعنی مچھلی ، جھینگوں وغیرہ کی زندگی پر بھی

    بہت ہی نقصان دہ اور مضر اثرات پڑیں گے۔ مانٹریال پروٹوکول (Montreal Protocol) میں تقریباً تیس ترقی یافتہ ممالک نے جن میں امریکہ اور یورپی ممالک شامل

    ہیں یہ عہد کیا کہ وہ CFCکی تمام تیاری اور استعمال پر پابندی لگا دیں گے یہ ایک نہایت مثبت قدم ہے۔

    بارشی جنگلات کی تباہی (Rain Forest Destruction)۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ای۔اُو۔وِلسن(Dr E.O. Wilson) نے کہا ہے کہ بارشی جنگلات کی کٹائی اور

    تباہی ڈائناسورس (Dinasaurs)کی تباہی کے بعد سب سے بڑی اور بری تباہی ہوئی ہے۔ (جاری ہے)

     

               

               

               

    ماحولیات کے مسائل ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان      4/23/2009

    (گزشتہ سے پیوستہ)

    بہت سے ممالک جن میں وسیع اور گھنے جنگلات تھے ان کی اکثریت ختم ہو گئی ہے کیونکہ لوگ اور بڑے بڑے با اثر لوگ لکڑی کی تجارت اور آبادی کے پھیلاؤ

    کے لئے تعمیراتی کاموں میں مشغول ہیں۔ اندازہ کے مطابق تقریباً پچاس لاکھ ایکڑ جنگلات ہر سال ضائع ہو رہے ہیں ۔ شرارت سے جنگلوں میں آگ لگا کے زمین

    حاصل کرنا ایک عام عمل ہے ۔

    کہر،دھند(Smog)۔ یہ اصطلاح دو الفاظ یعنی دھواں (Smoke) اور کہر (Fog) کا مرکب ہے اور اس کو سب سے پہلے گلاسگو پبلک ہیلتھ محکمہ کے آفیسر دیس

    وِیو(Des Voeux) نے استعمال کیا تھا ۔ یہ نہ صرف مضر بلکہ بے حد خطرناک بھی ہے۔ اس کی پیداوار میں سب سے بڑا حصہ موٹر گاڑیاں ، آگ، کچرے کوڑے کو

    جلانا، پیڑولیم کی پیداوار ، صنعتی محلل ، سیال پینٹ، سیسہ ، ملی گیس اور پٹرول، پینٹ کی تہہ چڑھانے کا ہے۔ کہر نہ صرف انسانی صحت کے لئے بے حد

    مضر ہے بلکہ فصلوں ، سبزیوں ، پھلوں وغیرہ کے لئے بھی بے حد نقصان دہ ہے ۔اس خطرے سے نجات حاصل کرنے کے لئے کئی ممالک نے سخت ترین قوانین

    نافذ کئے ہیں ۔

    پانی کی آلودگی۔ تیل و پیٹرول کا سمندر دریا میں خارج ہونا، گٹر کا پانی ، دلدل کچراکوڑا ، کیمیائی اشیاء وغیرہ اس آلودگی کے اہم ذمہ دار ہیں ۔غلیظ آلودہ پانی

    میں رہنے والے تمام جاندار متاثر ہوتے ہیں اور ہلاک ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ پرندے وغیرہ بھی اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔آلودہ پانی قدرتی توازن بھی بگاڑ دیتا ہے

    اور فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں ۔ پلاسٹک صنعت کو آلودگی کا بدترین مجرم سمجھا جاتا ہے ۔ دنیا اب اس خطرناک و تباہ کن مسئلے کے بارے میں زیادہ محتاط و

    سمجھدار ہو گئی ہے اور پچھلے تیس سالوں میں تقریباً چار سو بلین ڈالر اس مصیبت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے صرف کئے گئے ہیں۔ زمین میں موجود

    آرسینک دھات بھی پانی میں شامل ہو کر صحت کے لئے تباہ کن اثرات و بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ یہ دھات بہت زہریلی ہوتی ہے۔ پانی کو آرسینک سے صاف

    کرنے کے فلٹر کی ایجاد پر بنگلہ دیش کے پروفیسر ڈاکٹر حسام الحق کو امریکہ میں ایک گولڈ میڈل اور دس لاکھ ڈالر کا انعام دیا گیا ہے۔ان کا ایجاد کردہ فلٹر

    سسٹم صرف پینتیس ڈالر میں تیار ہو جاتا ہے اور ایک گاؤں کی آبادی کے لئے کافی ہوتا ہے ۔ بنگلہ دیش میں یہ آلودگی بہت عام تھی اور لاتعداد لوگ اس سے

    متاثر ہو رہے تھے ۔

    کیوٹوپروٹوکول (Kyoto Protocol) ۔ یہ معاہدہ جاپان کے شہر کیوٹو میں دسمبر 1997ء میں طے کیا گیا تھا اور 16فروری 2005ء کو عمل میں آیا۔اس معاہدے کے تحت

    ترقی یافتہ ممالک نے یہ منظور کیا کہ وہ 1990ء کے مقابلے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کم از کم پانچ اعشاریہ دو فیصد کمی کریں گے ۔ اس کا مقصد

    یہ تھا کہ مجموعی طور پر چھ گرین ہاؤس گیسوں یعنی کاربن ڈائی آکسائڈ، میتھین،نائٹرس آکسائیڈ، سلفرہیکسا فلورائڈ، ہائڈرو فلورو کاربن اور پر فلوری نیٹیڈ کاربن

    میں یہ کمی کی جائے۔ بدقسمتی اور تعجب کی بات یہ ہے کہ سب سے بڑے مجرم امریکہ اور آسٹریلیا نے اس پروٹوکول کی تصدیق نہیں کی اور یہ تمام محنت

    اور کوششیں رائیگاں چلی گئیں ۔

    پاکستان کی کوشش و عمل ۔پاکستان نے اس سلسلے میں اپنے محدود مالی ذرائع سے کچھ اقدامات کئے ہیں اور اس میں کچھ غیرملکیوں نے بھی مدد کی

    ہے۔ جرمن ٹیکنیکل کو آپریشن ایجنسیGT2 اور یو این ڈی پی UNDP نے دوسری ایجنسیوں کے ساتھ مل کر حکومت کی مدد کی ہے۔ وزارت ماحولیات کے تحت

    کام کرنے والی پاکستان پروٹیکشن ایجنسی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پاکستان کے ماحولیات کے تحفظ کے ایکٹ (PEPA) 1977ء کا صحیح نفاذ کرے۔

    اس ایکٹ کے تحت ماحولیات کا تحفظ ، نگہداشت ، بحالی اور بہتری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔یہ ایکٹ وزارت ماحولیات کو ہر قسم کی مدد دیتا ہے اور ماحولیات

    کے لئے پالیسیاں اور پروگرام بنانے میں رہنمائی کرتا ہے ۔

    ماحولیات کے ان مسائل سے نمٹنے والے انجینئروں اور سائنسدانوں کو کم از کم بیولوجی، کیمسٹری، جیولوجی، جغرافیہ، معاشیات اور ریاضی میں اچھی مہارت

    حاصل ہونی چاہئے۔ ان میں یہ قابلیت و سمجھ بوجھ بھی ہونی چاہئے کہ وہ ان عناصر کی نشاندہی کریں جن کی وجہ سے بنی نوع انسان نے ماحولیات میں

    تبدیلیاں پیدا کی ہیں اور قدرتی ماحولیاتی نظام میں گڑ بڑ کی ہے ۔ان کو ان تمام عناصر کی بھی سمجھ بوجھ ہونی چاہئے جو زمین کی ساخت تبدیل کرنے میں

    عمل پیرا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ماحولیاتی تباہی و خطرات میں کمی کرنے میں رول ادا کرتے ہیں۔

    پاکستان کو پہلے بیان کئے گئے کئی سنگین مسائل کا کئی وجوہات کی وجہ سے سامنا ہے اور بدقسمتی سے اس پرابلم کو ترجیحی بنیاد پر حل نہیں کیا جا

    رہا ۔ تمام شہر اور رہائشی علاقے گندے ،غلیظ نالوں،گٹر کے پانی، اینٹوں کے بھٹوں ، کیمیکل فیکٹریوں، چمڑے کے کارخانوں ،پرانی دھواں اگلتی گاڑیوں اور ملاوٹ

    والے ایندھنوں سے پُر ہیں۔اربوں روپے ایکسپریس وے اور فلائی اوور بنانے میں لگائے جاتے ہیں کہ ان میں رشوت کا مارجن یا فیصد بہت زیادہ ہوتا ہے اور آسانی

    سے مل جاتا ہے مگر گندے نالوں ، گٹر کے پانی سے گلیوں اور سڑکوں کو صاف کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔اسی طرح جعلی و نقلی خطرناک و زہریلی کیڑے

    مار دواؤں اور کھادوں کا استعمال تباہی کا باعث اور جنگلات کے اجڑنے کا ذمہ دار ہے اور ہماری مشکلات میں اضافے کا باعث ہے ۔ہماری خستہ مالی حالت ان

    مسائل سے نمٹنے میں بڑی رکاوٹ ہے لیکن ایسے اقدام جن کے لئے زیادہ مالی وسائل کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ہم ان پر بھی عمل کرنے اور کرانے میں نااہل

    ثابت ہوئے ہیں۔اچھا انتظام اور قوانین کا سختی سے عمل درآمد اور سخت سزائیں بہت سی برائیوں کو ختم کر سکتی ہیں مگر یہ امید کرنا یقینا چاند مانگنے کی

    خواہش کے برابر ہے ۔

    چار جانب گونجتی آواز کے تیور سمجھ

    دو گھڑی تو سوچ تیرے گھر میں کیا ہونے کو ہے

     

               

               

               

    پرانی تاریخ اورموجودہ سیاست,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان        4/29/2009

    میں نے ابتدا میں عندیہ ظاہر کیا تھا کہ میں زیادہ توجہ تعلیمی معاملات اور غیر سیاسی اُمور پر دوں گا اور اب تک انہی موضوعات پر توجہ مبذول رکھی ہے لیکن

    پچھلے دنوں اخبارات میں چند ایسی باتیں پڑھنے میں آئیں اور ٹی وی پر بھی دکھائی گئیں کہ میں اس بارے میں اپنے کچھ تاثرات بیان کرنا چاہتا ہوں۔

    ہم سب کو یاد ہے کہ ہمارے رہنماؤں نے پورے ملک کو اور عوام کو یہ تا ثر دیا تھا کہ امریکن الیکشن ہمارے لئے امرت دھارا ثابت ہو گا اور ہماری تمام مشکلات

    چٹکی بجاتے ہی حل ہو جا ئیں گی۔ لوگ بارک اوبامہ کو مسیحا کے طور پر پیش کر رہے تھے اور ہمارے حکمران ہمیں روز یہ یقین دلا رہے تھے کہ اوبامہ کے صدر

    بنتے ہی یا حلف اٹھاتے ہی ہمارے ملک پر امن و سکون اور من و سلویٰ کی بارش ہونے لگے گی۔ بار بار جتلایا جا رہا تھا کہ ڈرون حملے اسی روز بند ہو جائیں گے

    ۔ بعد کے حالات آپ کے سامنے ہیں اور آپ خود اندازہ کر لیں کہ ہمارے لیڈروں کی سوچ اور اس کی گہرائی کا کیا معیار ہے۔ کافی سمجھدار لوگ اس خام خیالی

    سے پوری طرح واقف تھے اور ان کو علم تھا کہ ایک سیاہ فام صدر ایک سفید فام اکثریت کا غلام ہو گا اور وہی کچھ کرے گا جو سفید فام اسٹیبلشمنٹ اس کو

    کرنے کو کہے گی۔ جس دن اوبامہ نے حلف اٹھایا اسی روز ڈورن حملہ ہوا اور یہ حملے پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔صدر اوبامہ کی حیثیت کسی

    ہندوستانی مسلم صدر سے مختلف نہیں ہے وہ بھی بیچارہ پتلی بنا رہتا ہے اور ڈوریاں کٹر ہندو افسران کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ۔ آپ جب بھی ٹی وی پر اوبامہ کو

    دیکھیں گے تو ان کے دونوں جانب سفید فام افسران کی قطار لگی ہوتی ہے ۔تمام رپورٹیں ، تمام مشورے ،یہی سفید فام لوگ دیتے ہیں اور صدر اوبامہ اپنی

    رطب اللسانی کے باوجود انہی لوگوں کے تیار کردہ ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔

    دیکھئے جس بات کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا تھا وہ ابھی چھ اپریل کو انقرہ میں اوبامہ کی تقریر تھی جس میں انہوں نے ہمیں یہ جتانے کی کو شش کی کہ

    امریکہ اسلام کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا ۔ گویا بلاجواز بے رحمی سے مسلمانوں کا قتل عام بالکل جائز ہے۔آپ کو یاد ہو گا کہ صدر ریگن اور روسی صدر گورباچوف

    کے دور میں جب روسی سلطنت ٹوٹ گئی تو ریگن ، مارگریٹ تھیچر اور مغربی رہنماؤں نے بھنگڑے مارے اورکھلے عام مغربی حکمرانوں اور ذرائع ابلاغ نے یہ کہا

    کہ اب ان کا سب سے بڑا دشمن اسلام اور مسلمان ہیں۔ بش نے کھل کر عراق و افغانستان کے خلاف جنگ کو کروسیڈ یا صلیبی جنگ قرار دیا تھا ۔ اوبامہ نے

    جس کا اصلی اور سوتیلا باپ مسلمان تھا اپنے آپ کو بادشاہ سے زیادہ وفادار ثابت کرنے کی مہم شروع کی ہے ، انہوں نے وہی بش والی گفتگو شروع کر رکھی

    ہے جو بش کے پرانے ساتھی سامنے رکھ دیتے ہیں یہ وہی دہرانا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہمیں روز القاعدہ و طالبان کے سبق دیئے جا رہے ہیں اور یہ بھی پروپیگنڈا

    شروع کر دیا ہے کہ القاعدہ امریکہ پر حملے کا پروگرام بنا رہی ہے ۔صرف رنگ بدلا ہے زبان نہیں بدلی ۔

    ذرائع ابلاغ کے مطابق اوبامہ نے ابتدا میں یہ بھی کہا تھا کہ خانہ کعبہ کو نیست و نابود کر دو کہ یہی ہر فساد کی جڑ ہے۔ وہ غالباً ابراہا اور اس کی ہاتھیوں کی

    فوج کا انجام نہیں جانتے کہ اس نے بھی یہی کوشش کی تھی اور وہ اور اس کی فوج ابابیلوں کی کنکریوں سے بھوسے میں تبدیل ہو گئے تھے (سورة فیل)۔

    اوبامہ نے بھی وہی بش والی رٹ لگا رکھی ہے ہر دوسرا لفظ القاعد ہ یا طالبان ہوتا ہے اور ہر بار تمام الزام پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر ڈال دیا جاتا ہے۔

    ایک عیسائی کہاوت کے بارے میں بچپن سے سنا کرتے تھے کہ اگر کوئی تم کو ایک تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی پیش کر دو لیکن جب کچھ سمجھ بوجھ آئی اور

    تاریخ کا مطالعہ کیا تو حقائق بالکل مختلف تھے، جنوبی امریکہ میں ہسپانوی فوج کا بیگناہ مقامی لوگوں کا قتل و غار ت گری، شمالی امریکہ میں انہی انسانی

    حقوق کے علمبرداروں کے ہاتھوں مقامی ریڈ انڈینزکا قتل عام ، بدمعاشی اور شرارت سے اسرائیل کا قیام اور بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام، شریف مکہ سے

    مل کر ترکوں کا قتل عام، سینیگال کے سپاہیوں سے شام کے عوام کا قتل عام اور لبنان کا قیام اور ہسپانوی فوج کا فلپائن میں مسلمانوں کا قتل عام اور خود

    اسپین میں قتل عام اور اس کے مقابلہ میں آپ کو سلطان ایوبی کا فتح بیت المقدس کا واقعہ یاد ہے کہ پہلے انہوں نے تمام عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو آزاد

    کر دیا اور جو جوان آزادی کا معاوضہ ادا کرنے سے قاصر تھے سلطان کے بھائی نے پوشیدہ طورپر رقم بھیج کر ان کو آزاد کرا دیا کہ وہ واپس اپنے ملکوں کو جا

    سکیں۔اس کے برعکس جب عیسائی فوج نے بیت المقدس پر حملہ کر کے قبضہ کیا تھا تو مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی قتل و غارت گری سے مسجد کے

    صحن میں اس قدر خون تھا کہ گھوڑوں کے سُم اس میں ڈوبے ہوئے تھے ۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اسپین پر آٹھ سو سال سے زیادہ حکمرانی کی اور

    اقلیت میں ہی رہے اور اسی طرح مسلمانوں نے ہندوستان پر بھی تقریباً اتنے ہی عرصے حکومت کی اور اقلیت میں رہے اور بعد میں خمیازہ بھگتا ۔ آپ کو یہ بھی

    علم ہے کہ مشرقی یورپ کے کئی ممالک پر ترکوں نے کئی سو سال حکومت کی اور اقلیت میں ہی رہے اگر ان ممالک میں اور اسپین اور ہندوستان میں

    مسلمان حکمران ذرا بھی سختی کرتے تو پوری آبادی کو مسلمان بنا لیتے لیکن اسلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق کہ ”مذہب میں جبر نہیں ہے“ انہوں نے

    کبھی کسی پراس سلسلے میں جبر و ظلم نہیں کیا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو شکست دے کر ان کا قتل عام کر کے ہسپانوی حکمرانوں نے یہودیوں کو تختہ مشق بنا دیا تھا ، ان پر سخت مظالم کئے اور

    زندگی تنگ کر دی تھی اور ملک بدر کر دیا تھا کسی یورپی عیسائی ملک نے ان یہودیوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی مگر سلطان ترکی نے

    اسلامی روایات و ہمدردی کے تحت ان یہودیوں کو ترکی میں داخل ہونے کی اجازت دی جہاں آج بھی لاکھوں یہودی نہایت خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں اور

    اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہیں۔ بہت دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہودی جن کو عیسائیوں نے قتل کیا ، ملک بدر کیا ، اب یہ اسی قسم کے مظالم بے گناہ

    فلسطینیوں پر ڈھا رہے ہیں نہ فلسطینیوں نے ان پر مظالم ڈھائے تھے اور نہ ہی ان کو ملک بدر کیا تھا ۔ اقوام متحدہ چونکہ ایک نہایت ناکارہ ادارہ ہے اور امریکہ ،

    انگلینڈ کے احکامات کی تعمیل کرتا ہے اس کی ناقص کارکردگی کا جیتا جاگتا ثبوت عراق اور افغانستان پر امریکہ اور اس کے حواریوں کا ناجائز حملہ اور تباہی اور

    پچاس سال سے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم ہیں۔

    اس عرصہ میں لاکھوں بے گنا ہ مسلمان قتل کئے جا چکے ہیں اور قاتلوں کے خلاف ایک بھی قرارداد مذمت پاس نہیں ہوئی ۔ اسرائیلی روز بروز فلسطینی زمین

    پر قبضہ کرتے جاتے ہیں ، ان کا قتل عام کرتے ہیں اور تمام بزدل اور ضمیر فروش ارب پتی مسلم ممالک عیاشیوں میں مست ہیں۔ آپ کو یاد ہے ایک مظلومہ کے

    دُکھ بھرے خط کے ملنے پر حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو سندھ بھیج دیا تھا اور اس نے ظالموں کی بیخ اکھاڑ دی تھی ۔ آٹھ سو سال تک یورپ ، چین و

    روس کے حکمران مسلمانوں سے کانپتے تھے اور مسلسل تحفے تحائف بھیج کے ان کی خوشنودی حاصل کرتے تھے اور اس وقت مسلمان غریب تھے ، بے

    سرو سامان تھے مگر ایمان کی دولت سے مالا مال تھے، آج مال و دولت تو ہے مگر ایمان کا فقدان ہے۔

    ابھی چند دن پیشتر امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگ پر تقریباً اسّی ارب ڈالر خرچ کئے جائیں گے۔آپ کے ہمارے سامنے امریکہ کی

    معیشت کا حال موجود ہے، لاتعداد بنک اور بڑی کمپنیاں دیوالیہ ہو چکی ہیں ، بیروزگاری عروج پر ہے۔ٹی وی پر آپ نے دیکھا ہے ہزاروں خاندان چھوٹے چھوٹے سے

    خیموں میں کھلے عام زندگی گزار رہے ہیں مگر حکمرانوں کو اس کی کیا فکر ، وہ تو بڑے بڑے محلات اور بنگلوں میں رہتے ہیں۔ذرا سوچئے کہ یہ اربوں ڈالر جو

    بیگناہ معصوم لوگوں کے قتل عام پر خرچ کئے جارہے ہیں اگر یہ وہاں اپنے ملک میں غریبوں پر خرچ کئے جائیں تو ان کی کتنی مشکلات دور ہو سکتی ہیں۔

    دیکھئے جہاں تک افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں یا کسی اور ملک کی بات ہے امریکہ صاف طور پر انتباہ کر سکتا ہے کہ اگر کسی علاقے سے بھی

    امریکہ پر کوئی جارحانہ اقدام کیا گیا تو امریکہ اس کو کوئلہ بنا دے گا، ایک سنجیدہ وارننگ کافی ہے مگر اس پر بش، چینی اور کولن پاول کی طرح جھوٹے الزامات

    لگا کر اور پوری دنیا کو دھوکہ دے کر جلد بازی سے عمل نہ کیا جائے جب تمام حقائق دنیا کے سامنے رکھ کر یہ تصدیق ہو جائے کہ واقعی مجرم کون ہے کوئی

    ایکشن نہ لیا جائے۔ اگر امریکہ اسی طرح دوسرے ممالک میں جنگوں میں الجھتا رہا تو پھر اس کے دن پورے ہو جائیں گے۔ایک مثال ہے کہ جس کو دو وقت کھانا

    ملے وہ کبھی تصور نہیں کر سکتا کہ کسی دن بھوکا مر سکتا ہے اور ریس کار ڈرائیور اور اچھا تیراک کبھی نہیں سوچتے کہ ان کی موت کار میں اور پانی میں ہو

    گی مگر اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔لیکن امریکہ سے اس کی توقع کرنا خام خیالی ہے رعونیت اور تکبر اس قوم میں کوٹ کوٹ کر بھر ا ہوا ہے اور اوبامہ کے صدر بننے

    کے باوجود سیاہ فام اب بھی سب سے زیادہ معاشی مشکلات اور بیروزگاری کے شکار ہیں اور آج بھی وہاں وہی اصول قائم ہے کہ ” کالوں کو سب سے آخر میں

    بھرتی کرو اور سب سے پہلے فارغ کر دو۔“

    دوسرے مذاہب کی طرح عیسائی مذہب بھی اگرچہ محبت، رواداری ،خلوص و انکساری کی ہدایت کرتا ہے مگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں کہ عیسائیوں کا

    کردار بالکل مختلف رہا ہے۔ اس قوم سے زیادہ ناقابل یقین ظالم، نسل کُش، جبر کرنے والی اور کروڑوں بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والی قوم کُرہ ارض پر نہیں ہے ۔

    مثال کے طور پر شمالی امریکہ میں ریڈ انڈین اور جنوبی امریکہ میں مقامی لوگوں کا قتل عام، اسپین اور فلپائن میں اسپین کے باشندوں کامسلمانوں کا قتل

    عام، بوسنیا میں سربوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام، امریکنوں کے ہاتھوں ویتنام اور کوریا کے باشندوں کا قتل عام اور فلسطینیوں کا اسرائیلیوں کے ہاتھوں

    قتل عام ۔ اسرائیلی اگرچہ عیسائی نہیں مگر یہ یورپین اور امریکی سفید فام ہیں اور مغربی ممالک کی مدد اور اشارے سے فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔

    دیکھئے حقیقت یہ ہے کہ ہم یعنی مسلم امّہ جس لعنت و ذلت کا شکار ہیں وہ ہماری اپنی بزدلی ،نااہلی اور نفاق کی وجہ سے ہے اور اس سے بڑھ کر مغربی

    ممالک کی ریشہ دوانیوں ، جعلسازیوں اور ہمارے درمیان تفرقہ ڈالنے کی وجہ سے ہے۔ جب تک ہم پرانی روح ، پرانا عزم نہ اپنائیں گے ہم ذلت کا شکار رہیں گے ۔

    گویا علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے۔

    خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے

    مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشاہی

     

               

               

               

    پرانی تاریخ ۔ موجودہ سیا سی حالات ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان             5/6/2009

    سب سے پہلے آپ کی توجہ عراق ، افغانستان کے معاملات کی طرف دلانا چاہتا ہوں، پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح انسانی حقوق کی سپہ سالار ی کا دعویٰ

    کرنے والے باربار بے شرمی سے جھوٹ بولتے رہے ۔ ان میں سب سے بڑھ کر بش اور بلیئر تھے اور کس طرح انہوں نے عراق پر ایٹم بم بنانے اور موجودگی کے

    بارے میں بار بار جھوٹ بول کر ایک اسلامی ملک کو ، اس کے عوام کو اور تہذیب و تمدن کو تباہ کردیا تھا۔ یہی بلیئر اب فلسطین کا مسئلہ حل کرنے چلا ہے

    یعنی فلسطینیوں کو وہی پرانی میٹھی گولی دے رہا ہے ۔ اس ایک کمزور ملک پر نہ صرف امریکہ اور انگلستان نے تباہی برسائی بلکہ اس غیر انسانی اور جارحانہ

    عمل میں یورپ کے تیس سے زیادہ ممالک نے ساتھ دیا ۔اب تک ایک لاکھ سے زیادہ معصوم بچے، عورتیں ، مرد اور بوڑھے جاں بحق ہو چکے ہیں مگر یہ بربریت

    جاری ہے۔ اسی طرح افغانستان میں بربریت کا سلسلہ جاری ہے قیاس ہے کہ تقریباً بیس لاکھ انسان ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ جارحیت بغیر کسی قابل قبول جرم

    کے۔ صدام حسین کو تو 43بے گناہ لوگوں کے قتل کے جرم میں پھانسی دے دی گئی مگر لاکھوں بے گناہ انسانوں کے قاتل آزاد پھر رہے ہیں اور عیاشی کر رہے

    ہیں ۔اسلامی ملک سوڈان کے صدر کے خلاف تو بین الاقوامی عدالت جرائم نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں مگر نہ ہی بش و بلیئر اور نہ ہی ان کے قاتل

    کارندوں کے لئے ایک لفظ مذمت کہا گیا ۔ اوبامہ سے ہماری کسی قسم کی اچھی توقع کرنا ایسا ہی ہے جیساکہ ہم ایل کے ایڈوانی سے محبت کی امید کریں

    ۔

    اسی طرح عراق کے وزیر” کیمیکل “ علی کو سزائے موت سنائی گئی کہ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کیمیکل ہتھیار تیار کئے تھے(جو جھوٹا الزام تھا) لیکن کوئی

    بھی امریکن نہ ہی جیل بھیجا گیا اور نہ ہی کسی کو سزائے موت سنائی گئی کہ ویتنا م میں نہایت مہلک قاتل گیس ایجنٹ آرینج(Agent Orange) استعمال کی

    یا اس کی تیاری کی ۔ یہ دہرے قوانین کیوں؟ کیوں ایک کے اعمال قابل قبول ہیں اور دوسرے کے قابل قتل؟ کسی مغربی ملک نے امریکہ کو نسل کشی کا ذمہ

    دار یا مجرم نہیں ٹھہرایا اور اوبامہ کے ساتھ مختلف سلوک نہیں ہونا چاہئے ابھی حال ہی میں پاکستانی امداد پر چند سخت اور توہین آمیز شرائط لگا کر ہمیں ذلیل

    و خوار کیا جا رہا ہے لیکن پھر کہاوت ہے کہ فقیر اپنی پسند کی چیز تو حاصل نہیں کرتے جو کچھ ان کے کشکول میں ڈال دو وہ قبول کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں ڈیڑھ ارب

    ڈالر سالانہ خیرات دینے کا عندیہ دیا گیا ہے جبکہ ہمارے اپنے محب وطن پاکستانی تقریباً سات ارب ڈالر سالانہ بھیجتے ہیں اور اگران سے مخلصانہ درخواست کی

    جائے اور ان کو شفاف اور ملک دوست پالیسی کا یقین دلایا جائے تو یہ رقم بآسانی دس ارب ڈالر تک جا سکتی ہے اور ہمیں کسی کے آگے فقیر کی حیثیت

    سے ہاتھ پھیلانے کی قطعی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    ڈرون حملے جاری ہیں مصدقہ اطلاعات کے مطابق ساٹھ حملوں میں تقریباً سات سو بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔اپنے ردعمل کو دیکھ کر سر

    شرم سے جھک جاتا ہے ۔امریکہ نے ایران پر مسلسل الزام لگایا کہ وہ عراق میں ہتھیار اور تخریب کار بھیج رہا ہے مگر آج تک اس کی جرأت نہیں ہوئی کہ ایک

    ڈرون حملہ بھی کر سکے ۔ نہ ہی اس کی آبادی ہمارے برابر ہے اور نہ ہی فوجی قوت ہمارے برابر ہے۔اسی طرح آپ کے سامنے ابھی شمالی کوریا کا میزائل

    ٹیسٹ ہے، امریکہ ، جنوبی کوریا اور جاپان نے بہت دھمکیاں دیں ، واویلا کیا اور میزائل کو مار گرانے کی دھمکی دی مگر شمالی کوریا اس گیدڑ بھبکی سے

    خوفزدہ نہیں ہوا اور کامیابی سے تجربہ کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ گڑ بڑ کے حالا ت میں چند منٹ میں جنوبی کوریا کا دارالحکومت اور کئی شہر دنیا کے نقشے سے

    غائب ہو جائیں گے اور تقریباً یہی حال ٹوکیو کا ہو گا ۔ آپ کو یا د ہو گا کہ شمالی کوریا نے بہت عر صہ پیشتر امریکی جاسوسی جہاز Pueblo پکڑ لیا تھا اور اس

    کے اسٹا ف کو جیل میں ڈال دیا تھا ۔ میں نے شمالی کوریا کے دورے کے دوران اس جہاز کا معائنہ کیا تھا ۔ اس کے علاوہ آپ کے سامنے ایرانی طلبہ کا امریکی

    سفارت خانہ پر قبضہ اور وہاں کے اسٹاف کو قید کرنے کا واقعہ بھی ہے ۔ اگرچہ یہ عمل سرکاری وسفارتی آداب کے خلاف تھا مگر کیونکہ امریکہ نے شہنشاہ کے

    دور میں ایران کو بہت نقصان پہنچایا تھا اس لیے ایرانی طلبہ نے یہ کارروائی کی تھی۔

    صومالیہ کے بحری قذاقوں نے مغربی جہازوں کا اغوا کرنے میں مہارت حاصل کر لی ہے، نہ ہی وہاں ڈرون کام آرہے ہیں اور نہ ہی ٹوماہاک میزائل، یہ ہتھیار صرف

    نہتے معصوم قبائلی لوگوں پر بے دریغ استعمال ہوتے ہیں اور ان پر دہشت گرد القاعدہ اور طالبان کی پرچی لگا دی جاتی ہے اور ہم فخریہ اس مسلم کش مہم

    میں شامل ہوتے ہیں۔ابھی حال ہی میں امریکہ کے شہ پر ایتھوپیا کی عیسائی حکومت نے بلاجواز ایک خود مختار آزاد ملک صومالیہ پر کھلم کھلا جارحانہ حملہ

    کر دیا تھا اور دارالحکومت موغادیشو اور کئی شہروں پر قبضہ کر کے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کر دیا تھا ۔ اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان کی مون

    اور مغربی ممالک نے اس جارحیت پر قطعی کوئی اعتراض یا احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی مذمت کی۔ اس کے برعکس جب انڈونیشیا کے صوبہ آچے میں عیسائیوں

    نے بغاوت کی تو امریکہ اور تمام مغربی ممالک نے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈال کر آزادی دلا دی تھی۔

    پچھلے دنوں ایک لڑکی کو سوات میں کوڑے مارنے والا ایک افسوسناک و قابل مذمت منظر دکھایا گیا اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے ،کم ہے کیونکہ

    اسلام کی مقرر کردہ سزا کے قطعی منافی تھالیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان کی مون صاحب نے فوراً ایک مذمتی تیر ہم پر

    داغ دیا۔ابھی چند ماہ پیشتر جب اسرائیلی حکومت و فوج نے نہایت بربریت سے تقریباً چودہ سو فلسطینی مرد، بچے اور عورتوں کا قتل عام کیا تھا تو یہ صاحب

    دوسری جانب دیکھ رہے تھے اور امریکہ نے اقوام متحدہ میں کوئی قرارداد اسرائیل کے خلاف منظور نہیں ہونے دی۔خواہ فلسطین ہو یا کشمیر جہاں لاکھوں لوگ

    بربریت کے شکار ہو چکے ہیں اس میں بر طانیہ کا ہاتھ ہے ، انگریزوں کی اسلام اور مسلم دشمنی کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے اور انگریزوں نے جہاں یہ

    مہم چھوڑی تھی امریکہ نے اس کو اپنا لیا ہے۔فلسطین کی تاریخ دیکھیں تو صدر نکسن سے لے کر اوبامہ تک ہر صد ر آتے ہی اعلان کرتا ہے کہ فلسطینیوں کو

    اپنی مملکت کا حق ہے اور ان کو یہ ملنا چاہئے اور تو اور کارٹر نے تو ایک کتاب بھی لکھ ڈالی۔ پہلے چار سال کارٹر ، پھر آٹھ سال ریگن، پھرچار سال باپ بش اور پھر

    آٹھ سال کلنٹن اور پھر آٹھ سال بیٹا بش، اسی طرح پچھلے بتیس سالوں سے ہم یہ کہانی سنتے آرہے ہیں اور فلسطینی عوام کو دھوکہ اور بربریت کا نشانہ بنایا

    جا رہا ہے۔ دیکھئے مسئلہ اگر مغربی ممالک دیانتداری سے حل کرنا چاہیں تو ایک ہفتے میں حل ہو سکتا ہے۔یہ لوگ اسرائیلی اور عرب رہنماؤں کو ساتھ لے کر

    بیٹھ جائیں ۔ اسرائیل مقبوضہ علاقے خالی کرے اور تمام عرب ممالک اس کو ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے قبول کر کے سفارتی تعلقات قائم کر لیں لیکن

    ایسا کیوں ہو؟ ایسانہ ہونے کہ وجہ یہ ہے کہ امریکہ ، انگلستان اور دوسری سفید فام قومیں اس کوشش میں ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل اپنے

    ملک کو وسیع کرتا جائے گا، فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کرتا جائے گا اور وہ مالدار بزدل عرب انگلی نہ اٹھائیں گے۔تین ماہ تیل پر پابندی لگانے سے تمام

    اسرائیلی دوست گھٹنوں پر آ جائیں گے۔اگر عربوں کا امریکہ ، انگلستان ، آسٹریلیا ، جاپان اور کینیڈا کے معدنی وسائل پر کوئی حق نہیں بنتا تو پھر ان ممالک کا

    بھی عرب ممالک کے وسائل پر کوئی حق نہیں ہے۔

    پچھلے دنوں دو واقعات مغربی ممالک کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹک رہے ہیں ایک شمالی کوریا کا میزائل ٹیسٹ اور دوسرے ایران کا ایٹمی پروگرام۔ آپ ان ممالک

    کی دوغلی پالیسی کو ملاحظہ کریں، جب اسرائیل ، ہندوستان، جاپان، جنوبی کوریا اور دوسرے چمچے ممالک ایسے میزائل ٹیسٹ کرتے ہیں تو مبارکباد دی

    جاتی ہے مگر شمالی کوریا یہ ”گناہ“ کرے تو جہنم کا عتاب نازل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایران کے ایٹمی پروگرام پر الزام تراشی اور شور مچایا ہوا ہے۔یہ خدائی

    فوجدار کبھی اسرائیل سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کا عربوں اور پاکستانیوں سے معائنہ کرائے اور اس کے پُر امن ہونے کا ثبوت

    دے۔بد معاشی اور دوغلانہ پالیسی یہ ہے کہ اسرائیل کو ایک پاگل طاقتور کتے کی طرح چھوڑ دو اور عربوں کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دو۔اس میں بہت قصور

    عرب ممالک کا بھی ہے ۔حضرت عمر ، حضرت امیر معاویہ اور سلطان محمد فاتح کے دور میں ان کی گھگی بنی رہتی تھی کیونکہ اس وقت کے مسلمان

    صحیح مسلمان تھے ، ایماندار تھے اور طاقتور تھے، آج کل خود پرستی اور عیاشی عروج پر ہے اور ذلت و بے غیرتی کو زندگی کا شیوہ بنا لیا گیا ہے۔

    آپ کے ہمارے سامنے ویتنام ، کوریا، عراق اور افغانستان میں مغربی ممالک کی مداخلت اور قتل عام کی مثالیں موجو د ہیں اور یہ بھی علم ہے کہ اگر دشمن یا

    مد مقابل سخت ثابت ہوا تو ان لوگوں کے بہادری کے دعووں کا کیا حشر ہوا۔ مدت بیتی، سفارتی تقریبات میں میری ملاقات لاتعداد سفیروں سے ہوتی رہتی تھی

    ان میں جنوبی کوریا کے سفیر بھی تھے۔ انہیں پاکستان اور شمالی کوریا کے تعلقات پر فکر تھی۔ میں نے ایک دن الگ بیٹھ کر ان سے گفتگو کی اور ان کو یہ

    سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ کیوں امریکی بل ڈاگ بن کر اپنے ہی ہم وطن شمالی کوریاکے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں اور دشمنی میں اضافہ کئے جاتے ہیں

    ، پرانی جنگ کو چالیس سال گزر گئے ہیں اور امریکن آپ کو مرغوں اور کتوں کی لڑائی کا تماشہ بنا رہے ہیں ، آپ ایک قوم ہیں آپ کا ایک کلچر ہے ، آپ دونوں

    یعنی پوری قوم ایک ہی دشمن کی جارحیت کا شکار رہا ہے اور لاتعداد مظالم اٹھائے ہیں۔شمالی کوریا کے عوام آپ کے دوست ہیں ، بہن بھائی ہیں ، ان کو ملٹری

    ٹیکنالوجی میں بہت مہارت ہے اور اگر آپ دونوں مل جائیں گے تو ایک بہت بڑی طاقت بن جائیں گے اور آپ کے نام نہاد دوستوں اور ہمدردوں کو یہ بات گوارہ نہیں

    ہے ۔ آپ کے سامنے مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کا الحاق ہے، الحاق سے پیشتر امریکہ نے مشرقی جرمنی کو شیطان کے طور پر پیش کر رکھا تھا، پھر

    جنوبی اور شمالی یمن کا الحاق بھی سامنے ہے اور ویتنام کا الحاق بھی۔ویتنام میں امریکہ نے بدمعاشی کر کے الیکشن معطل کرا دیا اور ایک ڈکٹیٹر کو بٹھا کر

    جنگ شروع کرا دی، تمام زہریلی گیسوں کا وہاں استعمال کیا، لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا اور ذلت سے شکست کھا کر بھاگنا پڑا۔ آج ویتنام ایک قابل دید ملک ہے

    اس نے بہت ترقی کی ہے لوگ خوش حال ہیں جس طرح جرمنی دنیا کی اہم معاشی قوت بن گیا ہے۔ میں نے سفیر اور ان کے اسسٹنٹ سے عرض کیا کہ آپ

    محبت ، خلوص اور مالی مدد سے الحاق کی کوشش کریں امریکن بل ڈاگ کا رول ادا نہ کریں۔دیکھئے شاید کبھی ان لوگوں کو یہ بات سمجھ آجائے اور یہ اپنے

    مفاد کو امریکی مفاد پر ترجیح دے کر الحاق کی جانب قدم بڑھائیں۔

    ابھی چند دن پیشتر اوبامہ نے سی آئی اے کے تمام درندوں کو جنہوں نے لاتعداد بے گناہ قیدیوں پر نہایت نفرت انگیز اور تکلیف دہ مظالم ڈھائے تھے کھلی عام

    معافی دے دی حالانکہ خود امریکی حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ یہ قیدی کسی جرم کے مرتکب نہ تھے اور یہ کہ یہ مظالم بین الاقوامی قوانین اور یو این یعنی

    اقوام متحدہ کے منشور کے تحت بھی ناقابل معافی جرائم کے تحت آتے تھے لیکن جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والی بات ہے۔

    ابھی ایک اور واقعہ قابل غور ہے ۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر سایہ ایک بین الاقوامی کانفرنس نسلی امتیاز پر کی گئی۔ اس میں ایران

    کے صدر احمدی نژاد نے بھی شرکت کرنا تھی۔ کانفرنس کے شروع ہونے سے پیشتر ہی امریکہ اور اس کے حواری ممالک آسٹریلیا ، اسرائیل، کینیڈا، جرمنی،

    اٹلی ، ہالینڈ، نیوزی لینڈ اور پولینڈ نے اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایرانی صدر نے اسرائیل کو ایک نسل پرست ملک قرار دیا جو ایک حقیقت ہے، اس بات

    پر بان کی مون اور دوسرے مغربی لیڈروں نے سخت احتجاج کیا لیکن ان کی دوغلی پالیسی کا منظر اس وقت دیکھئے جب بے گناہ مسلمانوں کے خون سے تر

    ہاتھوں والا اسرائیلی وزیراعظم اُولمرٹ یا پیریس کسی کانفرنس میں تقریر کرتے ہیں تو یہی لوگ اس طرح باادب بیٹھ کر سنتے ہیں گویا نغوذ بااللہ حضرت عیسیٰ

    انجیل کی تلاوت کر رہے ہوں ۔ بس مسلمانوں کی حالت زار کی یہ شعر عکاسی کرتا ہے ۔

    دل ہلا دوں کس کا ، غم کی داستاں کس سے کہوں

    بے کسوں کی کون سنتا ہے فغاں کس سے کہوں

    ایک اور مثال ابھی انگلینڈ میں گیارہ پاکستانی طلباء کی گرفتاری ،ان پر دہشت گردی کا الزام، زمین پر لٹا کر بندوقیں سر پر لگانا، ہتھکڑیاں لگانا ہے ۔ وزیر اعظم

    گورڈن براؤن نے ٹی وی پرایک تھیٹر بنا دیا اور ایک ہفتہ بعد یہ تمام طلباء بے گناہ پائے گئے ۔آپ سوچئے کہ ان بیچاروں پر کیا گزری ہو گی لیکن اس بدمعاشی پر نہ

    ہی پولیس اور نہ ہی حکومت نے معافی مانگی بلکہ ان کو ملک بدر کرنے کی بات ہو رہی ہے ۔ یہ ہے مغربی قانونِ عدل اور انسانی حقوق کا تحفظ ، مگر ہماری

    اپنی بے غیرتی ایسے واقعات کی ذمہ دار ہے۔

     

               

               

               

    اسلام میں رواداری اورمعافی کا تصور,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان               5/20/2009

    اپنے پچھلے کالم میں میں نے اسلام میں سنہری اصول رواداری اور معافی کے تصور پر تبصرہ کیا تھا۔ یہ بتلایا تھا کہ ان موضوعات کے کیا معنی ہیں اور اس بارے

    میں احادیث نبوی کی روشنی میں ان کی اہمیت پر تفصیلی تبصرہ کیا تھا۔ اس کالم میں آپکی خدمت میں اسی موضوع پر فرمان الٰہی پیش کرنا چاہتا ہوں اور

    آپ کو یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالٰی نے رواداری، محبت اور معاف کرنے کو کس قدر اہمیت دی ہے۔

    پچھلے اور اس کالم میں ان غیرتعلیم یافتہ، جاہل اور گمراہ لوگوں کے بارے میں کچھ عرض کروں گا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں مگر جن کے اعمال قابل

    نفرت اور مکروہ ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کس طرح بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کی ترغیب دینا، عورتوں اور بچوں کا قتل عام جائز ہوسکتا ہے،

    کس طرح تعلیمی اداروں کی مسماری کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ ان میں نہ صرف روزمرہ کی زندگی کے مضامین بلکہ دینی، قرآنی، اسلامی تاریخ،

    اسلامی ثقافت جیسے علوم کی تعلیم دی جاتی ہے جس سے ہم ان سازشوں سے واقف ہوتے ہیں جو ہماری ذلت اور تباہی کا سبب ہیں۔ اگرچہ مسلم دشمن

    عناصر کی سازش اور جعلسازیاں ہماری موجودہ خراب حالت کی ذمہ دار ہیں لیکن اس سے زیادہ ہم خود اس بات کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم نے اللہ تعالٰی کے

    احکامات اور احادیث نبوی کو قطعی نظرانداز کردیا ہے بلکہ اندرونی خلفشار اور جھگڑے، سازشیں بھی اس میں بڑا رول ادا کررہے ہیں۔ ہم نے اسلام کے

    سنہرے اصول رواداری، صبر، معافی کو آپس کے تعلقات میں بالکل نظرانداز کردیا ہے۔

    اللہ رب العزت نے ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات عطا کیا ہے۔ یہاں صرف چند قرآنی آیات کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔

    ”زندگی کے بدلے زندگی، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، دانت کے بدلے دانت، زخم کے بدلے زخم ایک برابر بدلہ ہے لیکن اگر تم معاف کردو تو یہ تمہارے

    لئے کفارہ ہوگا“۔ (سورة المائدہ آیت45)

    ”اے اہل ایمان تم کو قتل کے بدلے قتل، ایک آزاد انسان کے بدلے آزاد انسان، ایک غلام کے بدلے غلام اور ایک عورت کے بدلے عورت کی اجازت ہے لیکن اگر

    مقتول کا بھائی قاتل کو معاف کردے تو قصاص کی رقم مقرر کی جائے۔ قانون میں تمہارے لئے حفاظت کے پہلو کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ تم خود پر (جذبات) قابو

    رکھ سکو“۔ (سورة البقرہ آیت178)۔

    ”اگر تم بدلہ لینا چاہو تو ان کو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی۔ اگر صبر سے برداشت کرلو تو یہ بہت اچھا ہے“۔ (سورة الخل آیت 126)۔

    ”کسی جاندار کو قتل نہ کرنا جس کو اللہ نے حرام کردیا ہے اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے اللہ نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے کہ قتل کا بدلہ لے مگر

    قتل کے قصاص میں زیادتی نہ کرے کہ وہ فتحیاب ہے“۔ (سورة بنی اسرائیل آیت33)۔

    ”برائی کا بدلہ اسی طرح کی برائی ہے مگر جو معاف کردے اور معاملے کو درست کردے تو اس کا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں اللہ ظالموں کو پسند

    نہیں کرتا۔ اور جس پر ظلم ہو وہ اگر بدلہ لے تو اس پر کچھ الزام نہیں۔ الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں یہی لوگ ہیں

    جن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ملے گا۔ اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں“۔ (سورة شوریٰ آیات 40-43)۔

    ”خواہ وہ مالدار ہوں یا غریب مگر اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں بلاشبہ اللہ ایسے

    نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے“۔ (سورة آل عمران آیت 134)۔

    ”اے محمد اللہ کی مہربانی سے تمہارا مزاج نرم واقع ہوا ہے اگر تم بددماغ اور سخت دل ہوتے تو لوگ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو تم ان کو معاف کردو

    اور اللہ سے ان کے لئے دعائے خیر کرو اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لے لیا کرو“۔ (سورة آل عمران آیت 159)۔

    ”اور زمین پر اکڑ اور تن کر مت چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ ڈالے گا اور نہ لمبا ہوکر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا“۔ (سورة بنی اسرائیل آیت37)۔”جیسی اللہ نے

    تم سے بھلائی کی ہے ویسی ہی تم بھی لوگوں سے بھلائی کرو اور ملک میں طالب فساد نہ بنو کیوں کہ اللہ فساد کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا“۔ (سورة

    القصص آیت77)۔”اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو زمین پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑے۔ لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت (برائے حجت)

    دیئے جاتا ہے جب وہ وقت آتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں“۔ (سورة النحل آیت61)۔”اللہ تعالٰی سب گناہوں کو بخش دیتا ہے اور

    وہ تو بخشنے والا مہربان ہے“۔ (سورة زمر آیت53)۔

    ”بے شک ہم تمہاری کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور فصلوں کے نقصان سے آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو اللہ کی خوشنودی کی

    بشارت سنادو“۔ (سورة البقرہ آیت155)۔

    ”مومنو کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور

    اپنے مومن بھائیوں کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام رکھو۔ ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم (اور گنہگار) ہیں۔ اے اہل

    ایمان بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے مال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے

    کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔ اس سے تو تم ضرور نفرت کروگے۔ تو غیبت نہ کرو اور اللہ کا ڈر رکھو بیشک اللہ توبہ

    قبول کرنے والا ہے“۔ (سورة الحجرات آیات 11-12)۔ ”اللہ کے نزدیک تم میں (سب سے) زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا

    اور سب سے باخبر ہے“۔ (سورة الحجرات آیت13)۔

    ”جو شخص کسی مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اللہ اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے“۔ (سورة النساء

    آیت93)۔

    ”کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے فائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف (صوابدید کے لئے) لوٹ کر نہیں آؤگے“۔ (سورة المومنون آیت115)۔

    ”جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکالیف دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا اور آگ کا عذاب ہوگا۔ بے شک تمہارے پروردگار کی پکڑ بہت ہی سخت

    ہے“۔ (سورة البروج آیات 10-11)۔

    ”گنہگار اس گمان میں نہ رہیں کہ یہ تاخیر (برائے حجت) ان کی روحوں کیلئے مفید ہے ہم تو ان کو اسلئے مہلت دیتے ہیں کہ وہ اور گناہ کریں اور اسکے بعد ان کو

    عبرتناک سزا ملے گی“۔ (سورة آل عمران آیت178)۔

    ”اور اس زندہ و قائم (اللہ) کے روبرو ظالموں کے چہرے ذلیل و خوار ہوں گے اور ظالم نامراد رہیں گے“۔ (سورة طٰہ آیت111)۔

    ”کیا ان (ظالموں) نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیسا (عبرت ناک) انجام ہوا حالانکہ وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور

    تھے اور زمین میں نشانیاں بنانے کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے تو اللہ نے ان کے گناہوں کے سبب ان کو پکڑ لیا اور ان کو اللہ کے عذاب سے کوئی بھی بچانے

    والا نہ تھا“۔ (سورة المومن آیت21)۔یہ تمام آیات (کلام الٰہی) صاف صاف الفاظ میں بتاتے ہیں کہ ہم کو رحمدل، نرم مزاج، صابر اور معاف کرنے والا ہونا چاہئے۔ اللہ

    تعالٰی کے 99/اسمائے مبارک میں ہم الغفور، الرحیم، الودود، اللطیف، الرحمٰن جیسے نام پاتے ہیں۔ یہ تمام اسمائے مبارک اللہ تعالٰی کی روحانی خصوصیات

    بردباری، درگزاری، محبت، رحمدلی اور شفقت کا اظہار کرتے ہیں۔ یقیناً اللہ تعالٰی اگر گنہگاروں کے گناہ درگزر کرتا ہے تو ہم پر بھی یہ لازم ہے کہ ہم بھی بحیثیت

    مسلمان دوسروں کی غلطیوں کو نظرانداز اور معاف کردیں اور رحمدلی کا اظہار کریں۔

    بنی نوع انسان چونکہ عادتاً بے عزتی، بے انصافی اور دکھ درد کو نفسیاتی طور پر بہت زیادہ محسوس کرتا ہے اور جذبہ انتقام رکھتا ہے تو اس وجہ سے اللہ

    تعالٰی نے ہمیں لوگوں (گنہگاروں، مجرموں) کو غیرمشروط طور پر معاف کرنے کا حکم نہیں دیا جیسا کہ عیسائیوں کی ہدایات میں ہے بلکہ ہم کو یہ اختیار دیا ہے

    کہ ہم یا تو بدلہ لے لیں یا معاف کردیں۔ اللہ نے ہمیں اس کی زیادہ ترغیب دی ہے کہ ہم مجرم کو معاف کردیں۔ (سورة النحل)۔

    اللہ تعالٰی کے احکامات کی روشنی میں آپ کو یہ جتلانا چاہتا ہوں کہ چند غیرتعلیم یافتہ یا جاہل، خودساختہ علمائے اسلام جو اس وقت دہشت گردی، بے گناہ

    مسلمانوں کا قتل، غارت گری، ،خودکش حملے، اغوا، مسلمانوں کو علم حاصل کرنے سے روکنا، اسکولوں کو تباہ کرنا، وعدہ خلافی کرنا وغیرہ جیسے

    غیراسلامی کاموں میں مصروف ہیں وہ ہمارے دین اسلام کے سخت خلاف ہیں۔ ان کو کسی وہم و گمان میں نہیں رہنا چاہئے کہ اللہ تعالٰی ان کی بہت سخت

    گرفت کرے گا اور ان کے لئے جہنم کی آگ منتظر ہے۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو عالم کہتے ہیں اور سیدھے سادے لوگوں، نوجوانوں اور بچوں کو ان غیراسلامی

    کاموں کی ترغیب دیتے ہیں اللہ تعالٰی یقیناً اس پر ان کی سخت گرفت کرے گا اور اللہ کا عتاب بہت سخت اور دکھ دینے والا ہے۔ ان کے بارے میں سورة البقرہ میں

    (آیات 11-12) میں اللہ نے فرمایا ہے ”جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد پیدا نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ دیکھو بلاشبہ یہ مفسد

    ہیں مگر ان کو اس کا احساس (تک) نہیں“۔ ان خودکار علماء کی خدمت میں کلام الٰہی کا حوالہ دوں گا جس میں اللہ رب العزت نے صاف صاف فرمایا ہے کہ ”اس

    نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جنین (بچہ) تھے تو اپنے آپ کے لئے پاکبازی کے دعوے نہ کرو۔ جو پرہیز گار ہے اس سے اللہ

    تعالٰی بہت اچھی طرح واقف ہے“۔ (سورة النجم آیت32)۔ یاد رکھو کہ جھوٹے دعوے کرنے والوں کے لئے اللہ تعالٰی نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے۔

     

               

               

               

    یوم تکبیر اور بیتے لمحات ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹرعبدالقدیرخان  5/27/2009

    گیارہ سال پیشتر 28مئی 1998ئکو پاکستان نے چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کر کے ایٹمی کلب میں شمولیت اختیار کر لی تھی ۔ یہ ایک ایسا کارنامہ تھا

    جس سے پوری پاکستانی قوم اور دنیائے اسلام کا سر بلند ہو گیا۔ اگرچہ مغربی ممالک کو یقین تھا کہ ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت ہے اور ہم جب چاہیں دھماکہ

    کر سکتے ہیں لیکن کہاوت ہے کہ جب تک دیکھ نہ لو یقین نہیں آتا ۔ 1984ء میں ہم نے یہ صلاحیت حاصل کر لی تھی اور میں نے 10دسمبر 1984ئکو جنرل ضیاء

    الحق صدر وقت کو تحریری طور پر اس سے آگاہ کر دیا تھا اور اس کی تصدیق جنرل خالد محمود عارف نے Deceptionنامی کتاب کے مصنف ایڈریان لیوی Adrian

    Levy کو دیئے ہوئے ایک انٹرویو میں کی تھی ۔ ایٹمی دھماکو ں سے پیشتر 6/اپریل 1998ئکو کے آر ایل نے لمبی مار والے بیلسٹک میزائل غوری کاکامیاب تجربہ

    کیا تھا اور بارہ سو کلو میٹر دور ہدف کو صحیح نشانہ بنا دیا تھا ۔ اس سے ہندوستان کی ہوا نکل گئی تھی اور ان کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ اب نہ وہ پاکستان کو

    دھمکیاں دے سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں بلیک میل کر سکتے ہیں۔ اس تمام کام میں مرحوم شہید ذوالفقار علی بھٹو ، مرحوم جنرل ضیاء الحق ، جناب غلام

    اسحاق خان ، مرحوم آغا شاہی ، شہید بینظیر بھٹو صاحبہ، میاں نواز شریف صاحب ، جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے نہایت کلیدی رول ادا کیا

    تھا۔ایٹمی دھماکوں اور میزائل کی تیاری میں کے آر ایل کے کلیدی رول پر تما م سابقہ وزرائے اعظم ، صدور مملکت اور افواج پاکستان کے سربراہوں نے تحریری

    بیان دیئے ہیں جو کے آر ایل کی 25 سالہ کارکردگی کے مضمون میں پور ی طرح بیان کئے گئے ہیں دراصل سب سے مصدقہ بیان جناب غلام اسحاق خان کا ہے

    جو انہوں نے ایک خط میں جناب زاہد ملک کو تحریر ی طور پر دیا تھا کیونکہ وہ اس پروگرام کے سربراہ تھے اور 1976ء سے 1993ء تک ہرکام سے واقف تھے ان کا

    بیان حرف ِآخر ہے۔ میرے پاکستان آنے ، مشکلات کا سامنا اور کام میں کامیابی حاصل کرنے پر لاتعداد مضامین شائع ہو چکے ہیں کہ ان کی تفصیل دینا نا ممکن

    ہے ۔ میں یہاں صرف اس وقت کے حکمران پرویز مشرف کی اس تقریر کا متن پیش کرتا ہوں جو اس نے ایوان صدر میں ڈاکٹر اشفاق اور میری ریٹائرمنٹ پر الوداعی

    ڈنر سے پیشتر کی تھی۔ اس ڈنر میں وزراء، اعلیٰ سول و فوجی افسران اور سائنسدان شامل تھے۔ میں یہاں صرف اپنے اور کے آرایل کے بارے میں بیان پیش کر

    رہا ہوں۔

    ”آج ہم یہاں وطن عزیز کے نہایت سینئر اور شہرہ آفاق سائنس دانوں اور اپنے قومی ہیروزکو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں تو میری سوچیں

    مئی 1974ء کے اس اہم دن کی طرف لوٹ جاتی ہیں جب بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تھا اور جنوبی ایشیاء کی سلامتی کے منظر کو بدلتے ہوئے

    پاکستان کے لئے انتہائی نامساعد صور تحال پیدا کر دی تھی۔ 1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے فوراً بعد اس واقعے نے ہمارے عدم تحفظ اور جراحت پذیر

    ہونے کے احساس کو مزید گہرا کر دیا تھا۔ ہمارے روایتی عدم توازن میں ایک اور سبب کا اضافہ ہو گیا تھا اور پاکستان کو اپنی حفاظت کے بارے میں لاحق تشویش

    کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ اس موقع پرعالمی برادری نے روایتی علامتی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی تھی۔ پاکستان کو تن تنہا ہی بھارت کی

    ایٹمی بلیک میلنگ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا تھا اور دوسری طرف ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا نام تک نہ تھا، ایسی صورت میں ہم سب پاکستانیوں کو صرف

    خدا کا ہی کا آسرا تھا۔حقیقی معنوں میں مدد کے لئے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ہم نے ہمت نہ ہاری اور ہمارا عزم قائم رہا۔

    آخر کار اللہ تعالیٰ نے قوم کی دعائیں سن لیں، ہماری حالت پر رحم آگیا اور ایک معجزہ رونما ہوا۔ پردہ غیب سے ایک بلند قامت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے

    حامل نابغہ کا ظہور ہوا اور یہ نابغہ روزگار ڈاکٹر عبدلقدیر خان تھے ، ایسے نابغہ جنہوں نے تن تنہا قوم کو ایٹمی صلاحیت سے مالا مال کر دیا۔ ان مشکل حالات

    میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آمد نے ایسی قوم کو جو اپنے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا تھی اور جو عمل کے بجائے خالی خولی وعدوں

    اور جھوٹی سچی یقین دہانیوں کے بہلاوے کی عادی ہو چکی تھی اس کو اُمید رجائیت اور نیا حوصلہ اور اعتماد دیا۔

    خواتین و حضرات ! آنے والے سال ، واقعات اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کامیابیاں ناقابل فراموش ، اَنمِٹ اور پاکستان کی تاریخ کا عظیم الشان باب ہیں۔ ڈاکٹر

    عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے انتہائی مشکل حالات میں رکاٹوں ، بین الاقوامی پابندیوں اور کربناک آپریشن کے علی الرغم اس حال میں اپنی شب و روز محنت

    شاقہ سے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت کا سرمایہ افتخار کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز جنہیں بعد میں بجا طور پر خان ریسرچ لیبارٹریز کا نام دیا گیا ایسے عالم میں قائم

    کی کہ عملاً اس سے قبل کچھ بھی نہ تھا اور انہوں نے خالی ہاتھ کام شروع کیاتھا، پھر چند ہی سالوں میں انہوں نے اور ان کے جرأت مند ساتھیوں نے ملک کو

    انتہائی افزودہ یورینیم کی صورت میں پہلا انشقاق پذیر مواد (افزودہ یورینیم ) دیا اور یوں اسکور بھارت کے برابر کردیا۔ یہ کامیابی و کامرانی کی زندہ داستان ہے کہ

    وہ اپنی مادرِ وطن کے لئے ایک مقصد، ایک ہدف کے حصول کے لئے سرگرم ہوئے اور اپنی زندگی ہی میں اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچتے دیکھا اور اپنے اہل وطن

    سے بے مثال خراجِ تحسین و توصیف وصول کیااور قوم ان کی ہمیشہ کے لئے احسان مند اور مقروض ہو گئی۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے اس سے قبل

    کوئی قوم کسی ایک فرد کی اس قدر کامیابیوں کی مرہونِ منت نہیں ہوئی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا دوبارہ نشان امتیاز حاصل کرناان کے منفرد پاکستانی ہونے کا

    ثبوت ہے اور وہ واحد پاکستانی ہیں جنہیں یہ اعزاز دوبار دیا گیا اور یہ احسان مند قوم کی طرف سے ان کی عظمت و احسان کا اعتراف ہے اور وہ واقعتاً اس

    اعزازکے اہل ہیں۔

    جناب ڈاکٹر صاحب ! مجھے یہ بات رسمی طور پر ریکارڈ پر لانے کی اجازت دیجئے کہ آپ نے قوم کو جو کچھ دیا اس کے لئے یہ قوم نہ صرف آج بلکہ آئندہ بھی آپ

    کی ممنون ِ احسان رہے گی۔ آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور ہماری آئندہ نسلوں کے لئے مَبداء فیض ہیں۔ کوئی شخص بھی آپ سے یہ اعزاز چھین نہیں سکتا ۔

    تاریخ میں آپ کا مقام متعین ہو چکا ہے ۔ آپ ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے اور سرِفہرست رہیں گے۔ہم آپ کو سلام کرتے ہیں اور اپنے دل کی گہرائی سے اس کا

    شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    جیسا کہ اکثر کہتا ہوں کہ مایوسیوں کے اتھاہ سمندر میں، پاکستان کا ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا کسی قوم کی کامیابی کی بے مثال کہانی ہے۔ یہ بے لوث ایثار

    ، ان مجاہدوں نے پاکستان کو منفرد ایٹمی قوت کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ کو افتخار بخشا ہے۔ وہ پاکستانیوں کے بہترین نمائندہ ہیں اور

    انہوں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ جب ہم ارادہ کرلیں تو پھر پہاڑوں کو بھی ہلادیتے ہیں وہ اپنا رنگ بدل لیتے ہیں سب احساس فرض اور قوت ایمانی کا نتیجہ ہے۔“)

    بعد میں ان صاحب نے بفیض مصلحت امریکہ کی ٹھمری پر ناچنا شروع کر دیا اور نہایت ہی پست اخلاق کی عکاسی کی۔ (جاری ہے)

     

               

               

               

    یوم تکبیر اور بیتے لمحات ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان (گزشتہ سے پیوستہ)            5/28/2009

    میں کے آر ایل کے قیام کی پچیس سالہ سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک مضمون کا اقتباس آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

    ”کہوٹہ کی کہانی دراصل ایک قوم کے مصمم ارادے کی کہانی ہے جس نے اپنی زمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کی ہے۔ کسی بھی بڑے اور مشکل کام

    کی تکمیل میں لاتعداد مشکلات پیش آتی ہیں اور اکثر لوگ اپنی زندگی میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتے لیکن ان مشکلات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اگر

    لوگ ایماندار اور نیک نیت ہوں۔ میرے رفقائے کار اور میں خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور ہماری محنت اور مصمم ارادے کی وجہ سے ہم اپنی

    زندگی میں ہی کامیاب ہو گئے اور مقصد حاصل کر لیا۔ ہماری محنت اور مسلسل کوشش کی وجہ سے آج کہوٹہ نہ صرف افزودہ یورینیم ، ایٹم بم اور بیلسٹک

    میزائل بناتا ہے بلکہ وہاں جن مختلف قسم کی ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کی گئی ہے وہ لاتعداد دوسرے مفید کاموں میں بھی استعمال ہورہی ہیں۔ کہوٹہ

    قومی دفاع کے لئے اہم ہتھیار بنا رہا ہے اور دوسرے اہم پروجیکٹس کے لئے اہم ٹیکنالوجیز مہیا کر رہا ہے۔ کہوٹہ نے لیزر، الیکٹرونکس، آپٹکس، الیکٹریکل، میکانیکل،

    میٹالرجی، بیوٹیکنالوجی اور جنیٹک انجینئرنگ میں اعلیٰ مہارت حاصل کر کے اہم کام سر انجام دیئے ہیں۔“

    ”میں یہ بتلاناچاہتا ہوں کہوٹہ کی کامیابی کے لئے وہاں کے رفقائے کار کے اہل خاندان نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ یہ ان کے صبر و استقلال ، ہمدردی، محبت اور

    حوصلہ افزائی کا اظہار تھاجس کی وجہ سے تمام کارکن نہایت دلجوئی اور مصمم ارادے سے اپنے کام کو خوش اسلوبی اور کامیابی سے کر سکے۔ ان کارکنوں

    نے جو کارنامے انجام دیئے اس پر دنیا کی کوئی بھی قوم فخر سے سر بلند کر کے چلے گی۔

    جہاں تک میرا اپنا تعلق ہے مجھے اس پر بے حد فخر ہے کہ میری بیوی نے اس ملک اور اس کام کے لئے ناقابل بیان قربانیاں دی ہیں۔ ایک غیر ملکی خاتون کی

    حیثیت سے ان کو لاتعداد مشکلات پیش آئیں ، نہ یہاں کوئی دوست تھے ، نہ کوئی رشتہ دار، دو چھوٹی بچیوں کی دیکھ بھال ، پڑھائی اور گھر کی دیکھ بھال،

    پھر بھی انہوں نے ایک فولادی ستون بن کر ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی، مدد کی اور کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لائیں ۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی شک

    و شبہ نہیں کہ ان کی مدد کے بغیر نہ کہوٹہ ہوتا اور نہ ہی ایٹم بم۔“

    ”میں یہ بیان کرنا پسند کروں گا کہ ایٹم بم کی تیاری اور بیلسٹک میزائل کی تیاری کا کام ہمارے لئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا، پیچیدہ تھا، مشکل تھا اور بعض اوقعات

    خطرناک بھی تھا مگر آخر میں کامیابی کا مزہ بے حد لذیذ اور پر سکون تھا۔ میرے رفقائے کار کو اور مجھ کو اس پر فخر ہے کہ ہم نے اپنے ملک کے دفاع کو ناقابل

    تسخیر بنا دیا ہے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری محنت اور کارنامے پوری قوم کو ہمیشہ ہمیشہ یاد رہیں گے اور ایک

    احسان مند قوم ہمیں کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ ہمارا کام اور کارنامے آئندہ نوجوان طبقہ کے لئے مشعل راہ کے طور پر کام کریں گے۔ “

    میرا پاکستانی قوم خاص کر نوجوان طبقہ کو یہ پیغام ہے کہ دیکھیں ہماری تاریخ سنہری ابواب سے بھری پڑی ہے۔ بوقت مشکل ہم نا ممکن کو ممکن بناتے رہے

    ہیں۔ دنیا میں کوئی شخص بھی (سوائے جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے) یہ یقین نہ کررہا تھا کہ میں اور میرے رفقائے کار اس ملک کو ایک تھوڑے سے

    عرصے میں ایک ایٹمی قوت بناسکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ پر یقین ، ایمان کی پختگی اور محنت و مشقت نے یہ کام آسان کر دیا اور کم عرصہ میں ہم نے یہ

    صلاحیت حاصل کر لی۔ ہمیں نا امید نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے صرف کافر نا امید ہوتے ہیں۔ اگر ہم صدق ِ دل ، محنت ، ایمانداری سے

    پاکستان کی خدمت کریں تو ہم اس کو ایک فلاحی اسلامی ریاست بنا سکتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔ ( پاکستان زندہ

    باد)

     

     

     

     

     

               

               

               

    دوغلی سیاست,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان      6/3/2009

    سری لنکا کی فوج جلد ہی تامل باشندوں (ٹائیگر کہنا اس خوبصورت جانور کی بے عزتی ہے) کا صفایا کرنے والی ہے۔ اس بغاوت کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ

    انسان جان سے ہاتھ دھوبیٹھے اور ملک معاشی طور پر تباہ ہوگیا۔ وہ ملک جو سیاحوں کی جنت تصور کیا جاتا تھا وہ باغیوں اور قاتلوں کا میدانِ عشق بن گیا۔ بہت

    تعجب خیز اور دوغلانہ ردِعمل کا اظہار اچانک چند مغربی ممالک کی طرف سے آیا ہے جو انسانی حقوق کے نعرے کی آڑ میں وہاں دخل اندازی کرنا چاہتے ہیں۔

    اچانک فرانس کے وزیر خارجہ برنارڈ کوچنر اور انگلستان کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کولمبو پہنچ گئے تاکہ جنگ بندی تھوپ سکیں۔ سری لنکا نے سوئیڈن کے

    وزیر خارجہ کارل بلٹ کو آنے کی اجازت نہیں دی اور یہ اچھا قدم تھا چونکہ غالباً یہ وہی کارل بلٹ تھا جس نے بوسنیا میں تین لاکھ بے گناہ لوگوں کے قتل عام کے

    دوران وہاں اقوام متحدہ کے سفیر کی حیثیت سے سربوں کے خلاف کچھ نہیں کیا تھا۔ وہاں جو مظالم ، قتل و غارتگری ہوئی تھی وہ ہٹلر کی یہود نسل کشی

    کے بعد بدترین واقعہ تھا۔ اس کے بعد تو عراق اور افغانستان میں مغربی ممالک کی قتل و غارتگری نے اس کو بہت پیچھے چھوڑدیا ہے۔ یہی مغربی مالک ہیں

    جنہوں نے کھلے عام اپنے ممالک میں وہاں قیام پذیر تامل لوگوں کو سری لنکا کے باغیوں کی مدد کے لیے چندہ جمع کرنے اور رقوم بھجوانے کی سہولتیں دی

    تھیں اور اب اچانک یہی لوگ شور مچارہے ہیں کہ ان ”بے چارے“ لوگوں کو بچایا جائے۔ ہٹلر کی یہود نسل کشی کے خلاف تو دنیا ابھی تک شور مچاتی ہے چونکہ

    یہودی بے حد مالدار با اثر اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ ہٹلر نے اپنے پاگل پن میں مشرقی یورپ کے لاکھوں جپسی خانہ بدوش

    بھی قتل کردیئے تھے چونکہ نہ یہ مالدار تھے اور نہ با اثر تھے اس لیے ان بے چاروں کے لیے کوئی رونے والا نہیں ہے اور یہ تاریخ کا گمنام باب بن چکے ہیں۔

    میں کئی برس سے سری لنکا کی خانہ جنگی کا قریبی مطالعہ کرتا رہا ہوں اور تامل باغیوں کی نہایت بے رحمانہ قتل و غارتگری سے واقف ہوں۔ انہوں نے نہ

    صرف لاتعداد اعلیٰ عہدیداروں بلکہ صدر پریما داسا تک کو قتل کردیا تھا۔ وہ سابقہ آرمی چیف جنرل ڈے سلوا اور جنرل ویرا سوریا (جو پاکستان میں ہائی کمشنر

    رہے تھا) سے میرے بہت اچھے دوستانہ تعلقات تھے۔ دونوں بے حد بہادر اور پروفیشنل سپاہی تھے اور انکی پالیسیوں کی وجہ سے ہی تامل باغیوں کی کمر

    ٹوٹ گئی تھی۔ میں نے اپنے رفقاء کار کیساتھ کئی مرتبہ سری لنکا کا دورہ کیا تھا، یہ بہت خوبصورت ملک ہے۔ لوگ نرم گو، نرم مزاج اور تشدد سے مبرا ہیں جو

    بدھ مت کی تعلیم بھی ہے۔ تامل باغیوں کا تعلق بنیاد پرست ہندو مذہب سے ہے۔

    دوبارہ مغربی ممالک کی اچانک دلچسپی جو تامل باغیوں کو بچانے کیلئے جاری ہے ہمیں اس کا پس منظر دیکھنا ہوگا۔ جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا تامل کٹر

    ہندو ہیں اور ہندوستان کے جنوب میں تامل ناڈو صوبہ میں تامل لوگوں کی اکثریت ہے۔ یہ کھلے عام ہندوستانی حکومت کی مرضی اور مدد سے سری لنکا کے

    باغیوں کی مدد کرتے رہے۔ چند سال پیشتر ایک مغربی صحافی کی بنائی ہوئی فلم میں صاف صاف تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے جنوبی ساحلی

    علاقہ سے اسلحہ، تیل، کھانے کا سامان اور والنٹیئر سری لنکا کے شمالی علاقہ جافنا بھیجے جارہے تھے۔ ابھی حال ہی میں تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ نے کھلم

    کھلا اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ سری لنکا کے شمال میں ایک آزاد مملکت کی حمایت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی تمام حکومتیں تامل باغیوں

    کی حمایت کرتی آئی ہیں اور یہ اچانک مغربی ممالک کی دلچسپی اور تامل باغیوں کی حمایت کا مقصد ہندوستان کو خفت سے بچانا ہے۔ امید ہے کہ سری

    لنکن حکومت اس شر سے نجات حاصل کرلے گی۔

    ایک گندی سیاست کی مثال ابھی پچھلے دنوں سامنے آئی ہے۔ یہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت و قتل و غارتگری کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل

    کی رپورٹ ہے۔ سیکریٹری جنرل نے یہ مناسب سمجھا ہے کہ (امریکی دباؤ میں) رپورٹ کا زیادہ حصہ شائع نہ کیا جائے اور اسرائیل کی جارحیت، معصوم لوگوں

    کے قتلِ عام اور فاسفورس بموں کے استعمال کی شہادتوں کوچھپایا جائے۔ زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کی طرح بان کی مون نے غزہ کے باشندوں کو صرف

    گیارہ ملین ڈالر پیشکش کی ہے۔ یہ رقم کسی مغربی ملک میں ایک بڑا مکان خریدنے کے لیے کافی ہے نہ کہ 14 سو لوگوں کے قتل اور تمام رہائشی اور صنعتی

    عمارتوں کی مسماری کا بدلہ۔ تمام کارخانے، اسکول، بجلی گھر، اسپتال تباہ کردیئے گئے ہیں۔ ابھی چند دن پیشتر اسرائیل کے نئے دہشت پسند وزیراعظم

    مسجد اقصیٰ کے آس پاس اسرائیلی رہائشی علاقوں کی توسیع کے منصوبوں کی تفصیل بتارہے تھے اور لب لباب یہی تھا کہ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے

    بے دخل کیا جائے اور وہاں یہودی بسائے جائیں گے نہ ہی ٹونی بلیئر اور نہ ہی سرکوزی اور نہ ہی اوباما اور نہ ہی گورڈن براؤن کی جانب سے ایک حرف شکایت

    آیا ہے اور نہ ہی بان کی مون نے منہ کھولنے کی تکلیف گوارہ کی ہے۔

    ہم سب کو علم ہے کہ نہرو ایک شاطر سیاستدان تھا اور ہمیشہ مذاقاً کہتا تھا کہ عوام کی یادداشت بے حد کمزور ہوتی ہے اور سیاست دانوں اور حکمرانوں کو

    اس کی پروا نہیں کرنا چاہئے وہ کشمیر کے بارے میں اپنے وقتی جھوٹے وعدوں پر تبصرہ کررہا تھا جہاں تک مغربی لیڈروں اور سیاست دانوں کا تعلق ہے تو نہرو

    غالباً ٹھیک کہہ رہا تھا کیونکہ یہ لوگ انسانی حقوق کی خلاف ورزی، دوسرے ممالک میں انتشار پیدا کرنا، ان کی خودمختاری کے خلاف ورزی کرنا اپنی راست

    گوئی اور نیک پالیسی سمجھتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ عوام کی یادداشت کمزور ہوتی ہے جلد بھول جاتے ہیں۔ ابھی صرف 18 سال پیشتر ہی کی تو بات ہے

    کہ ہم روز ٹی وی پر براہِ راست سراجیوو، بوسنیا کی ہولناک تصاویر دیکھتے تھے اور وہ مناظر آج بھی دماغ میں نقش ہیں کس طرح سب درندے پہاڑیوں پر سے

    ٹینکوں، اینٹی کرافٹ گنوں اور مارٹروں سے نہتے شہریوں پر گولہ باری کرتے رہتے تھے اور لاشوں کے انبار لگتے جاتے تھے۔ بازار میں ایک مارٹر گولہ مارنے سے

    65 بے گناہ شہری ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے اور ہر طرف خون میں لت پت انسانی اعضاء بکھرے پڑے تھے اور ایک اور مارٹر گولہ ان معصوم چھوٹے بچوں پر داغا گیا

    تھا جو معصومی سے عمارتوں کے درمیان فٹ بال کھیل رہے تھے سب کے ٹکڑے بکھرگئے تھے۔ یہ سب کچھ ان انسانی حقوق کے خدائی فوجداروں کی آنکھوں

    کے سامنے ہورہا تھا۔ تین سال میں تقریباً تین لاکھ بے گناہ شہری قتل کردیئے گئے تھے۔ آپ کو یاد دلاؤں کہ انگریز لارڈ کیرنگٹن نے کھلے عام بیان دیاکہ ہم ترکوں

    کو وہ چیز کس طرح پلیٹ پر رکھ کر دے سکتے ہیں جو صدیوں پہلے وہ تلوار سے حاصل نہ کرسکے تھے۔ مغربی ممالک بہانہ بازی اور تاخیر سے لمبی لمبی

    میٹنگ کرکے یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ بہت جلد بوسنیا کے باشندے شکست کھاجائیں گے اور ان کی نسل تاریخ کا ایک پارینہ باب بن جائے گی لیکن بوسنیا

    کے ترک نژاد باشندوں میں ابھی پرانے خون کا اثر باقی تھا اور ان کی بہادری نے دنیا کو حیران کردیا۔ بوسنیا کے اس وقت کے وزیراعظم اور میرے بے حد عزیز

    دوست ڈاکٹر حارث سلاجک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمارا سب سے بڑا جرم ہے ہم نے جلد شکست نہ کھائی اور جنگ نے طول کھینچا۔ سرب قتلِ عام میں

    مشغول رہے، ٹی وی پر ہولناک مناظر دکھائے جاتے رہے مگر مغربی حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہ رینگی۔ سب سے شرمناک اور ہولناک قتل عام سبرے نیسا

    کے شہریوں کا ہوا۔ یہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ایک محفوظ شہر تھا اور یہاں ڈچ فوج متعین تھی۔ ایک اسکیم کے تحت سربوں نے اس پر حملہ کردیا اور ڈچ

    سپاہیوں نے شرمناک اور غدارانہ رویہ کا اظہار کرکے سب بھیڑیوں کو تمام مسلمان مرد پکڑ کر حوالے کردیئے جن کو سربوں نے شہر سے باہر لے جا کر گولیاں مار

    کر قتل کردیا اور ان کی لاشیں گڑھوں میں ڈال دیں۔ (جاری ہے)

     

               

               

    دوغلی سیاست....سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان(گزشتہ سے پیوستہ)        6/4/2009

    ٹی وی پر دکھایا گیا کہ کس طرح سات یا آٹھ سال کے کم عمر لڑکوں کو ٹرک میں لے جایا گیا اور اتار کر سب کے سامنے ان کی گردن پر گولی مار کر ہلاک کردیا۔ اس میں مغربی ممالک اور اقوام متحدہ دونوں شامل تھے، کوفی عنان نے بڑا رول ادا کیا تھا۔ انگریز جنرل روز نے ٹی وی پر کہا کہ اس کی بار بار درخواست کے باوجود نیٹو کے ہوائی جہازوں نے سرب قاتلوں پر بمباری نہیں کی۔ یہ تو اللہ کی مہربانی ہے کہ ایران ملیشیا، ترکی اور پاکستان کی بروقت امداد نے بوسنیا کے باشندوں کوبچالیا۔ جناب نوازشریف کی بروقت اجازت سے کے آر ایل ایف اور پی او ایف نے نہایت اہم ہتھیار ہوائی جہازوں سے براستہ ترکی بوسنیا پہنچائے اور انہوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ کے آر ایل نے کئی نوجوانوں کو راکٹ فائر کرنے کی ٹریننگ، دستی طور پر لے جانے والے کھول کر جوڑنے والے لانچر اور ہزاروں راکٹ دیئے جن کی مدد سے سراجیوو کے بہادروں نے سربوں کو بھگادیا۔ اسی طرح بیحاج پر سرب بہت دباؤ ڈال رہے تھے مگر بوسنیا کی فوج ڈٹی ہوئی تھی حالات خراب تھے جب ہماری بکتر شکن میزائل وہاں پہنچ گئیں اور بوسنیا کے فوجیوں نے تمام سرب ٹینک اڑا دیئے اور پیش قدمی شروع کی تو مغربی ممالک نے سخت دباؤ ڈال کر جنگ بندی کرادی۔ میں ابھی بھی ان خوشگوار ملاقاتوں کو یاد کرتا ہوں جو میں ڈاکٹر حارث، ان کی بہن ساجدہ (جو اسلام آباد میں سفیر تھیں) اور ان کے اعلیٰ فوجی افسروں سے کرتا تھا۔ ڈاکٹر حارث کی بیگم اور سات آٹھ سالہ بچہ ای سیون میں ہمارے گھر کے عقب میں رہائش پذیر تھے اور ان کی حفاظت، دیکھ بھال کی ذمہ داری ہماری تھی۔ جب بھی بوسنیا کے اعلیٰ حکام یعنی وزیر دفاع اور آرمی چیف پاکستان آئے وہ ضرور اظہار تشکر کرنے میرے گھر ضرور آتے تھے اور مجھے یقین ہے کہ آج بھی بوسنیا میں لاتعداد لوگ ہمیں محبت سے اور محسن کے طور پر یاد کرتے ہوں گے۔ مجھے لاتعداد مرتبہ وہاں کے صدر، وزیراعظم، وزیر دفاع اور آرمی چیف نے دعوت نامے بھیجے مگر بدقسمتی اپنی مصروفیت کی وجہ سے وہاں جانے کا موقع نہ ملا۔ میں ہالینڈ کے قیام کے دوران اپنی بیگم اور دوست اختر اور ان کے بھائی صفدر کے ساتھ اس علاقے میں گیا تھا بے حد خوبصورت علاقہ ہے۔ آخری مرتبہ بوسنیا کے وزیر دفاع اور آرمی چیف 2001ء میں پاکستان آئے تھے مجھے اطلاع دی کہ گھر ملنے آئیں گے۔ میں نے لنچ پر دعوت دے دی، صبح وہ مشرف سے ملے اور وہاں انہوں نے ذکر کردیا کہ لنچ پر میں نے دعوت دی ہے۔ ان کے وہاں سے نکلتے ہی مشرف نے جنرل غلام احمد سے (جو خود کو ہمیشے مجھ سے آپ کا برخوردار کہہ کر مخاطب کرتے تھے) مجھے فون کرادیا کہ بہانہ کردوں اور لنچ کینسل کردوں اور کہہ دوں کہ کراچی جانا پڑگیا ہے۔ میں نے بوسنیا کے سفیر کو فون کرکے حقیقت سے آگاہ کردیا ان کو سخت افسوس ہوا کہ مشرف یہ پست حرکت کرسکتا تھا، حسد کرنے کی کوئی حد نہیں ہوتی ہے۔

    اپنے ایک پچھلے کالم میں صومالیہ کے قزاقوں کے بارے میں مختصراً تبصرہ کیا تھا۔ یہاں بھی ہمیں مغربی دوغلی پالیسی نمایاں نظر آتی ہے۔ ملک ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا مگر امریکنوں نے ایتھوپیا کی عیسائی حکومت کو مالی اور اخلاقی مدد دے کر اس سے صومالیہ پر جارحانہ حملہ کرادیا۔ ہزاروں بے گناہ نہتے مسلمان مارے گئے اور ایتھوپیا کی فوج نے دارالحکومت موگادیشو اور کئی شہروں پر قبضہ کرلیا۔ کچھ عرصہ بعد صومالیہ کے لوگ متحد ہوگئے اور جوابی حملے کرکے حملہ آوروں کو مار بھگایا۔ ان تمام بدمعاشیوں کا نتیجہ ہمارے سامنے بحری قذاقی کی شکل میں آیا ہے، ہمیں اس کی مذمت ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان وجوہات پر غور کرنا چاہئے جن کی وجہ سے یہ لوگ یہ کام کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور یہ اسباب دور کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔

    ہم میں سے کتنے لوگوں کو علم ہے کہ ٹونی بلیئر جس کے ہاتھ لاکھوں بے گناہ عراقیوں اور افغانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور جو جھوٹوں کے شہنشاہ ہونے کا میڈل جیت سکتا ہے فلسطین کیلئے خصوصی نمائندہ ہے۔ اپنی اس حیثیت میں وہ یہ امر یقینی بنائے گا کہ اسرائیلی اپنی جارحیت جاری رکھیں اور کوئی فلسطینیوں کی آواز نہ سن سکے۔ اسرائیلیوں کی غیر قانونی تعمیرات، مقامی لوگوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ اور ان کی بے دخلی سب اسی کی نگرانی میں ہوگا۔ اگر آپ ٹونی بلیئر کے بارے میں ”تعریفی کلمات اور القاب“ پڑھنا چاہتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں تو مشہور صحافی رابرٹ فسک کے چند مضامین بلیئر پر لکھے ہوئے پڑھ لیجئے۔ اس نے بلیئر کے بارے میں جو لکھا ہے وہ دہرا کر ہم اپنی زبان گندی نہیں کرنا چاہتے۔

    یہ ڈرامہ اور کھیل جاری ہے مگر یہ ہمارے لیے بالکل ساکت ہے کیونکہ ہم لوگ نہ ہی اس بارے میں حساس ہیں اور نہ ہی ہمیں اپنے ہم مذہبوں کی تکالیف پر کچھ دکھ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہر جگہ نا اہل، کرپٹ اور خودغرض لوگ حالات پر قابض ہیں اور ہمارے مذہب کا سنہری اصول کہ اپنے ہم مذہب لوگوں کی مدد کرو ان کے لیے جان دو وہ اب عنقا ہوچکا ہے۔

     

     

     

             

                         

               

    چھوٹے حادثات مگر تباہ کن نتائج,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان

             

    6/10/2009

    تاریخ بنی نوع انسان ایسے واقعات سے پُرہے جو کہ بظاہر چھوٹے تھے مگر ان کے تباہ کن نتائج نکلے۔ یہ ماضی کے لئے بھی اسی طرح برحق ہیں جیسا کہ موجودہ حالات میں ۔

    یہ واقعہ علاؤالدین خوارزم شاہ کے کردار اور رویہ سے متعلق ہے۔ خوارزمی حکومت بہت ترقی یافتہ ، تعلیمافتہ،تہذیب و تمدن کا نمونہ تھی ۔ اس علاقہ کو 714ء میں مشہور مسلمان فاتح قتیبہ بن مسلم نے فتح کیا تھا۔ اس علاقہ میں اعلیٰ باغات ، جھیلیں ،دریا ، پھلوں کے باغات ، کشادہ سڑکیں اور اعلیٰ مکانات تھے اور اس میں آج کا ایران ، افغانستان، پنجاب، ازبکستان کا مشرقی ، وسطی اور آمو دریا کے دوسری طرف کا علاقہ شامل تھا۔ جرجانیا اس علاقہ کا دارالحکومت تھا اور اس کا نام خوارزم رکھ دیا گیا تھا۔ سیاحوں نے اس شہر کو اس وقت کا خوبصورت ترین، مالدار ترین شہر قرار دیا تھا۔ قریب ہی مشہور شہر خیوا تھا جس کو روسیوں نے اصلی حالت میں نمائشی شہر کے طور پر برقرار رکھا اور آج بھی قابل دید ہے اور بخارا کے قریب ہے ۔ جیسا کہ پہلے بتلا چکا ہوں کہ اس سلطنت کا بانی علاؤ الدین خوارزم شاہ تھااور یہ سلطنت دریائے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اتنی بڑی حکومت اور دولت نے خوارزم شاہ کے دماغ میں سخت تکبر پیدا کر دیا تھا اور اس نے خلیفہ بغداد کی بے عزتی سے بھی گریز نہیں کیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خلیفہ نے چنگیز خان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ خوارزم شاہ کو لگام دے اور اس کا دماغ ٹھیک کر دے ۔اگرچہ خوارزم شاہ کے پاس بہت بڑی فوج اور ذرائع بھی تھے پھر بھی وہ چنگیز خان سے مقابلہ کرتے ہوئے کتراتا رہا اور اس عمل سے اس کی قوم میں بہت سخت بددلی پھیل گئی اور وہ چنگیز خان اور اس کی فوج سے خوفزدہ ہو گئے اور ہمت ہار دی۔

    1219ء میں جب علاؤالدین خوارزم شاہ اپنی ریشہ دوانیوں میں مصروف تھا اور مسلمان حکومتوں کو کمزور کر رہا تھا اور بغداد تک پر حملے کی تیاری کر رہا تھا ، اس وقت چنگیز خان نے دلیرانہ طریقہ سے اپنی مملکت شمالی چین سے لے کر مشرقی یورپ تک پھیلا دی تھی۔ خوارزمی حکومت اور منگول حکومت کے درمیان اُترار کی سرحد ملتی تھی جو خوارزمی حکومت کا سرحدی شہر تھا۔ چنگیز خان مسلمانوں کی دلیری اور پرانی فتوحات سے واقف تھا اور اس نے سوچا کہ خوارزم شاہ سے دوستانہ تعلقات رکھنا دونوں کے لئے بہتر ہے ۔ اس نے سلطان کو کچھ قیمتی تحائف روانہ کئے اور پیشکش کی کہ ہم دوستانہ تعلقات قائم کریں اور تجارت کو فروغ دیں ۔ سلطان کو یہ بات پسند آئی اور اس نے بھی تحائف بھیج کر دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ چند دنوں کے بعد چنگیز خان نے چار سو مسلمان تاجروں پر مبنی ایک تجارتی قافلہ ُاترار روانہ کر دیا ۔یہ لو گ قیمتی قالین ، چینی سلک اور چینی کے برتن وغیرہ لائے اور ان کے پاس اعلیٰ نسل کے گھوڑے بھی تھے ۔ اُترار کے گورنر نے جب یہ قیمتی چیزیں دیکھیں تو نیت بدل گئی اور سلطان کو لکھ دیا کہ مغلوں کا تجارتی قافلہ آیا ہے اور وہ جاسوس معلوم ہوتے ہیں ، یہ گورنر سلطان کا ماموں تھا۔ سلطان نے کہہ بھیجا کہ مناسب قدم اٹھا لو، گورنر نے تمام تاجروں کو قتل کر کے ان کے سامان پر قبضہ کر لیا۔ جب چنگیز خان کو یہ پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہو ا مگر پھر بھی ضبط و شرافت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور ایک ایلچی سلطان کے پاس روانہ کیا کہ آپ کے گورنر نے نہایت ہی غلط اور سفارتی اصولوں کے خلاف حرکت کی ہے یا تو آپ اس کو سزا دیں یا ہمارے حوالے کر دیں کہ ہم اس کو سزا دیں ۔ سلطان نے اس ایلچی کو بھی قتل کرا دیا۔ چنگیز خان نے ایک اور ایلچی سلطان کو روانہ کیا کہ آپ سفارتی آداب کو پامال کر کے ایلچی کو قتل کر رہے ہیں ۔ آپ گورنر کو ہمارے حوالے کریں، سلطان نے اس ایلچی کو بھی قتل کرا دیا۔ آپ دیکھیں کہ ایک طرف تو ایک غیر مسلم چنگیز خان بار بار صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے اور دوسری طرف ایک مسلمان سلطان اور اس کے کارندے مسلمان تاجروں اور قاصدوں کو قتل کر رہے ہیں۔ یہ یقینا اللہ کے عتاب کو دعوت دینا تھا ۔ جب چنگیز خان کو دوسرے ایلچی کے قتل کا علم ہو ا تو وہ غصے سے سرخ ہو گیا اور اونچی جگہ جا کر کھڑا ہوا ، دونوں ہاتھ آسمان کی جانب اٹھائے اور کہا”اے زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے: خوارز م شاہ سلطان نہیں ہے، وہ قاتل ہے اور چور بھی، مجھے اتنی ہمت دے کہ میں اس کو نیست و نابود کر دوں ۔“اللہ تعالیٰ نے یقینا چنگیز خان کی دعا قبول فرمائی اور سلطان کا جو حشر ہوا وہ بیان کرتا ہوں۔ گورنر کی احمقانہ حرکت نے مسلم دنیا کو تباہ کرا دیا۔ سلطان علاؤالدین کے پاس تقریباً پانچ لاکھ فوج تھی ۔ اس نے فوج کے کچھ حصے اُترار ، بخارا، سمرقند وغیرہ روانہ کر دیئے مگر خود منگولوں کے مقابلے سے کتراتا رہا جس سے عوام اور فوج میں بددلی اور مایوسی پھیل گئی۔ ادھر چنگیز خان خوارزم پر حملے کی تیاری کر رہا تھا ، ادھر بغداد میں خلیفہ الناصر خوارزم شاہ کے خلاف سازشوں میں منہمک تھا اور اس نے چنگیز خان کو پیغام دے دیا کہ اگر اس نے سلطان پر حملہ کیا تو وہ غیر جانبدار رہے گا ۔ اگر اس وقت خلیفہ بغداد ، خوارزم شاہ اور شمس الدین التمش اتحاد کر لیتے تو منگولوں کا نام و نشان مٹا دیتے مگر خود غرضی اور مفاد پرستی نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ منگول ایک طوفان اور آندھی کی طرح جھپٹے اور شہروں کو فتح کر کے ان کو نیست و نابود کر دیا ۔ چنگیز خان بخارا پہنچا تو اس نے کہا کہ تم لوگوں نے بہت گناہ کئے ہیں اور میں اللہ کا عتاب ہوں ۔ لاکھوں مسلمان موت کے گھا ٹ اتار دیئے گئے ، اس وقت علاؤالدین خوارزم کے بیٹے جلال الدین نے بچے کھچے سپاہیوں کو اکٹھا کیا ۔ یہ بہت ہی نڈر اور بہادر انسان تھا۔ اس نے چنگیز خان کے خلاف لاتعداد لڑائیاں لڑیں اور بہت نقصان پہنچایا مگر نہ ہی خلیفہ بغداد اور نہ ہی بادشاہ ہند اس کی مدد کو پہنچے ۔ لڑتے لڑتے آخرکار وہ دریائے سندھ کے کنارے منگول فوج کے گھیرے میں آگیا ۔ چنگیز خان کی ہدایت تھی کہ اس کو زندہ گرفتار کیا جائے مگر بہادر جرنیل ان کے ہاتھ نہ آیا جب بچاؤ کے تما م راستے بند دیکھے تو اپنے چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ مع گھوڑوں کے بہت اونچائی سے دریائے سندھ میں چھلانگ لگا دی۔ چنگیز خان سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ سلطان جلال الدین خوارزم شاہ تیر کر دوسرے کنارے پر چلا گیا اور وہاں زمین پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔ چنگیز خان نے اپنے ہمراہیوں سے کہا”ہر باپ کا بیٹا ایسا ہی بہادر ہونا چاہئے“۔ سلطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پھرتا پھراتا کردستان چلا گیا اور وہاں ایک کرد نے کہ جس کے بھائی کو سلطان کے سپاہیوں نے جنگ میں قتل کر دیا تھا سلطان کو قتل کر دیا۔ اس طرح اسلام کا ایک بہادر و نامور جرنیل و سلطان اپنے ہی لوگوں کی غداری کا شکار ہو کر تاریخ کا حصہ بن گیا۔ لیکن اللہ کے عتاب سے خلیفہ بغداد بھی نہ بچ سکا اور1259ء میں ہلاکو خان نے جو چنگیز خان کا پوتا تھا بغداد پر قبضہ کر کے اس قدر قتل ِ عام کیا کہ دریائے دجلہ کئی دن تک خون سے سرخ رہا۔ قدرت نے اپنا انتقام لے لیا اور خلیفہ بغداد کو مسلمانوں سے غداری کی سزا مل گئی۔ مسلمانوں کی نا اتفاقی ان کے زوال کا سبب بنی اور نہ صرف خوارزمی حکومت بلکہ خلافت بغداد اور دوسری تمام مسلم مملکتیں بھی ختم ہو گئیں۔ پہلے منگولوں نے ان پر قبضہ کیا اور پھر روسی اور مغربی سامراجی ممالک نے آہستہ آہستہ مسلم ممالک کو اپنا تابعدار بنا لیا۔

    تاریخ سے ہم نے کبھی کچھ نہیں سیکھا جو ہمارا حال آٹھ سو سال پیشتر ہوا تھا وہی آج بھی ہے۔ عراق ، فلسطین ، افغانستان، پاکستان، صومالیہ ، سوڈان وغیرہ ان مشکلات کا شکار ہرگز نہ ہوتے اگر ہم نے اسلام کے سنہری اصولوں یعنی رواداری، خلوص، باہمی اتحاد ، انصاف ، غیر قانونی جنگوں سے اجتناب اور ظلم سے اجتناب پر عمل کیا ہوتا۔ جلال الدین خوارزم ایک بہادر نڈر مجاہد تھا اور اس نے نہایت دلیری سے منگولوں کا طویل عرصہ تک مقابلہ کیا مگر خود غرض، کوتاہ نظر مسلمان حکمرانوں نے مدد نہ کی ، نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں مسلمان قتل ہوئے اور لاتعداد شہروں کو تہس نہس کر دیا گیا۔1260 ء میں منگولوں کو پہلی مرتبہ شکست کا مزہ چکھنا پڑا جب مصر کے مملوک حکمراں اَلزہیربیبرس نے انہیں اردن میں عین جالوت کے مقام پر سخت شکست فاش دی۔ منگولوں کو دوسری بری شکست اسی سلطان نے شام کی سرحد کے قریب وان کے مقام پر 1277ء میں دی۔ ان شکستوں سے منگولوں کی نا تسخیری کا بھرم ٹوٹ گیا ۔ بعد میں جب 1291ء میں منگولوں نے ہندوستان پر حملہ کیا تو علاؤالدین خلجی نے انہیں بری طرح شکست دی اور اس کے بعد 1298ء میں انہوں نے ایک لاکھ فوج کے ساتھ حملہ کیا اور دہلی تک پہنچ گئے مگر پھر سلطان علاؤالدین خلجی نے فیصلہ کن شکست دے دی۔ 1304ء میں منگولوں نے ملتان کو تباہ کیا مگر گورنر پنجاب غیاث الدین تغلق نے بری طرح شکست دے کر منگولوں کی کمر توڑ دی۔

     

     

                         

               

    دُور رَس تباہ کن فیصلے,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان

             

    6/17/2009

    اپنے پچھلے کالم میں زیرِبحث موضوع کو جاری رکھتے ہوئے میں اس کالم میں چند اُن فیصلوں یا اقدام کا تذکرہ کروں گا جو پاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے اور ہم آج بھی اُن فیصلوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

    ان میں ایک غلط فیصلہ ایوب خان نے کیا تھا ۔ آرمی کے کمانڈر انچیف بنتے ہی اس نے حکومت پرقبضہ کرنے کے بارے میں تدبیریں شروع کر دی تھیں۔ انگلستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین اور ان کے ایٹمی ہتھیاروں کے خالق لارڈ کوکرافٹ (Cockcroft) نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ وہ پچاسویں کے شروع میں آسٹریلیا جاتے ہوئے کراچی میں ٹھہرے اور ایک سرکاری عشائیہ میں شرکت کی جہاں ان کی ملاقات ایوب خان سے ہوئی اور باتوں ہی باتوں میں ایوب خان نے سیاستدانوں اور اعلیٰ عہدیداروں کو بُرابھلا کہا کہ ان کو بدلنے کی ضرورت اور ملک کو ٹھیک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد میں ایوب خان کی غلام محمد اور اسکندر مرزا کے ساتھ سازشیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ سب سے زیادہ باعث شرم وہ سلوک ہے جو اس نے اپنے کرم فرما اسکندر مرزا کے ساتھ کیا اس کی تفصیل جناب قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں بیان کی ہے۔ قدرت اللہ شہاب ہالینڈ میں سفیر تھے اور وہاں سفارت خانے میں مارچ 1964ء میں ہماری شادی میں میرے گواہ تھے۔ خدا مغفرت کرے بے حد نفیس انسان تھے۔جب ایوب خان نے حکومت پر قبضہ کر لیا تو پاکستان کو دفن کرنے کی ابتداء ہوئی ۔ بہرحال آرمی کی کالی بھیڑوں کی لاٹری نکل آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ لکھ پتی اور کروڑ پتی بن گئے۔

    اسی طرح میں ایوب خان کے ایک اور فیصلے کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جس کے دوررس نتائج نکلے اور اس کے منفی اثرات کے نتائج ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ آپ کو علم ہے کہ 1962ء میں ہندوستان اور چین کے درمیان نیفا (NEFA)کے علاقہ میں جنگ چھڑ گئی اور ہندوستانیوں نے آسام کے شمال میں کچھ چینی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے واپس آنے سے انکار کر دیا تھا۔ جب کچھ جھڑپیں چھڑیں تو نہرو نے متکبرانہ لہجہ میں لوگوں سے کہا کہ میں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ چینی فو ج کو مار بھگائیں ۔ وہ بھول گیا تھا کہ وہ اب افیون کھانے والے چینی نہیں تھے بلکہ ماؤزے تنگ کے بہادر فوجی تھے۔ چند ہی دنوں میں ہندوستانی فوج کو سخت ذلت آمیز شکست ہوئی اور وہ بھاگ گئے اور چینیوں نے کافی علاقہ پر قبضہ کر لیا جو انہوں نے خود ہی پرامن طور پر خالی کر دیا۔ جب چین اور ہندوستان کی جنگ جاری تھی اور اس وقت لاتعداد لوگوں نے ایوب خان کو مشورہ دیا تھا کہ اس وقت کشمیر پر قبضہ کرلیں۔ اس وقت ہماری فوج قوت میں تھی اور اس وقت کے حالات میں ہندوستانی ایک ہفتہ بھی نہیں لڑ سکتے تھے، چھمب، جوڑیاں پر قبضہ کشمیر پر قبضہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیتا اور دنیا کو اسے ایک حقیقت کے طور پر ماننا پڑتا مگر کراچی اسلام آباد پر قبضہ دشمن سے لڑنے کے مقابلہ میں بہت آسان ہوتا ہے۔ ایسی بہادری کو صر ف ترکی کے جمہوری وزیراعظم بولنت ایچی وت(Bulent Ecivet) ہی دکھا سکتے تھے یا پھر اس کا مظاہرہ 1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے وقت بھی ہوا تھا۔ایوب خان نے سنہری موقع کھو دیا اور جب 1965ء میں بے وقت جنگ چھڑی تو مغربی ممالک نے ہندوستان کو سامان حرب کی فراہمی سے بے حد طاقتور بنا دیا تھا۔ مغربی تجزیہ نگاروں نے بیان کیا ہے کہ اگر یہ جنگ دو یا تین ہفتہ اور جاری رہتی تو ہم ذلت آمیز شکست سے دوچار ہو کر کشمیر اور لاہور سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اگر ایوب خان نے 1962ء میں کشمیر پر قبضہ کر لیا ہوتا تو ہم 1965ء کی جنگ سے دوچار نہ ہوتے، نہ ہی 1971ء میں شکست کھا کر ذلیل و خوار ہوتے، نہ ہی ہتھیار ڈالتے اور نہ ہی ہمارے بانوے ہزار فوجی ہندوستان میں قیدی بن کے ذلت کی زندگی گزارتے۔ 1971ء کی جنگ کے بعد ہندوستانی لیڈروں نے کھلے عام کہا کہ پاکستان کو 1962ء میں سنہری موقع ملا تھا اس نے بیوقوفی سے کھو دیا،ہمیں1971ء میں موقع ملا ہم نے فوراً اس سے فائد ہ اٹھا کر پاکستان کے ٹکڑے کر دیئے۔ 1971ء کے المیہ ،حادثہ کی پوری ذمہ داری ایوب خان کے سر پر ہے۔ اس نے بعد میں یحییٰ خان کو جانشین بنا کر ہمارے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ فوج کو کرپٹ کر دیا، سیاست میں ملوث کر دیا، اس کے بعد دوسرے مفاد پرستوں نے حکومتوں پر قبضہ کر کے اس ملک کو تباہ کر دیا اور ہر بار بغیر قانونی گرفت اور سزا کے عیاشی کرتے رہے۔ اگر ایک کا بھی آلیور کرامویل کا سا حشر کیا جاتا تو پھر کبھی کسی کو جرأت نہیں ہوتی اور جمہوری حکومت پر ہمیشہ خوف کی تلوار نہ لٹکتی رہتی۔ یہ بات آپ کو جاننا چاہئے کہ ایوب خان کا والد ایک صوبیدار یا رسالدار میجر تھا، ایوب خان خود صرف میٹرک تھا۔ انگلستان کی تھوڑی سی ٹریننگ نے اس کو ارسطو یا افلاطون نہیں بنا دیا تھا۔ اس سے عقل و فہم کی افزائش اور بردباری کا کوئی تعلق نہیں، نتائج آپ کے سامنے ہیں۔

    ایک ایسا ہی نقصان دہ اور نہایت منحوس واقعہ جس نے جمہوریت کی بیخ اکھاڑ دی، جناب نواز شریف کا اپنے چند کم عقل مشیروں کے مشورہ پر پرویز مشرف کو آرمی چیف بنانا تھا۔ ایک مرتبہ جبکہ میں ایٹمی دھماکوں اور مشرف کی تقرری کے بعد میاں محمد شریف سے ملاقات کو گیا تھا تو انہوں نے مجھے گلے لگا کر گلاب کے پھولوں کے ہاروں سے ڈھانپ دیا تھا تو میں نے کھلے الفاظ میں کہہ دیا کہ مشرف ان کیلئے بروٹس(Brutus)ثابت ہوگا جس نے اپنے محسن قیصر روم کو خنجر مارے تھے۔ میاں صاحب کے اصرار پر نوازشریف صاحب صرف یہ کہہ سکے کہ ساتھیوں نے مشورہ دیا تھا۔ اگر جنرل علی قلی خان کو جو ایک نہایت قابل اور فرشتہ خصلت فوجی تھے اور سنیارٹی کے حساب سے مستحق بھی تھے آرمی چیف بنا دیا ہوتا تو نہ میاں نوازشریف صاحب اور نہ ہی یہ ملک اس غلاظت کا شکار ہوتا ۔ بدقستمی اور افسوس کی بات ہے کہ میری پیشگوئی صحیح ثابت ہوئی اور میاں صاحب کو اور اس ملک کو اس فیصلے سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ جو لا قانونیت ، اقرباپروری اور رشوت ستانی یہ شخص کرگیا شاید ہی کوئی اس کو شکست دے سکے۔ ہمارے ملک کی بنیادیں ہل گئیں، عدالتوں کو ذلیل کیا گیا اور خنّاسیّت کو عروج پر دیکھا گیا۔ یہاں بھی انسان کی پچھلی خاندانی تاریخ ، پس منظر کا اثر سامنے آیا کہ مشرف ایک چھوٹے سرکاری ملازم کا بیٹا تھا جو ملازمت کے آخر میں سیکشن آفیسر بنا دیا گیا تھا جس کو بدعنوانی کی وجہ سے بھٹو صاحب نے نوکری سے نکال دیا تھا (اسی وجہ سے اس نے اپنی کتاب میں بھٹو صاحب کے خلاف بہت زہر اگلا ہے) اور اس کی والدہ ایک بین الاقوامی کمپنی میں ملازم تھی۔ اور اس پس منظر کی وجہ سے اس میں عقل و فہم ، سیاسی فراست کا فقدان تھا اور ایک ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ رچرڈ آرمی ٹیج کے فون پر اس نے گھٹنے ٹیک دیئے اور اس قوم اور ملک کو صرف ذاتی مفاد کی خاطر جہنم میں جھونک دیا۔ اس کے اس قدم نے لاکھوں بے گناہ لوگوں کی جان لی، افغانستان تباہ ہوا تو ہمارا قبائلی علاقہ بھی تباہ ہوگیا اور ہم آج اپنے ہی لوگوں سے جنگجوئی میں مصروف ہیں۔ میاں نوازشریف کے اس فیصلے کی اس قوم اور ملک نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے اور ادا کررہی ہے۔

    میں یہاں یہ بات بہت واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایوب خان ، یحییٰ خان ، ضیاء الحق اور مشرف کے کردار نے اس کہاوت کو صحیح ثابت کر دیا کہ درمیانی یا معمولی ادارتی تعلیم و تربیت کسی بھی طریقہ سے اعلیٰ یونیورسٹی کی تعلیم کا نعم البدل نہیں ہو سکتی اور اچھی تعلیم بھی عقل و فہم اور اعلیٰ کردار کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ عقل وفہم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک تحفہ ہوتا ہے اور اچھا اور شریف کردار آپ کو اپنے خاندان سے ورثہ میں ملتا ہے۔ اپنے محسن اسکندر مرزا کے ساتھ ایوب خان کا سلوک ، ضیا ء الحق کا اپنے محسن بھٹو صاحب کے ساتھ سلوک اور مشرف کا اپنے محسن میاں نوازشریف کے ساتھ سلوک اوپر بیان کردہ کہاوت اور اصول کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ ایک کے بعد ایک ذاتی فیصلے ملک کے تباہ کن ثابت ہوئے خواہ کسی نظریہ سے بھی دیکھا جائے۔ ایوب خان نے سنہری موقع کھو دیا اور ہم نے کشمیر کو حاصل کرنے اور وہاں کے عوام کو آزادی دلانے کے موقع کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کھو دیا۔ میاں محمد نوازشریف صاحب کے فیصلے کا نتیجہ خود کی جیل میں نظر بندی اور جلا وطنی، جمہوریت، عدلیہ کے قتل، اقرباپروری، رشوت ستانی، قانون کے دور کا خاتمہ اور افراتفری کی شکل میں نکلا، یہی نہیں اس ایک فیصلے کی وجہ سے افغانستان میں بیس لاکھ لوگ مارے گئے اور ہمارے ملک میں طالبان و القاعدہ کی تحریکیں شروع ہو گئیں اور ہزاروں بے گنا ہ لوگوں کا قتل عام اور لاکھوں کی نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا۔دیکھئے یہ حکایت کب اور کہاں پر ختم ہوتی ہے۔

     

                         

               

    میٹھی گولیاں۔ کڑوے لیمو,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان

             

    6/24/2009

    پچھلے دنوں صدر اوبامہ کے دورہ سعودی عرب اور مصر سے وہاں کے لوگوں کی لاتعداد اُمیدیں وابستہ ہو گئی تھیں اور بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے یہ وہی حالت تھی جو ہمارے ہاں ان کے حلف اُٹھانے سے پیشتر پیدا کی گئی تھی لیکن حلف اٹھانے والے دن ہی ان لوگوں کی خوشیوں اور امیدوں کے غبارے کی ہوا نگل گئی تھی۔ اگرچہ وہاں عوامی تقریبات پروگرام میں شامل نہ تھیں لیکن جامعہ الزہر کی تقریر کے بارے میں پہلے ہی سے پروپیگنڈہ عروج پر تھا کہ اوبامہ مسلمانوں سے مصالحت اور مسلم نواز پالیسی کا اعلان کریں گے۔ میں نے بھی یہ تقریر ٹی وی پر براہ راست نشر ہوتی دیکھی اور سنی اور فوراً اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ میٹھی گولیاں اور کڑوے لیمو تھے۔

    ہمیں یہ خوشخبری دی گئی کہ عراق سے امریکی فوج 2012ء تک واپس بلا لی جائے گی (کیا افتتاحی تقریب میں اوبامہ نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ فوج فوراً واپس بلا لی جائے گی؟)یہ انخلا اگر ہوا تو واقعی معجزہ ہوگا کیونکہ ساٹھ سال بعد آج بھی جنوبی کوریا، جاپان اور پورے یورپ میں امریکی افواج موجود ہیں اور تو اور اب مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں نے بھی اپنی کرسی پکّی کرنے کے لئے امریکی اور یورپی افواج بٹھا لی ہیں۔

    ایک اور بہت بڑی خوشخبری اور دھماکہ خیز بیان یہ دیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں دو آزاد ممالک یعنی اسرائیل اور فلسطین کی ضرورت ہے۔ کیا ہم پچھلے چالیس پچاس سال سے یہ پیارا نغمہ نہیں سن رہے ہیں؟ آپ نے بے چارے جاہل، نااہل فلسطینیوں کو یہ نصیحت کی کہ وہ پہلے اپنے متفرق ادارے مضبوط کریں پھر آزادی کی بات ہو گی۔ تعجب ہے کہ یہ شرط انڈونیشیا سے آچے کو توڑ کر آزاد کراتے وقت وہاں کے کم تعلیم یافتہ لوگوں سے نہیں کی گئی تھی۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ اسرائیلی جارحیت پسند وزیراعظم نے اوبامہ سے کہا کہ اس کا پیشرو بش ان کو خاموشی سے فلسطینی زمینوں پر قبضہ کرنے اور وہاں آبادیاں بنانے کی اجازت دے گیا تھا۔ ان باتوں کو دیکھ کر یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا جانے اوبامہ نے مصر کے دورہ سے پیشتر اسرائیلی وزیراعظم کو کون کون سے وعدے کئے ہیں۔ مستقبل ہی ان کا انکشاف کرے گا۔ بہرحال حسنی مبارک اور تمام عرب ممالک کو ایک دوٹوک پیغام دے دیا گیا کہ اسرائیل امریکہ کا پکا اتحادی ہے اور اس کی سکیورٹی پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی (لیکن بے چارے فلسطینیوں کی زمین پرقبضہ اور ان کا قتل عام معاف ہوگا اور اس کی کھلی اجازت ہوگی)۔

    ایک اور بہت اہم ”راز“ جس کا انکشاف اوبامہ نے کیا وہ یہ تھا کہ فوجی کارروائی سے عراق اور افغانستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ماشاء اللہ اگر وہ اس راز سے واقف ہیں تو پھر یہ بیس ہزار نئے فوجی افغانستان کیوں بھیجے جا رہے ہیں، کیوں پاکستان کی قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے کر کے لاتعداد بیگناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے؟مجھے اور آپکو اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے لیڈر نعرے لگا رہے تھے کہ اوبامہ کی حلف برداری کے بعد یہ حملے بند ہو جائینگے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حملوں کی شدت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے اور لاتعداد بیگناہ لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔اور بھلا ایک امریکی صدر ایران اور اس کے ایٹمی پروگرام کو کس طرح نظر انداز کر سکتا ہے ، ایران کا پُُرامن ایٹمی پروگرام جس کی نگرانی بین الاقوامی ایٹمی ادارے کے انسپکٹر باقاعدگی سے کرتے رہتے ہیں اور کبھی کوئی غیر قانونی کارروائی نہیں پاتے اس کو اوبامہ دنیا کے لئے خطرہ بتاتے ہیں لیکن اسرائیل کے دو سو سے زیادہ ایٹم بم عربوں پر گلاب کے پھول برسانے کے لئے ہیں۔ کسی امریکی صدر نے آج تک اسرائیل سے بین الاقوامی معائنہ یا این پی ٹی پر دستخط کرنے کو نہیں کہا۔ دوغلی پالیسی اور کیا ہوتی ہے؟ اس میں اسرائیل کی مسلسل جارحانہ کارروائیاں اور بین الاقوامی ایٹمی ادارہ اور فرانس کی نگرانی میں تیار ہونے والے عراق کے اوسیرک ری ایکٹر پر حملہ کر کے تباہ کرنا شامل ہے۔

    صدر اوبامہ نے اسلامی ممالک کو امریکہ کے ساتھ”خوشگوار تعلقات“ قائم کرنے کی پیشکش کی ہے جو میرے خیال میں ایک گولی یا شہد لگی چوسنی (Soother) سے بڑھ کر نہیں ہے۔ آپ میرے الفاظ لکھ کر رکھ لیں کچھ بھی قابل قدر یا قابل خوشی نتیجہ بر آمد نہیں ہوگا۔ القاعدہ اور طالبان کے خلاف رٹ جاری رہے گی کیونکہ سی آئی اے اسے روز یہ لکھ کر اوبامہ کی ٹیبل پر رکھتی جائے گی اور ایران اور پاکستان کے ایٹمی پروگراموں کے خلاف زہر اگلا جاتا رہے گا۔ امریکی حکومت کے لاتعداد صحافی خرید کردہ ہیں ان کو گاہے بگاہے کچھ مواد دیا جاتا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر یہ شوشے چھوڑتے رہیں۔

    صدر اوبامہ نے خود کے لئے فضیحت اور دوسروں کے لئے نصیحت کا اصول اپنایا ہے اس کی چند مثالیں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

    عراق سے فوجیوں کی واپسی چار سال کیلئے ملتوی۔ اندازہ یہی ہوتا ہے کہ چار سال بعد یہ نہ ہونگے اور معاملہ آئندہ صدر کی صوابدید پر جا پڑیگا جو اپنی مرضی کا مالک ہو گا۔ پچھلے بیانات کے برخلاف مزید فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے۔

    ایران پر اور دباؤ اور بلیک میلنگ(پاکستان پر دباؤ کہ گیس کا معاہدہ نہ کیا جائے یا توڑ دیا جائے)کہ ایٹمی پروگرام بند کر دیا جائے باوجود اس کے کہ آج تک بین الاقوامی ادارہ کے انسپکٹروں نے کسی قسم کی کوئی خلاف ورزی نہیں دیکھی ہے لیکن اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی یا انسپکشن کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔

    کھلے عام وعدہ خلافی اور پہلے باربار وعدہ کرنے کے باوجود قیدیوں پر غیر انسانی مظالم کے فوٹو شائع کرنے سے صاف انکار۔ امریکہ کی سول حقوق کی یونین نے بتایا ہے کہ قیدیوں کو ڈبونے کی تکلیف، خواتین کی بے حرمتی، ان کے حساس حصوں پر بجلی کے جھٹکے، ڈبوں میں بند کر کے کیڑے چھوڑنے کے لاتعداد واقعات ہیں۔ اگر جرمنی میں یہودیوں پر کئے گئے مظالم کی تصاویر بار بار دکھانے بلکہ ان کی اشتہار بازی میں آج بھی کوئی قباحت نہیں ہے تو پھر موجودہ تصاویر دکھا کر اپنی غلطی کو تسلیم کرنے اور اپنے ضمیر کو صاف کرنے میں کیا حرج ہے۔ یہ بات اور بھی حیرت انگیز ہے کیونکہ صدر اوبامہ کے دادا کو خود ایسے ہی مظالم کا شکار کینیا میں بنایا گیا تھا۔ ہمارے لئے نہایت تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ان لاکھوں افریقی لوگوں کو جن کو غلام بنا کر اغوا کیا گیا تھا اس میں بہت زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی اور ان کو کینیا ، تنزانیہ ، سینیگال، مالی، سیرالیون ، گھانا، نائیجریا، مالی وغیرہ سے اغوا کیا گیا تھا۔ تمام ساحلی علاقے اس ناقابل بیان ظلم کی نشانیوں سے پُر ہیں۔ جب ان کو باندھ کر جہازوں کے ذریعے امریکہ بھیجا جاتا تھا تو آدھے سے زیادہ راستے میں مر جاتے تھے اور ان کی لاشیں سمندر میں پھینک دی جاتی تھیں۔ پھر امریکہ میں ان سے کھیتوں میں اٹھارہ گھنٹے کام لیا جاتا اور ان کی خواتین کے ساتھ زبردستی کر کے بچے پیدا کئے جاتے تھے جن کو مُلاٹو کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کے مظالم دکھاؤ اور اپنے مظالم کی پردہ پوشی کرو۔

    اس میں شک نہیں کہ صدر اوبامہ ایک شستہ بیان زبردست مقرر(لفّاظی اور مبالغہ آمیزی بھی کہہ سکتے ہیں) ہیں لیکن اس شستہ بیانی اور لفّاظی سے کوئی مسئلہ حل نہ ہو گا۔ ہٹلر، مسولینی بھی بہت اعلیٰ اور زبردست مقرر تھے لیکن انکے اعمال تباہ کن اور قابل لعنت تھے اور اگرآپ اوبامہ کی تقریر سے بھی بہتر تقریر اور وہ بھی قاہرہ سے کچھ ہی فاصلہ پر الیگزینڈریا میں دی گئی، نپولین بونا پارٹ کی 1798ء میں دی گئی تقریر پڑھ لیں وہ اوبامہ کی زیتون کی شاخOlive branchسے ہزار درجہ زیادہ معلوماتی اور بہتر تھی۔ نپولین کا مقصد مصر پر قبضہ کرنا اور اسے فرانسیسی کالونی بنا کر لوٹنا تھا مگر دو سال کے اندر ہی محمد علی پاشا نے فرانسیسیوں کو بری طرح شکست دے کر بھگا دیا۔ اوبامہ اپنے مقاصد میں ہرگز کامیاب نہ ہونگے(یا اس میں ہو جائیں گے جو ان کا پوشید ہ ایجنڈہ ہے) کیونکہ ان کا پیشرو پہلے ہی وہ راہ طے کر گیا ہے۔ انکا وعدہ کہ عراق سے امریکی فوج 2012ء تک واپس بلا لیں گے ناممکن ہے کیونکہ ان کا جانشین جنوری 2013 میں انکی پالیسی بدل دے گا۔ اگر یہ اپنے ارادے میں سچے ہیں تو ان کو یہ تاریخ 2010 ء یا 2011ء دینی چاہئے تھی۔ فلسطین کا مسئلہ اسی طرح مصلحتاً تعطل کا شکار رہے گا تاکہ اسرائیل مزید فلسطینی زمین پر قبضہ جاری رکھے اور مکانات کی تعمیر جاری رکھے اور یہ سب کچھ امریکی سرپرستی اور عرب حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسی اور بزدلی کی وجہ سے ہو گا۔

    مجھے یقین ہے کہ صدر اوبامہ اپنی پُرزور تقریروں اور نیک نیتی کے باوجود کچھ بھی حاصل نہ کر پائیں گے۔ ان کی حالت وہی ہے جو ہندوستان کے دو مسلمان صدور اور دو مسلمان نائب صدور کی تھی۔یہ ڈوری سے پُتلی (Puppet on a String)کا کھیل ہو گا۔ان کے مشیر، اسرائیلی لابی اور جارحیت پسند افسران ان کو جو مشورہ دیں گے یہ اس پر عمل کرنے کیلئے پابند ہو جائیں گے ان کے اپنے فیصلے یہ خود اعتمادی سے استعمال نہ کر پائیں گے۔ ہر فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کرے گی اور وہ عملدرآمد کیلئے ان کی منظوری کیلئے میز پر رکھ دیا جائے گا۔ عموماً ایک پُر اعتماد سربراہ خود فیصلہ کر کے ماتحتوں کو دیتا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے مگر یہ تو چاند کی خواہش والی بات ہے۔ پرانا رائج نظام بہت طاقتور ہے اور وہ صدر اوبامہ کو اس کو رد کرنے کی بالکل گنجائش نہیں دے گا اور نہ ہی اپنے ایجنڈے پر کام کرنے دے گا اوراوبامہ کا الیکشن کا نعرہ (”تبدیلی ۔ہم اس پر یقین کر سکتے ہیں“)"Change - We can believe in" اور خود اوبامہ تاریخ کا ایک پارینہ ورق بن جائیں گے۔

    اب جو بات کہنا چاہتا ہوں وہ نہ ایک سائنسدان کی ہے اور نہ ہی اسامہ بن لادن کی۔ یہ فرمان الٰہی ہے جس پر شک کرنا کفر ہے اور جہنم کی دعوت دینا ہے ۔ سورة المائدہ میں (آیات52,51 اور 81) اللہ تعالیٰ مسلمان حکمرانوں اور عوام کو کھلی وارننگ دیتا ہے۔ ”اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا وہ انہی میں سے ہو گا۔ بے شک خدا ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ تو جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے تو تم ان کو دیکھو گے کہ دوڑ دوڑ کر ان میں ملے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آ جائے ۔ سو قریب ہے کہ اللہ فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر نازل فرمائے پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے نادم و پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔ اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور رسول پر اور جو کتاب (قرآن) اُن پر نازل ہوئی ہے اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے اکثر بدکردار ہیں“۔

     

                         

               

    زراعت میں سرمایہ کاری ,,,,سحر ہونے تک …ڈالٹر عبدالقدیرخان

             

    7/1/2009

    میں نے پہلے بھی اپنے دو کالموں میں زراعت کی اہمیت اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے کافی مقدار میں اناج کی پیداوار پر زور دیا تھا۔ اس کالم میں آپ کی خدمت میں چند عملی مشورے دینا چاہتا ہوں تاکہ یہ مستقبل میں قومی بجٹ میں شامل کئے جا سکیں۔ مجھے امید ہے کہ اگر ان مشوروں پر عمل کیا جائے تو ہمیں آئندہ خوراک میں خود کفالت حاصل کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

    پچھلے ساٹھ سال میں ہماری آبادی تین کروڑ سے بڑھ کر سترہ کروڑ ہو گئی ہے۔ اُمید تو یہ تھی کہ آبادی کے اضافہ کے ساتھ ساتھ خوراک کی پیدائش میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوتا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا جبکہ دنیا کے کئی بہت چھوٹے ممالک زرعی پیداوار برآمد کر کے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ ہمارے یہاں معاملہ بالکل الٹا ہے ہم اربوں ڈالر اشیاء خوردنی مثلاً گندم، مصالحہ جات، تیل ، دالیں ، سبزیاں، چائے، چینی وغیرہ جیسی چیزوں پر بے دریغ خرچ کر رہے ہیں۔ ہمارا ملک ٹماٹر ، پیاز ، ادرک اور آلو تک درآمد کرتا ہے۔ یہ درآمدات نہایت ہی قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کر کے کی جاتی ہیں اور زرِ مبادلہ ایک اونچی شرح سود پر حاصل کیا جاتا ہے جس سے ملک کے بجٹ پر نہایت برا اثر اور سخت دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ باہر سے درآمد شدہ اشیاء کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ملک میں افراطِ زر کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف جولائی۔دسمبر 2008میں کھانے کی قیمتوں میں تقریباً اکتیس اعشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا تھا۔ طویل عرصہ کی لوڈشیڈنگ اور بجلی کی زیادہ قیمتوں نے معاشی حالت کی کمر توڑ دی ہے۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والا شیطانی چکر ہے جس کا خاتمہ نظر نہیں آتا۔ قیمتوں میں اضافے سے اجرتوں میں اضافہ لازمی ہے جس سے ملک میں پیدا کردہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے زرعی اشیاء کی برآمد میں کمی لازمی ہے اور اس کے نتیجے میں جو بجلی گِرتی ہے تو وہ غریب کسانوں پر ۔ یہی نہیں بلکہ سب سے مضر اثرات زرمبادلہ کے قرضوں کی ادائیگی پر پڑتا ہے۔ لگتا ہے کہ ہم اس جرثومہ کا شکار ہیں جو لاتعداد بیماریوں کو جنم دیتا رہتا ہے۔ ملک کی ان تمام مشکلات و مراحل کو دیکھ کر اَنورَی کا یہ شعر یاد آجاتا ہے۔

    ہر بلاَئے کز آسمان آید

    خانہ اَنوری# رَامی پُر َسد

    اس نہ ختم ہونے والے شیطانی چکر کو توڑنے کے لئے ماہرین کی رائے کے مطابق قومی بجٹ میں زراعت کے شعبہ میں وسیع سرمایہ کاری لازمی ہے۔ ان کو یقین ہے کہ کھانے کی اشیاء میں خود کفالت ہی ہمارے سالانہ بجٹ (جس کا بہت حد تک انحصار زراعت پر ہے) میں کمی کوکم یا ختم کر سکتی ہے۔ بجٹ میں اس خسارے سے ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا ہے اور سارا بوجھ غریب طبقہ پر پڑتا ہے جو کہ پہلے ہی مختلف اقسام کے بلا واسطہ ٹیکسوں کے شکار ہیں۔ اگر ہم صرف خوراک کی اشیاء کی درآمد بند کر دیں یا بہت کم کر دیں جو کہ کم وقت میں لازمی ہے اور قابل عمل بھی ہے اور فوری نتائج دیکھنا چاہیں تو بجٹ کے خسارے کو اگر ختم نہیں تو بہت کم کیا جا سکتا ہے اور معاشی حالت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ جولائی سے دسمبر 2008ء کے معاشی سروے میں جو وزرات خزانہ نے اپنے ویب سائٹ پر ڈالا ہے بتایا گیا ہے کہ کھانے کی اشیاء کی درآمد پر تقریباً دو اعشاریہ دو ارب ڈالر خرچ کئے گئے جو کہ پچھلے سال کے اسی وقت کے دوران کے خرچ سے اڑتیس فیصد زیادہ ہے۔صرف گندم کی درآمد پر سات سو چونتیس ملین ڈالر خرچ کئے گئے ۔ اسٹیٹیکل اضافی سروے کے مطابق اس دوران میں جو سبسڈی دی گئی اس کی قیمت تقریباً آدھا بلین ڈالر تھی ۔ آپ کو تعجب ہو گا کہ یہ رقم ہمارے سالانہ دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے جو کہ اس سبسڈی کا تین چوتھائی ہے۔ بدقسمتی سے زراعت کو جو سبسڈی (رعایتی مدد) دی جاتی ہے اس کے اعداد و شمار اس ویب سائٹ پر نہیں دیئے گئے ہیں لیکن یہ بات خاصے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اس رعایتی مدد کا بیشتر حصہ زرعی اشیاء کی پیداوار اور فروخت پر خرچ ہوتا ہے۔ اگر زراعت کے شعبہ کی براہ راست امداد نئی اسکیموں کو شروع کرنے اور ان کی صحیح اور بہتر طریقہ سے تکمیل کرنے سے کی جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے جو اس قدر بڑی رقم رعایتی امداد کے طور پر زراعت کے شعبے میں خرچ کی جاتی ہے اس سے جلد از جلد چھٹکارہ حاصل نہ کیا جا سکے گا۔

    آبی وسائل ۔ایک اہم سیکٹر جس کو فوراً زیادہ سے زیادہ مالی وسائل مہیا کئے جائیں وہ پانی کی دستیابی ہے۔ بڑے ڈیم کو عموماً آٹھ سے دس سال مکمل ہونے میں لگتے ہیں (جس طرح ایک ایٹمی پاور پلانٹ کو بھی) اور وہ بھی جب سیاسی ، معاشی مسائل خوش اصلوبی سے اگر طے پا جائیں تو یہ ممکن ہے۔ چاروں صوبوں میں لاتعداد چھوٹے ڈیموں کی اشد ضرورت ہے جن پر رقم بھی کم خرچ ہوتی ہے اور سیاست بھی رخنے نہیں ڈالتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ ڈیم دریاؤں پر بنائے جائیں اور وہاں رہنے والوں کی زندگی اور ماحولیات پر اثر انداز ہوں۔ بارش کا پانی روک کر آبی ذخائر بنائے جا سکتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ایوب خان کے دور حکومت میں واپڈا کے تحت کام کرنے والے ادارے ”اسمال ڈیم آرگنائزیشن“ نے نہایت قابل تحسین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور کسی کو اب اس چڑیا کا نام تک یاد نہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ معاشی وسائل مختص کر کے دوبارہ چھوٹے ڈیم بنانے کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ ملک میں لاتعداد ایسی جگہیں موجود ہیں اور ان کی نشاندہی کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ آپ کو ایک دلچسپ کارآمد واقعے کے بارے میں بتلاتا ہوں۔ 2003ء میں ہم لوگ چین کے صوبے سنکیانگ میں تفریحی دورہ پر تھے۔ صبح جب ہم ترفان (Turfan)جا رہے تھے جو سیاحت کے لئے بہت دلچسپ جگہ ہے اور انگور کی بیلوں اور دوسرے لذیذ پھلوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے تو ہم نے راستے میں سیکڑوں لوگوں کو دیکھا کہ کدال اور بیلچے استعمال کر کے مٹی اکٹھا کر رہے ہیں ہمارے دریافت کرنے پر ہمارے گائیڈ نے بتلایا کہ یہ لوگ مقامی کونسلروں کی نگرانی میں چھوٹا ڈیم بنا رہے ہیں۔ جب ہم شام کو واپس آ رہے تھے تو ہم نے دیکھا کہ ان لوگو ں نے مٹی اکٹھی کر کے بہت اونچی دیوار کھڑی کر دی تھی۔ ایسا اندازہ ہوتا تھا کہ چند ہی دنوں میں یہ لوگ ڈیم مکمل کر لیں گے۔ ہمیں بتلایا گیا کہ یہ پانی نہ صرف استعمال کے لئے بلکہ مختلف فصلوں کی کاشتکاری کے لئے بھی کام آئے گا۔ اس قسم کے ڈیم بآسانی بلوچستان میں بنائے جا سکتے ہیں جہاں بارش کا پانی اور پگھلی ہوئی برف کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے اور سبزیاں اور پھل پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام ایسے علاقوں میں متعین فوجی جوان بھی کر سکتے ہیں چین میں ایسے ہزارہا کام فوجیوں نے سر انجام دیئے ہیں۔ چین کے لوگوں میں قابل مثال باہمی مدد اور خود کام سر انجام دینے کا جذبہ موجود ہے۔ ہمیں بھی ایسا جذبہ پیدا کرنے کہ اشد ضرورت ہے۔ خوراک کے گودام۔ایک دوسرا سیکٹر جس میں حکومت کو فوراً اقدام اُٹھانا اور مالی مدد دینا چاہئے وہ خوراک کے گودام ہیں۔ ہمیں حکومت کی جانب سے مہیا کردہ تمام تفصیلات و معلومات میں کہیں بھی ایسے گوداموں کا تذکرہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے گوداموں کا فقدان ہے جس کی وجہ سے غلہ کی کافی مقدار ضائع ہو جاتی ہے اور کسانوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ 2003/2004ء میں تقریباً ساڑھے انیس ملین ٹن یعنی تقریباً دو کروڑ ٹن گندم پیدا ہوئی تھی اور چونکہ مناسب گودام موجود نہ تھے یہ گندم کھلے میدانوں، سڑک کے کنارے، ریلوے اسٹیشنوں کے باہر پڑی ہوئی تھی۔ (جاری ہے)

     

                         

               

    زراعت میں سرمایہ کاری,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان,,,, (گزشتہ سے پیوستہ)

             

    7/3/2009

    چونکہ گندم کی کاشت کے بعد جلد ہی بارشوں کا موسم شروع ہو جاتا ہے اور اس گندم کی بربادی کا خطرہ تھا میں نے مشرف کو لکھا کہ یہ گندم فوراً غریبوں میں تقسیم کر دی جائے جو زکوٰة کے مستحق ہیں اور یہ رقم زکوٰة فنڈ سے وصول کر لی جائے۔ اس عمل سے غریب کو دو وقت کا کھانا مل جاتا اور گندم ضائع ہونے سے محفوظ رہتی مگر میرے مشورے پر عمل نہیں کیا گیا اور نتائج حسب ِ توقع نکلے۔ اس سال بھی ہمارے یہاں گندم کی وافر مقدار پیدا ہوئی ہے اور میں پھر وہی پرانا مشورہ دہرانا چاہتا ہوں۔ ضرورت سے زائد گندم کو زکوٰة کے مستحق غرباء میں بانٹ دو اور زکوٰة سے رقم وصول کر لو تاکہ غرباء کو کھانا ملے اور گندم ضائع ہونے سے بچ جائے۔ اس کے علاوہ اس کام کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو بھی گندم فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس طرح” ہوشیار“ لوگ نقد رقم نہیں چرا سکیں گے۔ میرا اہم مشورہ ہے کہ ملک میں ہر صوبہ اور ہر پیداواری علاقہ کو بڑے بڑے پہلے سے تیار کردہ اور صرف جوڑنے والے بڑے بڑے گودام فصلوں کو احتیاط سے ذخیرہ کرنے کے لئے مہیا کئے جائیں ۔ سب سے مناسب طریقہ یہ ہے کہ کراچی میں اسٹیل مل کے قریب ان کو تیار کرنے کی فیکٹری لگا دی جائے تاکہ یہ کم قیمت پر دستیاب ہوں اور ضرورت مند بھی فیکٹریاں بنانے کے لئے یہ خرید سکیں۔ ایمرجنسی میں یہ چھوٹے چھوٹے گھر بھی تیار کر سکتے ہیں۔ میں نے اپنی ضروریا ت کے لئے کہوٹہ میں ایسے کئی بڑے بڑے شیڈ شارجہ سے منگوا کر لگوائے تھے اور یہ بے حد کار آمد ثابت ہوئے تھے یہ لوہے کہ چادروں جن پر زنگ سے بچانے کے لئے جست چڑھا دیا جاتا ہے سے بنائے جاتے ہیں اور دو چادروں کے درمیان تین سے چار انچ فوم بھرا ہوا ہوتا ہے جو گرمی اور سردی سے محفوظ رکھنے میں بہت مفید ہوتا ہے۔ شارجہ میں ایسی کئی فیکٹریاں ہیں اور ہم نے آرڈر پر اپنی ضروریا ت کے مطابق یہ شیڈ بنوا لئے تھے۔یہ کہوٹہ پہنچنے پر صرف چند دنوں میں نصب کر لئے گئے تھے۔ خود کفالتی بہت ضروری ہے۔چند لوگوں کو ملازمتیں بھی مل جائیں گی اور ہمارے اپنے ملک میں یہ شیڈ کم قیمت پر بھی دستیاب ہو جائیں گے۔

    صوبوں میں زرعی ریسرچ کونسلز کا قیام۔تمام صوبوں میں علیحدہ علیحدہ زرعی ریسرچ کونسل قائم کرنا ضروری ہے اور ان کو مناسب مقدار میں مالی امداد دی جائے تاکہ یہ مقامی اور بین الاقوامی معاونت سے زراعت کے میدان میں اپنی ضروریات کے مطابق ریسرچ کر سکیں۔ ہمارے صوبے اپنی آب و ہوا اور زمین کی ساخت میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں اور اس وجہ سے مقامی ریسرچ ادارہ اپنے مسائل کو حل کرنے میں زیادہ بہتر ثابت ہو گا لیکن وفاقی مالی مدد اور ان اداروں کی کارکردگی پر کڑی نگاہ رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

    زرعی انوسٹمنٹ بورڈ۔ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے حکومت کو چاہئے کہ ایک ایگریکلچرل انوسٹمنٹ بورڈ قائم کرے جس کا کام مالی اور فنی سہولتیں پہنچانا ہو۔ اس بورڈ کی شاخیں صوبوں میں بھی قائم کرنا بہتر ہو گا اور وفاقی بورڈ ایک طرح صوبائی بورڈوں کا نگران ادارہ ہو گا جو صوبائی اداروں کو مالی ، فنّی اور مانیٹرنگ مدد باہم پہنچائے گا۔ اس بورڈ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ یہ وسائل کو زرعی اور غیرزرعی اداروں میں تقسیم کر سکے گااور زرعی سرگرمیوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ جس طرح انجینئرنگ انڈسٹری قومی سطح پر ایک انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کی نگرانی اور رہنمائی میں کام کر رہی ہے اسی طرح زرعی انڈسٹری کے لئے بھی ایک ایسا ہی بورڈ لازمی ہے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے اور اس طرح قومی سطح پر اس اہم معاملہ پر نہ ہی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں اور نہ ہی کسانوں اور کاشتکاروں کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ میں تو بس مشورہ دے سکتا ہوں اُمید ہے کہ حکومت اس مشورہ پر آئندہ بجٹ سے پہلے غور کرے گی اور کچھ مشوروں کو اپنانے کی کوشش کرے گی تاکہ زرعی میدان میں ہم آگے بڑھ سکیں، بس ہم ایسی مسلسل میٹنگز اور بحثوں کے چکر سے نکل آئیں جس کے بارے میں فردوسی نے کتنے پیارے الفاظ میں کہا تھا۔

    پئے مَشورت مجلس آراستند

    نشستند و گفتند و برخاستند

    میں اس میں تھوڑی ترمیم کر دیتا تھا۔

    آمدند، نشستند، گفتند، نوشتند، برخاستند

    یعنی آج کل میٹنگز کا یہی مقصد رہ گیا ہے کہ آئے،بیٹھے،تقریر کی،کھایا ،پیا اور چلتے بنے۔

     

                         

               

    ناقابل معافی جرائم و گناہ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان

             

    7/8/2009

    بعض ایسے جرائم ہوتے ہیں جن کے لئے نرم ترین دل رکھنے والے بھی ایک مثالی سزا دینے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے ۔ ان میں زنا با لجبر ، بچوں کے ساتھ زیادتی، بچیوں کا اغوا، اغوا برائے تاوان، بیگناہ لوگوں کا چھوٹے سے تنازع پر قتل شامل ہیں۔ میں اس فہرست میں ایک اور گھناؤنا جرم شامل کرنا چاہتا ہوں اور وہ کھانے ،پینے کی اشیاء میں ملاوٹ اور جعلی دواؤں کی تیاری اور ان کی فروخت ہے۔ سخت سے سخت ترین سزا بھی ان بھیانک جرائم کرنے والوں کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ یہ انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی، اسی طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس نے کسی ایک انسان کی جان لی گویا اس نے پوری انسانیت کو ہلاک کیا۔

    کچھ عرصہ پیشتر جیوٹی وی ایک نہایت اچھا اور معلوماتی پروگرام کھانے اور دواؤں میں ملاوٹ کے بارے میں نشر کرتا تھا۔ یہ پروگرام ہمابخاری بہت ہی اچھے طریقہ سے پیش کرتی تھیں جو خوفناک تصاویر دکھائی جاتی تھیں ان میں نہایت غلیظ کھانا پکانے اور مٹھائی بنانے والی دکانوں اور فیکٹریوں کے اندر غلاظت، گٹر کے پانی کا استعمال وغیرہ تھا۔ یہ دیکھ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے کہ یہ انسانیت کے مجرم ہمیں کیا کیا کھلا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ادرک کو تیزاب میں ڈبو کر صاف کرنا ، نالوں کا پانی دودھ اور مشروبات میں ملانا ، چمڑے کو رنگنے والے زہریلے رنگوں کوکھانے کی اشیاء میں استعمال کرنا، چنے کے چھلکوں کو زہریلے رنگ سے رنگ کر چائے کی پتی میں ملانا ،گاڑیوں کے تیل کو گھی اور کھانے کے تیل میں ملانا اور ان سے پکوڑے اور سموسے تیار کرنا جیسے جرائم ہیں۔ یہ سب کچھ حکومتی عہدیداروں کی آنکھوں کے سامنے بلکہ ان کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ چند دن پیشتر PIMS اسلام آباد میں ان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے وزارت صحت کے عہدیداروں کے ہمراہ وہاں ایک پرائیویٹ دواؤں کی کمپنی کی دکان پرچھاپا مارا اور لاتعداد جعلی دوائیں پکڑیں۔ اس سے پیشتر لاہور میں ایک چھاپے کے دوران ایک فیکٹری میں جو جعلی دوائیں تیار کرنے میں مصروف تھی غیر ملکوں سے درآمد کی ہوئی دو ارب روپے مالیت سے زیادہ خام چیزیں موجود پائیں۔

    یہ جرائم جاری ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے کیونکہ حکومت اس سلسلے میں موثر اقدام نہیں اٹھا رہی ہے۔ اس میں عدلیہ کی جانب سے مقدموں کی سماعت میں تاخیر اور سخت سزاؤں کے فقدان نے بھی بڑا رول ادا کیا ہے۔ ابھی ہماری جوانی کے دور میں ہی کوئی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ لوگ خاص طور پر مسلمان اس پست اخلاقی اور کردار کے مرتکب ہو سکتے ہیں اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ ممکن ہے کہ مسجد میں ہمارے ساتھ کھڑا نماز پڑھنے والا انہی لوگوں میں سے ایک ہو۔

    سلطان علاؤ الدین خلجی کے دور حکومت میں انسپکٹر بازار میں گھومتے پھرتے تھے اور فروخت شدہ سامان کا وزن چیک کرتے تھے اگر وزن میں کمی نکلتی تھی تو دکاندار کے جسم سے گوشت کاٹ کر یہ کمی پوری کر دی جاتی تھی آپ تصور کر لیں کہ ایسی سزا کی موجو دگی میں کیا کوئی کم تولنے کی جرأت کر سکتا تھا۔ میں ایسی سخت سزا کے خلاف ہوں مگر یہ نہایت موثر تھی ۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے برلن جانے سے پہلے میں تقریباً تین سال گورنمنٹ انسپکٹر برائے اوزان، پیمانہ جات کراچی تھا اس دوران میں جو جعلسازیاں اور ناپ تول میں گڑ بڑ کی تدابیر دیکھنے میں آئی تھیں وہ ایک دلچسپ کتاب لکھنے کے لئے کافی ہیں۔

    بدقسمتی سے کھانے کی اشیاء اور دواؤں میں ملاوٹ کرنے کی لعنت برصغیر میں عروج پر ہے۔ مرحوم میجر جنرل حکم ارشد قریشی نے (جو کہ ایک دراز قد ، خوبصورت، بہادر، ایس ایس جی کے کمانڈنٹ اور مشرقی پاکستان کی جنگ میں بہادری پر تمغہ یافتہ تھے) اپنی سوانح عمری ”1971ء کی ہند۔ پاک جنگ “ میں بہت ہی کھلے اور مناسب الفاظ میں کہہ دیا کہ برصغیر کی زمین غداروں کی پیدائش اور ترقی کے لئے نہایت موزوں ہے میں اس میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف غداروں کے لئے بلکہ ہر قسم کے نہایت ذلیل ترین مجرموں کے لئے بھی۔ ذرا آپ اپنے آس پاس دیکھیں ۔ سماجی و باہمی رواداری کا مکمل فقدان ، نالوں میں کچرا کوڑا ڈالنا اور سڑکوں کے کنارے غلاظت ڈالنا ، چلتی گاڑیوں میں سے سگریٹ کے خالی ڈبہ ، پھلوں کے چھلکے، چپس کے خالی تھیلے، پلاسٹک کی تھیلیاں پھینکنا کیا تہذیب اور مذہبی اصولوں کی پاسداری ہے۔ آپ ذرا غور کریں کہ اس ” مملکت خداداد پاکستان“ میں تقریباً ساٹھ سے ستّر فیصد کھانے کی اشیاء اور دوائیں ملاوٹ کا شکار اور جعلی ہیں۔ لعنت ہے ایسے لوگوں پر جو مسلمان ہو کر اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہیں۔

    آپ کی خدمت میں عرض کروں گا کہ میر ے رفقاء کار اور میں نے افریقہ کے کئی نہایت غریب ممالک کا دورہ کیا ہے۔ ہم اس مشہور اسلامی شہر ٹمبکٹو (مالی) میں بھی گئے جو سیاحوں کے خوابوں کی کشش رہا ہے جہاں ایک وقت اسلامی یونیورسٹی میں پچیس ہزار طلباء دنیائے اسلام سے آکر تعلیم حاصل کر رہے تھے جہاں بارہ سو سالہ قدیم مساجد ہیں جس کو”دنیاکا ایک شہر لامکان“ یعنی "A City In The Middle of Nowhere"کہا جاتا ہے۔ وہاں مساجد اور پرانی عمارتوں کو صاف ستھرا رکھا گیا ہے اور ہزار سال پرانی لائبریری قابل دید ہے۔ وہاں بجلی و پانی کی کمی ہے ، ایئرکنڈیشنر نہیں ہیں بہت سے لوگوں کے پاس دو وقت تو کیا ایک وقت کاکھانا بھی مشکل سے میسر ہوتا ہے لیکن وہاں اور دوسرے غریب ملکوں میں نہ ہی جعلی دوائیں بنائی جاتی ہیں یا بیچی جاتی ہیں اور نہ ہی کھانے میں کسی قسم کی ملاوٹ ہے۔ بدقسمتی سے نائیجریا اس روایت سے مستثنیٰ ہے جہاں رشوت ستانی، کھانے میں ملاوٹ اور جعلی دواؤں کی تجارت نے پاکستان کو بھی مات کر دیا ہے کہیں یہ تو نہیں کہ یہ بھی ہماری طرح”مسلمان “ ہیں؟

    ہمارے ملک میں زیادہ تر لوگ جو اس گھناؤنے جرم میں مبتلا ہیں اچھے خاصے مالدار ہیں مگر مال و دولت کی ہوس میں دنیاوی آرام و آسائش میں عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ غالباً ان کو قارون اور اس کی بے انتہا دولت و خزانوں کا اور اس کے انجام کا علم نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مع دولت زمین میں دھنسا دیا تھا اور وہ دولت کچھ کام نہ آئی ۔ اس میں ان جرائم کرنے والوں کے لئے اللہ کی جانب سے کھلی وارننگ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں اور گنہگاروں کے لئے نہایت ہی سخت ، دکھ دینے والی اور عبرت ناک سزا کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔ ملاوٹ ایک جرم ہے جو انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے اور اس کو ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا۔ حدیث نبوی ہے کہ” مَن غشَّ فَلیسَ مِنّاَ“یعنی جس نے کھوٹ کیا یا ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ غَشَّ کا مفہوم عربی میں بہت وسیع ہے اس سے مراد کسی خالص چیز کے ساتھ کوئی چیز ملانا ، جھوٹ کو سچ میں، امانت میں خیانت ، دوستی کے ساتھ دشمنی، ایمان کے ساتھ منافقت ، عدل کے ساتھ بے ایمانی، یہ ساری اخلاقی بیماریاں یا گناہ شامل ہیں۔

    اب کچھ بات تعلیمی نقطہٴ نظر سے ۔ ایک جرمن کیمسٹ فریڈرک آکُم 1973ء میں لندن آیا تھا اوراس نے بہت جلد اپنے آپ کو ایک ماہر کیمیکل انسپکٹر کے طور پر منوا لیاتھا۔ ساتھ ہی اس نے ایک استاد اور کنسلٹنٹ کے طور پر بھی شہرت حاصل کر لی تھی۔ (جاری ہے)

     

                         

               

    ناقابل معافی جرائم و گناہ... سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان (گزشتہ سے پیوستہ)

             

    7/9/2009

    یہ پہلا ماہر تھا جس نے کھانے کی چیزوں میں مضر ملاوٹ کے بارے میں لوگوں کو خبردار کیا۔ عموماً کھانے میں ملاوٹ والی چیزیں کینسر اور معدے کی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ یہ تعجب کی بات ہے کہ جبکہ مغربی ممالک میں یہ لازمی ہے کہ ہر فروخت کرنے والی چیز پر اس کے تمام اجزا کے نام اور مقدار لکھی جائے ہمارے ملک میں بین الاقوامی کمپنیاں تک اس قانون پر عمل نہیں کرتیں۔ اس سے عوام کی صحت پر برا اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ بہت سے اجزا الرجی جیسی بیماریوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ مثلاً مونگ پھلی سے الرجی عام ہے ۔ اس کے ساتھ آپ کو علم ہو گاکہ میلامِن(Melamine) اگر زیادہ مقدار میں دودھ میں شامل ہو تو چھوٹے بچوں کی صحت کے لئے سخت مضر ہے۔ہم نے چند ماہ پیشتر چین میں اس شے سے کئی بچوں کی موت کی خبریں پڑھی تھیں اور حکومت چین نے بہت ہی سخت سزائیں دی تھیں۔ دواؤں، چائے، مشروبات کے سروے اور ٹیسٹ کے نتائج نے سخت ہولناک اعداد و شمار پیش کئے ہیں جن سے ملاوٹ اور انسانی صحت کے لئے مضر اشیاء کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بین الاقوامی صحت کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر جعلی دواؤں کی تجارت تقریباً35 /ارب ڈالر ہے یعنی تقریباً تین ارب ڈالر ماہانہ ۔ اتنی منافع بخش تجارت ہو تو تعجب نہیں کہ یہ خوب پھل پھول رہی ہے اور اس قدر پُرکشش ہے۔ اسی وجہ سے سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عروج پر ہے اور وہ کوئی ایکشن نہیں لیتے۔ ایک اور سروے کے مطابق اس غریب ملک پاکستان کے غریب عوام اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ انہی جعلی دواؤں اور صحت کے لئے مضر کھانے کی اشیاء پر خرچ کرتے ہیں۔

    اس تمام لعنت کے بارے میں سب سے زیادہ درد ناک حقیقت یہ ہے کہ مناسب قوانین اور سزاؤں کے باوجود اور ضروری عملہ کے باوجود یہ گندا کام جاری ہے۔ رشوت ستانی، نظر اندازی، غیر دلچسپی اور احتساب کی غیر موجودگی اور سب سے زیادہ عدلیہ کی جانب سے مجرموں کو جلد اور سخت سزا کا فقدان اس گھناؤنی تجارت کے فروغ کا ذمہ دار ہے ۔ اگر آپ اعداد و شمار میں دلچسپی رکھتے ہیں تو بین الاقوامی صحت اور ہماری حکومت کی جانب سے لاتعداد رپورٹیں بازار میں مل جائیں گی۔ درحقیقت ایسے مسئلے رپورٹوں سے حل نہیں ہوتے، مسئلے کا حل عملی طور پر ڈھونڈنا چاہئے اور یہ خاصہ آسان ہوتا ہے یعنی قانون کا سختی سے نفاذ کیا جائے اور مجرموں کو مثالی عبرت ناک سزائیں دی جائیں ۔ یہ لوگ ایسے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں جس سے پوری قوم کا مستقبل خطرے میں ہے۔ بد قسمتی سے جن اداروں کی یہ ذمہ داری ہے وہ اپنا فرض ادا نہیں کر رہے۔اگر ایمانداری سے قانون نافذ کیا جائے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے تو یہ لعنت چند ماہ میں ختم ہو سکتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ میں چاند کی خواہش کر رہا ہوں۔

    پاکستانی عوام اور اس گناہ کے مرتکب لوگوں کی خدمت میں ایک درخواست ہے کہ خدا کے لئے ملک اور قوم کی خاطر اس گندے کام سے اجتناب کریں ۔ اگر انسانی ہمدردی کی وجہ سے نہیں تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو بہت سخت اور دکھ دینے والی سزا دے گا اور ایسے لوگوں کے لئے جہنم مستقل ٹھکانا ہے۔ تمام عبادت خیرات وغیرہ کسی کام نہیں آئیں گے اور یہ گناہ معاف نہیں کئے جائیں گے۔ رزق حلال کھائیے اور اس دنیا میں اور دوسری دنیا میں اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کیجئے۔ گناہ سے توبہ کرنے میں کبھی تاخیر نہیں ہوتی۔

    (نوٹ )پچھلے ہفتے زراعت پر کالم ۔ پیراگراف ۳ میں تصحیح۔ 2007۔2008 میں سبسڈی کی رقم 407485 ملین روپیہ ہو گئی یعنی 6.5 بلین ڈالر۔ یہ دفاع کے بجٹ سے زیادہ ہے جو کہ 277300 ملین روپیہ یعنی 4.4بلین ڈالر کے برابر ہے۔ اس وقت ایک ڈالر 62.5 روپیہ کا تھا۔

     

     

                         

               

    خواہشات کی تکمیل,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان,,,, (گزشتہ سے پیوستہ)

             

    7/16/2009

    آپ کو علم ہے کہ فرانس سے خرید کی گئی تین آبدوزوں کی قیمت تین بلین ڈالر تھی، چین سے خریدے گئے ٹینکوں کی قیمت نو سو ملین ڈالر، ہوائی جہاز مار گرانے والی چھوٹی آر ۔بی۔ایس ستر (RBS - 70) میزائلوں کی قیمت تقریباً دو سو ملین ڈالر، فرانس سے خرید کرد ہ مسٹرال میزائلوں کی قیمت ایک سو پچاس ملین ڈالر اور سوئٹزر لینڈ سے خرید کردہ ہوائی جہاز مارنے والی توپوں کی قیمت تقریباََ تین سو ملین ڈالر ، اس کے علاوہ یوکرائن سے خرید کردہ ٹینکوں کی قیمت بھی تقریباً تین سو ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ اور یہ بات دماغ میں بٹھا لیں کہ ان ہتھیاروں سے نہ ہی انڈیا کی جارحیت روکی جا سکتی تھی اور نہ ہی جنگ کے فیصلے پر ان کا رتی برابر اثر ہوتا آپ جنگ کو کچھ طول دے سکتے تھے مگر نتیجہ وہی 1965 یا 1971والا نکلتا ۔ میں ایسی لاتعداد مثالیں دے سکتا ہوں مثلاً ابھی چین سے خرید ے جانے والے JF-17ہوائی جہازوں پر ایک بلین ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

    تعجب خیز اور شرمناک بات یہ ہے کہ ان نقادوں کے منہ اس وقت بند تھے جب ڈکٹیٹر مشرف نے قلم کی ایک جنبش سے باون بلین روپیہ قرضہ جات(امیر چوروں ) کے معاف کر دیے جس کی آدھی قیمت ہمارے پورے پروگرام کے برابرہے۔ اگر کسی کو ان اعداد و شمار پر شک ہو تو سابق سیکریڑی خزانہ جناب بیگ صاحب، جنرل عارف، جنرل بیگ اور جنرل وحید کاکڑ سے دریافت کر لیں ۔ ان اعلیٰ عہدیداروں کو ایک ایک روپیہ کے حساب کا علم ہے اور یہ بجٹ کی منظوری دیتے تھے۔

    یہ اعتراض بھی کیا جا رہا ہے کہ اس پروگرام سے کوئی دوسرا فائد ہ نہیں ہوا۔یہ بھی جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے۔ یقینا ہمارے حکمرانوں نے اس ٹیکنالوجی اور ماہرین کی صلاحیتوں سے وہ فائد ہ نہیں اٹھایا جو اس سے اٹھایا جا سکتا تھا لیکن چند اہم فوائد کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔(۱) پاکستان نے نہایت ہی کم قیمت اور کم عرصہ میں دنیا کی ایک اہم ترین ٹیکنالوجی حاصل کر لی۔ (۲) تقریباََ دس ہزار پاکستانی عوام کو جن میں ہزاروں سائنسدان ، انجینئر اور ٹیکنیکل لوگ تھے ملازمتیں مہیا کی گئیں۔ (۳) ملک میں پہلی بار ایک سائنٹیفک کلچر پیدا ہوا۔اور عوام میں سائنسدانوں اور انجینئروں کی عزت و قوت میں بے حد اضافہ ہوااور ان کی صلاحیتوں پر اعتما د کا اظہار کیا گیا۔ (۴) لاتعداد سائنسدانوں اور انجینئروں کو غیر ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع مہیا کئے گئے اب یہی لوگ لاتعداد تعلیمی اداروں میں درس و تعلیم کے اعلیٰ فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ (۵) افواج پاکستان کے لئے نہایت اہم اور ضروری غیر ایٹمی ہتھیاروں کی فراہمی جس سے اربوں روپے کی بچت ہوئی اور ملک خود کفیل ہو گیا۔ ان ہتھیاروں میں ہوائی جہاز مارنے والی میزائلیں ، ٹینکوں کو مارنے والی میزائلیں ، لیزر رینج فائنڈر، ملٹی بیرل راکٹ لانچر ، غیر افزودہ یورینیم سے تیار کردہ ٹینکوں کو ضائع کر نے والا اسلحہ اور بارودی کانوں کو ضائع کرنے والی رسیاں وغیرہ شامل ہیں۔ اور غوری میزائل کو نہ بھولیں جس نے ہندوستان کی ہوا نکال دی ہے۔

    میں عوام کی عقل وفہم پر یہ چھوڑتا ہوں کہ کیا ہمارا ایٹمی پروگرام بیکار اور بلا ضرورت چیز تھی اور کیا جو فیصلہ جنا ب ذوالفقار علی بھٹو ، جناب اے جی۔این قاضی ، جناب آغا شاہی، جناب غلام اسحق خان اور جناب عزیز احمد نے ملک کی سلامتی کے لئے شروع کیا تھااور جس کو جنرل ضیاء الحق، محترمہ بینظیر بھٹو، اور جناب نواز شریف صاحب نے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کلیدی رول ادا کیا وہ ایک احمقانہ اور جہالت پر مبنی فیصلہ تھا ؟ یا یہ کہ جہالت کسی اور دماغوں میں بیٹھی ہے اور گاہے بگاہے احمقانہ بیانات کی حوصلہ افزائی کرتی رہتی ہے۔

    تصحیح: 8جولائی کو ”ناقابل معافی جرائم “ نامی کالم میں جرمن کیمسٹ فریڈرک آکُّم کی انگلینڈ میں آمد کی تاریخ غلطی سے 1973 ء چھپ گئی ہے۔ یہ 1793ء میں انگلینڈ منتقل ہوئے تھے۔

     

                         

               

    بھٹو، ضیاء الحق اور کہوٹہ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان

             

    7/29/2009

    پچھلے دنوں ہمارے تجزیہ نگار اور سابق سول عہدیدار جناب شفقت محمود نے روزنامہ نیوز میں 5 جولائی 1977ء کے واقعات کے بارے میں کچھ تحریر فرمایا ہے ۔ آپ مری میں اسسٹنٹ کمشنر کے فرائض انجام دے رہے تھے جہاں پر جنرل ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو نظر بند کر دیا تھا ۔ آپ نے وہاں جنرل ضیاء ،غلام اسحاق خان اور جنرل عارف کی آمد اور بھٹو صاحب سے ملاقات کا ذکر فرمایا ہے ۔ آپ نے جناب غلام اسحاق خان کے رویہ کے بارے میں تبصرہ فرمایا ہے ۔ جناب شفقت محمود ایک نہایت قابل اعتبار شخصیت ہیں اور میں ان کے تاثرات کے بارے میں شک نہیں کر رہا۔ صرف چند معروضات حاضر خدمت ہیں ۔جب 1976ء میں جناب بھٹو کی خواہش پر میں پاکستان میں ٹھہر کر کام کرنے پر راضی ہو گیا تو بھٹو صاحب ، جناب اے جی این قاضی (سیکریڑی جنرل فنانس) جناب غلام اسحاق خان (سیکریڑی جنرل ڈیفنس) اور جناب آغا شاہی (سیکریڑی جنرل خارجہ) سے باقاعد گی سے ملا قاتیں ہونے لگیں ۔ماحول ہمیشہ نہایت ہی اچھا اور دوستانہ ہوتا تھا ۔ پہلی ہی میٹنگ میں چند منٹ بعد غلام اسحاق خان نے بھٹو صاحب کی جانب دیکھا اور پوچھا سر اجازت ہے اور دونوں انگلیاں اٹھا کر سگریٹ پینے کی اجازت چاہی۔ بھٹو صاحب نے مسکرا کر کہا ہاں خان صاحب ، ساتھ ہی خود بھی سگار نکال کر سلگا لیا کہ خان صاحب سکون سے سگریٹ نوشی کر سکیں۔ اس کے بعد میں نے ہمیشہ ان تینوں کی بھٹو صاحب سے لاتعداد ملاقاتیں دیکھیں اور کبھی بھی یہ تاثر نہ پایا کہ ان میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا تناؤ موجود ہو۔ میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ اس فوجی قبضہ کے بعد غلام اسحاق خان صاحب یقینا ایک”شاک اسٹیٹ“ میں ہوں گے اور ضیاء الحق صاحب کے ساتھ جانے سے ان کو یہ احساس ہو گا کہ بھٹو صاحب شاید یہ شک کریں گے کہ وہ اس سازش کا حصہ ہیں۔ اپنے تجربہ اور سنیارٹی کی وجہ سے ضیاء الحق نے ان کو سب سے بہتر اور مناسب افسر سمجھا ہو گا اور ان کو ساتھ ملا لیا ہو گا۔

    قبل اس کے کہ اس موضوع پر مزید بات کروں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مارشل لاء لگتے ہی ہمارا باقاعدگی سے جنرل ضیاء سے رابطہ ہونے لگا۔ ان کے ایک پرانے ساتھی لیفٹیننٹ جنرل علی ضامن نقوی کو انہوں نے مشیر سکیورٹی لگا کر ایٹمی پروگرام کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ دی تھی۔ جنرل ضیاء ہمیشہ جنرل ضامن کو ”ضامن صاحب“ کہتے تھے اور بہت عزت کرتے تھے۔ جنرل نقوی بے حد شریف انسان تھے اور ہم دونوں اکثر رات کو جنرل ضیاء سے ملنے جایا کرتے تھے ۔ مارشل لاء کے بعد ہمارے بورڈ کی میٹنگ میں قاضی صاحب کے بجائے جنرل عارف نے شرکت شروع کر دی تھی اور وہ اس طرح جنرل ضیاء کو حالات سے مطلع کرتے رہتے تھے۔ جنرل عارف ایک نہایت قابل اور اعلیٰ عقل و فہم کے مالک تھے ۔ بات کم کرتے تھے اور یادداشت بے حد اچھی تھی، جنرل ضیا ء کی کامیابی کی وجہ جنرل عارف کی کارکردگی تھی۔فوج اور ملک کی بدقسمتی رہی کہ جنرل ضیاء نے جنرل عارف کی اعلیٰ کارکردگی اور عقل و فہم کو اپنے مقصد کے لئے استعما ل کر کے اپنے دور کو طوالت دی۔ جنرل عارف کو اگر بڑی ذمہ داری دی جاتی تو یقینا وہ اس کو نہایت خوش اصلوبی سے ادا کر کے نام پیدا کر جاتے۔

    اب آپ کو دو دلچسپ واقعات بتلانا چاہتا ہوں۔ غلام اسحق خان سے میرے بہت ہی اچھے تعلقات تھے ، میں ان کی عزت اپنے والد کی طرح کرتا تھااور مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا کہ وہ بھی مجھے بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ مجھے اجازت تھی کہ جب چاہوں ان سے مل لوں ۔ عموماً میں صبح ۹ بجے ان کے گھر چلا جایا کرتا تھا وہ اس وقت پرانے چائنا مارکیٹ کے قریب کرائے کے گھر میں رہتے تھے، نہ گارڈ ، نہ سپاہی۔ میں جا کر گھنٹی بجاتا اور ان کے ایک بزرگ ملازم مجھے اندر بٹھا کر چائے دے جاتے اور کچھ دیر میں خان صاحب تشریف لے آتے ، کام کی باتیں کر کے میں دفتر چلا جاتا ۔ میں نے ادھر اُ دھر سے افواہیں سنی تھیں کہ ضیاء الحق کے ایکشن کا غالباً خان صاحب کو پہلے سے علم تھا۔ میں نے ایک دن اُن سے دریافت کرہی لیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اُنہیں اس کا قطعی علم نہ تھا اور بھنک تک نہیں پڑی تھی ۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ5 جولائی کو حسبِ معمول صبح باتھ روم میں تھے اور جب باہر نکلے تو بیگم نے بتایا کہ جی ایچ کیو سے فون آیا تھا اور جنرل ضیاء الحق بات کرنا چاہتے تھے اور میں نے بتا دیا کہ باتھ روم سے باہر آئیں گے تو بتا دوں گی۔ اس وقت تک خان صاحب کو حکومت کا تختہ الٹنے کا کچھ علم نہ تھا۔ اُنہوں نے جنرل ضیاء الحق کو فون کیا تو جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ خان صاحب ہم نے حکومت کا نظام سنبھال لیا ہے اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو، اسمبلیوں کو برخاست کر دیا ہے آپ جی ایچ کیو آ جائیں، مشورہ کرنا ہے۔ جب خان صاحب وہاں پہنچے تو گفتگو کے شروع میں خان صاحب نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ ملک کے مستقبل کے لئے ٹھیک نہیں ہے مگر اب جبکہ آپ یہ اقدام اُٹھا چکے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ حالات کو سنبھالنے اور بہتر طریقہ سے چلانے کی کوشش کریں۔ جنرل ضیاء الحق نے ان کو جلد ہی سیکریٹری جنرل انچیف بنا دیا اور اس طرح وہ ڈی فیکٹو وزیر اعظم بن گئے۔ میں نے بذات خود کئی مرتبہ دیکھا کہ وہ جنرل ضیاء الحق سے اختلاف رائے کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔

    اب پہلا دلچسپ واقعہ سناتا ہوں۔ جولائی 1976ء میں جب کہوٹہ پروجیکٹ کو اٹامک انرجی سے بالکل علیحدہ کر کے مجھے اس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا تو میری سب سے بڑی ترجیح پلانٹ کے لئے منا سب جگہ کی تلاش تھی۔ لاتعداد جگہیں دیکھ کر اور تمام اہم نقطہ جات کو مدنظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ کہوٹہ سب سے مناسب جگہ ہے (بعد کے حالات نے اس فیصلے کو بالکل صحیح ثابت کر دیا) ۔ میٹنگ میں جس میں جناب بھٹو، غلام اسحق خان ، اے جی این قاضی ، آغا شاہی ، جنرل ضیاء الحق، منیر احمد خان اور میں موجود تھے ،میں نے بھٹو صاحب کے پوچھنے پر بتایا کہ کہوٹہ کی سائیٹ چن لی گئی ہے اور وہ ہر لحا ظ سے بہت مناسب جگہ ہے تو غلام اسحاق خان صاحب نے کہا سر ایک کمیٹی بنا دیتے ہیں جو اس کا معائنہ کر لے اور پھر فیصلہ کرلیں ۔ بھٹوصاحب نے خان صاحب کی طرف دیکھا ، مسکرائے اور کہاخان صاحب ان کمیٹیوں نے ملک کو تباہ کر دیا ہے نہ میں اس معاملے میں کچھ جانتا ہوں اور نہ آپ ، اگر ڈاکٹر خان نے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر یہ جگہ پسند کی ہے تو ہمیں کیا اعترا ض ہے وہ اپنے کام سے واقف ہیں ۔ ہمارے لئے ان کا فیصلہ قابل قبول ہے اور معاملہ وہیں ختم ہو گیا ۔ بھٹو صاحب نے پوچھاکہ کیا میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں تو میں نے عرض کی کہ مجھے فوج کی انجینئرنگ کور کی ایک ٹیم دے دی جائے ۔ بھٹو صاحب نے تعجب سے پوچھا وہ کس لئے ، میں نے عرض کیا کہ پلانٹ کی تعمیر کا کام بہت بڑا ہو گا مجھے علم ہے کہ پاکستان میں سول ورکس میں پچاس فیصد رشوت ستانی عام ہے میں اس سے بچنا چاہتا ہوں ۔ اگر فوجیوں نے گڑ بڑ کی تو آرمی چیف خود ہی نمٹ لیں گے دوم مجھے کام بہت تیزی سے کرانا ہے۔ بھٹو صاحب نے جنرل ضیاء کی طرف دیکھا اور کہا کہ جنرل صاحب آپ اس کا بندوبست کر دیں۔ میٹنگ کے بعد جب ہم باہر آئے تو جنرل ضیاء الحق نے مجھ سے کہا کہ کس رینک کا افسر چاہئے، میں نے کہا کہ کم از کم بریگیڈیئر تاکہ وہ حکومت کے اداروں سے کام لے سکے ۔ انہوں نے کہا کل صبح ۹ بجے آپ کے پاس آفیسر پہنچ جائے گا۔ دوسرے دن پورے ۹ بجے بریگیڈیئر زاہد علی اکبر خان نے میرے پاس رپورٹ کی۔ یہ دراز قد نہایت وجیہہ افسر تھے اور آتے ہی کہا خان صاحب ! مجھے کہاں مروا دیا میں سپاہی آدمی فرنٹ پر ہونا چاہتا ہوں۔ جب میں نے کام کی نوعیت کا بتایا تو بہت خوش ہوئے ، ہم نے پہلے جیپ اور پھر ہیلی کاپٹر سے کہوٹہ کے علاقہ کا دورہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے پورے علاقے کا نقشہ بنا کر سیکریٹری ڈیفنس جنرل فضل مقیم خان سے جو نہایت نفیس اور تیز کام کرنے والے افسرتھے، اس پورے علاقے کو دفاع کے لئے حاصل کر لیا۔ میں نے ایک شرط رکھی کہ معاوضہ موجودہ ریٹ سے بہتراور فوراً ادا کیا جائے گا ، غلام اسحاق خان نے یہ رقم فوراً مہیا کر دی۔ خوش قسمتی سے اس علاقہ میں تمام ریٹائر فوجی جوان رہتے تھے ہم نے ان کو اچھا معاوضہ دے کر قریب ہی اچھی زمین دلا دی اور ان سب کو فوراً ملازم رکھ لیا ۔ وہاں کبھی کوئی تنازع نہیں ہوا جبکہ چالیس پچاس سال بعد آج بھی تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم کے متاثرین مارے مارے پھر رہے ہیں۔ آرمی کے انجینئر نگ کور کے افسران نے جو کام سر انجام دیا وہ قابل تقلید اور مثالی تھا۔ انسان ہر روز کام کی ترقی دیکھ سکتا تھا۔ تیس سال بعد آئی ایس آئی کے ایک بریگیڈیئر صاحب میرے ایک پرانے ساتھی بریگیڈیئر پر رشوت ستانی کا الزام لگا رہے تھے میں نے عرض کیا کہ پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکیں دوسرے ان تیس سالوں میں مجھے آئی ایس آئی ، ایم آئی ، سی جی ایس وغیرہ یا کسی آرمی چیف وغیرہ کا ایک نوٹ یا ایک شکایت ان کے خلاف پیش کر دیں ورنہ اپنے افسران کے اکاؤنٹ دیکھ لیں جن میں لاکھوں ڈالر پائے گئے ہیں اور ان کے نام کئی کئی بنگلے ہیں۔

    ایک دوسرا واقعہ پروجیکٹ کے انچارج کی حیثیت سے میرے اختیارات کا تھا۔ میں نے بریگیڈیئر زاہد(بعد میں لیفٹیننٹ جنرل ) کے ساتھ مل کر ان اختیارات کی فہرست تیار کر لی جو ہمارے خیال میں مجھے پروجیکٹ کو تیزی سے مکمل کرنے کے لئے ضروری تھے جب میں وہ فہرست لے کر غلام اسحاق خان ، آغا شاہی اور اے جی این قاضی کے ساتھ بیٹھا تو نظر ڈالتے ہی خان صاحب نے کہا ڈاکٹر صاحب یہ اختیارات تو ہمارے پاس اور وزراء کے پاس بھی نہیں ہوتے ہیں، میں نے عرض کیا مجھے اپنے کام کے لئے ان کی ضرورت ہے آپ باقاعدگی سے مجھ پر کڑی نگاہ رکھ سکتے ہیں کہ ان کا غلط استعمال نہ ہو گا اس پر قاضی صاحب نے کہا اسحاق اگر ایک اور پی ڈبلیو ڈی پیدا کرنا چاہتے ہو تو بحث کرو، وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ کام میں ہرگز کوئی دشواری نہ ہو ، آغا شاہی صاحب نے تائید کی اور مجھے وہ اختیارات مل گئے جو وزیراعظم کے علاوہ کسی اور کے پاس نہ تھے۔قاضی صاحب نے غلام اسحاق خان سے مشورہ کر کے ایک سیکریٹری کے عہدہ کے افسر امتیاز احمد بھٹی کو وزارت خزانہ سے فوراً پوسٹ کر دیا جن کو میں نے ڈی جی فنانس اور ایڈمنسٹریشن مقرر کر دیا۔ ہر ماہ بورڈکی میٹنگ میں یہ تمام مالی و انتظامی معاملات سے سب کو آگاہ کر دیتے تھے، آڈٹ کا کام بھی کرتے تھے اور سیکریٹری فنانس سے باقاعدگی سے ملتے رہتے تھے۔ ہمارے یہاں کبھی کسی مالی بدانتظامی یا گڑ بڑ کی شکایت سامنے نہ آئی ، یہی افسرتمام اکاؤنٹس چلاتے تھے اور غیر ملکوں میں آرڈر وغیرہ کرتے تھے۔ مجھ سے پورا کیس تیار کر کے اجازت لے لیا کرتے تھے۔ بھٹی صاحب کے بعد جناب فخر الدین ملک اور پھر جناب محمد فہیم متعین کئے گئے جو دونوں 22 گریڈ کے افسر تھے۔

    عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ تقریباً اٹھائیس سال کی رفاقت کے دوران میں نے غلام اسحاق خان سے یا آغا شاہی سے کبھی ایک لفظ جناب بھٹو کے خلاف نہیں سنا ۔ ہم بہت قریب تھے اور کھل کر تمام موضوعات پر گفتگو کر لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جن کی ابتدائی انتہائی اہم کو ششوں سے پاکستان ایک ایٹمی قوت بن گیاجنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے (آمین)۔ بعد میں جنرل ضیاء الحق ، محترمہ بینظیر بھٹو ، میاں نواز شریف اور فوج کے سربراہوں جنرل اسلم بیگ اور جنرل وحید کاکڑنے بہت اہم رول ادا کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کو بھی اس کا صلہ عطا فرمائے گا۔

     

                         

               

    تاریخ کہوٹہ ۔ پارٹ( I),,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان

             

    8/5/2009

    31 جولائی 1976 یعنی 33 سال پیشتر جناب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں یورینیم کی افزودگی کے لئے ایک اہم پروجیکٹ کے قیام کی منظوری دی۔ اس کا قیام جناب اے جی این قاضی، جناب غلام اسحق خان، جناب آغاشاہی اور جنرل امتیاز علی کے مشورے پر عمل میں آیا اور اس کو ایک بالکل خود مختار ادارے کی حیثیت دے دی گئی ۔ اس ادارے کا نام انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز رکھا گیا اور مجھے اس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ کہوٹہ کی تاریخ اور ہمارے کارناموں سے تقریباً قوم پوری طرح واقف ہے مگر چونکہ یہ واقعہ 33سال پرانا ہے اور نوجوان طبقہ اسکے حقائق سے ناواقف ہے، میں اس آرٹیکل کو جو میں نے یکم اگست 1986ء یعنی دس سالہ سالگرہ پر ایک مقامی اخبار میں شائع کیا تھا اس کے اقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں تاکہ سب کو اس دلچسپ پرانی تاریخ سے آگاہی حاصل ہو جائے۔

    ”دس سال پیشتر ہماری حکومت نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کے نام سے راولپنڈی میں ایک پروجیکٹ قائم کیا جس کا مقصد دنیا کی نہایت اہم اور مشکل ترین سینٹری فیوج کا طریقہ استعمال کر کے یورینیم کی افزودگی کرنا تھا۔میں اس مضمون میں اس پروجیکٹ کے ابتدائی مراحل اور ان کوششوں کے بارے میں عوام کو مطلع کروں گا جن کی مدد سے ہم نے پاکستان کو دنیا کی مشکل ترین ٹیکنالوجی میں خود کفیل بنا دیا۔کہوٹہ پلانٹ نے پاکستان کو دنیا کے ایٹمی نقشہ پر ایک ممتاز مقام مہیا کر دیا ہے اور مستقبل کے لئے ہمارے پرامن ایٹمی پروگرام میں خود کفالی کی ٹھوس بنیاد تیار کر دی ہے۔ 3 سے 3.5فیصد افزودہ یورینیم جو ہم تیار کر رہے ہیں وہ ہمارے آئندہ لگائے جانے والے ایٹمی ری ایکٹروں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہو گا اور ملک سیکڑوں ملین ڈالر سالانہ زرمبادلہ کی بچت کریگا اور ہمیں خود کفیل بھی کر دیگا۔

    جاپان پر امریکہ کی طرف سے دو ایٹمی بم گرائے جانے کے بعد ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی جو ابھی تک جاری ہے۔ روسی حکومت امریکہ کے اقدامات سے جائز طور پر خوفزدہ تھی اور اپنی خودمختاری کی حفاظت کے لئے انہوں نے بھی بہت جلد ہی ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنا ڈالے ۔ اس کے بعد انگلستان ، فرانس اور چین نے ان ہتھیاروں کی تیاری شروع کر دی۔

    ایک طرف جبکہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری جاری تھی تو دوسری طرف یہ کوشش بھی شروع کر دی گئی کہ کسی طرح ایٹم بم کے اندر بند بے انتہا قوت کو بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کر سکیں۔ امریکہ ، روس ، انگلستان اور کینیڈا ایٹمی ری ایکٹر بنانے میں کامیاب ہو گئے اور پوری دنیا میں ایٹم کے پر امن استعمال کرنے کی مہم شروع کر دی لیکن پڑھے لکھے لوگ اس بات سے پوری طرح واقف تھے کہ ایٹمی قوت کے پرامن استعمال کے پھیلنے سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور پھیلنے کا خطرہ بھی موجود تھا کیونکہ پر امن استعمال اور ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں برائے نام ہی فرق ہے۔ اگر کسی ملک کو ری ایکٹر بنانا ، پلوٹونیم بنانا آجاتا ہے تو پھر ایٹم بم بنانا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کی مسلسل کوششوں اور بعض مغربی ممالک (سوئیڈن، آئرلینڈ، ہالینڈ، سوئیٹزرلینڈ وغیرہ) کی سنجیدہ انداز فکر نے دنیا کو یہ یقین کرا دیا کہ بین الاقوامی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ اس کا نتیجہ مشہور معاہدہNPTیعنی نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی یعنی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدہ کی شکل میں نکلا اور 1970ء میں یہ قیام پذیر ہوا۔ 1986ء تک تقریباً ایک سو تیس ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کر دیئے حالانکہ اس معاہدے کی نوعیت خاصی امتیازی ہے یعنی جن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں وہ رکھ سکتے ہیں اور جن کے پاس نہیں ہیں وہ نہ بنائیں اور ایٹمی پرامن ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی خاصی پابندیاں ہیں۔ اس معاہدے کے عمل میں آنے سے پہلے چین آخری ملک تھا جس نے 1964ء میں ایٹمی دھماکہ کیا۔ چین کو نہ صرف امریکہ بلکہ روس سے بھی اپنے ملک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے بارے میں خطرہ تھا۔ حالات بالکل معمول پر تھے اچانک ہندوستان نے امریکہ اور کینیڈا کے مہیا کردہ سامان سے چوری سے پلوٹونیم بنا کر 18مئی 1974ئکو ایٹمی دھماکہ کر کے دنیا کا ایٹمی توازن درہم برہم کر دیا۔ نہایت افسوسناک اور قابل مذمت بات یہ تھی کہ چین کے برعکس ہندوستان کو اپنی سلامتی کے بارے میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ تھا اس نے روس کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا ہوا تھا۔ اس نے کینیڈا کا دیا ہوا ری ایکٹر اور امریکہ کا دیا ہوا ہیوی واٹر استعمال کر کے بم بنایا اور یہ کام چوری سے کیا،NPTکو اس اقدام نے ہلا کر رکھ دیا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہماری کہانی کا آغاز اب سنجیدگی سے ہوا۔ ہندوستان کی چوری کی پالیسی کی وجہ سے فوراً کینیڈا نے ہمارے کراچی کے نیوکلیئر پلانٹ کا ایندھن اور ہیوی واٹر روک دیا اور بین الاقوامی معاہدوں کی پروا نہ کی۔ ہندوستان کی بدمعاشی کی سزا پاکستان کو دی گئی ۔ پاکستان کی منت سماجت کینیڈا کے بند کانوں پر نہ پڑی اور ہم کو بے یار و مددگار چھوڑ دیاگیا۔

    ہماری مزید بے عزتی کرنے کے لئے فرانس نے بین الاقوامی ایٹمی ادارہ کی زیر نگرانی ری پروسیسنگ پلانٹ کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ تھا اور بین الاقوامی ادارہ نے اس کی منظوری دی تھی۔ امریکہ نے فرانس پر دباؤ ڈال کر یہ کام کروایا اور فرانسیسی جو اپنی خود مختاری کے بھنگڑے ڈالتے تھے امریکی دباؤ میں آگئے اور معاہدہ توڑ دیا۔ یہ پلانٹ بین الاقوامی ادارے کی زیر نگرانی تیار ہونا اور چلنا تھا اور اس کے غلط استعمال کی قطعی گنجائش نہ تھی۔

    یہی وہ وقت تھا جبکہ ایک تیسری دنیا کے ترقی پذیر ملک یعنی پاکستان نے یہ چیلنج قبول کیا اور اس میدان میں خود کفیل ہونے کا بیڑہ اٹھایا۔ جولائی1976ء میں ہماری حکومت نے تاریخی فیصلہ کیا کہ ہم یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں اور ہمارے ایٹمی ری ایکٹروں کے ایندھن کی دستیابی میں خود کفیل ہو جائیں۔31جولائی 1976ء کو انجینئر نگ ریسرچ لیبارٹریز کا قیام عمل میں آیا کہ ہم یورینیم کی افزودگی کا پلانٹ خود اپنی صلاحیتوں سے لگائیں۔

    میں ابھی یورپ میں پندرہ سال کے قیام کے بعد واپس آیا تھا۔ میں نے برلن (جرمنی) ڈیلفٹ(ہالینڈ) اور لیون(بیلجیم) کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے ہالینڈ میں یورینیم کی افزودگی کے پلانٹ میں کئی سال کام کیا تھا۔ میں جوان تھا ، قوت ارادی سے بھرپور تھا ، میں نے فزیکل میٹالرجی میں ڈاکٹر آف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی وہ مشکل سے مشکل پروجیکٹس سے کامیابی سے نمٹنے کے لئے موزوں ترین تھی۔ مجھے متعلقہ ٹیکنالوجی کانہایت قیمتی تجربہ تھااور اس طرح میں اس کام کے کئے موزوں ترین شخص تھا۔ میں نے یہ چیلنج کھلے ہاتھوں قبول کیا اور کام کرنا شروع کر دیا۔میں نے پورے ملک سے چند نہایت محنتی ، قابل اور محب وطن سائنسدانوں اور انجینئرز کا انتخاب کیا اور ہم اس پروجیکٹ کو جلد از جلد پایہٴ تکمیل تک پہنچانے میں تن من دھن سے لگ گئے۔ جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں یہ آسان کام نہ تھا۔ میرے نو منتخب ساتھیوں نے کبھی سینٹری فیوج اور اس کی مدد سے یورینیم کی افزودگی کا نام تک نہ سنا تھا حالانکہ ان میں سے کئی باہر سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں رکھتے تھے۔

    ایک ایساملک جو سلائی کی سوئی، اچھی بائیسکل یا اچھی سڑکیں بنانے کے قابل نہ تھا وہ دنیا کی مشکل ترین ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے چلاتھا۔ نیوکلیئر سائیکل میں یورینیم کی افزودگی کو مشکل ترین سمجھا جاتا ہے۔ میرے رفقائے کار اور میرے لئے یہ ایک بڑا چیلنج تھا۔ پرابلم بالکل واضح تھی ، ہم قدرت کے نئے قوانین تلاش نہیں کر رہے تھے بلکہ ایک بہت ہی پیچیدہ اور مشکل انجینئرنگ پرابلم سے مقابلہ تھا۔ ہمارے لئے یہ ناممکن تھا کہ ہم تمام آلات اور ان کے پرزے ملک میں ہی بنائیں۔ اگر ہم یہ راستہ اختیار کرتے تو پروجیکٹ یقینا بہت جلد موت کی آغوش میں چلا جاتا۔ میں نے یہ طریقہ کار اختیار کیا کہ جو کچھ ہم غیر ممالک سے حاصل کر سکتے تھے وہ ہم نے بذریعہ ایئر لائن منگوا لیا تاکہ ہم جلد از جلد ایک اچھی بنیاد قائم کر سکیں۔ بعد میں آہستہ آہستہ ہم نے ہر چیز کہوٹہ میں تیار کرنی شروع کر دی اور کچھ ہی عرصہ میں دنیا کے مشکل ترین آلات بنانا شروع کر دیئے۔

    یورپ میں میرا طویل قیام ، اعلیٰ تعلیم، کئی ممالک سے متعلق معلومات اور وہاں کی اعلیٰ ٹیکنیکل فرموں سے واقفیت میرے لئے ایک بیش قیمت خزینہ تھا۔ دو سال کے اندر ہم نے صحیح کام کرنے والی سینٹری فیوج مشینیں بنا لیں اور اپریل 1978ئکو کامیابی سے افزودہ یورینیم کے پہلے نمونے حاصل کر لئے ، ساتھ ہی ہم پوری رفتار سے کہوٹہ کی تعمیر میں مصروف تھے۔ کچھ ناواقف لوگوں نے کہوٹہ کی سائیٹ پر تنقید کی ہے جبکہ غیر متعلقہ اور ناواقف لوگ ہمیشہ دوسرے پہلوؤں پر دھیان دیتے ہیں۔ میری نگاہ میں دو چیزیں بہت اہم تھیں پہلی یہ کہ یہ علاقہ عام آمد و رفت اور سیاحوں کی پہنچ سے علیحدہ ہو تاکہ سکیورٹی کا صحیح بندوست ہو سکے اور دوم یہ کہ یہ علاقہ دارالحکومت اور بڑے ائیرپورٹ کے نزدیک ہونا ضروری ہے کیونکہ سامان جلد آسکے گا اور حکومتی فیصلے بغیر تاخیر کے ہو سکیں گے ۔ ان دو چیزوں سے بھی زیادہ اہم میرے لئے اپنے رفقائے کار اور ان کے اہل و عیال کے لئے سہولتیں (مکانات ، تعلیم، طبی سہولتیں ، گھر پہ قیام)تھیں جن کی موجودگی میں وہ بے فکری واطمینان سے کام کی تکمیل کرنے میں مشغول ہو سکتے تھے۔ ہمیں اپنے اس فیصلے پر کبھی بھی افسوس نہیں ہوا اور حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ کے چناؤ اور میری دارالحکومت میں موجودگی کی وجہ سے ہم نے بہت تیزی سے پروگرام کو آگے چلایا اور تین سال تک مغربی ممالک کو ہمارے کام کے بارے میں ذرا بھی بھنک تک نہ پڑی اور ان کی سرتوڑ کوششیں بھی ہمارے پروگرام کو نہ تو سبوتاژ کرسکیں یا روک سکیں۔

     

                         

               

    تاریخ کہوٹہ پارٹII,,,,سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیر خان

             

    8/12/2009

    ہم اس خطرے سے پوری طرح آگاہ تھے اور اس کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ میرا یورپ میں طویل قیام اور وہاں کے لوگوں کی نفسیات کے بارے میں معلومات ایک بیش بہا اثاثہ تھا۔ حکومت ہمیں ہر طرح کی مدد دے رہی تھی اور سب کو ہم پر مکمل اعتماد تھا۔ میں نے بھی پروجیکٹ کی بہتری کی خاطر کوئی اقدام اٹھانے میں قطعی کسی ہچکچاہٹ و خوف کا اظہار نہیں کیا۔ پاکستان پر بہت سخت دباؤ ڈالا گیا۔ امریکہ نے معاشی امداد بند کر دی اور مغربی ممالک نے چھوٹی سے چھوٹی چیزوں مثلاً ربر کی اُورنگز تک پر پابندی لگا دی۔ ماریجنگ اسٹیل اور مقناطیسی چھلے (Margning Steel & Magnetic rings)بر آمد نہیں ہونے دیئے لیکن ہم نے بہادری سے ان پابندیوں کا مقابلہ کیا اور مصمم ارادہ کر لیا تاکہ جلد از جلد اپنا مقصد حاصل کر لیں۔

    جونہی مغربی ممالک کو یہ علم ہوا کہ ہم سینٹری فیوج کا طریقہ استعمال کر کے یورینیم کی افزودگی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے پریس اور لیڈروں نے ہمارے خلاف نہایت ہی بے بنیاد اور گندہ پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ سات سال بعد ہالینڈ میں میرے خلاف اسرائیل کے دباؤ میں ایک جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا۔ میں نے اپنے دو پرانے ساتھیوں کو دو خطوط لکھے تھے۔ حکومت نے الزام لگایا کہ میں نے ان سے سیکرٹ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے بتائے بغیر مقدمہ چلایا گیا اور سزا سنا دی گئی ۔خطوط میں جو معلومات میں نے مانگی تھیں وہ تقریباً بیس سال پہلے رسالوں میں چھپ چکی تھیں ۔ہمارے پاس وہ رسالے نہ تھے۔ میں نے دنیا کے سات مشہور ترین پروفیسروں (ہالینڈ، بیلجیئم ، جرمنی ، انگلینڈ ، فرانس) سے سرٹیفکیٹ حاصل کر کے عدالت میں پیش کر دیئے کہ وہ معلومات قطعی حساس نہیں تھیں اور لٹریچر میں موجو د تھیں۔ امسٹر ڈم کی ہائی کورٹ نے میرا موقف قبول کر کے اس سزا کو منسوخ کر کے کیس ختم کر دیا۔ میری جانب سے ہمارے مشہور قانون دان جناب ایس ایم ظفر نے ایک ڈچ وکیل کے ساتھ بہترین پیروی کی۔ 16جون 1985ء کو ڈچ حکومت نے میرے خلاف تمام الزامات واپس لے لئے اور پراسیکیوٹر جنرل نے تحریری طور پر ہمیں مطلع کیا کہ ان کو میرے اوپر کبھی بھی کسی قسم کی جاسوسی یا چوری کا شک و شبہ نہ تھا اور یہ مقدمہ دائر کرنا حکومت کے اہلکاروں کی غلطی تھی۔

    یورینیم کی افزودگی ۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں یورینیم کی افزودگی نیوکلیئر سائیکل میں سب سے مشکل ترین کام یا مرحلہ ہے۔ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی میں میٹالرجی ، میکانیکل انجینئرنگ، کیمیکل انجینئرنگ ، الیکٹرانکس ، پروسیس ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سافٹ ویئر (کنٹرول اور آٹومیشن) ، نیوکلیئر فزکس، ویکیوم ٹیکنالوجی وغیرہ جیسے علوم میں بہت مہارت کی ضرورت ہے۔ ایک سینٹری فیوج مشین تقریباً ستّر ہزار چکر فی منٹ کرتی ہے (70,000 rpm)اور آپ خود تصور کر سکتے ہیں کہ اس کے لئے تمام دھاتوں، پرُزوں ، توازن ، بیرنگ وغیرہ پر بہت ہی سخت شرائط کا اطلاق ہوتا ہے اور پھر ہزاروں سینٹری فیوج بیک وقت چلتی ہیں اور یہ عموماً دس سال تک بغیر رکے دن رات چلتی رہتی ہیں۔ مغربی ممالک یقینا ان رازوں سے واقف تھے اور انہیں پورا یقین تھا کہ پاکستان جیسا پسماندہ ملک کبھی بھی اس کام میں مہارت حاصل نہ کر سکے گا ۔ ہم نے ان کو غلط ثابت کر دیا ۔ ہم نے نہ صرف اس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر لی بلکہ ایک نہایت اعلیٰ پلانٹ لگا کر یہ ثابت کر دیا کہ ہم ایک غیور اور لائق قوم ہیں۔ جب ہم نے لندن کی ایمرسن کمپنی سے سینٹری فیوجز کو چلانے والے انورٹرس(پاور سپلائز) خریدے تو ہم نے دیکھا کہ ان میں بہتری کی کافی گنجائش تھی ۔ ہم نے کمپنی کو اس کی تجاویز بھیج دیں اور طریقہ کار بھی بتلا دیا۔ بعد میں بی بی سی کی شر انگیز پروپیگنڈے پر مبنی فلم پروجیکٹ 706۔ دی اسلامک بم ۔(Project 706 - The Islamic Bomb) میں کہا گیا کہ ہمارے بہتری کی تجاویز نے ان کے ہوش اُڑا دیئے ۔

    اس دوران ہمیں لاتعداد مغربی فرموں نے خطوط ، ٹیلیکس روانہ کئے جن میں ان تمام آلات و سامان کی فہرست تھی جو انہوں نے ہالینڈ ، جرمنی اور انگلینڈ کو فروخت کی تھیں۔ وہ ہمارے پیچھے دوڑ رہے تھے کہ ہم ان سے وہ سامان خرید لیں ۔ ہم نے اپنی ضروریات کا سامان خرید لیا اور جہاں ضرورت پڑی اپنی خواہش کے مطابق تبدیلیاں بھی کروا لیں۔ جہاں تک ان چیزوں کا تعلق ہے یہ عام کیمیکل اور ویکیوم پلانٹس میں استعمال ہونے والی تھیں مگر نیوکلیئر پلانٹ میں بھی استعمال ہو سکتی تھیں اور ان کی ایکسپورٹ میں اُن فرموں کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

    اس مجبوری کے باوجود کہ ہم غیر ملکی ماہرین سے کھل کر تبادلہ خیال نہیں کر سکتے تھے ہم نے پھر بھی تمام پرابلمز کو بیک وقت کامیابی سے حل کیا ۔ میرے قابل رفقائے کار نے نہ صرف نہایت اعلیٰ کارکردگی والی سینٹری فیوج مشینیں بنائیں بلکہ پلانٹ کا مشکل ترین ڈیزائن بھی تیار کیا مشینوں کو قطار میں لگانے کا طریقہ کار ڈیزائن کیا، تمام پائپنگ سسٹم لگایا، ہزاروں میل لمبائی کے المونیم پائپ ویلڈ کئے اور پلانٹ کو کمپیوٹر سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کی مدد سے مکمل آٹو میٹک کنٹرول مہیا کیا۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ریڈیو ایکٹیوٹی کی وجہ سے ایک نیوکلیئر یا یورینیم کی افزودگی کے پلانٹ کو چلانے کے لئے بہت ہی اہم اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ ہم نے سب خود ڈیزائن کئے ، ہم نے مشینوں میں ہیکسافلورائڈ گیس بھیجنے اور افزودگی کے بعد اس کو نکالنے کا بندوبست کیا ۔ جب مغربی ممالک نے ہر قسم کے سامان کی برآمدگی پر پابندیاں لگا دیں تو ہم نے تمام اہم مشکل ترین الیکٹرانک ، ویکیوم، الیکٹریکل آلات خود بنانا شروع کر دیئے۔

    کہوٹہ مکمل طور پر پاکستانی کاوشوں کا پھل ہے اور یہ ایک غریب اور ترقی پذیر ملک کے اس مصمم ارادے کی عکاسی کرتا ہے جو اس نے غیر ملکی دباؤ اور بلیک میلنگ کو مسترد کرنے کے لئے کیا تھا۔ یہ نہ صرف میرے لئے باعث فخر و تسکین کی بات ہے بلکہ میرے رفقائے کار اور پوری قوم کے لئے باعث فخر ہے۔

    کسی بھی پلانٹ کو لگانے کے لئے کئی اقدامات کرنا پڑتے ہیں مثلاً تصور، فیصلہ ، اس کے کامیابی کے امکانات پر غور ، بنیادی تحقیق ، عملی تحقیق ، ٹیبل ماڈل ، پائلٹ یعنی تجرباتی چھوٹا پلانٹ ، بڑے پلانٹ کی مکمل انجینئرنگ اور آخر میں اس پلانٹ کی تعمیر۔ ان اقدامات پر عمل کرنے میں بہت وقت درکار ہوتا ہے خاص طور پر جبکہ ٹیکنالوجی بہت ہی پیچیدہ اور مشکل ہو۔ میرے رفقائے کار اور میں نے نہایت دلیری سے تمام اقدامات بیک وقت شروع کر دیئے چونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ اور اپنی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ تھا۔ ابھی پنڈی کے بوسیدہ علاقہ میں بنیادی کام جاری تھا اور غیر ملکوں سے تمام ضروری اور اہم سامان خریدا جا رہا تھا کہ ہم پہلی سینٹری فیوج مشینیں بنا رہے تھے، سہالہ میں پائلٹ پلانٹ لگا رہے تھے اورکہوٹہ میں بڑے پلانٹ کی تعمیر کاکام زورشور سے جاری تھا۔یہ ایک نہایت دلیرانہ اور انقلابی اقدام تھا۔ ہمیں اس پر کبھی افسوس نہیں ہوا اور دراصل اسی طریق کار کی وجہ سے ہماری کامیابی اس قدر کم عرصہ میں یقینی ہو گئی۔

    کسی بھی مشکل اور پیچیدہ پروجیکٹ میں مشکلات بھی پیش آتی ہیں اور اکثر انسان اپنی زندگی میں کامیابی نہیں دیکھ پاتا لیکن ان مشکلات کی کوئی اہمیت نہیں اگر آپ نیک نیتی اور مصمم ارادے سے اپنے کام میں لگے رہیں۔ میرے رفقائے کار اور میں اپنے کام میں نہایت سنجیدہ تھے ہماری نگاہ میں یہ پاکستان کی بقا و موت کا معاملہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے کرم اور ہماری سخت محنت و کاوش سے ہم نے یہ کامیابی اپنی زندگی میں ہی دیکھ لی اور اپنے ملک کو ناقابل تسخیر دفاع مہیا کر دیا۔

    ہمارے صدر محترم ، وزیر اعظم اور قومی لیڈروں نے بار بار ہمارے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کا اعادہ کیا ہے۔ 1985ء کے اواخر میں جنرل مرحوم ضیاء الحق نے اقوام متحدہ میں مندرجہ ذیل پانچ نکات ہندوستان کو پیش کئے مگر ہندوستان نے وہ قبول نہیں کئے:۔

    (۱) جنوبی ایشیاء کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دے دیں ۔

    (۲) NPTپر دونوں ممالک بیک وقت دستخط کر دیں ۔

    (۳) دونوں ممالک آپس میں ایٹمی عدم پھیلاؤکے معاہدے پر دستخط کریں۔

    (۴) بین الاقوامی معائنہ ٹیمیں دونوں ممالک کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کریں۔

    (۵) دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں کی تیار ی اور استعمال نہ کرنے کا معاہدہ کرلیں۔

    اگرچہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ایٹمی پروگرام جاری رکھنے میں اور خود کو مغربی ممالک کے دباؤ اور بلیک میلنگ کو مسترد کرنے میں حق بجانب ہیں پھر بھی دونوں ممالک کے کروڑوں غریب عوام کی خاطر یہ عقلمندانہ اقدام ہو گا کہ آپس میں اعتماد قائم کیا جائے، شک و شبہ دور کیا جائے اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے گریز کیا جائے اور یہ تمام رقم عوام کی تعلیم اور فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔

    پاکستان کے یورینیم کی افزودگی کے کامیاب پروگرام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ایک قوم سنجیدگی اور پر عزمی سے کوئی ہدف حاصل کرنا چاہے تو وہ توقع سے پہلے یہ حاصل کر سکتی ہے۔ جو کچھ ہم نے سات سالوں میں نہایت خطیر رقم خرچ کر کے حاصل کیا وہ دوسروں کی نگاہ میں پچاس سال میں بھی حاصل کرنا ناممکن تھا۔ اپنے مقصد کے لئے پر عزم کوششیں یقینا پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو ایٹمی ری ایکٹر بنانے میں کامیابی سے ہمکنار کریں گی۔ ابھی وقت نہیں گیا۔ پاکستان اب بھی دنیا کو یہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ قومی مفاد اور عزت کے لئے ہر چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یورینیم کی افزودگی کا کام ہمارے لئے یقینا بہت بڑا چیلنج تھا، بہت دشوار تھا، مہم جویانہ اور دلیرانہ تھا لیکن نہایت ہی باعث سکونِ قلب اور مسرورکن تھا۔ میرے رفقائے کار اور میں اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے ملک کی سائنٹیفک اور ٹیکنیکل میدان میں ترقی کے لئے اس اہم ٹیکنالوجی میں اس کو خود کفیل کر دیا۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ایک نہایت شکر گزار اور احسان مند قوم ہمیں ہمیشہ یاد رکھے گی اور ہمارے کارنامے آئندہ نسل کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گے ۔ (پاکستان زندہ باد)

     

                         

               

    کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی اہمیت ۔ I ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان

             

    8/19/2009

    میرے لئے یہ نہایت ہی خوشی کا باعث ہے کہ میں اپنے کالموں پر ردعمل کے طور پر نوجوان طالبعلموں کی سینکڑوں ای میل وصول ہوتی ہیں جو نہ صرف پاکستان سے بلکہ غیر ملکوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء و طالبات مجھے بھیجتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ یہی خواہش اور درخواست ہوتی ہے کہ میں فنّی تعلیم کے بارہ میں ان کو آگاہ کروں ۔ موجودہ کالم بھی ان کی خواہش کی پیروی ہے۔ یہ کالم قطعی ان ماہرین کے لئے نہیں ہے جو یقینا اس موضوع پر مجھ سے کہیں زیادہ جانتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس کالم میں پیش کی گئی معلومات ہمارے مستقبل کے کمپیو ٹر انجینئروں اور سائنسدانوں کے لئے مفید ثابت ہوں گی۔ غیر ممالک میں چونکہ یونیورسٹیوں میں عموماََ کمپیوٹر سائنس کے ساتھ آرٹیفیشیل انٹیلی جنس (Artificial Intelligence) یعنی انسانی ذہانت سے کئے جانے والے کام جو اب کمپیوٹر سر انجام دیتے ہیں ، نامی مضمون بھی شامل کیا جاتا ہے میں اس پر بھی روشنی ڈال رہا ہوں۔ ہم کو علم ہونا چاہئے کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی بنیادی علوم میں ایک نہایت ہی اہم علم ہے اور میکانیکل ، میٹالرجیکل ، الیکٹرانک ، کیمیکل انجینئرنگ، سول انجینئرنگ اور بائیو انجینئرنگ کے علوم کے ساتھ کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

    اکیسویں صدی کی زندگی میں کمپیوٹر کو ایک لازمی حیثیت حاصل ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشیل انٹیلی جنس بہت تیزی سے ترقی کرنے والا اور ہمارے لئے یہ بہت ہی دلچسپ اور عقل و فہم کو للکار نے والے حل طلب مسئلہ جات پیش کرنے والا علم ہے۔ موجودہ دور میں نہایت پیچیدہ اور طاقتور کمپیوٹر سسٹم لگانے کے لئے ایک تجربہ کار کمپیوٹر انجینئر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ آرٹیفیشیل انٹیلی جنس یعنی عقل و فہم سے پُر کرنے والا علم ، موجودہ دور میں کمپیوٹر سسٹم میں روز بروز زیادہ رجوع کیا جا رہا ہے۔ا ب مختلف یا پھیلے ہوئے سسٹم (Distributed Systems) ، کمپیوٹروں کا باہمی رابطہ (Networks) اور بین الاقوامی کمپیوٹری مربوط نظام (Internet) وغیرہ آجکل کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی تعلیم میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے لئے یہ ٹیکنیکل اور سوشل چیلنج ہیں۔

    ہمارے لئے چند اہم سوالات یہ ہیں کہ ہم کسی پرابلم کو کس طرح سمجھتے ہیں ، کس طرح دلیل پیش کرتے ہیں ، کس طرح منصوبہ بند ی کرتے ہیں، کسطرح تعاون کرتے ہیں، کس طرح بات چیت یا رابطہ کرتے ہیں ، پڑھتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ زبانی یا تحریری اظہار کرتے ہیں؟ اور یہ کہ زبان اور منطق کا کیا کردار ہے؟ دماغ کی ساخت کس طرح کی ہے ، کسطرح عمل بینائی ظہور پذیر ہوتی ہے؟ یہ تمام سوالات اتنے ہی اہم اور بنیادی ہیں جس طرح کہ مادہ کی ایٹم سے بھی چھوٹے ذرّوں کی ساخت۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کو سمجھنے کے لئے کمپیوٹنگ سائنس ایک اہم رول ادا کرتی ہے۔ ایک کمپیوٹر سائنٹسٹ کا سابقہ ایسے مسئلہ جات سے بھی پڑ سکتا ہے جو نہایت پیچیدہ ، مشکل ہوتے ہیں اور وہ ان کو کامیابی سے حل کرنے کے لئے دوسرے سائنسدانوں، انجینئروں اور دوسرے علوم کے ماہرین کی مدد حاصل کرتا ہے۔آپ یہ تاثر نہ لیں کہ کمپیوٹنگ صرف بڑے بڑے سوالات حل کرنے کے لئے ہے۔ یہ انجینئرنگ میں بھی اہم رول ادا کرتی ہے اور چیزوں کے صحیح طریقہ سے کام کرنے میں رہنمائی بھی کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کمپیوٹنگ یا کمپیوٹر ٹیکنالوجی ایک بیمثال، نادر علم ہے جو کہ آپ کے سائنس کے چیلنج اور انجینئرنگ کی تشنگی کو دور کرتی ہے۔

    کمپیوٹر سائنس ایک مختلف علمی شعبوں پر مبنی مضمون ہے۔ اس کی بنیادیں پختہ طور پر انجینئرنگ اور ریاضی کے علموں میں مضبوطی سے پیوستہ ہیں اور ساتھ ہی اس کا تعلق لسانیات ، نفسیات اور دوسرے مضامین یا علوم سے ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر سسٹم، ڈیجیٹل الیکٹرانکس ، کمپائلر ڈیزائن، پروگرامنگ لینگوئجز، آپریشن سسٹمس، نیٹورکس اور گرافک سے بہت قریبی تعلق ہے۔ تھیور ٹیکل کمپیوٹر سائنس بنیادی موضوعات کو توجہ دیتی ہے یعنی قابل تبدل قدر کی رفتار (Motion of Computable Function) ہارڈ وئیر اور سافٹ کی درستی اور باہمی رابطوں کے سسٹمس کی تھیوری ۔

    کمپیوٹر سائنس ایک بنیادی سائنسی مضمون ہے جس کے دائرہ کار میں میڈیسن انجینئرنگ ، علم حیاتیات ، تجارت اور آرٹس یعنی زبانیں ، ادب ، تاریخ بھی آتے ہیں۔ پچھلے پچیس سالوں میں اس علم نے بالکل ابتدائی مرحلہ سے شروع ہو کر دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ ترقی یافتہ اربوں ڈالر کی صنعت کی جگہ لے لی ہے۔

    کمپیوٹر سائنس نہ صرف کمپیوٹرز کی تعلیم تک محدود ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کا تعلق معلوما ت کا مناسب انتظام اور ان کا صحیح طریقہ استعمال ہے۔ اس مضمون یا علم کا ایک مختصر ساحصہ کمپیوٹر کے وسیع اعداد پر مبنی تخمینہ یا حساب کے لئے وقف ہوتا ہے اس کا سب سے زیادہ حصہ ان عام کمپیوٹنگ ٹیکنیکس سے متعلق ہے جو کہ بیحد کا رآمداور مفید ہوتی ہیں۔ خواہ یہ اعدادی (Numerical) یا غیر اعدادی (Non- Numerical) بنیادی معلومات (Data) پر مبنی ہوں۔

    کمپیوٹر انجینئرز کو ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر (Hardware & Software) پہلوؤں پر کام کرنا پڑتا ہے جن کو تعلق ڈیزائن اور ڈیویلپمنٹ (Design & Development) سے ہوتا ہے۔ یہ انجینئرز عموماََ انجینئرنگ اور ریاضی کے حقائق (Theories)اور اصول (Principles)کا استعمال کر کے ہارڈویئر ، سافٹ ویئر ، نیٹ ورکس ، اور طریق عمل یعنی پروسیس ڈیزائن کرتے ہیں اور ڈیویلپمنٹ کرتے ہیں اور ان کی مدد سے فنی مسئلہ جات (Technical Problems) حل کرتے ہیں۔ کمپیوٹر ہارڈ ویئر انجینئرز کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ کمپیوٹر کا ہارڈ ویئر یعنی چپس (Chips) یاکمپیوٹر کے آلات کو کنٹرول کرنے والے آلات ڈیزائن کرتے ہیں، ان کی تیاری کی نگرانی کرتے ہیں اور ان کو ٹیسٹ کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس سافٹ ویئر انجینئرز ایسے سافٹ ویئر سسٹم بناتے ہیں جو صنعت و تجارت اور انتظامیہ جیسے میدانوں میں کنٹرول اور آٹومیشن سسمٹز بناتے ہیں۔ موجودہ دور میں جدید مصنوعات اور عوامی اور شہری ضروریا ت پوری کرنے والے نظام بھی کمپیوٹر ہارڈویئر ، کمپیوٹر سافٹ ویئر انجینئرز ہی کے بنائے ہوئے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ وڈیو کھیلوں سے لے کر جدید ہوائی جہاز کو فاصلہ سے کنٹرول کرنے اور جدید آلات و سسٹمز کنٹرول کرنے ، اس کو تیار کرنے اور ٹیسٹ کرنے میں بھی یہ انجینئرز کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔

    کافی عرصہ پیشتر غیر ملکی یونیورسٹیوں نے کمپیوٹر سائنس و انجینئرنگ کی اہمیت کو جان کر خود مختار ادارے قائم کئے۔ اہم ضرورت تعلیمی نصاب کی ضروریات اور تعلیمی ڈگریوں کی قبولیت کا طریقہ کار تھا۔ یہ ذمہ داری دی ایسوسی ایشن فار کمپیوٹنگ مشینری (Association for Computing Machinery) یعنی ACMنے لے لی۔ یہ ادارہ 1948میں قائم کیا گیا اور ایک سائنسی اور پیشہ ورانہ ادارے کے طورپر اس کا کام کمپیوٹنگ کے تمام پہلوؤں کی ترقی اور اس علم کے پھیلاؤ کی ذمہ داری ہے۔ ACMنے قیام کے بعد تعلیمی نصاب کی سفارش شروع کر دی جو کہ تعلیمی ادارے کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن سسٹمز کے لئے نافذ کریں۔

    بعد میں تین اور پیشہ ورانہ ادارے قائم کئے گئے ۔(۱) AISیعنی دی ایسو سی ایشن فار انفارمیشن سسٹمز 1994میں قائم کی گئی ۔ یہ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے اور اس مید ان میں ان تعلیمی اداروں کو مدد دے رہا ہے جو کہ اس میں ماہرانہ تعلیم دیتے ہیں۔ AIS کے زیادہ تر اساتذہ، سکولوں ، کالجوں اور انتظامی اداروں سے منسلک ہیں ۔AISنے ACHاور AITPکے ساتھ مل کر 1997سے ISیعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹمز کے تعلیمی نصاب کے لئے سفارشات پیش کی ہیں۔

    (۲)ATPیعنی دی ایسوسی ایشن فار انفامیشن ٹیکنالوجی پروفیشنلز کا قیام 1951 میں بطور دی نیشنل مشین اکاؤنٹنٹس ایسوسی ایشن آیا۔ 1962میں اس کانام ڈیٹا پروسیسنگ مینجمنٹ ایسوسی ایشن (DPMA) رکھ دیا گیا ۔ موجودہ نام 1996میں اختیار کر دیا گیا۔ AITPزیادہ تر توجہ کمپیوٹنگ کے پیشہ ورانہ پہلو پر دیتی ہے اور ان پیشہ ور انجینئر وں کی خدمت کرتی ہے جو کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کو تجارتی اور دوسرے اداروں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اس ادارہ نے 1985میں پہلی مرتبہ ISیعنی انفارمیشن سسٹمز کے نصاب کے لئے سفارشات پیش کی تھیں۔ (۳) دی کمپیوٹر سوسائٹی آف دی انسٹی ٹیوٹ فار الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانک انجینئر ز (جو کہ عموماََ IEEE-CSیا کمپیوٹر سوسائٹی بھی کہلاتی ہے) اس کا قیام 1946میں وجود میں آیا تھا۔ یہ IEEEکے اندر ایک ٹیکنیکل سوسائٹی ہے اور اس کی تمام توجہ انجینئرنگ کے نقطہ نظر سے کمپیوٹنگ پر ہے۔ 1990کے عشرہ سے پہلے ہر سوسائٹی تعلیمی نصاب سے متعلق اپنی سفارشات پیش کرتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ باہمی کارکردگی کے ثمرات نظر آنے لگے ۔ اب یہ ادارے مل کر تعلیمی نصاب سے متعلق سفارشات تیار کرتے ہیں اور ایک ہی پیغام کمپیوٹنگ برادری کو ارسال کرتے ہیں۔ اس علم کے میدان میں خاصی ریسرچ ہوئی ، معلوما ت مہیا کی گئیں اور ایجادات کی گئیں جن کا پھیلاؤ تھیوری سے پریکٹس تک تھا اور ابتدائی شکوک و شبہات آہستہ آہستہ ختم ہو گئے ۔یہی نہیں بلکہ 1990کے عشرہ میں صنعتی اور تجارتی اداروں میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ضرورت فارغ التحصیل انجینئروں سے بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی پڑھنے والے طلباء کی تعداد میں بے حد اضافہ ہو گیا۔

    سافٹ وئیر انجینئرنگ ۔ کمپہوٹر سائنس میں سافٹ ویئر انجینئرنگ ایک ایسا علم بن کر اُبھرا ہے جو کہ سخت اور مشکل طریقہ کار استعمال کر کے ایسی چیزیں تیار کرتا ہے جو کہ وہ تمام کام خوش اصلوبی سے انجام دیتے ہیں جن کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ اپنی کمپیوٹر سائنس کی اچھی بنیاد کے ساتھ سافٹ وئیر انجینئرنگ انسانی اعمال سے بھی لازمی وابستگی رکھتی ہے جن کی اپنی فطری خصوصیات کی وجہ سے بہت مشکل سے ضابطہ سازی (Formalize) کی جا سکتی ہے بہ نسبت کمپیوٹر سائنس کے منطقی یا قابل فہم خلاصہ یا اختصار (Logical Abstractions) کے انفارمیشن سسٹمز ۔ اس نظام یا طریق عمل کو کئی بڑھتے ہوئے چیلنجز یا مشکل مسئلہ جات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں اکاؤنٹنگ سسٹمز، پے رول سسٹمز ، انونٹری سسٹمز وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ 1990کے اواخر میں باہم روابط والے پرسنل کمپیوٹرز (Networked Personal Computers) روز مرہ کی ضروریات بن گئے تھے اور یہ کسی بھی ادارہ میں ہر سطح پر کام کرنے والے اسٹاف کے لئے ایک لازمی جز بن گیا ہے۔ اب اداروں کے پاس پہلے سے بہت زیادہ معلومات کا ذخیرہ ہوتا ہے اور کمپیوٹرز کی مدد سے ان کا استعمال تیزی سے اور آسانی سے انجام پا جاتا ہے ۔ معلومات کا جلد اور صحیح استعمال یقینا بہت پیچیدہ ہوتا ہے اور ادارہ کی صحیح کارکردگی اور کامیابی میں ان اطلاعات کا صحیح استعمال ایک کلیدی رول ادا کرتا ہے۔

    انفارمیشن ٹیکنالوجی۔ یہ علم 1990میں ظہور پذیر ہونا شروع ہوا ۔ اس وقت نیٹورکس پرسنل کمپیوٹر سسٹمز اور کمپیوٹرز ہر ادارے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ اس سے ایک طرف تو کارکردگی میں بہت بہتری آئی مگر ساتھ میں اداروں میں ان پر بہت انحصار بڑھ گیا اور مشکلات پیش آئیں کیونکہ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر نے اسٹاف کے کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ۔ صنعتی اور تجارتی اداروں کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکموں نے یہ یقینی بنایا کہ ان اداروں میں کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر صحیح ، مناسب اور قابل استعمال و قابل بھروسہ تھا اور کام کرنے والے اپنے مسائل کو ان کی مد د سے حل کر سکتے تھے۔ آپ اس بارے میں مزید معلومات ACM کے مندرجہ ذیل ویب سائٹ سے حاصل کر سکتے ہیں۔

     

                         

               

    تقسیم اور کشمیر کا مسئلہ,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان

             

    9/2/2009

    اپنے پچھلے ایک کالم میں زیرِبحث موضوع کو جاری رکھتے ہوئے میں اس کالم میں ایک ایسے واقعے کا تذکرہ کروں گا جو پاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوااور ہم آج بھی اُس فیصلے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

    میں ہندوستان کے آخری وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اور قائداعظم کی آخری ملاقات اور اس کے نہایت سنگین اوردُوررَس نتائج کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ تقسیم ہند کا اصول طے ہو چکا تھا اور صرف طریقہ کار طے ہو رہا تھا۔ ہندوستانی لیڈورں نے وائسرائے ماؤنٹ بیٹن کو مطلع کر دیا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وقتی عبوری دور میں وہی گورنر جنرل کے عہدہ کے فرائض انجام دیں ۔ ہندوستانی لیڈروں کی یہ نہایت عقلمندانہ اور دور رس پالیسی تھی۔ جب قائد اعظم اور وائسرائے کی ملاقات ہوئی اور ماؤنٹ بیٹن نے رسماً دریافت کیا کہ کیا قائداعظم نے پاکستان کے گورنر جنرل کے بارے میں کچھ سوچا ہے تو قائد اعظم نے جواب دیا کہ ہاں انہوں نے خود گورنر جنرل بننے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ وائسرائے کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کو یہ بات ناگوار گزری مگر وہ خاموش رہا۔ ملاقات کے بعد باہر فیلڈ مارشل لارڈ اِسمے چیف آف اسٹاف برائے وائسرائے نے قائداعظم سے ملاقات کی ۔ وہ قائد اعظم کی بے حد عزت کرتا تھااور ان کے اخلاق، راست گوئی اور عقل و فہم سے بے حد متاثر تھااس نے قائد اعظم سے کہا”مسٹر جناح آپ کو احساس نہیں کہ آج آپ نے اپنے اس عمل سے اپنے پاکستان کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے“۔ لارڈ ریڈکلف جو باؤنڈری کمیشن کا سربراہ تھا اور پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا ذمہ دار تھا اس نے یہ کام مکمل کر کے نقشوں کی کاپیاں وائسرائے ماؤنٹ بیٹن ، گورنر پنجاب سر ایوان جینکنس اور گورنر بنگال کو روانہ کر دی تھیں۔ اس رپورٹ کے حساب سے مشرقی پنجاب میں گرداسپوراور ملحقہ علاقہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی پاکستان کو دیا گیا تھا، قائداعظم سے ملاقات کے بعد وائسرائے نے ریڈکلف کو بلا بھیجا اور حکم دیا کہ وہ گرداسپوراور ملحقہ علاقہ ہندوستان میں شامل کر دے اس کے دور رس نتائج نکلنا تھے اور وہ اس سے پوری طرح آگاہ تھا کہ صرف گرداسپور اور ملحقہ علاقہ کے راستہ سے ہی کشمیر کا رابطہ تھا۔ نتیجہ میں لاکھوں مسلمان سکھوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ، ہزاروں مسلمان لڑکیاں سکھوں نے اغواء کر کے اپنی بیویاں بنا لیں ، تمام جنگی ہتھیار اور مالی اثاثے ہندوستان نے اپنے قبضے میں کر لئے اور وائسرائے نے ہندوستان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا ، سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مہاراجہ کشمیر جو کہ بہت پریشان تھا اور شش وپنج میں تھا اس کو سنہری موقع مل گیا اور اس نے ہندوستان سے الحاق کا اعلان کر دیا۔ جب قبائلی لوگوں نے کشمیر میں فوج کشی کی تو ہندوستانی فوج کشمیر میں اتر گئی اور ان کو پسپا کر دیا۔ وائسرائے کے غدّارانہ عمل اور ریڈ کلف کی کمزوری اور بزدلی اور غیر اخلاقانہ عمل سے کشمیر ہندوستان کو مل گیا ۔ پاکستانی قوم آج بھی اس عمل سے سخت نالاں اور برہم ہے۔ بعض تنقید نگاروں کا یہ خیال ہے کہ شاید ان مسائل سے اس طرح نجات حاصل کی جا سکتی تھی کہ ہندوستان یعنی (گاندھی اور نہرو) کی طرح پاکستان بھی ماؤنٹ بیٹن کو عارضی طور پر اس عبوری دور میں پاکستان کاگورنر جنرل قبول کر لیتا یعنی وہ چند ماہ کے لئے مشترکہ گورنر جنرل رہتا اور قائد اعظم بھی گاندھی کی طرح ایک بزرگ سیاستدان کی طرح تمام انتظامات کی نگرانی کرتے اور رہنمائی فرماتے تو شاید ہم بعد میں پیش آنے والی مشکلات یعنی تنازع کشمیر ، وہاں ہزاروں بیگناہ لوگوں کی قتل و غارت گری ، مشرقی پنجاب میں لاکھوں مسلمانوں کا سکھوں کے ہاتھوں قتل ہونا ، تین نقصان دہ جنگیں ، تقسیم کے نتیجہ میں ملنے والے قیمتی اثاثوں سے محرومی کا شکار نہ ہوتے ۔ لیکن دیکھئے انسان واقعات کے ہو جانے کے بعد سمجھداری کی باتیں کرنے لگتا ہے یعنی۔

    مشتے کے بعد از جنگ یاد آید

    بَر کلّہء خود یایَد زَد

    ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے اور اس کے فرما دیا ہے کہ” وَ یمکرون وَ یمکُرُ اللہ ، واللہ خیر الماکرین“ (سورة الانفال آیت ۳۰)”یعنی وہ بھی تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیریں کرتا ہے اور سب سے بہتر تدبیریں کرنے والا صرف اللہ ہی ہے “ یعنی ہمارے سوچنے اور تدبیریں بنانے سے کچھ حاصل نہ ہوتا ۔ ہمیں ایک اور بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ قائد اعظم تپ دق کے مہلک مرض میں مبتلا تھے اور ان کے معالج نے انہیں خبردار کر دیا تھا کہ ان کی زندگی کا بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کو مدنظر رکھ کر ہی وہ فیصلہ کیا ہو گا اگر ماؤنٹ بیٹن مشترکہ گورنر جنرل ہوتا اور اس دوران قائد اعظم وفات پا جاتے تو خد ا جانے حالات کیا رخ اختیار کرتے اور پاکستان کے مستقبل کا کیا ہوتا؟ ہمیں نہایت شرمندگی سے یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ برصغیر کی سرزمین مسلمان غدار پیدا کرنے کے لئے انتہائی زرخیز ہے ، ہماری پوری تاریخ ایسے غداروں کے کرتوتوں سے بھری پڑی ہے اس کو خام خیالی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ماؤنٹ بیٹن کی گورنر شپ کے دوران قائد اعظم رحلت فرما جاتے تو کیا کیا سازشیں جنم نہ لیتیں اور پاکستان کا قیام خطرے میں نہ پڑ جاتا ۔ اگر چند مسلمان لیڈروں کو ہندوستانی حکومت لالچ دے کر مشتر کہ ہندوستان کی وزارت عظمیٰ اور دوسرے اہم عہدے دے کر پاکستان کے مطالبہ سے دستبردار کرا لیتی؟ مولانا ابوالکلام آزاد اور کئی دوسرے کانگریسی مسلمان لیڈراور مُلّا پاکستان کے سخت خلاف تھے اور انہوں نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ غیر منقسم ہندوستان میں نہ صرف پورا پنجاب ، سرحد، سندھ، اور بنگال میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی بلکہ آسام میں بھی سر سعد اللہ خان حکمران تھے اس کے علاوہ حیدرآباد، بھوپال، رام پور، ٹونک، جونا گڑھ، بہاولپور، مانا ودر، محمود آباد جیسی کئی ریاستیں مسلمان حکمرانوں کے زیر تحت تھیں۔ اس طرح مسلمان خاصی قوت کے حامل تھے مگر آپ ہندو لیڈروں اور ان کے ساتھی مسلمان کانگریسیوں کی عیاری ، ریشہ دوانیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ گویا

    ہر چند داغ ایک ہی عیار ہے مگر

    دشمن بھی تو چھٹے ہوئے سارے جہاں کے ہیں

    اس تمام مسئلے میں ہم ایک نہایت اہم معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتے ، آپ کو علم ہے کہ نہرو ایک نہایت عیار، کیمبرج کا پڑھا لکھا پنڈت تھااس کو لوگوں کی خوشامد کرنے اور ان کا دل موہ لینے میں مہارت حاصل تھی ، ماؤنٹ بیٹن کے دہلی پہنچتے ہی اس نے بیگم ماؤنٹ بیٹن سے قریبی تعلقات قائم کر لئے ، اس کو سیر کرانے کے لئے خوبصورت جگہوں پر لے جاتا ، خو د ماؤنٹ بیٹن کی بیٹی نے اپنی کتاب میں اس بات کا اعتراف کیا ہے، ایک تو ان تعلقات کا فائدہ اٹھا کر اور دوسرے ایک کشمیری پنڈت کی نسل سے تعلق کی بنا پر نہرو کشمیر کو ہندوستان میں شامل کرانے میں کامیاب ہو گیا۔ بد قسمتی سے ماؤنٹ بیٹن اور ریڈ کلف نے گندہ رول ادا کیا اور ہم آج تک اس بد معاشی اور بد نیتی کا شکار ہیں۔

    میں نے کئی بزرگ سیاستدانوں سے سنا ہے کہ سرداروُلبّھ بھائی پٹیل جو کہ نائب وزیر اعظم و وزیر داخلہ تھا اس نے کشمیر و حیدر آباد کے تنازع کو حل کرنے کے لئے پاکستان کو پیش کش کی تھی کہ پاکستان حیدرآباد سے دستبردار ہو جائے اور ہندوستان کشمیر سے دستبردار ہو جائے گا۔ اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے سنا ہے کہ یہ تجویز رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر تو ہمارا ہی ہے ، ہم حیدرآباد سے کیوں دستبردار ہوں۔ واللہ عالم باِلصوّاب۔ بہر حال یہ اُن چند واقعات میں سے ایک ایسا واقعہ ہے ۔

    آپ کو چینی غیور قوم کا ایک تاریخی واقعہ بتلاتا ہوں ، جب منگولوں نے چین پرحملہ کیا اور دارالحکومت سیان (Xian) پر چڑھائی کی تو وہاں بہت سخت جنگ ہوئی ایک غیر مسلم جنرل نے غداری کی اور منگولوں کا ساتھ دیا جبکہ ایک مسلم جنرل نے نہایت ہی بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرکے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے جان قربان کر دی۔ سیان کے ایک پارک میں آپ جب داخل ہوں تو پتھر کے دو بڑے مجسمے نصب ہیں ایک اس غدار کا اور دوسرا اس محب وطن کا۔ جب عوام اس پارک میں داخل ہوتے ہیں تو غدار کے مجسمے پر تھوکتے ہیں اور محب وطن کے مجسمے پر پھول پھینکتے ہیں۔ یہ سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے۔ یہ ہے زندہ اور غیور قوم کے کردار کی نشانی ۔ ہمارے ملک میں غدار پھلتے پھولتے ہیں اور سینہ تانے دندناتے پھرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم ذلت و بربادی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم تو ماؤنٹ بیٹن اور ریڈ کلف کو بھی بھول گئے ہیں اور کہیں ان کے مجسمے نہیں لگائے ہیں کہ ہم بھی چینی بھائیوں کی طرح دل کی بھڑاس نکال لیتے۔

    آپ کو اس مشہور اور خوبصورت شہر سیان کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔ یہ ماضی میں چین کا دارالحکومت تھا اور یہیں سے شاہراہ ریشم شروع ہوتی تھی۔ اس کی سڑکوں کے دونوں جانب نہایت بڑے اور گھنے چنار کے درخت لگے ہوئے ہیں ، لاتعداد باغات ہیں۔ یہاں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران مٹی کے پورے قد و قامت کے ہزاروں سپاہیوں کے مجسمے ملے ہیں جو ایسا لگتا ہے کہ جنگ کی تیاری کے لئے کھڑے ہیں ان کوٹیرا کوٹا کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں تقریباً ہزار سال پرانی عالیشان نہایت بڑی مسجد ہے جب ہم لوگ وہاں گئے تو امام حاجی محمد یونس نے ہمارا استقبال کیا اور ہماری بہت خاطر مدارت کی، اس وقت مسجد میں مرمت و بحالی کا کام ہو رہا تھا۔ میں نے امام یونس سے دریافت کیا کہ مسجد میں قالین وغیرہ کا بندوبست ہو گیا ہے یا نہیں ۔ انہوں نے بتلایا کہ ابھی تو نہیں ہوا ہم مقامی حکومت سے درخواست کریں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ قالین(کارپٹ) ہم آپ کو پاکستان کی طرف سے تحفے میں دیں گے۔ ہم نے وہاں نماز ادا کی اور واپس آگئے ۔ پاکستان آ کر میں نے ضیاء الحق کو اس بارے میں بتلایا اور کہا کہ وہاں ملاقاتیوں کی کتاب میں ، میں نے اُن کے ،غلا م اسحاق خان صاحب کے، آغا شاہی صاحب کے اور صاحبزادہ یعقوب خان کے تاثرات پڑھے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے فوراً خوش ہوکر ہلکے سبز رنگ (Moss Green) والی مکمل جانمازیں بذریعہ C-130روانہ کردیں ۔ یہ کام فوراً کر دیا گیا اور جب ہم چند ماہ بعد دوبارہ سیان گئے تو مسجد قابل دید تھی۔ قالین بے حد خوبصورت لگ رہے تھے، ہم نے وہاں نماز ادا کی ۔ امام محمد یونس نے پاکستان کا اور ہمارا بہت بہت شکریہ ادا کیا ۔ سیان میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے اور یہاں کے کھانے بے حد لذیذ ہوتے ہیں۔

     

                         

               

    آزادی کی جنگیں,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیر خان

             

    9/9/2009

    اپنے پچھلے کالم میں تقسیم ہند اور کشمیر کے مسئلہ پر میں نے کچھ تبصرہ کیا تھا اور بتلایا تھا کہ کسطرح وائسرائے لارڈ ماؤ نٹ بیٹن اور سر ریڈ کلف نے بد نیتی اور بے ایمانی کر کے گرداسپور کا علاقہ ہندوستان کو دیکر بعد میں کشمیر کے الحاق کو قبول کر کے انگریزوں کی روایتی مسلم دشمنی کا اظہا ر کیا تھا۔

    کشمیر کے مجوزہ حل کے بارے میں پرویز مشرف اور خور شید احمد قصوری نے کئی بیانات دیئے ہیں اور یہ غلط تاثر دیا ہے کہ جیسے ہندوستان کشمیر کو پلیٹ پر رکھ کر ان کو دے رہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ یعنی ناقابل جدا حصہ ہے اور یہ کہ ہندوستان بشمول کشمیر کی سرحد میں ایک انچ کا بھی رد و بدل نہ ہو گا۔ آپ خود ہی سوچئے اور ان دو سابق حکمرانوں سے دریافت کیجئے کہ وہ کون سی شرائط تھیں جن پر ہندوستان قضیہ کشمیر کو حل کرنے پر راضی تھایا ہمیں دینے کو تیار تھا۔حیدر آباد، جوناگڑھ اور ماناودَر کو بھی نہ بھولئے۔

    حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے رہنما ؤں کی سب سے بڑی غلطی یا بلینڈر یہ رہا ہے کہ انھوں نے بغیر سوچے سمجھے اپنی قسمت اور مستقبل کافیصلہ کیا ہے۔ اس وقت تک ستر ہزار سے لیکر تقریباََ ایک لاکھ کشمیری نوجوان ہلاک ہو چکے ہیں اور حالات پہلے سے زیادہ مایوس کن ہیں۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے تمام رہنماؤں کو حقیقت کا احساس ہوتا تو ان کو چاہئے تھا کہ سب مل کر الیکشن میں حصہ لیتے، لوگوں کو ثبوت دیتے کہ عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اور پھر متحد ہو کر اپنے حقوق مانگتے ۔ ایک آزاد پالیسی بنا تے اور زیادہ سے زیادہ اندرونی خود مختاری لے کر اپنے حالت پر خود کنٹرول رکھتے، اپنے عوام کی خدمت کرتے لیکن میر واعظ عمر فاروق ، پروفیسر گیلانی ،یاسین ملک وغیرہ بھی تک آنکھیں کھولے خواب دیکھتے رہتے ہیں کہ کوئی انہیں کشمیر کو آزادکر اکے پاکستان کے حوالے کروا دے گا۔ آپ پاکستان میں توٍابھی، آمریت ، ڈکٹیٹر شپ، لوٹ ماری،رشوت ستانی اور لوٹا بازی ہے۔ کوئی بھی جد و جہد اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک کہ ایک طاقتور ، بہادر ، سنجیدہ ملک آپ کی کھل کر مسلسل مدد نہ کر تار ہے۔ پاکستان کو تو مشرف نے امریکہ اور ہندوستان کے ہاتھوں کو ڑی کے داموں بیچ دیا ہے۔ اس کی اپنی حالت خستہ اور قابل رحم ہے ، وہ آپ کی کیا مدد کرے گا؟ آپ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور متحد ہو کر اپنے لئے سہولتیں اور زیادہ سے زیادہ اندرونی خود مختاری حاصل کر کے اپنے عوام کی مدد کریں اور خوشحالی اور امن مہیا کریں۔ کشمیری لیڈروں کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ 1965 کی جنگ کے بعد پاکستان نے 95فیصد کشمیر کو کھو دیا تھا اور جو 5 فیصد کنجائش تھی وہ مشرف نے کارگل میں پنگا لے کر ہمیشہ کے لئے ضائع کر دی۔

    میں نے ابھی عرض کیا کہ جب تک کوئی طاقتور ، نڈر پڑوسی ملک کھل کرکسی جد و جہد کی مدد نہ کرے اسوقت تک کوئی جدوجہد کامیاب نہیں ہو سکتی۔ چند مثالیں پیش کرتا ہوں:

    (a) پہلی مثال کشمیر کی ہی ہے کیونکہ نہ تو ہم طاقتور تھے اور نہ ہی کھل کر کشمیر یوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ ستر ہزار سے زیادہ کشمیری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ وہ اس طرح کشمیر کو آزاد کر ا لے گا تو وہ احمقوں کی دنیا میں رہتا ہے۔

    (b) دوسری مثال فلسطین کی ہے اگر آپ 1949میں اسرائیل کا رقبہ اور حدود دیکھیں تو تقریباََ ایک چوتھائی تھا ۔ کیونکہ عرب حکمران اس معاملہ میں سنجیدہ نہ تھے آج اسرائیل چار گنا بڑا ہے اور عرب ان کے آگے غلاموں کی حیثیت سے زیادہ نہیں ہیں۔ نہایت بری طرح شکستیں کھا کر اور لاکھوں بیگناہ لوگوں کو مروا کر فلسطینی لیڈر ابھی تک کوئی سبق حاصل نہ کر سکے۔ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا اسرائیل وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے گا اور فلسطینی اور عرب زبانی جمع خرچ کر کے ذلیل و خوار ہوتے جائیں گے۔ اگر پچاس سال پہلے مصالحتی رویہ اختیار کر لیتے تو آج اسرائیل اپنے قیام کو قائم رکھنے میں دشورای محسوس کر رہا ہوتا۔

    (c) ابھی ابھی سری لنکا میں تامل باغیوں کا حشر آپ کے سامنے ہے۔ جب تک ہندوستان کھل کر مدد کر تا رہا انھوں نے سری لنکا کی فوج کی زندگی اجیرن کر دی تھی جونہی بین الاقوامی دباؤ اور کشمیر کو دیکھ کراس نے ایک ملکی مفاد والی پالیسی اختیار کی ، تامل ختم کر دیے گئے۔ سب لیڈر مارے گئے اور تقریباََ ایک لاکھ بیگناہ لوگوں نے چند خودغرضوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جان دے دی اگر بیس سال پہلے مصالحتی پالیسی اختیار کر کے معاہدہ کر لیتے تو اپنے علاقہ میں مکمل اندرونی خود مختاری مل جاتی اور لوگ خوش و خرم رہتے اب وہ دوسرے درجہ کے ناقابل بھروسہ شہری بن گئے ہیں ۔

    (d) اسپین میں دہشت گرد تنظیم ETAنے بھی وہی اندھی پالیسی اختیار کی اور دہشت گردی کا طریقہ اختیار کیا۔ لاتعداد لوگ مارے گئے اور نتیجہ صفر نکلااور وہ کبھی بھی ایک آزاد ملک حاصل نہیں کر سکیں گے۔

    (e) شمالی آئرلینڈ میں IRA نامی دہشت گر د تنظیم نے کئی برس دہشت گردی کی مہم جاری رکھی ۔ ہزاروں لوگ قتل ہوئے مگر بعد میں عقل و فہم نے غلبہ حاصل کیا اور برٹش گورنمنٹ سے معاہدہ کر کے اب حکومت کر رہے ہیں اور اپنے عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔

    (f) چیشنیا نے چند کم عقل لیڈروں کی احمقانہ پالیسی و دہشتگردی کی وجہ سے ملی ملائی آزادی کھو دی ۔ صدر یلٹسن کے مشیر سکیورٹی جنرل لیبیڈ نے چیشنیا کو تقریباََ مکمل آزادی دیدی تھی اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے علاقہ کے حالات ٹھیک کرتے انھوں نے پڑوسی علاقوں داغستان، اِنگوشیتیا اور اُوسیٹیا میں دہشت گردی شروع کر دی اور اس خام خیالی کا شکار ہو گئے کہ روسی وہاں سے بھاگ جائیں گے۔ صدر پوٹن نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور مغربی ممالک نے انگلی تک نہ اٹھائی کیونکہ وہ خود عراق ، افغانستان اور فلسطین میں دہشت گردی کر رہے تھے یا مدد کر رہے تھے۔ اگر چیشنیا کے لیڈر صبر و تحمل اور عقل و فہم سے کام لیتے تو آج ایک آزاد ملک ہوتے۔

    (g) مشرقی تیمور کی تحریک آزادی (معذرت خواہ ہوں پہلے غلطی سے آچے لکھ دیا تھا) اسلئے کامیاب ہوئی کہ وہاں کی عیسائی آبادی کی امریکہ اور یورپی ممالک نے کھل کر حمایت کی اور انڈونیشیا پر دباؤ ڈال کر اور دھمکیاں دے کر اس کو آزاد کر ا دیا۔فلسطین میں وہ اسرائیل کے حامی ہیں۔

    (h) اِیر یٹریا کی جنگ آزادی اس لئے کامیاب ہو گئی کہ بغاوت کرنے والے لوگوں کی سوڈان اور دوسرے عرب ممالک نے کھل کر مدد کی اور ایتھوپیا اس جنگ کے خرچ کو برداشت کرنے کے قابل نہ تھا۔

    (j) مشرقی پاکستان میں لوگ اس لئے کامیاب ہوئے کہ ہندوستان اور روس نے کھل کر ان کی سامان اور فوجیوں سے مدد کی ورنہ وہ کبھی نہیں جیت سکتے تھے ہماری فوجی ڈکٹیٹر شپ نے ان کو یہ موقع فراہم کیا تھا۔

    (k)مشرقی پنجاب میں اتنی بہادر اور جنگجو قوم یعنی سکھ اپنی ا ٓزادی کی جنگ ہا ر گئے کہ باہر سے کوئی مدد گار نہ تھا اور پاکستان خود اس قابل نہیں تھا کہ وہاں کوئی گڑ بڑ کرتا اور جواب میں کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ ہزاروں سکھ مارے گئے اور نتیجہ میں کچھ نہ ملا۔

    (l)ایک اور شرا نگیزی جس میں امریکہ براہ راست ملوث ہے وہ چین کے صوبہ سنکیانگ میں دہشت گردی ہے ایک خود ساختہ امریکی ایجنٹ رابعہ غدیر کو واشنگٹن میں بٹھا کر اور تمام سہولتیں دے کر چین کے خلاف پر وپیگنڈہ کیا جا رہا ہے رابعہ غدیر اور سنکیانگ کے شہریوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کوئی غیر ملک ان کی مدد نہیں کر سکتا ۔ چین ایک بناناری پبلک نہیں ہے۔ رابعہ اور اس جیسے مفاد پرستوں نے سینکڑوں بیگناہ لوگوں کو مروا دیا۔ ان کا مستقبل چین کے ساتھ ہے اور ان سے گفت و شنید کے ساتھ وہ اپنے لئے بہت سی مراعات حاصل کر سکتے ہیں۔ رابعہ جیسے خود غرض امریکہ میں بیٹھ کر عیاشی کرتے رہیں گے اور وہیں مر جائیں گے اور بیگناہ سیدھے سادھے لوگوں کو مرواتے رہیں گے۔

    (m) ایک اور اہم واقعہ تبت کا ہے آج سے پچاس سال سے پہلے غیر ملکی ایجنٹوں کی شہہ پر دلائی لامہ نے چین کے خلاف بغاوت کی او ر ہزاروں دہشت گرد مارے گئے ۔ یہ شخص آج ایک سیاستدان بن کر پوری دنیا میں گھومتا پھرتا ہے اور عیاشی کرتا پھرتا ہے جبکہ اپنے عوام کو پیچھے چھوڑ کے مشکلا ت میں جھونک