External Links

    draqkhan2010

    Dr Abdul Qadeer Khan's column's collection
    Source: The Daily Jang
    Collection Period: January to December 2010
    Missing Columns:
    Compiled by: Abu Bakar Siddique

           

    1.      $ منصب اور اس کا تقدس   1/6/2010. 2

    2.      $ محسنانِ پاکستان۔۔۔1/13/2010. 4

    3.      $ انصاف و قانون کی حکمرانی   1/20/2010. 6

    4.      $ ایں سعادت بزورِ بازو نیست   1/27/2010. 8

    5.      $ ایک غلطی ۔ تباہ کن نتائج   2/3/2010. 10

    6.      $ چوہے ، بلی اور گھنٹی   2/10/2010. 12

    7.      $ جھوٹ کی لعنت   2/17/2010. 13

    8.      $ اندھیر نگری چوپٹ راجہ   2/24/2010. 15

    9.      $ بھوپال، کیرالہ اور شق القمر       3/3/2010. 17

    10.  $ ہر بلائے کز آسمان اُفتَد    3/10/2010. 18

    11.  $ روٹی، کپڑا اور مکان    3/17/2010. 20

    12.  $ ایک کو ایک کھائے لیتے ہیں      3/24/2010. 22

    13.  $ عدل و انصاف ۔ اللہ کا پسند یدہ عمل   3/31/2010. 24

    14.  $  نظامِ عدل و انصاف ۔ کبھی ہم بھی تھے اس سے آشنا   4/7/2010. 27

    15.  $ یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا    4/12/2010. 29

    16.  قرض کی لعنت ...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان   4/19/2010. 30

    17.  خساست کنجوسی اورحرص و طمع ...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   4/26/2010. 32

    18.  تلاش ِدید ہ ورو مسیحا...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   5/3/2010. 33

    19.  تعلیم ۔ پاکستان تباہی کی راہ پر ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   5/10/2010. 35

    20.  چوری ڈاکہ زنی اور سینہ زوری....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   5/17/2010. 37

    21.  ۲۸ مئی ۔ کس بات کی خوشی؟ ...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان   5/24/2010. 38

    22.  نظامِ حکومت و عدل وانصاف ۔ ہماری سنہری روایات “ ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   6/7/2010. 40

    23.  لہاسہ۔ دنیا کی چوٹی...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   6/14/2010. 41

    24.  سحر ہونے تک!....روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی....ایک بلیک جوک سنیں…!   6/19/2010. 43

    25.  اتحاد ، اتفاق اور نفاق ۔ تخت یا تختہ ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   6/21/2010. 44

    26.  سستا خون اور مہنگا پانی .... سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   6/28/2010. 47

    27.  بے دم ہوئے بیمار ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   7/5/2010. 48

    28.  دوا، دُعا اور جد و جہد....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   7/12/2010. 50

    29.  کوئی چارہ ساز ہوتا....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   7/19/2010. 51

    30.  تاریخ بیت اللہ شریف ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   7/26/2010. 53

    31.  تاریخ بیت اللہ شریف .....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان... (گزشتہ سے پیوستہ)   7/27/2010. 55

    32.  آئین جوانمرداں، حق گوئی وبے با کی....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   8/2/2010. 56

    33.  آئین جوانمرداں، حق گوئی وبے با کی....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان.... (گزشتہ سے پیوستہ)   8/3/2010. 57

    34.  دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا....سحر ہونے تک …ڈاکٹرعبدالقدیرخان   8/9/2010. 58

    35.  خوش فہمی و خام خیالی.....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   8/16/2010. 59

    36.  شرم تم کو مگر نہیں آتی....سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   8/23/2010. 60

    37.  ایک واقعہ ۔ تاریخی نتائج.....سحر ہونے تک …ڈاکٹرعبدالقدیرخان   8/30/2010. 61

    38.  ایک واقعہ ۔ تاریخی نتائج.....سحر ہونے تک …ڈاکٹرعبدالقدیرخان..... (گزشتہ سے پیوستہ)   8/31/2010. 62

    39.  اُمید و نا امیدی ......سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   9/6/2010. 63

    40.  ہمارا مستقبل....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   9/14/2010. 64

    41.  ہمارا مستقبل سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان (گزشتہ سے پیوستہ)   9/15/2010. 65

    42.  جب روم جل رہا تھا......سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   9/20/2010. 66

    43.  صحبت صالح ترا صالح کند.....سحر ہونے تک … ڈاکٹرعبدالقدیرخان   9/27/2010. 67

    44.  نیک نیتی اور منافقت......سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   10/4/2010. 69

    45.  نوادرات.....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   10/11/2010. 70

    46.  جمہوریت، آمریت اور انصاف......سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   10/18/2010. 71

    47.  ملک و قوم کی خدمت.....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان..... (گزشتہ سے پیوستہ)   10/26/2010. 72

    48.  بجلی کا بحران و حل....سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   11/1/2010. 73

    49.  بجلی کا بحران و حل....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان.... (گزشتہ سے پیوستہ)   11/2/2010. 74

    50.  شکستیں کھاتا جاتا ہے۔ مقابل ہوتا جاتا ہے......سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   11/8/2010. 74

    51.  قابل تحسین عوامی خدمت....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   11/15/2010. 75

     

     

          

    $ منصب اور اس کا تقدس   1/6/2010

     

    چند ہفتہ پیشتر میں نے دو کالم بعنوان غیرت تو کہاں ہے اور بے غیرتی پر لکھے تھے ان کالموں نے ملک میں خاصا مباحثہ شروع کر دیا اور یہ بات جلد ہی عیاں ہوگئی کہ بے غیرت (بدکردار، راشی، چور، جوئے باز، منافق، دھوکہ باز وغیرہ )لوگوں کو یہ کالم خاصے برے لگے اور اس پر انہوں نے تنقید بھی کی، یہ بات مشہور ضرب المثل چور کی داڑھی میں تنکا کی عکاسی کر رہی تھی ایک دوست نے مزاحیہ کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ تنکے کی بات کر رہے ہیں یہاں تو پوری جھاڑو داڑھی میں لٹک رہی ہے۔

    آج آپ کی خدمت میں جو باتیں پیش کروں گا وہ بھی غالباً بہت سے لوگوں کو بری لگنے والی ہیں مگر سخت نصیحت آمیز اور افسوسناک بھی ہیں۔

    ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہر عہدہ، منصب کا اپنا تقدس ہوتا ہے۔ ایک ٹیچر یا پروفیسر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تعلیم دینے اور امتحانات وغیرہ میں نہایت ایمانداری اور غیر جانبداری سے فرائض انجام دے گا ۔ ایک منصف یا جج سے یہ توقع اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے پیارے رسول کے احکامات کی تعمیل میں بلا خوف و خطر ایمانداری اور غیر جانبداری سے عوام کو انصاف مہیا کرے گا۔ اسی طرح عوام پولیس افسران، اہلکاروں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے عہدے اور منصب کا تقدس کرکے عوام کو تمام جرائم سے تحفظ مہیا کریں گے اور کوئی ایسا غلط کام نہ کریں گے جس سے ان کے منصب کا تقدس مجروح ہو۔ اس سلسلے میںآ پ کو دو اہم واقعات بتانا چاہتا ہوں جن سے آپ کو منصب کے تقدس کی اہمیت کااندازہ ہو گا۔

    ۱۔مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے بارے میں تاریخ لاتعداد مختلف حکایات و واقعات اور حقائق سے پُر ہے۔ اس کالم سے متعلق ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اورنگزیب کے دربار میں ایک مشہور بھانڈ (بہروپیہ ) تھا جو بار بار نت نئے بہروپ میں اورنگزیب کے سامنے حاضر ہوتا اور اورنگزیب ہر مرتبہ اس کو فوراً پہچان لیتا تھا پھر ایک دن اس نے بھانڈ سے کہا کہ تو کسی بھی بہروپ میں آئے میں تجھے پہچان لوں گا ، بھانڈ نے کہا عالیجاہ! اگر میں آپ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو گیا تو کیا انعام ملے گا؟ اورنگزیب نے ایک سو اشرفیاں دینے کا وعدہ کیا ، دوسرے دن ہی بھانڈ دربار سے غائب ہو گیا اور شہر سے دور ایک عام شاہراہ کے سامنے ایک پہاڑ کی چوٹی پر جا بیٹھا اور ایک ولی اللہ کا روپ اختیار کر لیا ، آہستہ آہستہ لوگوں کی آمد شروع ہو گئی اور وہ اپنی تکالیف بیان کرنے لگے اور دعا کی درخواست کرنے لگے ، بھانڈ ان کے لئے دعائے خیر کرتا مگر کبھی کسی سے مالی فائدہ حاصل نہ کیا ، آہستہ آہستہ مخبروں نے اورنگزیب کو اطلاع دے دی کہ ایک بزرگ پہاڑی پر قیام پذیر ہے ، دعا کرتا ہے مگر کچھ لیتا نہیں، اورنگزیب ایک دن خود وہاں پہنچ گئے، بزرگ سے اپنے لئے اور مملکت کے لئے دعا کی درخواست کی اور جب بھانڈ دعا کر چکا تو اورنگزیب نے ایک ہزار اشرفیوں سے بھری تھیلی ان کی خدمت میں پیش کی اور سامنے رکھ دی ، بھانڈ نے اس تھیلی کو پیر سے دور کر دیا اور کہا کہ وہ دعا کرنے کی قیمت نہیں لیتا ، اورنگزیب کے اصرار کے باوجود اس نے کچھ قبول نہ کیا، اورنگزیب بہت متاثر ہو کر واپس آگیا ، چند دن بعد وہی بھانڈ دربار میں اُسی لباس میں حاضر ہوا اور اورنگزیب سے اپنا انعام طلب کیا، اورنگزیب کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں اور پھر پوچھا کہ یہ تو ایک سو اشرفیاں مانگ رہا ہے ، میں نے تو تجھ کو ایک ہزار اشرفیاں پیش کی تھیں تو تو نے لینے سے انکار کر دیا ،اس کی کیا وجہ ہے؟ بھانڈ نے جو جواب دیا وہ اہل اقتدار کی آنکھیں کھولنے اور شرم دلانے کے قابل ہے، اس نے کہا ”شہنشاہ عالم میں اس پہاڑی پر جس منصب پر بیٹھا تھا اس کے تقدس کے آگے ایک ہزار اشرفیاں تو کیا اگر آپ پوری سلطنت مغلیہ بھی پیش کرتے تو میں ٹھکرا دیتا ، اب اپنا جائز انعام مانگ رہا ہوں“۔

    ۲۔دوسرے اہم واقعے کا تعلق ظہیر الدین محمد بابر سے ہے ۔ جن لوگوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ان کو علم ہے کہ بابر کی زندگی نہایت ہی سخت مشکلات ، مہمات سے بھری پڑی ہے۔ بابر نے یہ واقعات اپنی سوانح حیات (تزک بابری) میں تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ بابر کے دربار میں ایران کے سفیر نے اسناد سفارت پیش کرنے تھے، بابر اس وقت خارش کے سخت حملے کا شکار تھا، اس نے تمام شاہی لباس زیب تن کئے اور رسم میں شرکت کرنے دربار میں تخت پر جا بیٹھا، یہ رسم چندگھنٹے جاری رہی اور بابر کا پورا بدن خارش سے نہایت ہی تکلیف میں تھااور بتلایا کہ نہ تو وہ دربار سے رسم کے خاتمے سے پہلے اٹھ کر جا سکتا تھا اور نہ ہی بدن کھجا سکتا تھا کیونکہ دونوں اعمال اس کے شاہی منصب کے تقدس کے خلاف تھے ۔

    آپ کو صرف ان دو واقعات سے اندازہ ہو گیا ہو گا کہ منصب کے تقدس کی کتنی اہمیت ہے اور خواہ وہ شاہ ہو یا بھانڈ اُس نے منصب کے تقدس کو پامال نہیں کیا ۔

    ان واقعات کی روشنی و پسِ منظر میں آپ ہمارے ملک کی تاریخ پر ذرا نظر ڈالیں تو سر شرمندگی سے جھک جاتا ہے۔ پچھلے واقعات تو چھوڑیں، ابھی ماضی قریب میں مشرف کے اقدامات ،فوج کے سربراہ اور صدر مملکت کی حیثیت سے ذلت آمیز اور شرمناک اعمال ہمارے تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ اور دردناک واقعات حال ہی میں عدلیہ میں این آر او(NRO)سے متعلق مقدمے میں بحث کے دوران سامنے آ رہے تھے۔ اس مقدمے میں نیب کی جانب سے (مجبوراً)تمام حقائق عدالت عالیہ کے سامنے آنے سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا اور ہم نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ذلیل و خوار ہو گئے ہیں، روز اخبارات میں خبریں پڑھ کر، ٹی وی اسٹیشنوں پر مقدمے کی تفصیلات سن کر یہی احساس ہوتا ہے کہ عدلیہ اعلیٰ کے عزت مآب ارکان بیک زبان بزورآواز یہ شعر پڑھ رہے ہیں۔

    رہزن کے بارے میں اور کیا کہیں کھل کر

    میر کارواں لوگو، میر کارواں لوگو

    حمایت علی شاعر سے معذرت کے ساتھ میں نے” کہوں “ کو” کہیں “کہہ دیا ہے اور ”یارو“ کو” لوگو“ کہ دیا ہے ۔

    ٹی وی اسٹیشنوں پر چند لوگوں کو بے شرمی سے غلط لوگوں کا دفاع کرتے دیکھا ہے، جونہی کسی چوری، رشوت ستانی کی بات کرو تو ان کے بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ چارخواتین پیش پیش ہیں۔ اینکر پرسن کوئی بھی دکھتا ہوا سوال کرے تو پھر ان کی چیخ و پکار دیکھیں گویا

    کیا جانے رہنما کو بری کس لئے لگی

    راہبر تو کر رہے تھے کسی راہزن کی بات

    ۳۔ایک اور واقعہ اس سلسلے میں بوسنیا کے مرحوم صدر ڈاکٹر عزت بیگووچ کا سناتا ہوں(انہوں نے مجھے بوسنیا آنے کی سرکاری دعوت بھی دی تھی مگر میں جا نہ سکا تھا)۔جنیوا میں بوسنیا کے مستقبل کے بارے میں وقتاً فوقتاً امریکی اور یورپی نمائندوں کی میٹنگ ہوا کرتی تھی۔ ایک ایسی ہی میٹنگ میں عزت بیگووچ کو شرکت کرنا تھی وہ اپنے دفتر سے ائیرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے مگر راستے میں ڈرائیور کو ہدایت کی کہ سراجیوو شہر کا دورہ کریں ، پہاڑوں پر سے سرب شرپسند گولیاں بر سا رہے تھے لیکن یہ بالکل بھی نہیں ڈرے جب ساتھ میں بیٹھے وزیر خارجہ نے پوچھا کہ آپ یہ خطرہ کیوں لے رہے ہیں تو صدر نے کہا کہ میں میٹنگ میں جانے سے پیشتر خود یہ محسوس کرنا چاہتا ہوں کہ میرے عوام کن حالات کا شکار ہیں اور ان پر کیا گزر رہی ہے تاکہ میں میٹنگ میں اپنے اور ان کے احساس، احوال کی صحیح عکاسی کر سکوں۔

    ادھر ہمارے ہاں ماشاء اللہ صدر اور وزیراعظم تو کہاں کل تک سڑکوں پر مارے مارے پھرنے والے وزراء بلٹ پروف کروڑوں روپیہ مالیت کی کار اور دس بارہ کاروں کے حفاظتی دائرے میں گھر سے نکلتے ہیں اور قلعوں میں بیٹھ کر عوامی لیڈر بن کر عوام کو خطاب کرتے ہیں اور نظام بدلنے کی بات کرتے ہیں۔

    ۴۔این آر او کے مقدمے کی سماعت کے دوران جو گندے کپڑے رسی پر لٹکائے گئے ہیں اور جو بات سامنے آئی ہے اس سے یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ چور اور رشوت خور کیونکہ تجربہ کار ہوتا ہے وہ فارسی ضرب المثل ”جہاں دیدہ بسیار گوید دروغ“ یعنی ”تجربہ کار آدمی دوسروں کو بیوقوف بنانے کیلئے بہت جھوٹ بولا کرتے ہیں“کی عکاسی کرتا ہے۔یہی نہیں بلکہ حکمران اپنے منصب کے تقدس کو پامال کر کے رشوت ستانی اور روپیہ سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں اور غلط فہمی میں فارسی کی اس ضرب المثل کو صحیح سمجھنے لگ جاتے ہیں اور جو نتیجہ نکلتا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔

    اے ذر تو خدانہء و لیکن بخدا

    ستار العیوبی و قاضی الحاجاتی

    یعنی ”اے ذر تو خدا تو نہیں ہے لیکن خدا کی قسم تو عیبوں کو چھپانے والا اور ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے“۔

     

              

          

    $ محسنانِ پاکستان۔۔۔1/13/2010

     

    کچھ عرصہ پیشتر میں نے اپنے ایک کالم میں شیر شاہ ، لیاری اور وہاں کے مکینوں کے بارے میں اپنے پچاس سال پیشتر کے تجربات، تاثرات بیان کئے تھے۔ میں نے وہاں مقیم مکرانیوں کی خوش مزاجی ، اعلیٰ خصلت، اخلاق، رحمدلی کے بارے میں کچھ تفصیلات بیان کی تھیں۔ آج ایک اور طبقہ کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اس طبقہ کے لوگوں نے کمزور اور ناتواں ، نومولود پاکستان کو اپنے خون سے سینچا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگ اپنے محسنوں کو بھول جاتے ہیں اور ہماری قوم تو اس فن میں ماہر ہے۔

    میرا مختصر قیام شیر شاہ ، لیاری اس وجہ سے تھا کہ وہاں ہمارے بھوپال کے قریبی جاننے والے ایس ڈی او جلال الدین رہتے تھے ، جب بڑے بھائی پاکستان آئے تو وہیں کرایہ پر مکان لے لیا ، شام کو سب بھوپالیوں کی محفل جمتی تھی اور بہت اچھا وقت گزرتا تھا۔ میری آمد کے چند ماہ بعد والدہ اور چھوٹی بہن آنے والی تھیں اور خواتین کے لئے یہ علاقہ مناسب نہ تھا اور دوم یہ کہ چونکہ بہن نے ابھی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کرنا تھی وہاں سے آنا جانا بہت مشکل تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر بڑے بھائی نے فوراً جوبلی سینما کے پاس ، پولیس اسپتال کے سامنے ایک صاف ستھری بلڈنگ میں اچھا فلیٹ لے لیا اور ہم وہاں منتقل ہو گئے۔ میرے لئے وہاں سے ڈی جی سائنس کالج جانا بہت آسان تھا اور میں بآسانی پیدل چلا جایا کرتا تھا۔ بہن نے بہادر یار جنگ گرلز اسکول میں داخلہ لیا اور وہ ناظم آباد میں بڑی بہن کے پاس رہنے لگیں۔ اسی دوران میری دوستی میرے کلاس فیلو بدرالاسلام سے ہوئی اور آج تک قائم ہے۔ وہ چارٹرڈ میرین انجینئر بن گئے اور میں نیوکلیئر انجینئر بن گیا۔ کہوٹہ میں کام شروع ہوا تو میں نے ان کو کویت سے بلا لیا جہاں وہ اعلیٰ عہدے اور بڑی تنخواہ پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہوٹہ میں اعلیٰ خدمات سرانجام دیں اور اب وہ کراچی میں پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ کالج کی تعلیم ختم کر کے میں اور بڑے بھائی بھی ناظم آباد منتقل ہو گئے اور جرمنی جانے تک میرا قیام وہیں رہا۔

    میں اس کالم میں آپ کو جوبلی سینما اور رنچھوڑ لائن کے قیام کے دوران چند واقعات بتانا چاہتا ہوں اور وہاں جو میمن برادری تھی اس کی پاکستان کے لئے کی گئی خدمات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں مگر اس سے پیشتر چنددوسرے لوگوں پر مختصر تبصرہ کروں تو بہتر ہے۔

    اب پاکستان کے قیام کو62سال ہو گئے ہیں اور ہماری نوجوان نسل کی اکثریت قیام پاکستان اور ان لوگوں کی قربانیوں سے زیادہ واقف نہیں ہے جنہوں نے پاکستان بنایا تھا۔ بنگال سے لے کر صوبہ سرحد تک اور کشمیر سے لے کر جنوب میں مالا بار تک لاتعداد محسنان پاکستان نے بے انتہا قربانیاں دیں اور ہمارے لئے یہ ملک حاصل کیا۔ مولانا حسرت موہانی، نواب اسمٰعیل خان، سر عبدالرحمن ، جناب سہروردی، فضل حق صاحب، سر آغا خان، راجہ صاحب محمودآباد، نواب لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، قاضی عیسیٰ ، سر عبداللہ ہارون، پیر مانکی شریف، ڈاکٹر عبدالرحیم بنگش ، نواب بھوپال وغیرہ وغیرہ اور سالار کارواں قائداعظم محمد علی جناح کے ناموں سے سب ہی واقف ہیں۔

    لیکن قیام پاکستان کے بعد جن لوگوں نے اس پودے کو اپنے خون سے سینچا ان سے عوام زیادہ واقف نہیں ہیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد ہندو قوم کو یقین تھا کہ یہ ملک چند ماہ میں مالی ، معاشی مشکلات کا شکار ہو کر ختم ہو جائے گا مگر تقسیم کے بعد ہندوستان سے ، خاص طور پر یوپی ، حیدرآباد وغیرہ سے لاتعداد تعلیم یافتہ لوگ ہجرت کر کے کراچی آ گئے ، ان لوگوں نے ایک جہادی جذبہ کے تحت ملک کی تعمیر کی، اپنے پیسوں سے کاغذ اور پینسل لے کر دفتر جاتے تھے اور ببول (کیکر) کے کانٹوں سے پنوں کا کام لیتے تھے۔پاکستان بننے کے بعد سید مراتب علی شاہ صاحب کی خدمات کون فراموش کرسکتا ہے ،اسی طرح ملک کی تعمیر میں پارسیوں ، اسمٰعیلیوں، بوہریوں اور عیسائیوں نے بھی انتہائی اہم رول ادا کیا۔ ان لوگوں کا رول زیادہ تر انتظامیہ کو اچھی طرح چلانا، فلاحی اداروں کا قیام اور عوام کی خدمت کرنا تھا۔ بوہریوں نے معاشی سطح پر بہت مدد کی اور ان میں نمایاں و لیکا خاندان تھا جس نے کئی صنعتی ادارے قائم کرکے ملک کو معاشی طور پر مضبو ط کیا۔ میں اس وقت آپ کو اُن محسنانِ پاکستان کے علاوہ اُن محسنانِ پاکستان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کو میمن کہتے ہیں۔ جوبلی سینما اور رنچھوڑ لائن کے قیام کے دوران میرا رابطہ ان لوگوں سے پڑا۔ شام کو یہ لوگ (اوسط طبقہ) چائے اور پان کی دکانوں پر جمع ہوتے تھے ، بے حد ہنس مکھ اور محنتی تھے۔ میں نے دیکھا کہ یہ لوگ بغیر ٹائی کے سوٹ پہنتے تھے، جوتوں کے بجائے چپلیں پہنتے تھے اور بے حد پان کھاتے تھے۔ انہوں نے (صنعت کاروں ) قیام پاکستان کے فوراً بعد دل و جان سے ملک کی خدمت کی اور مالدار لوگوں نے حکومت پاکستان کو کثیر رقم دی جس سے لوگوں کی تنخواہیں دی گئیں اور ملک میں صنعتوں کی بنیاد ڈال کر ملک کو مضبوط بنیاد مہیا کردی۔

    ڈی جے سائنس کالج سے بی ایس سی کرنے کے بعد میں نے سرکاری ملازمت بطور انسپکٹر اوزان و پیمانہ جات شروع کی۔ اپنے فرائض کی ادائیگی میں مجھے انڈسٹریل ایریا بھی ملا اور میں باقاعدگی سے ملوں اور فیکٹریوں کا دورہ کرتا تھا ۔ اس دوران مجھے یہ علم ہوا کہ اس میمن برادری نے پاکستان کی تعمیر میں کس قدر اہم کردار ادا کیا تھا۔ آہستہ آہستہ میرے تعلقات سرکاری سطح سے ہٹ کر ذاتی دوستی اور قدر دانی میں تبدیل ہو گئے، حاجی عبدالرزاق، حسین داؤد، غلام محمد فیکٹو، یعقوب تابانی، باوانی فیملی، قاسم پار کھ بھائی، اور دوسرے لاتعداد میمن بھائیوں سے دوستی ہو گئی اور آج بھی مجھے اس دوستی پر فخر ہے اور اسے قیمتی سرمایہ سمجھتا ہوں۔ یورپ سے جب واپس آیا اور کہوٹہ کا سربراہ بنا تو پھر دوستی کا دائرہ کار اور بڑھ گیا اور باہمی محبت میں اضافہ ہو گیا۔ اب تو میں میمنی کھانوں کا بھی شوقین ہو گیا اور بھائی یعقوب تابانی حاجی رزاق صاحب اور مرحوم غلام محمد آدمجی فیکٹو کی دعوت سے بھی انکار نہ کر سکا۔ ان کے کھانوں میں مرچیں تو کچھ زیادہ ہوتی ہیں مگر بہت ہی لذیذ ہوتے ہیں۔ ان محسنان پاکستان سے واقفیت اور دوستی کے بعد میں نے ان کی تاریخ کا مطالعہ کیا تو یہ حقائق سامنے آئے ۔ قبل اس سے کہ میں کچھ اور بیان کروں سب سے پہلے قائداعظم کے میمن برادری کے بارے میں تاثرات بیان کر دوں۔ قائداعظم نے فرمایا ”میمن برادری جیسی صف اول کی اور حوصلہ مند تاجر برادری بیدار ہو کر سیاست میں حصہ لینے لگی ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے اور یہی دنیا میں کامیابی اور کامرانی حاصل کرنے کی راہ ہے۔ میری دعا ہے کہ آپ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں۔ “(البرٹ ہال کلکتہ 31-12-1937 )

    میمن برادری کے مسلمان ہونے کے بارے میں کچھ مختلف آراء ہیں ۔ ایک جگہ کہا گیا کہ تقریباً پندرہ سو صدی عیسوی میں نگر ٹھٹھہ میں حضرت پیر یوسف الدین کے ہاتھوں لوہانہ برادری کے سات سو خاندان مسلمان ہو گئے تھے اور یہ مومن کہلاتے ہیں۔ سندھ کے مشہور ادیب میمن عبدالمجید سندھی نے لکھا ہے کہ میمن برادری حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں تقریباً سولہ سو اسّی صدی عیسوی میں منصورہ میں مسلمان ہوئی تھی۔ رچرڈ برٹن نے لکھا ہے کہ میمن برادری ریاست کچھ میں مسلمان ہوئے تھے۔

    مشہور سندھی تاریخ نویس سراج الحق نے لکھا ہے کہ لوہانہ برادری پہلے بدھ مذہب کی پیروکار تھی، تعلیم یافتہ تھی اور سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کی تجارت کرتے تھے۔ان کے مطابق یہ لوگ محمد بن قاسم کے زمانے میں مسلمان ہوئے، اس بارے میں انہوں نے مزید فرمایا کہ سنسکرت زبان میں لفظ ”مے“کا مطلب تجارت اور ”من“ کا مطلب ہیرے جواہرات ہیں۔چونکہ یہ لوگ ہیرے جواہرات کی تجارت کرتے تھے اس لئے میمن کہلائے۔

    بعض مورخین کے مطابق محمد بن قاسم کے لشکر میں جو نبو تیم قبیلہ کے لوگ شامل تھے وہ فوج کے دائیں حصہ میں میمنا سے تعلق رکھتے تھے اور یہ ٹھٹھہ میں بس گئے ، یہ کپڑے بننے کا کام کرنے لگے تھے اور انہیں بھی میمن کہاجاتا تھا۔

    میمن برادری کے لوگ ہندوستان میں زیادہ تر سندھ ، گجرات اور کاٹھیاواڑ میں قیام پذیر تھے۔ جو میمن سندھ میں بس گئے وہ سندھی میمن کہلائے اور جو گجرات میں بس گئے وہ گجراتی یا تھرادی میمن کہلائے، جو کاٹھیا واڑ میں بس گئے وہ کاٹھیاواڑی میمن کہلائے اور کینیا میں رہائش پذیر میمن برادری نصرپوریا میمن کہائے۔

    اگر آپ کا رابطہ میمن بھائیوں سے رہا ہے تو آپ کو علم ہو گا کہ یہ نہایت نرم گو ، صلح پسند، محبت کرنے والے اور نہایت محب وطن لوگ ہیں۔ میمن برادری کی ملکی اور عوام کی خدمات بیان کرنے کے لئے اور تفصیلات بیان کرنے کے لئے ایک موٹی کتاب کی ضرورت پڑے گی۔ صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک پاکستان کی اقتصادی ، تعلیمی، فلاحی کاموں میں جو نمایاں کارنامے سر انجام دیئے ہیں وہ نہ صرف ان کے لئے بلکہ پاکستان کے لئے نہایت باعث فخر ہے۔ لفظ میمن سن کر لوگ صرف تجارت، کاروبار کا سوچتے ہیں حالانکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ان کی خدمات قابل فخر ہیں۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد میمن برادری نے مشرقی پاکستان میں نہایت اہم صنعتی یونٹ قائم کئے۔ ان میں باواجوٹ ملز، آدم جی جوٹ ملز، چائے کے باغات جوٹ برآمد کرنے والی کمپنیاں، کرنافلی پیپر ملز، داؤدراین اور کیمیکل ملز قابل ذکر ہیں۔سقوط ڈھاکہ سے میمن برادری کو اربوں روپیہ کا نقصان ہوا مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بچے کھچے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں منہمک ہو گئے۔ پورے مغربی پاکستان میں صنعتوں کا جال پھیلا دیا اور کپڑے، آرٹ سلک، اون، کاغذ، ہوائی جہاز، پانی کے جہاز، سگریٹ، ریڈی میڈ گارمنٹس، ٹاول، اخبار، تعمیرات وغیرہ جیسی صنعتوں کے قیام میں نہایت نمایاں کردار ادا کیا۔ کچھ صنعتوں کا تذکرہ کروں گا مثلاً آدم جی گروپ، پاکولا گروپ، داؤد گروپ، فیکٹو گروپ، النور گروپ، دادا گروپ، حسین گروپ، دادا بھائی گروپ، عبداللہ گروپ، جعفر گروپ، باوانی گروپ، مچھیارا گروپ، تابانی گروپ قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ بھی لاتعداد چھوٹے اور درمیانے درجے کے گروپ بھی کارفرما ہیں۔ میمن برادری کے فلاحی کاموں میں مساجد، اسکول،کالج اور اسپتال وغیرہ کی فہرست بہت طویل ہے۔

    میمن برادری کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے علاوہ تقریباً پندرہ لاکھ میمن غیر ممالک یعنی دینا کے تمام خاص ممالک میں قیام پذیر ہیں۔ پاکستان میں تقریباً چھ لاکھ، ہندوستان میں سات لاکھ اور اس کے علاوہ امریکہ میں تقریباً تیرہ ہزار اور برطانیہ میں پچیس ہزار میمن رہائش پذیر ہیں۔ میمن برادری کے متعلق بہت سی معلومات میرے عزیز دوست مرچنٹ نیوی کے کیپٹن کمال محمودی نے بہم پہنچائی ہیں، میں ان کا شکر گزار ہوں۔

    ماضی قریب اور جدید دور کے چند مشہور میمن رہنماؤں میں حاجی سر عبداللہ ہارون، حاجی عبدالستار سیٹھ، آدم جی حاجی داؤد، حاجی عبدالغنی بیگ محمد باوانی، عثمان عیسیٰ بھائی وکیل، حاجی دادا ولی محمد مودی، احمد ای ایچ جعفر، یوسف ہارون، محمود ہارون، اشرف ولی محمد تابانی، زین نورانی،عبدالستارایدھی،الحاج ذکریا کامدار، حاجی حنیف طیب، ڈاکٹر فاروق ستار، نثار میمن، قاسم پاریکھ، عبداللہ جے میمن، غلام علی میمن، احمد داؤد، حسین داؤد، عبدالقادر لاکھانی ، عقیل کریم ڈیڈی، رزاق بلوانی،عزیز تبّا،عبدالرزاق تھلپا والا،حسین لاوائی،امین غازیانی، جسٹس عبدالحفیظ میمن، جسٹس رحیم بخش میمن، جسٹس محمد بچل میمن، جسٹس رحیم بخش منشی، غلام محمد آدم جی فیکٹو، احمد ابراہیم ولی محمد باوانی، حاجی الیاس میمن، حسین ابراہیم، لطیف ابراہیم جمال، محمد ابراہیم تابانی، یعقوب تابانی، عثمان سلمان، حاجی عبدالرزاق، امین لاکھانی وغیرہ وغیرہ مشہور ہیں ۔آپ کو شاید معلوم ہو گا کہ اردو شاعری کے باوا آدم ولی دکنی جو گجرات میں تین سو سال پہلے پیدا ہوئے تھے اور جن کا نام شاہ محمد ولی اللہ تھا میمن برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے یہ مشہور شعر کہا تھا:

    مفلسی سب بہار کھوتی ہے

    مرد کا اعتبار کھوتی ہے

    جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں مجھے جناب عزیز اے منشی،غلام محمد فیکٹو، حسین داؤد، یعقوب تابانی، حاجی حنیف طیب، حسین لاوائی، حاجی عبدالرزاق، حاجی اقبال، حاجی جان محمد کی دوستی پر فخر ہے۔ حاجی رزاق کو دبئی کا گولڈن بوائے کا خطاب ملا ہے۔ شاید آپ کو علم نہ ہو ایک مرتبہ جب پاکستان سخت مالی مشکلات کا شکار تھا تو حاجی رزاق نے حکومت کو ایک سو پچاسی ملین ڈالر قرض دیا تھا۔ میں نے شروع میں ان برادریوں کا تذکرہ کر دیا ہے جنہوں نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔ میمن برادری کے پاکستان پر بہت احسانات ہیں ۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد نقد رقوم دے کر اور بعد میں لاتعداد صنعتی ادارے قائم کر کے انہوں نے ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد ڈال دی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کوضرور اس کا اجر عظیم دے گا۔

     

              

          

    $ انصاف و قانون کی حکمرانی   1/20/2010

    ہندوستان و پاکستان میں آزادی کے بعد جو قتل و غارت گری ہوئی تو لوگ پریشان ہو کر آزادی کو کوسنے لگے اور انگریزی غلامی کو یاد کرنے لگے۔ شاعر جو عوام کا ترجمان ہوتا ہے اور عوامی احساسات و خیالات کو بیان کرتا ہے وہ بھی متاثر ہوا اور مشاعرہ میں جب ایک شاعر نے یہ شعر پڑھا :

    قتل و خوں ریزی ہے ہر جا ہر جگہ فتنہ فساد

    لعنت آزادی پر ایسی اے غلامی زندہ باد

    ایک طبقہ شاعر کے خلاف ہو گیا کہ غلامی کو آزادی پر فوقیت دیتا ہے۔ بہرحال شعر تو شعر ہے کوئی پسند کرے یا نا پسند۔ اسی طرح حکومت وقت کا اہم ترین فریضہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا، لوگوں کے جان و مال کا تحفظ، بلا امتیاز انصاف کی فراہمی، ضروریات زندگی کاآسانی سے پورے کرنے کے اقدامات پر مبنی ہوتا ہے۔ محمود غزنوی بہت بڑا فاتح بادشاہ تھا اس کی سلطنت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے ہی علاقہ میں کچھ ڈاکوؤں نے ایک قافلہ لوٹا ، کچھ مسافر مارے بھی گئے ، ایک نوجوان بھی مارا گیا اور اس کی بوڑھی ماں فریاد کرتی ہوئی محمود غزنوی کے دربار پہنچی ۔ بادشاہ نے عذر کیا کہ وہ علاقہ یہاں سے بہت دور ہے۔ اس عذر لنگ پر بوڑھی مظلوم عورت غضبناک ہو کر بولی”قبضہ ہی تو نے دور کے ملکوں پہ کیوں کیا ۔ جب کہ ہے تیرے دور کے ملکوں میں ابتری “۔ بادشاہ لاجواب ہو گیا اور فوراً اس نے فوج روانہ کر دی بوڑھی عورت سے معذرت کی اور کہا”اس پیر زن کی جھولی جواہر سے پُر کرو، غزنی کے بادشاہ پہ ہے اس کو برتری“یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جسے حامد اللہ افسر میرٹھی نے نظم کیا تھا۔ پرانے بہادر لوگ اپنی غلطی ماننے اور صحیح مشورہ قبول کرنے میں ذرا بھی شرم نہیں کرتے تھے یہی ان کی بڑائی تھی۔ قدیمی دور جسے آج کے لوگ غیر جمہوری و آمرانہ کہتے ہیں، اُس دور میں فریادی کی رسائی حاکم تک آسانی سے ہو جاتی تھی اور حاکم ہردکھی کی شکایت سن کر فوراً حقیقی انصاف فراہم کرتا تھا،کسی خاص آدمی کو بچانے کی ہٹ دھرمی کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔

    حضرت عمر بن خطاب نے اپنے بیٹے کو کوڑوں کی سز ا دی کیونکہ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے شراب نوشی کی تھی۔ حجاج بن یوسف رشوت خوروں کو کوڑوں کی سزا دیتا تھا ، شیر شاہ سوری جیسے پٹھان بادشاہ کے انصاف کا یہ عالم تھا کہ اپنے بیٹے کو غریب عورت کے گھر کے باہر ہاتھی پر بیٹھے بیٹھے دیکھنے اور چھیڑنے کی سزا میں حکم دیا کہ اس کی بیوی فریادی کے چھوٹے گھر میں جائے اور اس عورت کا شوہر ہاتھی پر بیٹھ کر اسے دیکھے اور چھیڑے ، غریب آدمی انصاف کا قائل ہو گیا اور اس نے معاف کر دیا۔

    شہنشاہ جہانگیر جو شرابی اور عیش پرست مشہور تھا اس نے اپنے محل میں گھنٹی نصب کروائی تھی جسے کوئی بھی فریادی کسی بھی وقت بجا کر بادشاہ کو اپنی فریاد سنا سکتا تھا ، اس پر کارروائی یقینی ہوتی تھی، آج بھی عدل جہانگیری ضرب المثل ہے لیکن آج کل گھنٹی تو کیا فریادی خودکشی کر لیتا ہے اور پھر بھی حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔

    مرزا غالب جو جوئے کے جرم میں انگریزی عدالت میں پیش ہوئے تو منصف مفتی صدرالدین آرزدہ نے انہیں معاف نہیں کیا جرمانہ کی سزا دی اور وہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کر کے مرزا غالب کو رہا کر دیا ، اس طرح قانون اور ہمدردی دونوں کی تکمیل ہو گئی۔

    ہندوستان میں حضرت عیسیٰ کی ولادت سے کئی سو سال پہلے ایک منصف بادشاہ جسے اردو میں بکر ماجیت اور ہندی میں وکر مادتیہ کہا جاتا ہے حکمرانی کرتا تھا۔ اجین اس کا دارالحکومت تھا سب سے پہلے نورتن اسی کے درباری تھے اور جو اپنے اپنے فن کے ماہر تھے۔ کالید اس جیسا بین الاقوامی شہرت کا مالک شاعر و ڈرامہ نویس بھی اس کا درباری تھاجس کی تصانیف شکنتلا اور میگھ دوت بہت مشہور ہیں۔ وکریاتیہ راجا انصاف کے لئے بہت مشہور تھا ، اللہ کی طرف سے اسے نعمت عطا ہوئی تھی کہ بے جان پتھر اور درخت بھی اس کے سامنے گواہی دیتے تھے، کچھ علماء تو اسے اپنے وقت کا پیغمبر قرار دیتے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔ مغلیہ دور میں دلاوری ، خوش حالی اور انصاف کا جب تک بول بالا رہا وہ قائم رہی ، اورنگزیب کی وفات کے بعد حکومت کمزور ہوتی گئی ، صوبے خود مختار ہوتے گئے، نئے نئے راجہ نواب بنتے رہے مختلف حکومتیں قائم ہوتی گئیں اور انگریزوں کے تسلط جمانے کی راہیں ہموار کرتی گئیں۔ ان چھوٹی ریاستوں میں جہاں وسائل و یکجہتی کی کمی تھی وہیں انصاف اور اچھے نظام کا بھی فقدان تھا۔ راجا اور وزیر عیش کرتے تھے۔ اس درمیان انگریزوں نے اپنی طاقت کو بڑھانا شروع کردیا۔ ظاہر ہے ہندوستان سے لڑنے کے لئے وہ اتنے انگریز تو نہیں لا سکتے تھے، یہیں کے لوگوں کو فوج میں بھرتی کیا اور باقاعدگی سے تنخواہ ادا کی جس کی وجہ سے لوگ جوق در جوق انگریزی فوج میں بھرتی ہو گئے اور یہیں کی بنائی ہوئی فوج کی طاقت سے انگریزوں نے راجاؤں اور نوابوں کو شکست دے کر اپنی سلطنت کو وسعت بخشی۔ ادھر مغلیہ سلطنت کمزوری اور سازشوں کے نتیجہ میں سمٹ کر لال قلعہ تک محدود ہو گئی اور بہادر شاہ ظفر کو کہنا پڑا:

    اے ظفر مجھ تک فقط یہ انتظام سلطنت

    بعد میرے بادشاہی اور نہ نامِ سلطنت

    انگریزی حکومت کے قائم ہونے میں جہاں ان کی فہم و فراست کو دخل ہے وہیں ہندوستانی حکمرانوں کی نااہلی ، ناسمجھی، آپس کی دشمنی اور عوام کی بے اطمینانی، امیروں کے ظلم ، زیادتی بھی ان کے لئے راہ ہموار کر گئی۔ غدر 1857ء نے ہندوستانی حکومتوں کے تابوت میںآ خری کیل ٹھونک دی اور اس طرح انگریزوں نے ہزاروں میل دور کے ایک بڑے ملک پر صدیوں حکومت کی۔ غدر 1857ء میں انگریزوں کی فتح ہندوستانی حکمرانوں کا انتشار تھا وہ علیحدہ علیحدہ انگریزوں سے لڑتے گئے اور مارے گئے، یکجہتی اور اتحاد نام کو نہیں تھا۔ انگریزی فوج میں تنظیم اور اسلحہ کے ساتھ دانش مندانہ اقدام تھے جس کے نتیجہ میں انہیں فتح حاصل ہوئی لیکن انہوں نے اپنی پچھلی غلطیوں سے آئندہ محفوظ رہنے کا طریقہ بھی سوچا اور اس پر عمل بھی کیا۔

    انگریزوں نے ہندوستان پر اپنی حکومت عرصہ تک قائم رکھنے کا جامع منصوبہ بنا رکھا تھا۔ بڑے بڑے نواب راجا جو ان کے مد مقابل آسکتے تھے انہیں ختم کر کے چند مطیع و فرمانبر داروں کو اس لئے رہنے دیا کہ وقت ضرورت ان کے ذریعے اپنے کام انجام دیتے رہیں اور ان سے فوائد حاصل ہوتے رہیں جیسا انہیں دونوں جنگوں میں حاصل ہوئے، کسی ملک پر حکومت کرنے کے لئے لوگوں کے رسم و رواج اور ان کی زبان سے واقفیت ضروری ہوتی ہے انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج کلکتہ قائم کر کے انگریزوں کے لئے اردو زبان سیکھنے کی پابندی لگائی جہاں سے تعلیم یافتہ انگریز اردو میں شاعری بھی کرتے رہے۔

    ہندوستانی رسم و رواج اور مذہبی قوانین کو نہ چھیڑ کر انہوں نے مخالفتوں اور سازشوں کو پنپنے ہی نہیں دیا۔ شادی بیاہ، جائیداد کی تقسیم وراثت کے لئے ہندوؤں کا ہندو لاء اور مسلمانوں کے لئے مسلم لاء بلا کسی تبدیلی کے رہنے دیا۔ مولوی اور پنڈت ملازم رکھے گئے، انگریزوں نے انگریزی زبان سیکھنے کی ہندوستانی لوگوں پر پابندی نہیں لگائی ، جس نے انگریزی زبان سیکھ لی اسے بڑے عہدے دیئے ، لوگوں نے عہدے اور عزت حاصل کرنے کے لئے انگریزی سیکھنا شروع کر دی۔ سول پروسیجر کوڈ، انڈین پینل کوڈ اور دیگر انگریزی قوانین کے اردو مترجموں کو خطابوں سے نوازا جیسے شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد وغیرہ ۔ نہ کسی شہر کا نام بدلا نہ مذہب میں مداخلت کی، مقامی لوگوں کے تہواروں پر چھٹیاں دیں ، اس طرح عوام کے دل جیت لئے۔ وفادار ہندو مسلمانوں کو الگ الگ خطابات دیئے، جیسے رائے بہادر، خان بہادر وغیرہ یا سر کے خطاب کو اگلی اہم شخصیتوں کو دیا جاتا تھا۔ پولیس کے محکمہ میں سپاہی، تھانیدار، ایس پی، ڈی آئی جی تک ہندوستانی تھے۔ آئی جی انگریز ہوتا تھا ، ریونیو میں پٹواری ، تحصیل دار ، ڈپٹی ریونیو افسر ہندوستانی، کمشنر انگریز ہوتا تھا۔

    فوج میں سپاہی ، حوالدار ، لیفٹیننٹ اور کرنل تک ہندوستانی تھے، جنرل انگریز رکھا جاتا تھا ، تنخواہ، تعیناتی اور ترقی کا طریقہ ایک ہی تھا، کوئی بے ایمانی یا حق تلفی نہیں ہوتی تھی نہ ہی کسی افسر کی ملازمت میں توسیع کی جاتی تھی ۔ تعمیری کاموں میں کوئی ملاوٹ یا رشوت داخل نہیں تھی ،اس دور کے بنائے ہوئے پُل اور عمارتیں آج بھی موجود ہیں۔ اس خوش انتظامی نے انگریزی حکومت کو قائم رکھنے میں بہت مدد کی۔ لوگوں میں قانون کا احترام اور سزا کا خوف جرم کو روکنے میں کافی مددگار تھا۔ حکمران اور عوام دونوں پر رول آف لاء یکساں طور پر لاگو تھا۔ آزادی کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں سیاسی قوتیں ابھر کر آگئیں ، ابتدائی دور میں سیاسی حکمران بھی ایمانداری سے کام کرتے تھے اور ملکی مفاد انہیں پیش نظر تھا مگر بعد میں حالات بدل گئے اور حکمران راشی اور جانبدار ہو گئے گویا:

    دور آزادی کا کیا حال کہوں اے شعری#

    اب جو درپیش ہے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

    ہندوستان کا رقبہ پاکستان سے کم ہو گیا تھا دو سال کے اندر ہی تمام ریاستوں کو جن کی تعداد 553تھی سردار پٹیل نے انہیں حکومت ہند میں ضم کر کے علاقہ وسائل میں اضافہ کر لیا اور ریاستوں کے انضمام کے بعد زمینداری ، جاگیر داری کو قانون کے ذریعے ختم کر دیا اور اس طرح بڑے تخریب کار لوگوں سے حکومت اور عوام کو نجات دلائی۔ پاکستان میں یہ کام نہیں ہو سکا ،پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور حکومت میں اتنا اچھا انتظام تھا کہ کمیونسٹ اخبار بلٹنر کے ایڈیٹر کرنجیا نے پاکستان کا دورہ کر کے یہ لکھا تھا کہ بمبئی جیسے اچھے صوبہ کے چیف منسٹر مرار جی ڈیسائی کو پاکستان کا دورہ کر کے دیکھنا چاہئے کہ انتظام حکومت کیساہوتا ہے۔ ہمارے ملک کی خوش انتظامی کے غیر بھی قائل تھے مگریہ حسن و خوبی چند روزہ تھا ، پھر خرابیاں ، آمریت اور لاقانونیت کا جو دور شروع ہوا تو دن بدن بڑھتا ہی گیا ، فوجی حکمران ، سیاسی لیڈر اور افسروں کی قطاریں مال غنیمت اکٹھا کرنے میں لگ گئیں۔ عدالتیں بھی حکومت کے تابع ہو کر حاکموں کے اشاروں پر چلنے لگیں ، لوگوں نے لوٹ کا مال بیرونی ممالک لے جانا شروع کر دیا۔ باہر کے ملکوں میں سرمایہ جمع ہونے لگا جائیدادیں خریدی جانے لگیں۔ کوئی مقدمہ شروع ہی نہیں ہوا ، ہوا بھی تو کسی نہ کسی طریقہ سے اسے بے حد طویل کر دیا گیا یا ختم کر دیا گیا اور بے ایمان عیش کرتے رہے۔ افسوس کا یہ مقام ہے کہ بار بار فوجی حکمران آئے مگر حالات بہتر ہونے کے بجائے بد سے بد تر ہوتے گئے حالانکہ کسی بھی ملک کے پاس فوجی حکومت ایک آخری ٹرمپ کارڈ ہوتا ہے اور حالات کی بہتری کی توقع ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک نے باربار اس موقع کو کھو دیا اور فوجی حکمران بھی سیاستدان بن گئے۔ اختیارات وسیع ہونے کی وجہ سے یہ فوجی حکمران زیادہ خطرناک ثابت ہوئے اور اپنی حکومت کو قائم رکھنے کے لئے بیرونی طاقتوں کے اشاروں پرکام کرتے رہے تاکہ کوئی انہیں ہٹانے کی جرأت نہ کر سکے۔ عوامی اعانت حاصل نہ ہونے کے سبب وہ بیرونی طاقتوں کی اعانت کے طلبگار ہوئے تاکہ ان کے دور حکومت کو استحکام حاصل ہو جائے اور اس کے بدلے میں انہوں نے ملک کو غیروں کے اشاروں پر چلنے والی کالونی بنا دیا۔ اپنے علاقوں میں غیر ملکی فوجوں سے بمباری کروائی، اپنے شہریوں کو دوسرے ممالک کو فروخت کیا، غیر ملکی امداد کو اپنی پسند کے مطابق استعمال کیا۔ اس طرح فوجی حکومت بھی جمہوری دور کے کرپشن کو دور نہ کرسکی بلکہ اس حمام میں وہ بھی ننگے ہو کر نہانے لگے ، اس طرح ہمارے ملک پر پے در پے کرپٹ عناصر کے حملے ہوتے رہے اور ملک معاشی اور سیاسی اعتبار سے کمزور ہوتا گیا۔ دوسرے ملکوں کی امداد اور قرضوں کا طالب بن گیا لیکن اس مقروض ملک کے حکمرانوں نے اپنی شاہانہ فضول خرچی میں کسی کفایت شعاری کا مظاہرہ نہیں کیا ، حالانکہ اگر آج بھی ہمارے وسائل ایمانداری وکفایت شعاری سے استعمال کئے جائیں تو ہمیں بیرونی امداد و قرضوں کی ضرورت ہی نہ رہے نہ ہی ہم کسی کے دباؤ میں آئیں اور نہ ہی اپنی خود مختاری کا سودا کر کے اپنے ملک کو کالونی بننے دیں ۔ اللہ ہماری مدد کرے اور یہ عدالتی نظام جو ساٹھ سال میں پہلی بار انصاف کا علم لیکر نمودار ہوا ہے اللہ اسے کامیابی دے،آمین۔ اب تک تمام سیاستدان اور حکمران اس ملک کی حالت سدھارنے کے بجائے اس کو لوٹتے رہے ہیں، اب واحد امید عوامی انقلاب سے وابستہ ہے تاکہ اس کرپٹ اور فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور ملک و قوم کی تعمیر اور ترقی بالکل نئے سرے سے شروع کی جائے۔

     

              

          

    $ ایں سعادت بزورِ بازو نیست   1/27/2010

     

    شیخ سعدی کا فرمان ہے ”ایں سعادت بزورِ بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ“ یعنی کسی انسان کے ہاتھوں کوئی عظیم نیک کام انجام پائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی عنایت وکرم سمجھنا چاہیے اور اپنے بازوٴں کے زور پر فخر نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا میں بڑے بڑے کام افراد ہی کے ہاتھوں انجام پذیر ہوتے ہیں تو یہ محض اللہ کا کرم ہے کہ کوئی شخص کسی کام کیلئے منتخب ہوا حالانکہ اس کی طرح بلکہ اُس سے بہتر اور بھی انسان اُسی دور میں موجود ہوتے ہیں، اس لئے انسان کو اللہ کی رحمت اور عنایت کا ممنون ہونا چاہیے۔ اس کی ہر دور میں مثالیں موجود ہیں سرسید احمد خان مرحوم کو مسلمانوں کی تعلیم کے فروغ کی سعادت نصیب ہوئی حالانکہ وہ نہ تو کوئی بڑے دیندار عالم تھے نہ کوئی مال ودولت اُن کے پاس تھا نہ ہی کسی بڑے عہدے پر فائز تھے۔

    اس خدمت کیلئے انہیں لوگوں سے چندہ مانگنا پڑا۔ لوگوں نے ان کو بُرا بھلا بھی کہا۔ دینی علماء انہیں بے دین سمجھتے تھے۔ غدر کے بعد مسلمانوں کی زبوں حالی ناگفتہ بہ تھی۔ حاکم انگریز ان سے متنفر تھے دوسری بڑی ہندو قوم اُن سے تعداد، مال ودولت اور تعلیم میں بہت آگے تھی۔

    اٹھارویں صدی عیسوی میں راجہ رام موہن رائے نے ہندوٴں کی تنگ نظری دور کی، جدید علوم کے حصول کیلئے انہیں آمادہ کیا وہ قوم جو سمندر پار کرنا گناہ سمجھتی تھی انگلینڈ اور یورپ کے دوسرے ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جانے لگی اور تعلیم یافتہ ہندو انگریزوں کے قریب ہونے لگے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے لگے جب کہ مسلمان معاشی حیثیت سے کمزور ہونے کے باوجود اپنی پرانی شان وشوکت پر ہی فخر کرتے رہے۔ یہ ”پدرم سلطان بود“ والی ذہنیت ہی مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں زوال کا سبب بنی لیکن انہیں کوئی اس خرابی سے نکالنے والا نہیں تھا۔ تقریباً سو سال بعد مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا سرسیّد احمد خان نے اٹھایا ایک چھوٹے ادارہ کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی بنا کر مسلمانوں کو علوم جدیدہ سے شناسا ہونے کا موقع دیا۔ اس سے قبل مدن ہوہن مالویہ نے بنارس ہندو یونیورسٹی بنا کر ہندووٴں کو اعلیٰ تعلیم سے روشناس کرا رہے تھے جہاں تک مسلمانوں کی رسائی بہت دشوار تھی اب علیگڑھ یونیورسٹی بننے کے بعد جدید علوم سے آراستہ مسلمان تیار ہونے لگے۔ اعلیٰ عہدوں کی دوڑ میں شامل ہوئے۔ ذہنی اصلاح کی وجہ سے وہ سیاست، تجارت اور صحافت کے میدانوں میں آگے بڑھنے لگے اور اکثریتی طبقہ کے لئے ایک حریف اور سمجھدار قوم بن گئے۔ انیسویں صدی سے آج تک سارے ہندوستان اور پاکستان کے مسلمان ڈاکٹر، بیرسٹر، صحافی اور ٹیکنیکل اسپیشلسٹ سرسید احمد خان کے اصلاحی اقدامات کے ثمرات ہیں۔ اگر سرسید احمد خان علیگڑھ مسلم یونیورسٹی قائم نہ کرتے اور مسلمان تعلیم حاصل نہ کرتے تو ہم آج بھی ہندووٴں کے غلام ہوتے۔

    اللہ تعالیٰ جس شخص کو جس خدمت کے لئے منتخب اور مامور فرماتے ہیں اس کے اسباب اور انتظامات بہت پہلے سے مہیا فرما دیتے ہیں۔ فرعون جیسے ظالم جابر بادشاہ سے برابری سے بات کرنے کے قابل حضرت موسیٰ اس لئے بھی تھے کہ وہ محل میں پلے بڑھے تھے۔ گفتگو اور بحث ومباحثہ کے شاہانہ طریقوں سے انہیں آگاہی تھی۔ جابر بادشاہ کے سامنے کھڑے ہونے کی جہاں ہمت نہ ہو وہاں اس کے کاموں اور باتوں کو غلط قرار دیکر صحیح کو صحیح ثابت کرنا کسی معمولی فرد کے بس کی بات نہ تھی۔ برسوں پہلے ان کا انتحاب رب العالمین کے ہاتھوں ہو چکا تھا۔ اسی طرح بیت المقدس کی فتح کی سعادت صلاح الدین ایوبی کو اور منگولوں کی شکست کی سعادت ملک الظہیر بیبرس کو عطا فرمانا، سلطان محمد الفاتح کے ہاتھوں استنبول کی فتح اور سلطان بایزید یلدرم کے ذریعہ مشرقی یورپ تک پیش قدمی اور فتوحات، یہ سب بھی اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات ہیں۔

    ہندوستان میں بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں تعلیم یافتہ ہندو صاحبان یکے بعد دیگرے سیاسی جماعتیں بناتے رہے اور کانگریس پارٹی، جس کی بنیاد ایک انگریز اے او ہیوم اور دادا بھائی نورو جی نے اپنے پانچ ساتھیوں سے مل کر رکھی تھی، اس پارٹی پر مکمل اجارہ داری قائم کرکے ہندو قائدین اسے حصول آزادی کی جدوجہد کا ذریعہ بنا چکے تھے۔

    مسلمانوں میں کوئی آل انڈیا سطح کا لیڈر نہیں تھا۔ کچھ کو کانگریس نے دکھاوے کے طور پر شامل کر لیا تھا لیکن جو مخلص مسلمان لیڈر تھے وہ کانگریس کی عیارانہ پالیسی کو سمجھ کر اس سے کنارہ کش ہو گئے تھے جیسے ڈاکٹر انصاری اور خود قائداعظم محمد علی جناح اور چند دوسرے مسلمان کانگریسی لیڈر۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے ہندووٴں کی بالادستی اور غلامی سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایسے شخص کا انتخاب فرمایا جو شرعی وضع قطع کے لحاظ سے روایتی مسلمان علماء اور رہنماوٴں سے یکسر مختلف تھا۔ عربی تو کجا اسے اردو زبان تک بولنا اور لکھنا نہیں آتی تھی۔ پھر وہ دس کروڑ مسلمانوں کو اپنے ساتھ لیکر کیسے چل سکتا تھا۔ اس شخص کو دنیاوی علوم بالخصوص دستور وقانون اور وکالت کے میدان میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی اور وہ برصغیر کے بہترین بیرسٹر تھے، سیرت وکردار کے لحاظ سے بے داغ رہنما تھے۔ ان کی صادق البیانی کی وجہ سے دشمن بھی ان کے معترف تھے۔ بڑے بڑے روایتی علماء ایسے جدید انداز کے مسلمان رہنما کی ہر دلعزیزی سے پریشان ہو گئے۔ جگہ جگہ مخالفت اور دشمنوں کی اعانت سے ان کی باتوں کو غیر موٴثر بنانے کے لئے دھواں دار تقریریں کرنے لگے ان سب مخالفتوں کے باوجود ہوا وہی جو خدا تعالیٰ نے روز ازل میں لکھ دیا تھا اور ایک سب سے بڑی اسلامی ریاست ہندوستان کا کلیجہ چیر کر وجود میں آگئی۔ متعصب ہندو تلملا گئے مگر یہ سوچ کر خاموش ہو گئے کہ چند سالوں میں یہ نوزائیدہ ملک ان کے قدموں میں آ گرے گا اور انہوں نے اس کے لئے سازشیں شروع کر دیں۔ ملک کے اندر غداروں کو تلاش کرکے انہیں تخریب کاری کے لئے آمادہ کیا۔ ہر صوبہ میں ان کے حامیوں کی امداد کی گئی۔ شیخ عبد اللہ جیسے کئی لوگ پیدا ہو گئے جن کی وجہ سے کشمیر کا معاملہ آج تک الجھا ہوا ہے اور ان کی یہ سازشیں کئی عشروں تک جاری رہیں اور آج تک ان میں کمی نہیں آئی۔ کون نہیں جانتا کہ بنگال میں اپنے لوگ مکتی باہنی کے نام سے داخل کرکے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں خلیج انہوں نے پیدا کی۔ انہی ہندووٴں نے تخریب کاری کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے دوسری طرف مغربی پاکستان کے حکمران طبقہ کی خود غرضی اور لالچ نے آگ پر تیل چھڑک کر مشرقی پاکستان کی دشمنی کو خوب ہوا دی اور سب سے بڑا اسلامی ملک تقسیم ہو گیا۔ ایک طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ایک عظیم اسلامی ملک پر جارحانہ حملہ میں دنیا کے بیشتر ملکوں نے کھلم کھلا یا دانستہ چشم پوشی کرکے جارحیت کی کھلی امداد کی۔ ان ممالک میں پاکستان کے کئی نام نہاد دوست ممالک شریک تھے اور اسلام دشمن طاقتیں خوش ہو گئیں کہ سب سے بڑا اسلامی ملک ٹوٹ گیا۔ اسلام اور پاکستان کے مخالف اب اس کے جلد خاتمے کے لئے ایک بار پھر پر امید ہو گئے۔ اس کے بعد ایک اور زبردست سانحہ ظہور پذیر ہوا ہندوستان ایک نیوکلیئر پاور بن گیا۔ دنیا کے کسی ملک نے نہ کوئی واویلا کیا اور نہ ہی مخالفت کی بلکہ درپردہ اس کی امداد کی۔ اب تو متعصب ہندوستانی پاکستان کی فتح کو قریب سمجھنے لگے لیکن ”تدبیر کند بندہ تقدیر کند خندہ“ (بندہ تدبیر کرتا ہے مگر تقدیر اس پر ہنستی ہے) کے مطابق ایک عظیم کام ہونے کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ ٹوٹے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دل میں پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانے کی تمنّا پیدا ہوئی۔

    ایک چھوٹا کمزور ملک اقتصادی مشکلات میں گھرا ہوا کس طرح اس بڑے مہنگے کام کو انجام دے سکتا تھا۔ غیر ملکی اعانت یا بیرونی سائنسدانوں کی امداد کا خیال کرنا بھی بیکار تھا۔ ادھر ملکی سائنسدان اس علم سے بے بہرہ تھے لیکن جب خدا کو منظور ہو تو ”مشکلے نیست کہ آساں نشود“ (کوئی مشکل ایسی نہیں ہوتی جو آسان نہ ہو جاتی ہو) اللہ نے یہ دشواری اس طرح دور فرما دی کہ ”قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند“ (قرعہ فال مجھ دیوانہ کے نام پر پڑا) یعنی یہ سعادت مجھ جیسے بے وسیلہ عام شہری کے نصیب میں آئی جس نے ایک عام سے گورنمنٹ کالج میں پڑھا اور بغیر کسی وظیفہ یا مدد کے بیرونی تعلیم ہی حاصل نہیں کی بلکہ برسوں کا عملی تجربہ حاصل کیا اور شہید بھٹو کے اصرار پر غیر ملکی ملازمتیں اور آسانیاں چھوڑ کر از سرِنو ایک ناممکن نظر آنے والے کام کو انجام دینے کا آغاز کیا۔ حاسد، مقتدر اور تجربہ کار شخصیتوں نے پہلے دن سے وقت کے ضیاع اور ناکامی کے فتوے صادر کر دیئے لیکن بھٹو صاحب کے ارادہ کی پختگی نے اس کام کو جاری رکھنے کا انتظام کیا۔ کھلے بازار سے خاص طور پر کئی مغربی ممالک سے ایک ایک چیز لینے کے لئے بیک وقت آرڈر کیا جاتا تھا کہ کسی کو شبہ نہ ہو ہم کیا کر رہے ہیں تاکہ محدود وسائل، خفیہ کام، اپنے اور پرایوں کی مخالفت اس کام کو نہ روک سکے۔پاکستان کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اس دوران حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں۔ متضاد پالیسیوں کے حامل حکمران رہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی نے اس کار عظیم کو روکنے یا غیر ممالک کے دباوٴ میں آنے کو قبول نہیں کیا۔ بھٹو مرحوم کے سر تو اس کے آغاز کا سہرا ہے لیکن امریکہ کے ساتھ افغانستان کی جنگ میں شریک ہوتے ہوئے بھی ضیاء الحق نے اس کام کو جاری رہنے دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بھی اس کے موافق رہیں اور نواز شریف نے تو امریکہ کے پیہم دباوٴ اور اصرار کے باوجود ہندوستان کے بعد دھماکے کروا کے اپنی جرأت اور ثابت قدمی کا ثبوت دیا اس عظیم کام میں مرحوم غلام اسحاق خان نے مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے بھر پور تعاون کیا بلکہ اس ادارہ کی ہمیشہ مدد کے لئے بہت کوششیں کیں۔ جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل عبد الوحید کاکڑ نے اس پروگرام پر آنچ نہ آنے دی اور بوقت ضرورت امریکیوں کو کھری کھری سناتے رہے۔

    اس طرح رب العزت نے اس عظیم کام کو مختلف مراحل سے گزارتے ہوئے پاکستان کو ہندوستان کے دباوٴ، جارحیت اور ناپاک عزائم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کروڑوں لوگوں میں سے مجھے اس کام پر مامور فرما کر سعادت عطا فرمائی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں اللہ رب العزت کا فرمان یعنی ”اللہ جس کو چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اسے ذلت دیتا ہے۔ ہر بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے (سورہ آل عمران، آیت ۶۲) ہی کار فرما رہا ہے۔آپ سب جانتے ہیں کہ میں نے آخر ایسا کیا،کیا ہے جس کی وجہ سے آج بھی منافقین اور دشمنانِ اسلام و پاکستان مجھ پر تیر برساتے رہتے ہیں۔

    یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

    ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

     

              

          

    $ ایک غلطی ۔ تباہ کن نتائج   2/3/2010

    انسان کو خطاؤں کا پتلا کہا جاتا ہے اور خطا اورنسیان کا مرکب ہے۔ کلام مجید میں انسان کی کئی کمزوریوں کا ذکر آیا ہے۔ اچھے لوگ نیکیاں زیادہ اور برائیاں کم کرتے ہیں۔ بُرے لوگوں میں نیکیوں کا مکمل فقدان ہوتا ہے۔ کچھ لوگ نادانستہ طور پر غلطیاں کرتے ہیں پشیمان ہوکر معافی مانگتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرماتا ہے اور نیک ہدایات دیتا ہے۔ جو لوگ دانستہ طور پر غلطیاں و گناہ کرتے ہیں وہ ناقابل معافی گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سخت ، دکھ دینے والا عذاب اور جہنم کی میزبانی عطاکرے گا۔ میں چند ایسی غلطیوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کے نہایت ہی دور رس نتائج نکلے اور تاریخ کارخ بدل گیا۔

    حضرت آدم باوجود حکم ربی ّ شجر ممنوعہ یعنی گندم کے پاس گئے اور اس کو چکھ لیا۔ لہٰذا سزا کے طور پر انہیں اور ان کی آنے والی تمام نسلوں کو جنت کی مستقل رہائش گاہ کے بجائے دنیا میں رہ کر اپنے اعمال سے رضائے الٰہی کے حصول کا پابند کر دیا گیا۔ اس غلطی کی سزا بنی نوع انسان قیامت تک بھگتّی رہے گی۔

    حضرت یونس نے مشیت الٰہی کو نہ سمجھ کر اپنی عقل سے نتیجہ اخذ کیا اور اس کی سزا میں مچھلی کے پیٹ میں رہے اور جب اللہ تعالیٰ سے توبہ استغفار کی تو اللہ تعالیٰ نے معاف کر کے اس مصیبت سے نجات دی۔

    حضرت موسیٰ نے حکم خداوندی کی تعمیل میں عجلت سے کام لیا اور مقررہ وقت سے پیشتر قوم کو چھوڑکر توریت حاصل کرنے پہاڑ پر چلے گئے اس دوران میں سامری نے بچھڑے کا فتنہ برپا کر کے پوری قوم کو سخت مصیبت اور عذاب میں مبتلا کر دیا۔

    یہ تو چند غلطیاں مذہبی واقعات کی ہیں تاریخ ایسے واقعات سے بھی بھری پڑی ہے جن میں دنیا کے تمام ممالک شامل ہیں اور ایک غلطی سے تاریخ کارخ بدل گیاہے۔

    مغل بادشاہ شاجہاں کی جانشینی کی جنگ میں داراشکوہ نے دوران جنگ ہاتھی کی سواری چھوڑ کر گھوڑے پر سواری شروع کر دی۔ اس کی فوج کے سپاہیوں نے جب ہاتھی پر ہودہ خالی دیکھا تو سمجھے کہ غالباََ داراشکوہ مارا گیا اور بھاگ کھڑے ہوئے ، اورنگزیب اور مراد کو فتح حاصل ہو گئی اور دارا شکوہ جنگ میں ہلاک ہو گیا۔

    اورنگزیب کے دربارمیں 1666ء میں جب شیوا جی پیش ہوا تو بادشاہ نے اسے پنج ہزاری منصب اور جاگیر دینے کی تجویز پیش کی لیکن شیوا جی ہفت ہزاری منصب اور جاگیر کا طلبگار تھاجسے اورنگزیب نے حقارت سے مسترد کر کے اسے قید میں ڈال دیا ۔ کچھ عرصہ بعد یعنی 1666ء ہی میں وہ کپڑوں کی ٹوکری میں چھپ کر فرار ہو گیا اور زندگی بھر اورنگزیب اور مغلوں کو سخت نقصان پہنچاتارہااور رائے گڑھ میں مقیم ہو گیا۔ 1664ء میں شیوا جی مغل بحریہ کو شکست دے چکا تھا ۔ 1672ء میں مغلوں کو پہلی مرتبہ کھلے میدان میں شیوا جی کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی اور اب مرہٹو ں اور اورنگزیب کے دوسرے مخالفین نے مغلیہ حکومت کی بنیادیں ہلا دیں ۔ آپ نے دیکھا کہ اورنگزیب کی ایک غلطی یعنی شیوا جی کو ہفت ہزاری منصب نہ دینا کسقدر مہنگا پڑا ۔ اگر اورنگزیب یہ چھوٹا سا منصب دے دیتا تو مرہٹے ایک اچھے لیڈر کی غیر موجودگی میں خود ہی تتر بتر ہوجاتے اور کبھی یہ عروج و قوت حاصل نہ کر پاتے ۔

    فرانس کے حکمران نپولین نے یورپ کے تقریباََ تمام اہم ممالک کو شکست دیدی تھی اور افریقہ میں مصر تک پہنچ چکا تھا مگر اپنی فتوحات و قوت کے غرور کے نشے میں اس نے روس پر حملہ کر دیا اور دلدل میں پھنس گیا۔ سخت برفباری اور سردی کی وجہ سے اس کی افواج کی کمر ٹو ٹ گئی ، ہزاروں فوجی مارے گئے ، ہزاروں بیمار ہوگئے ، تمام آلات حرب ضائع ہو گئے اور بری طرح شکست کا سامنا کر نا پڑا۔ نپولین اگر یہ قوت انگلستان کے خلاف استعمال کرتا تو یقینا اس کو شکست دے دیتا مگر ایک غلط اقدام نے تاریخ کا رخ بدل دیا اور نپولین شکست کھا کر ایک جزیرہ پر قید رہ کر فوت ہوگیا۔

    کہا جاتا ہے کہ انسان تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتا۔ یہی غلطی تقریباََ ڈیڑھ سو سال بعد ہٹلر نے کی۔ اس کو یہ خام خیالی تھی کہ یہ ہوائی جہازوں ٹینکوں اور گاڑیوں پر نصب لمبی مار کی توپوں سے بہت جلد روس کو شکست دے دے گا۔ جو نتیجہ نکلا اس سے ہم سب واقف ہیں۔ دونوں جانب سے تقریباََ تین کروڑ فوجی ہلاک ہوئے اور تین سال کے محاصر ہ اور لاکھوں روسیوں کی ہلاکت کے باوجود فیلڈ مارشل پاؤلُس لینن گراڈ یا ماسکو پر قبضہ نہ کر سکا اور ہتھیار ڈالنے پڑے ۔ ہٹلر اگر اس قدر قوت اپنے حقیقی دشمن انگلستان کے خلاف استعمال کرتا تو اس کو شکست دے کر دوسر ی تاریخ لکھ دیتا ۔ مگر اس ایک غلطی نے لاکھوں جرمنوں کو مرو ا دیا اور جرمنی کو تباہ کرا دیا اور خود ہٹلر کو خود کشی کرنا پڑی۔

    ان سب باتوں کو ہم چھوڑ کر اپنی ساٹھ سالہ تاریخ کا جائز ہ لیتے ہیں ۔ سب سے پہلی غلطی خواجہ ناظم الدین نے لیاقت علی خان کی شہادت کے بعدصدارت چھوڑ کر وزارت عظمیٰ کا عہد ہ لے کر اور غلام محمد ملک کو صدر بنا کر کی۔غلام محمد نے فوراََ ہی سازشوں کا سلسلہ شروع کیا، خواجہ ناظم الدین کی چُھٹّی کی، دستور ساز اسمبلی کو توڑ دیا اور پھر مرضی کے وزراء لگانا شروع کردیے۔ یہیں سے پاکستان ٹوٹنے کی بنیاد پڑی ، بعد میں جنرل اسکندر مرزا نے صد ر کی حیثیت سے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء لگا کر غلطی کی۔ اس شخص نے اسکندر مرزا کو نہایت بیدردی سے غربت کی حالت میں انگلستا ن بد ر کر دیا۔ جس کی کسمپرسی کے حالات مرحوم قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں بیان کئے ہیں۔

    1962 ء میں ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ چھڑ گئی ، ایوب خان نے امریکی دباؤ میں ہندوستان کو یقین دلا دیا کہ کشمیر میں جنگ نہ چھیڑ ے گا اس جنگ کے نتیجے میں مغربی ممالک نے ہندوستان کو کثیر تعداد میں اعلیٰ آلات ِحرب مفت مہیا کئے اور اس کی قو ت میں بیحد اضا فہ کر دیا۔ ان حالات میں 1965میں ایو ب خان نے کشمیر میں جنگ چھیڑ کر ملک کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا۔ اگر مغربی ممالک جنگ بندی نہ کراتے تو ہم کشمیر ، لاہو ر اور نواحی علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ۔ ملک تو بچ گیا مگر نتیجہ میں1971ء میں ہم نے آدھا ملک کھو دیا۔

    ایوب خان کے بعد یحییٰ خان کا دور آیا ، صاف شفاف الیکشن ہوئے مگر نتائج قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے نتیجے میں ہم مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس شرارت میں دوست اور دشمن برابر کے شریک تھے۔

    ذوالفقارعلی بھٹو صاحب نے شروع شروع میں اچھے کام کئے مگر بعد میں غلط مشیروں کے مشوروں سے آمرانہ رویہ اختیار کیا۔ ان کی سب سے بڑی غلطی جنرل ضیاء الحق کو کئی سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کر کے آرمی چیف بنانا تھا۔ اس غیر اخلاقی ، غیر منصفانہ اقدام کا نتیجہ نہایت تکلیف دہ قید اور پھانسی کے پھند ے کی شکل میں ملااور ملک کو تاریخ کا بدترین آمرانہ دور ملا۔

    تاریخ سے سبق حاصل نہ کر کے نواز شریف صاحب نے اپنے نااہل مشیروں کے مشورے پر نہایت قابل جنرل علی قلی خان کو نظر انداز کر کے ایک بدکردار جنرل پرویز مشرف کو آرمی کا سربراہ بنا دیا۔ اس غلط اقدام کا جو نتیجہ نکلا اس سے پوری قوم واقف ہے۔ اس احسان فراموش شخص نے ان کا تختہ الٹ دیا۔ جیل میں ڈال دیا گیا اور وہ تو خیریت ہو گئی ورنہ بھٹو صاحب جیسا حشر ہوتا۔لوگ یہ نہ سمجھیں کہ نواز شریف کے خلاف اقدام برطرفی کانتیجہ تھا ، میں اندرونی حالات سے واقف ہوں،مشرف جون میں حکومت کا تختہ الٹنے کا پروگرام بنا چکا تھا مگر اس کی بھنک نواز شریف صاحب کو لگ گئی اور انہوں نے امریکیوں کو مطلع کر دیا۔ بات ٹل گئی مگر بر طرفی کا حکم ایک اچھا بہانہ بن گیا۔ اس شخص نے ملک کی بنیادیں ہلا دیں۔

    ہمیں غلام و فقیر بنا کر لندن میں عیاشی کر رہا ہے۔ پرویز مشرف کی غلطیاں غیر دانستہ نہیں بلکہ دانستہ کئے جانے والے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے ۔بقول خود اپنے اعتراف میں مشرف نے چیف جسٹس کو ہٹا کر بہت بڑی غلطی کی تھی حالانکہ یہ غلطی نہیں یہ طاقت کا زعم او رتکبر تھااور دوسرے محکموں کی طرح عدلیہ کو بھی اپنی لونڈی بناناتھا اور کرپشن کرنے والے دوستوں کے قرضے معاف کرنا تھا۔ ابھی بھی ساٹھ ارب روپوں کے قرضے معاف کرنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، حالانکہ ماہرین نے یہ رقم ایک سو چوالیس ارب روپے بتلائی ہے ۔ آپ سوچیں کہ ایک بائیس گریڈ کا افسر اس طرح ملک و عوام کی دولت لٹا گیا گویا یہ اس کی ذاتی دولت تھی۔ ایک اور بڑا جرم لال مسجد میں بچیوں اور بچوں کا فاسفورس بم مار کر زندہ جلا دیناتھا حالانکہ سب مشورے دے رہے تھے کہ چند لوگوں کو حفاظتی راستہ دے دیا جائے اور بعد میں ان سے نمٹ لیا جائے ۔ اسی طرح کراچی میں قتلِ عام، وکیلوں کو زندہ جلا دینا معمولی غلطی نہیں تھی بلکہ جرم کبیرہ تھا جس کی سز ا اللہ تعالیٰ ضرور اس کو دے گا۔

    ایک بہت بڑی غلطی جس کے نتیجے میں وسطی ایشیاء کے تمام اسلامی ممالک تباہ ہوگئے اور دس لاکھ سے زیادہ مسلمان مارے گئے وہ علاؤالدّین خوارزم شاہ کے اترار کے گورنر کا چنگیز خان کے تاجروں اور ایلچیوں کا قتل تھا۔ اس کے جواب میں چنگیز خان نے تمام اسلامی ریاستیں تباہ کر دیں اور مسلمانوں کا قتل عام کر دیا۔ اس غلطی کے اثرات و نتائج ہم آج تک نہیں بھلا پائے ہیں۔

    آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو پرانے زمانے میں مسلمان خلفاء اور حکمران نہایت ایماندار ، انصاف پسند اور غریب نواز تھے۔ روز راتوں کو گھنٹوں سجدہ ریز ہو کر اللہ رب العزت سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے تھے، رہنمائی کی التجا کرتے تھے اور اپنے آپ کو عوام کا خادم اور اللہ تعالیٰ کو جوابدہ سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو بھی نیک ہدایت سے نوازے۔ (آمین)

     

              

          

    $ چوہے ، بلی اور گھنٹی   2/10/2010

    پچپن میں ڈپٹی نذیر احمد اور محمد اسمٰعیل میرٹھی وغیرہ کی لاتعداد نصیحت آمیز کہانیا ں پڑھی تھیں ، ایک دلچسپ کہانی جو اس وقت پڑھی تھی وہ یہ تھی کہ ایک بلی کے مظالم سے تنگ آکر تمام چوہے جمع ہوئے اور بلی کے مظالم سے بچنے کے لئے مشورہ کیا۔ ایک چوہے نے تجویز کی کہ بلی کی گردن میں گھنٹی باندھ دی جائے تاکہ اس کے آنے کی خبر ہر چوہے کو ہو جائے اور وہ بچنے کی تدبیر کر لے۔ تما م چوہے بہت خوش ہوئے اور اس کی یہ رائے بہت پسند کی گئی۔ ایک بوڑھا چوہا جو خاموش بیٹھا تھا اس نے کہا کہ یہ تجویز بہت اچھی ہے مگر یہ بتلایا جائے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا ، جو اس کام کو انجام دے سکے وہ کھڑا ہو جائے۔ یہ بات سن کر سارے چوہے جو خوش ہو رہے تھے سکتہ میں آگئے۔ اچانک بلی کی آواز آئی اور سب چوہے تیزی سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اپنے اپنے بلوں میں چھپ گئے۔

    پاکستان کی معاشی اور سیا سی خرابیوں کی یہی حالت ہے۔ عوام کی خوش قسمتی سے آج پہلی بار دو ادارے آزاد ہی نہیں بلکہ بے باکی اور ایمانداری سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ایک میڈیا دوسری عدلیہ۔ ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ میں پہلی بار یہ دونوں ادارے ابھر کر عوامی اعتماد کے ضامن بن کر آ گئے ہیں۔ میڈیا کسی خرابی کو چھپا نہیں رہنے دیتا ، عدلیہ اپنے فیصلہ میں کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتی اور ازخود کسی بھی خرابی کا سوموٹو نوٹس لے کر انصاف مہیا کرنے لگی ہے۔

    ان دو عظیم اداروں کی بے لوث خدمات کے باوجود اب بھی عوام کئی رعایتوں سے محروم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں ادارے عملی کارکردگی کے لئے حکومت کے محتاج ہیں۔ قانونی طور پر حکومت عدالت کے احکام پر عمل کرنے کی جہاں پابند ہے وہیں میڈیا کی نشاندہی پر اخلاقی اور سیاسی طور پر عمل کرنا بھی اس کے فرائض میں داخل ہے۔

    عدالت کے حکم کی نافرمانی تو قابل سزاجرم ہے لیکن میڈیا کی نشاندہی اگر حکومت کی شان کے خلاف ہو تو اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا میڈیا پر ہی الزام عائد کیا جاتا ہے۔ آج کل دو اہم معاملے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں عوام بے چینی سے گورنمنٹ کے اقدامات کی منتظر ہے۔

    این آر او جیسے سیاہ قانون کے لئے عدالت عظمیٰ نے فل بنچ کی تشکیل کر دی ، میڈیا نے کافی محنت و جدوجہد سے اس قانون کو سرد خانہ کی زینت بننے سے روک کر خفیہ کارروائی کو سب کے سامنے پیش کر دیا۔ اس وقت سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ گورنمنٹ کے موجودہ وزراء کی موجودگی میں پراسیکیو شن (استغاثہ ) کون کرے گا اور کیا با اختیار وزیر اس کارروائی پر اثر انداز نہیں ہوں گے، معمولی سرکاری ملازم کے خلاف تحقیقات شروع ہونے سے قبل اسے معطل کر دیا جاتا ہے تاکہ انکوائری پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ اہلکار پولیس افسر اور سب کارکن اس زمرہ میں آتے ہیں پھر وزیر جیسا عہدیدار کس طرح اثر انداز نہ ہو گا ، اس کا ضامن کون ہو گا۔ این آر او زدہ لوگوں کی فہرست میں بڑے بڑے وزیر ، گورنر اور صدر شامل ہیں اور کسی نے اخلاقی ذمہ داری کے طور پر عہدہ چھوڑنے کی پیشکش نہیں کی۔ اب ظاہر ہے کون تحقیقات کرے گا ، کون استغاثہ دائر کرے گا اور کون ثبوت فراہم کرکے عدالت کے سامنے لائے گا ، ان مقدمات کو عدالت کے سامنے پیش کرنے والا کون ہے جو بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے۔

    اسی طرح اربوں روپے کے قرضوں کی معافی پانے والے کروڑ پتیوں کی فہرست بھی آگئی ہے جنہوں نے پہلے بینک سے قرضے لئے اور پھر پر ویز مشرف جیسے فیاض بادشاہ سے قرضوں کی معافی حاصل کر لی۔ پرویز مشرف اگر ایمانداری سے چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدہ سے ریٹائر ہوتا تو اسے چند ہزار کی پنشن ملتی مگر اس کی دریا دلی دیکھیں کہ اربوں کے قرضے بلاجھجک معاف کر کے حاتم طائی ثانی بن گیا۔ جہاں عوام آٹے اور چاول کو ترس رہے تھے وہیں اربوں روپے بیک جنبش قلم ذاتی تجوریوں میں پہنچ گئے۔

    واہ رے حاکم

    واہ رے انصاف

    اس پر اسے عوام کی محبت اور یقین کی خوش فہمی ہے ، اس کے مشیر شیر افگن صاحب فرماتے ہیں ” وہ پاکستان آئیں گے تو لوگ ان کا والہانہ استقبال کریں گے۔“مجیب الرحمن شامی صاحب نے بالکل صحیح کہا شاید ایسا ہی والہانہ استقبال ہو گا جیسا خود شیر افگن صاحب کا وکیلوں نے کیا تھا۔

    این آر او کے لئے تو فل بنچ کی تشکیل ہو گئی اب قرضے معاف کروانے والوں کے لئے بھی عدالت عظمیٰ ضرور کوئی کارروائی کرے گی مگر پھر وہی سوال۔ استغاثہ ، دلائل، ثبوت، ریکارڈ کون پیش کرے گا؟ وہی بلی کی گردن میں گھنٹی والی بات ہے۔ آخری امید اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے جہاں یہ خرابیاں عیاں ہوئی ہیں ، اللہ تعالیٰ گناہ گاروں کی سزا کا راستہ متعین کر دے گا ۔ غریبوں کی آہیں رائیگاں نہیں جائیں گی، وہ لوگ جو سب کچھ ظاہر ہونے پر بھی عہدوں سے چمٹے ہوئے ہیں انہی کے لئے غالب نے کہا ہے۔

    کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب

    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    پچھلے چند ہفتوں میں این آر او کے بارے میں مباحثہ ، تحریریں اور اس سے متاثرہ لوگوں کی دیدہ دلیری ناصرف قابل دید بلکہ مضحکہ خیز اور حیرت انگیز بھی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے تقریباً ساٹھ سال پرانا بھوپال کا ایک واقعہ یا د آ گیا۔ تقسیم ہند تک بھوپال میں صر ف ہائی اسکول تھے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھوپال کے طلباء علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جایا کرتے تھے، اس طرح بھوپال میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ علیگڑھ سے تعلیم یافتہ تھے ۔ نواب بھوپال ان کو مالی مدد دیتے تھے اور واپسی پر اچھی ملازمت بھی لازمی طور پر مل جاتی تھی۔ہمارے گھر کے پاس ایک متین احمد خان رہتے تھے انہوں نے علیگڑھ سے فزکس ، کیمسٹر ی اور ریاضی میں بی ایس سی کیا تھا اور شاعری بھی بہت اچھی کرتے تھے۔بھوپال واپس آئے تو بد قسمتی سے سر سام کے شکار ہوگئے اور ان کے دماغ پر سخت اثر ہو گیا اور کبھی تو یہ بالکل عام سمجھدار آدمی کی طرح باتیں کرتے تھے، سوٹ پہنتے تھے اور کبھی کُرتا پاجامہ پہن کر ننگے پاؤں گھومتے پھرتے تھے۔ہائی اسکول کے طالب علموں کو پتہ تھا کہ یہ بی ایس سی ہیں اس لئے ان کو روک کر اکثر فزکس، کیمسٹری اور ریاضی کے مضامین سمجھنے کے لئے ان سے پوچھ لیا کرتے تھے اور وہ بڑے شوق سے بچوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ ایک روز ہم کیا دیکھتے ہیں کہ متین میاں بالکل برہنہ گھر سے نکل آئے اور ہاتھ میں چابیوں کی زنجیر ہلاتے اور سیٹی بجاتے اطراف سے بالکل بے خبر چلے جار ہے تھے ، کچھ لوگ جو وہاں کھڑے تھے انہوں نے کہا متین میاں کیاحال ہے خیریت سے تو ہیں تو انہوں نے کہا اللہ کا شکر ہے۔ پھر لوگ چہ مگوئیاں کرنے لگے اور ایک نے ہمت کرکے کہ دیا کہ متین میاں آپ بالکل ننگے ہیں تو متین میاں مسکرائے اور کہا” بس اور کیا بات ہے ، جو کچھ میرے پاس ہے اور جو کچھ آپ دیکھ سکتے تھے آ پ نے دیکھ لیا اب اور کیا مسئلہ ہے، آپ کیوں خواہ مخواہ پریشان ہو رہے ہیں“۔

    موجودہ حالات اس واقعے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ این آر او کے متاثرین ، بنکوں سے بڑی بڑی رقمیں قرض لے کر کھا جانے والے ، چینی اور آٹے کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والے متین میاں کی طرح مسکراتے پھر رہے ہیں اور انہیں اس کی قطعی پروا نہیں کہ وہ عوام کے سامنے برہنہ ہیں اور ان کی حقیقت عوام پر مکمل طورپر عیاں ہو چکی ہے۔مگر سوال وہی بزرگ چوہے کا ہے کہ ان ضمیر فروشوں کے گلے میں کون گھنٹی باندھے گا ۔

    خدا کرے عدالت عالیہ ان کو اس مرتبہ ان کے اعمال کی پوری سزا دے کر عبرتناک مثال قائم کر دے لیکن بات وہی غیرت وشرم و حیا کی ہے۔ جب انسان کے ضمیر سے غیرت ، شرم و حیا نکل جاتی ہے تو پھر اس میں اور بے ضمیر ، بے حس جانور میں کچھ فرق نہیں رہ جاتا ہے اور یہی وہ کردار ہے جو قوم کی تباہی کا لازمی پیش خیمہ ہوتا ہے۔ سابقہ مسلمان سلطانوں ، بادشاہوں، عہدیداروں اور عوام کی طرح ہم نے اپنی آنکھیں آنے والی قیامت سے بند کر لی ہیں اور اس وہم میں ہیں کہ شاید ہمارا حساب نہ ہوگا مگر قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے فرمانوں، ہدایتوں ،نصیحتوں اور وارنگز سے پُرہے کہ ظالم ، گناہ گار، راشی وغیرہ لوگوں پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑا دکھ دینے والا سخت عذاب رکھا ہے اور وہ اس سے نہ بچ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف حُجّت کے لئے تھوڑی مہلت دی ہوئی ہے اور کسی بھی وقت اس کا سخت عتاب نامعلوم سمت سے گناہ گاروں کو پکڑ لے گا۔ بہر حال اس سارے ڈرامے کو علامہ اقبال کا شعر (تھوڑی ترمیم کے ساتھ بہت اچھی طرح عکاسی کرتا ہے)۔

    مگر یہ را ز آخر کھل گیاسارے زمانے پر

    حمیت نام ہے جس کا گئی اس قوم کے دل سے

     

              

          

    $ جھوٹ کی لعنت   2/17/2010

    سچ ، جھوٹ بظاہر کتنی چھوٹی بات معلوم ہوتی ہیں اور بچہ شعور حاصل کرتے ہی انکے معنی اور مطلب سمجھنے لگتا ہے۔ ابتدائی سبق بھی یہی پڑھتے آئے ہیں ”سچ بولو ، سچ بولو ، ہمیشہ سچ بولو۔ ہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچ“یعنی بھلائی کی ایک شرط سچ ہے ، ظاہر ہے اسکا متضاد جھوٹ بھلائی کا نہیں برائی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ جھوٹ کے لفظی معنی یہ ہیں کہ اپنے ایمان، اعتقاداور علم یقین کے بر خلاف بات کرنا۔

    سچ کی قدر دانی اور جھوٹ کی برائی سیدھے سادھے کم تعلیم یافتہ لوگوں میں ہمیشہ سے پائی جاتی ہے جسکا ثبو ت پرانی کہاوتیں، لوک گیت اور مقولے ہیں۔ مثلاََ ”سانچ کو آنچ نہیں“ ”سچے کا بول بالا جھوٹے کا منہ کالا“ ۔ جھوٹ بولے کوا کاٹے، قرآن حکیم بھلا اس ہدایت کے بغیر کس طرح رہتا اور ارشاد خداوندی ہے، سورة آل عمران آیت 61”لَعنَتَ اللہ عَلیَ الکٰذِبِین“جھوٹے پر اللہ کی لعنت سے بڑھ کر کیا ہدایت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اللہ رب العزت نے سورة شوریٰ ، سورة نمل، سورة طٰہ، سورة طور،سورة صف، سورة منافقون، سورة رعد، سورة البقرہ، سورة زخوف، سورة التوبہ، اور سورة مُرسلٰت میں تو دس مرتبہ جھوٹوں پر لعنت بھیجی ہے۔ سورة البقرہ میں تو جھوٹ نہ بولنے اور وعدوں کی پاسداری کا حکم فرمایا ہے لیکن ہم جب آج اپنے اعلیٰ عہدیداروں اور حکمرانوں کو دیکھتے ہیں اور ان کے اقوال و اعمال کو دیکھتے ہیں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے، تعجب ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو نہ ہی اللہ تعالیٰ کا خوف ہے اور نہ ہی اس کے عذاب کا حالانکہ دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں اور وعدہ خلافی کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دے کر ذلیل و خوار کر دیا۔ عوامی نمائندے اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں اور ان پر عوام کا اعتماد اللہ کی امانت ہے۔ اگر عوامی نمائندے یا اہل اقتدار جھوٹ بولیں تو ان پر یقینا ہمارے ایمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی لعنت اور عتاب نازل ہو گا۔ یہ کہنا کہ چونکہ بھولے بھالے عوام نے ان پر بھروسہ کر کے اقتدار پر بٹھا دیا، ان کو بے ایمانی، رشوت ستانی اور جھوٹ بولنے کی چھٹی مل گئی ہے ، یہ عوام کے شعور کی توہین ہے۔ ان کے شعور کی یہ توہین نہیں ہے کہ راشیوں ، چوروں اور جھوٹے صاحب اقتدار لوگوں کا کچا چٹھا کھولا جائے۔ ان غلط کاموں اور جرائم سے ان کو کبھی بھی کوئی مستثنیٰ قرار نہیں دے سکتا۔

    فارسی بھلا اس انسانی تقاضہ سے کیسے بے نیاز رہتی، اس نے یہ بھی بتلا دیا” دردغ گورا حافظہ نہ باشد“ یعنی جھوٹے کو اپنی جھوٹی بات یاد نہیں رہتی مگر اسی کے ساتھ ایک موقع پر اس کی اجازت بھی دی گئی ہے یعنی ”دردغ مصلحت آمیز بہ ازراستی فتنہ انگیز“ یعنی ایسا سچ جس سے فتنہ برپا ہونے کا اندیشہ ہو اس کے مقابلے میں رفع شر کے لئے جھوٹ کو بہتر مانا گیا ہے جیسے کسی سے پوچھا جائے کیا فلاں شخص مجھے برا بھلا کہہ رہا تھا ، جواب میں دوسرا آدمی کہہ دے مجھے نہیں معلوم یا میرے سامنے تمھیں برا نہیں کہا تا کہ دونوں کے درمیان جھگڑا نہ بڑھے مگر اسے مستقل جواز بنا کر جھوٹ کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    صداقت یعنی سچائی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ حلفیہ بیان عدالتی کاروائی کا ضروری جز ہوتا ہے دردغ حلفی ایک قابل سز ا جرم ہے۔

    اسلامی نظام میں جھوٹے الزام یعنی بہتان کی سز ا کوڑوں کی تھی ، یہ سختی جھوٹ کو روکنے کے لئے تھی۔ جھوٹ جیسی بری لعنت اور خرابی ہمارے معاشرہ میں داخل ہو چکی ہے اور وہ بھی نئے نئے روپ میں ۔ کئی حلقوں نے تو اسے برائی سمجھنا بھی چھوڑ دیا ہے اور اسے نئے نئے نام دے رکھے ہیں۔ ادبی دنیا میں لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اس کا سہار ا لیا جاتا ہے۔ لطیفے ، قصیدے، افسانے، غزلیں حقائق پر مبنی نہیں ہوتے ۔ شاعری میں بھی مبالغہ آرائی غلط بیانی کا ایک جز ہے۔

    جھوٹ کی سب سے زیادہ پھلنے پھولنے کی جگہ سیا ست ہے۔ سیاست میں بیانا ت وعدے اور اعلانات مکمل طور پر صداقت پر مبنی نہیں ہوتے ۔ الیکشن منشور خواہ وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں ، اچھے اور مفید کام کرنے کے وعدوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں اور انتخاب کے بعد کامیاب امیدواران ان وعدوں پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ ملکی سیاست سے زیادہ بین الاقوامی سیاست میں جھوٹ کا بول بالا ہے ، ایک ملک دوسرے پر خطر ناک بم بنانے کا الزام لگاتا ہے جب کہ وہ ملک اس کا انکار یا اسے پر امن مقاصد کے لئے تیار کرنے کا اظہار کرتا ہے۔ عراق پر خطر ناک بمبوں کے بنانے کے الزامات تھے، جنگ چھڑی، عراق کو شکست ہوئی تو معلوم ہو ا کہ ان خطر ناک بموں کا تو سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ بعد میں خفیہ ایجنسیوں کی غلطی بتائی گئی۔ اس نام بنام غلطی میں کتنی جانیں ضائع ہوئیں۔ صدام حسین کو پھانسی ہوئی پھر بھی غیر ملکی تسلط آج بھی جاری ہے ، کوئی ملک جب اپنے مفاد کے لئے کسی دوسرے ملک پر جب جھوٹا الزام لگاتا ہے تو وہاں کے ذمہ دار لوگ بھی یا تو الزام لگانے میں شامل ہو جاتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں۔ اس جھوٹی الزام تراشی میں دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں شامل ہیں اور ان بڑی طاقتوں کی نقل میں درمیانے اور چھوٹے ممالک بھی اسی راہ پر چل پڑے ہیں۔ بد قسمتی سے دنیا میں جمہوریت و سچائی کے نام نہاد و علمدار امریکہ اور انگلستان کی تاریخ جھوٹ سے پُر ہے۔

    نائن الیون کا ہنگامہ جب ساری دنیا میں زور پکڑ چکا تھا تو ہندوستان نے پاکستان کو مورد الزام قرار دینے کے لئے پارلیمنٹ پر حملہ کی کہانی بنائی ۔ حیر ت کی بات یہ ہے کہ اس نام نہاد حملہ کے وقت کوئی بھی ذمہ دار وزیر پارلیمنٹ میں موجود نہیں تھا نہ ہی پارلیمنٹ کے کسی ممبر کو کوئی نقصان پہنچا ، بہر حال یہی رٹ لگائی جاتی رہی کہ حملہ آور پاکستانی تھے۔ کون تھے، کہاں سے آئے تھے اور سکیورٹی کی موجودگی میں اس حساس ادارہ میں کیسے داخل ہوئے ؟ یہ کہانی بنانے والوں سے پوچھنا چاہئے۔ وہ نام نہاد حملہ آور کہاں سے لا کر گزارے گئے، مارے گئے؟ اسی طرح ہندوستان کا الزام کہ ہم در اندازی کرتے ہیں جھوٹ ہے۔ لاکھوں فوجی سرحد پر تعینات ہیں پھر ان در اندازوں کو روکنا یا مارنا اگر لاکھوں فوجیوں کے بس کا کام نہیں تو پھر فوج لگانے سے کیا فائدہ؟

    پچھلے سال بمبئی حملے کا الزام پاکستانی حملہ آوروں پر لگایا گیا کہ انہوں نے پانی کے راستے بمبئی میں داخل ہو کر تخریبی کاروائی کی۔ مگر ہم سب کو یہ علم ہے کہ آئے دن غریب مچھیروں کو جو سمندر میں ملکی حدود کا اندازہ نہیں کر سکتے انہیں گرفتار کرنے کے لئے نیوی کے جہاز ، ہیلی کاپٹر آجا تے ہیں ، پھر یہ حملہ آور کیوں نہیں روکے گئے، اس وقت نیوی فورسز اور سکیورٹی فورسز کیا کر رہیں تھیں؟

    ایک وکیل نے انکشاف کیا تھا کہ اجمل قصاب بمبئی حملہ سے کئی ماہ قبل تجارت کے سلسلہ میں نیپال گیا تھا جہاں سے وہ بدنامِ زمانہ را کے ہاتھوں پکڑا گیا اور بمبئی حملہ میں ملز م کے کردار کے طور پر نمایاں ہوا۔ پاکستانی نوجوان غیر قانونی طریقوں سے مقدر آزمائی کے لئے باہر جاتے ہیں جہاں کئی پکڑے جاتے ہیں اور پھر ساری دنیا کے سامنے پاکستانی حملہ آو ر بنا کر پیش کئے جاتے ہیں۔ بمبئی حملوں میں پاکستانی آسانی سے بمبئی میں داخل ہوئے ، وہ عمارتوں کے ایک ایک حصے سے بخوبی واقف تھے اور ان کے مقابلہ میں کمانڈوز آئے مگر کسی ایک کو بھی زند ہ گرفتار نہ کر سکے۔

    گرفتار ہوا تو ایک فرضی نام نہاد حملہ آور اجمل قصاب جو پہلے سے ہی لاپتہ تھا۔ ہمارے حکومت نے نااہلی سے ان الزامات کی صحیح تر دید نہیں کی بلکہ بھونڈی صفائی کی کو شش میں لگ گئی ، سب جانتے ہیں کہ یہ سب کاروبار مذاکرات نہ کرنے کے بہانے ہیں۔ کسی بھی ملک پر اندرونی حملہ کا ذمہ دار کوئی دوسرا ملک کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر کوئی حملہ آور آتا ہے تو اسے روکا جائے، گرفتار کیا جائے یا اگر مزاحمت کرے تو اسے ما ر دیا جائے۔بین الاقوامی مظلومیت اس طرح حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ صرف مغربی طاقتوں کے مذاکرات کے اصرار پر ٹال مٹول کرنے کے لئے بہانہ سازی ہے اور ہمارے حکمران ہندوستان سے جامع مذاکرات کی دن رات بھیک مانگتے رہتے ہیں،کیا بے غیرتی نہیں ہے؟

    سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ خود ہندوستانی گورنمنٹ افسران کی سازش تھی ، جب ایک ایماندار افسر کرکرے نے یہ راز فاش کر دیا تو بمبئی حملہ میں اس کو بھی مار دیا گیا۔اس احتجاج میں قدیمی ایماندار کانگریسی اے آر اَنٹولے نے استعفیٰ بھی دیدیا مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی میں حکمران جماعت کانگریس اور اپوزیشن پارٹی بی جے پی دونوں برابر کے شریک ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام کی سازش کی تحقیقات سترہ سال میں مکمل ہوئیں مگر ابھی بھی ایکشن باقی ہے۔ بی جے پی کو مورد الزام ٹھہرایا گیا مگر کسی لیڈر کو جیل میں نہیں ڈالا گیا۔

    ہندوستان کی حکومت کا سار ا ڈھانچہ جھوٹ پر بنایا گیا ہے مثلاََ سیکولر ملک کہاجاتا ہے۔ جہاں پر مذہب کے لوگوں پر برابری لازم ہے۔ عملاََ یہ سیکولر نہیں بلکہ سخت متعصب ہندو ملک ہے، نمائش کے لئے اقلیتی فرقہ کے کچھ لوگ اعلیٰ عہدوں پر رکھ لئے جاتے ہیں ۔ مثلاََ صد ر یا نائب صدر مسلمان یا سکھ ، آرمی چیف سکھ، گورنر مسلمان یا سکھ یا اچھوت، دو چار مسلمان یا سکھ سفارت کاروغیرہ وغیرہ۔ ملازمت میں خاص طور پر اہم محکمات میں ہندو اور حکمران طبقہ کی ذات کے لوگ ہوتے ہیں۔”مَدَر انڈیا “ انگریزی میگزین کے ایڈیٹر بابو راؤ پٹیل نے لکھا تھا کہ ایک نہرو کی وجہ سے ہر محکمہ میں سینکڑوں پَسّو بجّو بھرے ہوئے ہیں، اکثر کشمیر یوں نے نام ”و“ پر ختم ہوتے ہیں۔ پاکستان کو خد ا جانے کب عقل آئے گی کہ مغربی ممالک کشمیر کے معاملے میں ہندوستان کے خلاف ہمارے اور فلسطین کے بارہ میں اسرائیل کے خلاف عربوں کی کبھی مدد نہ کریں گے۔ وہ جھوٹ بولتے رہیں گے اور بے شرمی سے جھوٹ بولتے ہی رہیں گے کیونکہ ان کے ہاں مصلحت کی خاطر جھوٹ بولنا جائز ہے۔ ایسی باتوں میں ان کے ہاں اخلاقیات کی بات کرنا بیوقوفی سمجھا جاتا ہے۔ اب آپ کو چند مشہو ر مغربی دانشوروں کے مقولہ جات بتلاتا ہوں جس سے آپ کو جھوٹ اور سچ کے بارہ میں فرق بتلایا گیاہے۔

    (۱) ”بلی اور جھوٹ کے درمیان سب سے نمایاں فرق یہ ہے کہ بلی کی نو زندگیاں ہوتی ہیں جبکہ جھوٹ کی صرف ایک۔“(مارک ٹوئین)

    (۲)”سب سے عام جھوٹ وہ ہے جو انسان خود سے بولتا ہے۔ دوسروں سے جھوٹ بولنا غیر معمولی ہے۔“(نیتشے)

    (۳) ”سچائی ہمیشہ سامنے آجاتی ہے، قتل دیر تک چھپا نہیں رہتا۔“(شیکسپیئر )

    (۴) ”سچائی آجکل عنقا ہے اور جھوٹ اس قدر عام ہے کہ جب تک ہم سچائی کے شیدائی نہ ہوں ہم اس کو نہیں پہچان سکتے۔“ (پسکال)

    (۵)”سچائی کی راہیں دشوار و سخت ہیں اور ان پر چلنا دشوار ہوتا ہے۔“(مِلٹن)

    یہ آخری کہاوت تو آج کل ہمارے چیف جسٹس اور عدلیہ پر صادق آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ثابت قدم رکھے اور صبر و ہمت عطا فرمائے۔ (آمین)

          

    $ اندھیر نگری چوپٹ راجہ   2/24/2010

    ایک پرانی کہاوت ہے ”اندھیر نگری چوپٹ راجہ ، ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھا جا“ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ لاقانونیت کا بول بالا ہے اورحکمرانواں کی بے پروائی ،ساز باز اور گٹھ جوڑ سے ملک میں لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔

    یہ ایک ایسی کہاوت ہے جس میں لاقانونیت کے مرتکب عوام و حکمران دونوں قرار دیے گئے ہیں۔ آج کل کے حالات یہی تاثر دے رہے ہیں۔ اندھیر نگری یعنی قانون کی بستی اور چوپٹ راجہ یعنی حاکم کو بھی غیر قانونی حکومت کرنے والا کہا گیا ہے ظاہر ہے عوام وحکمران جب قانون کے پابند نہ ہوں تو نتیجہ سوائے خرابی اور بد امنی کے کیا ہو سکتا ہے ؟کہا جاتا ہے کہ ایک حکمران اپنے ملک میں قانون کی پابند ی چاہتا ہے مگر رعایا اور اسکے وزیر افسر سب اسکے لئے تیار نہ تھے اور پرانی طرز پر من مانی کارروائی کرنا چاہتے تھے۔ راجہ نے بہت کوشش کی مگر کوئی اصلاح نہیں ہوئی تو اسکو ایک بوڑھے اورتجربہ کار وزیر نے مشورہ دیا اور اس کے مطابق بادشاہ (راجہ) نے یہ اعلان کر دیا۔ ”عوام اور تمام عملے کو من مانی کرنے کی اجازت ہے کسی سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔ “کام نہ کرنے والے، بے ایمان اور لاپرواہ لوگوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا اور سب من مانی میں لگ گئے اور دن گزرنے لگ گئے ۔ ایک روز ایک افسر کے بیٹے کے ساتھ حادثہ ہو گیا، وہ فوری علاج کے لئے اسپتال لایا گیا مگر اسپتال میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا ، کسی نے علاج معالجہ کرنے کا سوچا بھی نہیں اور مریض کس مپرسی کے عالم میں مر گیا ۔ وہ افسر ڈاکٹروں کے رویہ سے سخت نالاں ہوامگر کیا کر سکتا تھا۔

    کچھ روز بعد ان ڈاکٹروں کے سربراہ کے گھر ڈاکو گھس گئے۔ سب کو بہت مارا پیٹا اور تمام مال لوٹ لیا۔ ڈاکٹر صاحب نے پولیس کو اطلاع دی ، خود بھی کاروائی کرنے کی درخواست کی مگر پولیس بھی تو ان ہی کے دیس کی تھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور ڈاکٹر صاحب کی عمر بھر کی کمائی ضائع ہو گئی۔ وہ پولیس والوں کو برا بھلا کہتے رہے۔ اسی طرح ایک پولیس افسر کے گھر میں آگ لگ گئی انہوں نے باربار آگ بجھانے والے عملے کو بلایا مگر کوئی نہیں آیا اور ان کا گھر معہ مال کے جل کر راکھ ہو گیا ، پولیس افسر بر ا بھلا کہتا رہا مگر کر کیا سکتے تھے ملک کا رواج ہی ایسا تھا۔ سڑکوں کی حالت خراب تھی، جا بجا گڑھے پڑے ہوئے تھے، کسی کو انہیں ٹھیک کرنے کی فرصت نہیں تھی، کچرا اٹھانے والوں نے یہ ناگوار کا م بالکل چھوڑ دیا تھا۔ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگ چکے تھے، طرح طرح کی بیماریاں پھیلنے لگیں، لوگ بیمار زیادہ اور تندرست کم تھے۔ ہر طاقتور آدمی کمزور پر حاوی تھا۔ عورتوں اور لڑکیوں نے غنڈوں کے خوف سے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا تھا۔ کمزور ،بوڑھے اور بچے ، نوجوان اور طاقتور لوگوں کے ڈر سے جیب میں پیسے ڈال کر نہیں نکلتے تھے۔ دکانیں بند پڑی تھیں، نہ جانے کون کب آ کر لوٹ جائے، صرف طاقتور لوگ ہی دکانیں کھول سکتے تھے۔ شہر میں ویرانی کا عالم تھا۔ بادشاہ بے خبر نہیں تھا ، اس کے آدمی خفیہ طور پر سب معلوما ت حاصل کر کے بادشاہ کو بتلاتے رہتے تھے۔

    کچھ تجر بہ کار بوڑھے سمجھ داروں نے خاموشی سے ایک جگہ اکٹھا ہو کر مشورہ کیا کہ اس دشوار زندگی سے کس طرح نمٹا جائے، آخر یہ طے پا یا کہ بادشاہ کی منت سماجت کر کے اسے راضی کیا جائے کہ وہ قانون نافذ کرے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سخت سزا دے۔ انہوں نے بادشاہ سے التجا کی ، بادشاہ نے کہا میں ایک جلسہ عام بلا کر لوگوں کی رائے لوں گا چنانچہ ایسا ہی ہو ا، بادشاہ نے عام مجمع کیا اور پوچھا کیا تم کو قانون اور قاعدے کی بالا دستی چاہئے یا یہی موجود ہ بد امنی اور لاقانونیت ؟

    سب نے یک زبان ہو کر قانون کے حق میں نعرے لگائے، چند جرائم پیشہ موجود تھے مگر وہ کچھ نہ بولے کیوں کہ ان کی تعداد بہت کم تھی اور عام لوگ بہت زیادہ تھے اور قانون کا بول بالا ہو رہا تھا۔ بادشاہ نے اگلے دن سے یہ حکم صادر کر دیا اور سخت گیر افسر تعینا ت کر دیے، شہر آباد ہونے لگا، دکانیں ، دفاتر ، مدرسے اور اسپتال سب کھل گئے۔ چہل پہل اور رونق آگئی ۔ ابتدا میں کچھ مجرم پکڑے گئے جنہیں سخت سزا ملی تو دوسروں کو غلط کام کرنے کی ہمت بھی نہ ہو سکی ، اب پورے ملک میں خوش حالی اورترقی کا راج ہو گیا ، باہر سے بھی لوگ آ کر رہنے لگے اور وہیں کے شہری بن گئے۔ لوگوں نے پھر کبھی نا فرمانی کا نہیں سوچا۔ یہ تو قصے کہانی کی ہی بات ہے مگر تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ سختی سے قانون نافذ کرنے سے امن و امان اور خوش حالی کس طرح آتی ہے۔

    خلفائے راشدین کا ایسا ہی دور رہا۔ حضرت عمر کی سختی کے آگے کسی کو بغا وت کی جر ات نہ ہو سکی ، حضرت عثمان کی رحم دلی اور نرم مزاجی کی وجہ سے خلیفہ وقت کو شہید کر دیا گیا۔ مغلیہ دور میں بادشاہوں کا دبدبہ بہت تھامگر آخر ی دور میں شاہ عالم کی آنکھیں تک اس کے درباری ملازموں نے نکال دیں اور نابینا کردیا۔ علاؤالدین خلجی کے سامنے کسی کو قانون توڑنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔

    ہمارے ملک میں آمرانہ دور بہت سخت تھا لیکن حکمرانوں نے عوام کے فائدے کے لئے قانون نافذنہیں کئے بلکہ اپنے مفاد اور حکومت کو قائم رکھنے کے لئے اقدامات پیش کئے ، کاش ان کی سخت پالیسی عام لوگوں کی بھلائی کے لئے ہوتی تو ملک کہاں سے کہاں پہنچ جاتا۔ جو آیا وہ ملک کو پستی پر گامز ن کرتا گیا اور آج یہ عالم ہے کہ ہم مقروض ہیں مگر فضول خرچ،ذاتی مفاد پر نظر ہے چاہے عوام کا کتنا بڑا نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے ، ایمان کمزور ہے اور اللہ پر اعتماد کے بجائے بڑی طاقتوں کی مرضی و رضا کے غلام ہیں ۔ لوٹ مار کشت و خون ، رشوت خور ی ہمارے معاشرے میں داخل ہوگئی ہے اور حد درجہ بڑھ گئی ہے مگر بقول غالب کے ”در د کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا“۔ اب ہماری زبوں حالی پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہو رہا ہے ۔ عدلیہ اور میڈیا آزاد ہیں ، ملک کا ہر شخص حالات سے باخبر اور اچھائی برائی کی تمیز رکھتا ہے ۔ بد عنوان بے ایمان گھبرا رہے ہیں، کچھ بھاگ گئے ہیں اور کچھ بھاگنے کی سوچ رہے ہیں ، اپنا مال و دولت باہر بھیج رہے ہیں مگر اللہ نے موسیٰ کو پید ا کر دیا ہے اور اللہ کا فرمان سورة البروج آیت نمبر ۱۲” اِنَّ بَطشَ ربِکَ لشدید“ (یعنی بلا شبہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے) ۔ آج بھی حق ثابت ہوکر رہے گا ، واقعہ اس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے یہی اس کا انصاف ہے خدا تعالیٰ ہمارے ملک میں انصاف و ایمان کا بول بالا کرے ۔ (آمین)

    ۹جنوری کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار کونسل نے مجھے دعوت دی تھی اور ہزاروں وکلاء نے والہانہ استقبال کیا تھا ۔ اپنے مختصر سے خطاب میں میں نے ملک و عوام کو در پیش لا تعداد مسائل کا ذکر کیا تھا ۔ اس میں قانو ن کا فقد ان ، ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی، رشوت ستانی، منافقت اور جھوٹ وغیرہ کا معاشرے میں کثرت سے سرائیت کرنے کے بارہ میں بتلایا تھا۔ میں یہاں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ عوام کی تعداد کم از کم ۹۹ فیصد ہے اور حکمران و اصحا ب اقتدار بمشکل ایک فیصد ہوں گے اس طرح ملک میں قانون کی بالا دستی کے فقدان ، ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی، رشوت ستانی، منافقت اور جھوٹ وغیرہ میں عوام کی مکمل بالا دستی ہے۔

    آپ خود سوچیں کہ اگر عوام کی اتنی بڑی اکثریت یہ کام نہ کرے تو مٹھی بھر حکمرانوں کی کیا مجال ہے کہ وہ غلط کام کریں۔ اگر عوام صحیح کر دار اپنائیں تو نظام بہت جلد ٹھیک ہو سکتا ہے۔ چوروں ، راشیوں اور دوسرے گندے کام کرنے والوں پر اس ملک کی زمین تنگ ہو جائے گی اور یہ ملک چھوڑکر بھاگ جائیں گے اس لئے میری عوام سے نہایت عاجزی سے درخواست ہے کہ پہلے وہ خود ٹھیک ہو جائیں پھر حکمرانوں کی گرفت کریں۔

    ایک یونانی فلسفی نے صدیوں پہلے کہاتھا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ تباہ کرنا چاہتا ہے ان کو پہلے پاگل کر دیتا ہے۔ یعنی ان کی عقل سلب کر لیتا ہے۔ فرانسیسی شاہ یسند جوزف دیے میترے کا قول ہے کہ ہر ملک کو وہی حکومت (یعنی حکمران ) ملتی ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں یعنی اچھے راست باز عوام کو نیک خدا ترس اور راست باز حکمران اور گناہ گار عوام کو ظالم ، چور ، راشی اور منافق حکمران ملیں گے۔ آئیے اب آپ کی توجہ اللہ ر ب العز ت کے چند احکاما ت کی طرف دلاتا ہوں۔

    (۱)” اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس (بستی)کے بڑے بڑے مجرمین بنادیے ہیں تا کہ وہ اپنے مکر و فریب کا جال پھیلاتے رہیں حالانکہ وہ اپنے فریب کے جال میں خود ہی پھنستے ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں “۔(سورة الانعام آیت ۱۲۳)

    (۲)” اور گنہگار قوم سے اللہ کا عذاب پھیرا نہیں جائے گا“۔ (سورةالانعام آیت ۱۴۷)

    (۳)”کیا ان لوگوں پر جو ملک کے وارث بنے ہیں وہاں کے باشند وں کے ہلاک ہونے کی بات (مثلاََ زلزلہ و سیلاب )سے یہ ظاہر نہیں ہو ا کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں بھی ان گناہوں کے سبب پکڑ لیں اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے سو وہ سنتے نہیں۔ “ (سورة الاعراف آیت ۱۰۰)

    (۴)”بلا شبہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدلے اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی برائی (کا بدلہ دینا) چاہتا ہے تو پھر اسے کوئی روک نہیں سکتااور نہ ہی اس کے سو ا ان کا کوئی مدد گار ہو سکتا ہے۔ “ (سورة الرعد آیت ۱۱)

    (۵)”آپ (اے محمد ) کہیں دیجئے کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہو سو اللہ تعالیٰ اسے ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا خواہ عذاب ہو یا مقررہ ساعت تب معلوم کر لیں گے کہ کون مرتبے میں بڑا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے۔“ (سورة المریم آیت ۷۵)

    (۶) آپ (محمد ) نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے میں نا شکری کی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں ڈال دیا جو دوزخ ہے اور وہ سب اسی میں داخل ہوں گے اور وہ واقعی بہت ہی بری جگہ ہے رہنے کی۔“ (سورةابراہیم آیت ۲۸)

    (۷)”اے گنہگارو تم یہ گمان مت کرو کہ اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل ہے جو ظالم لوگ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو صرف اس

    دن تک کی مہلت دے رکھی ہے جس روز ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی“۔ (سورةابراہیم آیت ۴۲)

    (۸)”اورجب ہم کسی بستی (قوم ) کو تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ہم ان کے خوشحالی میں مگن (اہل اقتدار) لوگوں کی کثرت کر دیتے ہیں تو وہ احکام الہیٰ کی نافرمانی شروع کر دیتے ہیں پھر ان پر حجت تمام ہو جاتی ہے اور پھر ہم اسے پوری طرح تباہ و برباد کر دیتے ہیں“۔ (سورة بنی اسرائیل آیت ۱۶)

    اس کے علاوہ کلام مجید میں اللہ تعالیٰ نے لاتعداد جگہ گنہگاروں ، ظالموں کو عبرتناک سزا دینے اور تباہ و برباد کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔ اگر ہم یعنی عوام اور حکمران اب بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نظر انداز کرتے رہیں گے تو ہمارا حشر بھی جلد عبرتناک ہو جائے گا۔

          

    $ بھوپال، کیرالہ اور شق القمر       3/3/2010

    اپنے دو کالموں میں جو میں نے 22جولائی 2009ء اور 14/اکتوبر2009ء میں تحریر کئے تھے ان میں بھوپال کے راجہ بھوجپال، اس کا شق القمر دیکھنے کی سعادت ، اپنے بیٹے کو تحفہ جات لے کر رسول کی خدمت میں بھیجنا، اس وفد کا مسلمان ہونا ، پان کے پتوں کا رسول کا چکھنا اور فرمانا کہ یہ سبزی برص و جزام کے علاج کے لئے مفید ہے اور حضرت امیر خسرو کا اس واقعہ پر قطعہ لکھنا وغیرہ اور کیرالہ (مالا بار) کے راجہ کا بھی شق القمر دیکھنے کی سعادت، اپنے شہزادے کو تحائف کے ساتھ رسول کے ساتھ بھیجنا، اس کا اور وفد کے ارکان کا مسلمان ہونا، شہزادے کا ایک صحابی کی بیٹی سے نکاح کرنا اور واپسی پر مسلمان ہونے کا اعلان کرناوغیرہ کے واقعات پر خاصی تفصیل سے روشنی ڈالی تھی کیونکہ کیرالہ (مالا بار) کے شہزادے نے اپنے مرحوم والد کی یاد میں برصغیر کی پہلی مسجد چیرامین جامع مسجد کے نام سے تعمیر کی تھی اور اسے برصغیر کی پہلی مسجد بھی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کالموں پر ردعمل کے طور پر چند نہایت مفید اور اہم مضامین شائع کئے گئے ،میں یہ کالم انہی مضامین کی روشنی میں لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

    میں اپنے بھوپال کے عزیز دوست جناب تمیز الحق کا اپنے پچھلے کالم میں شکریہ ادا کر چکا ہوں جنہوں نے مجھے کیرالہ میگزین(۱۹۴۸) اور تاریخ ازبکستان مصنفہ سید کمال الدین احمد میں کیرالہ میں موجود برصغیر کی پہلی مسجد میں شائع ہونے والی معلومات بہم پہنچائی تھیں اور گزشتہ تمام معلومات کو قارئین کے سامنے لانے کا پیش خیمہ تھیں۔

    سب سے پہلے تو میں اپنے بزرگ ، دانشور بھوپالی دوست (ماشاء اللہ تین سال میں ایک سو سال کے ہو جائیں گے)جناب محمد احمد سبزواری کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے راجہ بھوجپال کے بارے میں خاصی تفصیل سے اپنے 26 دسمبر 2009ء کے کالم میں تذکرہ کیا ہے۔ اس سے پیشتر انہوں نے ایک مفصل مضمون (بھوپال کی کہانی۔ ایک پرانے بھوپالی کی زبانی) ”رسالہ فکر و آگاہی“ کے بھوپال نمبر میں شائع کیا تھا۔ میرے پاس یہ شمارہ ہے، اپنا پہلا کالم لکھتے وقت مجھے اس کو پڑھنے کا خیال نہیں آیا چونکہ یہ رسالہ تقریباً پندرہ سال پیشتر میں نے دیکھا تھا۔ میں اس وقت اس بھوپال نمبر کی مدیرہ ڈاکٹر رضیہ حامد صاحبہ سے اسلام آباد میں ملا تھا۔

    برادرم سبزواری نے چونکہ راجہ بھوج یا بھوجپال کے بارے میں زیادہ تفصیلات بتائی ہیں۔ میں ان کی اجازت سے وہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔راجہ بھوج کے بارے میں عجیب عجیب کہانیاں مشہور ہیں اور بہت سے راجہ اس نام سے مشہور ہیں۔ راجہ نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھااس واقعہ کی تحقیق کے لئے لوگوں کو ادھر ادھر بھیجا، جو شخص عرب پہنچا اس نے آ کر شق القمر کی تفصیل بتائی، راجہ نے کچھ تحائف جن میں پان کے پتے بھی شامل تھے حضور کی خدمت میں (غالباً اپنے بیٹے ماتا دین کے ہاتھ )بھیجے جس پر آپ نے پان کو دافع برص و جزام قرار دیا جس کی اس لحاظ سے امیر خسرو نے تعریف کی۔ آنے والا شخص (غالباً شہزادہ مع اپنے وفد) مسلمان ہو گیااور اس کا اسلامی نام محی الدین رکھا گیا۔ آپ نے اس کے ساتھ عبداللہ نامی صحابی کو راجہ بھوج کے پاس بھیج دیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب (شہادتیں معجزات) میں لکھا ہے کہ راجہ بھوج اور راجہ مالوہ (ایک ہی شخص تھے)شق القمر دیکھ کر مسلمان ہو گئے۔ مولانا عباس رفعت (غالب کے شاگرد )1265 ء میں پیران دھار گئے تو انہوں نے راجہ بھوج کی قبر عبد اللہ صحابی کی پائنتی دیکھی۔ سب سے مستند بیان نواب شاہجہان بیگم (بیگم بھوپال ) کا ہے۔ انہوں نے بزرگ کا نام عبد اللہ چنگال بتایا ۔ انہوں نے 40اشعار کا ایک فلسفی قصیدے کو بھی اپنی کتاب میں لکھا جو عبداللہ چنگال کے مقبرہ کی دیوار پر کندہ ہے( یہ قصیدہ سبزواری صاحب کے پاس ہے) اس قصیدے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کچھ مسلمان آئے ، انہوں نے فجر کی اذان دی، کافروں کو یہ ناگوار گزرا اور انہوں نے ان سب کو قتل کر کے لاشیں کنوئیں میں ڈال دیں۔ پھر عبد اللہ چنگال آئے اور راجہ بھوج ان کی فراست دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ قبریں ٹوٹ پھوٹ کر ہموار ہو گئیں تو شہنشاہ خلیج محمود کے حکم سے ان کی مرمت کی گئی ۔ قبہ دار مقبرہ،مسجد اور ساتھ لنگر خانہ بنایا گیا۔ یہ تعمیر 1859ء میں مکمل ہوئی۔ یہ تھی وہ تفصیل جو برادرم سبزواری صاحب نے ہمیں بتائی ہے۔ عبداللہ چنگال کا نام غالباً عبد اللہ جندال ہو گا کیونکہ عربی زبان میں گ اور ج نہیں ہوتے۔

    جناب محمد احمد سبزواری نے 27دسمبر 2009کے جنگ میں شائع جناب ڈاکٹر صلاح الدین کے مضمون کا حوالہ دیا ، اس میں آپ نے شق القمر کے معجزے کا ذکر کیا ہے اور خاص طور پر کیرالہ میں تعمیر کردہ برصغیر کی پہلی مسجد چیرامن جامع مسجد کا تذکرہ کیا ہے جو وہاں کے راجہ نے اپنے والد محترم کے نام پر تعمیر کی تھی۔ جناب سبزواری کی درخواست پر کہ اگر کسی کو اس اہم مسجد کے بارے میں مزید معلومات ہوں تو قارئین کو آگاہ کر دیں۔ یہی درخواست برادرم ڈاکٹرصلاح الدین اے خان نے بھی کی ہے۔ نتیجہ بہت اچھا نکلا اور لیجئے12جنوری 2010ء کی جنگ میں برارم جناب ضیاء الرحمن صدیقی نے ”برصغیر کی پہلی مسجد“ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے اس مسجد کی موجودگی اور اس کی موجودہ حالت کے بارے میں تفصیل سے قارئین کو آگاہ کیا۔ آپ نے ایک رسالہ ”ماہنامہ صوت القرآن بتاریخ نومبر 2009ء کا حوالہ دیا ہے جو ان کو جناب ڈاکٹر حق نواز اعوان صاحب ، استاد جامع اشرفیہ سکھر نے مطالعہ کے لئے دیا تھا۔ یہ رسالہ شاہ وجیہ الدین اکیڈمی احمد آباد (گجرات) انڈیا کا ایک علمی اور تحقیقی رسالہ ہے۔ اس رسالہ میں بقول برادرم ضیاء الرحمن صدیقی صاحب ایک معتبر علمی شخصیت، محترم مولانا اختر امام عادل صاحب نے ایک مضمون ”میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہو ا جہاں سے“ تحریر فرمایا ہے۔ اس مضمون میں محترم اختر امام عادل صاحب نے نہایت خوبصورت اور عقیدت مندانہ الفاظ میں برصغیر کی پہلی مسجد چیرامن جامع مسجد کا ذکر کیا ہے اور بقول برادرم ضیاء الرحمن صدیقی صاحب یہ بیان پڑھتے پڑھتے انسان خود کو اس مسجد میں محسوس کرتا ہے۔ امام عادل صاحب کے الفاظ میں جو برادرم ضیاء الرحمن صاحب نے تحریر فرمائے ہیں مسجد کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔ ”یہ مسجد ہندوستان کے قصبہ ڈنگلوریا کے قرب و جوار میں ایک ساحل سمندر کے قریب ہے ۔ میں خود اپنے دیگر رفقاء کے ہمراہ اس مسجد کی زیارت کے لئے گیا۔ اس مسجد کا نام چیرامن پیرامل جامع مسجد ہے۔ اس کا میں نے اندر باہر کا خوب مشاہدہ کیا ہے۔ وہاں دو رکعت نماز نفل بھی ادا کئے۔ مسجد کے دروازے پر جوسن تعمیر کندہ ہے وہ 629اور 08ہجری کا ہے ۔ اس مسجد کے منبرو محراب اور مغربی دیوار آج بھی مسجد نبوی کے قدیم طر ز تعمیر کا نمونہ ہے۔ یہ وہ خاص پہلو ہے جو مولانا نے اپنے مضمون سے متعلق اس مسجد میں ذکر فرمایا ہے۔ ایک عالم جو خود اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں گیا اور پھر وہاں کے ذاتی مشاہدات کو اپنی قلم کے ذریعے محفوظ کر دیا یہ اس بات کی بیّن دلیل اور ٹھوس ثبوت ہے کہ وہ مسجد آج بھی جوں کی توں وہاں موجود ہے اور شق القمر وغیرہ کے واقعات بھی بالکل برحق اور سچے ہیں۔

    ہاں مرور زمانہ اور انقلابات دھرکی وجہ سے اگر اس مسجد میں کوئی تبدیلی، کمی یا زیادتی واقع ہو گئی ہو تو وہ ایک الگ بات ہے اور ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ محترم مولانا اختر امام صاحب نے اپنے اس مضمون میں اس مسجد کے بارے میں جو واقعات و علامات بیان کئے ہیں وہی تقریباً ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نے بھی اپنے مضمون میں بیان کئے ہیں۔ میرا ان سطور لکھنے کا مقصد صرف ڈاکٹر صلاح الدین کا تجسس رفع کرنااور مسجد کی حقیقت کو منظر عام پر لانا ہے کیونکہ یہ ایک کار ثواب بھی ہے اور پھر جس طرح سے ڈاکٹر صاحب نے اس مسجد کا ذکر چھیڑا ہے اس سے ان کی مسجد اور محراب سے والہانہ محبت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جرائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)

    جنگ مورخہ 20فروری 2010ء میں جناب جاوید اللہ راجہ نے برصغیر کی پہلی مسجد کے نام سے مضمون لکھ کر نہایت اہم و مصدقہ معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ آپ نے مسجد کا نام چیرامن مالک مسجد بتایا ہے اور اس کی موجودہ حالت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔ آپ نے راجہ کیرالہ ولیا تھمپورام کے جانشین اور اے یو آصف صحافی کے درمیان انٹرویو کا ذکر کر کے بتایا کہ راجہ خود مدینہ منورہ گیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق کی موجودگی میں رسول اکرم کے ہاتھوں مسلمان ہوا تھا اور اس کا نام تاج الدین رکھا گیا تھا اور واپسی میں عمان میں سلالہ کے مقام پر وفات پائی تھی۔ وفات سے پہلے اپنے وزیر کے ہمراہ صحابی مالک بن دینار کے ہاتھ ایک خط کیرالہ کے حکمران کو بھیج کر تاکید کی تھی کہ مسلمان ہو جائے ۔ اس نے اس کی تکمیل کی اور حضرت مالک بن دینار کو مسجد بنانے کی اجازت دی جو کوڈ نگالور کے مقام پر تعمیر کی گئی اور چیرامن مالک مسجد کہلائی جو ابھی بھی اپنے اصلی ڈھانچے میں موجود ہے ۔ جاوید صاحب نے ایک اور تحریر بقلم جناب خلیل احمد عرفانی درگاہ لالو بھائی قیصر چشتی (خواجہ بنگلور) اور آستانہ عرفانیہ حیدرآباد کا ذکر کیا ہے جس سے جناب یوسف کی مہیا کردہ معلومات کی تصدیق ہوتی ہے۔ جاوید صاحب سے میری درخواست ہے کہ وہ مسجد کے بارے میں مزید معلومات اور تصاویر جنگ میگزین میں شائع کرا کے قارئین کو اس بیش بہا معلومات سے مستفید ہونے کی سعاد ت عطا کریں۔ (جزاک اللہ )

    یہ تو اس خوبصورت مضامین کا خلاصہ ہے جوبرادران محترم ضیاء الرحمن صدیقی اور جناب جاوید اللہ راجہ نے لکھ کر ایک احسان عظیم کیا ہے اور برصغیر کے مسلمانوں کو ان بیش بہا معلومات سے آگاہ کیا ہے۔ اللہ رب العزت محترم برادران محترم جناب محمد احمد سبز واری ، جناب تمیز الحق ، جناب ڈاکٹر صلاح الدین، جناب ضیا ء الرحمن صدیقی، جناب ڈاکٹر حق نواز اعوان و مولانا اختر امام عادل صاحب اور جناب جاوید اللہ راجہ پر کرم فرمائیں اور جزائے خیر عطا فرمائیں۔ (آمین) اس خادم نے ان تمام معلومات کو ایک کالم میں یکجا کر دیا ہے کہ قارئین کو ایک ہی جگہ یہ اہم معلومات میسر آجائیں۔

          

    $ ہر بلائے کز آسمان اُفتَد    3/10/2010

     

    مشہور فارسی شاعر انوری #کا شعر ہے ”ہر بلائے کز آسمان افتدخانئہ انوری رامی پر سد“ یعنی ہر بلا جو آسمان سے اترتی ہے وہ انوری کے گھر کا پتہ پوچھتی ہے مطلب یہ ہے کہ ہر بلا انوری کے گھر پر ہی نازل ہوتی ہے۔ یہ حقیقت نہیں کیونکہ ہر انسان کو اپنی تکلیف اور دوسروں کا آرام زیادہ معلوم ہوتا ہے۔یہ انفرادی مصیبت کی بات ہے جو خود کی کوشش، توبہ، دعا اور وسائل سے دور ہو جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر خود کے اعمال اور دنیاوی اعتبار سے خود کی غلطیوں سے آتی ہے۔

    اور اس کے لئے کہا گیا ہے ”جان من خود کرداری۔ خود کردہ را تدبیر نیست“ یعنی اے جان من تو نے یہ خود کیا ہے اور اس کا مداوا کچھ نہیں۔

    دوسری آفت یا بلا اجتماعی ہوتی ہے اس میں انسان کا عمل دخل کم اور قدرت کی کار فرمائی زیادہ ہوتی ہے جیسے قحط ، سیلاب ، آندھی ، طوفان، زلزلہ وغیرہ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ عذاب الہیٰ نافرمان امتوں پر نازل ہوتا رہا اور قومیں اس قہر خداوندی سے ہلاک ہو گئیں جیسے فرعون کی غرقابی، قوم عاد و ثمود پر پتھروں کی بارش، کبھی زلزلہ آتا ہے کبھی آندھی طوفان، یہ سب حکم ربی سے ہوتا ہے ۔ انسان کسی بھی دور میں بھی انہیں کسی بھی صور ت میں نہیں روک سکتا۔

    بزرگ لوگ اسی لئے پناہ مانگتے ہیں”اللّھُم اَحفِظنا مِن کُلِّ بَلاءَ الدّنیا وَ الاخِر ة “اللہ مجھے دنیا اور آخرت کی آزمائشوں سے محفوظ رکھ(آمین)۔

    عوام کی دی ہوئی آفات کے ساتھ آسمانی سلطانی مصیبتوں سے پناہ مانگی جاتی ہے ، آسمانی توقہر خداوندی کا نتیجہ ہیں لیکن سلطانی سے مراد حاکم وقت کا عتاب، جبر اور تشدد ہے ۔ حاکمانِ وقت اپنے آپ کو مختار کامل سمجھ کر سخت سے سخت سزا دینے کو اپنی حکومت کے لئے لازم سمجھتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ کے سامنے پیش ہو کر محاسبہ کا خوف نہیں رہتا اور اس عارضی دنیاوی عظمت کو دائمی حق سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ انکے سامنے ان سے زیادہ اقتدار و قوت کے مالک فنا ہو کر باعث عبرت بن چکے ہیں۔

    کلام مجید میں اللہ رب العزت نے سورة مومن آیت 82میں نہایت صاف و سادہ الفاظ میں ایسے لوگوں کو یوں انتباہ کیا ہے۔ ” کیا ان لوگوں (گنہگاروں ) نے زمین پر گھوم پھر کر نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا حالانکہ وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور زمین میں اپنے نشانات بنانے کے اعتبار سے بہت بڑھ چڑھ کر تھے تو جو کچھ یہ( گنہگار ) کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔“مگر اپنے آگے وہ کچھ دیکھنے سننے کو تیار نہیں۔ ان کے دلوں پر زنگ ، آنکھوں پر پردہ چڑھا ہوا ہے ، وہ خوشامدیوں میں گھر ے رہتے ہیں اور اپنی تعریف سے خوش ہو کر ایک سے بڑھ کر ایک گناہ عظیم، جبر ،ظلم، ایذا رسانی، حق تلفی اور ناانصافی کی شکل میں کئے جاتے ہیں۔

    یہاں تک کہ اللہ کی گرفت ان کو معذور کر کے ہلا ک کر دیتی ہے اور وہ تاریخ کا سیاہ باب بن جاتے ہیں اور تو اور حاکم کی بد نیتی سے قوم کی برکت تک ختم ہو جاتی ہے۔ ایک کہانی اس کی یوں عکاسی کرتی ہے۔

    ایک بادشاہ جنگل میں شکار کر رہا تھا۔ پیاس کی شد ت سے ایک جھونپڑی پر پہنچا تو جھونپڑی میں موجو د ایک عورت نے فوراََ اسے اور اس کے ساتھیوں کو گنے کا رس لا کر پینے کو دیا۔ بادشاہ نے پوچھا یہ کتنے گنوں سے نکلا ہے؟ عورت نے جواب دیا کہ ایک گنے سے، بادشاہ نے سوچا کہ یہاں فصل اچھی ہوتی ہے یہاں لگان بڑھا دوں گا۔ بادشاہ اور اس کے ساتھی واپس چلے گئے ، ایک سال بعد پھر اسی جھونپڑی پر آئے اور پانی مانگا، عورت بہت دیر کے بعد آئی ، بادشاہ نے جب بہت پوچھا تو وہ بولی کہ شاید ملک کے بادشاہ کی نیت خراب ہو گئی ہے، پانچ چھ گنّوں سے بھی کچھ زیادہ رس نہیں نکلا، بادشاہ دل میں بہت شرمندہ ہوا اور اپنے لگان بڑھانے کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔ ہمارے ملک کی برکت بھی شاید اسی لئے ختم ہوتی جا رہی ہے کہ حکومت کی نیت میں فتو ر ہے۔

    کربلا کا لفظ بھی شاید کرب و بلا سے ہی وجود میں آیا جہا ں ایک حق پرست حق شناس عالی نسب کو دنیاوی جاہ و جلال کے حصول کے لئے شہید کیا گیا مگر اس جاہ و جلا ل والی ہستی کو حکومت اپنے خاندان میں رکھنا نصیب نہیں ہوا۔ سارے رفقاء مارے گئے اور خود تین سال بعد فوت ہوا تو اس کے پرہیز گار اور متقی بیٹے معاویہ نے تین ماہ بعد حکومت سے دستبرداری اختیار کی اور مروان ابن الحکم خلیفہ بن گیا۔اس نے حکومت سنبھالنے کے بعد خالد بن یزید کی ماں سے عقد کیا اور بجائے خالد بن یزید کے اپنے بیٹے عبد الملک کو ولی عہد نامز د کر دیا اور خود خالد بن یزیدکی ماں اور اپنی بیوی کے ہاتھوں قتل ہوا اور سلطنت یزید کے خاندان میں نہ رہی چنانچہ جس مقصد کے لئے یہ ظلم و تشد د کیا گیا وہ حاصل نہ ہو سکااور یزید کو اپنے جرم کی سزا ملی۔

    انسان اپنے اور اپنے ورثاء کے لئے بڑی بڑی تدبیریں کرتا ہے لیکن مقدر کے آگے اس کا زور نہیں چلتا،”تدبیر کُند بندہ، تقدیر رندَ خندہ“ ۔ یعنی تدبیر تو بندہ کرتا ہے مگر تقدیر اس پر ہنستی ہے (یعنی قدرت فیصلہ کرتی ہے) یہ ہماری صدی کی بات ہے کہ شاہ ایران نے وارث کے لئے پہلی بیوی کو طلاق دی ، دوسری بیوی سے وارث تو پید ا ہو گیا مگر وہ ایران کی سر زمین میں قدم رکھنے کا بھی مجاز نہیں ہے۔ خود شاہ ایران کو اپنی سلطنت میں دفن ہونے کے لئے جگہ نہ مل سکی۔

    قوم کے لئے نا انصاف ، جابر، حریص حاکموں کی حکمرانی بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی جس کی کئی شکلیں ہوتی ہیں ۔ ہماری قوم کے اعمال صدیوں حکومت کرنے کی وجہ سے اتنے بگڑ گئے تھے کہ دوسو سال انگریزوں کی غلامی کی سز ا بھگتنی پڑی پھر ہمارے نیک بندوں کی دعاؤں سے یہ تاریک بادل چھٹ گئے اور ان ظالموں کے ہاتھوں سے چھین کراور دوسرے بڑے دشمن ہندؤں کا کلیجہ چیر کرایک سب سے بڑی اسلامی حکومت وجود میں آگئی مگر ہماری حرکتیں بھی صہیونی ہو گئی ہیں، عذاب ٹلتے ہیں پھر وہی گناہ کے راستے اختیار کرتے ہیں ۔ پاکستان کے وجود میں آتے ہی اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو گئی ۔ہندوستان میں اپنی سینکڑوں زمینیں چھوڑ کے آنے والا یو پی کا سب سے بڑا زمیندار لیاقت علی خان ، لالچی اور سازشیوں کے ہاتھوں شہید ہوا اور وہیں سے زوال کا دور شروع ہوا۔

    غلام محمدنے صحیح معنوں میں ڈکٹیٹر کا رول ادا کیا اور اپنی مرضی کے خلاف کوئی بھی بات برداشت نہ کی۔ مسلسل وزیر اعظم برطرف ہوتے گئے اور پوری قوم ایک اپاہج ظالم کے آگے جھکی رہی ۔ عدالتیں، لیڈر، افسران سب ہی تابعداری میں لگ گئے اور ذاتی فائدے حاصل کرتے رہے۔ پھر مسلسل ڈکٹیٹری دور آیا اور ایوب خان نے جمہوریت کا وعدہ کرتے ہوئے برسوں حکومت کی فیلڈ مارشل بن گئے مگر صدارت نہیں چھوڑی۔ یحییٰ خان نے جمہوریت کا وعدہ نبھایا لیکن خود کو اپنی جگہ قائم رکھنے کی کوشش میں ظلم و جبر کا وہ بازار گرم کیا کہ یہ مملکت خداداد جسے برسوں کی کاوشوں سے حاصل کیا گیا تھا اُس کی ناانصافی و جبر اور غیر مسلم طاقتوں کی سازشوں سے دو لخت ہو گئی ، مخالف خوش ہو گئے ۔ قوم کسمپرسی کی حالت میں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر سہارا دیا اور قوم سنبھل گئی۔ ابتدائی دور میں بڑے بڑے کام کرنے والا شخص رفتہ رفتہ لوگوں میں غیر مقبول ہو گیا اور بقول شخصے (Power corrupts, absolute power corrupts absolutely) جیسا کہ اقتدار بد عنوا نی لاتا ہے اور مکمل بد عنوا نی کا پیش خیمہ ثابت ہو گیا۔ نتیجہ ضیا ء الحق کو موقع ملا اور اس طرح پھر ایک ڈکٹیٹر مسلط ہو گیا جس نے مغربی طاقتوں سے امداد لی، دینی علماء کے کندھوں پر ہاتھ رکھا، نام نہاد جمہوریت کے بھی خواب دکھلائے ، وزیر اعظم بنایا اور پھر اسے ہٹا دیا اور اپنا تسلط جاری رکھا۔ پورے ملک و قوم پر پھر فوج کا راج ہو گیا اور اس طرح وہ طاقت جو بیرونی حملوں سے حفاظت کے لئے رکھی جاتی ہے وہ اپنے ہی ملک کو لوٹنے میں مصروف ہو گئی۔

    فوجی افسروں نے زمینداروں ، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ نام نہاد جمہوریت کے بعد جنرل ضیاء الحق نے اس بہیمانہ جبری حکومت کو فروغ دیا اور قوم پھر اُسی غم میں مبتلا ہو گئی۔ لوگ اس حکومت سے نالاں ہو کر اپنی ذاتی بھلائی کے لئے خود غرضی کے راستہ پر چل پڑے اور تاجر، ٹھیکیدار اور بڑے بڑے افسر اپنے بینک بیلنس اور جائید ادیں بڑھانے میں لگ گئے ۔ خدا خدا کر کے آخر یہ سلسلہ قدرتی مدد سے ضیاء کی موت پر ختم ہوا۔ پھر غلام اسحق خان جیسا ایماندار صدر اور جنرل مرزا اسلم بیگ جیسا محب وطن اور مخلص آرمی چیف ملا جس نے قومی مفادات کو افضیلت د ی اورعوامی حکومت وجود میں آ گئی۔

    کئی دہائیوں کی آمرانہ حکومت نے عوام اور لیڈروں کے اخلاق پر بُرے اثرات ڈالے اور عوام کی خدمت کی جگہ انکے لیڈر ذاتی مفاد اور من مانی میں پڑ گئے،رشوت ستانی اور اقربا پروری عروج پر پہنچ گئی۔ ایک کے بعد دوسری حکومت آئی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ آخر ایک بار پھر قہر خدا وندی مشرف کی صورت میں نازل ہوا جس نے پچھلے تمام آمروں کو پیچھے چھوڑ کر قوم کی بدحالی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ عوام پر ظلم اور غیروں کی غلامی اس کا مسلک بن گئی اور کتنے ہی نامور لیڈر اس کے حاشیہ بردار ہو گئے۔ علماء کے ایک طبقہ نے اس کی معاونت کی، عدلیہ نے اس کا ہر فعل جائز قرار دے دیا۔ اس نے جابر ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہت کے کام بھی انجام دینا شروع کر دیے۔ ایک معمولی چیف آف آرمی اسٹاف جسے چند ہزار کی تنخواہ ملتی تھی وہ اس قابل ہو گیا کہ اربوں روپے کے قرضے اپنے حکم سے معاف کر دیئے۔ دولت کی ہوس پھر بھی ختم نہ ہوئی تو اپنے ملک کے لوگوں ک دوسرے ملکوں کو دے کر رقم وصول کی اور فاخرانہ انداز میں اپنی کتاب (آپ بیتی ) میں اسکا ذکر بھی کیا۔ چوہدری افتخار جیسے غیور جج نے اسکے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا تو انہیں نہ صرف اپنے منصب سے الگ کر دیا گیا بلکہ انہیں اور ان کے ساتھی ججوں کو نظر بند کر دیا۔ اپنی ہاں میں ہاں ملانے والے مرضی کے ججوں کا تقرر کیا اور ہر ملکی اثاثہ ادنیٰ داموں میں فروخت کرنے لگا۔

    اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر ہم پر رحم کیا اور ہمیں اس ظالم سے چھٹکار ا نصیب ہوا۔ حالانکہ ہم نے اس جابر اور بے ایمان کو بجائے سزا دینے کے عزت و احترام سے گارڈ آف آنر پیش کر کے بلا مواخذہ رخصت ہونے دیا اور اب وہ اپنی لامحدود دولت کے ساتھ بیرونی ممالک کی سیر کر رہا ہے اور ایک معمولی تعلیم یافتہ آدمی بڑے بڑے تعلیمیافتہ ، دانشور لوگوں کو لیکچر دے کر معاوضہ وصول کرنے میں مصروف ہے۔ دوسرا کرم رب العزت نے یہ فرمایا کہ عدلیہ کو آزاد کر دیا حالانکہ ہمارے ہی لوگ انہیں بحال کرنے میں ٹال مٹول کرتے رہے لیکن ہمارے عوام نے انتھک کوشش کر کے یہ ثمر حاصل کر لیا ۔ اب عدلیہ کے فیصلے حق اور دیانت داری کی بنیاد پر ہو رہے ہیں ۔ لیکن لوگ اب بھی جب اپنی مرضی کے خلاف کو ئی فیصلہ سنتے ہیں تو پرانی بد اعمالی عود کر آتی ہے اور ان فیصلوں کے خلاف گفتگو ، حیلہ تراشی اور ناگواری کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اب بھی وقت کی کمی و نزاکت کو سمجھ کر اللہ تعالیٰ سے اس کے ہی الفاظ میں (سورة ممتحنہ آیت نمبر 4) نہایت عاجزی سے یہ دعا مانگیں:

    ” اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی جانب ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں ہمیں لوٹ کر آنا ہے (پس تو ہم پر کرم فرما)۔“ (آمین)

     

              

          

    $ روٹی، کپڑا اور مکان    3/17/2010

     

    یہ ہماری ایک بڑی سیاسی جماعت کا نعرہ ہے جس کی بنیاد پر اُنھوں نے 1971کے الیکشن میں خاصی کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ بے چاری سیدھی سادھی قوم ہے آپ اس کو جو بھی نعرہ دیں ، گولی دیں ، یہ بخوشی قبول کر لیتی ہے۔ پاکستان میں اس نعرہ کے بلند ہونے سے پیشتر یہ کمیونزم سے متاثر ہندوستان میں وجود میں آیا تھا اور یہ اس قد ر مشہور ہو گیا تھا کہ منوج کمار نے اپنی فلم کا یہی نام رکھدیا اور اس کو گولڈن جوبلی منا کر بہت شہرت ملی۔ کمیونزم نے ہندوستان میں پہلے اپنے قدم جمائے (مغربی بنگال اس کا گڑھ تھا) اور پھر پاکستان میں کچھ لوگ اس سے متاثر ہوئے کہ اس میں غریبوں کی مدد کا اصول اور وعدہ تھا۔ یہ تین نام یعنی روٹی، کپڑا اور مکان دراصل غریب انسان کی تین اہم بنیادی ضروریا ت کے نام ہیں یعنی خوراک، رہائش گاہ اور لباس (یعنی ستر پوشی)۔ عیار سیاست دانوں نے اس کی مقبولیت کو سمجھ کر انتخاب میں اپنے منشور میں شامل کر کے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا اور وہ بے چارے غریب کی دلی تمنا اور آواز ہونے کی وجہ سے کامیاب رہے۔ دوسرے وعدوں کی طرح اس کا بھی بُرا حشر ہوا لیکن عوام خواب خرگوش میں مبتلا ہو کر اچھے دنوں کے خواب اور امید میں زند گی گزارنے لگے۔

    ہندوستان میں بھوپال کا ایک چمار جگجیون رام نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع کے عہدے پر فائز ہوا(اس کی بیٹی میرا کماری آجکل لوک سبھا کی اسپیکر ہے) ۔ یہ برسوں وزارت کے عہدے پر رہا اور اسکی مالی حالت اس قدر اچھی ہو گئی کہ پارلی منٹ میں کسی نے جب اس سے سوال کیا کہ جگجیون رام جی آپکے بیٹے سریش بھائی نے چوبیس کروڑ روپیہ انکم ٹیکس کیوں ادا نہیں کیا تو منسٹر صاحب موصوف نے مسکرا کے فرمایا کہ وہ شاید بھول گیا ہو گا۔ اس سے آپ موصو ف کے ماضی اور موجو د ہ دولت کا اندازہ کر سکتے ہیں ۔ کچھ اسی قسم کے معجزات ہمارے ملک میں بھی ظہور پذیر ہوئے ہیں اور عوام ان سے اچھی طرح واقف بھی ہیں لیکن مجبور ہیں ، کچھ کر نہیں سکتے اور بولنے سے ڈرتے ہیں۔ بہرحال یہ اس ملک ہندوستان کا حال ہے جس نے یہ نعرہ ایجا د کیا تھا۔ لاتعداد کئی دوسرے سیاسی لیڈر بھی اس معجزے سے مستفید ہو گئے۔ جب یہ پر کشش نعرہ پاکستان میں داخل ہو ا تو لیڈروں نے اس کو لبیک کہا اور گلے لگا لیا اور ہر گلی کوچے میں یہ نعرہ دیواروں پر نظر آنے لگا اور اس کا چر چا ہونے لگا لیکن نعرہ اورچیز ہے اور اس پر عمل کرنا دوسری چیز۔ اس نعرے کے تین اجزاء میں روٹی ، کپڑا اور مکان ہیں اور ان میں روٹی سب سے زیادہ اہم ہے۔ روٹی صر ف روٹی ہی نہیں بلکہ کھانے پینے کی تما م چیزیں مثلاََ اجناس، ترکاریاں ، گوشت ،چینی گھی اور تیل وغیرہ شامل ہیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال جو کمیونزم سے میلوں دور تھے انہیں بھی یہ کہنا پڑا :

    جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روٹی

    اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلا دو

    ساتھ ہی انہوں نے ہمیں راستہ بھی بتلا دیا جس پر عمل ہو تو موجودہ نظام ہل جائے گا ۔

    اُٹھو میری دنیا کے غر یبوں کو جگا دو

    کاخ اُمراء کے در و دیوار ہلا دو

    یہ بات برصغیر کے بڑے سے بڑے سوشلسٹ لیڈر کے ذہن میں اور زبان پر نہیں آ سکی ۔ راجہ مہدی علی خان نے یہ مشہور گیت لکھا تھا۔ ”دیوانہ آدمی کو بناتی ہیں روٹیاں“، ”خود ناچتی ہیں سب کو نچاتی ہیں روٹیاں“۔ عوامی کہاوت مشہور ہے کہ کسی نے بھٹو صاحب سے پوچھا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا ”چار روٹیاں“۔معین احسن مشہور بھوپالی شاعر جو علی گڑھ چلے گئے تھے انہوں نے بہت پیارا شعر کہاہے:۔

    جب جیب میں پیسے ہوتے ہیں جب پیٹ میں روٹی ہوتی ہے

    اس وقت یہ ذرہ ہیرا ہے اس وقت یہ شبنم موتی ہے

    جگر مراد آبادی کو یہ شعر بہت پسند تھا ۔ بار بار یہ غزل پڑھواتے تھے اور جوش کی طرف مسکر ا کر کہتے تھے ۔ دیکھئے یہ ہے سوشلزم ۔ مذہبی اعتبار سے بھوکے کو کھانا کھلانا ثواب کا کام ہے ۔ پرانے زمانے میں امیر لوگ لنگر جاری کرتے تھے اور آج بھی نیک دل مخیر حضرات محدود طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس کی جزا دے اور بر کت عطا فرمائے۔ آمین

    مشرف نے جہاں لاتعداد بدمعاشیاں کیں وہاں غریبوں سے روٹی تک چھین لی، اپنی گندم سستے داموں بیچ کر مہنگے داموں در آمد کیا اور لوگوں کو لمبی لمبی قطاروں اور فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ۔ خوب کمیشن کھا یا اور مزے اُڑائے ، لاتعداد لوگ زخمی ہوئے اور فوت ہو گئے ۔ یہ کارکردگی ہے ہمارے حکمرانوں کی ۔ ماشاء اللہ موجودہ حکومت اُ س سے بھی دس قدم آگے بڑھ گئی ہے ۔ رمضان المبارک کے مہینے میں وزیروں اور ناظمین نے غریب خواتین او ر مر دوں کو تھپڑ لگا ئے ، جوتے مارے اور ڈنڈے برسائے۔ ایسے حکمران یقینا اپنے اعمال کا صلہ پائیں گے۔ اس بدنظمی کا سب سے بڑا سبب آئندہ آنے والے حالا ت سے غفلت ، ذخیرہ اندوزی اور وقت پر اناج کا ذخیر ہ نہ کرنا ہے اور کرپشن ہے۔ سر سے لے کر پیر تک ان کے بدن تعفّن کا شکار ہیں۔ یہی رواج جاری رہا تو کسان کاشتکار ی چھوڑ دے گا، لوگ اناج کو ترسنے لگیں گے اور غریب مستقل فاقہ کشی پر مجبور ہو جائے گا۔ خدا رحم کرے اور ہمیں ایسے حالات سے محفوظ رکھے ۔ آمین

    دوسری اہم ضرورت کپڑا ہے جس سے ستر پوشی کے تمام وسائل موجو د ہیں۔ انسان کی تخلیق کے بعد ہی شجر ممنوعہ کے پاس جانے سے آدم و حوّا برہنہ ہو گئے تو ستر پوشی کے لئے درختوں کے پتے ان کے کا م آئے ، پھر جانوروں کی کھالیں یہ کام دینے لگیں ، چرخہ کی ایجا د ہوئی تو کھّد ر سے ہوتے ہوتے بڑے بڑے مِل بن گئے لیکن مہنگائی بھی بڑھنے لگی تو ساحر لدھیانوی چلا اُٹھا :

    مِلیں اس لیے ریشم کے ڈھیر بُنتی ہیں

    کہ دختران وطن تار تار کو ترسیں

    آج اُمراء کے پاس ضرورت سے زیادہ اور غریب کے پاس بمشکل ستر چھپانے کو کپڑ ے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ نئے نئے فیشن کی وجہ سے امیر لوگ پرانے کپڑے جلد غریبوں کو دے دیتے ہیں۔ اسی طرح باہر سے پرانے کپڑے ، جو اعلیٰ قسم کے اور اچھی حالت میں ہوتے ہیں ، در آمد کئے جاتے ہیں اور لنڈ ا بازار میں معمولی قیمت پر غربیوں کو مل جاتے ہیں اور خاص طور پر سر دی کے موسم میں ان کو سردی کی شد ت سے بچا لیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ عر صہ بعد لوگ بنیان اور لنگی اور پھر شاید قدرتی لباس میں نظر آنے لگیں۔ اسی لئے شاعر نے برجستہ کہا تھا:

    تن کی عریانی سے بہتر ہی نہیں کوئی لباس

    یہ وہ جامہ ہے نہیں جس کا کچھ اُلٹا سیدھا

    کپڑے کی انسان کو نہ صرف زندگی میں بلکہ موت کے بعد بھی کفن کی صورت میں ضرورت پیش آتی ہے گویا :

    جائے گا جب یہاں سے کچھ بھی پاس نہ ہو گا

    دو گز کفن کا ٹکڑا تیرا لباس ہو گا

    (اسد بھوپالی )

    نعرے لگانے کے بجائے موجودہ حکومت کا فرض ہے کہ غریبوں کو کم قیمت پر کپڑا مہیا کرے اور اپنے لیڈروں کے وعدوں کا ایفا کرے۔

    سب سے آخری مگر نہایت اہم ضرورت سر چھپانے کی جگہ ہے جس کو کُٹیا ، چھونپڑی، مکان، فلیٹ، حویلی، محل وغیرہ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ۔

    دراصل یہ سائبان سر چھپانے اور قیام و رہائش کی جگہ ہے جسے کسی نہ کسی طرح حاصل کرنا فطرت و ضرورت انسانی ہے۔ آسمان ، فلک ، چرخ نیلی کو شاعروں نے ظالم اور بُرا کہا ہے سوائے ایک شاعر آتش لکھنوی کے جس نے کہا تھا:

    خدا دراز کرے عمر چر خ نیلی کی

    کہ ہم اسیروں کی تربت پہ شامیانہ ہوا

    وہ تو تربت پر شامیانہ کو غنیمت سمجھتے ہیں مگر آج زندہ لوگ چھت سے محروم ہیں اور شاعر کو کہنا پڑتا ہے:

    فٹ پاتھ پہ سو جاتے ہیں اخبار بچھا کر

    مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

    اس طرح پچھلے چند سالوں میں لوگوں کو اس حالت میں پہنچا دیا ہے کہ آج فٹ پاتھ ، ویران علاقہ ، کھنڈرات ، درختوں کے سائے اور کچی جھونپڑیا ں ان کی پناہ گاہیں بن گئی ہیں۔ غریب اب غریب سے غریب تر ہو گیا ہے، نہ کھانا مل رہا ہے ، نہ کپڑاپہننے کو مل رہا ہے اور نہ سر پہ سایہ ہے۔ یہ موجودہ ترقی یافتہ زمانہ ہے اس کے مقابلہ میں ذرا وہ غیر ترقی یافتہ زمانہ جو حضرت عمر اور حضرت عمر بن عبد العزیز کا دیکھیں ، کوئی غریب نہ تھا، کوئی زکوة لینے والا نہیں ملتا تھا۔ نہ ہوائی جہاز، نہ بحری جہاز، ریل ، ٹرک، ٹیلیفون، موبائل، ای میل، فیکس وغیرہ کچھ بھی نہ تھا پھر بھی مدینہ سے تاشقند ، ثمر قند اور شمالی افریقہ تک کے ممالک کے عوام کو تمام ضروریات زندگی میسر تھیں اور امن و امان قائم تھا۔ حکمران خوف الہٰی سے کانپتے تھے اور رات میں گھنٹوں عبادت اور دعا مانگتے رہتے تھے۔ مگر آج کے حکمران ہر چند روز بعد ایوانوں میں عشائیہ دیتے ہیں ، لاکھوں روپے کے اعلیٰ کھانے کھائے جاتے ہیں اور عوام کو ہر دوسرے روز جھوٹے وعدوں سے بہلا دیا جاتا ہے ۔ اس کی یقینا باز پُرس ہو گی اور ان کے اعمال کا بدلہ ان کو دیا جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہیں اور مخلص لوگوں کی تجاریز اور مشورے ان کے بہرے کانوں تک نہیں پہنچتے ، گویا بقول مومن#:

    تیرا ہی دل نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں

    کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے جوکہ ایوانوں کے مکینوں کے ضمیر کو ہلانے کو کافی ہے :

    ”جو گھر بنا تے ہیں اس گھر میں وہ نہیں رہتے “

    بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ روٹی ، کپڑ ا اور مکان کا نعرہ توپورا نہ ہو سکا بلکہ اس کی جگہ جوتا، لاٹھی اور تھپڑ نے لے لی ہے۔

     

     

     

              

          

    $ ایک کو ایک کھائے لیتے ہیں      3/24/2010

    قدرت کے اندر آپ کو بہت سے ایسے واقعات نظر آتے ہیں جہاں ایک ہم جنس دوسرے ہم جنس کو کھا جاتا ہے ۔ آپ نے یہ منظر کئی بار دیکھا ہو گا کہ ایک دس بارہ فٹ بڑ اسانپ ایک چھ سات فٹ کے سانپ کو کمر سے منھ میں پکڑتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنے منھ کو اپنے شکار کے سر کی جانب لا کر اس کو منھ میں لے کر نگلنا شروع کر تا ہے اور چند منٹ میں اتنے بڑے سانپ کو نگل کر سکون کا سانس لیتا ہے ۔ دوسرے جانوروں میں شیر اور بِلا اپنے بچوں کو مارنے اور کھانے میں مشہور ہیں۔ ان کا یہ عمل شیرنی اور بلی کو بچوں سے محروم کر کے جلد از جلد دوبارہ جنسی تعلقات کے لئے تیار کرنا ہوتا ہے ۔ ہاں اسی طرح کا رویہ سیل (Seal) بھاری بدن سگ ماہی کا نر بھی کر تا ہے وہ چھوٹے بچوں کو گھیر کر ان پر اپنا بہت بھاری بدن ڈال کر ان کا دم گھونٹ دیتا ہے اور اس کا مقصد بھی وہی ہوتا ہے جو شیر اور بِلے کا ہوتا ہے۔ آئیے اب ہم انسانوں کے بارہ میں کچھ باتیں کرتے ہیں۔

    اہل ادب اچھی طرح جانتے ہیں کہ نواب مرزا خان داغ دہلوی اردو کے مایہ ناز شاعر تھے (اور علامہ اقبال کے استاد گرامی بھی تھے)اور زباندانی ان کا منفرد انداز تھا۔ محاورات اور زبان کا استعمال ان کے کلام کا خاصہ تھا لیکن محض زباندانی ہی نہیں بلکہ مفہوم بھی بہت گہرا ہوتا تھا ۔ ان کے اشعار زبان زد خاص و عام ہیں ، ان کا یہ مشہور شعر اس کالم کا عنوان ہے۔

    دیکھنا داغ ان کی محفل میں

    ایک کو ایک کھائے لیتے ہیں

    کھائے لینا حقیقت میں رزق کا کھانا نہیں بلکہ دشمنی کا مظہر ہے۔ یہ عداوت تو محفل میں بیان کی گئی ہے اور عاشقانہ شاعری کا ایک بیان ہے مگر اس سے آگے بھی بہت کچھ ہے مثلاََ اپنا مفاد ، ذاتی غرض ، دوسرے سے زیادہ مال و دولت جمع کرنا خواہ یہ ناجائز طریقے سے ہی کیوں نہ ہو ، مختصراََ خود غرضی اصل سبب ہے ۔ اگر ہم محفل سے بڑھ کر دیکھیں تو خاندانوں ، قبائلیوں اور قوم میں بھی یہ لعنت موجود ہے اور یہ خرابی کا بہت بڑا سبب ہے ۔ اس کا متضاد ایثا ر ہے جہاں اپنی ضرورت و غرض سے زیادہ دوسرے کو فائد ہ پہنچانا ہوتا ہے ۔ مگر یہ پرانی روِش ، بھلائی اور اخلاق و کردار تو اب صرف کتابوں کی رونق بن کر رہ گئے ہیں۔ پرانے زمانہ میں اسلامی دور میں جنگ میں زخمیوں کی دیکھ بھال کرنا اور پانی پلانے کا رواج شروع ہوا تو ایک زخمی نے خود پانی پینے کے بجائے دوسرے زخمی کو دے دیا اور اس نے تیسرے زخمی کو دے دیا۔ اس ایثار کے اظہار میں تینوں شہید ہو گئے۔ آج کے دور میں یہ نہ دیکھنے میں اور نہ سننے میں ملے گا بلکہ انسانیت کی ذلالت کی بدترین مثال افغانستان میں نظر آئی جب لوگوں نے اپنے مخالفین زخمی لوگوں کو گولیاں مار کر ان کے دانت توڑ کر نکال کئے کہ ان میں کچھ سونا لگا ہوا تھا۔ اب یہ وطیرہ ہے کہ اپنے پاس سب کچھ ہونے کے باوجو د دوسرے کے مال و جائیداد پر نظر رہتی ہے اور انسان جواری کی طرح دوسرے کا مال ناجائز طریقوں سے ہتھیانے کی فکر میں لگا رہتا ہے، جائیداد کے جھگڑے ، مقدمہ بازی ، آپس میں معمولی سی بات پر لڑائی اور ہلاکتیں، یہ سب اسی خود غرضی کے ثمرات ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک فریق حق پر اور دوسرا ناجائز دعویدار ہوتا ہے، انصاف کے حصول میں تاخیر نا قابل برداشت ہوتی ہے ، گولیاں چلنے لگتی ہیں اور نتیجہ ہلاکتوں کی شکل میں نکلتا ہے۔ تھوڑی سی زمین کے ٹکڑے کے لئے باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ اور ماں کو قتل کر دیتا ہے۔ یہ خود غرضی اور مفاد پرستی اب زر وزمین سے کہیں آگے نکل گئی ہے اور اب اس میں اقتدار کا حصول ، شہرت کی خواہش ، مخالف کو بد نام کرنا اور بے عزت و بے حیثیت بنانے کا جذبہ کار فرما ہوتاہے۔ ایک گناہ دوسرے کو جنم دیتا ہے ، اسی طرح جھوٹ اور مکاری و عیاری سے کام لیا جاتا ہے بقول داغ :

    ہر چند داغ # ایک ہی عیار ہے مگر

    دشمن بھی تو چھٹے ہوئے سارے جہاں کے ہیں

    آجکل زر اور اقتدار دونوں ہی عیار ی اور مکاری سے حاصل ہوسکتے ہیں ۔ اس کے لئے عوام کو جھوٹے وعدے کر کے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں ، ان کو دھوکا ، لالچ اور کبھی ڈرا دھمکا کر اور بلیک میل کر کے اپنے حق میں یا اپنے ساتھیوں کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے، ووٹ حاصل کر کے اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد وعدے پورا کرنا تو کُجا اس آبادی میں جانا اور وہاں کے لوگوں سے ملاقات کرنا بھی کسرِ شان ہوتا ہے۔ شاید ایسی ہی جمہوریت کے لئے علامہ اقبال نے خبردار کیا تھا:

    گریز از طر ز جمہوری غلام پختہ کار ے شو

    کہ از مغز د و صد خر فکرانسانی نمی آید

    یعنی ”اے ذہین غلام جمہوری طرز سے دور ہی رہ کیونکہ دو سو گدھوں کے دماغ سے انسانی فکر و عقل نہیں آتی “۔ ہم واقعی پرانے غلام ہیں کیونکہ تقریباََ دو سو سال انگریزی دور حکومت سے قبل مطلق الشان بادشاہوں کے تابع تھے جو صر ف اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کی بھلائی کے سو ا کچھ نہیں سوچتے تھے، عیاشی ، ظلم او رخود غرضی ان کا مزاج تھی اگر خوش قسمتی سے کوئی ایک حکمران نیک اور انصاف پسند آبھی گیا تو اس کے بعد وہی دور شروع ہو جاتا تھا۔ عوام بادشاہ کی خوشی میں خوش ہونے پر مجبور تھے۔ اب ان بادشاہوں ، نوابوں اور راجاؤں کی جگہ سیا سی بادشاہوں، وزیروں اور مشیروں نے لے لی ہے۔ آس پا س در جنوں حفاظتی گارڈ و گاڑیاں ، گزر گاہوں پر عوام کی آمد و رفت بند قیمتی بلٹ پروف گاڑیوں کے جلوس پرانے بادشاہو ں سے بھی زیادہ تکلیف کا باعث ہے۔ پھر اس کے بعد اپنی طا قت کو قائم کے لئے مخالفین پر ہر ممکن طریقہ سے بند شیں ، پابندیاں ، مقدمات اور سزائیں ، اس کے لئے انتظامیہ اپنی مرضی کی اور عدلیہ اپنی مرضی کی ہونا ضروری ہوتی ہیں ۔ اگر کسی نے اپنے ضمیر کی آواز پر نا انصافی کرنے سے گریز کیا تو اس کی بھی شامت آجاتی ہے جیسے جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مشر ف کی غلط بات نہیں مانی تو بے عزتی کر کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اب عوام ، وکلاء اور اداروں کی کوشش سے اور غریب اور مظلوم لوگوں کی دعا سے امید کی کرن نظر آئی مگر خود غرض عناصر اس شمع کو پھر بجھانے کی کوشش میں ہیں لیکن وہ انشاء اللہ اس میں ناکام رہیں گے

    بقول شخصے:

    جاکو راکھے سائیاں مار ساکے نہ کوئی

    بال نا بانکا کر ساکے جو دو جگ بیری ہوئے

    جمہوری طرز زندگی حکومت مغربی ممالک میں برسوں سے رائج ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے قدم جمالئے ہیں ا ور اس سے برائیاں دور ہو گئی ہیں۔ ایشیائی ممالک میں ابھی یہ طرز حکومت اچھی طرح چل نہیں سکا ہے اور اس کی آڑ میں عیاری ، مکاری سے کام لے کر عوام کو بیوقوف بناتے رہتے ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ چرچل ہندوستان کو آزادی دینے کے سخت خلاف تھا اور اس کے خیال میں ہندوستانی سو سال تک بھی ایک آزاد قوم کی حیثیت سے رہنے کے قابل نہیں تھے۔ اس کا اندازہ کس قدر صحیح تھا وہ ہمارے آج کے حالات سے ظا ہر ہیں۔ باسٹھ سال بعد بھی ہم ایک آزاد ، فلاحی مملکت بنانے میں ناکام رہے ہیں، زمیندار ، جاگیر دار اور عیار لوگ بھیس بدل کر عوامی نمائندے بن گئے ہیں اور عوام کی خوشحالی ختم کر کے خود خوشحال اور کروڑ پتی بن گئے ہیں یعنی امیر اب زیادہ امیر اور غریب اب فاقہ کش بن گئے ہیں۔یہ خرابی پورے برصغیر پر چھا گئی ہے ۔ ہندوستان میں اس کا دوسرا رخ ہے اور ہمارے یہاں دوسرا ۔ یہ آزادی کے چند سال بعد ہی شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی نے مجبور ہو کر کہہ دیا تھا:

    کھدّر پہن پہن کے بد اطوار آگئے

    بن کر سفید پوش بد اطوار آ گئے

    اور

    انسان کا لہو تو پیو اذن عام ہے

    انگور کی شراب کا پینا حرام ہے

    یہ وہی شاعرتھے جنہوں نے انگریزی دور میں حکومت کے خلاف ان کے سب سے بڑے دشمن ہٹلر کو مخاطب کر کے کہا تھا:

    سنا تو ہو گا تو نے ایک انسانوں کی بستی ہے

    جہاں جیتے ہوئے ہر چیز جینے کو ترستی ہے

    بکنگھم کی خبر لینے جو اَب کی بار تو جانا

    ہمارے نام سے بھی ایک گولہ پھینکتے آنا

    اس شاعری کے صلہ میں جوش کو جیل بھی جانا پڑا ۔ اس دور میں سیاسی جماعتیں حتیٰ کہ کمیونسٹ پارٹی بھی ان شدید الفاظ میں احتجاج نہیں کرتی تھی کیونکہ روس اس وقت برطانیہ کا دوست تھا اور روس کمیونسٹوں کا امام تھا۔ جمہوری نظام کی بقا کے لئے عوام میں بیداری اور طاقت ہونا لازم ہے۔ میڈیا آجکل یہ فرض بخوبی سمجھ رہا ہے اور اس پر عمل کر رہا ہے ۔ عوام بھی اب سیاسی دام و فریب سمجھنے لگے ہیں۔ عدالتیں الحمد و للہ آزاد ہو کر عوام کو انصاف پہنچانے اور چوروں اور لٹیروں اور دھوکے باز وں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مصروف ہیں اور ان کے حامیوں کی لگائی ہوئی رکاوٹوں کو ہٹانے میں مصروف ہیں ۔

    اگر عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تو حق کامیاب اور باطل ناکام ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے عوام کو عقل و فہم اور ہمت و کامیابی عطا فرمائے ۔ (آمین)اب تو ہم اس امید پر زند ہ ہیں کہ وہ خوشگوار صبح کبھی تو آئے گی اور انشاء اللہ بہت جلد آئیگی۔ (آمین )

    نوٹ: میرے پچھلے کالم ”روٹی ،کپڑا اور مکان“ کے جواب میں گزشتہ اتوار کو ضرورت سے زیادہ وفا دار اور جلد باز صاحب نے ایک دھمکی آمیز عنوان سے کالم لکھ ماراکہ ”خان صاحب ۔ذرا سنبھل کر “ اس قسم کے لوگوں کا جواب میں نہیں دیا کرتا مگر یہ غلط فہمی ضرور دور کروں گا کہ میں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت نہیں کی ،میں خود بھٹو صاحب کا مداح ہوں ،میں بھٹو صاحب کی بہادری اور خودی جیسے بہت سے اوصاف سے واقف ہوں جو موجودہ دور میں ناپید ہیں ،اب گھوڑے اور گدھے میں کچھ تو فرق ہے ،میں ہر شخص کی بلا وجہ تعریف نہیں کرسکتا۔میرے پچھلے کالموں کو اٹھا کر دیکھیں تومعلوم ہوجائے گا کہ میں بھٹو صاحب کے بارے میں اپنے دل میں کیا احترام رکھتا ہوں،باقی الزامات بھی فضول ہیں اور قابلِ جواب نہیں۔

     

              

          

    $ عدل و انصاف ۔ اللہ کا پسند یدہ عمل   3/31/2010

     

    انصاف ایماندارانہ و حقیقی فیصلہ کا نام ہے۔ انسان کے معاشرہ کی ابتداء سے اس کی شدید ضرورت ہر ملک و قوم و فرقہ اور جماعت میں رہی ہے۔ ہندی میں نیائے، انگریزی میں جسٹس اور فارسی میں اس کو داد رسی و انصاف کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سب سے بڑا انصاف کرنے والا اللہ رب العزت ہے۔ منصف ِ حقیقی وہی ہے اور اس کا انصاف حشر میں مکمل ہو گا لیکن جلد باز، بے صبرا انسان بے جا شکایت کرنے لگتا ہے۔ فیض # نے تڑپ کر یہ شعر کہہ دیا تھا:

    مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

    منصف ہو تو پھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

    شاعر عموماً مستی و جوش میں (اور خود کو باغی دکھانے کے لئے )حد سے نکل جاتے ہیں اور نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ سے شکایت کی جرأت کرنے لگتے ہیں ۔ حفیظ جالندھری کے خاص دوست ہری چند اختر نے کہا تھا:

    ملے گی شیخ کو جنت مجھے دوزخ عطا ہو گا

    بس اتنی بات ہے جس کے لئے محشر بپا ہو گا

    ایک اور مشہور ہندو شاعر نریش کمار شاد# ، جو حشر پر ایمان رکھتے ہیں ، کہتے ہیں :

    داور حشر دیکھ میری طرف

    میں تو ایک رند لااُبالی ہوں

    اس سے پہلے کہ تو سوال کرے

    میں خود ایک جام کا سوالی ہوں

    مرزا غالب# جو اپنی شوخی طبع سے مجبور تھے وہ بھی کہہ اُٹھے :

    پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

    آدمی کوئی ہمارا دم ِ تحریر بھی تھا

    شاعر عموماً بدعقیدہ نہیں ہوتے لیکن شوخی طبع (اور بعض اوقعات آسان شہرت کے حصول کے لئے ) سے مجبور ہو کر کہہ اٹھتا ہے جیسے کہ حفیظ جالندھری نے نوجوان کی سوچ کو سمجھ کر کہا تھا:

    جب حشر کا دن آئے گا

    اس وقت دیکھا جائے گا

    جدید یا ترقی پسند شاعروں نے اپنی مشکلات و کوتاہیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے اُس کے انصاف پر شکوہ و شکایت شروع کر دیا ۔ اس میں جوش بہت بڑھ گئے تھے ۔ اس تمام شکوہ ، شکایات کو دیکھ کر علامہ اقبال نے پہلے تو ان جذبات کی ترجمانی کر کے شکوہ نامی نظم لکھی اور وہ تمام مفروضہ شکایات کر ڈالیں۔ پھر علامہ اقبال نے خود ہی ان تمام کوتاہیوں اور گناہوں کی طرف توجہ دلا کر جواب شکوہ میں نہایت منطقی طریقہ سے ان ناجائز شکایتوں کا منہ توڑ جواب بھی دے دیا۔

    شاعر کو یوم حشر پر یقین ہوتا ہے۔ انصاف کی خدائی صفت امانت کے طور پر انسان کو ودیعت یعنی سپرد کی گئی ہے اور اس کی خیانت کا گناہ ان پر عائد ہوتا ہے جن سے یہ سرزد ہو یا جو اس کا ارتکاب میں معاون و مددگار ہوں یا انصاف کے صدور میں حائل ہوں۔ ہٹ دھرمی ، ناانصافی ، دادرسی اور انصاف کا تنازع ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ سوسائٹی کے تعلیم یافتہ ہونے سے قبل دو فریقوں یا گروپوں کے درمیان فیصلہ کے لئے ایک طریقہ کار کی ضرورت محسوس کی گئی۔ پرانے زمانے میں برصغیر میں کسی بھی آپسی جھگڑے کو نمٹانے کے لئے چند بزرگ منتخب کئے جاتے تھے جو فوراً ہی اکثریت سے فیصلہ کر دیتے تھے اور عموماً یہ فیصلہ ایمانداری پر مبنی اور قابل قبول ہوتا تھا۔ نہ ہی تحریری ریکارڈ رکھا جاتا تھا اور نہ ہی کوئی رکاوٹ پیش آتی تھی۔ فیصلہ کی تعمیل فریقین پر لازمی تھی ورنہ سوشل بائیکاٹ یعنی حقّہ پانی بند جیسی سخت سزا دی جاتی تھی اور اپنے اور پرائے بھی ایسے لوگوں سے مکمل کنارہ کشی کر لیتے تھے۔ پنچائت کے ججوں کو پنج یا پنچ پر میشور کہا جاتا تھا کیونکہ وہ فیصلہ سچائی اور ایمانداری سے کرتے تھے ۔ اردو ، ہندی کے مشہور افسانہ نویس منشی پریم چند نے پچھترسال پیشتر پنج پر میشور نامی افسانہ لکھا تھا جو بے حد مقبول ہوا تھا۔ انہوں نے پرمیشور یا دیوتا کہہ کر پنجوں کو مقدس کا رتبہ دیا ہے۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں ایسا ہی انصاف جرگہ یعنی بزرگوں کی ایک جماعت دیتی ہے۔ اس نظام کی افادیت کے مد نظر انگریزوں نے بھی ولیج پنچایت ایکٹ وضع کر کے پنچایت کے فیصلوں کو تسلیم کیا تھا۔ جب بادشاہ راجہ حکومت کرنے لگے تو انصاف کی حاجت پوری کرنے کے ایک خاص شخص مقرر کر دیا گیا۔ مہاراجہ وکر ماتیہ جو تیسری قبل مسیح میں اجین کا راجہ تھا انصاف کے لئے عدیم المثال شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایران میں نوشیر وان عادل انصاف کے لئے مشہور ہے۔ مسلمانی دور میں یہ فرائض قاضی کے سپرد ہوئے اور اس کی اتنی عزت واہمیت تھی کہ حکمران وقت یا خلیفہ کو عدالت میں بلا لیتا تھا۔ ہمارے پیارے رسول اور خلفائے راشدین کے انصاف کی مثال نہیں ملتی ۔ حضرت عمر اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عدل و انصاف کے واقعات تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ اسلام میں انصاف کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت تین اشخاص ہیں ۔ مفلس مغرور، بوڑھا زانی اور انصاف نہ دینے والا حاکم ۔ اللہ تعالیٰ نے بے وجہ ایک مسلمان کا خون بہانے والے مسلمان اورمشرک کو جہنمی قرار دیا ہے اور انصاف نہ دینے والے حاکم ، منصف یا قاضی کے لئے سخت عذاب لکھا ہے۔ حدیث نبوی میں انصاف نہ دینے والے منصف کے لئے جہنم کا وعدہ ہے۔

    انصاف دو فریقوں کے درمیان حق و سچائی پر مبنی فیصلہ کرنے کا کام ہے۔ جس کے حق میں فیصلہ نہ ہو اس کو ناراضی ہوتی ہے اور اس کے لئے اب دور جدید میں پہلی اور دوسری اپیل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ حکمرانوں اور بااقتدار لوگوں کو اپنی مرضی کے خلاف فیصلے سننے اور ماننے کی عادت نہیں ہوتی ۔ اسی وجہ سے زمانہ قدیم سے آج تک حاکمان وقت عدلیہ پر اپنا تسلط رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک شکل اپنی مرضی کے جج مقرر کرنا ، ان کو بلیک میل کرنا، پریشر ڈالنا وغیرہ ہے۔ پرانے زمانے میں حکمرانوں کا قاضیوں اور مفتیوں کو اپنی مرضی کے مطابق فیصلے نہ دینے پر کوڑے مارنا عام تھا۔ رواج وہی ہے مگر آج کل طریقہ کار بدل گیا ہے جس میں ججوں کی فائلیں کھولنا، بلیک میل کرنا، رشتہ داروں کو پریشان کرنا، تبادلہ ، تنزلی یا فرضی شکایت پر معطل کرنا عام ہو گیا ہے۔ تازہ ترین مثال مشرف کی ہے جس نے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری پر یہ حربہ استعمال کیا تھا مگر منہ کی کھانی پڑی ۔ ہندوستان میں اندرا گاندھی نے چار سینئر ججوں کو نظر انداز کر کے پانچویں کو بنا دیا تھاچاروں فوراً گھر چلے گئے تھے۔ اس کا فائدہ اندرا گاندھی کو یہ ملا کہ جب جسٹس سنہا نے اس کو نااہل قرار دیا تو اسی چیف جسٹس نے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا۔ ہمارے ہاں ضیاء الحق نے انوار الحق سے اور مشرف نے ارشاد حسن خان اور عبدالحمید ڈوگر سے ایسے ہی فیصلے کرائے۔

    اسلام میں انصاف پر بہت زور دیا گیا ہے اور مسلمانوں کے لئے سوشل، معاشی زندگی کے ہر پہلومیں انصاف پسندی کو مقدم قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل احکامات اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔

    (۱)بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورة المائدہ آیت 42)

    (۲)اے ایمان والو ! انصاف پر پختگی سے قائم رہنے والے اور اللہ کیلئے گواہی دینے والے رہو۔ چاہے وہ تمھارے یا تمھارے والدین اور عزیزوں کے خلاف ہی ہو وہ امیر ہو یا مفلس ، اللہ دونوں سے زیادہ حقدار ہے۔پس خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر تم کجی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب خبر دار ہے۔ (سورة النساء آیت135)

    (۳)اے ایمان والو! اللہ کے لئے پختگی سے قائم رہنے والے اور عدل کے ساتھ شہادت دینے والے رہو اور کسی جماعت کی دشمنی تم کو اس پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اس کے ساتھ انصاف ہی نہ کرو۔ ہر حال میں انصاف پر قائم رہو کہ وہ تقویٰ سے بہت قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بے شک اللہ کو اس کی پوری خبر ہے کہ تم کیا کرتے رہتے ہو۔ (سورة المائد ہ آیت 8)

    (۴)اور جب بات کرو تو انصاف ملحوظ رکھو اگرچہ وہ تمہارے کسی قرابت دار کے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔ (سورة انعام آیت 152)

    (۵)آپ (محمد ) کہہ دیں کہ میرے پروردگا ر نے تو عدل و انصاف ہی کا حکم فرمایا ہے ( سورة اعراف آیت 29)

    (۶) بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے۔ (سورة نحل آیت 90)

    (۷) اور آپ (محمد ) کہہ دیں کہ مجھے یہ حکم ملا ہے کہ اپنے اور تمہارے درمیان انصاف کروں (سورة شوریٰ آیت 15)

    (۸)پھر اگر وہ زیادتی کرنے والا گروہ رجوع کر لے تو ان فریقین کے درمیان عدل کے ساتھ صلح و اصلاح کرا دو اور انصاف کا خیال رکھو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ ( سورة حجرات آیت 9)

    (۹)اور یقینا ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی نشانیاں دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ۔(سورة حدید آیت 25)

    ہمارے یہاں ایک نہایت پیچیدہ اور ناقص نظامِ انصاف رائج ہے اور اس میں بہت زیادہ تر ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہاتھ ہے۔ پولیس کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ جھوٹے مقدمات قائم کرنا ، دوستوں اور بااثر لوگوں کے کہنے اور رشوت لے کر بیگناہ شہریوں کے نام ایف آئی آر میں ڈالنا اور ان کو قتل کے مقدمہ میں پھنسا دینا وغیرہ ایسی لعنت ہے کہ جس پر آگے پورا مقدمہ قائم ہوتا ہے اور پھر فیصلہ بھی انہی جھوٹی شہادتوں اور جھوٹے مقدمات کی بنیاد پر ہو جاتا ہے اور جب مقدمات مقامی عدالتوں میں جاتے ہیں تو وہاں بھی اثر و رسوخ اپنا رنگ دکھاتے ہیں یا توفیصلہ بیگناہ کے خلاف ہو جاتا ہے ورنہ چھوٹے چھوٹے مقدمے دس پندرہ سال چلتے جاتے ہیں۔ اخبارات میں اور ٹی وی پر باربار دکھایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان ایسے مقدمات کا نوٹس لے کر ناراضی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کو جلد نمٹانے کی کو شش کرتے ہیں مگر کچھ جج صاحبان نے تاریخیں بڑھانے کا وتیرہ بنا لیا ہے اور اثر و رسوخ میں آر ہے ہیں۔

    ہم جانتے ہیں کہ انگریز نہایت سمجھدار اور عیار تھے اور ان کو حکومت کرنے کا طریقہ آتا تھا ۔ ایک کمشنر یا ڈپٹی کمشنر مقامی لوگوں کی مدد سے اعلیٰ نظم و ضبط قائم رکھتا تھا۔ اس کامیابی کی وجہ ہمیشہ مقامی لوگوں کی ان کے اپنے ہی علاقہ میں تعیناتی تھی۔ آج کل آوا کا آوا ہی ٹیڑھا ہے۔ میانوالی کا آدمی کراچی میں، کراچی کا پنڈی میں اور کوئٹہ کا پشاور میں تعینات کیا جاتا ہے نہ ہی وہ مقامی لوگوں سے واقف ہوتا ہے اور نہ ہی اس کو اس میں دلچسپی ہوتی ہے کہ وہاں کا نظام ٹھیک ہو ، بس پیسہ بنایا اور آگے چل پڑے۔

    میں نے ابھی عرض کیا ہے کہ عدالت جو کچھ اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اس کے مطابق فیصلہ صادر کرتی ہے۔ لوگ اس نقص سے ناواقفیت کی وجہ سے عدلیہ اور انصاف پر شک کرنے لگتے ہیں اور اعتماد کھو دیتے ہیں۔ عدالت تو صرف گواہوں اور ثبوت کی بنیاد پر انصاف کرتی ہے۔ مقدمات میں وکیلوں نے کلیدی رول ادا کرنا شروع کر دیا ہے اور بدقسمتی سے ان کی ہنر مندی اور فن کی وجہ سے عام مقدمے برسوں چلتے رہتے ہیں۔گواہ مر جاتے ہیں یا ان کو خرید لیا جاتا ہے ۔ یہاں بدقسمتی سے عدلیہ بھی اپنا رول ایمانداری سے ادا نہیں کرتی اور لالچ یا دباؤ میں آ کر بار بار مقدمہ کی تاریخ بڑھاتی جاتی ہے حالانکہ ابھی چند دن پیشتر ہی چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری نے اس لعنت کی طرف توجہ دلائی تھی اور برہمی کا اظہار کیا تھا۔

    حقیقت یہ ہے کہ ایک تھانیدار یا انسپکٹر کو اتنی مہارت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ایک یا دو دن کی تفتیش کے بعد حقائق جان لیتا ہے اور مجرم اور ملز م میں تمیز کر لیتا ہے ۔ یہی حال مجسٹریٹ یا سیشن جج کا بھی ہوتا ہے۔وہ دو تین پیشیوں کے بعد مقدمے کی بنیاد تک پہنچ جاتا ہے اور اگر یہ دونوں ادارے ایمانداری اور تیز رفتاری سے اپنے فرائض سر انجام دیں تو تمام مقدمات بہت جلد ختم ہو سکتے ہیں۔میں نے اس کی مثال چین میں بہت قریب سے دیکھی ہے جہاں انصاف یعنی صحیح انصاف دو یا تین پیشیوں میں دے دیا جاتا ہے ۔ نظم وضبط اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نچلی عدلیہ پر بہت بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی روشنی میں انجام دے اور اپنی عاقبت سدھارنے کا بندوبست کرے۔

     

              

          

    $  نظامِ عدل و انصاف ۔ کبھی ہم بھی تھے اس سے آشنا   4/7/2010

     

    اپنے 28جنوری2009کو شائع شدہ کالم میں میں نے آپ کی توجہ چند دلچسپ واقعات کی طرف دلائی تھی ۔ اس میں حضرت عمر کا اپنے بیٹے کے خواب میں آ کر بتانا تھا کہ اس طرح ایک ناقص پل میں سوراخ کی وجہ سے ایک بکری کی ٹانگ ٹوٹنے پر اللہ تعالیٰ نے ان کی سرزنش فرمائی تھی۔حضر ت عمر کے بارے میں مصدقہ بیان ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اگر دریائے دجلہ کے کنارے ایک کتّا بھی بھوک سے مرجائے تو وہ اس کے لئے اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں اسلام آباد کے محلات سے صرف آدھے کلو میٹر دور لوگ بھوکے مر جاتے ہیں۔ پانی ، بجلی ، گیس سے محرومی ہے مگر اصحاب اقتدار کی حِس تک نہیں پھڑکتی ۔ بڑے بڑے عشائیے دیے جاتے ہیں جہاں لاکھوں روپیہ صرف ایک کھانے پر خر چ ہوجاتا ہے۔یہ وہی حضرت عمر ہیں جنہوں نے رات کو گشت کے دوران ایک ماں کو اپنے بچوں کو خالی برتن میں چمچہ چلا کر سلانے کی کوشش کے بارے میں جان کر ہچکیوں سے رونا شروع کر دیا تھا اور گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی تھی اور سامان خوردونوش لا کر اپنے سامنے پکو ا کر بچوں کو کھلوایا تھا۔

    ہماری اسلامی تاریخ میں ایسے لاتعداد سنہری باب ہیں ۔ اعلیٰ نظام حکومت و عدل کے بارے میں نہایت اعلیٰ اور سنہری اصول بیان کئے گئے ہیں۔ آپ کو اس کام کے لئے ہارورڈ ، کیمبرج ، آکسفورڈ جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہاں کے فارغ التحصیل ماہرین کی کارکردگی آپ کے سامنے موجو د ہے۔ امریکہ میں معاشیات میں نوبل انعام حاصل کرنے والوں کی بھرمار ہے مگر ابھی پچھلے دو، تین برسوں میں امریکی معیشت کا جو بیڑا غرق ہوا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ امریکی جہاز غرق نہ ہونے کی وجہ صرف وہاں قدرتی وسائل کی افراط ہے ورنہ یہ جہاز کبھی کا ڈوب گیا ہوتا۔

    خلفائے راشدین اور ان کے بعد لاتعداد مسلمان حکمرانوں نے مثالی نظام حکومت و نظام عدل قائم کیا تھا۔ حضر ت عمر ، حضرت عمر بن عبدالعزیز ، ہارون الرشید، محمود غزنوی ، علاؤالدین خلجی وغیرہ کا نظام حکومت و نظام عدل آج بھی مشہور ہے۔ اگر اصحاب اقتدار آج بھی ان عادل حکمرانوں کے نظام کی پیروی کریں تو ہمارا قبلہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔

    خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں ایک قاضی جو نہایت عادل تھا اس کی یادداشتیں اس قدر اہم تھیں کہ انگریزوں نے ہزار سال پیشتر لکھی ہوئی اس کی کتاب کا ترجمہ بنام ”بغداد کے ایک قاضی کی یادداشتیں“ (Reminiscences of a Mesapotamian Judge) شائع کی تھیں۔ قاضی نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ وہ دور دراز علاقہ میں دورہ پر گیا تو مقامی لوگ جمع ہوگئے اور اس کا شکریہ ادا کیا کہ جو قاضی اس نے وہاں متعین کیا تھا وہ بے حد ایماندار تھا۔ قاضی نے لکھا کہ وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور دل میں کہا کہ اللہ پاک کیا کوئی قاضی بے ایمان بھی ہو سکتا ہے؟ کاش ہم بھی آج کے منصفوں کے بارے میں ایسا ہی ایمان رکھتے ۔

    میں نے اسی پچھلے کالم میں نظام الملک طوسیٰ اور چانکیہ کے بارے میں بھی لکھا تھا۔دونوں نے نظام حکومت پر نہایت تفصیلی مقالے لکھے ہیں۔ چانکیہ چندرا گپت موریہ کا وزیر اعظم تھا ۔ نہایت چالاک اور ساز باز کرنے والا شخص تھا۔ اس نے اپنی عیارانہ تدبیروں سے نندا سلطنت کا خاتمہ کروا دیا تھا۔ چانکیہ کا مقالہ ارتھ شاستر کے نام سے مشہور ہے اور اس کا اردو ایڈیشن جناب اسمٰعیل ذبیح نے شائع کیا ہے۔ بدقسمتی سے چانکیہ کی سیاسی ، انتظامی اور سفارتی ہدایت جھوٹ ، دھوکہ دہی اور بے ایمانی پر مبنی ہیں۔ عام طور پر یقین کیا جاتا ہے کہ اٹالین مدّبر ادر مصرف نکولو میکیاویلی نے چانکیہ کی کتاب سے بہت کچھ سیکھ کر اپنی مشہور کتاب ”دی پرنس “1532میں شائع کی تھی ۔ اس میں اس نے حکومت و سیا ست کے نظام پر جو طریقہ کار بتائے ہیں وہ بھی عیاری ، مکاری ، جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہیں اور میکیا ویلی کا نام ایسی ہی پالیسیوں سے منسوب کیا جاتاہے۔

    نظام الملک طوسیٰ (گیارھویں صدی عیسویٰ) سلجوقی ترک سلطان ملک شاہ ( اور اس کے والد سلطان الارسلان) کے دور میں وزیراعظم تھے ۔ نظام مملکت میں ایک بے مثال وزیر اعظم تھے ۔ ان کی دو تصانیف سیاست نامہ اور دستور الوزراء بین الاقوامی شہرت یافتہ ہیں ۔ نظام الملک کا سیاست نامہ سچائی ، ایمانداری ، قرآنی احکامات ، احادیث اور شریعت پرمبنی ہے۔ بدقسمتی سے اس نادر شخص کو حسن بن صباح کے ایک پیر وکار نے قتل کردیا کہ یہ اسلامی مملکت کے ا ستحکام اور نظم و عدل کا نادر شاہکارتھااوراس لئے سرگرم عمل تھا۔

    نظام الملک طوسیٰ نے نظام حکومت و عدل و انصاف کی فراہمی کے بارے میں لاتعداد مصدقہ واقعات بیان کئے ہیں۔ آیئے آپ کو ایک واقعہ سلطا ن محمود غزنوی کے بارے میں بتاتا ہوں۔ یہ وہی سلطان ہے کہ جس نے ایک بڑھیا کی شکایت پر کہ ڈاکوؤں نے ایک قافلہ لوٹ لیا جس میں اس کا بیٹا ہلاک ہوگیا تھا ۔ اس کو اپنے پاس نہایت احترام سے بٹھا کر اس کی داد رسی کی تھی اور بڑا انعام دیا تھا اور کہا تھا کہ :

    اس پیر زن کی جھولی جواہر سے پُر کرو

    غزنی کے بادشاہ پہ ہے اس کو برتری

    اسی محمود کے عدل و انصاف اور اسلامی رواداری کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا:

    ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

    نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

    واقعہ یہ ہے کہ ایک بار سلطان محمود غزنوی نے اپنے درباریوں کے ساتھ تمام رات شراب نوشی کی اور موسیقی کا جشن رہا۔ اس محفل میں محمود کے سپہ سالار علی نوشتگین اور محمد عر بی حاضر تھے اور انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ صبح ان کی آنکھ لگ گئی اور تقریباََ صبح دس بجے اس کی آنکھ کھلی ۔علی نوشتگین ابھی بھی نشے کے زیر اثر تھا ۔ رات بھر کی شراب نوشی اور شب بیداری نے برا اثر ڈالا تھا اور یہ لڑکھڑا رہا تھا اور بے تکی باتیں کررہا تھا۔ جب علی نوشتگین نے محمود سے اپنے گھر جانے کی اجازت چاہی تو محمود نے کہا کہ اس حالت میں دن دہاڑے جانا مناسب نہیں ہے چنانچہ ظہر کے وقت تک آرام کر لو، نشہ اتر جائے گا تو پھر چلے جانا ورنہ اگر محتسب (قاضی ) نے تم کو اس حالت میں دیکھ لیا تو تم پر شرعی حد جاری کر دے گا۔ اس طرح تمہاری توہین ہوگی اور مجھے بھی دکھ ہو گا اور میں بادشاہ ہو کر بھی کچھ نہ کر سکوں گا۔ علی نو شتگین نے سوچا کہ قاضی اس کے بارے میں غالباًَ اس قسم کے خیال کی جرأت نہ کر سکے گا ۔ وہ اس گھمنڈ میں تھا کہ وہ سپہ سالا ر تھا ، پچاس ہز ار سپاہی اس کی کمان میں تھے اور وہ اتنا بہادر اور دلیر تھا کہ ایک ہزار دشمنوں پر بھاری تھا۔ غرض یہ کہ اس نے اپنی جرنیلی کے گھمنڈ میں بادشاہ سے کہا کہ وہ ضرور جائے گا ۔ محمود نے کہا کہ ٹھیک ہے تم اپنا اچھا برا خود جانتے ہو اور نتائج کے ذمہ دار ہو۔ علی نوشتگین اپنے غلاموں ، ملازموں اور فوجیوں کے ایک بڑے گروہ کے ساتھ محل سے نکلا اور اپنے گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔ شومئی قسمت دیکھیں کہ ٹھیک اُسی وقت محتسب اپنے ایک سو سواروں اور پیادوں کے ساتھ شہر کا گشت کرتا ہوا آ رہا تھا۔ اس نے سپہ سالار کو جو نشے کی حالت میں پایا تو اپنے ماتحتوں کو حکم دیا کہ سپہ سالار کو گھوڑے سے اتاریں ، خود بھی گھوڑے سے نیچے اترا اور خود اپنے ہاتھوں سے سپہ سالار کو دُرّے لگانا شروع کر دیے اور اس بُری طرح مارا کہ وہ زمین پر تڑپتا رہا اور چیخیں مارتا رہا مگر سپہ سالار کے سپاہیوں اور خادموں کی جرأت نہیں ہوئی کہ دخل اندازی کر سکیں یاایک لفظ بھی بول سکیں۔ وہ چپ چاپ یہ کرشمہ دیکھتے رہے۔قدرت کانظام (اور محمود غزنوی کانظام عدل اور نظام حکومت) دیکھیں کہ محتسب ایک ترک خادم تھا ، عمر رسیدہ تھا اور اس نے نہایت اہم خدما ت انجام دی تھیں ۔ محتسب سپہ سالار کو سز ا دے چکا تو سپہ سالار کے آدمی اس کو اٹھا کر گھر لے گئے۔ راستہ بھر نوشتگین آہ آہ کر تا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ جو شخص بھی سلطانی احکامات کی نافرمانی کرے گا اس کا یہی انجام ہو گا جو میرا ہوا ہے ۔ دو تین دن بعد جب علی نوشتگین محمود کے دربار میں حاضر ہوا اور پورا واقعہ سنا کر اپنی پشت دکھائی تو محمود اس کو دیکھ کر مسکرا یا اور بولا کہ توبہ کرو کہ آئندہ کبھی نشے کی حالت میں باہر نہ نکلو گے۔چونکہ محمود نے ایک نہایت مضبوط نظام حکومت و عدل قائم کیا ہے جس میں نظام تعزیرات بہت با ضا بطہ ہے اس لئے ہر شخص بلا لحاظ عہدہ (اور اثر و رسوخ ) اپنے کئے کی سزا پاتا ہے۔ اگر محمود بھی اس جرم کا مرتکب ہوتا تو اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا ۔ الحمد للہ اسی عادل بادشاہ محمود غزنوی کی نسل میں پانچواں حکمران ابراہیم غزنوی تھا جس نے 1059ء سے 1099ء تک یعنی چالیس سال کی حکومت کی تھی اور بہت قابل اور عادل تھا۔ اسنے دہلی تک تمام علاقہ اپنی حکومت میں شامل کر لیا تھا ۔ وہ بہت دیندار اور عوام دوست و عدل پسند تھا۔ اس کے عدل و نظام حکومت کا ایک اہم واقعہ بیان کر تا ہوں۔ ہوا یہ کہ اس کے دورحکومت میں ایک بار غزنی کے نان بائیوں نے روٹی کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی اور اپنی دوکانوں کے دروازے بند کر دیے ۔نان ناپید ہو گئے اور عوام سخت مشکلات کا شکار ہو گئے(مجھے ہمارا موجودہ زمانہ یہ واقعہ یاد دلا رہا ہے) اور انہوں نے سلطان ابراہیم سے شکایت کی۔بادشاہ نے تمام نان بائیوں کو دربار میں حاضر کر لیا اور نان اور روٹی کی قلت پید ا کرنے کی وجہ پوچھی ۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس شہر میں گیہوں اور آٹے کی جتنی بوریاں آتی ہیں انہیں بادشاہ کے باورچی خانہ کا داروغہ بادشاہ کے حکم اور فرمان کے نام پر اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔ یہ شاہی نان بائی ہمیں تھوڑی تھوڑی مقدار میں آٹا اور گند م نہیں خریدنے دیتا ۔ ابراہیم آگ بگولہ ہو گیا اور حکم دیا کہ شاہی باورچی خانے کے داروغہ خاص کو ہاتھی کے پاؤں کے نیچے کچل دیا جائے اور جب وہ مر جائے تو اس کی لاش کو ہاتھی کے دانتوں سے باندھ کر اسی حالت میں شہر بھر میں گھمایا جائے اور یہ اعلان کر دیا جائے کہ جونان بائی اپنی دوکان نہیں کھولے گا اس کے ساتھ بلا استثنیٰ یہی سلوک کیا جائے گا۔ چند لمحوں میں لوگوں نے اپنے ذخیرے نکالنا شروع کر دیے اور شام تک ہر دوکان پر روٹیوں کے انبار لگ گئے اور خریداری کرنے والے کم پڑ گئے۔

    ان دو واقعات کو بیان کرنے کا میرا مقصد یہ تھا کہ آپ کو علم ہو کہ ہماری تاریخ نظام حکومت اور نظام عدل کے سنہری ابواب سے بھری پڑی ہے۔ یہ اعلیٰ نظام ہزار سال پیشتر رائج تھااور نہایت موثر اور عملی تھا ۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرے۔ ہمارا نظام حکومت اور نظام عدل ایک مذاق بن گیا ہے ۔ جو جس طرح چاہتا ہے اس کو توڑ مروڑ کر اپنے مفادکے لئے استعمال کر لیتا ہے۔ اس لعنت سے نجات حاصل کر نے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ سخت قوانین وضع کرے اور عدلیہ اس کو سختی سے اور بلا تاخیر نافذ کرنے کا بیڑ ا اٹھا لے تو اس ملک کی حالت بدل سکتی ہے لیکن بات وہی نیت اور ارادے کی ہے۔ نہ نیت ٹھیک ہے اور نہ ہی کام کرنے کا ارادہ ہے۔ پچھلے دنوں آٹے او ر چینی کی ذخیرہ اندوزی نے عوام کی زندگی حرام کر دی تھی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ذخیرہ اندوزی کرنیوالے ارب پتی بن گئے ، حکمران اور مخالف پارٹی کے لوگوں نے ملک کو لوٹ لیا اور قوم کو ننگا کر دیا اور عدلیہ کچھ بھی نہ کر سکی کیونکہ اس کے پاس اس لعنت سے نمٹنے کیلئے مناسب اختیارات نہیں تھے۔ بہر حال پھر بھی جو اختیارات ان کے پاس موجو د ہیں وہ ان کی مدد سے بہت سے نقائص اور ناانصافیاں دور کر سکتے ہیں۔

    نظام الملک طوسیٰ نے کہا ہے کہ آفات ِ سماوی اور کسی ملک پر بار بار نازل ہونے والی مصیبتیں زَوال ِملک و دولت کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی تاریخ میں سب سے اچھا دور وہ ہوتا ہے جس میں ایک منصف مزاج اور عادل حکمران ہو۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد آج تک ہمارے لئے تو یہ ایک ناقابل حصول خواب بن گیا ہے اور آئندہ بھی اس کے حصول کی کوئی امید نہیں ہے۔

              

          

    $ یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا    4/12/2010

     

    میر تقی میر اردو زبان کے اعلیٰ پایہ کے شاعر تھے اور دو سو سال بعد ان کی شاعری میں وہی مٹھاس ہے جو اس کے لکھتے وقت تھی۔ میر تقی میر نے عاشقانہ غزل کے اس مصرع میں دہلی کو دل کے سو مرتبہ لوٹے جانے سے تشبیہ دی ہے کہ یہ نگر (شہر) سو مرتبہ لوٹا گیا۔ یہ تشبیہ ان کے دماغ میں شاید دہلی شہر کی بار بار بربادی کے پس منظر میں آئی کیونکہ ان کا خاص تعلق دہلی سے تھا اور جب وہ ترکِ شہر کر کے لکھنئو چلے گئے اور لوگوں نے ان کی خستہ حالی دیکھ کر کچھ مذاق اُڑایا تو انہوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر خاموش کر دیا:

    کیا بو د و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو

    ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

    دِلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

    ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

    اُنہیں دہلی کی زبوں حالی کا شدید احساس تھا اور ان کے کئی اشعار میں اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ پانی پت کے مقام پر تین خونریز لڑائیاں ، مغل سلطنت کی بادشاہت کے لئے جنگیں ، نادر شاہ کا مسلسل تین روز تک اور احمد شاہ ابدالی کا دہلی میں قتل عام تو ان کے علم میں تھا لیکن بعد ازاں 1857ء کا غدر (جنگ ِ آزادی) 1947ء کے فسادات زیادہ تباہ کن تھے۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی میں سکھوں کا قتل عام بھی دہلی کی سرزمین کو ”آبِ سرخ“ سے سیراب کرتا رہا۔ اس طرح ان کا یہ کہنا بالکل صحیح تھا کہ ”یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا“۔ حالانکہ نہ صرف لوٹا گیا تھا بلکہ خون کی ندیاں بہائی گئی تھیں ۔ ایک مرتبہ چند لوگ ان کے بوسیدہ کپڑوں کی طرف گھور رہے تھے تو انھوں نے مسکرا کر فرمایا:

    میرے تغییر حال پر مت جا

    اتفاقات ہیں زمانے کے

    جب میں اس دردناک حادثہ کا موازنہ پاکستان سے کرتا ہوں تو مرحوم سردار عبدالرب نشتر کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے۔

    خورشید لٹ گیا اور مہتاب لٹ گیا

    ان رہزنوں کے ہاتھ سے پنجاب لٹ گیا

    میں پنجاب کی جگہ پاکستان کہنا پسند کروں گا۔ سردار عبد الرب نشتر غالباً اس وقت پنجاب کے گورنر بن کر گئے تھے اور وہاں کے حالات دیکھ کر یہ شعر کہا تھا۔ بہر حال نشتر کے شعر کو اپنے ملک کی تاریخ میں روشنی میں دیکھیں تو یہ نگر (شہر ) نہیں بلکہ ملک سو مرتبہ نہیں بلکہ باسٹھ سال کے ہر دن ہی لوٹا گیا ہے ۔ جمہوریت جو وقفہ وقفہ سے آئی وہ آمرانہ دورسے کچھ زیادہ بہتر ثابت نہ ہو سکی اور یہ غریب ملک لٹتارہا برباد ہوتا رہا اور فقیر بنتا رہا۔ اس ملک کا اچھا وقت صرف پانچ سال جاری رہ سکا جب لیڈر ایماندار اور مخلص تھے ۔ دیانتداری کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ جب مولانا مودودی نے لیاقت علی خان کے نئے سوٹ پر طنز کیا تو انہوں نے دوسرے جلسے میں رسیدیں پیش کر دیں اور بتلایا کہ ابھی سلائی کی رقم ادا کرنا باقی تھی۔ سردار نشتر وفاقی وزیر ہو کر بھی ایک معمولی سے گھر میں کرائے سے رہتے تھے اور اپنا ذاتی مکان بنانے کی حیثیت میں نہ تھے۔ آج کل کے ہمارے غریب پرور اور غریب نواز لیڈروں کو دیکھیں کہ ان کے روز روز نئے سوٹ ،محلات اور کروڑوں روپے کی گاڑیاں پرانے زمانے کے نوابوں اور راجاؤں کو بھی شرماتی ہیں۔ ملک میں ہی نہیں بلکہ غیر ممالک میں مکانات ، اکاؤنٹس اور شاہانہ دبدبہ قابل دید ہے۔ جدھر سے آج گزر جاتے ہیں تو شہر ساکت ہو جا تا ہے اور پرانے شاہوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ ان پرانے جاہ و جلال والے شاہوں کو غریب عوام کی ضروریات کا بے حد خیال تھا۔ فیاضی، فضول خرچی،عوام کی غربت دور کرنے اور رفاہ عامہ کے کاموں کے لئے وقف تھی۔ آج کل آوا کا آوا ہی ٹیڑھا ہے۔ نام نہاد ماہرین ِمعاشیات چند چیدہ چیدہ روزمرہ کی ضروریات پر دل کھول کر ٹیکس لگا کر غریب عوام کی کمر توڑ دیتے ہیں۔ یہ رقم ایوانوں کے اخراجات اور بیرونی ممالک کے سفروں پر بے دریغ خرچ کی جاتی ہے ۔ بیس بیس ہزار ڈالر یومیہ کے سویٹ ہوٹلوں میں لئے جاتے ہیں۔ ہر سفر جوہے وہ دوستوں ، رشتہ داروں اور چمچوں کی سیاحت کا ذریعہ بن جاتا ہے جہاں آٹھ دس افراد سے بآسانی کام لیا جا سکتا ہے وہاں ساٹھ ستّر کی نفری لے جانا عام بات ہے۔

    ملک کی معاشی تباہی کی داستان ابتداء آفرینش سے ہے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ملک نااہلی ، رشوت ستانی ، بے ایمانی اور بد عنوانی کا شکار ہوتا گیا۔ ایک اپاہج گورنر جنرل نے ملک کی بنیادیں ہلا دیں۔ ایوب خان نے شروع میں اچھا کام کیا مگر جلد ہی خوشامدیوں نے غلط راہ پر ڈال دیا۔ یحییٰ خان نے ملک کو توڑ کر ہی ہماری جان چھوڑی۔ 1971ء کی جنگ نے ملک کا معاشی ڈھانچہ ہلا کر رکھ دیا ۔ لوگ ملک کی تباہی کا اندیشہ کرنے لگے ۔ قدرت نے نیک ،خدا سے خوف کرنے والوں کی دعا سنی اور ذوالفقار علی بھٹو کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ملک کو بچانے کی سعادت عطا کی بلکہ عقل و دانش بھی عطا کی اور ملک بچ گیا۔ نوّے ہزار شکست خوردہ فوجی قیدی واپس آگئے۔ فوج کی تعداد اور قوت میں جان ڈالی گئی اورملک کو ایک ایٹمی قوت بنانے کی ٹھوس بنیاد رکھ دی گئی۔ دشمن اپنے ناپاک ارادوں میں ناکام ہوا۔ بد قسمتی سے مارچ 1977ء کے الیکشن متنازع بن گئے اور مخالف جماعتیں مل گئیں۔ ملک گیر مہم چلائی گئی اور دشمن ملک قوتیں ایک ڈکٹیٹر کو بٹھانے اور اپنا ایجنڈا مکمل کرنے میں کامیا ب ہو گئیں ۔ گیارہ سال کا آمرانہ دور اس وقت تک کا بدترین دور تھا ۔بعد میں دو مرتبہ بینظیر بھٹو اور دو مرتبہ نواز شریف کی حکومتیں آئیں اور برخاست کر دیں گئیں کہ ان دونوں پر کرپشن کے سنگین الزامات تھے اور اس کے نتیجے میں ایک بار پھر ایک ڈکٹیٹر مشرف کی شکل میں ہم پر نازل ہو گیا ۔ ضیاء الحق کے مقابلہ میں یہ شخص بدکرداری اور رشوت ستانی کے لئے بے حد بدنام ہوا۔ اس نے تمام اداروں مع عدلیہ کی بنیادیں ہلا دیں اور اپنا اقتدار جاری رکھنے کے لئے این آر او جیسا نہایت بدنام قانون نافذ کیا اور الیکشن سے چند ہفتہ قبل محترمہ بینظیر بھٹو دہشت گردی کا شکار ہو گئیں ۔ پی پی پی کو ہمدردی کے ووٹ ملے، مشرف کی چھٹی ہوئی مگر بغیرسزا پائے باعزت تمام مال و دولت لے کر لند ن میں عیاشی کرنے لگا۔ جمہوری حکومت لوگوں کی امیدوں اور توقعات پر پوری نہیں اتری اور لوڈ شیڈنگ ، بے روز گاری ، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی اور ملک کی بنیادیں ہلا دیں ۔ خود مختاری اور غیرت نام کی کوئی چیز اب اس ملک میں نہیں رہی ۔ کھلے عام جھوٹ بولنا اور عوام کو دھوکہ دینا ایک قومی کیریکٹر بن گیا ہے۔ پہلے نواز شریف نے پی پی پی کا ساتھ دیا مگر جب عوام سے کئے ہوئے وعدوں سے یہ کہہ کر انخراف کیا گیا کہ وہ قرآنی احکامات یا احادیث نہ تھے تو نواز شریف نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ زیادہ فرق نہیں پڑا، مشرف کی پالیسیاں جاری ہیں اور ملک نہ صرف انتظامی امور پر بلکہ معاشی طور پر بھی دیوالیہ ہو چکا ہے۔ مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ۔ حکمران طبقہ بڑی معصومیت سے کہتا ہے کہ ہمیں علم ہے کہ آپ بھوکے مر رہے ہو ، ننگے ہو، بے روزگار ہو ، بجلی پانی اور گیس سے محروم ہو مگر ہم ان تمام مصیبتوں اور مسائل سے بفضلِ خدا محفوظ ہیں اور زندگی آرام سے گزر رہی ہے۔

    کسی چیز کی کمی نہیں ہے ، پانچ سال مزے کر کے چلے جائیں گے ۔ آخر تم نے ہی تو ہمیں پانچ سال کی کھلی چھٹی دی ہے کہ جو چاہیں اور جس طرح چاہیں کریں۔ اب کیوں شور مچا رہے ہو ، صبر کرو اور اپنی حماقت کا مزا اُڑاؤ ۔ عوام کی نگاہیں عدلیہ پر ہیں مگر مقدمہ کی طوالت اور فیصلوں میں بارہا تاخیر ہونے میں ان کو شک و شبہ میں ڈال دیا ہے کہ واقعی کوئی تبدیلی آئی ہے۔ آپ کو غالباً علم ہو گا کہ جنوبی امریکہ میں ایک شکار خور مچھلی پیروہانہ (Piranha)نامی ہوتی ہے ، جس پانی میں یہ ہو اور کوئی جاندار چیز گر جائے تو چند ہی منٹ میں نوچ نوچ کر کھا لیتی ہیں اور صرف ہڈیا ں رہ جاتی ہیں۔ ان کی جسامت بمشکل ایک فٹ سے بھی کم ہوتی ہے مگر پورا منہ نہایت تیز دانتوں سے بھرا ہوتا ہے ۔اسی طرح آپ نے ٹی وی پر جانوروں سے متعلق دیکھا ہو گا کہ جنگلی کتے کس طرح زندہ جانور کو پچھاڑتے اور چند منٹ میں اس بے چارے جانور کا صر ف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ تقریباً یہی حال لگڑ بگڑ یا چرخ (ہائنا) ایک معصوم جانور کو گھیر کر پچھاڑ لیتے ہیں اور چند منٹوں میں اس کو کھا جاتے ہیں ۔ جب اپنے پیارے وطن اور عوام کا حال دیکھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی بے چارے اسی طرح کھائے جا رہے ہیں جس طرح ان معصوم اور بے ضرر مچھلیوں اور جانوروں کا حشر پیروہانہ ، جنگلی کتے اور لگڑ بگڑ کرتے ہیں۔ قیام پاکستان اور قائد اعظم اور لیا قت علی خان کی شہادت کے فوراً بعد ہی سے یہ عوام اور ملک بار بار لوٹے جا رہے ہیں اور میر تقی میر کے مشہور قول کے ”یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا“۔ یہ بیچارہ لاوارث ملک پچھلے ساٹھ سال سے سال میں تین سو پینسٹھ دن بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔ تعجب یہ ہے کہ یہ اب بھی زندہ ہیں ۔ ہمیں یہ امید تو نہیں کہ ابابیل کی کنکریاں سے یا سیلاب یا سخت آندھی ، طوفان غریب عوام کو مفاد پرست ، ذخیرہ خیزوں ، راشیوں، ظالموں سے نجات دلائیں گے مگر یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً کوئی ناقابل قیاس اور انہونا طریقہ کار استعمال کر کے ان بیچارے عوام کو ضرور نجات دلائے گا۔ اب ان میں مزید لٹنے کی سکت نہیں رہی ہے۔

     

      

               

               

    قرض کی لعنت ...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان   4/19/2010

     

    یہ سہ حرفی لفظ بظاہر بہت ہی مختصر ہے لیکن اس نے زمانہ قدیم سے دور حاضر تک جو تباہی پھیلائی ہے اس کو سن کر ہر ذی حوش انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اردو اور ہندی میں اس کو قرض ، ادھار اور انگریزی میں لون یا ڈیٹ کہتے ہیں۔ اس کے اثرات صرف وہی انسان محسوس کر سکتا ہے جو کبھی اس مصیبت سے دوچار ہو چکا ہو، خواہ قرض لے کر یا قرض دے کر۔ بد قسمتی سے ہماری قوم کا ایک طبقہ ادھار یا قرض کو آمدنی کا ایک بہت ہی آسان ذریعہ سمجھتا ہے حالانکہ اللہ رب العزت نے کلام مجید میں صاف صاف اس لعنت سے دور رہنے کا حکم فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کاحکم ہے:

    (۱) اور اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔ (سورة البقرہ آیت 257 )

    (۲) جو لوگ سود کھاتے ہیں قیامت کے روز وہ نہیں اٹھیں گے مگر جیسے وہ شخص اٹھتا ہے جسے شیطان نے چھو کر مخبو ط الحواس یعنی پاگل کر دیا ہو۔ یہ اس سبب سے ہوگا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ سودا بیچنے کا معاملہ بھی تو سود کا سا ہے حالانکہ اللہ نے سودا بیچنے کو حلال کیا ہے او ر سود کو حرام کیا ہے ۔ پھر جس کو اپنے پروردگا ر کی طر ف سے نصیحت پہنچی وہ باز آگیا تو جو وہ لے چکا وہ اس کا رہا، اور اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہے اور جس نے پھر سو د لے کر حد سے تجاوز کیا تو ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ سود سے حاصل شد ہ دولت کو مٹاتا ہے اور صدقات میں دی ہوئی دولت کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکر گزار گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔ (سورة البقرہ آیت (275-276

    (۳)اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرا کرو اور جو کچھ سود سے باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم سچے مومن ہو ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا اور سود لیتے رہے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمھارے خلاف اعلان جنگ ہے اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہارا راس المال تمہارا ہی ہے ۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی تم پر ظلم ہو گا۔(سورة البقرہ آیات 278-279 )

    (۴)اے ایمان والو! سود مت کھاؤ ، اصل سے کئی گنا زیادہ کر کے ، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (سورة آل عمران آیت 130)

    (۵)اور جو کچھ تم قرضہ سود پر دیتے ہو تا کہ وہ بڑھتا رہے لوگوں کے مال میں مل کر اور اللہ کے نزدیک یہ نہیں بڑھتا اور جو کچھ تم زکوٰة (خیرات) میں دیتے ہو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تو ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی دولت بڑھتی جاتی ہے (یعنی اس میں برکت ہوتی ہے)۔ (سورة روم آیت 39)

    (۶)سو یہود کے ظلم کے سبب ہم نے ان پر بہت سی ستھری (پاک ) چیزیں حرام کر دیں جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں اور اس کے سبب سے بھی کہ وہ اللہ کی راہ سے (خلق خدا کو )بہت روکتے تھے اور بہ سبب ان کے سود لینے کے حالانکہ اس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور بہ سبب لوگوں کے مال ناحق کھانے کے اور ان میں سے نافرمانوں کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔(سورة النساء آیت 161)

    قرض لینا بہت آسان ہے لیکن جب ادائیگی کی تاریخ آتی ہے تو مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے ، قرض کے خراب اثرات سے سب واقف ہیں یہاں تک کہ فقیر بھی دل کو چھو جانے والی دعا دیتا ہے ، ”اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی کسی کا قرض دار یا محتاج نہ کرے۔“ مرزا غالب # بھی اس قرض کی خرابی سے بخوبی واقف تھے مگر اس سے بچنا محال تھا ، انہوں نے کہا تھا:

    قرض کی پیتے تھے مَے پر یہ سمجھتے تھے کہ ہاں

    رنگ لائیگی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    ہم نے بچپن سے دیکھا ہے کہ چھوٹے اور کم مالیت کے دکاندار اپنی دوکانوں پر نمایاں جگہ بورڈ پر لکھ دیتے ہیں ، ”آج نقد ، کل ادھار“، ”قرض مانگ کر شرمندہ نہ کریں“، یا اس کے نتائج سے یوں آگاہ کرتے ہیں ، ”گانٹھ سے جائے رقم ، ہاتھ سے گاہک چھوٹے“، یعنی تعلیم یافتہ حلقوں میں مہذبانہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے مثلاََ ”القرض مقراض المحبت“ یعنی قرض محبت کی قینچی ہے جو گاہک اور دوکاندار کے رشتہ کو منقطع کردیتی ہے۔ “ پھر بھی کچھ لوگ بے شرمی سے ان تنبیہات کو نظر انداز کر کے قرض مانگتے ہیں جیسے وہ بورڈ دوسرے لوگوں کے لئے ہیں ۔ بے چارہ دوکاندار شرما شرمی میں ادھار دے دیتا ہے اور اپنے مال و قیمت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔ قرض دینا جتنا آسان ہے اس کا وصول کرنا اتنا ہی مشکل ہے بلکہ بعض اوقعات ناممکن ہو جاتا ہے ۔کئی کاروباری لوگ یا ادارے ایک طرح کے غنڈے وصولیابی کے لئے رکھتے ہیں جو ڈرا دھمکا کر قرض وصول کر لیتے ہیں ۔ ہندوستان کی دیکھا دیکھی ہماری یہاں بھی اب خواجہ سراؤں کو قرض کی وصولیابی کے لئے استعمال کرنے کا رواج ہو رہا ہے یہ لوگ مقروض لوگوں کے گھروں اور تجارتی اداروں کے سامنے بیٹھ کر اور ناچ گا کر ان کو بدنام کرتے ہیں اور اس طرح ان لوگوں کو قرض کی رقم واپس کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ بنک ، ادارے غریبوں اور متوسط طبقہ کے لوگوں سے قرض وصول کرنے میں بہت سخت گیر ہوتے ہیں۔ قرقی ، نیلامی ، جائیداد کی ضبطی میں بالکل دیر نہیں لگتی ، کچھ عرصہ پیشتر ایک قرضدار نے ایسی ہی سخت کاروائی کے نتیجے میں خود کشی کر لی تھی اور عدلیہ نے اداروں کو وارننگ بھی دی تھی۔

    جس طرح ہر چیز کی قسمیں ہوتی ہیں اسی طرح قرض کی بھی کئی اقسام ہیں ۔ ایک تو گاہک اور دوکاندا ر کا قرض کا رشتہ ، یہ بسا اوقعات کم آمدنی والے طبقے میں ہوتا ہے ۔ گزارہ کے لئے دوکاندار سے سامان قرض پر لیتا ہے اور تنخواہ ملنے پر فوراًَ ادا کر دیتا ہے ورنہ آئندہ ماہ سامان قرض پر نہیں ملتا۔ ایک ہی بستی میں رہنے والے ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں اور گاہک کو سامان دوکاندار کو من مانی قیمت مل جاتی ہے۔ دوسرا قرض کا شکار اور زمیندار یا کاشتکار یا ساہوکار کا ہوتا ہے جس کی ادائیگی نئی فصل آنے پر یعنی چند ماہ بعد ہوتی ہے اور شرح سو د بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کاشتکار کو اپنے اور خاندان کو کھلانے کے لئے قرض لینا پڑتا ہے اور اپنی زمین کو ضمانت کے طور پر رہن رکھنا پڑتا ہے۔ یہ زمین عموماً کاشتکار کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور اکثر اوقعات اسے بمع خاندان زمیندار کا ملازم بن کر قرض ادا کرنا پڑتا ہے۔ برصغیر ہندو پاکستان میں یہ لعنت بہت پرانی ہے اور بہت عام ہے اور ابھی بھی زور و شور سے جاری ہے۔ روزمرہ ہم اخبارات میں اور ٹی وی پر دیکھتے ہیں کہ کس طرح ظالم زمیندار ، ساہوکار غریبوں کو زنجیروں سے جکڑ کر غلام بنائے رکھتے ہیں ، ان پر مظالم ڈھاتے ہیں اور جانوروں سے بد تر سلوک کرتے ہیں۔ایک قرضہ آپسی تعلقات میں پرورش پاتا ہے جس کا شکار قرضد ار نہیں بلکہ قرضہ دینے والا ہوتا ہے ۔ یہ رشتہ داروں یا دوستوں کے درمیان ہوتا ہے ۔قرض لینے والا شدید ضرورت ، علاج یا کسی اور مجبوری کا بہانہ کرکے جلد از جلد رقم واپس کرنے کے وعدہ پر قرض لے تو لیتا ہے لیکن شروع دن سے ہی اس کا قرض ادا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا ۔ قرض دینے والا شرافت یا مرّوت کی وجہ سے رقم تو دے دیتا ہے لیکن باوجود تقاضوں کے کبھی وصول نہیں کر پاتا او ر تھک ہار کر خا موش ہو جا تا ہے اور ایسے قرضہ لینے والے کسی نئے شکار کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔

    بے ایمان قرضدار وں میں سب سے بڑی قسم کا مالدار بااثر لوگوں کا مافیا ہے جس کی ہمارے یہاں افراط ہے۔ یہ لوگ اپنے تعلقات اور اثر کی وجہ سے بنکوں سے بڑی بڑی رقوم (چار سو ، پانچ سو کروڑ تک ) کم قیمت اثاثوں کو کئی گنا زیادہ قیمتی بنا کر کبھی واپس نہ کرنے کے لئے حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں اس لعنت نے ہماری معاشیات کو تباہ کر دیا ہے۔ بنکوں کے افسران اور صنعتکار سازش کر کے اربوں روپیہ ہڑپ کر جاتے ہیں ۔ تازہ مثال بنک آف پنجاب کی ہے جہاں دس ارب روپے اسی طرح کھا لئے گئے۔ پچھلے دنوں جو اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ صرف مشرف کے دور میں تقریباََ ایک سو ارب سے زیادہ قرض معاف کئے گئے اورپچھلے چند سالوں میں دو سو پچا س ارب سے زیادہ قرضہ جات معاف کردیے گئے۔ قرضہ جات معاف کرانے والوں میں وزیراعظم کی بیگم سمیت بہت سے نام نہاد باعزت صنعتکار اور تاجر ہیں۔ نہایت مضحکہ خیز اور شرمناک بات یہ ہے کہ قرض معاف کرانے والے خود ارب پتی ہیں ، کروڑوں روپیہ مالیت کے بنگلوں میں رہتے ہیں اور کروڑوں روپیہ مالیت کی کاروں اور جائید اد کے مالک ہیں۔ سپریم کورٹ نے اب ان قرضہ جات کی وصولیوں کے لئے سخت اقدامات شروع کئے ہیں ، دیکھیں کتنی رقم واپس ملتی ہے۔ اس لعنت کی بڑی وجہ سود کی بڑی شرح اور منافع کی خواہش اور ذاتی ہوس ہے ۔ نقصان حکومت اور عوام کاہوتا ہے کیونکہ یہ رقم عوام کی ہوتی ہے ۔ اس معافی کے مذموم کام کی ابتداء بنکوں کو قومی ملکیت میں لینے کے بعد شروع ہوئی۔ اب یہ ادارے گورنمنٹ کے کنڑول میں آگئے ، اپنے آدمی وہاں متعین کردیے گئے، ملی بھگت سے خوب روپیہ لوٹا اور قوم کو کنگال اور فقیر کردیا۔ نہ قرض دینے والا پریشان اور نہ قرض لینے والے کو شرم و حیاء۔ بہتی گنگا میں سب ہی نے غسل کیا اس میں سیاستدان، بیوروکریٹس اور فوجی بھی شامل ہیں۔ ان تمام مالی بدعنوانیوں کا جو سب سے بڑا اور خراب نتیجہ نکلا وہ یہ ہے کہ چند ہی عشروں میں ملک تقریباََ اسّی ارب ڈالر کا مقروض ہو گیا ہے اور ہم وہی کام کرنے پر مجبور ہوگئے جس کو خدا وند کریم نے ہم پر حرام قرار دیا ہے اور سختی سے منع کیا ہے یعنی سود کے عوض قرض لینا اور ہر سال اس مد میں بہت بڑی رقم ادا کرنا ۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ہمیں بہت بری طرح جکڑ لیا ہے اور چونکہ ان اداروں پر مغربی ممالک کی اجارہ داری ہے تو وہ ہمیں قرض دے کر من مانی شرائط منواتے ہیں اور ہم بحیثیت فقیر کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔ ہر صاحب عقل انسان یعنی پاکستانی حیران ، پریشان ہے اور یہ سوچتا رہتا ہے کہ آخر ہمارے ملک کی یہ شرمناک حالت کیوں ہوئی ہے۔ ایک اٹھارہ کروڑ کا ملک جس کو اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نوازا ہے وہ دنیا میں کیوں اتنا بد نام ہو چکا ہے ۔ رشوت ستانی، اقربا پروری، چوری، بے ایمانی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ غرض دنیاکی ہر لعنت نے ہم پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ میرے خیا ل میں اس کی دو وجوہات ہیں۔ اول ہمارا نہایت خراب، مفاد پرست اور خود غرض نظامِ حکومت اور دوئم معاشی و مالیاتی ماہرین کی ناقص کارکردگی۔ آپ کو ہر برائی کے پیچھے یہی دو برائیاں کار فرما نظر آئیں گی۔ خراب نظامِ حکومت کی وجہ سے ہر کام خراب ہو جاتا ہے اور بدنیتی کی وجہ سے ملک و قوم پر سے اللہ تعالیٰ کی برکت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ملک کی خوشحالی اور ترقی کا دارومدار مالیاتی ماہرین کی کارکردگی پر منحصر ہو تا ہے اور ہم اس معاملے میں نہایت بدقسمت ہیں کہ ہمیں دونوں ہی چیزیں نااہل ملی ہیں۔ اب سوائے اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے کسی معجزے کی دعا مانگتے رہیں اور عدلیہ سے انصاف اور سخت اقدامات کی توقع کریں ہمارے پاس کو ئی اور چارہ باقی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور نیک و قابل حکمران اور انصاف دینے والی عدلیہ عطا کرے۔ (آمین )

     

               

               

               

    خساست کنجوسی اورحرص و طمع ...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   4/26/2010

    کنجوسی، خساست اور حرص ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں جو شخص کنجوس ہوتا ہے اس کو ہی مال و دولت کی ناقابل تسکین حرص و تمنا ہوتی ہے۔ وہ ہر طریقہ سے جائز یا ناجائز، زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ حرص کبھی بھی پوری نہیں ہوتی ۔ آپ کو علم ہے کہ کس طرح فلپائن کے مرحوم صدر مارکوس نے ہو س و حرص سے اندھا ہوکر کئی بلین ڈالر قومی خزانہ سے چرا کرسوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں جمع کرائے ، ذلیل وخوار ہو کر ملک سے فرار ہو کر غیر ملک میں مر گیا اور وہ کثیر رقم کچھ کام نہیں آئی ، سوچئے کہ متوسط طبقہ کے انسان کو اپنے لئے ، اپنے اہل و عیال کے لئے زیادہ سے زیادہ کیا چاہئے ۔ ایک اچھا سا گھر اور زیادہ سے زیادہ ایک ملین ڈالر ۔ اگر یہ اس پر قناعت کرتا تو غالباًََ باعزت زندگی گزار کر اپنے ملک میں ہی مرتا ۔ دوسری مثال نائیجیریا کے مرحوم ڈکٹیٹر جنرل سینی اباچاکی ہے ۔ اس نے تقریباََ تین بلین ڈالر اپنے ملک کی تیل کی فروخت میں سے چرائے اور سوئٹزرلینڈ میں رکھ دیئے ۔ ایک دن اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ مر گیا اور وہ رقم اس کے کچھ کام نہ آسکی۔ فلپائن اور نائیجیریا کی حکومتوں نے سوئٹزرلینڈ کی عدالتوں میں مقدمہ دائر کیا اور وہ رقم واپس ان ممالک کو مل گئی۔ اگر اباچا چند لاکھ ڈالر کی پونچی چھوڑ کر مرتا تو لوگ اب تک اس کی عزت کرتے مگر آج اس پر لعنت بھیجی جاتی ہے کیونکہ عوام ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے بارے میں پوری طرح سے آگاہ ہیں اور ان کے قصے روز ہی اخبارات اور ٹی وی کی خبروں اور مباحثوں کی زینت بنتے ہیں اس لئے اس بارے میں لب کشائی نہیں کروں گا۔

    آئیں پہلے خساست وکنجوسی کے بارے میں کچھ باتیں کرتے ہیں۔ خساست انسان کے اندر ایک گہری و بنیادی اخلاقی بیماری ہے۔ یہ بیماری ایک طرح کی انا اور مکمل خود غرضی پر مبنی ہوتی ہے۔ اس بیماری کا شکار ہوکر انسان بالکل اپنے آس پاس کے حالات سے بے خبر اور اندھا ہوجاتا ہے اور خود کو دنیا کا محور تصور کرنے لگتاہے۔ جب انسان کو خود اور دولت سے اس قدر زیادہ محبت ہوجاتی ہے تو پھر وہ کسی بھی ضرورت و حاجتمند کی مدد کے قابل نہیں رہتا۔ ایسے لوگوں کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے سخت پھٹکار کی ہے (سورة الماعون، سورة تکاثر ) ۔ کنجوسی اور بخل کی وجہ سے انسان نہ صرف اپنے عزیز و اقارب بلکہ پورے طبقہ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پھر ایسے اشخا ص کی دولت جمع کرنے کی حرص و طمع کی کوئی حد نہیں رہتی ، ایک بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور وہ ہر جائز و ناجائز طریقہ سے دولت حاصل کرنے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔ مال و دولت ، جائیداد حاصل کرنا ایسے شخص کی زندگی کا واحد مقصد بن جاتا ہے۔ دوستی ، مراسم حسن سلوک وغیرہ کا مقصد صرف اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں اس طرح مال ودولت جمع کرنے کی سخت مذمت فرمائی ہے(سورة ہمزہ) ۔ یہ لوگ دولت کی پوجا کرتے ہیں مگر عموماً اس مال و دولت سے مستفید ہونے سے پہلے ہی مر کر اللہ کے عذاب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ زندگی بھر سخت ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتے ہیں اور ان کو سکون نصیب نہیں ہوتا ۔ اس کے برعکس قرآن کریم ہمیں خرچ کی ترغیب دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اپنی دولت نیک کاموں پر خرچ کریں اور اللہ کی خوشنودی حاصل کریں ۔ سورة البقرہ کی ابتدائی آیات میں بتایا گیا ہے کہ فلاحی کاموں پر دولت خر چ کرنے والوں کے لئے بڑا انعام ہے۔

    رسول اکرم نے فرمایا ہے کہ خساست سے اجتنا ب کرو کہ اس نے اس سے پہلے کئی قوموں کو تباہ کیا تھا۔ وہ لوگوں کو جھوٹ بولنے پر اکساتی ہے ، دوسروں پر جبر و ظلم کی ترغیب دیتی ہے یہاں تک کہ خونی رشتہ ختم کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ رسول اکرم نے ہمیں یہ دعا مانگنے کی ہدایت فرمائی ،” ایے اللہ میں خساست سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خساست اور ایمان کبھی مومن کے دل میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔

    عربی زبان میں ایک کہاوت ہے، ”جو شخص بخیل ہوتا ہے اور اپنی دولت غریبوں کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کرتا تو اس کی دولت حکومت کی غلام بن جاتی ہے اور وہ اس کو بے یار و مددگار بنا دیتے ہیں۔

    کلام مجید میں اللہ ر ب العزت نے اس لعنت پر سورة القصص میں قارون کا عبرتناک قصہ بیان فرمایا ہے ۔ قارون حضرت موسیٰ کا چچا زاد بھائی تھا۔ ”یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون موسیٰ کی قوم کا ایک شخص تھا پھر وہ اپنی قوم سے سرکش ہو گیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی چابیاں طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ پھول مت ، اللہ پھولنے والوں اور تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر اور احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر ، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔ تو اس نے کہا کہ یہ سب کچھ تو مجھے اپنے علم (عقلمندی)کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے ۔ کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ طاقتور تھے؟ مجرموں(اور گنہگاروں) سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے ۔ آخرکار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا ۔ پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے تنگ کردیتا ہے۔ کافر فلاح نہیں پایا کرتے۔“ کلام مجید میں یہ بھی بتایا گیا ے کہ یہ شخص یعنی قارون بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون کے ساتھ جا ملا تھا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورة فاطر میں فرمایا ہے۔ ” جو لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں تو یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ان کو ہرگز خسارہ نہ ہو گا۔

    13جنوری2010کے روزنامہ نیوز میں ہمارے محترم سینئر کالم نگا ر اور تجزیہ نگار جناب میر جمیل الرحمن صاحب نے حر ص و طمع پر ایک مختصر مگر نہایت اہم مضمون شائع کیا تھا جس میں آپ نے اس لعنت کا ملکی سیاست اور قومی لیڈروں میں سرایت ہونے کا تفصیلی ذکر کیا تھا مگر کہا جاتا ہے کہ مگر مچھ کے پیٹ پر پانی نہیں ٹھہرتا ۔ جب لوگ ایمان و غیرت سے مُبرّا ہو جائیں تو پھر ہر چیز جائز نظر آتی ہے اور حر ص و طمع کی کوئی حد نہیں رہتی۔ خساست ، کنجوسی ، حرص و طمع کے بارے میں کچھ تاثرات بیان کرنے کے بعد اب آپ کی خدمت میں چند معروضات اس کا متضاد یعنی سخاوت اور فراخدلی کے بارے میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ کلام مجید میں اللہ رب العزت نے کئی جگہ اپنا مال و دولت نیک، فلاحی کاموں اور غریبوں ، یتیموں اور بیوہ عورتوں کی مدد کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ جہاں ہم قارون کی کنجوسی اور انجام کے بارے میں سوچتے ہیں تو فوراًَ ہی ہمیں حاتم طائی (سخی حاتم ) کی سخاوت اور فراخدلی یا دآ جاتی ہے۔

    حاتم طائی کوئی افسانوی یا فرضی شخصیت نہیں ہیں ۔ یہ ایک عیسائی عرب تھے اور رسول اکرم کی آمد مبارک سے پہلے پید ا ہوئے تھے ۔ ایک غزوہ میں ان کی بیٹی قیدی کی حیثیت سے مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں ۔ جب رسول اکرم کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے فوراًَ ہی ان کو بلوا لیا ، نہایت عزت و احترام سے اپنے پاس بٹھایا اور اس کے والد کی سخاوت کی تعریف فرمائی اور دو صحابیوں کے ساتھ باعزت ان کو اپنے قبیلہ میں واپس بھجوا دیا۔ رسول اکرم نے فرمایا کہ اس کے والد یعنی حاتم طائی اعلیٰ کردا ر کے مالک تھے۔ حاتم طائی ایک اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے ۔ ان کا یہ شعر بے حد مشہور ہے جو انہوں نے اپنی بیوی ماویہ کو مخاطب کر کے کہا تھا۔

    اے ماویہ دولت صبح آتی ہے اور شام کو غائب ہو جاتی ہے

    کچھ بھی باقی نہیں رہتا سوائے مبہم یادداشتوں کے

    اسلام کے علاو ہ کسی اور مذہب نے سخاوت پر اتنا زور نہیں دیا۔ رسول اکرم اور آپ کے ساتھی سخاوت اور فراخدلی کا بہترین نمونہ تھے۔ جیسا کہ شروع میں عرض کر چکا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں سور ة تکاثر، سورة ماعون اور سورة ہمزہ میں خساست اور مال و دولت کی ذخیرہ اندوزی پر لعنت بھیجی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سماجی اور معاشی برائیوں کی سب سے بڑی وجہ حرص و طمع اور کنجوسی و بخیلی ہے ۔ جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ ہر گناہ کرنے میں نہیں جھجھکتے ۔ منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، رشوت ستانی ، چوری سب جائز نظر آتے ہیں۔ ان کی ان مذموم حرکات کی وجہ سے عوام اور ملک کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عوام کے اخلاق و کردار پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اسی ذلالت کا شکار ہوجاتی ہے۔ غیر اخلاقی اور غیر قانونی دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ فوراًََغیر ممالک کی نظر میں آ جاتے ہیں اور وہ باآسانی ان کو اپنے دام میں پھنسا لیتے ہیں ا ور ان کے ذریعے اپنے مفاد کے لئے پالیسیاں بنواتے ہیں اور ان پر عمل کراتے ہیں اور یہ مفاد پرست اپنے ملک کونقصان پہنچانے میں نہ ہی جھجھکتے ہیں اور نہ ہی ان کو شرم و حیا آتی ہے۔ بد قسمتی سے یہ مملکت خداداد پاکستان شروع سے ہی اس لعنت اور ایسے غدّاروں کا شکار رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے کردار اور اخلاق سے اس لعنت کو دور کرے اور سخاوت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی سعادت نصیب کرے۔ (آمین)

    جہاں ہمارے ملک میں لاتعداد کنجوس، حرص ، طمع سے لبریز لوگ موجود ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے لاکھوں فراخدل ، سخی ، مخیر حضرات بھی پیدا کئے ہیں جو غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں ، لاتعداد مدارس اور دوا خانے چلا رہے ہیں جہاں غریب طلبہ و عوام تعلیم حاصل کرتے ہیں اور مفت علاج حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ (آمین)

     

     

     

     

     

     

               

               

               

    تلاش ِدید ہ ورو مسیحا...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   5/3/2010

    جو لوگ اردو ادب سے واقفیت رکھتے ہیں اور اس کے مطالعہ کا شوق ہے وہ جانتے ہیں کہ اردو زبان نہایت شیریں اور وسیع ہے سوائے فارسی اور عربی زبان کے کسی اور زبان میں یہ شیرینی نہیں ہے۔ ان تینوں زبانوں کی یہ خاصیت ہے کہ ان کی شاعری میں دل کو بے حد متاثر کرنے کی صلاحیت ہے بلکہ دریا تو کیا سمندر کو ایک کُوزَہ میں بند کرنے کی صلاحیت ہے۔ امیر خسرو سے لے کر دور حاضر کے شعراء کے کلام میں ہر قسم کی کیفیت ، تغیر ، احساس ، شیرینی، تلخی ، احسان و تشکر ، شکوہ ، محبت کا اظہار نہایت ہی خوبصورت الفاظ (غزلوں) میں بیان کیا گیاہے۔ وہ لوگ نہایت ہی خوش قسمت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قیمتی ثقافتی ورثہ کو سمجھنے اور محظوظ ہونے کی نعمت سے نوازا ہے۔ ہم پرانے زمانے کے لوگ خوش قسمت ہیں کہ اس دور میں اسکول میں اردو ادب کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی ۔ اگر میں یہ عر ض کروں کہ میں اپنی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ اپنے اسکول کی تعلیم کے دور کو سمجھتا ہوں تو یہ قطعی مبالغہ آرائی نہ ہو گی۔

    دیکھیں یہ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ، اردو زبان کی کُوزے میں سمندر کو بند کرنے کا ذکر کر رہا تھا۔ آپ نے یہ شعر تو ضرور سنا ہو گا:

    مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو

    کہ نا حق خون پروانے کا ہو گا

    (یعنی اگر شہد کی مکھی باغ میں گئی تو پھولوں کا امرت پئے گی، شہد کا چھتّہ بنائے گی، لوگ شہد نکالیں گے اور موم سے موم بتی بنائینگے اور جب ان کو روشن کریں گے تو بے چارے پروانے جل کر خاک ہو جائیں گے)

    اس کالم کے لکھنے کا مقصد اس ملک کے لئے ایک مسیحا کی تلاش ، جستجو کے بارہ میں اپنے تاثرات بیان کرنا ہے۔ یہاں کیونکہ ”نہایت قابل و اہل حکمرانوں “ سے ملکی مسائل حل نہیں پارہے ہیں اس لئے اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم کسی مسیحا کی تلاش کریں۔ لیکن یہ کام آسان نہیں۔شاعروں کے بارہ میں اکثر بہت سی غلط فہمیاں ہیں ۔ عام تصور یہ ہے کہ یہ لوگ خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں اور حقائق کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ کچھ لو گ کہتے ہیں کہ شعر ا ء مبالغہ آرائی سے بھی کام لیتے ہیں۔ مثلاََ ایک مرتبہ ٹی وی کے ایک پروگرام میں جب کمپیئر نے محترم جناب ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب سے کہا کہ آپ کے والد محترم علامہ محمد اقبال کا یہ کہنا تھا

    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    تو آپ نے بلا جھجک کہدیا کہ وہ شاعر تھے اور شاعر کبھی بھی مبالغہ آمیز بیانات دیدیتے ہیں۔ ایک شاعر نے جب یہ قطعہ کہا تو میں قائل ہو گیا کہ اولیاء کرام اور صوفیاء کرام کے بعد اگر کوئی طبقہ قدرت اور اللہ تعالیٰ کی ضاّعی صحیح سمجھ سکا ہے تو وہ شاعروں کا طبقہ ہے۔آپ ہی بتائیں حضرت شیخ سعدی ، امیر خسرو ، مولانا رومی ، شبلی نعمانی ، حسرت موہانی ، علامہ محمد اقبال وغیرہ سے کیا کوئی بشراللہ تعالیٰ کی ذات و کرشمہ جات سے زیادہ واقف تھا۔ انھوں نے ہی مسلمان قوم میں رہبر و دیدہ ور کی خصوصیات و ضروریات پر زور دیا تھا۔

    شاعر کی فضیلت کے منکر شاعر کی حقیقت کیا جانیں

    دوشیزہ ء فطرت کے گیسو ہم لوگ سنوارا کرتے ہیں

    قرطاس و قلم سے کرتے ہیں عکاسی ء فطرت ایے شاہد#

    ہم شعر میں حُسن ِ رنگین کی تصویر اتارا کرتے ہیں

    کلام مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے شاعروں کو متعلق سورة شُعرآء نازل فرمائی ہے اور فرمایا ہے۔” اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں ، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں اور جو وہ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا (یعنی اگر کسی نے اس کو ہجو کہی ہو اور پھر وہ بھی اس کی ہجو کہہ کر اس سے بدلہ لے تو یہ جائز ہے)اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں۔

    غالباً ان آیات کی ابتدائی سُطور سے متاثر ہو کر (اور آخری حصہ کو نظر انداز کر کے) مرزا محمود سرحد ی نے کہدیا تھا۔

    کل ایک مُفکِّر مجھے کہتا تھا سر راہ

    شاید تری ملّت کے ہے مٹنے کا ارادہ

    میں نے یہ کہا اس سے کوئی وجہ بھی ہو گی

    بولا کہ تیری قوم میں شاعر ہیں زیادہ

    دیکھیں کہ دو مشہور شعراء میر # اور علامہ اقبال نے لیڈر یا دیدہ ور کے بارہ میں کیا فرمایاہے۔

    میر # نے یوں کہا ہے:

    مت سہل ہمیں جا نو ، پھرتا ہے فلک برسوں

    تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیں

    ہمارے اپنے علامہ اقبال نے یہی بات یوں بیان فرمائی ہے:

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    علامہ اقبال نے نرگس کے دیدہ ور کے انتظار کو ہزاروں سال کہا ہے یہ شاعرانہ تشبیہ کتنی خوبصورت اور بامعنی ہے ، ہزاروں سال نہیں تو سینکڑوں سال ضرور کسی اچھے ایماندار ، مخلص اور قابل حکمراں یعنی دیدہ ور کے پیدا ہونے میں لگ جاتے ہیں۔ یہ بات یوں بھی سمجھی جاتی ہے کہ ہر قوم و ملک کا سچا ، مخلص ، قابل رہنما صدیوں میں پیدا ہوتا ہے جس سے ملک و قوم کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ اس درمیان میں نقلی ، خود غرض، بے ایمان، راشی اور مفاد پرست ، قومی لیڈر و رہبر کا چولا پہن کر عوام کو دھوکہ دے کر کچھ عر صہ کے لئے کامیاب ہو تو جاتے ہیں مگر پھر ذلیل و خوار ہو کر نکالے جاتے ہیں۔ ایک مخلص لیڈر کو عوام کچھ تاخیر سے پہچانتے ہیں مگر وہ ان کی خوش نصیبی کا ضامن ہوتا ہے۔ چین برسوں تک دوسرے ممالک کے ہاتھوں ذلیل و خوار اور ظلم کا شکار ہوتا رہا اور سامراجی قوتوں نے ان کو افیون کھلا کر نشیلا اور سست و کاہل بنا دیا۔ لوگوں کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ یہ قوم کبھی اپنا پرانا کھویا وقار اور عزت حاصل کرپائے گی مگر قدرت کی اپنی تدبیریں ہیں کہ ایک ماؤزے تنگ نے قوم و ملک کی حالت بدل دی ، چین اب دنیا کی تیسری صنعتی قوت ہے، ہمارے دیکھتے ہیں دیکھتے یہ غیر ترقی یافتہ ملک آج ترقی اوربہترین پلاننگ کا شاہکار ہے۔ اس میں ان کو ایک نسل کی قربانی بھی نہیں دینی پڑی اور وہی پہلی نسل اپنی پیرانہ سالی میں اپنے سخت کام اور محنت کے ثمرات سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہی ہے۔ یہ ایک غیور اور محنت کش قو م کی قابل تقلید مثال ہے، مگر دیکھے اور عمل کون کرے؟

    نپولین ، ہٹلر اور مسولینی بھی اپنی قوم کے بڑے لیڈر تھے مگر تینوں کے غلط فیصلوں نے ان کی تمام کارکر دگی پر پانی پھیر دیا حالانکہ اُنھوں نے عوام کو مسحور کر کے اکٹھا کیا تھا۔ ہندوستان میں صدیوں مسلمانوں کی حکومت رہی مگر دینی خدمت اور اصلاح سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا ۔ بزرگان ِ دین اپنے طور پر دین کی حفاظت کرتے رہے ۔ انیسویں صدی میں بچی کچھی مغلیہ سلطنت ختم ہو گئی اور مسلمان بے یار و مددگا ر رہ گئے نہ کوئی رہبر تھا اور نہ ہی کوئی راستہ ، نہ حکومت ، نہ مال و زر اور نہ کسی قسم کی طاقت ۔ راجہ رام موہن را نے ہندوؤں کو تعلیم کا راستہ دکھایا ۔بنارس یونیورسٹی نے قابل ہندوؤں کی پیدائش شروع کر دی ۔ مسلمان نہایت کسمپرسی کی حالت میں تھے ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے سر سید احمد خان کی شکل میں ایک دیدہ ور ، ایک رہبر پیدا کیا۔ انھوں نے قوم کی فلاح ، ترقی اور اتحاد کے لئے سر توڑ کوشش کی اور کامیاب رہے حالانکہ مسلم دشمن عناصر وں کو تو ان کی تباہی کا پورا یقین ہو گیا تھا۔ سر سید احمد خان نے بنیادی مسئلہ کو سمجھ کر تعلیمی ادارے کی بنیاد ڈالی جہاں سے تعلیمیافتہ لوگوں نے رہنما بن کر پاکستان حاصل کرنے میں کلید ی رول ادا کیا۔ لوگ شروع میں سر سید احمد خان کی بے عز تی کرتے تھے ، مذاق اُڑاتے تھے اور یہ نعرہ لگاتے تھے،”وہ بھلا کس بھی بات مانے ہیں ۔ بھائی سید تو کچھ دوانے ہیں۔“اکبرالہٰ آبادی نے طنزاََ مخالفوں سے کہا تھا:

    نکلے سید جو گزٹ لے کے تو لاکھوں لائے

    شیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسہ نہ ملا

    چند دنوں میں سر سید احمد خان کی نیک نیتی دیکھ کر حالی، آزاد ، محسن الملک ، شبلی ، وقار الملک ، نذیر احمدان کے مدد گار بن گئے اور نواب سلطان جہاں بیگم والئی بھوپال نے علیگڑھ یونیورسٹی کی تعمیر کیلئے کثیر رقم دی اور اس کی پہلی چانسلر بننے کی سعادت حاصل کی۔

    ہندوستان میں مسلمان قوم کی بھلائی اور مستقبل کے بارہ میں سوچنے والوں کا فقدان تھا ، چند جو پڑھے لکھے مسلمان تھے وہ کانگریس میں شامل ہو کر فخر کرتے اور زمیندار اور جاگیر دار انگریز کی غلامی پر نازاں تھے، مسلمان قوم نفاق اور انتشا ر کا شکار تھی لیکن قدرت کی کرشمہ سازی دیکھیں کہ ایک شخص جو عربی جانتا تھا نہ اردو ، اللہ تعالیٰ نے اسکے خلوص نیت کو سرفراز کر کے قوم کی رہبری عطا فرما دی اور قائد اعظم نے تمام منتشر قوم کو یکجا کر کے سیسہ کی دیوار کی طرح کھڑا کر دیا اور ایک انگریز صحافی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر جنا ح مسلمانوں سے کہیں کہ وہ بجلی کے کھمبے کو ووٹ دے دیں تو وہ ان کا حکم بلا چوں چراں مان لیں گے۔ قائد اعظم کو لیا قت علی خان، سردار عبدالرب نشتر ، راجہ غضنفر علی خان، علامہ شبیر احمد عثمانی ، پیر صاحب مانکی شریف ، سر عبداللہ ہارون ، مولانا ظفر علی خان ، علامہ اقبال حسرت موہانی ، راجہ صاحب محمود آباد ، نواب بہادر یار جنگ ، قاضی عیسیٰ ، حکیم اجمل خان ، نواب اسمعیل خان ، اے کے فضل حق، خواجہ ناظم الدین ، حسین شہید سہروردی اور نواب حمید اللہ خان جیسے پر خلوص ساتھی مل گئے اور آپ نے مختصر سے عر صہ میں انگریزوں اور ہندوؤں سے پاکستان منوا لیا اور حاصل کر لیا اور یہ سب اتفاق و یکجہتی کا نتیجہ تھا۔ان مخلص رہنماؤں کے رخصت ہونے کے بعد ہم افراتفری کا شکار ہو گئے اور مختلف ٹولوں میں بٹ گئے ، لوٹ مار شروع ہو گئی اور نتیجہ 1971ء کی ذلت آمیز شکست اور ملک ٹوٹنے کی صور ت میں نکلا ۔ تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا گیا اور موجودہ حالت اگر ا س وقت سے بد تر نہیں تو بہتر بھی نہیں ہے اور اس وقت بھی بد کر دار مجرم ، ڈاکو ، راشی ، لٹیرے مل کر ملک کا بیڑہ غرق کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اس وقت عوام کو پھر ایک مسیحا کی ضرورت ہے ، ایک قائداعظم کی ضرورت ہے ۔ مصیبت یہ ہے کہ خلو ص نیت سے نیک کام کرنے والے فوراََ خوشامدیوں اور چاپلوسیوں کے شکار ہو کر بہک جاتے ہیں اور غلط کام شروع کر دیتے ہیں اور جب اقتدار ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو پھر کف ِ افسوس ملتے رہتے ہیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں مگر اب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ گویا:

    چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

    یعنی اے عقلمند تو کیوں ایسے کام کرتا ہے کہ جس کے نتیجہ میں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے ۔

    میں پہلے عر ض کر چکا ہوں کہ مسلمان جب متحد تھے اور احکام الٰہی کے پابند تھے اور ان کی رہنمائی اچھے لیڈر کر رہے تھے تو وہ دنیا پر حکومت کر رہے تھے مگر جونہی نفاق اور تفرقہ اور خود غرضی کا شکار ہوئے تو دنیا کی ذلیل ترین قوموں میں شامل ہو گئے ۔پاکستان کو اس وقت پھر ایک قائد اعظم ، ایک سوئیکارکو، ایک مصطفی کمال ، ایک انکروما ، ایک بن بیلا ، ایک جمال ناصر اور ایک ماؤزے تنگ کی ضرورت ہے جو اس بکھری قوم کو یکجا کرکے راہ راست پر ڈال دے ۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ قوم میں موجو د لا تعداد نیک بند وں کی دُعائیں قبول فرما کر ہمیں ایک مسیحا عطا فرما دیئے۔ (آمین)

     

     

     

     

               

               

               

    تعلیم ۔ پاکستان تباہی کی راہ پر ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   5/10/2010

     

    اس مملکت خداداد پاکستان میں تعلیم ایک ایسا مسئلہ بن گیا ہے جس پر لاتعداد مضامین ، رپورٹیں لکھی جا چکی ہیں اور کوئی ہفتہ ایسا نہ گزرتا ہو گا کہ ملک کے کسی نہ کسی ممتاز روزنامہ میں اس موضوع پر کچھ لکھا ہوا نہ ملے۔ پاکستان کو بنے تقریباََ باسٹھ سال ہو گئے ہیں اور ماسوائے شروع کے چند برسوں کے تعلیم کا معیار مستقل طور پر بتدریج گرتا جا رہا ہے اور اب تو جو ہماری حالت ہے وہ افریقہ کے پسماندہ ممالک سے بہتر نہیں ہے۔

    تعلیم کے زوال کی تو الگ بات ہے مگر اخلاقی قدریں بھی اس قدر گر گئی ہیں کہ خودکو پاکستانی کہتے شرم آتی ہے۔ پچھلے دنوں ہائی اسکولوں کے سالانہ امتحانات ہو رہے تھے ٹی وی پر جو واقعات دکھائے گئے وہ اس قوم کی اخلاقی قدروں کی گراوٹ کا بڑا ثبو ت تھا۔ خاص کر کراچی میں امتحانات کے سنٹروں میں دکھایا گیا کہ نہ صرف والدین بلکہ اساتذہ بھی کتابوں کی مدد سے طلبہ کو امتحانات کے پرچے حل کرو ا رہے تھے۔ باربار نام نہاد چھاپوں کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہا اور شرمیلا فاروقی کی کو ششیں بھی یہ شرمناک کام نہ رکوا سکیں۔ ٹی وی پر سب کچھ دیکھ کر میں نے اپنے پرانے عزیز دوست عبد الرؤف صدیقی وزیر صنعت کو فون کیا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا ایم کیو ایم اپنے مستقبل کا کیڈر یعنی آئندہ انقلابی گروہ کا جتھا تیا ر کر رہی ہے تو وہ ہنس پڑے اور انھوں نے کہا (اور وہ واقعی سچ بات تھی) کہ جب وہ وزیر داخلہ تھے تو اس وقت کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا تھا اب ماشاء اللہ ڈاکٹر ذولفقا ر مرزا اور پیر مظہر الحق کی سربراہی میں سب کام ہو رہے ہیں۔ اور اس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کر اچی کا نظام ِ تعلیم تباہ کر دیا جائے تا کہ وہ قومی سطح پر کسی بھی مقابلتی امتحان میں کامیاب نہ ہو سکیں اور کسی اعلیٰ انتظامی عہدہ پر کراچی کا کوئی باشندہ موجو د نہ ہو۔ بات سچ ہے اور دل کو لگتی ہے۔

    تعلیم و علم حاصل کرنے کے بارہ میں اور اسکی افادیت اور اہمیت کے بارہ میں لاتعداد اقوال اور کہاوتیں موجو د ہیں۔ ان میں سے بعض صدیوں پرانی ہیں مگر ہمارے لئے تو اپنے پیار ے رسول کا فرمان مشعل راہ ہے۔ آپ نے فرمایا تھا :”اگر علم حاصل کرنے تم کو چین بھی جانا پڑے تو جاؤ۔“ مطلب یہ تھا کہ اوّل تو چینی تہذیب خاصی ترقی یافتہ تھی اور دوئم یہ کہ نہایت دور دراز ملک ہونے کی طر ف اشارہ دینے کا یہ مطلب تھا کہ خواہ علم حاصل کرنے دور دراز علاقہ کو جانا پڑے تو جاؤ۔ اپنے ایک پرانے کالم میں تعلیم کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے مشہور برطانوی نثراد امریکی ریاضی کے ماہر اور فلسفی پر وفیسر ڈاکٹر الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ کا سنہری قول بیان کیا تھا وہ اتنا اہم ہے کہ میں اس کو دوبارہ دوہرانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ انھوں نے کہا تھا: ” موجودہ ترقی کے دور میں یہ اصول مطلق کامل ہے کہ جو قوم اپنے تجربہ کار عالموں کی قدر دانی نہیں کرتی اس کا ذوال یقینی ہے ۔آپ کی تمام بہادری ، آپ کی تما م سوشل جاذبیت یا طلسم ، ظرافت ، تیز فہمی آپ کی زمین اور سمندر پر تمام فتوحات آپ کی قسمت نہیں بد ل سکتے۔ ہم آج اپنے آپ کو سنبھالنے رکھتے ہیں مگر کل علم ایک قدم آگے بڑھ جائے گا اور پھر غیر تعلیم یافتہ لوگوں کے مقد ر کا جو فیصلہ کیا جائے گا اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں سنی جائے گی۔ “ ایک پرانی افریقی کہاوت ہے کہ اگر تم نے ایک مرد کو تعلیم دی تو تم نے ایک فر د کو تعلیم دی ، لیکن اگر تم نے ایک عورت کو تعلیم دی تو پورے ایک خاندان کو تعلیم دی ۔ ایک مغربی فلسفی وکٹر ہو گو نے کہا تھا کہ جب آپ ایک اسکول کا دروازہ کھولتے ہیں تو ایک جیل کا دروازہ بند کرتے ہیں۔ امریکی صدر ٹامس جیفرسن نے نہایت اہم بات کہی تھی کہ اگر کوئی قوم جاہل رہ کر ترقی کے دور میں آزاد رہنا چاہتی ہے تو وہ یہ کبھی حاصل نہیں کر سکتی چونکہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا ہے۔ “ اسی طرح ایک چینی فلسفی نے کہا تھا کہ ” اگر تم ایک سال کی پلاننگ کرنا چاہتے ہو تو ایک بیج بو دو، اگر دس سال کی پلاننگ کرنا چاہتے ہو تو ایک درخت لگا دومگر جب سو سال کی پلاننگ کر رہے ہو تو عوام کو تعلیم دو کیونکہ اس طرح تم سو فصلیں کا ٹ سکو گے۔

    پچھلے پچاس سال سے لا تعداد متفکر خوا تین و حضرات تعلیم کے گرتے معیار اور آنے والی تباہی کے بارہ میں خبر دار کرتے رہے ہیں۔ ملک میں لا تعداد تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں لیکن تعلیم کا معیار گرتا جا رہا ہے ۔ در اصل تعلیم کا معیار تو گرنا ایک عام سا بیان ہے حقیقت یہ ہے کہ جو تعلیم دی جاتی ہے یا حاصل کی جاتی ہے اسکو صحیح طریقہ سے استعمال نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ماہرینِ تعلیم اس بات پر مقفق ہیں کہ تعلیم کی صحیح او ر ٹھوس بنیاد اسکول میں رکھی جا تی ہے ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں سب سے ناقص نظام تعلیم اسکولو ں میں ہے۔ لا تعداد غیر استعمال و جعلی (گھوسٹ )اسکول ہر صوبہ میں موجو د ہیں نہ ہی ان میں استاد ہیں اور نہ طلبہ ، مگر تنخواہیں اور مصار ف پورے ادا کئے جا رہے ہیں۔ تعجب کی بات (اور نہایت قابل مذمت اور قابل لعنت) یہ ہے کہ یہ سب کچھ جمہوری حکومت اور عوامی نمائندوں کی سرپرستی میں ہو رہا ہے ۔ روز جمع خرچ کی باتیں ہوتی ہیں اور وعدے کئے جاتے ہیں، یہ وعدے پورے نہیں کئے جاتے اور ہر طریقہ استعمال کر کے رقم خرد برد کر دی جاتی ہے۔ ہر صوبہ میں یہ لُو ٹ ما ر جاری ہے۔

    ٓٓٓٓایک جانب تو بنیادی تعلیم کا جنازہ نکال دیا گیا ہے اور دوسری جانب لاتعداد نام نہاد اعلیٰ تعلیم مہیا کر نے والے تعلیمی ادارے قائم کئے جا رہے ہیں۔ ڈگریاں ہزاروں کی تعداد میں دی جا رہی ہیں مگر ملا زمت کے مواقع بالکل نہیں ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اربوں روپیہ خرچ کر کے ہزاروں طلبہ باہر تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجے ، کچھ واپس آئے اور کچھ غائب ہو گئے ۔ اس اسکیم کا بنیادی نقص یہ تھا کہ آنے والے تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے ملازمت کے مناسب مواقع نہیں تھے، ان کے پا س رہ دے کر تعلیمی اداروں میں درس دینے کے سو ا اور کچھ نہ تھا اور ایک طریقے سے یہ تعلیم یافتہ کلرک بن گئے۔ میں نے بار بار مشورہ دیا تھا کہ اس کے ساتھ مناسب صنعتی یونٹس لگانا بہت ضروری ہے مگر سنوائی نہیں ہوئی مثلاََ میں نے ابتداء میں یہ کہا کہ موبائل فون کی بھرمار سے پیشتر یہ ضروری ہے کہ اسکی تیاری کی فیکٹری لگائی جائے جس میں کئی ہزار لوگوں کو ملازمت مل سکتی ہے جن میں انجینئرز کی خاصی تعدا د شامل ہو گی مگر یہ نہ کیا گیا۔ ہم پچھلے کئی برسوں سے تقریباََ ایک بلین ڈالر کے موبائل فون در آمد کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ ڈھائی ، تین ملین ڈالر رائلٹی کے طور پر ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ ایک طرف تو امریکہ سے ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر کی امداد کی خاطر ہم نے اپنی خود مختا ری ، عز ت و حمیت بیچ دی ہے اور دوسری جانب موبائل فون کی در آمد اور رائلٹی کی ادائیگی پر اس سے زیادہ رقم لٹا رہے ہیں۔ ماشاء اللہ کیا عقل و فہم ہے۔

    آپ روز ہی اخبارات میں تعلیمی اداروں کی سالانہ تقسیم اسنا د کے بارہ میں پڑھتے ہیں۔ یہ مناظر ٹی وی پر بھی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان جلسوں میں گولڈ میڈل ریوڑیوں کی طرح بانٹے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہمارے چند طلبہ غیر ممالک کو ان کے عطا کردہ وظیفوں پر جاتے ہیں ، یہ وظائف وہاں کے مخیر لوگوں نے قائم کئے ہیں ۔ جب ہمارے طلبہ وہاں سے فارغ التحصیل ہو کر آتے ہیں تو وہ عملی طور پر تو ملک کے لئے قطعی کا ر آمد نہیں ہوتے سوائے اس کے کہ کسی تعلیمی ادارہ میں ملازمت حاصل کر کے درس دیتے رہیں اور پوری زند گی گزار دیں لیکن ایک چیز بار بار ہمارے منھ پر مارتے ہیں کہ ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ گولڈ میڈلسٹ اور فلا ں فلاں اسکالر ضرور لکھتے ہیں۔

    تعلیم سے تعلق رکھنے والے اسکالرز جانتے ہیں کہ ہمارے یہاں خواہ وہ سکینڈری اسکول کی تعلیم ہو یا او لیول اور اے لیول کی تعلیم ، اس میں امتیازی نمبرات حاصل کرنے کے لئے آپکو رٹہ مارنے میں مہارت حاصل ہونا چاہئے۔ جہاں تک غیر ملکی وظیفہ حاصل کرنے کی بات ہے تو جو بھی کانا ہو گا تو وہ ہی اندھوں میں راجہ ہو گا اور وہ باہر چلا جائے گا مگر واپس آ کر یہ ذہین اور قابل لوگ کبھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دے پاتے جس سے ملک کو کوئی فائد ہ پہنچے یا ان کا نام بلند ہو۔ ٹی وی پر اکثر کچھ اساتذہ نظر آتے ہیں ،ان کا تعارف ماہر تعلیم ، دانشور اور بین الاقوامی تجزیہ نگار وں کے ناموں سے کیا جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ شام ہوتے ہی کسی ٹی وی کمپیئر کے فون کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ مگر جب آپ ان کی کارکردگی دیکھئے تو ملک کے مفاد میں ان کی کارکردگی صفر کے برابر ہے۔ دیکھئے چند مضامین بین الاقوامی رسالوں میں لکھ کر انسان نہ ہی دانشور اور نہ ہی ماہر تعلیم ہو جاتا ہے۔ آپ کے کام کا ایک مقصد ہونا چاہئے کہ وہ ملک اور ملکی تعلیم و تربیت کے لئے کتنا مفید ہے۔ آپ ایک ہزار آرٹیکل باہر کے رسالوں میں چھاپ دیں ، دیکھنا یہ ہے کہ ہمیں اس سے کیا فائد ہ ہوا، کیا اس سے ملک کی کسی صنعت کو فائدہ پہنچا ؟ امریکہ میں بنگلہ دیش کے ایک نوجوان کیمسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر ابو لحُسّام نے پانی سے زہریلی دھات آرسینک نکالنے کا فلٹر تیار کیا جو صرف 35 ڈالر کا ہے اس سے ایشیاء اور افریقہ کے کروڑوں عوام کو فائدہ پہنچ رہا ہے ، ان کو امریکن اکیڈمی آف انجینئرز نے دس لاکھ ڈالر اور گولڈ میڈل دیا ہے۔ یہ کام سو کتابوں اور ہزار مضامین سے بہتر ہے۔ انہی بنگالیوں نے اوآر ایس بھی ایجاد کیا تھا۔

    پچھلے چند بر سوں میں تعلیم پر لا تعداد مضامین شائع ہوئے ہیں۔ حکومت نے اپنی ایجوکیشن پالیسی بھی شائع کر دی ہے جو مجھے اپنے پرانے عزیز دوست عبد الرؤف چوہد ری (سابق سیکریڑی تعلیم ) نے خود آ کر دی تھی ۔ اس کے علاوہ جن ماہرین نے اس موضو ع پر اپنے تاثرات اور مشورہ جات دیئے ہیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ (۱) عظمیٰ احمد خان (۲) مسعودہ بانو(۳) جاوید حسن علی (۴) شرافت کاظمی (۵) عصمت ریاض (۶) سعدیہ خالد (۷) عائشہ صدیقہ (۸) جاوید آر لغاری (۹) سعدیہ مریم ملک (۰۱) الطا ف حسین اسد (۱۱) اکرام آعظم (۲۱) رضوان اصغر (۳۱) شاہد صدیقی (۴۱) اسلم پرویز ابرو (۵۱) امریکی سفارتخانہ (۶۱) روڑینہ ژافر ی اور خالد اقبال (۷۱) سلال حمیر (۸۱) زبیدہ مصطفی وغیرہ وغیرہ ۔

    یہ مضامین ملک کے انگریزی روزناموں میں شائع ہوئے ہیں۔ کئی مضامین میں ایک تعلیمی ٹاسک فورس کے قیام کا ذکر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کتابوں کی دوکانیں ایک سے ایک بہتر کھانا پکانے کی ترکیبوں سے پُر کتابوں سے بھری پڑی ہیں لیکن ایک اچھی ڈش کے لئے ایک ماہر اور عملی باورچی کے ضرورت ہے۔ یہی حال کچھ ہماری تعلیم کا بھی ہے، کتابیں ، مضامین اور پالیسیاں بہت ہیں مگر ان کو عملی جامہ پہنانے والوں کا فقدان ہے۔ میرا صرف حقیر سا مشورہ ہے کہ ہائی اسکول کی تعلیم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے ، پورے ملک میں یکساں نصاب ہو ، صرف صوبے اپنی اپنی زبان اور تاریخ کے مضامین شامل کر لیں ، اس طرح پو رے ملک میں مقابلتی امتحانات میں سب کو یکساں مواقع میسر ہوں گے اور ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں منتقل ہونے میں بھی تکلیف نہ ہو گی ۔ یورپ اور چین ، جاپان وغیرہ میں یہی طریقہ نافذ ہے ۔

    دیکھئے ہمیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ صر ف اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں یا اعلیٰ تعلیمی اداروں سے سندیں حاصل کرکے لوگ ملکی حالت بہتر نہیں بنا سکتے ، ملک میں لاتعداد غیر ملکی سند یافتہ ماہر معاشیات ہیں مگر ملک کی جو معاشی حالت ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ امریکہ کے ایک سابق صدر کِیلوِن کُولج نے کہا تھا۔” ذہین و عقلمند ہونا زند گی میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ جو علم آپ نے حاصل کیا ہے اس کا عملی استعمال کریں اور اس سے استفادہ کریں۔ دنیا ذہین و عقلمند بیکار اور بے فائد ہ لوگوں سے بھری پڑی ہے ۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ ڈیرک بوک نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر تم خیال کرتے ہو کہ تعلیم بہت مہنگی ہے تو ذر ا جہالت اپنا کر دیکھو۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دولت ہی ہر چیز کا حل ہے ۔ میں نے چین ، روس ، کاغشان ، ازبکستان وغیرہ میں جو لیبارٹریز دیکھی تھیں وہ مغربی یورپ و امریکی لیبارٹریز سے بہت کم آراستہ تھیں مگر آپ ان کی کارکردگی دیکھئے تو ان کی کارکردگی کسی طرح ان مالدار ممالک کی کارکر دگی سے کم نہیں رہی ہے ۔

    آخر ی میں یہ عرض کرونگا کہ جس طرح علماء دین مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے آیت کریمہ کا ورد بتاتے ہیں اسی طرح میں بھی آپ سے یہ درخواست کروں گا کہ ہم بھی فرمان الہیٰ کے مطابق یہ دعا مانگیں ۔” اے میرے پروردگار ، مجھے علم و دانش عطا فرما ، نیکو کاروں میں شامل کر اور پچھلے لوگوں کے ذکر میں مجھے نیک شمار کر اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں شامل کر (سورة الشعراء۔ آیات 83-84)۔“ (آمین )ا ب دعاؤں کے سو ا ہم کر ہی کیا سکتے ہیں؟

     

     

     

     

               

               

               

    چوری ڈاکہ زنی اور سینہ زوری....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   5/17/2010

    پرانے زمانے میں اگر کسی فرد سے کوئی گناہ یا جرم سر زد ہو جاتا تھاتو وہ اس قدر شرمندہ ہوتا تھا کہ لوگوں کو اپنا چہرہ نہیں دکھاتا تھا اور اکثر و بیشتر وہ رہائشی علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقہ میں جا کر خاموش او ر معصوم زندگی گزار نے لگتا تھا اور توبہ و استغفار کر کے اپنے گناہ کی معافی مانگتا رہتا تھا۔ یہ تو تھی پرانی بات آجکل تو جو چوری ، ڈاکہ زنی کرتا ہے وہ شرمندہ ہونا تو کیا سینہ تان کر چلتا ہے اور اپنے جرم کو جائز ثابت کرنے کے لئے بے شرمی سے ٹی وی پر نا قابل قبول دلائل پیش کرتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا گیا ہے کہ ”عذر گناہ و بد تر از گناہ“ ۔

    چوری اور ڈاکہ میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ چوری ایک یا کچھ افراد مل کر کرتے ہیں ، چوری چھپے کرتے ہیں اور اس میں عموماََ تشدد یعنی اسلحہ کا استعمال نہیں ہوتا ۔ اسکے بر عکس ڈاکہ کسی بھی وقت اسلحہ کی مدد اور تشد د سے کئی لوگوں پر کیا جاتا ہے ، چوری ایک گھر یا دوکان میں ہوتی ہے یا دو چار لوگ مل کر اندھیرے میں مویشی چرا کر لے جاتے ہیں جبکہ ڈکیتی دن کے اُجالے میں آباد علاقوں میں ہوتی ہے۔ شاہراہوں پر گاڑیا ں روک کر مسافروں کو لُوٹا جاتا ہے اور اکثر مزاحمت کرنے والوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ ڈاکو پولیس مقابلے میں چند بہا در جوانوں کے ہاتھو ں ہلاک ہو کر اپنے کئے کی سز ا پا لیتے ہیں۔ ڈاکہ زنی چور ی کی ترقی یا فتہ اور بڑی شکل ہوتی ہے جس طرح نیکی اور بدی کا ہمیشہ سے ساتھ رہا ہے اسی طرح دیا نت داری اور چوری و بے ایمانی کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔

    ہندوستان میں سنسکرت زبان میں راما ین لکھنے والا والمیکی پہلے ایک ڈاکو تھا ، انگریز بحری کمانڈر سر فارنسیس ڈریک ایک بحری قزاق تھا۔ حضرت فضیل بن عیا ض بھی ایک مشہور ڈاکو تھے۔ حضرت غوث اعظم شیخ عبد القاد ر جیلانی سے متعلق روایت ہے کہ ان کے قافلہ پر کچھ ڈاکوؤں نے حملہ کیا اور سب سے پوچھا کہ کس کس کے پاس کیا زر و مال تھا۔ سب لوگ کو شش کرنے لگے کہ اپنی قیمتی چیزیں چھپا لیں اور غلط بیانی سے کام لینے لگے لیکن غوث اعظم نے فوراََ بتلا دیا کہ ان کے پاس کتنی رقم تھی۔ ڈاکوؤں کو حیرت ہوئی کہ ایک بچے نے اپنی رقم چھپانے یا جھوٹ بولنے کے بجا ئے سب کچھ بتلا دیا۔ ڈاکوؤں کے استفسار پر غوث اعظم نے کہا کہ روانگی سے پیشتر ان کی والدہ نے نصیحت کی تھی کہ کبھی جھوٹ نہ بولیں خواہ کچھ بھی ہو جائے ، ڈاکو اس بات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے تمام مسافروں کا لوٹا ہو ا سامان واپس لوٹا دیا اور اپنے پیشہ سے توبہ کر لی۔ ہم سب کو حضر ت غوث اعظم کی روحانی طاقت کا علم ہے، ایک مرتبہ آپ حضرت با یزید بسطامی کے مزار پر تشریف لے گئے اور فاتحہ خوانی پڑھ کر حضرت با یزید بسطامی سے خطاب کر کے کہا کہ وہ ان کے لئے دُعا کریں ، حضرت با یزید بسطامی تقریباََ دو سو سال پیشتر تشریف لائے تھے، روایت ہے کہ غوث اعظم کی درخواست پر ندا آئی کہ اے عبد القادر اللہ تعالیٰ نے تجھے بہت بڑا رتبہ دیا ہے میرے لئے دعا کر ۔ا لحمد للہ

    ہندوستان میں کئی خانہ بد وش قبیلوں کا ہمیشہ سے پیشہ چوری کرنا رہا ہے ، وہ رات کو بدن پر سیاہی مائل گریس و تیل مل کر اور صرف لنگوٹی باند ھ کر چوری کو نکلتے ہیں اور اگر کوئی ان کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ چکناہٹ کی وجہ سے پکڑے نہیں جاتے اور بھاگ نکلتے ہیں۔ چوری بڑا پرانا پیشہ و عاد ت ہے، ڈیڑھ سو سال پہلے غالب نے کہا تھا:

    نہ لٹتا دن کو تو کیوں رات کو میں چین سے سوتا

    رہا کھٹکا نہ چوری کا ، دعا دیتا ہوں رہزن کو

    انکے شاگر د مولانا حالی # نے ایک شعر میں کہا تھا:

    اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار

    اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت

    مسجد سے جوتے چرانے کا رواج اس زمانے میں بھی تھا ، جب جوتوں کی قیمت صرف چند آنے ہوتی تھی، ایک شخص نے تو حضر ت علی کے گھوڑے کی لگام اور زین چرا کر بیچ دی تھی۔ پہلے چوری بغیر اسلحہ کے ہوتی تھی لیکن زیادہ رقم آسانی سے ہاتھ آنے کی وجہ سے اب ڈاکے جواہرات کی دوکانوں اور بنکوں میں ڈالے جاتے ہیں۔ اب ڈکیتی نے اغوا برائے تاوان کی شکل بھی اختیار کر لی ہے۔ ایسے واقعات میں عموماََ گھر والے یا جاننے والے شامل ہوتے ہیں۔

    ایک انگریز مقولہ ہے جس کا مفہوم ہے کہ پرس چرانے والا چور ہوتا ہے ، زیادہ قیمتی چیزیں زبر دستی چھیننے والا ڈاکو اور حکومت چھیننے والا دلیر انقلابی کہلا تا ہے ۔ اس طرح اب چوری ڈکیتی سے اغوا اور دوسری بڑی بد عنوانیوں کا جنم ہوا اور چوری صر ف انفرادی یا چھوٹے لوگوں تک محدود نہیں رہ گئی بلکہ اب تو بڑے بڑے لوگ رشوت ، تغلُّب اور قرضوں کی معافی میں شامل ہو گئے ہیں اور دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ اب ہزاروں لاکھوں سے کر وڑوں اور اربوں روپیہ تک کام پہنچ گیا ہے۔ ان کی ناجائز آمدنی کو چھپانے کے لئے ملکی بینک اور اثاثے کم پڑنے لگے اور اس قسم کی بڑی بڑی ہستیوں (یا ہم دلیر ڈاکو کہیں ) نے غیر ممالک میں کو ڈ ناموں سے بنک اکاؤنٹ کھول کر اربوں روپے جمع کرائے ہیں اور اس کے علاوہ نہایت قیمتی اثاثہ جا ت بھی خرید ے ہوئے ہیں تا کہ جب اپنے ملک میں درجہ حرارت بڑھ جائے تو وہ لوگ وہاں ٹھنڈے علاقوں میں جا کر عیا شی کریں ۔ ایک دوسرے کے پول کھولنے کی وجہ سے سادہ لوح عوام نے ان کی ایک ایک چیز سے واقفیت حاصل کر لی ہے لیکن وہ کر کچھ نہیں سکتے ۔ کئی ممالک کے سر براہوں کو سزائیں ہوئیں اور چوری اور ڈاکہ زنی سے لے جائی گئی رقم عدالتوں نے واپس منگوائی لیکن اس مملکت خداد اد پاکستان میں جہاں قرآن اور سنت کے قوانین کا بول بالا ہے قانون کی سز ا صر ف غریب تک محدود ہے اگر ایک لاکھ کا قرض ادانہ کرے گا تو زمین نیلام کر دی جائے گی اور اگر پچا س کر وڑ کھائے گا تو پانچ کر وڑ دے کر عز ت دار بن جائے گا۔ متوسط طبقہ ستر پوشی کر کے خاموش رہتا ہے اور یہ سب کچھ دیکھتا اور سمجھتا رہتا ہے۔

    چوری ڈکیتی یا خیانت دنیا وی اعتبار سے بڑے جرائم ہیں لیکن مذہبی اعتبار سے بڑے گناہ ہیں جن کی معافی توبہ کرنے کے ذریعے ملتی ہے۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے ۔” اور میں تو بڑا بخشنے والا ہوں اس کے لئے جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے اور پھر راہ راست پر بھی قائم رہے۔ (سورة طہٰ آیت 82)“

    توبہ اگر صدق دل سے کی جائے تو اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردیتا ہے لیکن اس بے بعد یہ لازمی ہے کہ گناہ سے اجتناب کیا جائے۔ یہ مذاق نہیں کہ توبہ کی اور پھر گناہ دوہرانے لگے۔ قانون کے اعتبار سے شواہد کی بنا پر فیصلے دیے جاتے ہیں، جرم ثابت ہونے پر معافی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ کھلم کھلا اربوں روپے کی جائیداد رکھنے والا انسان بنک سے کروڑوں روپیہ کے قرضہ جات حاکموں کی مہربانی اور کرپٹ بنک ملازمین کی مدد سے معاف کر ا کے باعز ت شہری رہ کر سینہ تان کر پھرتا ہے ۔ اس ڈاکہ زنی کے بعد نہ آنکھ پرشل اور نہ چہرہ پر شرمندہ گی و ندامت کا اظہار ۔ اگر ان سے آپ کچھ پوچھیں تو آپ کی اپنی خیر نہیں الٹا بھوکے شیر کی طرح آپ پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ آجکل کوتوال کے فرائض اعلیٰ عدلیہ سر انجام دے رہی ہے مگر اس کے اختیارات اور گرفت بھی محدود ہے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے تمام جرائم کے ثبوت اخبارات میں ، انٹر نیٹ پر اور عدالت عالیہ کے پاس موجو دہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی ہے۔ ادھر بے شرمی اور بے غیرتی کا یہ عالم ہے کہ ایسے لوگ سینہ تا نے دندناتے پھرتے ہیں۔

    طویل عرصہ پیشتر ٹی وی پر ایک پروگرام کسوٹی کے نام سے آ تا تھا۔ یہ پروگرام بہت دلچسپ تھا اور میں اسے ضرور دیکھتا تھا۔ یہ پروگرام ہمارے مشہور شاعر حمایت علی شاعر #کرتے تھے اور اس میں افتخار عارف اور عبید اللہ بیگ حصہ لیتے تھے۔

    افتخار عارف تو ابھی بھی مصروف علم و ادب ہیں اور عبید اللہ بیگ بھی کبھی کبھی نظر آجاتے ہیں مگر حمایت علی شاعر کے بارہ میں مجھے کچھ علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تینوں کو تندرست اور خوش و خرم رکھے۔ افتخار عارف اور حمایت علی شاعر کے دو اشعار بہت پسند ہیں نجانے کیوں ان میں اپنی جھلک دیکھتا ہوں۔

    مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سر وں نے

    وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

    (افتخار عارف)

    آئے تھے تیرے ملک میں کتنی لگن سے ہم

    منصوب ہو سکے نہ تیری انجمن سے ہم

    (حمایت علی شاعر )

    (شہر کو ملک کہدیا ہے)۔

    اب آئیں ذرا ہمارے عز ت مآب قومی لیڈروں اور رہنماؤں اور ان کے اطوار و کر دار کے بارہ میں اپنے ہی شاعروں کی زبانی کچھ بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ جگن ناتھ آزاد # نے کتنے پیارے الفاظ میں ان لوگوں کی تعریف کی ہے:

    بفیض مصلحت ایسا بھی ہوتا ہے زمانے میں

    کہ رہزن کو امیر کارواں کہنا ہی پڑتا ہے

    اور حمایت علی شاعر نے تو کمال ہی کر دیا ہے:

    راہزن کے بارے میں اور کیا کہوں کھل کر

    میر کارواں یارو ، میر کارواں یا رو

    آجکل جونہی کوئی کمپیئر ٹی وی پر چوری، رشوت ستانی اور غیر ملکی اثاثوں کی بات کرتا ہے تو چند مخصوص شرکاء آگ بگولا ہو جاتے ہیں ان میں ایک پتھر چٹا(یعنی مڈہا پر ) مچھلی نما اور اس کی لفاظی قابل دید ہو تی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکے والی بات ہے۔

    کیا جانے رہنما کو بُری کس لئے لگی

    رہر و تو کر رہے تھے کسی راہزن کی بات

    (حبیب احمد صدیقی)

    بے چارے سیدھے سادے عوام ان تمام حقائق اور چہروں سے پوری طرح واقف ہیں مگر مجبور ہیں کہ کچھ کر نہیں سکتے بس اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی کوئی نجات کا ذریعہ ملنے کی امید ہے۔ ایک فارسی کہاوت ہے ”رحمت حق بہا نہ جوید “ یعنی خدا کی رحمت بہانہ تلاش کرتی ہے اور پھر ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا اُمید ہونا کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سو رة یوسف (آیت 87) میں فرمایا ہے کہ ہم کو اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہیں ہونا چاہئے چونکہ بے ایمان (کافر) لوگ ہی اللہ کی ذات سے نا اُمید ہوتے ہیں۔

     

     

               

               

               

    ۲۸ مئی ۔ کس بات کی خوشی؟ ...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان   5/24/2010

    ہندوستان کے 18مئی 1974کے ایٹمی تجربہ سے بہت پیشتر جناب بھٹو بار بار دنیا کو اس خطرہ سے آگاہ کر رہے تھے مگر مغربی لیڈر در پردہ ہندوستان کو ایٹمی قوت بنا کر چین کے خلا ف تیار کر رہے تھے۔ جو لائی 1976کو جب مجھے پاکستانی ایٹم بم بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تو پھر میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ آٹھ سال کے قلیل عرصہ میں میرے قابل و محب وطن رفقاء کار اور میں نے اس پسماندہ غریب ملک کو ایک ایٹمی قوت اور پھر ایک میزائل قوت بنا دیا۔ 28مئی1998کو پاکستان نے یہ ایٹمی دھماکے کئے اور وہ بھی جب ہندوستان نے 11مئی 1998کو ایٹمی دھماکے کر کے ہمیں دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے بندوق کا رخ ہمارے سینہ کی جانب کر دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ 1984کے وسط میں ہم نے کہوٹہ میں ایٹم بم بنا لیا تھا اور میں نے 10دسمبر 1984کو جنرل ضیا ء الحق کو تحریر ی طور پر اس کی اطلاع دیدی تھی کہ ہم ایک ہفتہ کے نوٹس پر دھماکہ کر سکتے ہیں۔ سیاسی مصلحتوں کے تحت انھوں نے یہ ملتوی کر دیا اور پھر کسی میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔ اس وقت تک جب ہندوستان نے ہمیں گردن سے پکڑ لیا ۔ یہ یقینا ایک معجزہ تھا کہ ہم نے تمام مخالفوں اور پسماندگی کے باوجود ایٹم بم بنا لئے تھے۔ ہماری نہایت بد قسمتی یہ ہے کہ بارہ سال بعد جب ہم جائز ہ لیتے ہیں تو نہایت دکھ ہوتا ہے کہ ہم نے اتنی اہم کامیابی سے پیدا ہونے والے تمام مواقع کھو دیے اور صرف ایک خاص طبقہ کو ہی فائد ہ ہو ا جو مشرف کی شکل میں ملک کی گردن دبا کر بیٹھ گیا۔ اگر جناب ذوالفقار علی بھٹو حیا ت ہوتے تو وہ اس ملک کی حالت بدل دیتے ، ہم یقینا چین ، ملائشیا کی طرح ترقی کر لیتے ، بین الا قوامی سطح پر خاص طور پر اسلا می ممالک میں ہمارا بہت وقا ر ہوتا بلکہ ہم دنیاء اسلام کے غیر مشروط لیڈر ہوتے ۔ بد قسمتی سے جب وہ دیو قامت شخص گزر گیا تو بونوں کے مزے آ گئے اور انھوں نے اپنی جسامت کے مطابق ہی کام کئے اور بجائے اس کے کہ ہم اتنے بڑے کارنامے سے استفادہ کرتے ہم نے اس کو اپنے لئے لعنت بنا دیا۔لا تعداد غلط فیصلوں کے علاوہ سب سے بڑا اور قابل لعنت فیصلہ غیر ملکی کرنسی کے بنک اکاؤنٹس منجمد کر نا اور ان رقوم پر ڈاکہ ڈالنا تھا۔ اس نے پاکستان کا دنیا میں جو اعتماد تھا اُٹھا دیا ہم آج تک اس کا صلہ بھگت رہے ہیں۔ ایک ملک اس قسم کی ڈاکہ زنی کرے یہ کوئی مہذب ملک و قوم کبھی سوچ بھی نہیں سکتی ہے اور اب وہی لوگ جمہوریت کے بھونڈے نعرے بلند کرتے پھر رہے ہیں۔ بہرحال ہم 28مئی کو اپنا گھر ٹھیک کرنے میں ناکام رہے ، نہ ہی نئے صنعتی ادارے قائم کئے اور نہ ہی اسلامی ممالک سے پاکستان میں رقم لگوانے میں کامیا ب رہے اور نہ ہی اپنا معاشی و تعلیمی نظام ٹھیک کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہیں، اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والا اور غیر ملکی وظیفوں پر پلنے والا ایک جاہل پروفیسر اس معجزانہ کام کے خلاف مسلسل بولتا رہتا ہے اور میرے خلاف لغویا ت بکتا رہتا ہے ۔ یہ بھی اس ملک کی بد قسمتی و بد بختی ہے کہ ایسے لوگ یہاں عیاشی کر کے نمک حرامی کرتے ہیں۔ قصور اس قوم کا نہیں بلکہ حکمرانوں کا ہے جن کو اس سے استفادہ کرنے کی صلاحیت نہ تھی۔ مگر ہم اب بھی اندھوں کی طرح صرف ”یوم تکبیر“ کے بھنگڑے مار رہے ہیں۔

    اس تاریخی واقعہ کے بعد بہت سے اعلیٰ عہدیداروں نے مجھے خطو ط بھیجے تھے سو چا کہ صرف تاریخ کے ریکارڈ کیلئے ان کے کچھ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کر دوں ۔

    (1)سا بق صد ر غلام اسحق خان مرحوم نے 16 اگست 1999کو جناب زاہد ملک کو یہ خط لکھا تھا۔

    یہ قوم اپنے سائنسدانوں اور انجینئر وں کی بے حد ممنون ہے جنھوں نے اس پسماندہ ملک کو دنیا کی ساتوی ایٹمی قوت بنا دیا۔ میرے تجزیہ کے مطابق اس معجزانہ کام کی تکمیل میں سب سے اہم رول ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے ادارہ نے کیا۔ افزودہ یورینیم کا کور استعمال کر کے انھوں نے 1984 کے دوسرے نصف میں ایٹم بم تیار کر لیا تھا جس کا ایک قلیل نوٹس پر دھماکہ کیا جا سکتا تھا۔ آج کے آر ایل اور اس کے متعلقہ ادارے ایک نہایت روشن ، حب الوطنی اور سخت محنت و مشقت کے نمونوں کے طور پر اپنے معمار ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے طور پر موجو د ہیں۔

    (2)جناب محمد رفیق تارڑ سابق صد رپاکستان نے 30جون1998کو مجھے یہ خط بھیجا۔

    غوری میزائل کے کامیاب ٹیسٹ کی خبر مجھے منیٰ میں ملی جہاں میں حج ادا کر رہا تھا۔ خادم الحریمین الشریف نے جو استقبالیہ دیا تھا پوری دنیاء اسلام کے قائدین خوشی سے پھولے نہ سمائے اور انھوں نے بہت بہت مبارکباد دی۔ لا تعداد عام غیر ملکی مسلمان بھی مجھے آ کر مبار کباد دیتے رہے…جب ہندوستان نے 11مئی1998کو ایٹمی دھماکے کئے تو ہماری ملکی سلامتی کو بڑا خطرہ لا حق ہو گیا اور حکومت نے اس کا مناسب جواب دینے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم نے 28مئی1998کو اس کا منھ تو ڑ جواب دے دیا۔ پوری قوم نے اس نہایت اہم ٹیکنیکل کامیابی پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔ اس فوجی حکمت عملی اور توازن کا قائم ہونا قطعی ناممکن تھا اگر آپ نے یہ نہایت شاندار کام اور اپنے سائنسدانوں اور انجینئر وں کی رہنمائی نہ کی ہوتی ۔

    میں خود اور تمام قوم کی جانب سے آپ کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں ، خوشیاں اور سرخروئی عطا فرمائے۔ (آمین)“

    (3)وزیراعظم جناب میاں محمد نواز شریف نے مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کیا۔

    پاکستان کی تقریباََ بیس سالہ کوشش ایٹمی و میزائل ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے کی بفضل خدا 6اپریل کو غور ی میزائل اور 28مئی1998کو ایٹمی دھماکے کی شکل میں شاندار طریقہ سے پایہ تکمیل کو پہنچ گئی ۔ یہ بے حد دشوار اور رکاوٹوں سے پُر راستہ تھا۔ لیکن بفضل خدا آپ کی اور آپ کے ساتھی سائنسدانوں اور انجینئروں کی کوششوں سے تمام مشکلات اور رکاوٹوں پر قابو پا لیا گیا۔ اور آج بفضل خدا ہمارا پرانا خواب کہ پاکستان ایک محفوظ اور مستحکم ملک ہو ایک حقیقت ہے ۔ پوری قوم آپ کے اس شاندار کارنامے پر صحیح طور پر فخر کر رہی ہے اور ہر پاکستانی خواہ ملک میں ہو یا ملک سے باہر سینہ تان کر چل رہا ہے۔ اگر چہ ہم نے بہت کچھ حاصل کر لیا مگر مزید کام کی ضرورت ہے۔ مجھے پورایقین ہے کہ آپ کی زوردار اور قابل رہنمائی میں پاکستان کا میزائل اور ایٹمی پروگرام مزید ترقی کرے گا اور ملک کی سلامتی میں ناقابل بیان استحکام پیدا کرے گا۔ پوری قوم اور اپنی جانب سے میں آپ کو اور آپ کے رفقاء کار کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں اور احساس تشکر پیش کرتا ہوں کہ ااپ نے یہ فرض نہایت ہی خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آئندہ کاموں میں بھی اپنی رحمت سے کامیابی عطا فرمائے۔ (آمین)“

    (4)جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف نے 14جون 1998کو ان خیالات کا اظہار کیا:۔

    پوری قوم کو علم ہے کہ اگر آج پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے تو وہ آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ بلا شبہ یہ ہماری قوم کا آپ کی شاندار اور بے مثال صلاحیتوں پر یقین اور اعتماد کی عکاسی ہے۔ آپ کے موجودہ کارنامے پوری قوم کے لئے باعث فخر اور قوت ہیں۔

    (5)نیوی کے چیف آف اسٹاف ایڈمرل فصیح بخاری نے 8اگست 1998کو ان خیالات کا اظہار کیا:۔

    پاکستان نیوی کے افسران ، مرد اور خواتین اور اپنی جانب سے میں آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو اس عظیم ترین کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ غوری میزائل کی کامیابی سے لانچنگ اور ایٹمی دھماکے ہماری تاریخ کے عظیم ترین کارنامے ہیں۔ آپ کی مسلسل جد و جہد اور حب الوطنی اس قومی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے نہایت قابل تحسین اور قابل فخر ہے۔ میں آپ کی اور آپ کی ٹیم کی مستقبل میں مزیدکامیابیوں کے لئے دعا گو ہوں۔

    (6)ائیر چیف مارشل پرویز مہد ی قریشی نے 30مئی کو ہی ان خیالات کا اظہار کیا تھا:۔

    پاکستان کا 28مئی کو اپنے مخالف کو منھ توڑ جواب دینا ہماری تاریخ کا یقینا ایک سنہری باب ہو گا۔ اس اہم کام کی کامیابی پر میں آپ کی قوت ارادی اور رہنمائی بطور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق کے سلام پیش کرتا ہوں ۔ میں آپ کی پوری ٹیم کو بھی مبارکباد دیتا ہوں جس نے قوم کو مایوس نہیں کیا اور توقعات پر پوری اتری۔ در حقیقت ہم کو ہندوستان کی تکبرانہ ناقابل فہم عمل اور علاقائی چودھراہٹ کی خواہش نے اس اقدام پر مجبور کیا۔ درحقیقت پاکستانی کی سلامتی (اور نیوکلیئر قوت) سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور پوری پاکستانی قوم آپ پر قومی ہیرو کی حیثیت سے فخر کرتی ہے ۔ میں آپ کی کامیابی اور عز ت و شہرت کے لئے دعا گو ہوں اور مستقبل میں ملک کی مزید قوت کے لئے بھی دعا کرتا ہوں۔

    (7)ڈکٹیٹر پرویز مشرف بھی حقائق سے آنکھیں بند نہ کر سکا اور 27مارچ 2001کو ایوان صدر میں میری کے ۔ آر۔ ایل سے ریٹائرمنٹ کے وقت یہ کہنے پرمجبور ہو گیا:۔

    آج رات جب ہم اپنے مشہور اور سینئر ترین سائنسدانوں، ہمارے ہیروز کی عز ت افزائی کے لئے جمع ہوئے ہیں تو میرے خیالات اس ہم واقع پذیر مئی 1974کے دن کی جانب جاتے ہیں جب ہندوستان نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تھا اور اس طرح جنوبی ایشیاء کی طاقت کا توازن بدل دیا تھا جو پاکستان کے مفاد کے سخت خلاف تھا۔ جو کہ 1971کو پاکستان کے دو ٹکڑے ہونے کے اس قدر جلد بعد ظہور پذیر ہوا تھا ۔ اس واقعہ نے ہمار ااحساس کمزوری اور بے بسی بڑھا دیا تھا۔ عام ہتھیاروں میں عدم توازن کے ساتھ ساتھ ایک اور خطرہ نے جنم لے لیا تھا اور پاکستان تن تنہا اپنی حفاظت پر مجبور ہو گیا تھا… اور پاکستان ہندوستانی بلیک میلنگ کا اور دھمکیوں کا شکار ہو گیا تھا۔ حالات بہت نازک تھے اور ہمار ا دفاعی نقشہ بالکل بدل گیا تھا اور چونکہ ہمارے ملک میں برائے نام بھی ایٹمی ہتھیاروں کاپروگرام موجود نہ تھا ۔ پاکستانی اس وقت حقیقتاََ محاورتاََ آسمان کی جانب مدد کے لئے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے۔ ہم نا امید نہیں ہوئے اور دیکھیں اللہ تعالیٰ نے یقینا قوم کی دعائیں سن لیں ، ہم پررحم فرمایا اور ایک معجزہ دکھا دیا ۔ دیکھئے ایک دیو ہیکل شخص بنا م ڈاکٹر عبدالقدیر خان یہاں نمودار ہوا ، وہ شخص جس نے تن تنہا پاکستان کو ایٹمی صلاحیت دیدی۔ ان مشکل ایام میں ان کی آمد نے قوم کو اس وقت حوصلہ اور اُمید دلائی جبکہ یہ قوم جھوٹے وعدوں اور فریب کا ری کی عادی ہو چکی تھی۔ خواتین و حضرات بعد کے واقعات اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کارنامے اب مکمل اور صحیح طور پر تاریخ میں درج ہیں اور پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔ ڈاکٹر خان اور ان کی ٹیم نے دن رات پسینہ میں نہا کر اور تمام رکاوٹوں اور سازشوں اور بین الاقوامی پابندیوں پر قابو پا کر اور اپنے خالی ہاتھوں اور کسی سہولت کی موجودگی کے بغیر پاکستان کے وقار کی علامت کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز قائم کیں جس کا نام نہایت ہی مناسب طور پر خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا گیا۔

    چند ہی سالوں میں انہوں نے اور ان کے دلیر ساتھیوں نے پاکستان کو پہلا ترین پھٹنے والا افزودہ یورینیم مہیا کیا اور ہندوستان کے برابر ایک ہی سطح پر کھڑا کر دیا۔ ڈاکٹر خان کی کامیابی ایک منفرد کہانی ہے کہ وہ اپنے ملک کے لئے ایک کام کرنے کا عزم لے کر آئے اور اپنی زندگی میں ہی نہ صرف وہ مقصد حاصل کر لیا بلکہ اپنے ہم وطنوں سے ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والا تشکر اور ناقابل مثال محبت و عز ت حاصل کی۔ میر ی رائے اور یقین کے مطابق شاید ہی کوئی قوم کسی ایک تن تنہا شخص کی اس قدر مرہون منت ہو گی جس طرح پاکستانی قوم ڈاکٹر خان کی کارکردگی اور کامیابیوں کی ہے۔ ڈاکٹر خان کو نشان امتیاز تمغہ کا دو بار دیا جانا ، جو کسی اور پاکستانی کو آجتک نہیں دیا گیا، اس بات کا ثبوت ہے جو ایک احسان مند اور شکر گزار قوم نے ان کو دیا ہے اور وہ یقینا اس کے مکمل طور پر مستحق ہیں۔

    میں یہ بات باضابطہ طور پر ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ یہ قوم آج بھی اور آئندہ بھی آپ کی شکر گزار اور احسان مند رہے گی ۔ اس کام کے لئے جو آپ نے اس کے لئے کیا ہے۔ آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور ہماری آئندہ قوموں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ یہ اعزاز آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا اور تاریخ میں آپ کا مقام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لکھا جا چکا ہے آپ ہمیشہ زینت پر ہونگے۔ ہم آپ کو سلامی پیش کرتے ہیں اور اپنے دل کی گہرائی سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    اس ”یوم تکبیر“ کو اب پورے بارہ سال ہو گئے ہیں اور اس دن باقاعدہ طور پر ہم ایک ایٹمی قوت بن گئے تھے لیکن بد قسمتی کہ اس کے باوجو د کہ افواج پاکستان پر اور ملک پر غیرملکی جارحانہ خطرات کا تصور تقریباََ ختم ہو چکا تھا مگر پھر بھی آج ہم غیر ملک کے غلام کیوں ہیں؟ ہمارے حکمراں عوام کو ضروری سہولتیں (بجلی، گیس ، پٹرول ، چینی،آٹا وغیرہ) بہم پہنچانے میں قطعی ناکام ہو رہے ہیں۔ نہ ہی خوشحالی آئی ہے اور نہ ہی امن و امان قائم ہوا ہے اور مجھے تو یہ خطرہ نظر آرہا ہے کہ مستقبل قریب میں بھی بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ سمجھ لیجئے کہ ایک خواب تھا جو ایک سراب نکلا ۔

     

               

               

               

    نظامِ حکومت و عدل وانصاف ۔ ہماری سنہری روایات “ ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   6/7/2010

     

    پچھلے دو ڈھائی بر سوں میں اس مملکت پاکستان میں ہمارے ناپید نظام حکومت اور قانون اور امن و امان کے بارے میں لاتعداد مضامین اور تبصرے لکھے جا چکے ہیں۔ اس موضوع میں عوام کی دلچسپی اس لئے زیادہ ہے کہ یہ مملکت خداداد پاکستان اس عرصہ میں ایک بنا نا ری پبلک بن گیا ہے یہاں اچھے نظام ، قانون اور امن و امان نامی کوئی چیز باقی نہیں رہی ۔ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے وہ پچھلے باسٹھ سال کے بد ترین دو ر میں بھی کبھی نہیں ہوا۔ فہرست اتنی طویل ہے کہ لکھنا محال ہے صرف چند ہی ”خوش قسمت “لوگ مزے اڑا رہے ہیں ۔ ان کے لئے کوئی قانون لاگو نہیں ، عدلیہ کے احکامات کا کھلے عام مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ میں عدلیہ سے معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے نظام ِ عدل و انصاف میں کہیں نہ کہیں گرہ لگی ہوئی ہے۔ سیدھے سادھے مقدمات کے فیصلے ہفتوں تو کیا مہینے طے کر کے کئی کئی سال تک چلتے رہتے ہیں۔ یہ جو لاکھوں مقدمات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فیصلہ طلب ہیں ان میں سے اکثر سید ھے سادھے مقدما ت ہیں۔ پرانے زمانے میں ایک قاضی ایک نشست میں کئی کئی مقدمات نمٹا دیتا تھا آجکل التواؤں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دیکھئے بات کہاں جا پہنچی، میں یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ ہماری اسلامی تاریخ قانون کی بالا دستی اور امن و امان کے قیام سے متعلق لا تعداد سنہری ابواب سے بھری پڑی ہے۔ ہماری تاریخ میں دو، چار، چھ یا آٹھ عادل حکمران نہیں گزرے بلکہ سینکڑوں ایسے حکمران گزرے ہیں کہ مغربی تجزیہ نگاروں اور تاریخ دانوں نے ان کی تعریف میں ضخیم کتب لکھی ہیں۔ ہمارے پیا رے رسول نے فرمایا تھا کہ اگر ان کی اپنی پیاری بیٹی بھی چوری کی مرتکب ہوئی تو وہ اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیں گے ۔ حضرت ابو بکر صدیق کے زمانے میں بھی خاصا اچھا نظام حکومت و عدل قائم تھا مگر یہ حضرت عمر تھے جنہوں نے معاشرہ کے کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا اور ایک ایسا نظام حکومت و عدل قائم کیا کہ پوری دنیا آج بھی اس کو یاد کر تی ہے اور اس کو بے مثال نظام قرار دیتی ہے۔ حضرت عمر کے علاوہ امیر معاویہ ، حضرت عمر بن عبد العزیز ، خلیفہ ہارون الرشید ، مامون الرشید، خلیفہ عبد المالک ، سلطان محمود غزنوی، سلطان علاؤ الدین خلجی ، شیر شاہ سوری ، اکبر بادشاہ وغیرہ چند نام لے رہا ہوں حالانکہ یہ تعداد چند درجن پر نہیں بلکہ سینکڑوں اعلیٰ حکمرانوں پر مبنی ہے۔ رحمن ملک کی سزاؤں کی معافی پر مجھے سلطان محمود غزنوی کا واقعہ یا د آ گیا جس کے بارے میں پہلے ایک کالم میں لکھ چکا ہو ں کہ کس طرح اس کی فوج کے ترک سپہ سالار علی نوشتگین کو نشہ کی حالت میں قاضی نے ، جو پہلے ایک ترک غلا م تھا ، سر راہ کوڑے مار مار کر نیلا اودا کردیا تھا اور سلطان نے فخریہ کہا تھا کہ اسی بے امتیازانہ انصاف کی وجہ سے اس کی حکومت قائم تھی اور بخدا اگر وہ خود ایسے جرم کا مرتکب ہوتا تو قاضی بلا خوف و جھجک وہی سلوک اس کے ساتھ بھی کرتا۔ ہم حضر ت عمر بن عبدالعزیز ، خلیفہ ہارون الرشید ، محمود غزنوی کی بات نہیں کرتے ، شیر شاہ سوری کے دور حکومت کو دیکھ لیں ۔ انہوں نے صرف پانچ سالہ دور حکومت میں جو کام دکھا دیے وہ ہمارے حکمران تما م جدید سہولتوں کے باوجو د باسٹھ سال میں نہ کر سکے۔ آپ کو شاید علم نہ ہو کہ شیر شاہ سوری (جس نے پشاور سے کلکتہ تک گرینڈ ٹرنک روڈ بنو ا دی تھی ) کا ناظم مالیا ت راجہ ٹوڈرمل تھا۔ یہ ایک نہایت قابل ماہر مالیات تھااور ہمایوں بادشاہ کے انتقال کے بعد جب اکبر بادشاہ نے عنان حکومت سنبھالی تو اس نے فوراََ راجہ ٹوڈرمل کو بلا بھیجا اور تاریخ گواہ ہے کہ اکبر کانظام مالیا ت ایک مثالی اور اعلیٰ نظام تھا اور اس کا اکبر کی کامیاب حکمرانی میں بڑا حصہ تھا۔ لیکن میں یہاں صرف حضرت عمر کے نظام حکومت اور اقدامات کے بارہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت ابو بکر صدیق کے سوا دو سالہ دور خلافت میں مسلمان نہ صرف اپنا اقتدار مستحکم کرنے میں مصروف تھے بلکہ پورے زور و شور سے فتوحات کا سلسلہ بھی جاری تھا لیکن اس ابتدائی دور میں ابھی نظام حکومت کی ٹھوس بنیادیں نہیں ڈالی گئی تھیں۔ حضرت عمر نے جب خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور امیر المومنین کا لقب اختیار کیا تو صحیح طور سے قوانین حکومت بنائے گئے اور ان پر سختی سے عمل کیا گیا۔ اس دور میں لاتعداد ممالک فتح کئے گئے اور حکومت کی سرحدیں دور دور تک پہنچ گئیں۔ایک جانب تو کاشغر ، تاشقند ، سمر قند تک ، دوسری جانب آذر بائیجان ، آرمینا نک تک سرحدیں پھیل گئی تھیں۔ گویا پورا مشرق وسطیٰ ، افغانستان ، ایران ، شام ، مصر وغیرہ سب مملکت اسلامیہ کا حصہ بن گئے تھے۔ اب آپ ذرا تصور کیجئے کہ یہ وہ وقت تھا جب نہ ہی منا سب سڑکیں تھیں، نہ موٹر گاڑیاں تھیں، نہ ٹرین تھی، نہ ہوائی جہاز تھا، نہ ٹیلی فون ، نہ جدید مواصلاتی نظام لیکن حضرت عمر نے جو نظام حکومت قائم کیا اسکی مثال نہیں ملتی۔ حضرت عمر نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک یا پیاس سے ہلاک ہوا تو وہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ (اور آجکل ذرا کراچی کی قتل و غارت گری دیکھئے کہ حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی) حضرت عمر نے کسی بھی صیغہ حکومت اور شعبہ زندگی کو نظر انداز نہیں کیا اور اسلام کے سنہری اصولوں کا سیا ست و طریقہ زندگی پر پوری طر ح اطلاق کیا۔ آپ نے مجلس شوریٰ صو بجات کی تشکیل ، تنخواہوں کی مقرری ، خراج کا طریقہ کار، مال گزاری کے قوانین ، قواعد عدالت اور احکام عدالت ، قضاة کاعلم کی بنیاد پر تقرر ، رشوت کو کنٹرول بلکہ جنم نہ لینے کے قوانین ، جیل خانہ کی ایجاد، بیت المال یعنی محکمہ خزانہ کا قیام، محکمہ پبلک ورکس کا قیام اور سڑکوں اور نہروں کی تعمیر، نئے شہر آباد کرنا، اعلیٰ فوجی نظام اور ہر سال نئے دستے تیار کرنا ، فوج کے لئے نہایت اعلیٰ سامان حرب و رسد ، تنخواہوں کا نظام ، چھٹیوں کا نظام ، نظام تعلیم کا قیام جس میں خاص طور پر اسلامی سنہری اصولوں پر عمل کرنے پر سخت توجہ، مردم شماری ، غرباء اور مساکین کے لئے وظائف ، حکمران اور عوام کے درمیان امتیازی سلوک کا خاتمہ اور سب کا قاضی کے سامنے یکساں جوابدہ ہونا وغیرہ وغیرہ قائم کئے ۔ اتنی لمبی فہرست ہے کہ صفحات کے صفحات بھر جائیں گے۔ میں یہاں صرف حضرت عمر کے دور کے دو اہم واقعات آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ عدل و انصا ف اور وعدہ کی پاسداری آپ کو کس قدر عزیز تھے:۔

    (۱)کہا جاتا ہے کہ جبلہ بن ایہام الغساّنی شام کی سرحد کے قریب چھوٹی سی ریاست کا بادشاہ تھا۔ یہ پہلے عیسائی تھا لیکن بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ حضرت عمر کے دور خلافت میں یہ طواف خانہ کعبہ کر رہا تھا کہ حاجیوں کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے طواف کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ ایک تو بادشاہ کو عام لوگوں کے ساتھ طواف کرنے میں الجھن ہو رہی تھی اور جب ایک آدمی کا پیر اس کے شاہی عبایا پرپڑ گیا تو یہ آگ بگولہ ہو گیا اور غصہ میں اس شخص کو تھپڑ ما ر دیا۔ متاثرہ شخص نے فوراََ جا کر حضر ت عمر سے شکایت کر دی۔ آپ نے گواہوں کے بیانا ت سن کر اسلامی انصاف کی حد قائم کر دی اوراس شہری کو اجازت دی کہ وہ بھی کھلے عام اس بادشاہ کو تھپڑ لگا دے۔ بادشاہ ناراض ہوا کہ یہ کیسا مذہب ہے کہ جو بادشاہ اور عام آدمی میں تمیز نہیں کرتا ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ صرف متاثر ہ شخص کی معافی سے وہ بچ سکتا ہے۔ بادشاہ مجمع میں غائب ہو کر بھاگ نکلا اور راتوں رات اپنی ریا ست میں واپس پہنچ گیا اور پھر مرتد ہوگیا ۔ جب حضرت عمر کو اس بات کا علم ہو ا تو آپ نے فرمایا کہ ”بہتر ہے کہ ہمیں ایسے شخص سے نجات مل گئی کیونکہ ایسے مغرور شخص کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہماری عز ت ایسے شخص کی وفاداری کی محتاج نہیں ہے۔ “دیکھئے یہ مثال ہے بلا امتیاز قانون نافذکرنے کی ۔

    (۲)دوسری مثال اپنے الفا ظ اور وعدے پر قائم رہنے کی ہے۔ حضرت ابو بکر کی خلا فت کے دوران ہی مسلمانوں نے ایران اور روم کی حکومتوں کے خلاف جہاد شروع کردیا۔

    لیکن اس میں شد ت حضرت عمر کی خلافت کے دوران آئی۔ جنگ قادسیہ کی مشہور ترین جنگ ہوئی جس نے ایران(کسریٰ ) کی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ اس جنگ میں حضر ت سعد بن ابی وقاص سپہ سالار تھے۔ اس مشہور جنگ کے واقعات تمام تاریخی کتب میں موجو دہیں۔ ایرانیوں کی طرف سے رستم سپہ سالار تھا جو جنگ کے دوران مارا گیا۔ ایرانیوں کی طرف سے چند سردار بہت بہادری سے لڑے اور ان میں ہر مزان بہت نمایاں تھا۔ ہر مزان نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو بہت پریشان کیا تھا۔ رات کو اپنے قلعے سے نکل کر مسلمان فوج پر شب خون مارتا تھا اور کافی نقصان پہنچا کر قلعہ میں حفاظت سے بند ہو جاتا تھا۔ حضرت عمر کو جب یہ اطلاع ملی تو آپ نے حضرت وامق ابو لہول کو مدد کے لئے روانہ کیا ۔ یہ سیاہ فام بدو تھے، چہر ہ چیچک کے داغوں سے پُر تھا اور بڑی جسامت تھی اسی وجہ سے ان کا نام ابو لہول یعنی بھوت پڑ گیا تھا۔ جب آپ حضرت سعد کے پاس پہنچے تو اُنھوں نے ہرمزان کی چالاکی اور بہادری کے واقعات سنائے تو وامق سے ضبط نہ ہو سکا اور آپ نے کہا کہ خدا کی قسم آپ دیکھیں گے کہ میں اس کا کیا حشر کر تا ہوں ۔ حضرت سعد کو یہ بات بری لگی اور کہا کہ لگتا ہے کہ تمھاری کالی ماں کے دودھ نے تم میں تکبر پیدا کر دیا ہے۔ حضرت وامق نے غصہ سے تلوار کھینچ لی اور کہا کہ خدا کی قسم اگر تم مسلمان نہ ہوتے تو تمھاری گردن اُڑا دیتا۔ رات کو حضرت وامق نے اپنا دستہ جنگی حالت میں تیار رکھا اور جب ہر مزان نے علی الصباح فوج کے ایک حصہ پر شب خون مارا اور چیخ و پکار کی آواز بلند ہوئی تو حضرت وامق اپنے دستہ کے ساتھ بجلی کی طرح ہر مزان پر حملہ آور ہوئے اس کے کئی فوجی ہلا ک کر دیے اور قلعہ کے دروازے تک اس کا تعاقب کیا۔ حضرت سعد نے ان کا شکریہ ادا کیا اور معافی مانگ لی۔ مسلمانوں نے ایرانیوں کی کمر توڑ دی اور قوت کو خاک میں ملا دیا ۔ہرمزان خوزستان کے دارالحکومت شوستر بھاگ گیا اور وہاں کے قلعوں اور خندقوں کی مرمت کی اور مستحکم بنا لیا ۔ مغیرہ بن شعبہ جو اس علاقہ (بصرہ ) کے حاکم تھے انھوں نے ہرمز (اہواز ) پر حملہ کر دیا مگر ان کی معزولی کے بعد حضر ت ابو موسیٰ اشعری نے ذمہ داری سنبھال کر ایرانیوں پر دباؤ جاری رکھا اور شو ستر کا محاصرہ کر لیا۔ ہر مزان ایک بڑی فوج لے کر شہر سے نکلا اور مسلمانوں پر حملہ کر دیا ۔ یہاں ہرمزان نے دو بد و جنگ میں حضرت براء بن مالک اور محراة بن ثور کو شہید کر دیا مگر مسلمان فوج نے کامیابی حاصل کی اور ہر مزان قلعہ میں بند ہو گیا اور کچھ بحث و مبا حثہ کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری سے اس شرط پر ہتھیار ڈالنے کو تیار ہو ا کہ وہ اس کو مدینہ منورہ پہنچا دیں اور جو بھی فیصلہ حضر ت عمر کریں گے وہ اس کو قبول ہو گا۔ حضرت انس اس کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور حضرت عمر کی خدمت میں پیش کیا جو اس وقت مسجد نبوی میں فرش خاک پر لیٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے۔ کیونکہ اس شخص نے دو بدو جنگ میں دو مشہور صحابہ کو شہید کر دیا تھا اور لاتعداد مسلمانوں کی شہادت کا ذمہ دار بھی تھا۔حضرت عمر سخت غیض و غضب میں تھے اور یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ انسانی اور اخلاقی قدروں کے تحت آپ نے ہر مزان سے آخری خواہش دریافت کی ۔ اس نے پینے کے لئے پانی کی خواہش کی، پانی کا پیا لہ ہاتھ میں لے کر ادھر ادھر دیکھنے لگا اور حضرت عمر کے دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ اس کو خطرہ ہے کہ جب وہ پیالہ منہ سے لگائے گا تو جلا د اس کا سر قلم کر دے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جب تک وہ یہ پانی نہ پی لے گا اس کو کوئی گزند نہیں پہنچایا جائے گا۔ یہ سنتے ہی ہر مزان نے پانی ریت میں انڈیل دیا اور کہا کہ وعدہ کے مطابق اب آپ مجھے قتل نہیں کر سکتے کہ میں نے وہ پانی نہیں پیا اور نہ ہی پی سکتا ہوں۔ صحابہ نے کہا کہ اس نے یہ چال چلی ہے اور واجب قتل ہے مگر حضرت عمر نے فرمایا کہ اُنھوں نے جو وعدہ کیا تھا وہ اس سے انخراف نہیں کر سکتے اور حکم دیا کہ ہر مزان کو آزاد کر دیا جائے۔ جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو اس نے اسلا م قبول کر لیا اور مد ینہ میں سکونت اختیار کر لی ۔ آپ نے دیکھا کہ حضرت عمر نے اس قدر برے دشمن کو اس وجہ سے معاف کر دیا کہ آپ نے وعدہ کر لیا تھا اور اس کو توڑنے کی اسلا م میں کوئی گنجائش نہ تھی۔ بعد میں جب ایرانی غلام فیروز نے حضرت عمر کو فجر کی نماز کے دوران خنجر مار کر شہید کر دیا اور حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر نے گواہی دی کہ انھوں نے فیروز کو ہرمزان اور جنفیہ کے ساتھ دیکھا تھا اور فیروز کے ہاتھ سے وہ خنجر بھی گرتا دیکھا تھا تو عبید اللہ بن عمر نے طیش میں آ کر ہر مزان اور جنفیہ دونوں کو قتل کر دیا ۔فیرو ز نے گرفتاری کے وقت خود کشی کر لی تھی۔

    آجکل کے اصحاب اقتدار کے اخلاق و کر دار اور اقوال میں تضاد دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ حضرت عمر نے دس سال خلافت کی اور جو معجزات دکھائے ان سے مغربی اور مشرقی مصنفوں نے لاتعداد کتابیں لکھی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں ایوب خان کے 11 سال ، ضیاء الحق کے 11سال اور مشرف کے ساڑھے آٹھ سال دیکھ لیجئے ، تمام جدید سہولتوں کے باوجو د انھوں نے ملک کو تباہ کر دیا اور نظم و نسق اور قانون اور امن و امان عنقا ہو کر رہ گئے۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بن عبد العزیز نے صرف سو ا دو سال حکومت کی تھی۔ بلا امتیاز انصاف کرنے اور بلا خوف و خطر سخت اقدامات اُٹھانے کے بارہ میں بھی حضرت عمر نے درخشاں مثالیں چھوڑی ہیں۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ حضرت عمر نہایت با اثر اور مشہور جرنیلوں اور صحابہ کے خلا ف سخت اقداما ت اٹھائیں گے لیکن عمر و بن العا ص ، حضرت عیا ض بن غنم ، حضرت خالد بن ولید ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عمار بن یاسر کے خلاف بے ضابطگیوں کی اطلاع ملنے پر فوراًَ ان کے عہدوں سے سبکدوش کر دیا ۔حضرت سعد فاتح ایران اور رسول اکرم کے ماموں تھے ، حضرت خالد فاتح شام تھے ، حضرت مغیرہ بن شعبہ بہت مشہور اور بہاد ر صحابی تھے اورحضرت عمرو بن العا ص فاتح مصر تھے۔ آجکل ہمارے ملک میں دیکھئے کس طرح ملزموں اور مجرموں کو معصومیت و بیگناہی کے سرٹیفکیٹ دے کر اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ملک و قوم پر رحم کرے ۔ (آمین)

     

     

               

               

               

    لہاسہ۔ دنیا کی چوٹی...سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   6/14/2010

     

    ا ٓپ کو یادہوکہ جب میں نے ٹمبکٹو کے بارے میں کالم لکھے تو میں نے عرض کیا تھا کہ تمام بچوں کی طرح میری بھی دو خواہشات تھیں اور یہ کہ ٹمبکٹو دیکھنا اور لہاسہ دیکھنا تھیں۔ میں نے ٹمبکٹو کے بارے میں آپ کو تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا تھا اور وہاں کی تاریخ ، ثقافت اور عوام کے رہن سہن پر روشنی ڈالی تھی۔ آج آپ کی خدمت میں لہاسہ کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ لوگ آج بھی تبت اور لہاسہ کا نام سن کر ایک خوشگوار تصور و خواب میں کھو جاتے ہیں کہ دنیا کی چوٹی کہلانے والا ملک اور اس کا دارالحکومت کیسے ہوں گے۔ خاص طور پر لہاسہ کا پوٹالا محل پوری دنیا میں مشہور ہے اور دلچسپی کا مرکز ہے۔ اس کی لاتعداد تصاویر کتابوں ، رسالوں میں شائع ہوئی ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ قبل اس کے کہ میں آپ کو لہاسہ کے بارے میں کچھ بتاؤں پہلے تبت کی تاریخ و جغرافیہ پر کچھ روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔

    تبت کا خود مختار علاقہ چین کے جنوب مغرب میں ہے اور یہ بہت بڑا علاقہ ہے۔ اس کار قبہ تقریباََ سو ا لاکھ مربع میل ہے۔ اس کے جنوب میں ڈھائی ہزار کلومیٹر لمباہمالیہ پہاڑ ، مغرب میں قراقرم اور شمال میں کنلن اور التائن تاغ پہاڑ ہیں۔ اس علاقہ کی اوسط اونچائی چار ہزار میٹر (تیرہ ہزار دو سو فٹ) اور بہت سا علاقہ تو پانچ ہزار میٹر (ساڑھے سولہ ہزار فٹ) سے بھی اونچا ہے۔ تبت کے خود مختار علاقہ کی تقریباََ ساڑھے تین ہزار فٹ سرحد ہندوستان ، بھوٹان، نیپال اور میانمار (برما) سے ملتی ہے اور شمال اور مشرق میں چینی صوبہ جات سنکیانگ، چھنگائی، سیچُوان اور یوناّن سے گھرا ہوا ہے۔ نہایت اونچائی اور پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا موسم خاصا سخت ہوتا ہے۔ موسم گرما میں درجہ حرارت پچیس ڈگری سینٹی گریڈ اور موسم سرما میں منفی پندرہ سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ تبت کی سیر کرنے کے لئے، خاص طور پر لہاسہ جانے کے لئے موسم بہار اور موسم خزاں بہت مناسب وقت ہے ۔ وہاں سردی کا موسم بہت سخت ہوتا ہے۔ ہم لوگ جو لائی میں گئے تھے تب وہاں موسم بہت خوشگوار تھا۔

    تبت کے بارے میں مغربی ممالک اور ہندوستان نے بہت منفی پروپیگنڈہ کیا ہے دراصل مغربی ممالک کو کبھی بھی یہ یقین نہیں تھا کہ چیئرمین ماؤزے تنگ اور ان کے ساتھی امریکی اور مغربی پٹھو چیانگ کائی شیک کو شکست دے دیں گے۔ چین کے تمام عوام جاپانی جارحیت کے خلاف متحد ہو گئے تھے اور چیئرمین ماؤ اور چیانگ کے درمیان جو اختلافات تھے وہ سرد خانہ میں ڈال دیے گئے تھے مگر جونہی امریکیوں نے جاپانیوں پر دو ایٹم بم گرائے اور جاپانیوں نے ہتھیار ڈال دیے تو چیانگ کائی شیک نے مغربی ممالک کی شہہ اور فوجی امداد کی مدد سے کمیونسٹوں کو نیست و نابود کرنے کی بھر پور کوشش کی مگر چینی عوام کو علم تھا کہ چیانگ ایک سامراجی ایجنٹ تھا اور وہ ان پر ڈکٹیٹر بن کر حکمرانی کرنا چاہتا تھا۔ چیئرمین ماؤ اور ان کے ساتھیوں نے بہت قربانیاں دی تھیں اور لانگ مارچ جو تقریباََ چار ہزار کلومیٹر پیدل مسافت اور ہزاروں جانوں کی قربانی پر مبنی تھا اس نے چیئرمین ماؤ اور کچھ ساتھیوں کو جان بچانے اور دوبارہ منظم ہونے میں کامیاب کر دیا تھا۔ میرے رفقائے کار اور میری نہایت خوش قسمتی ہے کہ ہم چیئرمین ماؤ کے کئی ان بہادروں سے ملے اور ان کے ساتھ کھانا کھایا ہے۔ بہرحال دوسری جنگ عظیم سے پہلے بھی اور اس کے فوراً بعد مغربی ممالک نے بھرپور کو شش کی کہ تبت چین سے توڑ لیا جائے اور علیحدہ آزاد ملک بنا کر وہاں چین اور روس کے خلاف فوجی اور جاسوسی اڈے بنائے جائیں ۔ تبت کے زمانہ قدیم سے چین سے قریبی روابط تھے اور کئی لاکھ تبتی چین میں رہائش پذیر تھے مگر دلائی لامہ اس بہکائے میں آگیا ،مغربی ممالک نے ہتھیار اور مشیر دیے اور اس میں ہندوستان نے باہمی سرحد کی وجہ سے کلیدی رول ادا کیا۔ نہرو ایک جانب تو وزیر اعظم چواین لائی کے ساتھ ہندی چینی بھائی بھائی اور پیخ شیلا کے بھنگڑے مار رہا تھا اور دوسری جانب مغربی ممالک سے مل کر تبت پر قبضہ کرنے کی سازش میں منہمک تھا۔ لیکن چیرمین ماؤ اور ان کے رفقائے کار اس سازش سے بے خبر نہ تھے اور انھوں نے خاموشی سے ایک ایلیٹ فورس اس فتنہ کو کچلنے کے لئے تیار کر رکھی تھی۔ چیانگ کائی کی شکست اور فرار ہونے کے بعد بہت سا اچھا مغربی اسلحہ ان کے ہاتھ آ گیا تھا۔

    1959میں نئے سال کی سالگرہ کے موقع پر دلائی لامہ کے حامیوں اور چینی فوج میں تبتی سپاہیوں نے بغاوت کر دی ۔ اس تمام عرصہ میں چیئرمین ماؤ اور ان کے ساتھی تبت کوایک خود مختار علاقہ کی حیثیت سے چین کا حصہ رکھنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ طبیعتاً چینی بہت نرم مزاج اور امن پسند ہیں مگر ان کو اکثر غلط سمجھ کر کمزور سمجھا جائے تو وہ اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں ۔ جب تبتی عوام اور سپاہیوں نے چینی عوام اور فوج پر حملہ کیا تو ان کو منہ توڑ جواب دیا گیا اور مغربی ممالک اور ہندوستان جو اس تمام شرارت اور سازش کے پیچھے پیچھے تھے کچھ نہ کر سکے ، دونوں جانب سے بہت سا جانی نقصان ہوا ۔ ماؤزے تنگ کے رفیق خاص جنرل لی چیو نے خود مجھے بتایا کہ ان کو چیئرمین ماؤ نے بلایا کیونکہ وہ لانگ مارچ کے سا تھی تھے اور لاتعداد لڑائیوں میں بہادری کے جوہر دکھا چکے تھے اور ہدایت کی کہ تبت کو شرپسندوں سے پاک کردیں۔ جب شر پسند شکست کھانے لگے تو 17مارچ 1959کو دلائی لامہ وہاں سے بھاگ نکلا اور پہاڑی راستوں سے مشرقی بھار ت پہنچ گیا اور اب وہیں سے پچھلے پچاس سال سے مغربی ممالک اور ہندوستان کی مالی اور اخلاقی معاونت سے چین کے خلاف مسلسل پروپیگنڈہ کرتا پھر تا ہے۔ میں نے چینی افسران کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اگر دلائی لامہ واپس تبت چلا جائے تو چینی اس کو عزت سے خوش آمدید کہیں گے اور وہ وہاں رہ کر اپنے عوام کی بہت اچھی خدمت کر سکتا ہے مگر مغربی ممالک کی عیاشیوں اور سہولتوں نے اس کے دل سے تبت کے عوام کی محبت ختم کردی ہے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہو گا کہ جنرل لی چیو نے جب لہاسہ کو شرپسندوں سے صاف کیا تو وہ دلائی لامہ کے موسم گرما کے محل نور بُولنگ کا میں بطور احترام نہیں گئے بلکہ ہفتوں اس کے باغ میں ایک ٹینٹ لگا کر گر می و سردی کے موسم گزارے۔بہت سخت سردی میں وہ ایک ٹب میں باہر پانی رکھ دیتے تھے اور دھوپ سے جب پانی کی سردی میں کچھ کمی ہو جاتی تھی تو اس سے نہا لیتے تھے۔ انہوں نے ہمیں ٹینٹ نصب کرنے کی جگہ بھی بتائی۔ یہ نہایت پڑھے لکھے نرم مزاج اسکالر تھے تبت کے باغیوں نے بہت سے چینی سپاہی ہلاک کئے تھے کیونکہ انکے پاس مغربی آٹومیٹک رائفلیں تھیں اور بہت اچھے نشانہ باز بھی تھے مگر کچھ ہی عرصہ میں چینی سپاہیوں نے انکا صفایا کر دیا تھا۔ دلائی لامہ کی قسمت میں غیر ملک میں مرنا اور دفن ہونا لکھا ہے ۔خود امریکی ذرائع ابلا غ نے ہندوستان اور نیپال میں CIAکے ٹریننگ کیمپس کی تصدیق کی ہے۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ دلائی لامہ کو تمام سہولتیں دی جائینگی اور وہ اپنے عوام کے لئے بہت مفید کا م کر سکے گا۔

    تقریبا1985کے شرو ع میں ہم پیکنگ میں کام سے گئے ہوئے تھے۔ مجھے لہاسہ کی یاد ہمیشہ ستاتی رہتی تھی ،اتفاقاً ہم نے وہاں تھیٹر میں پرنس وین چنگ نامی ڈرامہ دیکھا ، اس میں تبت کے شہزادے کی چینی شہزادی سے شادی اور سفر دکھایا گیا تھا ۔ میں نے اس سے پیارا اور دلچسپ کھیل نہیں دیکھا، میری فیملی میرے ساتھ تھی۔ میں نے اپنے میزبان سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے بہت خوشی سے اس کا انتظام کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ جولائی کا مہینہ بہت اچھا رہے گا کہ موسم خوشگوار ہوتا ہے ۔ واپس آ کر میں نے اپنی بیگم اور بچیوں سے اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ بہت خوش ہوئیں اور فوراََ حامی بھرلی۔ جو لائی کے شروع میں میرے رفقائے کار کرنل فاروقی ، بریگیڈئر سجاول خان، بدر الاسلام ، میں ،بیگم اور دونوں بچیاں پیکنگ چلے گئے۔ ہم نے جنرل ضیاء الحق اور جناب غلام اسحق خان سے اجاز ت لے لی تھی۔ دو دن پیکنگ میں ٹھہر کر ہم بذریعہ جہاز سچوان صوبہ کے دارالحکومت چینگڈو پہنچے، وہاں ایک دن قیام کر کے اور وہاں کے چٹ پٹے کھانے کھانے کے بعد ہم بذریعہ ہوائی جہاز لہاسہ روانہ ہوئے۔ موسم بہت اچھا تھا، پہاڑ برف سے ڈھکے ہوئے تھے ، جہاز ایک لوپ بناکر لہاسہ سے تقریباََسو، سوا سو کلومیٹر دور ”گونگ کر“ائرپورٹ پر اتر گیا۔ یہ دو پہاڑیوں کے درمیان دریا کے کنارے پر ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ جہاز رن وے سے اتر کر دریا میں چلا جائے گا۔ وہاں ہمارے لئے پروٹوکول کی پوری ٹیم موجود تھی اور تھوڑی دیر بعد چین کی بنی ہوئی جیپ گاڑیوں میں لہاسہ شہر کی جانب روانہ ہوئے۔ اس وقت سڑک زیر تعمیر تھی اور گاڑیا ں بمشکل بیس، پچیس کلومیٹر کی رفتار سے چل رہی تھیں مگر راستہ میں ہم نے دیکھا کہ سڑک کی تعمیر کا کام جاری تھا اور سب سے پہلے پل اور پلیاں بنائی جارہی تھیں۔ہماری حکومت کی جہالت کی طرح نہیں کی سڑک کے ٹکڑے بنا کر ٹھیکیدار رقم لے لیتے ہیں اور پلوں کی غیر موجودگی میں یہ سڑکیں دس دس برس قابل استعمال نہیں ہوتیں۔ راستہ میں جگہ جگہ نالوں کا پانی نظر آ رہا تھا ۔ شہر کی آمد سے بہت دور ہی سے پہاڑوں کے دامن میں اونچی جگہ نہایت خوبصورت پوٹالا محل نظر آیا اس کا منظر قابل دید تھا۔ ہم نے کتابوں اور فلموں میں اس کو دیکھا تھا مگر جب اصل میں اس کو دیکھا تو بس دیکھتے ہی رہ گئے ۔ اس کو سرخ پیلے اور سفید رنگوں سے رنگا گیا تھا۔ ایسی پہاڑی چنی ہے کہ سردی میں ہر جانب سے اس پر دھوپ پڑتی ہے۔ موسم بے حد خوشگوار تھا ، بائیس ڈگری درجہ حرارت تھا۔ہم آخر چار گھنٹوں کی مسافت کے بعد ایک ہوٹل پہنچ گئے ۔ یہ درمیانہ درجہ کا ہوٹل تھا ۔ باہر ایک دائرہ میں کچھ پھولد ار پودے لگے ہوئے تھے ۔ابھی تک ہمیں اونچائی اور سانس کی تکلیف کا احساس نہ ہوا تھا مگر جیسے ہی ہم گاڑیوں سے نیچے اترے تو ایسا لگا جیسے زمین گھومنے لگی اور چکر آنے لگے۔ مجھے ، بیگم ، بچیوں اور بدر صاحب کو زیادہ محسوس ہوا اور ہم جلدی سے کیاری کی دیوار پر بیٹھ گئے۔ بریگیڈئر سجاول اور کرنل فاروقی کو بالکل احساس نہیں ہوا تھا چونکہ یہ بہت زیادہ ورزش کے عادی تھے۔ بریگیڈئر سجاول روز صبح اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑی پر چڑھتے تھے اور چوٹی تک جاتے تھے اور کرنل فاروقی روز اسلام آباد کلب میں بغیر آرام کئے ڈیڑھ دو گھنٹے تیرتے تھے یہ بالکل فٹ تھے۔ ابھی ہم اندر کمروں میں جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ ایک بس آئی جس میں امریکی سیاح آئے یہ تمام پینشن یافتہ عمر رسیدہ لوگ تھے اور بڑے ذوق و شوق سے اترے مگر اترتے ہی آکسیجن کی کمی کا شکار ہوئے اور لڑکھڑا کر جلدی جلدی دیوار پر بیٹھ گئے۔ ہمیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ چلنے پھرنے میں بہت محتاط رہنا پڑے گا۔ دوپہر کو ہم شہر کی سیرکو نکلے تو گائیڈ نے کہا کہ آہستہ آہستہ چلیں اور گہری سانس لیتے رہیں۔ شہر زیادہ بڑا نہ تھا، سڑکیں ٹھیک تھیں، دکانوں میں کھانے پینے کی چیزیں وافر مقدار میں موجو د تھیں ، ہم نے کچھ بسکٹ خرید لئے کہ بوقت ضرورت کام آئیں۔ دونوں بچیاں جلد ہی آب و ہوا کی عادی ہو گئیں مگر بیگم ، بدر صاحب اور مجھے دو دن لگے کہ ہم آرام سے گھوم سکیں۔ خاص طور پر رات کو بہت تکلیف ہوتی تھی۔ پیروں اور سر میں خاصا درد ہوتا تھا ۔ وہاں انھوں نے پلاسٹک بیگ رکھے ہوئے تھے جس میں زیادہ پریشر میں ہوا بھری ہوئی تھی جب ہمیں زیادہ تکلیف ہوتی تھی تو نلکی منھ میں لے کر تیزی سے ہوا اندر کھینچتے تھے تو آرام آجاتا تھا۔ ہمارے کمرے میں پوٹالا محل کا منظر سحر کن تھا ۔ صبح صبح ہم پردے ہٹا کر اس کو دیکھتے تھے۔ یہ ناقابل فراموش منظر تھا، لہاسہ شہر ابھی زیادہ ترقی نہیں کر پایا تھا اور اُسی سال چین نے پہلی مرتبہ غیر ملکی سیاحوں کو تبت آنے کی اجازت دی تھی اور ان میں سب سے زیادہ امریکی سیاح تھے۔ یہاں کا کھانا درمیانہ درجے کا تھا لیکن دریائے برہم پترا سے تازہ پکڑی مچھلی بے حد لذیذ تھی، اس کی کھال ذرا موٹی تھی غالباً برفانی اور ٹھنڈے پانی کی وجہ سے قدرت نے یہ حفاظتی سہولت دی ہو۔ یہاں یاک ( جو ہمارے بیل کی طرح ہوتا ہے مگر سیاہ رنگ اور لمبے بال ہوتے ہیں) کا گوشت عام تھا جو مزے میں ٹھیک تھا۔ لیکن یہاں کی مشہور چیز چائے تھی جو ہمیں تو زیادہ لذیذ نہیں لگی۔ یہ یاک کے مکھن ، دودھ ، نمک، چائے کی پتی کو ملا کر پکائی جاتی ہے، سوپ کی طرح گاڑھی تھی ہم اس کو کے ساتھ مجبوراً پی لیتے تھے کہ پانی کے بارے میں ذرا محتاط تھے۔ دوسرے دن گورنر نے ہمیں ڈنر دیا ، یہاں اچھے چینی کھانے تھے اور سب نے خوب پیٹ بھر کر کھائے۔ گورنر نے مجھ سے پوچھا کہ وہ کیا خدمت کر سکتا ہے تو میں نے درخواست کی کہ اگر یاک کے گوشت کے سُوکڑ (سوکھے پتلے گوشت کے ٹکڑے) مل جائیں تو شکر گزار ہوں گے ، دوسرے دن صبح ایک کارٹن بھر کر یہ سوکھا گوشت ہمیں پہنچادیا گیا۔ یہ بے حد لذیذ تھا اور ہمارے بہت کام آیا ۔ جب ہم وہاں پر اونچائی کے کچھ عادی ہوگئے تو تیسرے دن پوٹالامحل کا پروگرام بنایا ۔ کار چکر کاٹ کاٹ کر غالباََ چوتھی یا پانچویں منزل پر جا کر رکتی ہے ، کیا منظر تھا ، اندر بڑے بڑے ہال تھے ، قالین بچھے ہوئے تھے مگر تعمیر لکڑی کی تھی اور صرف باہر ی دیواریں چونے ، مٹی اور پتھروں کی تھیں جو غالباََ ایک میٹر سے بھی زیادہ موٹی تھیں۔ محل کے اندر ٹھنڈک تھی اور رنگا رنگ کی نقش کاری اور لالٹینیں لٹکی ہوئی تھیں۔ ہم آہستہ آہستہ اوپر جاتے رہے ، ہر منزل بے حد خوبصورت طریقہ سے آراستہ تھی ۔ ہم سب سے آخری تیرہویں منزل پر پہنچ گئے وہاں پورے شہر کا منظر بے حد دلکش تھا۔ وہاں ہماری سبز چائے اور بسکٹوں سے ضیافت کی گئی۔ پھر ہم آہستہ آہستہ گراؤنڈ فلور پر آگئے اور وہاں سے گاڑیوں میں بیٹھ کر موسم سرما میں دلائی لامہ کے استعمال ہونے والے محل کی سیر کو گئے۔ ہر چیز اس طرح رکھی تھی کہ گویا دلائی لامہ وہاں رہائش پذیر ہو۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ بوجہ تحریم و تکریم اس محل میں نہ کبھی کسی کو ٹھہرنے کی اجازت رہی ہے اور نہ ہی کوئی ٹھہر سکتا ہے۔ وہ دلائی لامہ کے لئے تیار ہے وہ جب آئے اپنے محل کا قبضہ لے سکتا ہے۔ ہم نے اس خوبصورت باغ میں وہ جگہ بھی دیکھی جہاں جنرل لی نے سخت موسم میں قیام کیا تھا۔ اس محل کا نام ”نور بولنگ کا “ ہے۔ پوٹالہ محل کو اقوام متحدہ نے بین الاقوامی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہوا ہے اور یہ تقریباََ تین سو سال پرانا ہے۔موسم گرماکا محل تقریباً ڈھائی سو سال پرانا ہے مگر نیا محل موجودہ دلائی لامہ نے 1956میں بنوایا تھا۔ یہاں بہت بڑا باغ ہے اور اس میں چار پانچ محلات ہیں جو سب اچھی حالت میں ہیں۔ لہاسہ میں آپ کو ہرجانب رنگا رنگ عمارات اور شوخ رنگین کپڑوں کی پٹیاں لہراتی نظر آتی ہیں خاص طور پر قبرستان کے باہر ایک رسی پر یہ رنگین پٹیاں بہت حسین و دلکش نظر آتی ہیں۔ہم لوگ لہاسہ میں میوزیم دیکھنے بھی گئے جہاں تبت کی پرانی ثقافت کے لاتعداد نوادرات رکھے ہوئے ہیں اور ان کو بہت احتیا ط سے رکھا گیا ہے۔ ہم نے کئی مندروں کی بھی سیر کی ۔ یہاں ہر جگہ بدھ مذہب کا اثر نظر آتا ہے اور ان مندروں میں لاتعداد کتابیں سنسکرت زبان میں موجودہیں جن کا تعلق بدھ مت سے ہے۔ ان مندرو ں میں مستقل طور پر گھی اور مکھن کے چراغ جلائے جاتے ہیں جن کی بدبو نا قابل برداشت ہوتی ہے اور جی متلانے لگتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں جلد از جلد وہاں سے نکلنا پڑا۔ دوسرا دلچسپ منظر سڑکوں پر دیکھا کہ بدھ مذہب کے پیروکار لیٹ لیٹ کر دو قدم آگے اور ایک پیچھے پر عمل کرکے مندر وں کی جانب رواں دواں تھے۔ یہ نہایت مشکل اور تکلیف دہ طریقہ عبادت ہے لیکن لوگ اس پر عمل کرتے ہیں۔ میری بچیوں نے وہاں سے یادگار کے طور پر کچھ گھنٹیاں ، جو کپڑے پر سلی ہوئی تھیں اور سردی کے جوتے ، نیچے چمڑا اور اوپر نہایت خوبصورت سرخ و سفید کپڑا لگا ہوا تھا،خریدے تھے جو آج بھی ہمارے گھر میں اس نہایت خوشگوار اور ناقابل فراموش دورے کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔ ہم نے وہاں پانچ دن قیام کیا تھا ۔ واپس چینگڈو آئے اور پھر پیکنگ ، دو دن وہاں ٹھہر کر واپس پاکستان یعنی ”خیر سے بُدھّو گھر کو آئے۔

    لہاسہ جو پچیس سال پیشتر چھوٹا سا شہر تھا اب ایک بڑا شہر ہو گیا ہے جو لوگ وہاں سے ہو کر آئے ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ یہ اب سنکیانگ کے دارالخلافہ اُرمُچی کی طرح چند سال میں ایک چھوٹے سے شہر سے ایک اعلیٰ پورپین شہر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ سات آٹھ اعلیٰ بڑے بڑے ہوٹل کھل گئے ہیں ہمارے چینی بھائیوں نے چینگڈو سے لے کر لہاسہ تک نہایت اونچے اور دشوار ترین پہاڑوں میں سے ریلوے لائن ڈال دی ہے اور اب انسان پیکنگ سے لہاسہ تک بذریعہ ٹرین جاسکتا ہے اور نہایت ہی دلچسپ اور روح افزا مناظر سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔

     

     

     

               

               

               

    سحر ہونے تک!....روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی....ایک بلیک جوک سنیں…!   6/19/2010

     

    چارلی نے اپنے د وستوں سے کہا کہ الزبتھ ٹیلر نے اسے اپنی سالگرہ پربلایا ہے۔ دوستوں نے اس کامذاق اُڑایا اور کہا ”تم یہ گپیں ہانکنا بندکرو، کہاں الزبتھ ٹیلر، کہاں تم، وہ تمہیں اپنی سالگرہ پرکیوں مدعوکرے گی؟“ مگر چنددنوں بعد چارلی کے ساتھ سڑک پر سے گزرتے ہوئے اس کے دوست یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے قریب ایک کار آ کر رکی،اس میں الزبتھ ٹیلر بیٹھی ہوئی تھی، اس نے چارلی سے پیار بھرے انداز میں گلہ کیاکہ تم کل میری سالگرہ میں کیوں نہیں آئے؟ اسی طرح چند روز بعد چارلی نے دوستوں کو اطلاع دی کہ صوفیہ لارین اس سے ملنے کے لئے اس کے گھر آ رہی ہے۔ دوستوں نے کہا ”اگر تمہارا ایک ”فلوک“لگ ہی گیا ہے تواب ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش تو نہ کرو“ مگر دوستوں کو ایک بار پھر حیران ہونا پڑا کیونکہ صوفیہ واقعی چارلی کے گھر آئی اور چارلی نے اس کی ملاقات اپنے دوستوں سے بھی کرائی۔ چند روز بعد چارلی نے اعلان کیا کہ ویٹی کن سٹی میں پوپ کا جشن تاجپوشی ہے اور وہ پوپ کی دعوت پر اس میں شرکت کے لئے ویٹی کن سٹی جارہا ہے۔ اس پر دوست ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑگئے اور اس پر لعنت ملامت کرتے ہوئے کہا کہ ”اداکاروں کی حد تک تمہارا دعویٰ صحیح نکلنے کا یہ مطلب نہیں کہ اب تم پوپ کو بھی اپنے دوستوں میں شمار کرنا شروع کردو!“ یہ سن کر چارلی بولا ”مجھے پہلے ہی علم تھاکہ تم مجھ پر یقین نہیں کروگے، اس لئے میں نے چار دعوت نامے تمہارے لئے بھی منگوا لئے تھے چنانچہ سفرکی تیاری کرو۔“سو یہ سب لوگ ویٹی کن سٹی پہنچے، وہاں لاکھوں لوگ تھے جوپوپ کے دیدار کے لئے وہاں جمع تھے، دوستوں نے دیکھا کہ چارلی مجمع میں کہیں گم ہوگیا ہے اور تھوڑ ی دیر بعد ان کی نظر بالکنی پر پڑی تو انہوں نے دیکھاکہ وہ پوپ کی کمر میں ہاتھ ڈالے وہاں کھڑا ہے اور نیچے مجمع میں سے ایک نن دوسری نن سے پوچھ رہی ہے کہ ”یہ نیلے سوٹ والاتوچارلی ہے مگر اس کے ساتھ دوسرا کون ہے؟

    یہ لطیفہ زیرو میٹر نہیں ہے کیونکہ میں اسے پچیس سال پہلے استعمال کرچکاہوں مگر اس بار بھی اس کا استعمال ناگزیرہے کیونکہ جب ڈاکٹر قدیر خان اپنے رفقا کے ساتھ ایٹم بم کی تیاری میں مشغول تھے تو سرکاری تردید کے باوجود تصدیق کی خبریں بھی کان میں پڑتی رہتی تھیں۔ ان دنوں ہم میں سے بہت سوں کو یقین تھا کہ یہ محض دیوانے کا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہوسکے گا لیکن دیوانے کا یہ خواب پورا ہوکر رہا اورہم سب کو ڈاکٹر قدیر خان کی صلاحیتوں کاقائل ہونا پڑا… اس کے بعد گزشتہ برس روزنامہ ”جنگ“ میں یہ اعلان پڑھا کہ ڈاکٹر قدیر خان ”جنگ“ کے لئے کالم لکھا کریں گے تو دوستوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ”لو اب ڈاکٹرصاحب کالم لکھیں گے۔“ مگر ڈاکٹرصاحب نے کالم بھی لکھنا شروع کردیا، اس پر یاروں نے کہا ”کالم تو سینکڑوں لوگ لکھ رہے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ قارئین انہیں کالم نگار تسلیم بھی کرتے ہیں کہ نہیں!“ اور پھر ہم سب نے دیکھاکہ ان کا کالم ذوق و شوق سے پڑھا جارہا ہے بلکہ جس تیزی سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے مجھے خدشہ ہے کہ لوگ کہیں ایک دوسرے سے یہ نہ پوچھنا شروع کردیں کہ یہ کالم تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ہے مگر اس کے ساتھ یہ ”روزنِ دیوار“ والا کون ہے؟مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ سائنس اور کالم نگاری میں کیاقدرِ مشترک ہے مگر مجھے اتنا ضرور علم ہے کہ سائنس دانی ڈاکٹرقدیر خان کے لئے ترقی کے بے شمار دروازے کھول سکتی تھی لیکن انہوں نے غلطی یہ کی کہ وہ اسے پاکستان کے استحکام کے لئے استعمال کر بیٹھے چنانچہ ایک روز ایک بے غیرت شخص ٹی وی سکرین پر نمودار ہوا اور اس نے پاکستان کے اس محسن کو الزامات کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا، اسکے بعد اسے قید و بند کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑا مگر…یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے

    چنانچہ ڈاکٹر صاحب کی ہمتیں اور حوصلے جوان رہے، قوم ان کے لئے سراپا سپاس رہی، اب وہ آمر جلاوطنی کی زندگی بسر کررہا ہے اور ڈاکٹر صاحب پر عائد پابندیاں اگرچہ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئیں تاہم ان میں کمی آئی ہے، میں ڈاکٹر صاحب کو اور پاکستانی قوم کو اس حوصلے سے کوئی امید نہیں دلانا چاہتا مجھے یقین ہے ڈاکٹرصاحب کی زبان بندی کاسلسلہ جاری رہے گاکیونکہ یہ زبان اگر کھلی تو اس سے ادا ہونے والے لفظوں سے ایسے ایوانوں میں کھلبلی مچ جائے گی جن کی بنیادیں قوم کو نقصان پہنچانے والی من مانی سے اٹھائی گئی ہیں، چنانچہ ڈاکٹر صاحب کو چاہئے کہ وہ انہی موضوعات پر کالم لکھتے رہیں جن موضوعات پر وہ اب تک لکھتے چلے آرہے ہیں اور یہ موضوعات بھی بہت اہم ہیں ان کا علم بھی بہت وسیع ہے اور انہوں نے حافظہ بھی بلا کا پایا ہے چنانچہ میں ہر دفعہ ان کا کالم پڑھتے ہو ئے اس کے سحر میں گم ہو جاتاہوں! تاہم اس ”گلی“ کا رُخ نہ کریں جس گلی کے جٹ برے ہیں!

    ایک شخص نے ملنگ سے کہا ”بابا! میری بیوی مجھے بہت تنگ کرتی ہے، کوئی حل بتائیں“ ملنگ نے کہا ”پتر! اگر کوئی حل ہوتا تومیں نے ملنگ ہی ہونا تھا؟“ اس سے ملتا جلتا سوال میں نے بھی ایک ملنگ سے پوچھا تھا اور وہ یہ تھا کہ ”بابا! کالم نگاری میں بڑی مشکلات ہیں، اس میں بھی پورا سچ نہیں بولا جاسکتا۔ کیا اس کاکوئی حل ہے؟“ اس نے بھی اس کا وہی پرانا جواب دیا کہ ”بچے! اس کا اگر کوئی حل ہوتا تو میں نے ملنگ ہی بننا تھا؟“ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو ایٹمی کارنامہ سرانجام دینے کے بعد جن تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑا اس کا دوچار فیصد ہی سہی، مگر کالم نگاری کے دوران بھی انہیں اس سے ملتے جلتے مراحل سے گزرنا پڑے گا، میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اس میدان میں بھی ڈٹے رہیں، حوصلہ نہ ہاریں کیونکہ کچھ لوگوں کو ان کا لکھنا ہی پسند نہیں آرہا ہوگالہٰذا وہ ان کی خواہش پوری نہ ہونے دیں اور یہ سلسلہ ”سحر ہونے تک“ جاری رکھیں!

    آخر میں مجھے ڈاکٹر قدیر خان کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف کا ذاتی شکریہ بھی ادا کرنا ہے۔ بھٹو ایٹمی پروگرام کے شروع کرنے والے تھے، ڈاکٹر قدیر خان اسے تکمیل تک پہنچانے والے اور نواز شریف کے ہاتھوں اس کا کلائمکس سامنے آیا تھا۔ جب پاکستان نے اوپر تلے سات ایٹمی دھماکے کئے، میں اس وقت ناروے میں سفیر تھا۔ ان دھماکوں کے بعد ایک ڈنر میں جب مختلف ملکوں کے سفیروں سے میری ملاقات ہوئی تو اس روز میری گردن فخر سے تنی ہوئی تھی۔ اب میں ایک ایسے ملک کا نمائندہ نہیں تھا جس کا ملک دولخت ہو چکا تھا بلکہ میری حیثیت عالم اسلام کی واحدایٹمی قوت کے نمائندے کی تھی۔ اس روز میں نے ان تینوں شخصیات کے علاوہ ان سب افراد او ر اداروں کادل میں شکریہ ادا کیا تھا جنہوں نے ہمارے ایٹمی پروگرام کو پایہ ٴ تکمیل تک پہنچانے میں ایک کردار ادا کیا… ڈاکٹر صاحب! یہ شکریہ میں آج پھر دہرا رہا ہوں براہِ کرم قبول فرمائیں!

    (یہ کالم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کالموں کی کتاب ”سحر ہونے تک“ کی تقریب ِ رونمائی کے لئے لکھا گیا مگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے میں تقریب میں شامل نہ ہوسکا)

     

     

     

     

               

               

               

    اتحاد ، اتفاق اور نفاق ۔ تخت یا تختہ ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   6/21/2010

     

    اتحا د ، اتفاق اور نفاق بظاہر معمولی الفاظ نظر آتے ہیں لیکن ان کی طاقت وقت آنے پر ہی محسوس ہوتی ہے۔ ہر زبان ، سوسائٹی اور قوم میں اس کی اہمیت اور افادیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ مثلاً اتحاد میں طاقت ہے اور مل کر ہم کھڑے ہوتے ہیں اور تنہا گرتے ہیں۔ ہر قوم اور ہر زبان میں اس موضوع پر لاتعداد نصیحتیں اور مثالیں دی گئی ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لئے یہ نہ صرف مناسب ہے بلکہ لازم ہے کہ ہم دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس موضوع پر کیا فرمایا ہے اورکیا ہدایات فرمائی ہیں۔ ”اور (مومنو ) سب مل کر اللہ کی رسی (یعنی اللہ کے دین) کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو جبکہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح اللہ تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ(سورة آل عمران آیت 103)۔“ یہ تمہاری جماعت (قوم) ایک ہی جماعت (قوم ) ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو(سورة الانبیاء آیت92)۔“ اور یہ تمہاری جماعت (قوم) حقیقت میں ایک ہی جماعت (قوم ) ہے اور میں تمھارا پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرو(سورة المومنون آیت 52)۔“مومن (مسلمان) تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کر ا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے(سورة الحجرات آیت 10)

    ہمارے قائداعظم ایک جیتے جاگتے فرشتہ تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل خضرعطا فرمائی تھی ایک دینی عالم نہ تھے اور نہ ہی کبھی دعویٰ کیا تھا مگر آپ کے اقوال و اعمال اسلام کے سنہری اصولوں پر عملداری کا سنہری نمونہ ہیں آپ کا یہ نعرہ”اتحاد ، ایمان اور نظم “ اسلام کے سنہری اصولوں کی عکاسی کرتا ہے اور سب سے پہلے لفظ اتحاد مسلمانوں میں اتحادکو اولین ترجیح دینے کا ثبوت ہے۔

    ایک پرانی کہانی ہے کہ ایک بزرگ تجربہ کار شخص نے اپنے بچوں کو بلا کر علیحدہ علیحدہ ایک ایک لکڑی دی اور توڑنے کو کہا۔ سب نے وہ لکڑیاں توڑ دیں پھر اس نے ان لکڑیوں کو اکٹھا باندھ کر ان کو توڑنے کو کہا۔ سب ناکام رہے تو اس نے کہا دیکھو! اتحاد میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکے گا۔ اگر الگ الگ مشکلات یا دشمن کا مقابلہ کرو گے تو شکست کھاؤ گے، ساتھ رہوگے تو تمہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ انگریز جو اپنی عیاری اور مکاری میں سب پر سبقت لے گئے انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ بنایا تھا کہ لوگوں میں تفرقہ ڈالو(کمزور کرو) اور ان پر حکومت کرو۔ اس حکمت عملی پر عمل کر کے اس عیار قوم نے تقریباً پوری دنیا پر ہی قبضہ کر لیاتھا۔ مقامی لوگوں کو مقامی لوگوں سے قتل کروایا ، لٹوایا اور مظالم کروائے اور سیکڑوں سال حکمرانی کی ، لوٹا اورمال و دولت ہندوستان لے گئے۔ یہ سلسلہ آسٹریلیا سے لے کر امریکہ تک اور ملائیشیا ، سنگاپور سے لے کر نائجیریا اور کینیا تک جاری رہا۔ برصغیر میں انہوں نے شیعہ سنی ، قادیانی اور صوبہ پرستی جیسے کھیل کھیلے۔عوام کی بے پناہ قوت کا اندازہ حکمران جانتے ہیں اور اسی لئے ان کو نت نئے جھگڑوں میں، مشغلوں میں الجھائے رکھتے ہیں تاکہ وہ حکمرانوں کی بدمعاشیوں اور عیاشیوں پر تنقید نہ کر پائیں۔ پچھلے زمانوں میں شمشیر زنی ، گھوڑ دوڑ ، دنگل جیسے کھیلوں میں حکمران خود شریک ہو کر انعامات دیتے اور عوام کو خوش کر دیتے تھے۔ ہندوستان اپنے ملک میں عوام کا اتحاد قائم رکھنے کے لئے روز نت نئے نعرے پاکستان کے خلاف لگاتا ہے، الزام تراشی کرتا ہے اور جارحیت کے خطرہ کا نعرہ لگا کر عوام کا دھیان دوسرے مسائل سے ہٹاتا رہتا ہے اور قوم میں اتحاد قائم رکھتا ہے۔

    آپ نے دیکھا ہے کہ اکثر پرندے اور جانور بھی جھنڈ کی شکل میں رہتے اور حرکت کرتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اتحاد کے فوائد سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ہے ۔ جنگلی کتے ایک ساتھ مل کر شیر کو بھگا دیتے ہیں ۔ لگڑ بھگے بھی شیر ، تیندوے کو بھگا دیتے ہیں۔ جنگلی بھینسوں کا غول جب شیر کی طرف دوڑ لگاتا ہے تو شیر دُم دبا کر بھاگتا نظر آتا ہے۔مخلص ، نیک اور ایماندار حکمران و رہنما بھی ہمیشہ سب سے پہلے اتحاد کی تلقین کرتے ہیں تاکہ اختلافات جنم نہ لے سکیں اور قوم متحد رہے۔

    اسلام کی قبولیت سے پہلے عرب قوم قبائل میں تقسیم تھی مگر اسلام نے ان کو متحد قوم آہنی دیوار کی مانند بنا دیا۔ ایک دوسرے کے لئے جان و مال دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ بڑی بڑی طاقتور صیہونی اور دوسرے قوتوں کی چند سال میں اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ مکہ، مدینہ سے کاشغر ،ثمرقند ، اسپین ، ویانا کی سرحد تک مسلمانوں کی حکمرانی قائم ہوگئی لیکن چند سال بعد جب آپس میں نفاق پیدا ہوا، رسہ کشی شروع ہوئی تو تسبیح کی ڈوری ٹوٹ گئی اورتمام دانے بکھر گئے اور ہم ذلیل و خوار اور غلام ہوگئے ۔ علامہ اقبال نے مجبوراً دُکھ بھری آواز میں قوم سے پوچھا۔

    فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

    کیا زمانہ میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

    اور پھر فرمایا

    فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں

    موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

    غریب اور کم تعلیم یافتہ طبقہ میں اتحاد کی کہاوتیں مشہور ہیں مثلاً ”چار ہاتھ دشمن پر بھاری“ ، ایک سے ایک ملے تو رائی بن سکتی ہے پربت“،کارل مارکس نے یہ راز سمجھ کر ہی کہا تھا کہ عوام سب سے بڑی طاقت ہے۔ مطلب پرست عناصر عوام کے اتحاد کے سب سے بڑے دشمن ہیں کیونکہ ان کا اتحاد ان مطلب پرستوں کے مذموم اداروں کی موت ہے۔ پہلے کچھ لوگوں کو لالچ، بلیک میلنگ یا زور سے توڑ لیا جاتا ہے پھر ان کے ذریعے ان کے اتحاد کو سبوتاژ کیا جاتا ہے لیکن عموماً یہ تدبیریں دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔

    ایران ، فلپائن ، ہمارے یہاں ابھی چند دن پیشتر کرغیزستان میں آپ نے عوام کی یکجہتی اور اس کی قوت کا مظاہرہ دیکھ لیا۔

    1835ء میں لارڈمیکلے (Lord Macaulay) نے دوفروری کو برٹش پارلیمنٹ میں جو بیان دیا تھا وہ انگریزوں کی عیاری اور دوررس پلاننگ کی آنکھیں کھولنے والی مثال ہے اس نے مشورہ دیا کہ کس طرح مقامی آباد کا تعلیمی نظام ،ثقافت ختم کر کے ان میں تفرقہ ڈال کر ان پر حکومت کی جائے ۔ اس نے کہا تھا:

    میں نے ہندوستان کے طول وعرض کا سفر کیا ہے اور مجھے ایک شخص بھی ایسا نظر نہ آیا جو فقیر ہو یا چور ہو۔ میں نے اس ملک میں بے حد دولت دیکھی ، اعلیٰ اخلاقی قدریں دیکھیں اور ایسے اعلیٰ پائے کے عوام دیکھے ہیں کہ میں تصور نہیں کر سکتا کہ ہم کبھی اس ملک کو فتح کر سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی نہ توڑ دیں اور یہ اس قوم کی روحانی اور ثقافتی میراث ہے۔ اس لئے میرا یہ مشورہ ہے کہ ہم ان کا پرانا تعلیمی نظام بدل دیں(تباہ کر دیں) کیونکہ جب ہندوستانی اس بات کا یقین کریں گے کہ بیرونی اور انگلش چیز ان کی اپنی چیزوں سے بہتر ہے تو وہ اپنی خود اعتمادی اور خود ارادی کھو دیں گے، اپنی ثقافت کھو دیں گے اور پھر وہی بن جائیں گے جیسا ہم چاہتے ہیں یعنی ایک حقیقی محکوم قوم“۔

    بالکل یہی پالیسی روسیوں نے وسط ایشیاء کی مسلمان حکومتوں اور عوام کے خلاف اپنائی اور ان کے اپنے اعلیٰ نظامِ تعلیم اور ثقافت کو ختم کر دیا۔

    دونوں کا نتیجہ یہی نکلا کہ قوم دو طبقوں میں بٹ گئی ۔ ایک نام نہاد مغربی تعلیم یافتہ اور دوسری وہی پرانی ۔ اس طرح دونوں سامراجی قوتوں کو سیکڑوں برس حکومت کا موقع مل گیا۔

    آج کل ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی حالات اور حکمرانوں کے اخلاق و کردار پر نظر پڑتی ہے تو سابق وزیر اعظم انگلستان سر ونسٹن چرچل کے وہ تاثرات یاد آ جاتے ہیں جو انہوں نے ہمارے حکمرانوں کے بارے میں کہے تھے اور اب ساٹھ سال بعد وہ کس قدر صحیح نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا: ”طاقت بے ایمان، بد معاش ، لالچی اور مجرموں کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔ برصغیر کے تمام لیڈر نہایت نچلے وصف و کر دار کے ہوں گے ، یہ گھاس و پھونس کے بنے ہوں گے اور ان میں اخلاقی قوت کا فقدان ہو گا۔ ان کی زبان میٹھی ہو گی مگر دل عیار ہوں گے۔ یہ آپس میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے لڑتے جھگڑتے رہیں گے اور برصغیر اسی سیاسی دنگل میں تباہ ہو جائے گا۔ مجھے برصغیر کے لوگوں سے نفرت ہے وہ وحشی لوگ ہیں اور وحشی مذہب کے پیروکار ہیں وہ ہوا اور پانی پر ٹیکس لگا دیں گے۔

    چرچل کے یہ تاثرات غالباً (مذہب کے بارے میں )ہندو مذہب کے بارے میں تھے جس میں لوگ نہ صرف گائے کی پوجا کرتے تھے بلکہ اس کا پیشاب بھی پیتے تھے۔ کئی ہاتھوں والی کالی دیوی اور ہاتھی کے سر والے ہنومان کی پوجا کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ لوگ گائے کے گوبر کو مبارک اور پاک جان کر اس سے گھر میں پلاسٹر کرتے ہیں۔ اسلام کے بارے میں وہ یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا کیونکہ لاتعداد مغربی مفکروں نے اسلام کے سنہری اصولوں کی تعریف میں لاتعداد کتابیں اور مضامین لکھے ہیں۔ جہاں تک ہندوستانی لیڈروں کے بارے میں تاثرات کا تعلق ہے تو وہ ہندوستان سے زیادہ بد قسمتی سے ہمارے لیڈروں کے بارے میں زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ جن برائیوں اور اخلاقی پستی کا اس نے ذکر کیا ہے وہ ہمارے لیڈروں میں بکثرت موجو د ہیں۔

    آج ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ضرورت اتحاد ، نظم و نسق کی ہے۔ ہمارے حکمران آنکھیں بند کئے حالات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ چند سال پیشتر آپ نے ایران میں عوام کی طاقت کا مظاہرہ دیکھا تھا ۔ اپنے آپ کو طاقتور ترین سمجھنے والے شہنشاہ پر زمین تنگ ہو گئی تھی اور اسے مصر میں بمشکل دو گز زمین دفن ہونے کو ملی تھی۔ ابھی کرغیزستان کے واقعے سے بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلی ہیں۔ جب پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو ایک بوند اس کو چھلکانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ اگر ان حالات میں کسی جوشیلے لیڈر نے عوام کے غیض و غضب کو متحد کر کے اس کا رخ موڑ دیا تو اس سیلاب کو کوئی نہ روک سکے گا۔کوئی بھاگ نہ سکے گا ، سڑکیں لاشوں اور خون سے بھر جائیں گی۔ جس طرح بھوکے پیٹ والے سے حب الوطنی کا تقاضا احمقانہ ہے اسی طرح عوام سے جو بے روزگاری ، مہنگائی ، ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی اور لوڈ شیڈنگ کے وزن سے دب کر مرے جا رہے ہیں ان سے حب الوطنی اور اتحاد ، نظم و نسق کی امید رکھنا چاند حاصل کرنے کے برابر ہو گا۔ اٹھارویں ترمیم آزادی کی نہیں قتل و غارت گری کا پیش خیمہ ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس ملک و قوم پر رحم کرے۔ (آمین)

     

     

     

     

               

               

               

    ایٹم بم، کالم نگاری اور لوڈ شیڈنگ ....طلوع …ارشاد احمد عارف

    6/22/2010

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسا دلیر، منصوبہ ساز، متحمل مزاج اور چرب دماغ شخص بھی مایوسی کا شکار ہے؟ یقین نہیں آتا۔ صحافی اور صاحب طرز اینکر سہیل وڑائچ کے پروگرام میں ڈاکٹر صاحب نے اپنی قومی خدمات کے عوض ہونے والے حکومتی سلوک کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ یہ قومی سطح پر پائی جانے والی مایوسی اور بے یقینی کی انتہاء ہے۔

    ڈاکٹر صاحب نے اس ملک کے لئے کیا نہیں کیا؟ جب تاریخ لکھی جائے گی تو امریکہ سے جنگی ہتھیاروں کے پرزے نہ ملنے کی بناء پر 1971ء میں بدترین شکست سے دوچار ہونے والی مسلم ریاست کے صرف گیارہ سال بعد ایٹمی قوت بننے پر تعجب کا اظہار کیا جائے گا لیکن اس سے زیادہ حیرت انگیز اور عجیب بات یہ کہ صرف 30 کروڑ ڈالر کی حقیر رقم سے یہ پروگرام مکمل ہوا یعنی ہم قومی حمیت، ملکی سلامتی اور مفادات داؤ پر لگا کر امریکہ سے جو سالانہ خیرات (ڈیڑھ ارب ڈالر) وصول کرتے ہیں اس کا پانچواں حصہ۔ جناب آصف علی زرداری کے دور ہمایونی میں راجہ پرویز اشرف کی طرف سے منگوائے گئے کرائے کے بجلی گھروں کا دو چار سال کا کرایہ بلکہ اس سے بھی کم۔

    مسلمانوں کی ہمیشہ یہ بد قسمتی رہی کہ ہار جائیں تو شکست کے اسباب پر غور نہیں کرتے۔ کامران ٹھہریں تو مال غنیمت پر لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ 1998ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے جو 1982 میں ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا چھ ایٹمی تجربات کئے تو مال غنیمت پر جھگڑا شروع ہو گیا منفی پروپیگنڈے کا طوفان امڈ آیا ٹارگٹ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور میاں نواز شریف تھے۔ میاں نواز شریف پر الزام لگا کہ وہ ایٹمی تجربات کرنا نہیں چاہتے تھے، ٹال مٹول کر رہے تھے، فوج نے دباؤ ڈالا، ایک بزرگ نے دبکا لگایا اور وہ مان گئے۔

    صدر کلنٹن اپنے دباؤ اور پانچ ارب ڈالر کی امداد کا اعتراف ذاتی سوانح عمری کے علاوہ ایک خط میں کر چکے میاں صاحب کے ذاتی اکاؤنٹ میں اضافے کی ترغیب بھی دی گئی، جنرل جہانگیر کرامت کا ایک خط بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اور پاکستان میں امریکہ و بھارت سے راتب وصول کرنے والے دانشوروں نے جو آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا کہ پاکستان خطے میں ایٹمی دوڑ شروع نہ کرے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں مگر تمام تر دباؤ اور ترغیبوں کو رد کرنے والے سیاستدان کو اتنا کمزور ثابت کیا جا رہا ہے کہ ایک دبکا نہ سہہ سکا، سید مشاہد حسین اور شمشاد احمد خان ریکارڈ پر ہیں کہ میاں صاحب نے انہیں دو شنبے سے وطن واپس بھیج دیا تاکہ وطن واپس آ کر قومی اور بین الاقوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے حکمت عملی ترتیب دیں۔ 13 مئی کو سائنس دانوں سے بھی تیاریاں شروع کرنے کے لئے کہہ دیا گیا۔

    ڈاکٹر صاحب کو سائنس دان ماننے سے ہی انکار کر دیا گیا، کسی نے از رہ مروت و بندہ پروری کریڈٹ دیا بھی تو اتنا کہ وہ یورانیم افزودہ کرنے والی ٹیم کے سربراہ تھے۔ نئے نئے سائنس دانوں کے نام سننے کو ملے جو 1960ء سے فنڈ ضائع کر رہے تھے بھٹو مرحوم نے 1974ء میں ایٹم بم بنانے کی فرمائش کی جب پاکستان کو دو لخت ہوئے تین سال گزر چکے تھے اور بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کی سلامتی کے لئے نیا خطرہ پیدا کر دیا تھا مگر یہ قابل اور لائق سائنس دان 1976ء تک یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام پلوٹونیم بیسڈ ہونا چاہئے یا یورانیم بیسڈ۔ عربی میں کہتے ہیں الفضل ما شہدت بہ الاعداء (اعزاز اور حق وہ ہے جس کی شہادت دشمن دیں) پاکستان کے سارے دشمنوں نے ہمیشہ ڈاکٹر عبدالقد یر خان کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا موجد اور عالمی ”مجرم“ ٹھہرایا۔ اکیلا بھارت نہیں اس کا ہمدم و ہمراز اسرائیل، امریکہ و یورپ کے حکمران اور صہیونت نواز پاکستان دشمن میڈیا آج تک ڈاکٹر صاحب کی کردار کشی میں مصروف ہے دشمنوں کی اس سے بڑی شہادت اور کیا ہو سکتی ہے؟

    میاں صاحب کو ایٹمی تجربات کی سزا جلا وطنی کی صورت میں ملی اپنے دوست صدر کلنٹن کے دور حکمرانی میں اپنے مقرر کردہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں، ڈاکٹر صاحب کو قومی خدمت کا صلہ قابل نفرت فوجی حکمران پرویز مشرف کی الزام تراشی، قید و بند اور دیگر صعوبتوں کی شکل میں دیا گیا۔ اس محسن کشی کے عوض امریکہ سے کتنی رقم وصول کی گئی؟ کوئی نہیں جانتا۔ سابقہ حکومت نے پاکستانی شہریوں کی امریکہ حوالگی کا معاوضہ وصول کیا۔ محسن کشی کا یہ کارنامہ بلا معاوضہ انجام نہیں دیا جا سکتا۔

    ڈاکٹر صاحب نے ایٹم سازی کے میدان میں قدم رکھا تو کامیابی نے ان کے قدم چومے، روزنامہ جنگ میں کالم نگاری شروع کی تو کامرانی کے جھنڈے گاڑے ”سحر ہونے تک“ اس کا زندہ ثبوت ہے علی مسعود سید مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے کالمانہ فن پاروں کو کتابی شکل دے کر اگلی نسلوں کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔ اب ڈاکٹر صاحب قوم اور ملک کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کا عزم رکھتے ہیں ایٹم بم نے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کو محفوظ کیا لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ملک کو اقتصادی و معاشی دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے ضروری ہے یہ امریکہ کا خوف ہے یا لوڈ شیڈنگ سے فائدہ اٹھا کر تھرمل پاور اور رینٹل پاور پراجیکٹس کے ذریعے جیبیں بھرنے کی حریصانہ خواہش کہ ذوالفقار علی بھٹو کی وارث اور نام لیوا حکومت ڈاکٹر صاحب کی پیشکش قبول کرنے سے قاصر ہے الٹا عدالتی احکامات کے باوجود سکیورٹی کے نام پر پابندیاں لگائے بیٹھی ہے اور جنرل پرویز مشرف کے پیرو کار ہونے کا الزام سہہ رہی ہے۔ اسی بناء پر ڈاکٹر صاحب مایوسی کا شکار ہیں حکومت ایران گیس پائپ معاہدے کے حوالے سے امریکہ کا دباؤ برداشت کر رہی ہے اگر وہ امریکہ سے نہیں ڈرتی اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنا چاہتی ہے تو ایک رینٹل پاور پراجیکٹ کے سال بھر کے کرائے کے برابر رقم ڈاکٹر صاحب کے حوالے کرے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا ٹاسک دے یقینا ڈاکٹر صاحب یہ کارنامہ بھی سرانجام دے کر دکھائیں گے اور آصف علی زرداری بھٹو کے حقیقی پیرو کار اور وارث ثابت ہوں گے بھٹو جس نے پھانسی کا پھندا قبول کر لیا مگر عبرت ناک انجام کی امریکی دھمکی کو خاطر میں نہ لائے اور ڈاکٹر عبدالقدیر کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا گئے۔

     

     

               

               

               

    سستا خون اور مہنگا پانی .... سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   6/28/2010

     

    سستا خون اور مہنگا پانی ایک بہت پرانی کہاوت ہے مگر اس کا صحیح ظہور کربلا کے واقعہ میں ہوا۔ جب یزیدی فوج نے نواسئہ رسول حضرت امام حسین اور ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کو کربلا کے میدان میں گھیر کر پانی بند کر دیا اور پیاس کا عذاب نازل کر دیا۔ حضرت عباس بچوں کوپیاس سے تڑپتا نہ دیکھ سکے اور تمام خطرات کو نظر انداز کرکے دریا کی راہ لی۔ ظالموں نے آپ کو نر غہ میں لے لیا اور حملہ کر کے آپ کے ہاتھ کا ٹ دیے۔آپ نے مشکیزہ کو دانتوں سے پکڑ لیا جس کو مشہور مرثیہ گو میرا نیس # نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

    مشکیزہ تھا کہ شیر کے منہ میں شکار تھا

    یہ مصیبت آج بھی ہے اور ہمارے ملک پر مکمل طور پر یہ بات صادق آتی ہے ۔ ضروریات زندگی نا پید تو نہیں لیکن غریب اور کم آمدنی والے عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔ یہاں یہ روایت بن گئی ہے کہ جو چیز بھی ذرا کم قیمت پر نظر آئے اور عوام کی بڑی تعداد اس کی جانب راغب ہو تو منافع خوروں کی عقابی نظریں اس کو بھانپ لیتی ہیں ۔ اس کا جعلی قحط پیدا کردیتے ہیں اور پھر بہت زیادہ قیمت پر بازار میں لے آتے ہیں۔ عوام نے زندہ تو رہنا ہے وہ کسی نہ کسی طرح پیٹ کاٹ کر یہ اشیاء خریدنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ تازہ ترین مثال چینی کی ہے۔ ستائیس روپیہ سے چالیس پینتالیس روپیہ فی سیر اور اب تقریباََ ستر روپیہ فی سیر بک رہی ہے۔ جب غریب لوگوں نے مرغی کو سستا سمجھ کر کھانا شروع کیا تو اس کی قیمت بھی ان کی دسترس سے باہر ہو گئی۔ گائے کا گوشت اور بکری کا گوشت تو اب صرف امیروں کی عیاشی کے لئے رہ گئے ہیں۔

     

    پرانے زمانے میں غریب قانع ہوتے تھے اور ان کو یہ کہنے میں شرم نہیں آتی تھی کہ اللہ کا شکر ہے دال روٹی مل جاتی ہے، گزارہ ہو جاتا ہے۔ اب تو دال بھی سو روپیہ فی کلو ہوگئی ہے اور سبزی فروشوں نے اب کلو گرام کے بجائے ایک پاؤ کی قیمت بتانا شروع کر دی ہے کہ گاہک خوفزدہ ہو کر بھاگ نہ جائے اور پھل تو اب عدد کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں۔

    یہاں اشیائے خوردونوش کا ذکر ہو رہا ہے تو عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مختلف قسم کے گھی، تیل بنانے والے انسانی نفسیات سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ روز ٹی وی پر لا تعداد اشتہارات دکھا ئے جاتے ہیں اور یہ مختلف تیلوں اور گھی سے تیار کردہ ”لذیذ “ کھانوں سے سجائے جاتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ دو تین افراد کھانے کی میز پر بیٹھے ہیں اور آٹھ دس قسم کے کھانوں سے بھری بڑی بڑی ڈشیں میز کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہاں موجود افراد مزے لے لے کر اپنے پلیٹ بھر بھر کر یہ چیزیں کھا رہے ہیں۔ آپ ذرا تصور کریں ان غریب اور کم دسترس والے عوام کی جن کو بمشکل ایک وقت روکھی روٹی بھی مل جائے تو خوش قسمت ہیں ۔ مجھے یہ اشتہارات دیکھ کر بے حد دکھ ہوتا ہے اور اشتہار بنانے والوں کی بے حسی پر سخت تعجب ہوتا ہے۔ خدارا اس قسم کے اشتہارات بند کیجئے یہ غریبوں کی غربت کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔

    سبزی ، گوشت ، دال وغیرہ کی گرانی کی تو بات ہو گئی آئیے ان سے بھی زیادہ زندگی کی ضرورت کی چیز یعنی پانی کی بات کرتے ہیں۔ اس کا یہ حال ہے کچھ تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور کچھ واٹر بورڈ کی مہربانی سے نلکوں میں پانی نہیں آتا اور غریب عوام ہاتھوں میں بالٹیاں اور کنستر لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔ سب کا انحصار ٹینکرز کے پانی پر منحصر ہے جو مافیا کنڑول کرتا ہے اور پھر یہ پانی کس قسم کا ہوتا ہے وہ خدا ہی جانتا ہے یا ٹینکر والا۔ بہت سے غریب لوگ ٹیوب ویل کے ذریعے پانی نکال کر استعمال کرتے ہیں اور یہ عموماََ کھارا پانی ہوتا ہے یا پینے کے قابل نہیں ہوتا۔ لیکن ماشاء اللہ حیثیت دار لوگ مہنگی منرل واٹر کی بوتلیں بے دردی سے استعمال کرتے ہیں۔ ہر کام کیلئے یہی پانی استعمال ہوتا ہے۔بڑے بڑے فریج ان بوتلوں سے بھرے رہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد منرل واٹر ضروری نہیں کہ خالص ہی ہو۔ ٹی وی پر اکثر گندے نالوں اور جھیلوں سے یہ بوتلیں بھرتے دکھایا گیا ہے۔ بہرحال پینے والے نفسیاتی طور پر مطمئن رہتے ہیں۔

    یہ تو صرف ہمارے ملک میں ضروریات زندگی یعنی روٹی، پانی وغیرہ کا ہے مگر اس ملک میں سب سے ارزاں ، پانی سے بھی ارزاں ، انسانی خون اور انسانی زندگی ہے۔ کوئی انسان جب کسی کام سے گھر سے باہر جاتا ہے تو یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سلامتی سے واپس آئے گا یا پھر اس کی لا ش آئے گی کیونکہ اس مملکت خداداد پاکستان میں اب انسانی زندگی اتنی ارزاں ہے کہ ایک دو نہیں بلکہ لاتعداد خطرات تاک میں لگے رہتے ہیں۔ پہلا خطرہ تو ٹریفک کا حادثہ ہے، گاڑی سے گاڑی کی ٹکر، بس کی ٹکر، بس کا الٹ جانا یا کھائی میں گر جانا روزمرہ کا معمول ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک دہشت گردوں کی کارروائی ہے جو حکومت، با اثر لوگوں اور اپنے مخالفین سے ناراض ہوکر گولی کا سہارا لیتے ہیں اور معصو م لوگوں کو بھی قتل کرنے سے نہیں جھجھکتے۔ اس سے بھی زیادہ خطر ناک و ہ کام ہے جس کو حکومت دہشت گردی کے انسداد کے نام سے اندرونی طورپر فوج یا پولیس سے کرواتی ہے۔ اس میں لوگ اپنے مخالفین کو دہشت گرد بتا کر راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔اسی کی زیادہ بہتر کارروائی ڈرون حملے ہیں۔ یہاں ایک غیر ملک جارحانہ حملے کر کے ہماری سرحدوں کی دھجیاں اڑا کر ہمارے شہریوں کو قتل کرتا ہے اور حملہ کے فوراً بعد بیان آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ اتنے غیر ملکی(ملکوں کے نام بھی لئے جاتے ہیں) دہشت گرد مارے گئے۔ جب حقائق سامنے آتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مقتول سب بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے تھے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور کھلے عام جاری ہے اور وہ لوگ جو حلف اٹھاتے ہیں کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے جان دے دیں گے اس میں اس جارحانہ قوت کے مدد گار و حامی ہیں۔ بہتریہ ہے کہ ہم اس حلف کی عبارت بدل دیں اور لکھ دیں کہ ہم حکمرانوں کے احکام کی بلا حیل و حجت تعمیل کریں گے۔

    ان ہلاک کردینے والے ذرائع کی تباہی کافی نہیں تھی کہ ایک اور مہلک شعبہ غارتگری نکل آیا جس کا نام انھوں نے ٹارگٹ کلنگ یعنی قتل ہدف رکھ دیا ہے ۔بد قسمتی سے یہ پاکستان کے روشنیوں سے بھر پور اور زندہ دل شہر کراچی میں پورے زور و شور سے جاری ہے اور وہاں مقیم تین بڑے طبقے یا پارٹیاں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی مل کر حکومت کر رہے ہیں اور تقریباً اسّی فیصد عوام کی نمائندگی کرتے ہیں مگر کراچی میں لاتعداد لوگ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوچکے ہیں اور ہر پارٹی دوسرے پر الزام لگاتی ہے۔ حقیقتاً مرنے والے اب بھی غریب ، بے سہارا لوگ ہیں ، تینوں پارٹیوں کے لیڈروں میں سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا۔ قتل صرف زبان اور صوبہ کی بنیاد پر ہورہے ہیں۔ ہم حضرت عمر یا حجاج کی آمد کی خواہش یا تمنا نہیں کر سکتے مگر جنرل نصیر اللہ بابر بھی چند ماہ میں امن و امان قائم کرسکتے تھے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اکثر بے چارے لاوارث ، لا پتہ ، غریب لوگ مارے جاتے ہیں اور ہر پارٹی ان کو اپنا مقتول بنا کر اپنے ”شہیدوں “ کی تعداد بڑھا بڑھا کر بتاتی ہے۔ انتظام ، امن و امان اور سکیورٹی مہیا کرنے والے تمام ادارے ان ہی حکومتی پارٹیوں کے ماتحت ہیں۔ روز میٹنگز ہوتی ہیں، کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں مگر نتیجہ صفر۔ کوئی قاتل نہیں پکڑا جاتا، ٹی وی پر لوگ فائرنگ کرتے دندناتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں مگر پکڑے نہیں جاتے۔

    حقیقت یہ ہے کہ ہر پارٹی اپنے غنڈوں اور قاتلوں کی سربراہی کر رہی ہے اور انھوں نے اپنے اپنے کمانڈو گروپ بنا رکھے ہیں جو غیر قانونی اور ناجائز اسلحہ سے لیس ہیں۔

    اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو مسلمان کے خون کی حیثیت کئی مواقع پر پانی کی حیثیت یا قیمت سے بھی کم ظہور پذیر ہوئی ہے۔سب سے پہلے جب خوارزم شاہ نے چنگیز خان کے سفارتی نمائندوں کو سفارتی آداب و اصول کے خلاف قتل کردیا تھا تو چنگیز خان نے اسلامی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور تاشقند ، سمر قند، بخارا سے لے کر بغداد تک تباہی پھیلا کر لاکھوں مسلمانوں کو بھیڑ بکری کر طرح کاٹ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ملک الظہیر بیبرس کو نجات دہندہ بنا کر بھیجاجس نے منگولوں کو شکست دے کر مسلمانوں کا قتل عام روکا۔ اس سے پیشتر جنگ جمل اور جنگ صفین میں مسلمانوں نے خود ہی مسلمانوں کا خون پانی سے ارزاں کردیا۔ بیت المقدس پر قبضہ کے وقت عیسائیوں نے تقریباً اسیّ ہزار مسلمان گاجر مولی کر طرح قتل کر دیے۔ تیمور ، احمد شاہ ابدالی، نادر شاہ نے دہلی میں مسلمانوں کا خون پانی سے سستا کر دیا تھا اور ان کی اس حرکت سے ہی مسلمان اتنے کمزور ہو گئے کہ بعد میں انگریزوں نے باآسانی قبضہ کر لیا۔ ماضی قریب میں 1857کی جنگ آزادی اور تقسیم ہند دو ایسے واقعات ہیں کہ جہاں مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بے دردی سے قتل ہوئے اور یہاں بھی مسلمانوں کا خون پانی سے ارزاں ہو گیا تھا۔ اور موجودہ دور میں ہمارے اپنے ملک میں سوات ، وزیر ستان وغیرہ میں اور فلسطین میں بھی مسلمانوں کا خون اب پانی سے ارزاں ہے۔ خدا رحم کرے اب مستقبل قریب میں ہمیں اور کیا دیکھنا ہے یہ وقت ہی بتلائے گا۔

     

     

     

     

     

     

     

               

               

               

    بے دم ہوئے بیمار ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   7/5/2010

     

    فیض احمد فیض# نے جب یہ شعر لکھا تھا اس وقت ان کی کیفیت کیا ہو گی؟

    بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے ؟

    تم کیسے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟

    وہ صرف غم جاناں بیان کرنے والے شاعر نہیں تھے بلکہ غم دوراں کا بھی انہیں شدید احساس تھا اس وقت انھوں نے پریشان حال لوگوں کی حالت زار کو دیکھا اور محسوس کیا ہوگا اور انھیں بے دم پا یا ہو گا۔ ویسے تو ہر شخص کسی نہ کسی غم کا شکار ہوتا ہے گویا:

    دریں دُنیا کسے بے غم نہ باشد

    اگر باشد کسے باشد بنی آدم نہ باشد

    یعنی ” دنیا میں کوئی بھی بغیر غم کے نہیں ہے اور اگر کوئی ہے تو وہ کچھ اور ہے انسان نہیں ہے۔

    مرزا غالب نے بھی آدمی کے انسان ہونے کی مشکل کو یوں بیان کیا تھا۔

    بس کہ مشکل ہے ہر اک کام کا آساں ہونا

    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    اس طرح آدمی کے انسان ہونے کی دشواری ذی حس لوگ ہی جانتے ہیں ۔ جگر # مراد آبادی نے یہی بات یوں بیان کی ہے۔

    آدمی آدمی سے ملتا ہے

    دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

    اس لئے یہ نتیجہ نکالنا آسان ہے کہ بغیر غم کے کوئی ذی ہوش نہیں ہے، وہ غم دل کا ہو یا دنیا کا لیکن اجتمائی غم اور تفکرات وہ ہوتے ہیں جو پورے ملک اور قوم کو درپیش ہوں۔ فیض # کے دور میں ملک و قوم کو وہ پریشانیاں لاحق نہیں ہوئی ہونگی جن سے ملک کے بیشتر عوام آج کل دوچار ہیں سوائے چند عیار ، خود غرض لوگوں کے جن کا مقصد حیات ہر طریقہ سے ذاتی مفادحاصل کرنا ہے خواہ اس کے لئے ملک و قوم کا کچھ بھی ہو ، عوام پر کچھ بھی گزرے انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ بد قسمتی سے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تسلط ایسے ہی لوگوں کے بس میں ہے۔ بے چارے بے بس عوام کا کام صرف احتجاج اور بے اثر مظاہر ے ہیں۔

    فیض # نے صرف بیماروں کے بے دم ہونے کی بات نہیں کہی بلکہ دوسرے مصرعہ میں تخاطب مسیحاؤں کی جانب ہے کہ تم کیسے مسیحا ہو کہ شفا کیوں نہیں دیتے یعنی بیمار بے دم (مردہ) ہو رہے ہیں اور تم مسیحا بنے بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہو۔ بیماروں کے دکھوں کا علاج کیوں نہیں کرتے تا کہ وہ بیماریوں سے نجات پائیں یعنی انھیں بھی کچھ آرام و سکون حاصل ہو۔ اجتمائی پریشانیاں آج ایک نہیں متعدد ہیں مثلاََ بے روزگاری ، مہنگائی ، ضروریات زندگی کا فقدان اور ان کی آسمان سے باتیں کرنے والی قیمتیں جو صرف مالدار یا حرام خور طبقہ ہی حاصل کر سکتا ہے۔ اجناس جو پہلے سستے داموں مہیا تھیں آج کئی گنا قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں ، آٹا، گھی، تیل، چینی غریبوں کے لئے نایاب ہو گئے ہیں۔ بجلی جس سے مل، کارخانے اور گھر کبھی اپنا کام چلاتے تھے وہ اب نپے تلے اوقعات میں ملتی ہے اور پھر بھی بھول بھلیاں کھیلتی ہے۔ عوام دکانیں اور گھر چھوڑکر باہر تازہ ہوا کے جھونکے کے لئے نکل پڑتے ہیں تا کہ اپنا پسینہ خشک کر سکیں۔ صنعت کار ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے عوام سے زیادہ سے زیادہ رقم وصول کی جائے اور کم سے کم معاوضہ دیا جائے مثلاََ پٹرول ، تیل و گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو تا رہتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے کرایہ کے بڑھنے سے ہرچیز مہنگی ہو جاتی ہے۔لوگوں کا تکالیف اور احتجاج کو قطعی نظر انداز کرنا حکومت کے ارکان کا شیوہ بن گیا ہے۔ سڑکیں بند ہو جاتی ہیں ، ٹائر جلائے جاتے ہیں ، ٹریفک پولیس ٹریفک کو لمبے متبادل راستوں کی جانب بھیج دیتی ہے۔ حکومت نے نہایت آسان حل نکال لیا ہے کہ عوام کو مشورہ دیتے ہیں بجلی کم استعمال کریں ۔ لوڈ شیڈنگ تھوپ دی جاتی ہے مگر سنجید گی سے بجلی کی پیداوا ر بڑھانے کے طریقہ کار پر عمل کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔

    جبکہ یہ اس وقت کا اہم ترین مسئلہ ہے جس کی تکمیل کے لئے دوسرے تمام پروجیکٹس ملتوی کر کے اس اہم ضرورت پر وہ رقم خر چ کی جائے۔ رشوت ستانی کے خاص پروگرام مثلاََ موٹروے، ایکسپریس وے، فلائی اوور بند کئے جائیں کہ ان میں تقریباََ پچاس فیصد رقم رشوت کی نظر ہو جاتی ہے۔ بیرونی دورے ایک اور سفید ہاتھی ہے جس میں حکمران اپنے چمچوں اور لفافہ برداروں کو جہاز بھر کر لے جاتے ہیں۔ عوام نے لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر ڈیزل جنریٹر لئے تو حکومت نے ڈیزل کی قیمت بڑھا کر ان کی کمر توڑ دی۔ جب عوام نے کاروں کو گیس پر چلانا شروع کیا تو اسکی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی اور عنقا ہو گئی۔ جب عوام شور مچاتے ہیں تو آسان نسخہ استعمال کیا جاتا ہے مثلاََ کمیشن مقر ر کئے جاتے ہیں اور معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتاہے۔عوام ایک بے سہارا بے لگام جانور کی طرح ہر جانب بھاگ دوڑ میں لگے رہتے ہیں مگر نہ ان کی منتخب نمائندے اور نہ ہی حکومت پروا کرتی ہے بلکہ عوام کو ہی ہد ف تنقید بنایا جاتا ہے گویا:

    گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کو س رہے ہیں

    چوروں کو مگر کوئی ملامت نہیں کرتا

    عوام بے چارے چند دن شور و غل مچا کر اور لاٹھیاں کھا کر واپس چپ چاپ اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔

    انصاف طلب کرنے نکل آئے تھے لیکن

    بستی کے کسی گھر پہ بھی ز نجیر نہیں تھی

    عوام کو یہ چاہئے کہ وہ ان منتخب نمائند گان کے گھروں کا گھیر اؤ کریں اور وہاں بھی لوڈ شیڈنگ کے دوران بجلی کا استعمال نہ ہونے دیں۔ عوام کو نہ تو ٹی وی پر بے کار بحث مباحثہ میں اور نہ ہی حاکمان وقت کے غیر ملکی دوروں میں دلچسپی ہے۔ ان کو بجلی کی دستیابی ، چینی و گیس کی دستیابی اور ان کی قیمتوں میں کمی سے دلچسپی ہے۔ جب لوگ ان تمام تکلیفوں کا شکار ہوتے ہیں تو بے چارے چیخ اُٹھتے ہیں۔

    تم کیسے مسیحا ہو ، شفا کیوں نہیں دیتے؟

    قدرت کا نظام ہے کہ جس طرح اچھے اور نیک لوگوں کے پیروکار پیدا ہوتے ہیں ایسے ہی بد کار اور لالچی لوگوں کا راستہ اختیار کرنے والوں کی کمی نہیں ہے، آج کے مالدار قانون اور مذہبی تعلیم سے خاصے واقف ہوتے ہوئے بھی قارون کے پیروکار بن گئے ہیں جو مال و دولت جمع کرنے کے لئے اپنی قوم کے دشمن فرعون سے جا ملا تھا اور حضرت موسی کی ہدایت پر بھی اپنے مال و دولت کو غریبوں پر صرف نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے بمع مال و دولت زمین میں دھنسا دیا تھا، قدرت کے قوانین سزا اور جز ا کبھی تبدیل نہیں ہوتے، آج بھی لاتعداد ظالم ، دولت سے محبت کرنے والوں کا بڑھاپا اور موت سبق آموز اور عبرتناک ہوتا ہے مگر سب کچھ دیکھ کر بھی لوگ اس سے سبق حاصل نہیں کرتے۔

    ظالموں اور گنہگاروں کی یاداشت بہت کمزور ہوتی ہے ابھی ہمارے سامنے کی بات ہے کہ دنیا کا مالدار ترین اور خود کو فرعون سمجھنے والا شاہ ایران کس کسمپرسی میں ملک در ملک پھرتا پھرا تھا اور دفن کے لئے چند فٹ زمین ملنا بھی دشوار ہو گیا تھا۔

    مار کوس کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے جو اربوں ڈالر چھوڑ کر غیر ملک میں بے عزت ہو کر مرا۔ کتنے ہی سربراہان ممالک کا یہی حال ہوا ۔ انفرادی دولت بھی مرنے کے بعد کہاں پہنچتی ہے کوئی نہیں جانتا، زندگی میں جو انسان خود خیرات و زکوٰة دیتا ہے وہی آخر ت میں کام آ تی ہے۔ سیدھے سادھے ان پڑھ لوگوں میں یہ کہاوت مشہور ہے ” جوڑ توڑ مر جائیں گے، مال جمائی کھائیں گے“۔ نیک لوگ ایسے کام کر جاتے ہیں کہ صدیوں لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ ثوا ب جاریہ تا قیامت انہیں ملتا رہتا ہے۔ نہر زبیدہ کی مثال لے لیجئے جو ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ نے بغداد سے مکہ شریف تک بنوائی تھی اور عوام ہزاروں سال سے زیادہ عرصہ سے اب تک فیضیاب ہو رہے ہیں۔ یہ سب باتیں حقیقت پر مبنی ہیں اور اس سلسلہ میں قرآن مجید اور احادیث میں جا بجا ہدایات موجو دہیں۔ عوا م تو بے چارے یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔” ماراچہ ازیں قصہ کہ گاؤ آمد و خر رفت“یعنی ہمیں اس سے کیا غرض ہے ( فرق پڑتا ہے ) کہ بیل آیا اور گدھا چلا گیا۔

    تقریباََ تیس سال پیشتر جرمنی کی ایک مشہور بین الاقوامی فرم کے پریذیڈنٹ اکثر پاکستان آیا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ بہت اچھے تجارتی تعلقات تھے۔ ہم کام کے علاوہ ان کو کچھ سیر بھی کرا دیتے تھے۔ ان کو ہم نے پشاور ، سوا ت، مری ، لاہور، کراچی کی سیر کر ا دی تھی۔ ہم بے تکلف بات چیت کرتے تھے، اگرچہ وہ انگریزی بہت فراوانی سے بولتے تھے مگر میرے ساتھ ہمیشہ جرمن میں گپ شپ لگا یا کرتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا وجہ سے اس ملک کے سربراہان اور افسران لاتعداد غیر ملکی دورے کرتے ہیں۔

    وہاں سب کچھ دیکھتے ہیں مگرکچھ سیکھتے نہیں اور پاکستان میں جو بد نظمی اور پسماندگی ہے اس سے اپنے ملک کو نہیں نکالتے۔ میں نے مسکر ا کر کہا کہ آپ کے اس سوال نے حضرت شیخ سعدی کی یہ ضرب المثل یاد دلا دی:

    خَر عیسیٰ اگر بہ مکہ رود

    چوں بہ آید ہنوز خر باشد

    یعنی اگرچہ ”حضرت عیسیٰ کا گدھا کئی بار مکہ گیا مگر جب واپس آیا تو وہ پھر بھی گدھا ہی رہا۔“ ملک کی بہتری کے حالات کے مواقع فی الحال ناپید ہیں۔

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

               

               

               

    دوا، دُعا اور جد و جہد....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   7/12/2010

     

    ہر انسان کو پریشانی اور مصیبت میں دوا اور دعا سے ضرور واسطہ پڑتا ہے۔ دوا تو بالعموم بیماریوں کے لئے حکیم یا ڈاکٹر حضرات کے مشورہ سے استعمال کی جاتی ہے لیکن دعا کا دائرہ کار بہت وسیع ہے گو یا وہ دوا کی طرح نہ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی خریدی جا سکتی ہے۔ بیماری میں بھی جب ڈاکٹر جوا ب دے دیں تو دعا کاسہارا دل کو سکون اور امید بخشتا ہے۔ زیادہ تر لوگ خوش حالی میں دعا سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے اور پریشانی میں خدا کی مدد مانگتے ہیںجیسا کہ کہا گیا ہے ’’جب دیئے رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا‘‘۔

    اللہ کے نیک بندے خوش حالی اور اطمینان کی زندگی میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں رہتے۔ کسی مصیبت یا پریشانی میں دعا کے وقت فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور دعا قبول ہو جاتی ہے۔ جو لوگ صرف پریشانی میں ہی خدا کو یاد کر تے ہیں تو فرشتے ان کی دعا کو نامانوس کہتے ہیں اور دعا آمین سے محروم رہتی ہے۔ زیادہ تر پریشانیاں اپنے یا گھر والوں کے متعلق ہو تی ہیں جیسے علالت، حادثہ، کاروبار میں خسارہ یا ملازمت میں نا خوشگوار حالات وغیرہ۔ آدمی مایوسی میں سر بسجو د ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے رحم و کرم کا طالب ہوتا ہے لیکن بقول علامہ محمد اقبالؒ:

    جو میں سر بسجدہ کبھی ہوا تو زمیں سے آنے لگی صدا

    تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

    کچھ لوگ دیندار لوگوں سے دعا کا کہتے ہیں، کچھ تو اخراجات بتا کر تیار ہو جاتے ہیں لیکن بعض نیک سیرت لوگ مصیبت زدہ کو اللہ کے کلام و عبادت کی ترغیب دیتے ہیں۔ ایک بزرگ سے ایک پریشان حال نے دعا کے لئے درخواست کی تو انہوں نے جواب دیا کہ تکلیف تجھے ہے اب تم جو تڑپ کر دعا کرو گے وہ قبول ہو گی نہ کہ میری جسے تکلیف ہی نہیں ہے۔ جب کوئی دوا یا دعا کار گر نہ ہو تو مایوسی بیدار ہو جاتی ہے اور پھر دنیاوی چارہ گروں کو نااہل قرار دیتے ہیں لیکن دعا کے مقبول نہ ہو نے سے پریشان تو ہوتے ہیں مگر وجہ تلاش نہیں کرتے۔ جب خلوص دل سے حق حلال کی کمائی کرنے والا نیک انسان دعا کر تا ہے تو مقبولیت یقینی ہے جیسے کسی بیمار یا مظلوم کی دعا۔ ابن ماجہ میں ہدایت ہے کہ جب کسی مریض کی عیادت کو جائو تو اس سے اپنے لئے دعا کی درخواست کرو کیونکہ مریض کی دعا ایسی ہے جیسے فرشتوں کی دعا ۔ دھوکہ باز، نام نہاد علماء اور مشائخ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمایا ہے:

    ’’اے ایمان والو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں اور خدا کے راستے سے روکتے ہیں‘‘ (سورۃ التوبہ آیت ۴۳)

    فارسی کا شعر ہے:

    بِتَرَس از آہِ مظلوماں کہ ہنگام ِ دعا کر دن

    اجابت ازدرِ حق بہر استقبال می آید

    ترجمہ: مظلوموں کی آہ سے ڈر کہ دعا کے وقت قبولیت حق خود استقبال کے لئے آتی ہے۔

    بنو امیہ کے دور حکومت میں جب حجاج بن یوسف گورنر تھا تو کسی نے بتلایا کہ ایک قلندروں کی جماعت ہے جو دن رات ذِکر الہیٰ میں مصروف رہتی ہے اور کھانے پینے کی لوازمات سے بے نیاز ہے۔ جب کسی حاکم سے لو گ پریشان ہو کر ان سے بد دعا کے لئے کہتے ہیں تو ان کی بد دعا سے وہ حاکم دفع ہو جاتا ہے۔ حجاج نے ان قلندروں کو بڑی منت سماجت سے دعوت پر بلا کر خوب کھلایا اور اپنے مصاحبوں سے کہا کہ اب میں ان کی بد دعا سے محفوظ ہو گیا ہوں کیونکہ ان کے پیٹ میں حرام کا رزق پہنچ گیا ہے۔ لوگ دعائوں کے لئے پیروں اور فقیروں کے پاس جاتے ہیں ان کے لئے اقبال ؒ نے کہا ہے:

    ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

    گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

    آج کے مادی دور نے جہاں عام انسان اور سیاستدانوں کے اخلاقیات پر بُرے اثرات مرتب کیے ہیں اُن سے دینی رہبر بھی محفوظ نہیں رہے۔ آج کے علماء بھی عیش و عشرت کے عادی ہو گئے ہیں۔ اقبال نے تو پیر کا گھر بجلی کے چراغوں سے روشن کیا ہے لیکن بجلی کے چراغوں تک ہی پیر و عالم یا دینی رہبر کی زندگی محدود نہیں ہے۔ آرام دہ رہائش گاہیں، ایئر کنڈیشنڈ کمرے اور امپورٹیڈ گاڑیاں ان کے لوازمات زندگی بن گئے ہیں۔ اخراجات چندے اور دیگر ذرائع آمدنی سے پورے ہوتے ہیں۔ کسی کے ٹرانسپورٹ ٹرک، کسی کی فیکٹریاں اور پھر مزید آسانی اور عیش و عشرت کے لئے سیاست میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ وزارت مذہبی اُمور اور دوسرے سرکاری فنڈز کی عنایت سے آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی بات میں اثر ہے اور نہ ہی دعائوں میں۔ غریبوں کی بستی میں یا دیہاتوں میں لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے والوں کی سخت کمی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں جو دینی علم عطا فرمایا ہے اسے یہ لوگ ان پڑھ لوگوں کو سکھانے میں نہیں لگاتے۔ ہزاروں مسلمان اسی اسلامی مملکت میں کلمہ ، نماز روزہ سے واقف نہیں ہیں ۔ دینی مدارس نے ایک حد تک یہ خدمات انجام دیں تو دہشت گردی کی وبا نے اچھے کام کرنے سے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔ غریب اور ان پڑھ لوگ دنیاوی علوم سے تو بے بہرہ تھے ہی اب دین کی تعلیم سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔سیاستدانوں پر تو تنقید ہوتی ہی ہے، سیاسی دیندار بھی ناقابل اعتماد ہو گئے ہیں۔

    متوسط طبقہ کا یہ عالم ہے کہ دینی اور دنیاوی معلوما ت سے واقف ہوتے ہوئے اپنی مرضی کی عبادت کرتے ہیں، حج اور عمرہ کی سعاد ت حاصل ہو جانے کے بعد بھی نماز پابندی سے ادا نہیں کرتے تو روزہ کا کیا سوال، بقر عید پر قربانی تو زیادہ سے زیادہ کرتے ہیں لیکن غرباء میں تقسیم کے بجائے فریزر میں گو شت رکھا جاتا ہے یا خوش حال اور با حیثیت لوگوں کی دعو ت میں خرچ کیا جاتا ہے اور اس پر بھی یہ یقین ہوتا ہے کہ قربانی کا ثواب ملے گا۔ سیاسی اور دینی جماعتیں جانوروں کی کھالیں اکٹھا کرنے میںمصروف ہو جاتی ہیں کیونکہ یکمشت ایک بڑی رقم صرف تین دن میں ہی حاصل ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو کھالیں اکٹھی کرنے والوں میں لڑائی جھگڑا اور چھینا جھپٹی ہو جاتی ہے۔ کچھ سال قبل تو کھالیں اکٹھی کرنے والی کئی گاڑیاں چھن گئیں۔ یہ ہے ہمارے دینی فرائض اور عید الاضحی کی پابندی، اور یہ کام معمولی انسانوں کا نہیں بلکہ پڑھے لکھے نام نہاد رہبران کا ہے۔ ایسے اعمال رکھنے والوں کی عبادت او ر دعا کی قبولیت کا یقین عام فہم انسان نہیں کر سکتا۔ پرانے زمانہ کی یاد آتی ہے جب علماء اور شیوخ معمولی گھر وں میں رہتے تھے، سادہ لباس و غذا ، سیدھی سادی طرز زندگی مگر ان کی عزت و عظمت کا یہ عالم تھا کہ حاکمان وقت بھی ان کا ادب کرتے تھے۔ بھوپال ایک چھوٹی سی ریاست تھی جہاں قاضی، مفتی ، مساجد میں امام و موذن حکومت کی طرف سے تعینات تھے، دینی مہارت کا یہ عالم تھا کہ مسئلہ آپ کسی بھی امام سے پوچھ سکتے تھے۔

    جب کبھی خشک سالی کا احتمال ہوتا تھا تو اعلان کے بعد بڑے میدان میں نماز ادا کی جاتی تھی اور دعا ختم ہونے سے پہلے ہی برسات ہونے لگتی تھی اور سب نمازی پانی میں بھیگتے اپنے گھروں کو لوٹتے تھے ۔خیرات ،زکوٰۃ، فدیہ ، فطرانہ لوگ اپنے جاننے والے غرباء ، مساکین اور ضرورتمندوں پر خرچ کرتے تھے۔ حکومت یا کوئی ادارہ یا کوئی سیاسی و مذہبی جما عت نہ کچھ مانگتی تھی اور نہ ہی انہیں کچھ دیا جاتا تھا۔ غریب ریاست کے غریب عوام دین کی دولت سے غنی تھے۔ نہ ہی ہوس تھی اور نہ ہی دولت کے حصول کے ہتھکنڈے ، معمولی حیثیت کے لو گ رفاہ عامہ کے لئے سرائے، کنواں،تالاب اور مساجد وغیرہ بنواتے تھے جو آج بھی ان کا نام یاد دلاتے ہیں جیسے سرائے تالاب منشی حسین خان، مسجد تجاباورچی، مسجد رستم جمال، مسجد مداروی وغیرہ سینکڑوں یادگاریں ہیں جنکا انتظام محکمہ اوقاف کے ذمہ ہے اور مخیر مرحوم غریبوں کی یاد دلاتی ہیں۔ ڈاکٹر اقبال ؒ جن کی دینی معلومات غیر معمولی تھیں وہیں انکی نگاہ دورِ حاضر کے مسلمانوں کے طرز زندگی پر بھی تھی اور دینی فرائض کی ادائیگی میں خامیوں پر بھی انھوں نے ہر احساس کو قلمبند کیا ہے مثلاََ :

    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

    یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہود

    عبادت میں دکھاوا یا نمائش اور ظاہری شان و شوکت کو بھی نا پسند کرتے تھے:

    میں نا خوش و بیزار ہوں مر مر کی سلوں سے

    میرے لئے مٹی کا حرم اور بنا دو

    عبادت گاہیں عبادت نیت خلوص سے معمور ہوں تو مسلمان جو واقعی ساری دنیا کے ظلم و ستم کا شکار ہیں آج بھی سنبھل سکتے ہیں ۔ جب انسان راہ حق پر گامزن ہوتا ہے تو عقل کی رہنمائی اور عمل کی قوت آتی ہے ، پھر جب ہم اسکی بارگاہ میں د عا گو ہوں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ہمیں وہ نواز دے گا جس کی ہم طلب کریں گے۔ خدا تعالیٰ ہمیں یقین محکم اور عمل پیہم عطا کرے ، ہمارے رہبروں کو رہنمائی کا اہل بنائے اور انہیں ہدایت دے کہ وہ اس کے اہل ہوں اور کہیں:

    حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو

    چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

    حقیقت یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے بھی رزق حلال اور محنت و مشقت کی سخت تلقین فرمائی ہے۔ سورۃ النجم آیت 39 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ـــ’’انسان کو صرف وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے وہ محنت و مشقت کرتا ہے ‘‘اور سورۃ الرعد آیت 11میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :’’اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود سعی کر کے اس میں تبدیلی نہ لائے ۔‘‘

    اس فرمان الہیٰ کو مولانا ظفر علی خان نے یوں بیان کیا ہے:

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

    اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی قوم ، عوام کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک کہ وہ اس کے لئے محنت و مشقت نہ کریں، ہمارے سامنے دور جدید میں جاپان ، جرمنی اور جنوبی کوریا کی مثالیں موجود ہیں۔جاپان ،جرمنی، کوریا دوسری جنگ عظیم میں تباہ ہو چکے تھے ، چین نہایت پسماندہ رہ گیا تھا ، مغربی ممالک نے اپنی ظالمانہ اور خود غرضانہ پالیسیوںسے اس کو پسماندہ رکھا تھا مگر ان تمام ممالک کے عوام بے حد محنتی اور غیور ہیں۔ انہوں نے ان تھک محنت کر کے اپنی حالت بدل لی اور آج پوری قوم آرام و سکون کی زندگی بسر کر رہی ہے ، ہمارے یہاں لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھر ے بیٹھے ہیں اور آسمان سے من و سلوی ٰ کے نازل ہونے کی اُمید لگائے بیٹھے ہیں جو احکام الہیٰ کے منافی ہے۔ جب تک کہ ہم خود محنت و مشقت نہ کریں گے اور اپنے اعمال درست نہ کریں گے تب تک ہمارے اوپر اللہ کی مہربانی کا فقدان رہے گا ۔ دوسرے ممالک میں کہیں خونی اور کہیں پرامن انقلابات کے ذریعے تبدیلی آتی ہے مگر بد قسمتی سے ہماری قوم بے حد بے حس ہے اور غیر ت سے محروم ہے ۔ مشہور روسی مفکر ٹرو ٹسکی نے کہا تھا کہ انقلاب کے لئے کوئی مجبوری نہیں ہوتی بلکہ حالات پر منحصر ہوتا ہے اور انقلاب جب ہی آتا ہے جبکہ اسکے علاوہ اور کوئی حل یا راستہ نہ ہو ۔ ہمارے ملک کے حالات اس جانب جا رہے ہیں مگر اس قوم کی پچھلی تاریخ اور بے حسی دیکھ کر مشکل لگتا ہے کہ اس طریقہ سے ہمارے یہاں تبدیلی آئے گی۔

     

     

               

     

    کوئی چارہ ساز ہوتا....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   7/19/2010

     

    اپنے پیدائشی شہر یعنی بھوپال جنت مقام کے بارے میں اپنے پچھلے چند کالموں میں کچھ تفصیل بیان کر چکا ہوں۔ یہ وہی پیار، وہی لگاؤہے جولاہوریوں کو لاہور سے اور کراچی والوں کو کراچی سے ہے۔ بھوپال کی خوبصورتی اور وہاں کے شہریوں کی محبت اور خلوص کو الفاظ کے تنگ دائرے میں محیط نہیں کیا جاسکتا۔ بھوپال چھوڑے تقریباً ساٹھ سال ہوگئے ہیں لیکن ایک ایک گلی کوچہ، پرانے ساتھی، اسکولوں کا ماحول،اساتذہ کی محبت، خوبصورت جنگلات،باغات،شہرمیں پانچ تالاب،پھلوں اور جانوروں سے بھرے جنگل غرض ایک ایک چیز دماغ میں اورتصّور میں اسی طرح موجودہے جس طرح نئے وطن پاکستان کے دونوں شہروں یعنی کراچی اور اسلام آباد کے گلی کوچے۔

    بھوپال میں ایک بہت ہر دلعزیز مزاحیہ نگار عبدالا حد خان تخلّص تھے ۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ سب سے آسان اور مفت حاصل ہونے والی چیز مشورہ ہے ۔ کبھی کبھی کسی خیر خواہ اور ہمدرد انسان کے مشورہ سے پریشان لوگوں کو تسلّی بھی مل جاتی ہے۔ غالب# نے بھی آرزو کی تھی:

    یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

    کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گُسار ہوتا

    مطلب یہ ہے کہ مشورہ دینے والے کو چارہ ساز یعنی مشکل آسان کرنے والا بھی ہونا چاہئے۔

    عام رواج یہ ہے کہ اگر بدقسمتی سے کوئی بیمار ہو جائے تو اس کے اَعِزّہ اور احباب جو حال پوچھنے اور عیادت کو آتے ہیں وہ اپنے مشوروں سے ضرور مستفید کرتے جاتے ہیں۔ بیمار کو اس قدر دوائیں اور علاج بتاتے ہیں کہ اگر مریض ان کا استعمال کرے تو شاید بیماری تو کیا مریض کا وجودہی ختم ہو جائے۔

    دو مختلف چارہ سازوں کا کاروبار آجکل خوب چمک رہا ہے۔ دونوں چارہ ساز اپنے مشوروں کی من مانی فیس یا قیمت وصول کرتے ہیں اور عموماً بلکہ لازمی طور پر یہ فیس پیشگی وصول کی جاتی ہے۔پہلا طبقہ ڈاکٹروں اورحکیموں کا ہے جو پہلے فیس وصول کر تے ہیں اور مشورہ بعد میں دیتے یا علاج کے لئے دوائیں لکھتے ہیں۔ یہ مشاورتی فیس ڈاکٹر کی ڈگریوں، صلاحیتوں اور شہرت پر منحصر ہوتی ہے۔ مثلاً جنرل فزیشین کی کم فیس اور اسپیشلسٹ کی فیس بہت زیادہ۔ اور یہ فیس لائن میں لگ کر پہلے ادا کی جاتی ہے اسکے بعد معائنہ اور پوچھ گچھ ہوتی ہے اورعموماً (اکثر بلا ضرورت) پیشاب، خون اور ایکسرے ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں اور یہ عموماً ایسی لیبارٹری سے کرائے جاتے ہیں جو خود ڈاکٹر کی ملکیت ہوتی ہے یا اس سے منافع بانٹنے کا معاہدہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں بیچارے مریض کا خون چوس لیا جاتا ہے۔ ان ٹیسٹوں کی روشنی میں ڈاکٹر اپنی بتائی دکان سے دوا خریدنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ فیس مل گئی، ٹیسٹوں کی رقم مل گئی، دوا لکھ دی گئی اب شفا مریض کی حالت اور قسمت پر منحصر ہے۔ ڈاکڑ صاحب نے اپنا فرض ادا کردیا۔

    جب ہم نے کہوٹہ میں کام شروع کیا تو ایک حساس ادارے سے ہمارے یہاں شامل ہونے والے رفیق کار نے بتایا کہ ان کے ادارہ کے ایک اکاؤ نٹنٹ نے سید پور روڈ پرایک کلینک کھول لیا ہے اور خون، پیشاب اور ایکسرے کے ٹیسٹ کے لئے لیبارٹری بھی کھول رکھی ہے۔ چند ڈاکٹر بھرتی کر لئے ہیں اور اس کے ”دونوں ہاتھ گھی میں ہیں“۔ اتفاقاً ہمارا ایک کارکن بیمار ہوکر اسی کلینک میں داخل ہو گیا، میں نے عیادت کے لئے وہاں جانا مناسب سمجھا اورجب میں وہاں پہنچا تو وہاں کی گندگی اور غلاظت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میرے دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ دوسرے کلینک بھی اسی طرح کے ہیں۔میں نے فوراً کرنل شمس الحسن ہمارے میڈیکل ڈاکٹر سے کہا کہ اسلام آباد میں دو بنگلے کرایہ پر لے کر کچھ ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرکے علاج کا بندوبست کریں، ساتھ ہی جی نائن میں پلاٹ لے کر ایک اعلیٰ اسپتال بنانے کی بنیاد ڈالی۔ بریگیڈیر ریاض احمد چوہان (جوبعد میں لیفٹینٹ جنرل اور سرجن جنرل پاکستان آرمی بنے) نے اسپتال کی تعمیر کروائی اور اس کی سربراہی کرکے نہ صرف اسلام آباد بلکہ پاکستان کے بہترین اسپتالوں میں شامل کردیا۔ میرے پرانے رفقائے کار اور ان کے اہل و عیال آج بھی مجھے بے حد دعائیں دیتے ہیں ۔

    معذرت خواہ ہوں موضوع سے کچھ ہٹ گیا۔ عرض یہ کرنا چاہتا تھا کہ جن مریضوں کی استطاعت ہوتی ہے وہ ماہرین سے مشورہ بھی کرلیتے ہیں۔ تمام ٹیسٹ بھی کرالیتے ہیں اور قیمتی اسپتالوں میں قیام بھی کرلیتے ہیں لیکن غریب آدمی جھوٹے ڈاکٹروں، جعلی دواؤں اور جھوٹے پیروں پر گزارہ کرکے اپنا مقدر اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتا ہے اور اپنے مقررہ وقت پر تکالیف اُٹھا کر خالق حقیقی سے جا ملتا ہے۔دوسراطبقہ جومشورہ دینے میں ماہر کھال کھینچنے میں ماہر ہے وہ وکلاء کا طبقہ ہے۔ بلا معاوضہ مشورہ دینا ان کا مسلک نہیں بلکہ مقدموں کو طول دینے میں ضرور ماہر ہوتے ہیں۔ ان کا مشورہ (اور اس کا معاوضہ) ان کے مرتبہ، شہرت، لیاقت، مصروفیت (اور ججوں سے تعلقات) کی نوعیت کے اعتبار سے بڑھتا گھٹتا رہتا ہے۔مشہور، کامیاب وکیل عدم مصروفیت کا عذر کرکے مُوکّل کو زیادہ سے زیادہ فیس دینے اور منّت سماجت کرنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ مُوکّل ان کی پچھلی کامیابوں کے ریکارڈ سے متاثر ہو کر ان کی خدمات حاصل کرکے کم از کم پچاس فیصد کامیابی کی اُمید لگا لیتا ہے۔ اصل میں بڑے وکیل صاحب کی مصروفیت زیادہ ہوتی ہے، لاتعداد جونیروکیل ملازم رکھے جاتے ہیں یا ٹریننگ کے بہانہ رکھ لئے جاتے ہیں۔یہ لوگ محنت، مشقت کرکے، کتابوں اور دوسرے کیسوں کے حوالے نکال کر پورا کیس تیار کرکے بڑے وکیل صاحب کو دے دیتے ہیں اور وہ پھر اسی کی بنیاد پر عدالت میں مقدمے کی پیروی کرتے ہیں۔ فیصلہ حق میں ہو یا خلاف امریکن اور برٹش ویزے کی فیس کی طرح یہ رقم ناقابل واپسی ہوتی ہے۔ کیس ہارنے کی صورت میں وکیل محبت اور خلوص سے مُو کّل کو اپیل دائر کرنے کا مشورہ دیتے اور اس کی فیس تو یقینا علیحدہ ادا کرنا پڑتی ہے اور مقدمہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے اور فیصلہ اب اللہ تعالیٰ کی مرضی اور جج کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔

    سب کو علم ہے کہ جہاں تک فیس کا تعلق ہے قانونی طور پر جوفیس مقرر ہے وہ شاہد ہی کوئی وکیل لیتا ہوگا۔ ابھی پچھلے دنوں ہمارے کئی ”مشہور اور باعزّت“ وکیلوں کے بھاری فیس لینے کے اسکینڈل سامنے آئے میں اور کئی لوگوں کو عہدہ چھوڑنا پڑا ہے۔ فیس کی ادائیگی عموماً نقد اور بغیر رسید کے ہوتی ہے اب بات کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ ہمارے ایک بہت ہی مشہور (مگر کچھ بدنام زمانہ) وکیل کا واقعہ قابل بیان ہے۔ میرے ایک دوست پر کسٹم کے ایک افسر نے شرارت سے دو کروڑ جرمانہ کردیا اور چیرمین سی بی آر کے احکامات کی بھی پرواء نہیں کی۔ میں نے اس دوست کو ان وکیل صاحب سے ملادیا۔ میرے سامنے اُنھوں نے فرمایا کہ معاملہ دو کروڑ کا ہے پچاس لاکھ لوں گا، بیس یہاں سرکاری طور پر اور تیس لندن میں ایک اکاؤنٹ میں، وہ بیچارہ اتنی رقم نہیں دے سکتا تھا ایک دوسرے نیک دل وکیل نے اس کا مقدمہ دس لاکھ فیس پر اس شرط کے ساتھ لے لیا کہ اگر جیت جائیں تو فیس دیدیں ورنہ نہیں۔ خوش قسمتی سے وہ مقدمہ جیت گئے اور حق حلال کی فیس قبول کرلی۔

    بنک آف پنجاب اور حارث اسٹیل مل کے واقعات اور وکیلوں کے واروں نیارے نے آنکھیں کھول دی ہیں ایسا لگتا ہے کہاس حمام میں تقریباً سبھی ننگے ہیں، صرف چند ہی چِندیوں سے ستر پوشی کر رہے ہیں۔یہاں ایک اور تیسرے طبقے کے بارہ میں ضرور کچھ عرض کرونگا یہ وہی طبقہ ہے جس کے بارہ میں چچا غالب نے کہا تھا۔

    ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ

    دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا

    میری مراد ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں سے ہے۔ حکیم، ڈاکٹر، وکیل اور پیر وغیرہ متاثرہ شخص کو ضرور کچھ نہ کچھ سکون قلب اور اُمید کی کرن دکھا دیتے ہیں مگر یہ کھلے عام، جلسوں میں اور ٹی وی پر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں، جھوٹے وعدے کرتے ہیں، روٹی، کپڑا، مکان، بجلی، پانی، ٹرنسپورٹ وغیرہ کے وعدے کرکے پھربالکل بھول جاتے ہیں اور اس میں نہ شرم اور نہ غیرت کوئی رول ادا کرتی ہے۔ ان کے اعمال و کردار میں چارہ سازی اور غم گساری کا فقدان ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ہیں (۱) ”ہر قوم کا ایک وقت متعین ہے اور جب وہ آتا ہے تو نہ تو وہ اس کو ایک گھنٹہ ملتوی کر سکتے ہیں یا آگے بڑھا سکتے ہیں “ (سورة الاعراف آیت ۳۴)۔ (۲) ”تم اس گمان میں نہ رہنا کہ اللہ گناہ گاروں کے اعمال سے غافل ہے، وہ تو ان کو (صرف حجّت کے لئے) تھوڑی مہلت دیتا ہے اور (جب اس کا عذاب نازل ہوتا ہے) تو ان کی آنکھیں دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں“ (سورة ابراہیم آ ّیت ۴۲) (۳) ”کیا شہروں میں رہنے والے گناہ گاروں نے خود کو سوتے وقت ہمارے عذاب سے محفوظ سمجھا ہے، یا کیا گناہ گارر لوگ دن میں کھیلتے کودتے خود کو ہماری تدبیر سے محفوظ سمجھتے ہیں، کیا یہ لوگ خود کو اللہ کی تدابیر (عتاب) سے محفوظ سمجھتے ہیں۔ بلاشبہ سوائے ان لوگوں کے جو یقینا تباہ ہونگے کوئی بھی اللہ کی تدبیر (عتاب) سے محفوظ محسوس نہیں کر سکتا۔“ (سورة اعراف آیات ۹۹، ۹۸، ۹۷

    میرا مطلب ان سطور کے لکھنے کا ہرگزیہ نہیں کہ پورے ملک کے ڈاکٹر صاحبان، لیڈر و حکمراں اور وُکلاء دھوکے باز، چور، لالچی یا خون چوسنے والے ہیں۔ میں خود ذاتی طور پربہت سے ایسے ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جویا تو برائے نام فیس لیتے ہیں یا بالکل مفت علاج کرتے ہیں۔ بہت سے فلاحی اسپتال اور میڈیکل سینٹر ملک میں کام کر رہے ہیں جہاں سے لاکھوں غریب مفت علاج، ادویات حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے فرشتہ خصلت وکلاء اور سابق حج صاحبان بھی ضرورت مند، غریب موکلوں کو مفت قانونی مشورے دیتے ہیں۔کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ایسے ہی نیک، خدا ترس لوگوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو ابھی تک چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں اور دھوکہ بازوں کے بد ترین اعمال کے باوجودمحفوظ رکھا ہوا ہے۔ چند مخلص، ایماندار، نیک لیڈروں نے بھی اپنے وعدوں اوراقوال کا پاس رکھا ہے۔ مجھے اس پر فخر ہے اور تہہ دل سے شکر گزار بھی ہوں میرے ڈاکٹروں اور وکلاء نے مجھ سے کبھی ایک پیسہ بھی نہیں لیا اور ایسے ہی واقعات ریستورانوں،ہوٹلوں اوردکانوں پر پیش آتے ہیں کہ لوگ بار بار اصرار کرنے کے باوجودرقم لینے سے انکار کردیتے ہیں۔ یہ اللہ رب العزّت کا کرم ہے۔

    سب سے خطرناک چارہ ساز ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف ہیں۔ ان کے مشورے اور مدد آپ کا دم گھونٹ دیتی ہے اور جس ملک کی اُنہوں نے چارہ سازی اور غم گساری کی وہ بے چارہ مَرگ مفاجات کا شکار ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غلامی کا پھندا گلے میں ڈال لیتا ہے۔

    دیکھئے جہاں تک چارہ سازی کی بات ہے تو انسان ضرور وسیلہ بن کر کام آجاتا ہے مگر اصل چارہ ساز اللہ رب العزّت ہی ہے۔ اس نے کتنے سارے اور صاف الفاظ میں فرمایا ہے۔ ”جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا، بیٹھا اور کھڑا ہر حال میں ہمیں پکارتا ہے اور پھر جب ہم اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو ایسا روّیہ اختیار کرتا ہے کہ گویا کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا اسی طرح ہم حد سے گزرنے والوں کو ان کے اعمال اچھا بنا کر دکھاتے ہیں (سورة یونس، آیت ۱۲

    بات چارہ ساز کی ہورہی ہے تو آپ کو چند اشعار سناتا ہوں

    کچھ کہہ کے چارہ ساز نے تسکین دی تو ہے

    سنتا تو ہوں کہ اب میری حالت سنبھل گئی

    (فانی# بدایونی)

    اے چارہ گرو موقوف کرو لِلّہ یہ رسم چارہ گری

    ہم تم کو مسیحا مان گئے، ہم درد کا درماں دیکھ چکے

    (وحیدہ نسیم#)

    اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوار

    ہو سکے تم سے تو زہر پلاتے جاؤ

    (محسن بھوپالی#)

    فانی# دوائے درد جگر زہر تو نہیں

    کیوں ہاتھ کانپتا ہے مرے چارہ ساز کا

    (فانی بدایونی#)

     

     

     

     

     

               

     

     

     

     

     

                         

               

    تاریخ بیت اللہ شریف ....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   7/26/2010

    میں اپنے کالم عموماََ معاشی ، سماجی ، تعلیمی اور تاریخی معاملات تک محدود رکھتا ہوں۔ معاشی و سماجی واقعات میں حالات حاضرہ اور سیاست پر تبصرہ لازمی ہو جاتا ہے کہ دونوں کا تعلق سیاست اور اہل اقتدار کے اعمال و کردار پر منحصر ہوتا ہے۔

    آج میں آپ کی خدمت میں تاریخ بیت اللہ شریف پر ایک نہایت مفیدکتاب پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں۔ دنیا کے ہر مسلمان کے دل میں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی جو عزت و احترام اور محبت ہے اس کو الفاظ کے احاطہ میں مقید نہیں کیا جا سکتا ۔ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان مقاما ت مقدسہ کے بارے میں ضرور کچھ معلومات حاصل کر ے اور زیارت کرے۔ تعلیمیافتہ اور اصحاب استعداد عموماً مہنگی کتب ، انٹرنیٹ اور انسائیکلو پیڈیا وغیرہ سے ان مقامات مقدسہ کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں مگر عام قارئین کے لئے ان مہنگی سہولتوں کی دستیابی تقریباً ناممکن ہے اور ہمارا مقبول ترین روزنامہ جنگ ایک نہایت ہی اہم اور آسان ذریعہ معلومات ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر میں نے سوچا کہ اس اہم کتاب تاریخ بیت اللہ پر روشنی ڈالوں کیونکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم روزانہ کم از کم پانچ مرتبہ اپنا چہرہ اس مقدس خانہ خدا کی جانب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اس کی رحمت کی بھیک مانگتے ہیں اور توبہ استغفار کرتے ہیں۔

    میں جس کتاب پر تبصرہ کر رہا ہوں اس کا نام تاریخ بیت اللہ ہے اور اس کے مولف جناب الشیخ محمد صالح بن احمد بن زین العابدین الشیبی العبدری الحجبی ہے۔ یہ بیت اللہ کی تاریخ پر ایک منفرد تحقیقی کتاب ہے اور اس کے مترجمین جناب محمد کامران قریشی پروفیسر کراچی یونیورسٹی ، جناب مفتی عمر محمود اور میرے عزیز دوست ادیب و شاعر رؤف صدیقی ہیں۔اس کتاب کی ترتیب و تدوین و تحقیق رؤف صدیقی نے کی ہے اور اس کو سردار یٰسین ملک نے جہانگیر بُکس لاہور سے شائع کرایا ہے۔ (جزاک اللہ )

    رؤف صدیقی (میں تو ہمیشہ رؤف بھائی کہہ کر مخاطب کرتا ہوں) میرے پرانے عزیز دوست ہیں۔ میری اور ان کی دوستی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ متحدہ قومی موومنٹ کے سرگرم رکن ہیں۔ پہلے وزیر ایکسائز رہے، پھر سیاحت و ثقافت ، پھر داخلہ اور آجکل وزیر صنعت و تجارت ہیں۔ جس زمانہ میں راندہ درگاہ تھے ان سے دبئی میں ملاقات رہتی تھی اور ان کے عزیز دوست و ساتھی صلاح الدین بھائی شارجہ سے اپنے ریسٹورنٹ میں تیارکردہ مرغ مصالحہ کھلایا کرتے تھے۔ بہرحال رؤف بھائی سے میری دوستی اورمحبت ان کی ادبی اور شاعرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ہے۔ یہ قلم سے تلوار کا کام لیتے ہیں اور ضرب کاری لگانے میں ماہر ہیں۔ سچ بات کہنے سے نہیں ڈرتے اور شاعرانہ کلام اور ذوق اعلیٰ پایہ کا ہے اور کیوں نہ ہو کیونکہ ان کے سگے نانا ناطق لکھنوی بہت ہی اعلیٰ پایہ کے شاعر تھے اور ناطق لکھنوی کے ماموں امیر مینائی سے کون سا باذوق شخص واقف نہیں ہے۔ میں تو ناطق لکھنوی کو ان کے زندہ جاوید شعر سے مدتوں سے واقف ہوں۔

    کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

    جس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

    آپ نے اپنے کلام کے بارے میں کہا تھا:

    ہے وہی دیوان مطبوعہ میرا

    جس قدر لوگوں کو ناطق یاد ہے

    ایک اور بہت پیار ا شعر کہا ہے :

    ان کے تیور بھی نہ بگڑے بات بھی اپنی بنی

    حال ہم کہتے رہے وہ داستان سمجھے گئے

    اور امیر مینائی کے تو بس یہ دو ہی اشعار کافی ہیں:

    کون سی جا ہے جہاں جلوہ معشوق نہیں

    شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

    اور:

    کہتے تھے دل کسی سے لگاؤ نہ اے امیر

    دیکھو تو چار روز میں کیا حال ہو گیا

    اب چند اشعار رؤف بھائی کے بھی بیان کروں ۔ ان کے کلام کے کئی مجموعے ہیں ۔ چند اشعار پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔

    ہاتھوں پہ جس کے حق و صداقت کا خون ہے

    شہروں میں گھومتا ہے وہی بن کے معتبر

    کہتے ہیں جو نظام عدالت فریب ہے

    حاکم فریب ہے، یہ حکومت فریب ہے

    بھیس بدلے ہوئے میرے مالک

    چور ڈاکو ہی سب نظر آئے

    قوم و ملت کو لوٹنے والے

    سر پہ دستار باندھ کر آئے

    اس ملک پہ رحمت حق اثر انداز نہیں ہے

    جس ملک میں حق کی کوئی آواز نہیں ہے

    جو حاکم ہے وہ مظلوموں کا ایک جھوٹا سہارا ہے

    وہی دشمن وطن کا ہے وہی قاتل ہمار ا ہے

    دیکھئے تاریخ بیت اللہ کے بارے میں کچھ شروع کرنے سے پہلے رؤف صدیقی ، ان کے نانا ناطق لکھنوی اور نانا کے ماموں امیر مینائی کی شاعرانہ مہارت میں کھو گیا اور ان کے کچھ اشعار آپ کی خدمت میں پیش کر ڈالے ۔ آئیے اب تاریخ بیت اللہ کی جانب توجہ مبذول کرتے ہیں۔

    ہم مسلمانوں کو علم ہے کہ خانہ کعبہ کی جانب نماز پڑھتے وقت منہ کرنے سے پیشتر سب لوگ یہود ، نصاریٰ اور مسلمان بھی مسجداقصیٰ (بیت المقدس ) کی جانب منہ کرکے عبادت کرتے تھے۔ ایک روز نماز کے دوران رسول پر وحی نازل ہوئی کہ آپ اور تمام مسلمان اپنا رُخ مکہ میں خانہ کعبہ کی جانب پھیرلیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے محمد ہم بار بار آپ کے رخ انور کو آسمان کی جانب پلٹتا دیکھ رہے ہیں، سو ہم ضرور بالضرور آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیردیں گے جس پر آپ راضی ہیں۔ پس آپ اپنا رخ ابھی مسجد حرام کی جانب پھیر لیجئے اور (اے مسلمانو!) تم جہاں کہیں بھی ہو پس اپنے چہروں کو اسی جانب پھیرلو۔“(سورة البقرہ آیت 144)

    اس طرح اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو کعبة اللہ قرار دیا بلکہ اس کی حرمت کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔” اور ان (کافروں) سے مسجد حرام کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں ۔“ (سورة البقرہ آیت 191)

    تعمیر کعبہ کے بارے میں مورخین نے مختلف روایات بیان کی ہیں۔بعض علماء نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کا مقام زمین کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال قبل متعین کیا تھا۔ پانی کی سطح پر صرف سفید جھاگ تھے اللہ نے اس کے نیچے زمین کو بچھادیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو زمین پر اتارا اور آپ کو تنہائی سے وحشت ہوئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے اس بارے میں عر ض کی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی گھبراہٹ کو دور کرنے کے لئے آسمان سے بیت المعمور کو نازل کیا وہ جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت تھا۔ بیت المعمور اسی جگہ پر نازل کیا گیا تھا جہاں بیت اللہ کا مقام ہے اور حدیث ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” اے آدم میں نے تمھارے لئے ایک گھر اتار دیا ہے لہذا اب تم اس کا طواف کرو جیسے میرے عرش کا طواف کیا جاتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا ہے :”اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے (تو دونوں دعاکر رہے تھے) کہ اے ہمارے رب تو ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے ۔ بے شک تو خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔“ (سورة البقرہ آیت 127)(جاری ہے)

     

                         

               

               

               

    تاریخ بیت اللہ شریف .....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان... (گزشتہ سے پیوستہ)   7/27/2010

    بعض مورخین کی رائے ہے کہ اس سے مراد وہ بنیادیں ہیں جن کو حضرت آدم نے رکھا تھا اور بعد میں ان کے نشانات مٹ گئے تھے۔لا تعداد متضاد روایات کے باوجود جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت شیث بن آدم نے کی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل کا کعبہ کی تعمیر کرنا قرآن اور احادیث سے ثابت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ ) کو لوگوں کے لئے رجوع اور اجتماع کا مرکز اور جائے امان بنادیا اور حکم دیا کہ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقام نماز بنالو اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کا طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک صاف کرو اور جب ابراہیم نے عرض کیا ۔ اے میرے رب اسے امن والا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز یعنی ان لوگوں کو جو ان میں سے اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا :”اور جو کوئی کفر کرے گا اس کو بھی زندگی کی تھوڑی مدت کے لئے فائدہ پہنچاؤں گا پھر اسے اس کفر کے باعث دوزخ کے عذاب کی طرف جانے پر مجبور کر دوں گا اور وہ بہت بُری جگہ ہے اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے تو وہ دعا کر رہے تھے کہ ایے ہمارے رب تم ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے ، بے شک تو خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔ “(سورة البقرہ آیت 125,126,127)

    سورة ابراہیم میں حضرت اسماعیل کو خانہ کعبہ کے قریب بسانے کا ذکر ہے (سورة ابراہیم آیت 37) ۔ہم حضرت ابراہیم کا حکم الہیٰ کی اطاعت پر حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو خانہ کعبہ کے قریب کچھ کھجوریں اور پانی کا مشکیزہ دے کر چھوڑنا ، حضرت ہاجرہ کا صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا ، فرشتہ کا وہاں اترنا اور پر مارنا اور زمین میں سے پانی کا چشمہ اُبل پڑنا (زمزم) وغیرہ کے تاریخی واقعات سے واقف ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی بیت اللہ کی تعمیر شروع کرنے کے بعد سے اس کی تعمیر جاری رہی۔ مقام ابراہیم وہ جگہ ہے جس کو حضرت اسماعیل اپنے والد کے لئے لائے تھے اور اس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کی معاونت کے ساتھ بیت اللہ کی بنیادوں کو بلند کیا یہاں تک کہ بنائے کعبہ اختتام پذیر ہوئی۔

    ابو جہم کی روایت ہے کہ حجر اسود حضرت جبریل لے کر نازل ہوئے تھے اور حضرت ابراہیم نے حجر اسود کو اس کے مقام پر رکھ دیا تھا۔ حطیم کے بارے میں حضرت امام ترمذی اور اما م نسائی سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں نماز ادا کروں تو رسول نے میرا ہاتھ پکڑ کر حطیم کعبہ میں کھڑا کر دیا اور فرمایا کہ اس میں نماز ادا کرو کہ بے شک یہ بیت اللہ کا حصہ ہے لیکن تمہاری قوم نے تعمیر کے وقت بیت اللہ کو محدود کرتے ہوئے حطیم کعبہ کو اس سے خارج کر دیا۔

    حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی تعمیر کعبہ کے بعد اس کو مورخین کے مطابق کئی بار منہد م کیا گیا اور بنایا گیا ۔ اس کی تمام تفصیل تاریخ بیت اللہ میں موجود ہے ۔ اسی طرح حجر اسود کو اس کے مقام پر نصب کرنے کا واقعہ بھی درج ہے کہ کس طرح رسول نے اس کی نصب کرنے کے جھگڑے کو خوش اسلوبی سے حل کردیا تھا۔ بیت اللہ کی تعمیر، توسیع وغیرہ کا سلسلہ جو کئی ہزار سال پہلے شروع ہوا تھا آج تک جاری ہے۔ خاندان ابن سعود نے اس میں نہایت نمایاں کردار ادا کیا ہے اور مسلسل یہی کو شش رہتی ہے کہ حجاج اور زائرین کے آرام کے لئے انتظامات کئے جائیں۔ میں جب 1976 میں عمرہ ادا کرنے کے لیے اپنے چند رفقائے کار کے ساتھ گیا تھا تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف صرف چند گز تک سنگ مر مر لگا تھا اور تمام دروازوں کی جانب پگڈنڈیاں جاتی تھیں اور باقی حصہ کھلا تھا اور اس میں کنکریاں بچھی ہوئی تھیں۔اس پر لوگ جائے نماز بچھا کر عبادت کیا کرتے تھے ۔ عموماً کنکریاں ماربل یعنی سنگ مر مر پر آ جاتی تھیں اور پیروں کے نیچے آ کر بہت تکلیف کا باعث بنتی تھیں۔ اب پورا علاقہ سنگ مرمرسے ڈھانپ دیا گیا ہے اور اس فرش کے نیچے ٹھنڈا پانی گردش کرتا ہے جس سے زائرین کو بہت آرام ملتا ہے(جزاک اللہ)۔

    بیت اللہ پر پہلا غلاف یمن کے شنہشاہ تبع نے چڑھایا تھا اور اس وقت سے یہ سلسلہ جاری ہے اور اس کی خوبصورتی میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ حدیث شریف ہے : ”اسعد حمیری (یعنی) شاہ تبع کو بُرا نہ کہو اس نے سب سے پہلے کعبہ شریف پر غلاف چڑھایا ۔

    خانہ کعبہ کی چابی کے محافظان کے بارے میں چند سطور تحریر کرنا چاہتا ہوں ۔ فتح مکہ کے دن چابی بردار عثمان بن طلحہ نے چابی دینے سے انکار کردیا تو حضرت علی نے اس کو قابو کر کے چابی چھین لی اور رسول کو پیش کر دی۔ حضرت عباس نے درخواست کی کہ کعبہ کی کلید برداری ان کو عنایت فرما دیں اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُنہی لوگوں کے سپرد کر و جو ان کے اہل ہیں۔ “ (سورة النساء آیت 58) رسول نے حضرت علی کو حکم دیا کہ چابی عثمان کو دے آؤ۔ حضرت علی عثمان کے گھر گئے اور معذرت کے ساتھ چابی لوٹا دی ۔عثمان کے استفسار پر اُنھوں نے وہ آیت پڑھ کر سنا دی ، عثمان فوراً ہی اسلام لے آئے۔روایت ہے کہ پھر حضرت جبریل امین حاضر ہوئے اور عر ض گزار ہوئے کہ جب تک یہ گھر قائم ہے اس وقت تک اسکی کلید برداری اولاد عثمان میں رہے گی۔ حضرت عثمان نے وصال سے قبل اپنے چچا کے بیٹے شیبہ کو وہ چابی عطا کر دی او راس وقت سے لے کر آج تک کعبہ کی کلید برداری شیبہ کی اولا د میں ہے۔ کتاب بیت اللہ میں قبیلہ بنو شیبہ اور موجودہ کلید بردار تک تفصیلات موجود ہیں۔بنو شیبہ کا نصب رسول کے نسب کے ساتھ عدنان سے ملتا ہے او ر اس طرح بنو شیبہ کا نسب عدنان سے بھی ملتا ہے اور عدنان کا نصب حضرت اسماعیل بن ابراہیم سے جا ملتا ہے ۔ اس طرح ان کانصب نبی اکرم سے قصی تک جا کر مل جا تا ہے۔

    اس کتاب کی چند ماہ پہلے رونمائی کے وقت خاص طور پر ڈاکٹر صالح زین العابدین الشیبی اور شیخ عبد الرحمن صالح زین العابدین الشیبی کراچی تشریف لائے تھے اور اس تقریب کوسعادت بخشی تھی۔ آجکل خانہ کعبہ کے کلید بردار شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن عبد القادر الشیبی ہیں ۔ اللہ رب العزت ان کو، تما م قبیلہ بنی شیبہ کو رؤف صدیقی ، سردار یٰسین ملک کو اور ان کے عزیز و اقارب کو اپنی رحمتوں سے نوازے (آمین )

     

     

     

     

     

                         

               

    آئین جوانمرداں، حق گوئی وبے با کی....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   8/2/2010

    شاعر مشرق، مفکّر پاکستان علّامہ اقبال صرف شاعر اور فلسفی ہی نہ تھے قوم و مملکت کے ہادی اور رہبر کامل بھی تھے۔ صوفی شعراء کی طرح انھوں نے بھی پند و نصائح کو خوبصورت اشعار میں ڈھال کر دل آویز و دلکش بنا دیا ہے۔ ان کے اشعار میں صحیح کردار کا خاکہ، طرز زندگی کی تعلیم ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ہندوپاکستان میں لاتعداد اعلیٰ شعراء پیدا ہوئے ہیں مگر کوئی بھی علّا مہ اقبال کے رُتبہ کو نہ پہنچ سکا اور نہ ہی اس کا کلام علّامہ اقبال کی طرح زبان زد عام و زندہ جاوید ہُوا، یعنی

    یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

    ہر مُدّعی کے واسطے دار و رَسن کہاں

    آپ کا ایک شعر ہے:

    آئین جوانمردی ، حق گوئی و بے باکی

    اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

    اس مختصر مگر اہم شعر میں آپ نے جوانمرد کے کردار کے لئے حق گوئی وبے باکی کو آئین قرار دیا ہے جو انتہائی لازم امر ہے۔ اسی طرح ایسے کردار والے انسان کو اللہ کے شیر کا لقب دیا ہے اور اس کے برخلاف عمل کرنے والے کو روباہی یعنی لومڑی پن کہا ہے۔ کہاں شیر جیسا دلیر جانور اور کہاں بزدل، مکّار لومڑی۔ مکمل تضاد۔ جو انسان حق گوئی یعنی سچ بات کہے اور نڈر ہو وہی بغیر خوف و خطر سچ بول سکتا ہے اور جو ایسا نہیں کر سکتا وہ لومڑی کی طرح مکّاری و جھوٹ سے کام لیتا ہے۔

    ہمارے ملک میں کیا بلکہ دنیا میں بھی سچ بات کہنے والے نڈر شخص یعنی علّامہ اقبال کے اللہ کے شیرکو عموماً طرح طرح کے مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور علّامہ اقبال کو اس حقیقت سے پوری طرح آگاہی تھی اور اس کو مدِّ نظر رکھ کر ہی آپ نے کہا تھا۔

    اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش

    میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

    کیونکہ آپ نے مہلک زہر کو کبھی بھی لذیذ قند نہیں کہا اس وجہ سے اقربابھی ناراض ہوئے اور غیر لوگ بھی اس حق گوئی سے خوش نہیں ہوئے یعنی اپنے اور پرائے سب ہی مکاری کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ سچ بات ان کو کڑوی لگتی ہے اور وہ اس سے ناراض و ناخوش ہو جاتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہماری قوم اور معاشرہ میں یہ عیوب اس بری طرح سرایت کر گئے ہیں کہ لوگ سچے یا راست گو انسان سے گبھراتے ہیں اور اس کے پاس بھی نہیں بھٹکتے اور جھوٹے، عیار اور خوشامدی لوگوں کی جھوٹی باتوں اور چاپلوسی سے خوش ہو کر ہمہ وقت ان کے دائرہ میں گھرے رہتے ہیں۔ یہ خوشامدی اور مفاد پرست طبقہ با اقتدار ہستیوں کو غلط مشورہ دے کر اپنا فائدہ اور ملک و قوم کا نقصان کراتا ہے، مقتدر اشخاص ان کے مشوروں پر عمل کرکے ملک و قوم کی محبت و ہمدردی اور ہر دلعزیزی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایسا ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ خوشامد کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وہ گنہگاروں کے اعمال ان کو اپنی آنکھوں میں اچھے دکھاتا ہے۔ ہمارے ملک میں اصحاب اقتدار ایک کے بعد ایک ایسی غلطیوں کے مرتکب ہوئے، حکومتیں گئیں اور عوام کی محبت اور عزّت بھی لیکن آنے والے نے پچھلے کی غلطیوں اور انجام سے کچھ نہیں سیکھا اور قانونِ قدرت پے درپے ان کو سزائیں دیتا رہا اور دیتا رہے گا۔ میں نے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ حکمران خود کنوئیں میں چھلانگ نہیں لگاتے بلکہ ان کے مشیر ان کو پیچھے سے لات مار کر کنوئیں میں پھینک دیتے ہیں۔

    پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان جن کو عوام محبت سے قائد ملّت کہتے ہیں بدقسمتی سے زیادہ عرصہ حیات نہ رہ سکے سازشیوں نے اُنھیں قتل کرا دیا۔ اس کے بعد متواتر آمریت کا دور رہا۔ غلام محمد سے لے کر مشرف تک ایک آدمی کی آمرانہ حکومت، خوشامدیوں کا گھیراؤ، عوام کی تباہی ملک کی قسمت بنی رہی۔ درمیان میں مختصر عرصہ کے لئے جمہوریت آئی لیکن برسوں کی خرا بی دور بھی نہیں ہوتی تھی کہ پھر ڈکٹیٹر مسلط ہوجاتا تھا اور وہی نحوست اور خرابی۔ جمہوریت میں بھی برسوں کی آمریت کا اثر اتنا ہو گیا تھا کہ بڑا لیڈر چھوٹوں کو خاطر میں نہ لاکر اپنے من پسند خوشامدیوں کے ساتھ مل کر آمرانہ وتیرہ اختیار کرتا رہا اور تنقید کرنے والے یا نیک مشورہ دینے والے کو دشمن تصور کرنے لگا۔ میں ایسے کئی واقعات سے واقف ہوں جو سویلین حکومتوں کے دور میں ظہور پزیر ہوئے۔ اس قسم کی حرکات نے پھر آمریت کو دعوت دی اور عوام نے مٹھائیاں بانٹ کر خیر مقدم کیا۔ سیاسی لیڈر بہت عرصہ بعد اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں مگر ان کو دوہرانے سے نہیں جھجکتے۔

    پرویز مشرف نے کئی برس بعد کہا کہ اس نے عدلیہ سے پنگا لے کر بہت سنگین غلطی کی مگر لال مسجد، جمالی صاحب کو ہٹانا، بینظیر سے این آر او جیسا گندہ معاہدہ کرنا اسی احمقانہ پالیسی کا تسلسل تھا۔موجودہ دور میں حق گوئی اور بیباکی کے نقیب اور علم بردار دو ادارے ہیں۔ ایک میڈیا جوآزاد رہ کر اچھی بُری باتوں سے عوام کو ہی نہیں بلکہ حکومت کو بھی آگاہ کرتا رہتا ہے۔ بدقسمتی سے میڈیا میں بھی کچھ ”لفافے بردار“ بدنامی کا باعث ہیں لیکن اکثریت اپنا فرض اچھی طرح ادا کررہی ہے اور حکومت کو غلطیوں سے آگاہ کرتی رہتی ہے اور اصلاح کی دعوت دیتی رہتی ہے۔

    دوسرا ادارہ عدلیہ ہے جوپوری کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو انصاف ملے۔ برسرِاقتدار طبقہ اس کو دشمن نہ سمجھے بلکہ اس کو اپنا سچا مشیر،ہادی سمجھنا چاہئے اس پر الزام تراشی اور اس کے راستہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے گریز کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے بعض مقدمات میں ظاہراً بے جا التوا اور طوالت سے عوام کو دکھ ہوتا ہے اور عدلیہ پر سے اعتماد اُٹھنے لگتا ہے۔

    ماضی سے سبق حاصل نہ کرکے آج بھی خوشامدی، مطلب پرست دائرہ ارباب اقتدار کو اُلٹے سیدھے مشورے دے کر خود کشی کرانے میں مصروف ہے۔ بھٹو صاحب، بینظیر اور نواز شریف کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ یہ لوگ شور مچا مچا کر خود کو شاہ سے زیادہ وفادار دکھانا چاہتے ہیں لیکن جب حقیقی خطرہ پیش آتا ہے تو یا تو غائب ہوجاتے ہیں یا مصلَحتاً فوراً اپنی وفاداری تبدیل کرلیتے ہیں۔ ایسی لومڑیوں سے ہوشیار رہنا ارباب اقتدار کا اوّلین فریضہ ہے۔

    آئیے آپ کو حق گوئی اور بہادری کا ایک قصّہ سناؤں۔

    مامون الرشید کے زمانہ میں ایک قاضی جو کہ عمر رسیدہ تھا اپنے انصاف اور رحم کی وجہ سے بے حد مشہور تھا۔ اس کا رواج تھا کہ اس کی آمد سے پہلے صبح صبح چبوترہ پر شمع رکھی جاتی تھی، مصلّیٰ بچھایا جاتا تھا، چند دُعاؤں، احادیث کی کتب اور کلام مجید رکھا جاتا تھا۔ قاضی جب عدالت لگاتا تھا تو سب سے پہلے چند رکعت نماز پڑھتا تھا اور وظائف پڑھتا تھا اس عرصہ میں لوگ آکر کھڑے ہو جاتے تھے تاکہ اپنے مقدمات پیش کریں۔ اس دوران سورج نکل آتا تھا۔ ایک روز قاضی کے دریافت کرنے پر اہل کاروں نے ایک نوجوان کو پیش کیا جس پر الزام تھا کہ اس نے قتل کیا تھا۔ قاضی کے پوچھنے پر کہا کہ کوئی گواہ موجودتھا اہل کاروں نے بتلایا کہ ملزم خود ہی اقرار جرم کررہا ہے۔ قاضی نے کہا لاحول ولا قوة اس شخص کو میرے سامنے حاضر کرو تاکہ میں اس سے پوچھوں ۔ نوجوان کو لایا گیا۔ قاضی نے اس کو دیکھ کر کہا کہ یہ چہرہ سے تو مجرم نہیں لگتا، چہرہ سے توشانِ مسلمانی ہویدا ہے۔ ممکن ہے اس نے جرم نہ کیا ہو اور لوگ یوں ہی جھوٹ کہہ رہے ہوں۔ اس کے خلاف کسی کی بات نہیں سنو ں گا۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ یہ جوان اس قسم کا جرم کرے۔ تم لوگ خود ہی دیکھو۔ اس کا چہرہ اور اس کا بُشرہ گواہی دے رہا ہے کہ یہ بے گناہ ہے۔ یہ سن کر ایک شخص بول اُٹھا کہ یہ شخص اپنے گناہ کا خود ہی اعتراف کر رہا ہے تو قاضی نے ڈانٹ پلائی کہ کیوں بلاوجہ کسی مسلمان کے خون کا عذاب اپنے سر مول لے رہے ہو، یہ جوان ایسا بے وقوف نہیں کہ اپنی ہی بات سے اپنے قتل کا بندوبست کرے۔ قاضی کا ان باتوں سے مقصد یہ تھا کہ نوجوان انکار کردے کہ اس نے جان بوجھ کر قتل کیا ہے اور کسی شہادت کے بغیر اور شک کے فائدہ سے اس نوجوان کی جان بچ جائے۔ قاضی نے نوجوان سے پوچھا کہ وہ کیا کہتا ہے ۔ نوجوان بولا، قضائے الٰہی اور تقدیر خداوندی کہ مجھ سے یہ فعل سرزد ہوگیا، میرے نزدیک اس دنیا کے بعد دوسری دنیا بھی ہے۔ (جاری ہے)

     

     

     

                         

               

    آئین جوانمرداں، حق گوئی وبے با کی....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان.... (گزشتہ سے پیوستہ)   8/3/2010

    یہ میرا عقیدہ اور ایمان ہے کہ میں اس جرم کے بعد یہ تاب نہیں رکھتا کہ اُس جہاں میں اللہ کا عذاب اور عتاب اور قہر سہہ سکوں۔ شریعت اور اللہ کا جو بھی حکم قاتل کے لئے ہو میں اس کے لئے تیار ہوں۔ اس پر قاضی نے کان پر ہاتھ رکھ کر بہرہ ہونے کا تاثر دیا اور لوگوں سے کہا میری سمجھ میں نہیں آیا اس نے کیا کہا، اقرارِجرم یا انکارِجرم کر رہا ہے ۔ لوگوں نے کہا وہ اقرار جرم کررہاہے۔ اس پر قاضی نے کہا میرے بیٹے تیری جبیں سے گناہ گاری اور جرم کی سیاہی تو نہیں جھلک رہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیرے دشمنوں نے تجھ کو ورغلادیاہے تو اقرار جرم کرے اور اس طرح تجھے مارنے کی سبیل نکالی ہے۔ اس پر نوجوان نے کہا کہ اسے کسی نے نہیں ورغلایا اور وہ مجرم ہے۔ اس پر شریعت کی حد نافذ کی جائے اور خدا کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اس پر قاضی نے پھر نوجوان سے پوچھا اور اس نے پھر اقرار جرم کیا۔ اب قاضی نے کہا ، میں تم پر خدا کے قانون کا نفاذ کروں گا اور پھر حاضرین کی جانب مخاطب ہو کر کہا، کیا تم نے کبھی کسی اس جیسے متقی اور خدا ترس جوان کو دیکھا ، کم از کم میری نظر سے تو ایسا جوان نہیں گزرا۔ دیکھو اس کے چہرہ سے سعادت، مسلمانی اور عالی نسبی کے آثار کس طرح نمایاں ہیں۔ یہ اللہ کا خوف ہے کہ یہ جوان اپنے جرم کا اقرار کر رہا ہے اس کو علم ہے کہ مرنا تو ہے ہی لیکن پسند اس بات کو کرتا ہے وہ اللہ کے حضور میں پاک، پاکیزہ اور شہید کی طرح جائے، اب جوان اور حوروں اور محلات کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ ہے ۔ قاضی نے پھر جوان سے کہا وہ غسل کرلے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے گناہ سے توبہ کرلے تاکہ اس پر شرعی حد قائم کردی جائے۔ قاضی نے کہا مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ یہ نوجوان اسی گھڑی جنت میں داخل ہو جائے گا۔ قاضی نے اپنی گفتگو سے موت کا تصّور اس نوجوان کے لئے اس درجہ پُر کشش بنا دیا کہ جیسے جوان کو مرنے کی بیتابی ہو رہی ہو۔ قاضی کے حکم پر نوجوان کے کپڑے اتار دیے گئے، آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی لیکن قاضی اب بھی تسلی اور دلاسے کی باتیں کرتا رہا اور بہشت کی باتیں کرکے مرنے والے میں نشہ کی کیفیت پیدا کرتا رہا۔ جلّاد حاضر ہوا اور نہایت تیز و تابناک تلوار سے ایک ہی وار میں نوجوان کا سر تن سے جدا کر دیا۔

    آپ نے دیکھا اس حکایت میں کس طرح ایک نوجوان نے علّامہ اقبال کے ” آئین جوانمردی، حق گوئی و بیباکی“ کا قابل تقلید کردار پیش کیا۔ جاپان کے عوام اس اعلیٰ کردار کے لئے مشہور ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم میں ملک کی خاطر جان دینے (ہارا کیری) کی مثال انھوں نے قائم کی تھی، آج بھی غیرت و حمیت کا یہ حال ہے کہ اگر کسی وزیر یا وزیر اعظم کے بارہ میں پریس میں زرا بھی الزام لگایا جائے وہ غیرت مند فوراً استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ خود قصور وار نہیں ہوتا بلکہ الزام اس کے رشتہ داروں پر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اس مملکت خداداد پاکستان میں بے غیرتی، بدکرداری عروج پر ہے اور لوگ غلط اور مُجرمانہ کام کرکے فخریہ اس کا دفاع کرتے ہیں۔ سب سے تازہ مثال رشوت کے واقعات اور جعلی ڈگریوں کی ہے۔ اس ملک کا مستقبل کیا ہے؟ میں مستقبل کے بارہ میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر جو حالات ہیں وہ خطرہ کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔

     

     

     

     

     

                         

               

    دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا....سحر ہونے تک …ڈاکٹرعبدالقدیرخان   8/9/2010

    آج سے تقریباً 80 سال پیشتر ہندوستان سے دو مشہور رسالے شائع ہوتے تھے، ایک لاہور کے میاں خاندان کے میاں بشیر شائع کرتے تھے اس کا نام ہمایوں تھا۔ میاں بشیر بعد میں ترکی میں ہمارے سفیر بھی رہے تھے۔ اُنہوں نے یہ رسالہ اپنے والد بزرگوار محترم جناب جسٹس شاہ دین ہمایوں# کے نام پر نکالا تھا۔ دوسرا رسالہ جناب نیاز فتح پوری نے نگار کے نام سے شائع کرنا شروع کیا تھا۔ دونوں اعلیٰ پائے کے رسالہ جات تھے۔ ہمایوں پر جسٹس شاہ دین ہمایوں# کا یہ شعر سرورق شائع ہوتا تھا۔

    اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی

    دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

    جسٹس شاہ دین ہمایوں اچھے شاعر تھے اور سنا ہے کہ قائدِاعظم جب لاہور تشریف لاتے تھے تو ان کے بنگلے میں ہی قیام فرماتے تھے۔ بانگِ درا میں علّامہ اقبال نے ان کی مدح سرائی کی ہے۔ میاں بشیر کو اپنی دولت پر کچھ زیادہ ہی بھروسہ تھا اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ ہمایوں کبھی بھی بند نہ ہوگا۔ لیکن جیسا کہ قدرت کا نظام اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے دولت کے سہارے کوئی چیز مستقل طور پر حاصل نہیں کی جاسکتی ہمایوں کچھ عرصہ بعد بند ہوگیا کہ میاں خاندان ان مصیبتوں کا شکار ہو گیا۔ اس کے برعکس نیاز فتح پوری (نیاز محمد خان) نے یہ عزم کیا تھا کہ نگار مسلسل شائع ہوتا رہے گا چاہے اس کی مکمل کتابت ان کو اپنے ہاتھ سے ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ نگار آج تک شائع ہورہا ہے۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ جناب نیاز فتح پوری بھوپال کی شاہی لائبریری کے سربراہ تھے اور کئی برس بھوپال میں مقیم رہے ان کے صاحبزادے مشہور بایوٹیکنالوجسٹ اور جنیٹک سائنسدان ڈاکٹرسرفراز نیازی ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں اور انہوں نے غالب#کے کلام کا بہت ہی خوبصورت انگریزی ترجمہ کیا ہے اور اس کتاب کا نام Love Sonnets of Ghalib ہے۔ ڈاکٹر سرفراز نیازی اکثر پاکستان آتے رہتے ہیں اور میرے دوست ہیں۔ ہمایوں اور نگار کے بارے میں مصدقہ معلومات کے لئے اپنے عزیز دوست ناصر زیدی کا شکر گزار ہوں۔

    ہمایوں اور نگار کے بقیدِحیات ہونے کے بارے میں مندرجہ ذیل شعر نہایت موزوں ہے۔

    رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق#

    اولاد سے تو بس یہی دو پشت چار پشت

    اگرچہ یہ بات تقسیم ہند سے تقریباً اٹھارہ سال پہلے کی ہے مگر ہمایوں# پر تحریر میں دی گئی نصیحت آج بھی ہم پر صحیح صادق نظر آتی ہے کیونکہ زمانہ آگے نکل گیا ہے اور ہم ابھی بھی عہد رفتہ میں رہ رہے ہیں اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ہمیں اپنی اس کوتاہی اور نااہلی کا قطعی احساس نہیں ہے۔ اگر عوام باشعور ہوتے، تعلیمیافتہ طبقہ حسّاس ہوتا اور حکمران طبقہ حقیقی معنوں میں محب ِ وطن ہوتے تو کچھ مناسب اقدامات کئے جاتے اور عوام اور خواص ان کا ساتھ دیتے تو ترقی ناگزیر ہوتی۔ بدقسمتی سے تینوں طبقات میں خلوص کا فقدان تھا۔ آجکل بھی یہی بے ڈھنگی روایت قائم ہے۔ ہر اقدام اُٹھانے اور فیصلہ کرنے سے پہلے ذاتی مفاد کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی فیصلہ اور اقدام اور کارروائی بے لوث بھی ہو تو حکمران طبقے کی پچھلی ناکردگی کی وجہ سے کسی کو اس پر اعتماد نہیں ہوتا اور مخالفین اپنے مفاد اور بقاء کے لئے پہلے اور عوام کے فائدہ کے لئے کم ہی اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ اسکیم جلد ہی ختم ہوجاتی ہے۔ یعنی ”دفتر را گاؤ خورد“ (دفتر کو گائے کھا گئی) والا محاورہ صحیح ثابت ہوتا ہے۔ آجکل جو کچھ ہو رہا ہے اس کا سبب کیا ہے اور اس کا مداوا کس طرح کیا جاسکتا ہے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مختصراً صرف دو الفاظ اس لعنت کو بیان کرنے کو کافی ہیں، یعنی بددیانتی اور بدعنوانی اور ان کو ختم کرنا ہی اس لعنت کا علاج ہے۔ سرکاری (یعنی عوامی) رقوم کا ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنا یا رشوت کے طور پر دوسروں کو دے کر ان سے غلط کام کرانا بد دیانتی ہے اور فرائض منصبی میں کوتاہی یا صحیح طور پر ان کو ادا نہ کرنا بدعنوانی ہے۔ اگر ان دونوں جرائم پر قابو پالیا جائے تو بہت سی معاشرتی برائیاں ختم ہوسکتی ہیں۔ بدعنوانی کے خاتمے اور ایمانداری کے لئے محاسبہ بے حد ضروری ہے لیکن یہ صرف نمائشی یا عوام کی آنکھوں میں دُھول ڈالنے والا نہیں ہونا چاہئے، اس پر عمل درآمد کے لئے انتہا درجہ کے ایماندار، غیرجانبدار اور باہمّت افراد کی ضرورت ہے جو بلاخوف و خطر اپنے فرائض منصبی انجام دیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونے کے لئے تیار رہیں۔

    جہاں تک کام اور فرائض منصبی میں غفلت یا بے ایمانی کا تعلق ہے اعلیٰ افسران، وزراء اور خود وزیر اعظم اپنے اسٹاف کی کارکردگی کے ذمہ دار ہیں۔ کیا ہم بھول گئے کہ حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ اگر بغداد میں دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک یا پیاس سے ہلاک ہوا تو وہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہوں گے؟ وزیراعظم اور وزراء کا صرف یہ کام نہیں کہ سرکاری مراعات پر عیاشی کریں اور اپنے ماتحتوں کی کارکردگی کی ذمّہ داری قبول نہ کریں۔ ہمارے ملک میں تو یہ عام روایت ہے کہ کوئی افسر یا کارندہ کتنی ہی بڑی غلطی کرے، کتنی ہی نااہلی کا ثبوت دے لیکن وہ اگر اپنے باس کا وفادار ہے تو اس پر سات خون معاف، کوئی تفتیش،کوئی انکوائری اس کا بال بیکا نہیں کرسکتی۔ عموماً اسی تفتیش کو اتنا طول دیا جاتا ہے کہ لوگ اس اسکینڈل کو بھول جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے اگر ایسے مقدمات عدلیہ کے سامنے آئیں تو وہاں بھی غیر ضروری طوالت، التوا اس کو زندہ در گور کردیتا ہے، اس طرح اس مملکت خداداد پاکستان میں مجرم کو انعام اور بے گناہ کو سزا ملتی ہے۔ ابھی آپ نے جعلی ڈگریوں کے شرمناک واقعات دیکھے ہیں اور اس سے زیادہ شرمناک بیانات حکمرانوں کے ہیں کہ اس شرمناک اورقابل مذمت اقدام کی حمایت میں بیان دے رہے ہیں۔ یہ نظر انداز کرکے کہ قائدِاعظم ایک نہایت اعلیٰ پایہ کے بیرسٹر تھے انگلستان میں قانون کی سند حاصل کی تھی کہا جاتا ہے کہ وہ گریجویٹ نہیں تھے۔ یا خدایا رحم کر اس مظلوم قوم پر۔ اور دین کے دشمنوں پر حسب وعدہ اپنا عتاب نازل فرما۔ آمین!

    ہمارے سامنے دنیا کے لاتعداد ملکوں نے چند ہی برسوں میں بے حد ترقی کی ہے اور جس طرح یہ ترقی کی ہے وہ بھی سب پر عیاں ہے اس میں ایمانداری، نیک نیتی، سخت محنت اور سب سے بڑھ کر حکمرانوں کے کردار نے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ فضول خرچی اور عیاشی پر سخت پابندی لگائی ہے۔ بلاضرورت اداروں میں افراد کی بھرتی نہیں کی ہے۔ ضرورت سے زیادہ افرادی قوّت میں کمی کی ہے، نئی نئی صنعتیں لگائی ہیں اور عیاشی کی اشیاء کی درآمد پر سخت پابندی لگائی ہے۔ ہمارے یہاں اُلٹا وتیرہ ہے، بڑی بڑی گاڑیاں، کپڑے، میک اپ کا سامان، کھانے کی اشیاء، موبائل فون، چینی، تیل، گھی وغیرہ کی درآمد پر کئی ارب ڈالر خرچ کردیے جاتے ہیں، لوگ ٹیکس نہیں دیتے، مگر چونکہ اس حمام میں حکمراں طبقہ اور اثر و رسوخ والے فیکٹریوں کے مالکان اورتاجر سب ہی ننگے ہیں اس لئے اس سلسلہ میں کوئی مناسب یا سخت اقدامات نہیں اُٹھائے جاتے۔ ملک آہستہ آہستہ قبرستان کی طرف رواں دواں ہے مگر سب آنکھیں کھولے تباہی کا انتظار کر رہے ہیں۔

    تمام ترقی یافتہ ممالک میں قانون سب کے لئے برابر ہے مگر اس مملکت خداداد پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ بڑے لوگ جھوٹ بولیں، جعلی سرٹیفکیٹ و ڈگریاں داخل کرکے عوامی مینڈیٹ کی دھجیاں اُڑادیں تو معمولی بات ہے قیامت نہیں آجاتی لیکن اگر ایک بے چارہ غریب جھوٹی یا جعلی ڈگری دے کر ملازمت کرے اور پکڑا جائے تو نہ صرف ملازمت سے ڈسمس ہوتا ہے بلکہ جیل بھی جاتا ہے۔ یہی حال قرضہ لینے والوں کا ہے اگر آپ کئی کروڑ کا قرض لے کر واپس نہ کریں تو وہ معاف کردیا جاتا ہے لیکن ایک لاکھ یا اس سے کم بھی قرض لیا ہو تو بے چارے غریب کی دو چار کنال زمین نیلام کردی جاتی ہے۔ یعنی اندھیر نگری چوپٹ راج والی بات ہے اور یہ سب کچھ اسلام، اسلامی قوانین کی موجودگی میں ہو رہا ہے۔اپنے کالم کے عنوان سے متعلق آپ کو شیخ سعدی کی ایک حکایت سنانا چاہتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک بار مکّہ شریف کی طرف گامزن تھا کہ راہ میں بیابان صحرا پڑا۔

    مجھے نیند آگئی اور وہیں سو گیا، اُدھر سے ایک شتر سوار گزرا اور اس نے جب مجھے خواب غفلت میں پڑا سوتا دیکھا تو اس نے اپنے اونٹ کی مہار میرے سر پر ماری اور ڈانٹ کر بولا کہ کیا تو مرنا چاہتا ہے نقارے کی آواز بھی سن کر نہیں جاگا۔ آرام سے سونے کی خواہش تو مجھے بھی ہے مگر جو بیابان مجھے سامنے نظر آرہا ہے وہ مجھے سونے کی اِجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی مسافر کُوچ کا نقارہ سن کر بھی سوتا رہے تو قافلہ اسے چھوڑ کر آگے نکل جاتا ہے اور پھر اسے راستہ نہیں ملتا اور وہ بھٹک کر ہلاک ہو جاتا ہے۔

    خواب غفلت میں سوئے ہوئے لوگ جب بیدار ہوتے ہیں تو زندگی کا قافلہ گزر چکا ہوتا ہے وہی مسافر پہلے آگے نکلتا ہے جو پچھلی رات بیدار ہو کر سفر شروع کردیتا ہے جب قافلہ روانہ ہو چکا ہو توپھر اس کے بعد جاگنے والا اور روانہ ہونے والا ہمیشہ ہی پیچھے رہتا ہے۔

    یہی حال ہمارے ملک کا ہے ہم تو قافلے سے اب اس قدر پیچھے رہ گئے ہیں کہ اب قافلے کو پکڑنا اور اس کے ساتھ سفر کرنا کچھ ناممکن ہی نظر آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے۔ آمین۔

     

     

     

                         

               

    خوش فہمی و خام خیالی.....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   8/16/2010

    آج سے چونتیس سال پیشتر جب ہم نے کہوٹہ میں یورینیم کی افزودگی کا کام شروع کیا تو سب سے بڑا مسئلہ اچھے پڑھے لکھے اور تجربہ کار سائنسدانوں، انجینئروں اور ٹیکنیشنز کا فقدان تھا۔ کام چونکہ بہت اہم اور حساس تھا اسلئے کسی غیر ملکی کو نہ ہی ملازم رکھا جا سکتا تھا اور نہ ہی اس کو اسکی بھنک لگنے کی اِجازت تھی۔ مجھے یہاں فوراً ہی احساس ہو اکہ سائنسدان اور انجینئرز ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے اور ایک کو دوسرے سے کم تر سمجھتے تھے۔ ایک نہایت ہی تعجب خیز یہ بات تھی کہ وہ لوگ جن کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگری نہ تھی وہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری والوں کو احمق، نااہل اور صرف آرام کرسی والے سائنسدان اور کتابوں اور دو چار مضامین رسالوں میں چھپوانے اور خوابی دنیا میں اُڑنے والا تصور کرتے تھے۔ میرے پاس ایسے دو انجینئر تھے ایک مرحوم کرنل قاضی رشید علی اور دوسرے مرحوم اعجاز احمد کھوکھر ۔ اللہ بخشے دونوں اعلیٰ پایہ کے انجینئر تھے اور دونوں نے کہوٹہ پروجیکٹ میں ناقابل بیان اور انمول رول ادا کئے تھے، دونوں میکانیکل انجینئر تھے اور اللہ تعالیٰ نے دونوں کو بہت اعلیٰ عقل و فہم سے نوازا تھا۔ میری ڈاکٹریٹ کی ڈگری پر اُنھیں قطعی اعتراض نہ تھا چونکہ میری ڈاکٹریٹ کی ڈگری انجینئرنگ میں تھی اور میں اپنے عملی تجربہ، سمجھ بوجھ سے ان کو بہ آسانی قائل و مرعوب کرلیتا تھا۔ میں ان کو سمجھاتا تھا کہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لئے عموماً تین، چار سال سخت محنت کرنا پڑتی ہے اور انسان اگر عقل وفہم سے کام لے تو بہت کچھ سیکھ لیتا ہے مگر واقعی عملاً یہ ہوتا ہے کہ اکثریت کوئی قابل عمل اہم چیزیں نہیں سیکھتے اور زندگی میں کوئی نمایاں کارنامہ انجام نہیں دے پاتے۔ کرنل قاضی، کھوکھر بغیر ڈاکٹریٹ کے لاتعداد ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والوں سے ہزار درجہ بہتر تھے۔ مگر یہ استثنا تھی اور اسے عام اصول کے طور پر قبول کرنا غلط ہوگا۔

    دیکھئے میں دراصل کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ آجکل ہمارے ملک میں جو جعلی ڈگریوں کا طوفان آیا ہوا ہے اور لاتعداد اہل اقتدار یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈگری کا کوئی فائدہ نہیں اور ڈگری ہونے یا نہ ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ میں یہ قبول کرنے کو تیار ہوں کہ چند لوگ بغیر ڈگری کے بھی اچھی عقل و فہم کے مالک ہوتے ہیں اور تاریخ میں ایسے لاتعداد غیر معمولی لوگ گزرے ہیں مگر یہ آٹے میں نمک کے برابر ہوا ہے۔ آئیے آپ کو چند دلچسپ واقعات سناؤں۔

    (۱) افلاطون شہزادوں کو تعلیم دیتا تھا جو انتہائی غبی اور کند ذہن تھے۔ ارسطو ایک ادنیٰ غلام چھپ چھپ کر یہ باتیں سنتا تھا اور یہ باتیں بہ آسانی سمجھ لیتا تھا اور یاد کرلیتا تھا۔ افلاطون کے سوالات پر شہزادے چپ رہے اور ارسطو نے نہایت بلاغت سے جوابات دیدیے۔ افلاطون بے حد خوش ہوا اور ارسطو کو اپنا شاگرد بنالیا اور تاریخ میں آج بھی اس کا نام زندہ جاوید ہے۔ یہ علم و ذہانت ارسطو کے لئے قدرت کا عطیہ تھا۔

    (۲) تقریباً تین ہزار سال پیشتر ہندوستان میں ایک نہایت قابل ، عالم راجکماری تھی اسنے پنڈتوں کو مقابلہ کے لیئے چیلنج کیا تھا اور کوئی عالم پنڈت اسکے سامنے ٹِک نہ سکا۔ پنڈتوں نے مل کر سازش کی کہ مغرور راجکماری کو کسی جاہل سے شکست دلواکر شرط کے مطابق اس کی شادی کرادی جائے۔ اُنھوں نے تلاش شروع کی اور ان کوجنگل میں ایک بیوقوف نظر آیا جو اس شاخ کو ہی کاٹ رہا تھا جس پر وہ بیٹھا تھا، پنڈت بہت خوش ہوئے کہ صحیح امیدوار مل گیا، اس کو خوب کھلایا پلایا اور سمجھا بجھا یا کہ وہ شہزادی کے ہر سوال پر خاموش رہے اور صرف چند اشارے کر دے باقی وہ سنبھال لینگے اور اسکی شادی راجکماری سے ہوجائے گی۔ وہ بہت خوش ہوگیا اور ان کے ساتھ چل پڑا۔ پنڈتوں نے راجکماری کو اطلاع دی کہ ایک بہت بڑے پنڈت آئے ہیں مگر ان کا مون برت (خاموش رہنے کا روزہ) ہے اور وہ ہر جواب اشاروں سے دینگے۔ غرض کہ مقابلہ شروع ہوا، راجکماری نے سوالات کئے اور جاہل گنوار نے اُلٹے سیدھے اشارے کئے اور تمام پنڈتوں نے بڑے اونچے مطلب بیان کئے، ایک طرف راجکماری تنہا اور دوسری طرف پنڈتوں کا مشترکہ گروہ، غرض راجکماری لاجواب ہوگئی اور شرط کے مطابق اس جاہل سے شادی کرنا پڑی۔ پہلی ہی رات کو جب وہ راجکماری کے ساتھ تھا تو کہیں سے اونٹ کے چلانے کی آواز آئی۔ راجکماری نے پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے وہ جاہل فوراً بول پڑا ”اُوٹر بول رہا ہے“، راجکماری گبھرائی اور پھر پوچھا اس نے پھر وہی جواب دیا، سنسکرت میں اونٹ کو اُشٹر کہتے ہیں جاہل لوگ اوٹر بولتے تھے، راجکماری کو غصّہ آگیا اور جاہل کو فوراً باہر نکال دیا۔ ان پڑھ گنوار کے دل کو یہ بات لگ گئی اور وہ جگہ جگہ علم حاصل کرتے کرتے اپنے وقت کا سب سے بڑا عالم کالیداس بن گیا جس کی بین الاقوامی شہرت آج بھی ہے اور اسکی کتابوں کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ مگر یہ انتھک محنت و کوشش کا نتیجہ تھا، صرف ان پڑھ رہ کر جعلی ڈگریوں سے یہ کام ناممکن تھا۔

    (۳) شیخ سعدی نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ مصر میں ایک بھکاری تھا جو ہمیشہ خاموش رہتا تھا اور قریب و دور دراز علاقوں سے عالم و دانشور اس کے گرد اس طرح گھیرا ڈالتے تھے جس طرح پروانے چراغ کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ ایک روز اس کو یہ وہم ہوا کہ اسکی عقل و فہم ایک خاموش زبان کے پیچھے دبی ہوئی ہے اور اگر وہ بات چیت نہ کرے گا تو لوگ کس طرح اس کی ذہانت سے واقف ہونگے۔ بس اس نے بولنا (بکواس) شروع کردیا اور تمام لوگوں کو فوراً یہ علم ہو گیا کہ وہ نہایت جاہل و بیوقوف شخص تھا ، سب اس کو چھوڑ گئے۔ اس نے وہاں سے نکل جانا ہی مناسب سمجھا اور روانگی سے پیشتر مسجد کی دیوار پر یہ لکھ گیا۔ ”اگر میں خود کو عقل و فہم کے آئینہ میں دیکھتا تو میں خود کے چہرہ پر سے پردہ نہیں اُٹھاتا۔ اگرچہ میں بدشکلتھا مگراس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ میں حسین ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ کم گو باعزّت ہوتاہے، خاموشی وقارہے اور عیبوں کی پردہ پوشی کرتی ہے۔ بکواس کرنے والا شخص جانور سے بدتر ہوتا ہے“۔

    ہمارے یہاں دو قسم کے قومی لیڈر اور ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ کچھ تو صحیح ڈگریوں کے حامل ہیں اور کچھ نے چند ہزار روپیہ دے کر جعلی ڈگریاں حاصل کرلی ہیں ۔ اس طبقہ میں بھی دو قسم کے افراد شامل ہیں ، ایک سمجھدار طبقہ ہے جو اپنی کمزوری سے واقف ہے اور زبان بند رکھ کر سمجھداری کا ثبوت دیتا ہے دوسرا طبقہ وہ ہے جس کا منھ بہت بڑا ہے اور ابتدا کے کالی داس اورمصر کے بھکاری کی طرح بے سوچے سمجھے، موقع بے موقع اپنی ذہانت جتانے کے لئے بکواس شروع کرتے ہیں اور عوام کے سامنے اپنی پول کھولدیتے ہیں۔ بہرحال عوام تو بے چارے یہ سب کچھ جانتے ہیں مگر مجبور ہیں اور زبان کھولنے سے قاصر ہیں۔ کچھ کہیں گے تو چھترول کا شکار ہو جائنیگے۔

    دیکھئے عام سمجھ بوجھ کی بات یہ ہے جاہل، تعلیمیافتہ اسی طرح برابر نہیں ہوسکتے جسطرح اَندھا اور آنکھوں والا۔ اس سلسلہ میں آپ کی خدمت میں فرمودات الہٰی پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ”آپ (محمد) کہدیجئے کہ کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو (کچھ بھی) نہیں جانتے برابر ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو سمجھدار ہیں “ (سورة زمر آیت ۹)۔ ”آپ (محمد) کہدیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں تو کیا تم اتنا بھی غور نہیں کرتے“ (سورة انعام۔ آیت ۵۰)۔ ”سو اے آنکھیں رکھنے والو! دنیا کے حالات سے عبرت حاصل کرو “ (سورة حشر آیت ۲) ۔ دیکھئے حقیقت یہ ہے اللہ تعالیٰ نے بعض انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت دی ہے۔ ہر علم والے سے بڑھ کر ایک دوسرا صاحب علم ہے۔ لیکن نہایت شرمناک اور بے غیرتی کی بات دروغ گوئی ہے اور وہ بھی جب کہ آپ عوامی نمائندہ ہوں اور آپ سے ایک مثالی کردار کی توقع رکھی جائے۔ آپ اَن پڑھ ہوں کم علم ہوں مگر ہر دلعزیز ہوں عوام آپ سے محبت کرتے ہوں تو پھر آپ کو جھوٹ بولنا زیب نہیں دیتا۔ اللہ رب العزّت نے جھوٹوں پر لعنت بھیجی ہے اور سخت عتاب کا وعدہ کیا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ دولت تو چرائی جاسکتی ہے مگر تعلیم اور علم کو کوئی نہیں چرا سکتا، آفرین ہے اس قوم پر کہ اس نے تعلیم بھی چرائی اور اس خوش فہمی اور خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ جعلی ڈگریوں کی مدد سے وہ صاحب علم اور دانشور ہو گئے ہیں۔

     

     

     

                         

               

    شرم تم کو مگر نہیں آتی....سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   8/23/2010

    آہستہ آہستہ ہم اپنی تاریخ اور ثقافت سے بے بہرہ ہوتے جا رہے ہیں اور نوجوان نسل کو تو ہمارے قیمتی ثقافتی ورثہ کا اب بہت ہی کم علم ہے مگر غالب (اَسد اللہ خان) اور اقبال (علّامہ سر شیخ محمد اقبال) دو ایسی ہستیاں ہیں کہ اردو ادب سے نابلد طبقہ بھی ان کے ناموں سے واقف ہے اور عزّت و احترام سے ان کو یاد کرتا ہے۔ غالب نثر و غزل کے بادشاہ تھے۔ 1857کی جدوجہد آزادی میں ناکامی کے بعد انگریزوں نے ہندوستانیوں، خاص طور پر مسلمانوں پر بے حد مظالم ڈھائے اور ان کا قتل عام کیا، نہ صرف بہادر شاہ ظفر مغل بادشاہ اور ان کی بیگم کو رنگون میں جلاوطن کرکے قید کر دیا بلکہ ان کے دو جواں بیٹوں کو قتل کرکے، ان کے سر کاٹ کر ناشتہ کی ٹرے میں رکھ کر ضعیف بادشاہ کو پیش کیا (یہ خود کو مہذب کہنے والی انگریز قوم نے کیا تھا) اور مرزا غالب# کی پنشن بند کر دی گئی اور وہ فاقہ کشی پرمجبور ہو گئے۔ دہلی سے کلکتہ کے چکر لگا لگا کر تھک گئے مگر پنشن بحال نہیں ہوئی، بیگم بھوپال سکندر جہاں بیگم نے غالب سے درخواست کی کہ وہ بھوپال میں بطور سرکاری مہمان قیام کریں مگر ان کی غیرت نے یہ گوارہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ اپنے پرانے ساتھیوں و دوستوں کوچھوڑنے پر تیار ہوئے، بیگم بھوپال نے ان کا کچھ وظیفہ مقرر کردیا تھا۔

    مرزا غالب نے خود کو مخاطب کرکے کہا تھا:

    کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب#

    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    کسر نفسی مرزا غالب کی فطرت میں تھی اور بے شمار اشعار میں اُنھوں نے اپنے آپ کو حقیر اور ناچیز کہا ہے جبکہ ان کی عظمت مسلمہ ہے اور بڑے بڑے علماء نے ان کی قابلیت اور ہما دانی کو سراہا ہے جن میں حالی اور علّامہ اقبال سرفہرست ہیں۔ غالب# نے اپنی کسر نفسی کا بلا جھجک اظہار ایک اور شعر میں یوں کیاہے۔

    طرز بیدل# میں ریختہ لکھنا

    اَسد اللہ خان قیامت ہے

    اس طرح آپ نے بیدل# کے آگے اپنی کمتری کو بیان کرنے اور قبول کرنے میں زرا بھی شرم و جھجک محسوس نہیں کی۔ اسی طرح ایک اور شعر میں ان کی کسر نفسی ملاحظہ فرمائیے۔

    ہم کہاں کے دانا تھے کس ہُنر میں یکتا تھے

    بے سبب ہوا غالب# دُشمن آسمان اپنا

    ایک دانش اور علم و فن کا ماہر کسرِنفسی سے خود کو نہ تو دانا سمجھتا ہے اور نہ ہی ہنر مند۔ مرزا غالب# نے کسی اور کو بے شرمی کا مرتکب نہیں بلکہ خود کو بتلایا ہے۔ ہمارے ملک میں حقیقت اس کے برعکس ہے اور عیوب کے علاوہ غیرت، حمیت اور شرم نام کی کسی چیز سے ہمارے بیشتر رہنماؤں کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ اخلاقی اور قانونی مجرموں کو بُرا سمجھنے کے بجائے انھیں معتبر اور معزز سمجھا جاتا ہے ۔ ایسے بے شرم مجرموں کی پارٹیاں اور ان کے سربراہ اشخاص انھیں نہ صرف اعلیٰ عہدے دیتے ہیں بلکہ کھلم کھلا ان کی تعریف میں رَطب اللسّانی کرتے ہیں۔ یہ ہماری بے شرمی، بے غیرتی اور اخلاقی پستی اور قانون کی بے حرمتی کی بیّن مثالیں ہیں۔ مُجرم بجائے نادم ہونے کے فخریہ سینہ تانے عہدوں پر فائز رہ کر اور نہایت قیمتی بڑی بڑی گاڑیوں میں عوام کے سامنے سے گزر کر ان کے سینہ پر مونگ دلتے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دور فرعون ہے اور اس کے اہلکار اس طرح دندناتے پھر رہے ہیں جیسے ان پر سات خون معاف ہوں۔ لیکن عوام اب سمجھدار ہو گئے ہیں اور ان کے تاثرات ہوامیں نہیں اُڑ جاتے بلکہ آتش # لکھنوی کے اس مشہور شعر کی شکل میں بولتے ہیں

    سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا افسانہ کیا

    کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا

    یہی بات اُستاد ذوق سے معذرت کیساتھ میں یوں کہتا ہوں

    بُرا کہے جسے عالم اُسے بُرا سمجھو

    زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو!

    کاش ان اشعار پر تمام مقتدر اشخاص غور کریں۔ بدعنوانیوں میں سرکاری رقوم کا خردبرد، رشوت ستانی، غبن، اقربا پروری، سفارش اپنی جگہ لیکن اور نہایت سنگین بدعنوانی اور اخلاقی اور قانونی جُرم جو موجودہ دور میں سامنے آیا ہے وہ جعلی ڈگریوں کا استعمال ہے۔ نااہل اشخاص نے جھوٹ بول کر اور تحریری طور پر فراڈ کرکے خود کو اسمبلیوں کا ممبر بنوالیا اور اعلیٰ عہدوں پر قابض ہوگئے۔ آپ خود ہی سوچئے کہ جو شخص اخلاقی طور پر اتنا پست ہو کہ جعلسازی کرنے سے نہیں جھجکتا وہ دنیاوی معاملات میں طاقت کے نشہ میں کیا کچھ نہیں کرے گا۔

    نشہ دولت کا بد اطوار کو جس آن چڑھا

    سرپہ شیطان کے اک اور بھی شیطان چڑھا

    ایک اور شعر ایسے لوگوں کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

    منھ سے بس کرتے کبھی یہ نہ خدا کے بندے

    گر حریصوں کو خدا ساری خدائی دیتا

    اس ملک کی بد قسمتی یہ ہے اور آفرین ہے ان لوگوں کی پارٹیوں اور پارٹی کے عہدیداروں پر جو ان کی پشت پناہی ہی نہیں بلکہ ان کو باربار اعلیٰ عہدے پیش کرکے جعلسازی کوہنر اور قابلیت کی سند دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ کچھ بھی کرلیں، کتنی ہی عیاری اور مکاری سے کام لے کر کسی مسند پر جا بیٹھیں، عوام کی نگاہ میں ان کا رتبہ بلند نہیں ہوتا بلکہ اگر عوام منھ پر نہ کہیں تو بھی اپنے دوست و اقربا کے سامنے اپنے تاثرات بیان کرنے سے نہیں جھجکتے اور ایسی باتیں ان جعلسازوں اور بے ضمیر اشخاص تک پہونچ ہی جاتی ہیں۔

    دُنیا میں کمینہ کو شرافت نہیں ملتی

    دولت بھی لٹا دے تو یہ دولت نہیں ملتی

    آپ ذرا غور سے دوبارہ غالب# کا یہ مصرع پڑہئے

    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    تمام وزن ”مگر“ پر ہے یعنی تم اتنے بے حس، بے غیرت، بے شرم ہوگئے ہو کہ تمام جعلسازی، دروغ گوئی اور دھوکہ دہی کے باوجود نہ تم کو شرم آتی ہے اور نہ تم اپنے کئے پر نادم ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت بھیجی ہے اور ان کے لئے دوزخ کا مستقل ٹھکانہ رکھا ہے۔ آپ کو علم ہے کہ ماضی قریب میں صدر نکسن کو اس وجہ سے صدارت چھوڑنا پڑی تھی اور ذلّت اُٹھانی پڑی تھی کہ اُنھوں نے صرف جھوٹ بول دیا تھا کہ واٹر گیٹ ہوٹل میں نقب زنی سے وہ لاعلم تھے حالانکہ ان کو اس کا علم تھا (یہ مشیروں کی ہی کارکردگی تھی) اور صدر کلنٹن بھی اسی جھوٹ کی وجہ سے اپنی قابل رشک ہر دلعزیزی کھو بیٹھے کہ اُنھوں نے جھوٹ بول دیا تھاکہ وہ مونیکا سے ناواقف تھے اور اس سے کسی قسم کے تعلقات نہ تھے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ اگر وہ یہ کہدیتے کہ ہاں وہ مونیکاکو جانتے ہیں اور تھوڑا ہنسی مذاق و شرارت کرلیتے تھے تو یہ برا نہ مانا جاتا کہ مغربی تہذیت میں یہ بات اتنی بُری نہیں مانی جاتی مگر جھوٹ بولنا ناقابل قبول جرم ہے۔ ہمارے یہاں جھوٹ بولنے اور جعلسازی کو ہنسی مذاق میں اُڑا دیا جاتا ہے۔

    پچھلے ماہ ٹی وی پر اور اخبارات میں یہ خبر سامنے آئی کہ سعودی عرب میں ایک خاتون کو جعلی ڈگری پیش کرنے پر نہ صرف ملازمت سے برطرف کیا گیا بلکہ اس کو تازیانے لگا کر جیل بھیجدیا گیا۔ یہ ناپسندیدہ عمل ہمارے ملک کے اصحاب اقتدار نے بھی ضرور دیکھا ہوگا لیکن ان کے کانوں پر جوں نہ رینگی اور کوئی تبصرہ، نہ عملِ احتساب سامنے آیا۔ بات وہی ہوئی جو میر# نے کہی تھی یعنی۔

    ہم ہوئے، تم ہوئے کہ میر#ہوئے

    اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

    اور یہ زُلف اقتدار کی طلب ہے جو حق بات کہنے سے روکتی ہے۔ یہ لوگ ڈرتے ہیں کہ پارٹی کے بااثر حضرات خفا ہوجائینگے نہ کوئی عہدہ ملے گا نہ عزّت اس لئے خاموشی سے کام لینا عقلمندی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کے رہنماؤں کو کم از کم حق بات کہنے اور حق بات کی طرفداری کرنے کہ ہمّت ہونی چاہئے اور غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل کرنے والوں کو نہ صرف حکومت سے بلکہ پارٹی سے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکالدینا چاہئے۔ ایسے لوگوں میں چونکہ غیرت کا فقدان ہے نہ وہ خود حکومت اور نہ پارٹی سے علحیدگی اختیار کرتے ہیں اور پوری قوم یہ جان لیتی ہے یہ لوگ نہ اپنے جرم پر شرمندہ ہیں اور نہ یہ

    باضمیر ہیں۔ بدقسمتی سے یہ کینسر پوری طرح قوم کے خون میں سرایت کر گیا ہے۔ پوری دنیا میں ہماری ذلّت ہو رہی ہے مگر ہماری غیرت نہیں جاگتی۔ بے چارے عوام کچھ کر نہیں سکتے وہ بے بس اور لاچار تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور ان کی زبان پر فارسی کی یہ ضرب المثل باربار آتی ہے:

    ماراچہ اَزیں قصّہ کہ گاؤ آمد و خر رفت

    یعنی ہمیں اس سے کیا غرض (یعنی کچھ فرق نہیں پڑتا) کہ بیل آیا اور گدھا چلا گیا۔

     

     

     

     

                         

               

    ایک واقعہ ۔ تاریخی نتائج.....سحر ہونے تک …ڈاکٹرعبدالقدیرخان   8/30/2010

    ملک میں سیلاب نے جو تباہی پھیلائی ہے اور عوام جس مصیبت اور تباہی کا شکار ہیں اس سے ہر حساس شہری غم زدہ ہے اور عوام کے چہروں سے مسکراہٹ و خوشی غائب ہو چکی ہے۔ اگر کبھی کسی کے دل میں کوئی مزاحیہ بات آتی ہے تو نہ ہی زبان پر اور نہ ہی چہرے پر اس کا تاثر نظر آتا ہے۔ تما م اخبارات ، ٹی وی، تجزیہ نگار سیلاب اور اسکی تباہی کا ذکر کر رہے ہیں ۔ جی تو میرا بھی چاہتا ہے کہ عوام کی تکالیف اور حکمرانوں کی بے حسی کے بارہ میں لکھوں مگر آپ کا دھیان بٹانے کو چندپچاس سالہ پرانے واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے نہ صرف میری زندگی اور مستقبل بدل دیا بلکہ اس کے نتیجہ میں پاکستان کی تاریخ بھی بدل گئی۔

    آپ نے میری زندگی کے بارہ میں لاتعداد مضامین پڑھے ہیں اور اس کے حالات سے کم و بیش واقف ہیں ۔ آپ کو علم ہے کہ میں ہندوستان کے وسط میں واقع مشہور اسلامی ریا ست بھوپال جنت مقام میں پیدا ہواتھا۔ میٹرک پاس کر کے براستہ کھوکھرا پار کرا چی آ گیا ، وہاں ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور کراچی ایڈمنسٹریشن میں انسپکٹر اوزان و پیمانہ جات ہو گیا۔ یہ اچھی سرکاری نوکری تھی اور خاصی آرام دہ بھی تھی۔ تین سال میں نے یہ ملازمت کی اور والدہ کا خیال تھا کہ چونکہ اب زندگی کا مقصد (یعنی تعلیم اور سرکاری ملازمت ) پورا ہو گیا ہے تو شادی کی بات کی جائے ۔ میں نے ہمیشہ ٹال دیا کہ ابھی مزید تعلیم کا ارادہ ہے۔ میرے کئی ساتھی لندن چلے گئے تھے اور بار بار بلا رہے تھے کہ وہاں جا کر ان کے ساتھ رہوں ، کام کروں اور تعلیم حاصل کروں مگر میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ جرمنی جا کر تعلیم حاصل کروں کیونکہ وہاں کی فنی تعلیم کا معیار بہت اعلیٰ تھا ۔ میں نے تین چار یونیورسٹیوں کا خطوط لکھے اور سب سے مثبت جواب آیا۔ مجھے دو یونیورسٹیاں(برلن اور زاربُرُ کین) پسند آئیں اور میں نے سوچا کہ جرمنی پہنچ کر پوچھ گچھ کر کے فیصلہ کرونگا۔ ان کو میں نے قبولیت کے خطوط لکھ دیے ۔ بعد میں برلن کو ترجیح دی کہ یہ بین الاقوامی حیثیت رکھتی تھی۔

    آپ کو اس وقت کے کچھ حالات بتا نا چاہتا ہوں ۔ اس وقت جرمن سفارت خانہ کلفٹن کے ایک بنگلہ میں تھا میں چند دوستوں کے ساتھ جا کر لٹریچر دیکھا کرتا تھا اور ایک رسالہ جو مفت دستیاب تھا وہ لے آتا تھا ۔ اس میں جرمنی کے بارہ میں انتہائی مفید معلومات تھیں۔ ایک روز سیکریڑی ثقافت نے مجھے دیکھ کر کمرے میں بلا لیا۔ اس کا نام ڈاکٹر شرائٹر ر (Dr. Schreiterer) تھا ۔ بہت خوش اخلاق نوجوان تھے مجھ سے تعلیم کے بارہ میں باتیں کرتے رہے اور کہا کہ انھوں نے خود برلن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور ایک غیر ملکی طالب علم کی حیثیت سے میرے لئے برلن بہت مفید رہے گا۔ انھوں نے میری بے حد ہمت افزائی کی اور کہا کہ مصارف کے بارے میں قطعی فکر نہ کروں ۔ سال میں سات ماہ کی دو ٹرم ہوتی ہیں اور پانچ ماہ فری ہوتے ہیں اور اس دورانیہ میں مجھے اچھی آمدنی کی نوکری مل جایا کرے گی ۔ بس میں نے اللہ کا نام لے کر پاسپورٹ بنوایا ، نوکری سے استعفیٰ دیا۔ 31اگست 1961 کو دوپہر کو چارج دیا اور رات کے دو بجے لُفت ہنسا کے جہاز کے ذریعہ فرانکفرٹ اور وہاں سے ڈسل ڈارف پہنچ گیا۔ یہ دوپہر کا وقت تھا۔ جاتے وقت کراچی کے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے مجھے چند نادر زندہ مینڈک دیدئے کہ وہ فرانکفرٹ ایئر پورٹ پر دیدوں جو وہاں کے چڑیا گھر کے لئے تھے۔ وہ میں نے وہاں دے دیے اور ڈسل ڈارف پہنچ کر چڑیا گھر کے انچارج ایک پروفیسر کو فون کیا تو انھوں نے وصولی کی تصدیق کر دی۔

    ڈسل ڈارف میں اس لئے گیا تھا کہ وہاں مجھے ایک بڑی فیکٹری میں ٹیکنیکل ٹریننگ کی جگہ مل گئی تھی۔ اس وقت یہ لازمی تھا کہ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں پڑھائی شروع کرنے سے پیشتر چھ ماہ کی ٹریننگ لے کر سر ٹیفکیٹ لے کر یونیورسٹی کو دینا ہوتا تھا اور اس دوران غیر ملکی طالب علم کو جرمنی زبان میں خاصی مہارت حاصل کرنا ہوتی تھی۔ ڈسل ڈارف جرمنی کا بہت ہی خوبصورت شہر ہے۔ بڑے بڑے پارک ، دریائے رائن پر واقع ہیں اور بون اور کولون سے قریب ہے اور یہ بہت مہنگا شہر بھی تھا۔ تین دن ایک چھوٹے سے ہوٹل میں رہ کر میں نے ایک بروکر کے ذریعہ کرایہ پرایک کمرہ لے لیا ۔ مالک مکان ایک ضعیف العمرشخص تھے اور ان کا درمیانی عمر کا بیٹا مختلف زبانوں(انگریزی ، پولش، روسی ، فرانسیسی ) کا ماہر تھا ۔ وہ یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ تھا اور سرکاری دستاویزات کا مترجم تھا۔ گھر میں کوئی خاتون نہ تھی کہ بیوی کا انتقال ہو چکا تھا ۔ مجھے وہاں یہ نہایت اہم سہولت ملی کہ بیٹے سے انگریزی میں معلومات حاصل کر لیتا تھا اور والد سے روز جرمن بول بول کر اپنی استعداد بڑھاتا تھا۔ میں نے ایک فیکٹری میں ٹریننگ لینا شروع کر دی جو مرسڈیز ، فولکس واگن اور ہوائی جہازوں کے پرزہ جات بناتی تھی اور گھر کے قریب بھی تھی۔ مجھے انہوں نے کوالٹی کنڑول ڈویژن میں لگا دیا اور تمام لوگ میرا بے حد خیال رکھتے تھے۔ میرا انچارج ویک اینڈیر مجھے گھر بلا کر دعوت کرتا تھا ۔ اسکی کوئی اولاد نہ تھی اور اسکی بیوی بہت محبت کرتی تھی۔ روز شام کو میں جرمن زبان سیکھنے ”عوامی یونیورسٹی“ جاتا تھا جہاں لاتعداد زبانیں سکھائی جاتی تھیں۔ میرا استاد فارسی کا بھی ماہر تھا۔

    کچھ عرصہ بعد مجھے اچانک بے حد تنہائی کا احساس ہونے لگا، گھر والے دوست و احباب یاد آنے لگے اور کراچی سے پرانے ساتھی باربار خطوط بھیجتے کہ میری جگہ اب بھی خالی رکھی ہے اور میں واپس آ جاؤں ۔ زبان سے ناواقفیت اور عزیزوں اور دوستوں کی غیر موجودگی نے میرے اعضا ء کمزور کر دیے اور جونہی سردی کا موسم شروع ہوا تو ڈپریشن نے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ ٹی وی پر انگریزی زبان عنقا تھی اور آجکل کی طرح نہ فون اور نہ ہی موبائل کی سہولت ، مہینہ میں ایک خط ملتا تھا جو بہن لکھا کرتی تھی اور میں ان کو لکھا کرتا تھا۔ میں ہر اتوار کو ریلوے اسٹیشن پر جا کر انگریزی اخبار سنڈے آبزرور لے آتا تھا اور پورے ہفتہ پڑھتا رہتا تھا۔ ایک روز میں نے اس میں ایک اشتہار دیکھا کہ نائیجیریا کی ریاست بینن میں ایک انگریزی زبان گرامر اسکول میں سائنس کے لیکچرار کی ضرورت تھی۔ تنخواہ اچھی تھی، فرنیچر سے آراستہ مفت گھر، ہر سال گھر جانے کی چھٹی اور کرایہ، فوراََ کار خریدنے کا ایڈوانس ۔ میں نے درخواست دے دی اور چند ہی دن میں پیشکش آگئی اور اُنھوں نے ٹکٹ بھی روانہ کر دیا۔ میں دماغی طور پر جانے کے لئے تیار ہو گیا مگر میں نے سوچا کہ پہلے برلن جا کر یونیورسٹی دیکھ لوں اور غیرملکی طلباء کے محکمہ کے انچارج پروفیسر اشٹارک(H.Stark)سے ضرو ر مل لوں کیونکہ وہ بے حد مخلص تھے اور میں نے تمام خط و کتابت ان ہی سے کی تھی۔ میں برلن گیا مگر بد قسمتی سے وہ جرمنی سے باہر گئے ہوتے تھے۔ میں ان کے نام ایک خط چھوڑ آیا، معذرت کی کہ میں یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکوں گا اور نائیجیر یا کا ارادہ ہے۔ تیسرے دن ان کا ارجنٹ خط ملا کہ وہ دو دن بعد پیرس جا رہے ہیں اور بون ۔کولون ائیر پورٹ پر چند گھنٹے قیام کریں گے اور میں ضرور ان سے ملوں۔ میں وقت مقررہ پر وہاں پہنچ گیا اور لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کروا دیا تو وہ فوراََ آگئے۔ درمیانہ قد، سنہرے بال، روشن چہرہ ۔ مجھے ریسٹورنٹ لے گئے ، کافی کا آرڈر کیا اور میری پوری روئداد سنی۔ وہ ریاضی کے پروفیسر بھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے نہات دلیری اور مصمم ارادہ کا اظہار کیا ہے ، مشکل حالات میں جرمنی آیا ہوں ، جرمن سیکھ لی اور اس وقت ہتھیار ڈالنا مناسب نہیں ہے اُن کے الفاظ کہ ” خان تم ایک ٹیچر بننے جا رہے ہو، پوری زندگی ٹیچر رہ کر مر جاؤ گے اور اپنی زندگی کا مقصد حاصل نہ کر سکو گے اور زندگی بھر خود کو معاف نہ کر و گے۔“(جاری ہے)

     

     

                         

               

    ایک واقعہ ۔ تاریخی نتائج.....سحر ہونے تک …ڈاکٹرعبدالقدیرخان..... (گزشتہ سے پیوستہ)   8/31/2010

    میرے کانو ں میں آج بھی وہ الفاظ گونج رہے ہیں ، ان کی بات دل میں تیر کی طرح لگی اور میں نے کہا کہ میں نائیجیر یا نہیں جاؤں گا اور تین ماہ بعد برلن آجا ؤں گا، میں نے دوسرے دن نائیجیریا سے آیا ہوا جہاز کا ٹکٹ واپس کر دیا ، ان سے بہت معذرت کی کہ تعلیم جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے برا نہیں مانا اور میرے لئے کامیابی کی خواہشات کا اظہار کیا۔ اپریل کے اواخر میں میں برلن چلا گیا اور تعلیم شروع کر دی اور وہاں تمام تنہائی اور پریشانی دور ہو گئی کہ ہوسٹل میں لاتعداد غیر ملکی طلباء (ایرانی، ترکی، ہندوستانی، عراقی، شامی وغیرہ) تھے۔ ہندوستانی طلباء کی تعداد تقریباََ اسّی تھی جبکہ پاکستانی صرف ایک طالبعلم اختر علی تھے جو الیکٹرانک میں سینئر اسٹوڈنٹ تھے۔ وہ بہت ذہین تھے اور ان کے بارہ میں پروفیسر اشٹارک نے مجھے بتلا دیا تھا۔ ہم بہت اچھے دوست بن گئے اور یہ دوستی اب پچاس سال سے قائم ہے۔ وہ کیلیفورنیا میں اب آرام کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ برلن جانے سے پیشتر میں نے سوچا کہ ہالینڈ کے شہر ہیگ کی سیر کروں جو خوبصورتی کی وجہ سے بہت مشہور تھا ۔ وہاں خوش قسمتی سے میری ملاقات اپنی موجودہ بیگم سے ہو گئی اور جب میں برلن چلا گیا تو چند ماہ بعد وہ بھی برلن آگئیں ، کیونکہ ان کو انگریزی (اور جرمن، ڈچ) پر مہارت حاصل ہے ان کو فوراََ ہی امریکی افواج کے ہیڈ کوارٹر میں اچھی ملازمت مل گئی ۔ وہ شام کو ہوسٹل آ جاتی تھیں اور اختر ، ان کی دوست اور ہم دونوں اکثر پاکستانی کھانوں کی دعوت کرتے تھے۔چند ماہ بعد ہوسٹل میں ہی ہم نے منگنی کی رسم ادا کی اور تمام طلباء نے شرکت کی۔

    کرسمس کی چھٹی پر ہم ہالینڈ گئے، وہاں بیگم نے اظہار کیا کہ کیا میں ڈیلفٹ کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی میں تعلیم جاری رکھنا پسند کروں گا، مجھے اعتراض نہ تھا ۔ میں میٹالرجی کے محکمہ کر سربراہ سے ملا اور انھوں نے فوراََ قبول کر لیا اور کہا کہ برلن میں جومضامین میں نے پڑھ لئے ہیں اس سے مجھے اسثنیٰ مل جائے گی اور وقت ضائع نہ ہو گا۔ برلن جا کر میں نے پروفیسر اشٹارک سے مشورہ کیا ، انھوں نے کہا کہ وہ ڈیلفٹ کی یونیورسٹی سے پوری طرح واقف ہیں اور اکثر وہاں آتے جاتے رہتے ہیں ، بہت ہی اعلیٰ یونیورسٹی ہے وہ خوش ہونگے کہ میں اپنی تعلیم جاری رکھونگا اور اُنھوں نے کامیابی کی خواہشات کا اظہار کیا اور وہاں کی تعلیم کے متعلق سر ٹیفکیٹ دے دیا۔ اس طرح اکتوبر 1963میں ہم ہالینڈ چلے گئے اور میں نے ڈیلفٹ کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ۔ وہاں میں نے 1967میں امتیازی نمبرات سے ماسٹر آف انجینئرنگ کی، ایک سال مشہور پروفیسر برگرز کا اسسٹنٹ رہا ، پھر بلجیم کی لیوون یونیورسٹی کی فیلو شپ قبول کر کے وہاں سے 1972کے شروع میں ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرلی۔ اس دوران کئی ممالک سے اچھی نوکریوں کی پیشکش آئیں مگر اپنی بیگم کے ضعیف والدین کی وجہ سے ہم نے امسٹراڈیم میں ملازمت قبول کر لی جو خوش قسمتی سے یورینیم کی افزودگی سے متعلق تھی۔ باقی تمام واقعات کا آپ کو علم ہی ہے۔

    برلن جانا ، پروفیسر اشٹارک سے مشورہ اور نصیحت پر نائیجیر یا جانے کا ارادہ ترک کرنا اور برلن جانا اور ڈچ خاتون سے ملا قات اور شادی ایسے واقعات تھے جن کے بے حد دور رس نتائج نکلے ۔ میری اپنی زند گی ، مستقبل بدل گئے اور اس کے نتیجہ میں پاکستان پہلا اسلامی اور ساتواں ایٹمی قوت بن گیا۔ یہ ہے قدرت کی تدبیر اور نظام ۔

    آخر میں اپنی کتاب ”سحر ہونے تک “کے متعلق بات کرنا چاہوں گا ،جس میں بہت سی معلومات کالموں کی صورت میں محفوظ ہے۔ وہ لوگ جو مجھ سے رابطہ کرکے پوچھتے ہیں کہ کتاب کہاں سے دستیاب ہوگی،ان کی آسانی کے لیے پتہ اورفون نمبر لکھ رہا ہوں۔ نگارشات ۔16مزنگ روڈ، لاہور۔ نمبر042-7322892۔ امیدکرتا ہوں کہ یہ کتاب آپ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

     

     

     

                         

               

    اُمید و نا امیدی ......سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   9/6/2010

    پچھلے تباہ کن زلزلے کے بعد اب اس سیلاب نے ملک و قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کا اندازہ اور صحیح کیفیت وہی لوگ بیان کر سکتے جو اس کا شکار ہیں، جو ہر طرف سے پانی سے گھرے ہوئے ہیں، جن کے عزیز و اقارب اور مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں، جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں جن کے پاس تن چھپانے کے لئے نہ کپڑے ہیں اور نہ ہی کھانے کو اشیاء ۔ کھلے آسمان کے نیچے موسلادھار بارش کا شکار ہیں۔ سیاست دان اور حکمران طبقہ سیاست چمکانے میں لگ گئے ہیں ۔ ہیلی کاپٹر میں ایک گھنٹے کا چکر لگایا ، کچھ میٹھی باتیں کیں ، جھوٹے وعدے کئے اور واپس محلات میں بیٹھ کر ہنسی مذاق شروع کر دیا اور سیاسی سازشیں اور گٹھ جوڑ میں مشغول ہو گئے۔

    سیلا ب سے متاثرہ عوام بے چارے اس اُمید پر زندہ ہیں کہ شاید مغربی ممالک کی جانب سے دی گئی امداد کے ذرات ان تک پہنچ جائیں مگر اس کی اُمید کم ہی ہے۔ 70ء کے اوائل میں جو ہولناک زلزلہ آیاتھا اس کے لئے اربوں روپیہ کی بیرونی مدد ملی تھی ، آجتک اس کی تفصیل کسی کے پاس نہیں ہے۔ پھر کشمیر میں آئے ہوئے زلزلہ نے ناقابل بیان جانی و مالی نقصان پہنچایا اور بیرونی ممالک نے اربوں روپیہ کی امداد دی ۔ میرے دریافت کرنے پر کشمیریوں نے بتایا کہ ان کو تھوڑی تھوڑی سی رقم دے کر ٹرخا دیا گیا۔ ان متاثرہ لوگوں نے بتلایا کہ اللہ پر توکل کئے بیٹھے ہیں اُسی سے اُمید لگائے بیٹھے ہیں ، وہی مدد کرے گا۔ ہمارے یہاں قابل تحسین (اور عجیب ) بات یہ ہے کہ غریب عوام اللہ پر اُمید لگائے رہتے ہیں کہ وہی مدد کرے گا جبکہ سیاست دان اور حکمران طبقہ ”اپنی عقل و فہم و ہنرمندی“ تکیہ کر کے دنیاوی عیش و عشرت کے مز ے اُڑاتا رہتا ہے۔

    دیکھئے کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ جس طرح انسانی فطرت میں رنج و غم ، ہنسنا رونا، ناراضگی اور غصہ شامل ہیں اسی طرح اُمید اور نا اُمیدی بھی انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔ ہر ذی ہوش کو اس کا احساس ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت سے زیادہ کون انسانی فطرت سے واقف ہے اس نے انسان کو ناشکرا، جلد باز ، جھگڑالو جیسے القاب سے یاد فرمایا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انسان پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا ہے کہ انسان جب مصیبت و پریشانی اور ناامیدی کا شکار ہوتا ہے تو اُٹھتے بیٹھتے ، لیٹے ہوئے ، چلتے پھرتے اس کو یاد کرتا ہے مگر جونہی اللہ تعالیٰ یہ مصیبت دور کر دیتا ہے تو ایسا اکڑ کے اور بے پروا ہو کر چلنے پھرنے لگتا ہے جیسے اس کو کبھی کوئی تکلیف ہی نہیں ہوئی تھی۔ دعا نہ مانگی تھی اور مایوس و ناامید نہیں ہو ا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں زندگی کے ہر پہلو پر ہدایات دی ہیں وہیں مومن کو نااُمید نہ ہونے کا درس بھی دیا ہے۔ سورة حِجر(آیت 55-56) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:”وہ (فرشتے بولے) آپ کو امر واقعی کی بشارت دیتے ہیں سو آپ نا اُمید نہ ہوں۔“ ابراہیم نے فرمایا کہ اپنے پروردگار کی رحمت سے بجز گمراہوں کے نا اُمید ہوتا ہی کون ہے؟“ یہ حقیقت ہے کہ صاحب ایمان کبھی نا اُمید نہیں ہوتا، صرف گمراہ و گنہگار ہی نا اُمید ہوتے ہیں۔ یہ نا اُمیدی غم و فکر کی انتہا میں خود کشی تک گنا ہ کا مرتکب کر دیتی ہے مگر یہ نا قابل معافی گناہ صرف وہی کر سکتا ہے جس کا ایمان کمزور ہو اور جس کو اللہ کی رحمت پر بھروسہ نہیں ۔ علماء اور شعر ا ء بھی اس کی تعلیم دیتے آئے ہیں ۔ فارسی کا ایک شعر ہے:

    مشکلے نیست کہ آساں نہ شود

    مرد باید کہ ہراساں نہ شود

    اس شعر کا ترجمہ اُردو کے شاعر نے یوں خوبصورتی سے بیان کر دیا ہے:

    آدمی وہ ہے جو مصیبت سے پریشان نہ ہو

    کوئی مشکل نہیں ایسی کہ جو آسان نہ ہو

    شکیل بدایونی نے ایک فلمی نغمہ میں یہی بات یوں کہی تھی

    اے دل تجھے قسم ہے تو ہمت نہ ہارنا

    دن زندگی کے جیسے بھی گزریں گزارنا

    بچپن میں اُردو کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی جو اخلاقی نصیحت پر مبنی تھی ۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ ایک بادشاہ کو اپنے طاقتور دشمن سے آٹھ بار شکست ہوئی اس کے ساتھی اور وہ مایوس ایک غار میں پناہ لئے ہوئے تھے کہ جنگ کرنا بیکار ہے۔اس نے دیکھا کہ ایک مکڑی بار بار اوپر سے نیچے گر رہی تھی مگر اپنے جالے کے سہارے اوپر چڑھتی تھی ۔ آخر میں اس کی کوشش کامیاب ہو گئی۔ بادشاہ نے سوچا کہ اتنا چھوٹا کمزور کیڑا ناکامی سے مایوس نہیں ہوا اور ہمت نہیں ہاری اور میں ہوں کہ ہمت ہار بیٹھا ہوں ۔ اس نے دوبارہ دشمن سے مقابلے کا قصد کیا ، پور ی تیاری کی ، پُرانی کمزوریاں دور کیں اور دشمن کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا ۔

    ہمارے سامنے نہایت اہم مثال سلطان شہاب الدین غوری کی ہے (جن کا مزار سوہاوہ کے قریب دمیک کے مقام پر میں نے تعمیرکیا ہے )غور سے ہندوستان آ کر پر تھوی راج چوہان پر جو اجمیر اور دہلی کا بادشاہ تھا حملہ کیا کہ اس نے اجمیر میں مسلمانوں پر مظالم ڈھانا شروع کر دئیے تھے ۔ غوری کو اس جنگ میں شکست ہوئی ، لاتعداد ساتھی مارے گئے اور بہت سے میدان جنگ سے فرار ہو گئے ، زخمی غوری کو ایک نوجوان میدان جنگ سے بچا کر لے گیا ۔ غوری نے بھگوڑے افسران کو سخت سزائیں دیں مگر پھر خواب میں حضرت معین الدین چشتی کی ہدایت پر معاف کر کے دوبارہ تیاری کی اور ایک سال بعد ہی بارہ ہزار فوج سے ایک لاکھ سے زیادہ فوج کو شکست دی اور پرتھوی راج اور لاتعداد راجے مہاراجے مارے گئے ۔ اس طرح غوری ہندوستان میں اسلامی حکومت کا بانی ہو گیا اور یہ سلسلہ 1857میں مغلیہ حکومت کے خاتمے پر ختم ہو ا۔ اگر شہاب الدین غوری اُمید کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتا اور دوبارہ حملہ نہ کرتا تو تقریباََ ساڑھے آٹھ سو سال تک برصغیر میں اسلامی حکومت قائم نہ ہوتی۔

    آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو دیکھئے اُمید کے سہارے کسطرح لوگوں نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ قیصر روم کا گال کے خلاف ہاری جنگ جیتنا، روسیوں کا نازی جرمنی کے خلاف اُمید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا اور تین سال کے محاصرہ کے بعد بھی لینن کر اڈ کے لوگ نا اُمید نہیں ہوئے اور آخر کا ر فتح نے ان کے قدم چومے ، اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں مغربی و یورپی ممالک خاص طور پر انگریزوں کا پُرامید رہنا کہ آخر فتح ان ہی کی ہو گی اور آخر کار فتح یاب ہونا۔ اسی طرح ہمایوں کی بارہ تیرہ سال کے بعد دوبارہ کوشش اور کامیابی حاصل کرنا۔ ذرا بابر کی سوانح حیات پڑھئے وہاں بھی اُمید (اور بہادری ) نے اس کو تمام مراحل کو کامیابی سے طے کرنا اور فتحیاب ہونا۔

    اگر ہم خود اپنے ایٹمی پروگرام پر نظر ڈالیں تو علم ہو تا ہے کہ 1976میں سوائے مرحوم بھٹوصاحب ، مرحوم غلام اسحق خان ، مرحوم اے جی این قاضی ، جنرل ضیاء الحق اور میرے اور میری بیگم کے علاوہ کسی فرد کو بھی اس پروگرام کی کامیابی کی اُمید نہ تھی لیکن دیکھئے بفضل خدا ہماری کاوشیں اوراُمیدیں رائیگاں نہیں گئیں اور کامیابی نے ہمارے قدم چومے ۔ حالات ایسے تھے کہ بقول غلام اسحق خان کوئی اور شخص ہوتا تو دستانے پھینک کر بھاگ جاتا مگر میں نے ایک لمحہ بھی اُمید کا دامن نہیں چھوڑا اور کامیابی نصیب ہوئی۔ الحمد للہ اسی طرح لاتعداد افراد نہایت خطرناک مہمات میں بلا خوف و خطر شرکت کرتے ہیں مثلاََ ماؤنٹ ایوریسٹ اور کے۔ ٹو کی چوٹیوں پر چڑھائی، اس میں نہ صرف قوت ارادی بلکہ یہ اُمید کہ وہ ضرور چوٹی سر کر لیں گے کا بہت بڑا دخل ہو تا ہے۔

    اپنے ملک میں درخشاں مثال ہمارے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری اور وکلا ء نے پیش کی ہے۔ دونوں کی قوت ارادی اور اُمید نے ہی ان کو سرخرو کیا ۔ ان سب نے نہ صرف ایک بے ضمیر ڈکٹیٹر کا مقابلہ کیا بلکہ نام نہاد جمہوری حکومت کے عہدیداروں کے طعنے اورمفید مشورے“ سننے کی تکلیف بھی گوارا کی۔ ہر کوئی ایک ہی رٹ لگا رہا تھا کہ اب بحال نہیں ہو سکتے ، اب جان چھوڑ دیں ، ملک پر رحم کریں، استعفیٰ دے دیں۔ مگر انہوں نے اُمید کا دامن نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے بحالی اور عزت عطا فرمائی۔

    دیکھئے حقیقت یہ ہے کہ اُمید پر دُنیا قائم ہے اور ہمارے مذہب میں مایوسی و ناامیدی کو کفر سے مشابہت دی گئی ہے۔ حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو حضرت یوسف کی تلاش پر روانہ کرتے وقت فرمایا تھا۔ ”خدا کی رحمت سے نااُمید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے صرف کافر نا اُمید ہوتے ہیں۔“ (سورة یوسف آیت 87 )

    اس وقت سیلاب کی وجہ سے ملک اور عوام جن مصیبتوں اور مشکلات کے شکار ہیں وہ انشاء اللہ جلد ہی دور ہو جائیں گی۔ ہمیں امید کا دامن نہ چھوڑنا چاہئے۔ اللہ رب العزت انشاء اللہ بہت جلد یہ تکالیف دور فرما دے گا۔ اس نے تو خو د ہی فرمایا ہے۔ ”بیشک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔“ (سورة االم نشرح آیات 5,6)

     

     

     

     

                         

               

    ہمارا مستقبل....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   9/14/2010

    کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں اور نوجوانوں پر منحصر ہوتا ہے اسی لئے لوگ بچّوں کی تعلیم و تربیت پر ، خاص طور پر مغربی ممالک میں ، بہت توّجہ دیتے ہیں۔ ان کو پڑھانے، ہنر سکھانے والے، نہایت قابل، تجربہ کار اور نفسیات انسانی سے واقف ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں ہمارے لیڈر اور حکمراں بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارہ میں باتیں کرتے نہیں تھکتے اور یہ لوگ باربار اس کی اہمیت کی باتیں کرتے ہیں اور والدین اور طلباء کو میٹھی گولیاں دیتے ہیں اور ساتھ میں آہستہ آہستہ زہر ہلاہل پلاتے جاتے ہیں۔ ہمار۱ بہت بڑا قیمتی سرمایہ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد ہے مگر یہ سرمایہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ہمارے لئے ایک مصیبت بن گیا ہے۔ تعلیم کے فقدان اور ملازمتوں کی ناموجودگی کی وجہ سے نوجوان طبقہ راہ راست سے بھٹک کر غلط کاموں میں لگ جاتا ہے اور آسانی سے ملک دشمن عناصر کے لئے آسان شکار بن جاتا ہے۔

    محکمہ تعلیم میں بھی لاتعداد فرضی یعنی گھوسٹ اسکول موجود ہیں ، ہزاروں ناموجود اساتذہ تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ اسکولوں میں مویشی بندھے ہوئے ہیں۔ ظلم یہ ہے کہ حکمران اس لعنت کی سرپرستی کررہے ہیں۔ خالص نتیجہ یہ ہے کہ اس مد میں رکھی ہوئی رقم تو کھا لی جاتی ہے اور تعلیم کے فروغ کے بجائے دن بدن اس کا زوال ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک کی بیشتر آبادی غیر تعلیمیافتہ ہے اور ظاہر ہے کہ وہی بے چارے اپنی اولاد کے لئے اچھی تعلیم اور اچھے مستقبل کا سوچتے ہیں۔ مزدور طبقہ جن کے خاندانوں میں اولاد کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے وہ فوراً اپنے نابالغ اور کم سن بچّوں کو سخت مزدوری کے کاموں میں جھونک دیتے ہیں تاکہ وہ آمدنی کا ذریعہ بن جائیں۔ یہ بچّے عموماً غلط صحبت کا شکار ہو کر بُری عادتوں مثلاً منشیات کا استعمال، جوا کھیلنا، چوری، ڈاکہ زنی کو اپنا لیتے ہیں لیکن غرباء میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو خود غرضی کے بجائے بچّوں کی بہتری اور مستقبل کے بارہ میں سوچ کر ان کو اچھے مدارس میں داخل کرتا ہے۔ پیٹ پر پتھر باندھ کر فیس ادا کرتا ہے اور عموماً اس محنت کَش طبقہ کے بچّے تعلیم میں اچھے ہوتے ہیں اور تعلیم میں کامیابی حاصل کرکے نام پیدا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے غرباء کے بچّوں کی اکثریت نام نہاد دینی مدارس کا شکار ہوجاتی ہے جہاں ان کی خوب برین واشنگ کی جاتی ہے اور مستقبل کے خود کش حملہ آور اور دہشت گرد بنا دیے جاتے ہیں ۔ یہ ایک ہولناک دائرہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے وہ بیگناہ لوگوں اور پولیس اور فوج کے جوانوں کو مارتے ہیں اور یہ ادارے ان کو اور ان کے ساتھ لاتعداد بیگناہ لوگوں کو ہلاک کردیتے ہیں۔

    متوسط طبقہ کو اپنے بچّوں کی تعلیم اور مستقبل کا بہت احساس ہوتا ہے مگر ان کے بچّے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود امتیازی سلوک کے شکار ہوجاتے ہیں اور چند خوش قسمت ہی اچھے عہدہ حاصل کر پاتے ہیں ۔ ان کے مقابلہ میں مالدار اور بارسوخ طبقہ کے بچّے انگریزی میڈیم اسکول میں تعلیم حاصل کرکے باہر سے بھی ڈگریاں لے آتے ہیں اور اثر و رسوخ کی وجہ سے فوراً اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوجاتے ہیں۔ ان میں احساس برتری و تکبر ہوتا ہے اور فرائض منصبی کی ادائیگی میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں لیتے مگروقت کے ساتھ ساتھ سیڑھیاں چڑھ کر اعلیٰ ترین عہدوں پر پہونچ کر اپنی نااہلی سے ملک و قوم کا بیڑہ غرق کرتے ہیں۔ فوج میں سپاہی، حوالدار اور صوبیدار لڑتا ہے فتح کا سہرا برگیڈیر اور جنرل کے سر بندھتا ہے۔ دفتروں میں کام اہلکار کرتے ہیں اور ہر اچھے کام کا اعزاز بڑے صاحب کو ملتا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے ایسے ہی بے چاروں کے لئے کہا تھا :۔

    کیا کہیں اَصحاب کیا کارِنمایاں کرگئے

    بی ۔اے کیا، نوکر ہوئے، پنشن ملی پھرمر گئے

    تجزیہ نگاروں نے ملازم پیشہ طبقہ کی زندگی کو پانچ پی (P) پر منحصر بتلایا ہے یعنی پے (Pay) ۔ پوسٹنگ (Posting)۔ پروموشن (Promotion) ۔ پنشن (Pension) اور پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund) ۔ جناب آل احمد سرور نے جو اردو ادب کے بڑے نقّاد شمار کئے جاتے ہیں لکھا ہے کہ مسلمانوں نے اپنی زندگی کا مقصد پڑھ لکھ کر نوکری کرنا اور ریٹائرمنٹ کے بعد فنڈ یا رشوت کے پیسوں سے حج کرنا سمجھ لیا ہے۔ ہمارے لیڈر، شاعر، علماء مصلح قوموں کی بھلائی کی باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر عمل کرنے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد سمجھدار طبقہ حالات کو بہتر بنانے میں کوشاں تھا، سرسیّد احمد خان نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اپنے بل بوَتے پر قائم کی۔ مولانا حالی نے قوم کو جھنجوڑنے اور بیدار کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ وہ اپنے مُتَقَدّمِین اور ہم عصروں کے برعکس عشق و محبت کی شاعری سے الگ ہو کر حالات کی خرابی کا جائزہ لیتے تھے۔ ان سے پہلے عورتوں کو صرف محبوبہ، وہ بھی قاتل نازوانداز سے جان لینے والی، بے وفا، ظالم کہا جاتا تھا۔ اُنھوں نے پہلی بار کہا۔ اے ماؤ، بہنو، بیٹیو دنیا کی عزّت تم سے ہے۔ ”مدّوجزر اسلام“ میں اسلام کی ترقی وتنزّلی کا بیان ہے انھوں نے ایک ہی شعر میں دردمندانہ اندازسے دعا کی ہے۔

    اے خاصہء خاصانِ رُسل وقتِ دُعا ہے

    اُمّت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے

    تعلیم کے حامی ہونے کے باوجود وہ اس کو نوکری کرنے کا ذریعہ، مقصد نہیں سمجھتے تھے ۔ اس کی مذّمت اُنھوں نے اپنی ایک نظم میں یوں مفصّل بیان کی ہے:۔

    نوکری ٹھہری ہے لے دے کے اَب اوقات اپنی

    پیشہ سمجھے تھے جسے بن گئی وہ ذات اپنی

    اب نہ دن اپنا رہا اور نہ رہی رات اپنی

    غیر کے ہاتھوں میں جا پہنچی ہر اک بات اپنی

    ہاتھ اپنے ہی دلِ زار سے ہم دھو بیٹھے

    ایک دولت تھی ہماری سو اُسے کھو بیٹھے

    ماننی پڑتی ہیں نا کردہ خطائیں اکثر

    سامنے جاتے ہیں پڑھ پڑھ کے دعائیں اکثر

    انھوں نے ملازم پیشہ عوام کی مجبوری بھی بیان کی ہے جو صرف وہی جانتے ہیں۔

    ان کی حساس طبیعت نے بچّوں کی ابتری پر بھی توجہ دلائی کہ یہ سڑکوں پر پھرتے آوارہ بچّے اگر ان کہ یہی حالت رہی تو قوم پر اللہ کی لعنت رہیگی۔ دیکھئے ہر حکمراں جانتا ہے اور کہتا ہے کہ قوم کے مستقبل کا انحصار بچّوں کی تعلیم و تربیت پر ہے مگر زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کرتا۔ نہ ان کو صحیح سہولت دی جاتی ہے اور نہ ہی ان کی مالی مدد کی جاتی ہے۔

    دہلی میں حضرت جی نے جو تبلیغی جماعت کے بانی تھے میواتیوں کو وعظ میں بلانا شروع کردیا تو لوگوں نے مزدوری پر جانے کا عذر کیا۔ اُنھوں نے مزدوری پوچھی اور وعظ میں ان کی موجودگی کے وقت کی مزدوری ادا کرنا شروع کردی۔ مزدور بے حد خوش ہوئے اور اُنھوں نے باقاعدگی سے وعظ میں شرکت کرنا شروع کردی اور جاہل مزدور دیندار بن گئے اور کچھ عرصہ بعد رقم لینے سے انکار کردیا۔ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور اب یہ جماعت بغیر چندہ مانگے دیہاتوں میں غریبوں کے لئے نہایت مفید کام انجام دے رہی ہے۔ یہ لوگ نہ سیاست میں حصّہ لیتے ہیں نہ ممبر سازی، نہ کھالیں جمع کرنا، صرف دین کی تعلیم ان کا کام ہے وہ بھی پیشہ ورانہ واعظانہ ڈھنگ سے نہیں بلکہ نہایت محبت، عاجزانہ اور دوستانہ طریقہ سے ۔ سال کے سال اجتماع ہوتا ہے جہاں سے مختلف مقامات پر جانے والے لوگ اپنا نام لکھواکر اپنے اخراجات پر جاتے ہیں۔ اَن پڑھ لوگوں کو نماز، روزہ، قرآن، حدیث سکھاتے ہیں جو ان کے اچھے مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔ (جاری ہے)

     

     

                         

               

    ہمارا مستقبل سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان (گزشتہ سے پیوستہ)   9/15/2010

    آپ کے سامنے مغربی ممالک، چین، جاپان، ملائیشیا، ویتنام وغیرہ کی مثالیں موجود ہیں جہاں تمام پالیسیاں ملک و عوام دوست ہوتی ہیں اور لیڈروں اور حکمرانوں کے کردار عموماً مثالی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں ہمارے لیڈروں اور حکمرانوں کے کردار، اعمال، کارکردگی دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ لوڈ شیڈنگ، بیروزگاری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، اشیائے خوردونوش کے فقدان پر قابو نہ پانا تو ایک لعنت، ناکردگی کا ثبوت تھا لیکن عوامی نمائندوں کی جعلسازی اور دروغ گوئی نے تو پوری قوم کو دنیا میں ذلیل کردیا۔ ٹی وی پر پہلے اکثر دکھایا گیا تھا کہ امتحانات کے سینٹرز میں والدین اور اساتذہ کتابیں رکھ کر طلبہ کو کھلے عام نقل کرا رہے تھے انسان کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ قوم ذلالت و گندگی کے اتنے گہرے گڑھے میں گرے گی مگر جعلی اسناد کے معاملے نے تو ہمیں دنیا کے پسماندہ ترین ممالک سے بھی زیادہ بے شرم، بے حیا اور بے غیرت ثابت کردیا ہے، بجائے اس کے کہ مجرم اپنے کئے پر نادم ہوں وہ سینہ پھلائے دندناتے پھر رہے ہیں اور اس سے زیادہ شرمناک روّیہ حکمرانوں کا ہے جن کی تمام قوتیں ان جھوٹوں اور جعلسازوں کو بچانے ان کا دفاع کرنے اور سرپرستی میں لگی ہوئی ہیں۔ ہماری طالب علمی کے دوران نہ کبھی پیپر لیک ہوا، نہ نقل کی گئی، نہ کوئی جعلسازی میں پکڑا گیا۔

    حکمران جماعت کی پوری فوج جعلی ڈگریوں کو نہایت معمولی واقعہ بتا رہی ہے اور جعلسازوں کی حمایت میں کمربستہ ہے۔ ایک عجیب منطق یہ ہے کہ کیونکہ پہلے ان کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی اس لئے موجودہ جانچ پڑتال کا معاملہ ایک سازش ہے۔ آپ کسی بھی زاویہ سے اس جعلسازی کو دیکھیں یہ شرمناک ہے اور ہمارے نوجوان طلبہ کو بہت ہی غلط سگنل دے رہی ہے وہ سب یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ میٹرک کے بعد چھ، آٹھ سال کی تعلیم کی مشقت اور اتنا زیادہ خرچہ بیکار ہے چند ہزار روپیہ میں جعلی ڈگری لے کر اعلیٰ عہدوں تک رسائی آسان ہے۔ جب نوجوان طبقہ ایسا سوچنے پر مجبور ہو جائے تو پھر اس ملک اور قوم کا کوئی مستقبل نہیں۔

    اس نے یقینا ذلیل و خوار ہو کر تباہ ہونا ہے۔ نہایت افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی جان کی بازی لگا کر اور خون پسینہ سے اس ملک کو سر اُٹھا کر چلنے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل کیا مگر خود غرض اور جعلسازوں نے اس کو تباہی کے کنوئیں میں دھکیل دیا۔

    یوں حیا اُٹھ گئی زمانے سے

    جیسے گویا کسی میں تھی ہی نہیں

    ان کے اعمال،کرتوت دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا فرمان یاد آتا ہے” اور جب ہم کسی قوم کو ہلاک، تباہ کرنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں تو ہم ان کے خوشحالی میں مست (گنہگار) لوگوں کی کثرت کر دیتے ہیں تو وہ احکام الہیٰ کی نافرمانی شروع کردیتے ہیں۔ پھر ہماری حجّت ان پر تمام ہو جاتی ہے اور پھر ہم اس کو بُری طرح تباہ و برباد کردیتے ہیں“ ۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت ۱۶

    اللہ تعالیٰ نے ان گنہگاروں (جھوٹوں اور جعلسازوں کو) یوں متنبہ کیاہے”اور تم یہ گمان مت کرو کہ اللہ تعالیٰ اُن کاموں سے غافل ہے جو یہ گنہگارکرتے ہیں اللہ نے انہیں صرف اس دن تک مہلت دیئے رکھی ہے جس دن (دہشت و خوف سے) ان کی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی“۔ (سورہ ابراہیم آیت ۴۲)۔ حقیقت یہ ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہمارے ملک اور قوم کا (اور نوجوان طبقہ کا) مستقبل بہت ہی تاریک اور مایوس کن ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عنایت کردہ مہلت اَب ختم ہو چکی ہے اور گنہگاروں نے حجّت کا وقت پورا کردیا ہے۔

     

     

     

                         

               

    جب روم جل رہا تھا......سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   9/20/2010

    تقریباََ دو ہزار سال قبل جب سلطنت روم اپنے پورے عروج پر تھی اور عیسائیت کی ابتداء ہی ہوئی تھی او ر اس کے پیروکار وں کی تعداد ابھی بہت کم تھی اس وقت 15دسمبر سن 37کو روم کے نزدیک ایک نواحی علاقہ میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا جو بعد میں نیرو کے نام سے شہرت یافتہ ہوا۔ ماں کی طرف سے اس کا تعلق قیصر روم سے تھا ۔ اس زمانہ میں شاہی خاندان میں سازشیں ، قتل ، ملک بدری جیسی چیزیں عام تھیں۔ ان ہی سازشوں اور حالات کے تغیرات کے نتیجہ میں نیرو صرف سولہ سال کی عمر میں شہنشاہ بن گیا تھا۔ نیرو کے بارہ میں تاریخ دانوں نے لاتعداد کہانیاں بیان کی ہیں خدا جانے ان میں کیا حقیقت ہے :

    ہر فسانہ غور سے سنتا ہوں محسن # اس لئے

    ایک حقیقت کے بھی بن جاتے ہیں افسانے بہت

    یہ تک کہا گیا ہے کہ نیرو نے اپنی ماں کو قتل کر ا دیا تھا۔ تاریخ دان نیرو کو اپنی بد نامی ، دیوانگی اور ایذارسانی ، ظلم و سازش کے لئے رومن بادشاہوں میں صف اول میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے متعلق ضرب المثل بن گئی ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ 18اور19جولائی 64کو روم کے جنوب مشرق میں آتشبازی کی دوکان میں آگ لگ گئی اور اس نے روم کے چودہ قصبوں میں سے تین کو مکمل طور پر خاکستر کر دیا اور سات کو بہت نقصان پہنچایا۔ یہ آگ پانچ دن تک جلتی رہی ، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ آگ خود نیرو نے لگائی تھی کیونکہ وہ اس جگہ ایک عالیشان و وسیع و عریض محل تعمیر کرنا چاہتا تھا۔ کچھ لوگوں نے اس کا الزام عیسائیوں پر ڈالدیا ۔ کہا جاتا ہے کہ عوام کا جب نیرو پر شک شدت اختیار کرنے لگا تو اس نے قربانی کے بکرے کے طور عیسائیوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور ان پر نہایت بھیانک ظلم کئے، ان کو بھوکے خونخوار کتوں کے سامنے ڈالدیا گیا، ان کو صلیب پر لٹکایا گیا اور ان کو زندہ جلا بھی دیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب یہ ہولناک آگ لگی ہوئی تھی تو نیرو محل میں بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔ اس کے برخلاف متعدد تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ نیرو بلا خوف و خطر آتش زدہ علاقوں میں تنہا گھومتا پھر تا رہا ۔ اپنے محلات کے دروازے کھول دیئے تھے اور امدادی کاموں کی خود نگرانی کر کے متاثرہ لوگوں کی ہر طرح خدمت اور داد رسی کی۔ ان کو کھانا پہنچایا ، نئے مکانات اینٹوں سے تعمیر کئے اور ان کے درمیان خالی جگہ چھوڑی تا کہ آگ ایک گھر سے دوسرے گھر میں نہ پھیلے۔ بہت سے رومن تاریخ دان نیرو کی عزت کرتے تھے کہ اس نے نہ صرف اپنے عوام کو ہر طرح کی آزادی دی بلکہ ان کی حفاظت بھی کی۔

    بیگناہ عیسائیوں کے قتل عام کی وجہ سے عوام اس کے خلاف ہو گئے اور سن 68میں سینیٹ نے حکم دیا کہ نیرو کو کوڑے مار مار کر ہلاک کر دیا جائے ۔ کھلے عام کوڑے کھانے اور مرنے کی ذلت سے بچنے کے لئے اس نے زہر کھا لیااور 9جون 68کو 31سال کی عمر میں مر گیا۔ اس نے 14سال حکومت کی تھی مگر اس کا دور اس قدر خون آشام اور دہشت انگیز تھا کہ دنیا اس کو ایک پاگل و جابراور ظالم حکمران کے طور پر یاد کرتی ہے۔ مرتے وقت نیرو کے آخری الفاظ یہ تھے Qualis artifex pereoیعنی دنیا نے مجھ جیسا کیسا نایاب فن کار کھو دیا ہے۔

    دیکھئے جس طرح ظالم و جا بر حکمران مثلا نیر و ، چنگیز خان ، ہلاکو خان ، تیمور ، نادر شاہ ، احمد شاہ ، ہٹلر ، اسٹا لن مشہور ہیں۔ اُسی طرح دنیا میں نیک اور نامور لوگ جیسے حضرت عمر ، حضرت عمر بن عبد العزیز ، نوشیرو ان عادل ، ابراہیم لنکن ، وکر مادتیہ ، حاتم طائی ، چواین لائی بھی بہت مشہور ہیں۔ ظلم اور جبر کرنے والے غالباََ شیفتہ کے اس شعر سے متاثر تھے :

    ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

    بد نام اگر ہونگے تو کیا نام نہ ہو گا

    ظالموں جابروں کے ظلم و بُرائی کا خاص سبب اقتدار کی زیادتی اور روک ٹوک کا فقدان ہوتا ہے ۔ آپ نے لاتعداد مرتبہ یہ انگریزی کہاوت سُنی ہے کہ طاقت انسان کو بد عنوان بنا دیتی ہے اور مکمل اختیار و اقتدار مکمل طور پر بد عنوان بنا دیتا ہے:

    (Power corrupts, absolute power corrupts absolutely) ظالم حکمران طبقہ اقتدار پانے کے بعد دوسروں کے مصائب اور آلام سے بے حس اور بے پروا ہو جاتا ہے اور اپنے غلط کاموں پر ہر اعتراض اور نصیحت کو دشمنی سمجھنے لگتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ہر زمانہ میں ہر ملک میں یہ واقعات ظہور پذیر ہوئے ہیں اور بقول نخشب :

    ہوتی آئی ہے زمانہ سے یہ بیداد ، نارو!

    ایک ہندوستانی انگریزی اخبار کا مالک اور ایڈیٹر بابو راؤ پٹیل جو ہندو مہا سبھا مخالف پارٹی کا ممبر پارلیمنٹ بھی تھا وہ پنڈت نہرو کو (اسی شاطرانہ چالوں کی وجہ سے ) ہمیشہ نیرو آف انڈیا لکھا کرتا تھا۔ آئیے اب ذرا اپنے ملک کی حا لت زار پر نظر ڈالتے ہیں جہاں اقتدار پانے والے افراد نے ذاتی مفاد تو حاصل کیا لیکن عوامی فلاح کو یکسر نظر اندازکر کے ، ان کے مصائب سے بے حسی کا ارتکاب کر کے عوام کے دلوں سے اپنی غیرت و وقعت کو کھو دیا ۔ ذاتی مفاد تو صرف قوم کو مالی نقصان پہنچاتا ہے لیکن ان کی تکالیف او رپریشانی کو اہمیت نہ دینا دوسری خطا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بے حس حکمرانوں کا عوامی پریشانی کو یکسر نظرا نداز کر کے ان کی پریشانی اور مصیبت کے وقت سیر و تفریح ، جلسے جلوس ، مبارکبادیاں ، پارٹی فنکشن اور دعوتیں کرنا عوام کے زخموں پر نمک مرچ چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اسکی مثالیں ہمارے ملک میں حکمرانوں نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اپنے دور میں پیش کی ہیں جو عوام نہ بھولے ہیں اور نہ کبھی بھولیں گے۔

    اس مملکت خداد اد پاکستان کی بد نصیبی ہے کہ یہاں بار بار مُطلق العنان اور خود غرض حکمران آتے رہے ہیں خواہ وہ خاکی میں ہوں یا در آمد شدہ سوٹ میں۔ سب سے پہلے فالج زدہ غلام محمد جس نے جمہوریت کو اپاہج کر دیا اور وہ آجتک اپاہج ہے۔ پھر ایوب خان نے آمریت کی بنیاد رکھی اور تو اور الیکشن میں دھاندلی کر کے محترمہ فاطمہ جناح مادرِ ملّت جیسی خاتون کو ہرا دیا مگر جو انجام غلام محمد اور ایوب خان کا ہو ا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔بعد میں ضیاء الحق نے نمک حرامی کرکے اپنے محسن ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ اُلٹا دیا اور عدلیہ کی شرکت سے جھوٹے مقدمے میں پھانسی دیدی۔ ضیاء الحق اور مولوی مشتاق کے انجام سے بھی آپ واقف ہیں۔

    ان سب سے زیادہ بد معاش، ظالم ، سازشی ، جھوٹا، کم ظرف ڈکٹیٹر مشرف تھا جس نے نہ صرف اپنے مُحسنوں کے ساتھ غداری کی بلکہ اس ملک کی غیرت ، حمیت اور وقار کو امریکی جوتوں کی خاک کے بدلے بیچ دیا۔ یہ تو بین الاقوامی سطح کی بات تھی ملک کے اندر عدلیہ کی بے عزتی اور ججوں کی نظر بندی دستور کو ردی کی ٹوکری میں ڈالدینا ، نواب اکبر بگٹی جیسے ضعیف محب وطن کا بہیمانہ قتل ، لال مسجد میں مردوں ، عورتوں اور بچیوں کا قتل عام اور فاسفورس بموں سے ان کو زندہ جلانا، کراچی میں بد معاشی سے لاتعداد شہریوں اور وکلاء کا قتل عام ۔جب کراچی میں قیامت بر پا تھی تو یہ جاہل ڈکٹیٹر اسلام آباد کے جلسے میں مُکہ اُٹھا اُٹھا کر خوشی کا اظہار کر رہا تھا ۔ اس طرح اس جدید ڈکٹیٹر نے نیرو کی پوری طرح تقلید کی۔

    آج ہمارے ملک میں سیلا ب کی تباہ کاریاں عروج پر ہیں ۔ نیرو کے چیلے بھوکے پیاسے مردوں ، عورتوں اور بچوں پر لاٹھیاں بر سا رہے ہیں۔ حکمران ، وزراء ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر فوٹو سیشن کر رہے ہیں اور جعلی کیمپوں میں چیک (جعلی؟) تقسیم کر رہے ہیں۔ پوری دنیا نے ہمارے لیڈروں کو بے ایمان ، کر پٹ ہونے کے سر ٹیفکیٹ دیدیئے ہیں اور کوئی ان پر بھروسہ نہیں کر رہا ۔ کھلے عام ان کو ”فیصد“ کے لقب سے یاد کیا جا رہا ہے لیکن واہ رے واہ کیا گینڈے کی کھال ہے کہ رتی برابر شرم و حیا نہیں ہے ۔ لاشوں کی سیاست زوروں پر ہے صرف افواج پاکستان تندہی اور دلجوئی سے متاثرہ لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے الطاف حسین نے بیان داغ دیا کہ مارشل لاء کی طرح سخت اور فوری اقدامات کے ذریعہ چوروں ، لٹیروں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ حقیقت ہے بھی یہ کہ موجودہ قوانین اور عدلیہ ایسے مجرموں سے نپٹنے میں قطعی ناکام رہے ہیں۔ نیرو روم کی تباہی پر بانسری بجا رہا تھا اور ہمارے لیڈر محلات میں بیٹھے دعوتیں اُڑا رہے ہیں۔ لطیفے سنا رہے ہیں ، قہقہے لگا رہے ہیں اور سیا سی سازشیں کر رہے ہیں۔ مگر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ ”بہرے ، گونگے ، اندھے ہیں پس یہ گمراہی سے باز نہیں آ سکتے ، بہر ے گونگے، اندھے ہیں پس یہ دیکھتے نہیں، بہرے گونگے ، اندھے ہیں پس یہ سمجھتے نہیں۔“ سورة ابراہیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے بلکہ تنبیہ کی ہے کہ یہ نہ سوچو کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کے اعمال سے واقف نہیں ہے وہ تو ان کو (حجت پوری کرنے کے لئے) ایک وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے اور پھر جب اس کا عتاب نازل ہوتا ہے تو وحشت و خوف سے گنہگاروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے سامنے اپنے پیشروؤں کی مثالیں ہیں کیا کیا تدبیریں کر رہے تھے لیکن اللہ کی تدبیر کے آگے اُن کی ایک نہ چلی ، خاک میں جا ملے ، کیڑوں نے لاشیں کھالیں اور ہڈیاں مٹی میں مل گئیں۔ اگر یہ ماضی قریب کے واقعات سے عبرت حاصل نہیں کرتے تو ان کا حال بھی پچھلے نیرو اورماضی قریب کے نیروؤں کا سا ہو گا۔ یہ غائب ہوں گے اور دوسرے لوگ بانسری بجا رہے ہونگے۔

     

     

                         

               

    صحبت صالح ترا صالح کند.....سحر ہونے تک … ڈاکٹرعبدالقدیرخان   9/27/2010

    حضرت شیخ سعدی جن کا اصل نام شر ف الدین اور لقب مصلح الدین تھا اور اپنے وقت کے حاکم سعد بن زنگی کی مناسبت سے اپنا تخلص سعدی رکھ لیا تھا ۔ شیراز کے رہنے والے تھے ، آپ کی پیدائش 1333میں ہوئی اور وصال اندازاََ 1435میں ہوا ۔ آپ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ آپ نے تیس سال کی عمر میں پڑھنا لکھنا سیکھا پھر تیس برس علمی مشاہدہ کے لئے لا تعداد ملکوں کی سیر کی اور ہندوستان ، افغانستان وغیرہ بھی آئے ۔ آپ کا مشہور قول افغانیوں ، کشمیریوں اور کمبوہ کے بارہ میں بیان کرنے سے گریز کرتا ہوں بس” اگر قحط رجا ل سے شروع ہوتا ہے اور کشمیری پر ختم ہو جاتا ہی“۔

    شیخ سعدی کا پورا کلام پندو نصائح سے بھرا پڑا ہے اور وہ بھی اشعا رکی شکل میں ۔ آپ نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی میں کامیابی کے طریقے بھی بتلائے ہیں جو ان کی کئی سال کی درویشانہ زندگی سے حاصل ہوئے تھے۔ آپ نے ان کو آسان زبان میں منظوم طور پر پیش کیا تھا جو پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے۔ آپ کا مختصر شعر ہے :

    صحبت صالح ترا صالح کند

    صحبت طالع ترا طالع کند

    یعنی نیک انسان کی صحبت تجھے نیک اور بدکار کی صحبت بد کار بناتی ہے۔ عام زبان میں اس کو یوں بھی کہا گیا ہے کہ خر کو خر کھجائے۔ یہ مسلمہ امر ہے کہ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے اور ایک حکمران کی کامیابی و عزت اور ناکامی و ذلت اس کے اپنے مشیروں پر منحصر ہوتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر نوجوان بر ی صحبت میں رہ کر نشہ ، جو ا اور چور ی کا عادی ہوجاتا ہے ۔ یہ لعنت عمرو جنس نہیں دیکھتی ، سب ہی اس کے شکار ہو جاتے ہیں۔ بچپن میں اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔:

    بد کی صحبت میں مت بیٹھو اس کا ہے انجام برا

    بد نہ بنے تو بد کہائے بد اچھا بدنا م برا

    دوستی و محبت کی ضرورت ہر انسان کو اس لئے پیش آتی ہے کہ ایک تو سار ا وقت تنہائی میں گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے اور دوسرے انسان لاتعداد موضوعات پر دوسرے سے گفتگو کرنا چاہتا ہے ۔ اس کے علا وہ پرانے زمانہ میں (اور موجودہ دور میں بھی ) راجہ ، بادشاہ ، نواب ا س لئے وزیرو مشیرصلاح کار رکھتے تھے کہ ان کی قابلیت و صلاحیت سے استفادہ کریں ان کا انتخاب حکمران کی ذاتی صلاحیت پر منحصر ہوتا ہے ۔ خوشامد پسند اور کم عقل حکمران خوشامدی اور عقلمند حکمران سمجھدار مشیروں کا انتخاب کیا کرتے تھے۔بعض عیار و شاطر حکمرانوں نے شاطر و عیار مشیروں کی مدد سے کچھ عر صہ حکومت توکی مگر ان کا انجام ہمیشہ خراب ہی ہوا۔ بکر ماجیت کے نورتن قبل مسیح میں بنائے گئے تھے ۔ اکبر بادشاہ نے بھی اسی طرح نورتن منتخب کئے تھے ۔ سکندر اعظم کا مشیر ارسطو اور چند رگپت موریہ کا چانکیہ جیسا فلسفی تھی۔ شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر مغلیہ حکومت کا خاتمہ کر دیا اور صر ف پانچ سال حکومت کی مگر آج بھی تاریخ اس کے نظام حکومت کی تعریف سے بھری پڑی ہے ۔ اس نے راجہ ٹوڈرمل کو مالیا ت کا مشیر لگایا تھا جس کی اصلاحا ت بے حد مفید ثابت ہوئیں ۔ شیر شاہ کے بعد جب دوبارہ مغلیہ حکومت قائم ہوئی اور اکبر حکمران بنا تو اس نے ٹوڈرمل کو تلاش کروایا اور اپنا وزیر مالیات لگا دیا اور دانشمندی کا ثبوت دیا۔ اس کا دور حکومت مغلیہ حکومت کا سنہری دور مانا جاتا ہے ۔ اورنگزیب نے اپنے دشمن ابو الحسن تانا شاہ والئی گولکنڈہ کے وزیر عبد الرزاق کو اپنے ساتھ ملانا چاہا مگر اس نے غداری اور بے وفائی کرنے سے انکار کر دیا ۔ اورنگزیب نے جب گولکنڈہ فتح کر لیا اور عبدالرازق بطور قیدی پیش ہوا تو اورنگزیب نے اسے عزت واحترام سے بٹھایااور اپنا وزیر بنا لیا۔ اس کی وفاداری اور عقل و فہم کی قدر کی ۔ فارسی کی کہاوت ہے ”قدر گوہر شاہ داندیا بداندجوہری “ یعنی ”موتی کی قدر یا بادشاہ جانتا ہے یا جوہری “اگر عام لوگوں کی زندگی پر دوستوں اور ساتھیوں کے کردار کے اثرات ہوتے ہیں لیکن ان کا اثر اجتماعی طور پر نہیں ہوتا لیکن اصحاب اقتدار اور حکمرانوں پر جو اثرات پڑتے ہیں وہ چند لوگوں پر نہیں پڑتے بلکہ پورے ملک و قوم پر بر سوں ان کے نقوش قائم رہتے ہیں۔ہمارے اپنے ہی ملک کی ماضی قریب کی تاریخ دیکھ لیجئے۔ بھٹو صاحب کو ان کے دو قسم کے مشیروں نے مروا دیا ۔ ایک نے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو قومیانے کا مشورہ دیا اور ملک کے دونوں شعبوں کو تباہ کر دیا اور دوسرے نے سیدھے سادے نظر آنے والے ضیاء الحق کو دوسروں کا حق مار کر آرمی چیف بنوا کر ان کے گلے میں پھانسی کا پھندا لگوا دیا۔ بعد میں بینظیر اور نواز شریف کے مشیروں نے ان کی حکومتوں کا تختہ الٹوا دیا۔ یہی حال غلام اسحق خان صاحب کا ہوا۔ ان کو غلط مشورے دے کر ایسے حالات پیدا کر دیے کہ ان کو استعفیٰ دیناپڑا ۔ تاریخ کو نظر انداز کر کے نواز شریف نے بھی بھٹو کی غلطی دہرائی اور مشرف کو سینئر لوگوں کو نظر انداز کر کے آرمی چیف بنا دیا۔ یہاں بھی مشیروں نے تباہ کن مشور ہ دیا۔ خدا نے جا ن تو بچا دی مگر نو سال کی اِذّیت ،قیدا ور جلاوطنی کا لطف اٹھا لیا۔ مشرف عقل کل بن گیا اور اس نے شوکت عزیز کے مشورے پر عدلیہ پر حملہ کیا اورذلیل و خوار ہوا۔ مشاہد حسین کے صحیح مشورہ کواس نے نظر انداز کیاکہ عدلیہ کو نہ چھیڑو اس طرح اس نے چوہدری شجاعت کی کوششوں اور نہایت مفید مشورہ کو نظر انداز کر کے لال مسجد میں قتل و غارت گر ی کر کے اپنا دامن داغدار بنا یا اور جہنم میں مستقل جگہ حاصل کر لی۔

    دیکھئے مشورہ لینا ، سننا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا حاکم وقت کی ذمہ داری ہے۔ اس کی اچھا ئی ، برائی سمجھنے کے لئے دور اندیشی حاکم کا فعل ہے ۔ شیخ سعدی نے ایک منظوم قطعے میں دوست ،قابل اعتبار مشیر کی خوبیاں یوں بیان کی ہیں:

    دوست مشمار آں کہ در نعمت زند

    لاف یاری و برادر خواندگی

    دوست آں باشد کہ گیر د دست دوست

    در پریشاں حالی و درماندگی

    یعنی ”اس کو دوست مت سمجھو جو خوشحالی میں دوستی جتا کر اچھی اچھی باتیں بناتا ہے دوست وہ ہوتا ہے جو پریشان حالی اور مصیبت میں دوست کا ہاتھ تھام لیتا ہے ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ اچھے مشورے کو نہ ماناجائے تو وہ بھی انتہائی نقصان دہ ہے جیسے غلط مشوروں کو مان کر اس پر عمل کر نا ۔ بینظیر بھٹو کو غلط مشورے دینے والوں نے گاڑی سے سر نکال کرہاتھ ہلانے کو کہا اور وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ جس طرح صحیح مشورہ پرعمل کر نا رائے لینے والے کی ذمہ داری ہے اسی طرح مشورہ دینے والوں پر اخلاقی قانونی اور مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ مہلک اور ایذا رسانی کے مشورے نہ دیں ، روز حساب وہ بھی جوابدہ ہوں گے ۔ فارسی میں نصیحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی انسان کسی کے مشورے کو مانتا ہے تو یہ بہت افسو س کی اور غلط بات ہو گی کہ مشورہ دینے والا نیک مشورہ نہ دے۔مذہبی اعتبار سے بھی امر بلالمعروف ونہی عن المنکر کا حکم ہے یعنی اچھی بات کے لئے تر غیب اور بری بات سے روکنا چاہئے ۔ مولانا رومی نے فرمایا ہے :

    تاتوانی دور شو اَزیاربد

    یار بد بدتر بُود ازماربد

    یعنی جہاں تک ہو سکے برے دوست (مشیر )سے دور رہ کیونکہ بر ا دوست (مشیر) بر ے سانپ سے بھی بد تر ہوتا ہے۔ اس طرح ہم سب کا فرض ہے کہ اگر کوئی برائی یا خطرہ دیکھیں تو فوراََ دوسروں کواس سے آگاہ کر دیں۔

    چوں مے بینی نابینا و چاہ است

    اگر خاموش باشی گناہ است

    یعنی جب تو دیکھے کہ کوئی نابینا کنواں نہیں دیکھ سکتا اور اس کی جانب جا رہا ہے اگر تو خاموش رہے تو یہ گناہ ہے۔ ہمارے ملک میں اس وقت عجب چوں چوں کا مربہ ہے یعنی حکمران طبقہ اندھوں کی طرح کنوئیں کی طرف روانہ ہے اور خود غرض مشیر اور دوست ان کو کنوؤں میں جنت کے باغات دکھا رہے ہیں اور بے چارے ہمدرد وطن پرست صحافی تجزیہ نگار دن رات ان کو ان کی غلطیوں کی طرف توجہ دلا رہے ہیں مگر صاحب کیا مجال کہ کان پر جوں رینگے ۔ ہم سب روز دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح عدالت عالیہ کے احکامات کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں اور یہ انہی زہریلے سانپوں سے بد تر مشیروں کے مشورے پر حکمران عمل کر رہے ہیں۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے نیب کے پر اسیکیوٹر جنرنل کو عدالت عالیہ نے برخاست کر دیا اور وہ جا کر دفتر میں بیٹھ کر ان احکامات کا مذاق اُڑاتا رہا۔ وزیر اعظم نے نہایت ہوشیاری سے حکم جاری کر دیا کہ عرفان قادر کی سہولتیں واپس لے لی جائیں۔ کیا ان میں اتنی عقل و فہم نہیں ہے کہ وہ بابر اعوان کو حکم دیتے یا رحمان ملک کو حکم دیتے کہ عرفان قادر کا دفتر سیل کر دو اور دفتر میں نہ گھسنے دو مگر اداکاری اور عیاری بھی تو کچھ چیز ہوتی ہے۔اس ڈرامہ میں صدر ، وزیر اعظم ، بابر اعوان کے شامل ہونے کی عام افواہیں ہیں۔

    اگر حکمران طبقہ سمجھنے کی کوشش کرے (جو مجھے ناممکن ہی نظر آتا ہے ) تو قومی اور ملکی مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں۔ خود غرض، چاپلوس ساتھیوں سے جان چھڑائیں اور خلق خدا کی بہتری کے قوانین اور عدلیہ کااحترام کریں اور خلق خدا کی نیک نیتی سے خدمت کریں اور اللہ تعالیٰ کے عتا ب سے ڈریں اور اس کے رحم کی التجا کریں۔ اگر انہوں نے وطیرہ نہ بد لا تو اپنے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل و خوار کر کے نکال دے گااور ان کی جگہ دوسروں کو بٹھا دے گا۔

     

     

     

                         

               

    نیک نیتی اور منافقت......سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   10/4/2010

    پچھلے چند ہفتوں میں سیلاب نے جو تباہی پھیلائی ہے اور عوام کو جن مشکلات (گھروں کی تباہی، بھوک ، پیاس ، اموات) کا سامنا کرنا پڑا ہے اسکو ذرائع ابلاغ نے بہت ہی شفاف طریقہ سے عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ لا تعداد فلاحی اداروں اور ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے حتی الامکان ضرورت مندوں کی مدد کی ہے۔ تمام ٹی وی اسٹیشنوں نے اس میں نہایت اہم کر دار ادا کیا ہے۔ نہایت قابل تحسین بات یہ تھی کہ ذرائع ابلاغ کے لاتعداد نمائندے بشمول خواتین نے جان کا خطرہ مول لے کر ان خطر ناک سیلابی علاقوں کا دورہ کیا اور جائے وقوع سے ہم سب کو عوام کی مشکلات اور تکالیف سے آگاہ کیا۔ حکومتی نمائندے حسب معمول جہازوں میں بیٹھ کر فوٹو سیشن کرتے رہے اور جعلی کیمپوں میں لفافے (خالی؟) بانٹتے رہے۔ جیو کی جانب سے میر خلیل الرحمن فاؤنڈیشن اور عمران خان نے بڑھ چڑھ کر چندہ جمع کیا اور ضرورت مندوں کو ضروری اشیاء فراہم کیں۔

    ایک نہایت دردناک اور تکلیف دہ حقیقت جو سامنے آئی وہ یہ ہے کہ بین الاقوامی لیڈروں اور اداروں نے کھلے کھلے الفاظ میں بتلا دیا کہ ان کا ہمارے لیڈروں اور اداروں پر قطعی اعتماد نہیں ہے اور وہ سب ان لوگوں کو کرپٹ سمجھتے ہیں۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ اس مملکت خداداد پاکستان کے عوام کو یہ ذلّت بھی دیکھنا پڑی ۔

    ایک نئی بحث اس سلسلہ میں وزیر اعظم گیلانی کے بیان نے چھیڑ دی ہے۔ آپ نے بیان داغ دیا کہ وہ اپنی بیگم کے تمام زیورات سیلاب زدگان کے فنڈ میں دیں گے اور آپ نے اپنے ساتھیوں سے بھی یہی کام کرنے کو کہا ، دیکھئے ایسا لگتا ہے کہ محترم وزیراعظم انسانی، خاص طو ر پر خواتین کی نفسیات سے قطعی بے بہرہ ہیں۔ ایک عورت کو اپنے زیور ہر چیز سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ اور وہ یہ بڑی مشکل سے طویل عرصہ میں جائز یا ناجائز آمدنی سے جمع کر تی ہے اور اب آپ اس سے کہیں کہ اس کو یکمشت دے دو تو یہ بہت مشکل کام ہے ۔ وزیر اعظم اپنے سوٹ، ٹائیوں کے بجائے اگر 45کروڑ معاف کرایا ہوا قرضہ واپس کردیں تو یہ بڑا کارنامہ ہوگا۔ اسی طرح دوسرے ساتھی بھی اپنا فرض ادا کریں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی دکھاوٹ او ر ڈھکوسلوں کی قوم کو ضرورت نہیں جو مدد مل چکی ہے اور جو وسائل موجود ہیں ان کو احسن طریقہ سے استعمال کرکے عوام کی اکثریت کی تکالیف دور کی جاسکتی ہیں۔ اہل اقتدار کا فرض ہے کہ اس دردناک موقع پر وہ ”امپورٹ“ کے بجائے ”ایکسپورٹ“ پر توجہ دیں۔ کیا قارون کا خزانہ اس کے کام آیا تھا؟

    محترم وزیر اعظم کے اپنے کپڑے اور بیگم صاحبہ کے زیورات فروخت کرنے کے بیان نے مجھے پھر علم و فراست کے خزینہ حضرت شیخ سعدی مرحوم کی ایک حکایت یا د دلا دی جس کا اس بیان سے براہ راست تعلق ہے۔ آپ نے فرمایا: ” عبدالعزیز نامی ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک بڑا نہایت قیمتی موتی انگوٹھی میں جڑا ہو ا تھا۔ اس کے ملک میں ایک بار سخت قحط پڑا اور عوام بھوک سے مرنے لگے۔ یہ حالات دیکھ کر بادشاہ بے حد غمزدہ اور پریشان ہوا اور عوام سے دلی ہمدردی کے اظہار کے طور پر اس نے نہایت عزیز و قیمتی موتی کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا تا کہ اس سے حاصل شدہ رقم سے عوام کے لئے اناج وغیرہ خریدا جا سکے۔ ایک مشیر نے اس کو بہکانے کی کوشش کی کہ ایسا انمول موتی اس کے پاس پھر کبھی نہیں آئے گا ۔

    بادشاہ پر رقت طاری ہو گئی اور اس نے کہا کہ بادشاہ کے جسم پر ایسا قیمتی زر و جوہر ایک لعنت ہے کہ جس کی موجودگی میں اس کے عوام اپنی ضروریات زندگی کے لئے سخت پریشان ہوں۔ مجھے بغیر موتی کی انگوٹھی اس بات سے لاکھ درجہ عزیز ہے کہ میرے عوام پریشانی میں مبتلا ہوں۔ “شیخ سعدی نے نصیحت فرمائی کہ وہ حکمران خوش قسمت اور پر سکون رہتا ہے جو اپنے عوام کے آرام اور ضروریا ت کو اپنے آرام اور سہولتوں پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کی پاک خواہشات اپنے آرام و آسائش کے اوپر عوام کے آرام کو ترجیح دیتی ہے۔ اگر بادشاہ اپنے آرام دہ بستر پر بغیر کسی فکر اور پریشانی سے سوتا ہے تو غریب بے چارے کی ضروریات کس طرح پوری ہو سکتی ہیں اور اس کی تکالیف کا کس طرح ازالہ ہو سکتا ہے۔ شیخ سعدی نے ایک اور واقعہ دمشق میں قحط سالی و مصیبت کے بارے میں بیان فرمایا ہے۔ اس کی ابتدا یوں کی ہے:

    چناں قحط سالی شد اندر دمشق

    کہ یاراں فراموش کر دند عشق

    یعنی ایک مرتبہ دمشق میں ایسا قحط پڑا کہ عاشق محبت کرنا بھول گئے یعنی بھوک و پیاس نے صرف پیٹ کی فکر کو غالب کر دیا تھا۔ آپ نے لکھا ہے کہ آسمان سے اس قد ر آتش برس رہی تھی کہ زمین خشک ہو گئی، اناج کی فصلیں تباہ ہوگئیں اور کھجور کے درخت سوکھ گئے ۔ چشمے سوکھ گئے اور بے یار و مدد گار لوگوں کی آنکھوں میں سوائے نمی کے کچھ باقی نہ رہا ۔ درختوں کے تمام پتے جھڑ گئے اور پہاڑوں کی ہریالی غائب ہو گئی۔ اس وقت آپ کے پاس ایک عزیز دوست آیا جو ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا تھا ۔ ہڈیوں کے اوپر صرف کھال ہی رہ گئی تھی۔ مجھے بہت حیرانی اور تعجب ہوا کیونکہ یہ شخص اچھا خاصا صاحب حیثیت تھا۔ میں نے فوراََ پوچھا کہ اس پر کونسی مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ اس نے کہا کہ کیا میں اپنے ہوش و حوا س میں ہو ں کہ دیکھتا نہیں کہ پوری قوم ایک عذاب الٰہی ، قحط سالی کا شکار ہے نہ ہی آسمان سے بارش گرتی ہے اور نہ ہی متاثرہ عوام کی آہیں اور التجائیں رب العالمین تک پہنچ رہی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ تجھ کو اس کا کیا خوف ہے ۔ زہر صرف ان ہی کو ہلاک کر تا ہے جن کے پا س تریاق نہ ہو۔ میرے دوست نے میری جانب حقارت کی نظر ڈالی بالکل اسی طرح جس طرح ایک عالم ایک جاہل کی طرف یا ایک امیر ایک فقیر کی طرف اور پھر یوں مخاطب ہوا۔ اگرچہ ممکن ہے کہ ایک انسان پانی کے کنارے بحفاظت کھڑا ہو مگر وہ اپنے دوستوں کو ڈوبتا دیکھ کر بے حس و بے عمل کھڑا نہیں رہ سکتا۔ میرا چہر ہ کسی چیز کی کمی کی وجہ سے زرد نہیں ہے بلکہ اپنے ہم وطنوں کی تکالیف اور دُکھ میرے دل کو مجروح کرتا ہے۔ اگرچہ بفضل خدا میں زخموں اور تکالیف سے محفوظ ہوں مگر میں اپنے ہم وطنوں کے زخم اور تکالیف دیکھ کر کانپ رہا ہوں۔ شیخ سعدی نے نصیحتاً فرمایا کہ اس فرد کی خوشیاں بے معنی اور کڑوی ہیں جبکہ ایک بیمار اس کے پاس موجو د ہو، اور جبکہ ایک حاجتمند نے کچھ نہ کھا یا ہواور بھوکا ہو تو اس فرد کا کھانا نجاست اور زہر کے برابر ہے۔

    میں نے یہ دو حکایات شیخ سعدی موجودہ حالات کی روشنی میں بیان کی ہیں۔ پہلے تو محترم وزیر اعظم کا مشورہ کہ کپڑے اور زیور بیچ کر مصائب کا حل نکالا جائے اور دوئم یہ کہ حکمران طبقہ عیش و عشرت میں لگا ہو ا ہے اور کروڑوں عوام بھوک و پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔

    موجودہ حالات مجھے حضرت امام غزالی کی بیان کردہ یہ حدیث یاد دلاتی ہے (مکاشفتہ القلوب) ۔ ”جب فقیروں سے لوگ دشمنی کریں گے ، دُنیاوی شان و شوکت کا (بھرپور) اظہار کریں گے اور مال و زر کے جمع کرنے میں (ایک دوسرے کے) حریص ہو جائیں گے تو ان پر اللہ تعالیٰ چار لعنتیں نازل کرے گا۔(۱)قحط سالی، ظالم و بے حس حکمران ، خائن حاکم، اور دشمنوں کا غلبہ ۔“ اس وقت یہ تمام مصیبتیں ہم پر نازل ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ :

    کشتگانِ خنجر تسلیم را

    ہرزماں ازغیب جان دیگر است

    یعنی کہ جب خنجر قتل کرنا چاہتا ہے تو ہر دفعہ مختلف سمت سے آتا ہے۔ ارباب اختیار کی خدمت میں بس یہی شعر عرض ہے :

    چار جانب گونجتی آواز کے تیور سمجھ

    دو گھڑی تو سو چ ! تیرے گھر میں کیا ہونے کو ہے

     

     

     

               

               

    نوادرات.....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   10/11/2010

    پچھلے دو، ڈھائی سال سے اس ملک پر جو اللہ کا عتاب، عذاب آیا ہوا ہے اور نحوست طاری ہے پورا ملک، عوام، ذرائع ابلاغ اس کا شکار ہیں۔ پہلے آٹے اور چینی کا فقدان، پھر لوڈشیڈنگ، پھر سیلاب اور ساتھ میں مہنگائی، بیروزگاری غرض دنیا کی ہر نحوست اس ملک پر آئی ہوئی ہے۔ اب پچھلے دنوں سے ملک میں حکومت کی تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ تمام صحافی، ادیب، تجزیہ نگار کم وبیش اس پر متفق ہیں کہ تبدیلی کی سخت ضرورت ہے اور یہ جلد یا بدیر آنے والی ہے۔ میں ٹی وی پر اور اخبارات میں تمام دلائل دیکھتا ہوں اور لگتا ایسا ہی ہے کہ عوام کی آواز اَب نقّارہ خدا بننے والی ہے، دیکھیے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ عموماً تاریخ گواہ ہے کہ ظالموں اور گنہگاروں کی عمر لمبی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے، حجّت پوری کرنے کے لیے، تاکہ گنہگار مزید گناہ کریں اور پھر ان کی سخت گرفت ہو سکے۔ بہرحال آج کے کالم کا موضوع ملک پر طاری نحوست اور عتاب نہیں ہے بلکہ قارئین کو چند نہایت اہم اور معلوماتی کتب کے بارے میں بتلانا چاہتا ہوں تاکہ وہ اس سے استفادہ کر سکیں۔

    (۱) سب سے پہلے تو اپنے نہایت عزیز دوست، مشہور صحافی اور تجزیہ نگار عرفان صدیقی صاحب کی کتاب ”مکّہ مدینہ“ پر کچھ روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ عرفان صدیقی صاحب سے اردو ادب کے قارئین اور شائقین بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ روزنامہ جنگ میں آپ کے کالم باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں اور بے حد سراہے جاتے ہیں۔ آپ ہر مسئلہ پر نہایت اہم تجزیہ پیش کرتے ہیں اور کھوتے کو کھوتا کہتے ہیں کسی قسم کی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ عرفان صدیقی صاحب اس ملک کے چند چیدہ چیدہ تجزیہ نگاروں میں سے ہیں۔

    مکّہ، مدینہ“ نامی کتاب بہت دلکش طور پر پیش کی گئی ہے۔ اس میں صدیقی صاحب نے نہ صرف حج و عمرہ کے روح پرور تاثرات بیان کیے بلکہ دوسرے اہم موضوعات پر نہایت اہم اور معلوماتی تبصرے کیے ہیں مگر حج، عمرہ کے بارے میں جو تاثرات بیان کیے ہیں وہ دل میں تیرکی طرح لگتے ہیں۔ صدیقی صاحب نے لکھا ہے کہ ان کو پہلی بار مکّہ مدینہ جانے اور حج اور زیارتِ روضہٴ رسول صلعم کی سعادت1978 ء میں ہوئی تھی۔ آپ نے فریضہٴ حج کی ادائیگی کے دوران، مدینہ منورہ میں قیام اور وہاں سے رخصت ہوتے وقت اپنی دلی کیفیت کا اظہار ایک نظم کی شکل میں بیان کیا ہے۔ پوری نظم طویل ہے اور بہت پیاری ہے مگر میں آپ کی خدمت میں چند اشعار پیش کر رہا ہوں۔

    میرا مقام کہ یثرب کی سر زمین دیکھوں!

    مرا نصیب کہ ارض رسول صلعم تک پہونچوں

    یہ بات میرے تخیل سے ماورا تھی کہ میں

    نبی صلعم کے شہر میں پہونچوں نبی صلعم کی نعت کہوں

    میں کس خیال سے لپٹوں تیرے ستونوں سے؟

    میں کس طرح ترے روضہ کی جالیاں چوموں؟

    دُعا کو ہاتھ اٹھاؤں تو لفظ نہ ملیں

    یہ سوچتا ہوں کہ مانگوں تو کس طرح مانگوں؟

    صدیقی صاحب نے اس کتاب میں کئی کالم شائع کیے ہیں جو مکہ، مدینہ اور سعودی عرب سے متعلق ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ وہاں جانے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں وہ بھی اور جو اس سعادت سے محروم ہیں وہ بھی ان مضامین کے مطالعہ کے دوران یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ خود وہاں موجود ہیں اور ہر لمحہ لذت و نشہ سے محظوظ ہو رہے ہیں۔

    کتاب میں کئی اور اہم موضوعات پر کالم موجود ہیں جو ایک نادر خزینہ ہیں۔ میں قارئین جنگ و دی نیوز اور اہل زبان سے درخواست کروں گا کہ وہ اس اہم کتاب کا مطالعہ کریں اور لطف اندوز ہوں۔ اس نادر کتاب کو لاہور سے جہانگیر بکس(042-37314319) نے نہایت خوش زیب طریقہ سے شائع کیا ہے۔

    (۲)دوسری نہایت ہی اہم ،دلچسپ،تاریخی اہمیت کی کتاب" نقوش پائے مصطفیٰ ہے اس کے مصنف محمد مکی حجازی ہیں۔ ترتیب و تحقیق ابومحمد عبدالمالک کی ہی، اس کو گرافکس کلر سروسز کراچی (0321-2162227) نے شائع کیا ہے۔یہ کتاب سیرت، مقامات سیرت پر اردو زبان میں اپنے طرز کی منفرد پیشکش ہے۔ اس اہم کتاب میں جو واقعات بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔

    حیات سعیدہ کے پہلے چالیس سال، نبوّت کے پہلے تیرہ سال، سفر طائف لمحہ بہ لمحہ، سفر معراج ، سفر ہجرت لمحہ بہ لمحہ، مدینہ منورہ کے شب و روز، قبا میں ورد، سفر بدر لمحہ بہ لمحہ، غزوہٴ احد لمحہ بہ لمحہ، غزوہ ذات الرقاع لمحہ بہ لمحہ، غزوہ دومتہ الجندل لمحہ بہ لمحہ، غزوہ بنو مصطلق لمحہ بہ لمحہ، واقعہٴ خندق لمحہ بہ لمحہ، غزوہٴ بنی لحیان لمحہ بہ لمحہ، غزوہٴ ذی قرد لمحہ بہ لمحہ، سفر حدیبیہ لمحہ بہ لمحہ، غزوہٴ خیبر لمحہ بہ لمحہ، حجتہ الوداع لمحہ بہ لمحہ، مدینہ منورہ میں آثارنبوی، سفر آخرت دنیا فانی کو الوداع۔

    آپ کو اس سے اندازہ ہوگا کہ یہ کتاب ایک نادر خزینہٴ معلومات ہے۔ اس کتاب کو جس چیز نے منفرد کر دیا ہے وہ لاتعداد اہم تصاویر ہیں جو زیادہ تر رنگین ہیں اس کے علاوہ کئی نہایت اہم نقشہ جات موجود ہیں۔ یہ کتاب عاشق رسول اور مسلمان کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔ عام پاکستانی مورخوں کے برعکس اس کتاب کے آخر میں اشاریہ یعنی انڈکس بھی موجود ہے۔

    (۳) تیسری نہایت ہی اہم، معلوماتی کتاب پاکستان کرونیکل ہے جو پاکستان کی تاریخ اور عوامی انسائیکلوپیڈیا ہے اور یہ کتاب پاکستان کی تاریخ 14اگست1947 سے 31مارچ، 2010 تک کے تمام اہم ترین واقعات پر مبنی ہے۔ اس کی تحقیق و تالیف جناب عقیل عباس جعفری صاحب نے کی ہے، اس کو ورثہ پبلی کیشنز کراچی (021-35346028) نے شائع کیا ہے۔ یہ جناب عقیل عباس جعفری صاحب کی بیس سالہ کاوش کا ثمر ہے اور اس میں پاکستان کی تاریخ کا ایک ایک لمحہ محفوظ کر دیا گیا ہے۔ عباس صاحب نعت گو اور قومی نغمہ نگار کے طور پر بہترین ایوارڈ حاصل کرنے والے بھی ہیں۔ تقریباً گیارہ سو صفحات پر مشتمل یہ خزینہ معلومات ہے۔ مختصراً یہ کتاب پاکستان میں سیاست،ادب،موسیقی،مصوری،فن تعمیر، سائنس،صحافت،فلم،ٹیلیویژن،ریڈیو،صنعت وتجارت اور کھیلوں کی دنیا میں پیش آنے والے واقعات کی مکمل اور مستندتاریخ ہے۔5000سے زائد واقعات اور 4000 سے زائد تصاویر ہیں۔

    (۴) ایک اور نہایت قابل تحسین کتاب پروفیسر ماجد صدیقی کی" بنام ماجد نشان "ہے۔ یہ کتاب تقریباً ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور کلیات غزل اور کلیات نظم کے تحت دو حصوں پر مشتمل ہے۔ میں ماجد صدیقی صاحب کو تقریباً 25 سال سے جانتا ہوں اور ان سے میرے پنڈی والے دفتر میں ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔کتاب بہت دیدہ زیب ہے اور اس میں لاتعداد نہایت اچھی غزلیں اور نظمیں موجود ہیں۔ یقیناً اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے اس کے ناشر پورب اکادمی اسلام آباد ہیں اور پبلشر ماجد نشان پبلشرز(051-5469760) اسلام آباد ہیں۔

    (۵)چار اور کتب جو نہایت دلچسپ اور طنزو مزاح سے پرُ ہیں اور قابل مطالعہ ہیں، ان میں سے تین کتب تو مشہور صحافی، ادیب و سفارت کار جناب عطاء الحق قاسمی کی تحریر کردہ ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں (۱) وصیّت نامے (۲) عطائیے اور(۳) دنیا خوبصورت ہے۔ یہ تینوں کتب دیدہ زیب ہیں اور ان کو نستعلیق مطبوعات لاہور (0300-4489310) نے شائع کیا ہے۔ چوتھی کتاب جناب زاہد ملک صاحب کی تصنیف کردہ ہے۔ زاہد ملک صاحب بھی ملک کے مشہور صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ کتا ب کا نام " مستقل مزاجی" ہے اور یہ طنز و مزاح پر مبنی کالموں کا انتخاب ہے اس کو پورب اکادمی، اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔

    ملک اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے اور عوام جن ذہنی، نفسیاتی اور مالی مشکلات کا شکار ہیں ان کے دلوں کو کچھ سکون دینے اور چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے یہ کتب تریاق ہیں۔

    میں یہاں یہ عرض کروں گا کہ میں نے جن کتب پر تبصرہ کیا ہے وہ ہی صرف اعلیٰ اور قابل مطالعہ نہیں ہیں بلکہ مجھے یقین ہے کہ ماضی قریب میں کئی اعلیٰ کتب شائع ہوئی ہیں اور قابل مطالعہ ہیں۔ میں نے صرف ان کتب پر تبصرہ کرنے کی جسارت کی جو مصنفین نے نہایت خلوص و محبت سے مجھے تحفتاً روانہ کی ہیں۔

     

     

     

               

     

                         

               

    جمہوریت، آمریت اور انصاف......سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   10/18/2010

    کچھ عرصہ قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے لندن سے ایک بیان داغ دیا تھا جس سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ انھوں نے یہ بیان موجودہ حکومت کی زبوں حالی اور نااہلی سے تنگ آکر ”محب وطن فوجیوں“ کی حکومت کو بہتر اور وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ اس بیان نے حکمران طبقہ اور دوسرے عیاشی کرنے والے طبقوں میں ہلچل مچا دی اور وہ وہی پرانا گھسا پٹا مانگا ہوا نعرہ لگانے لگے کہ بدترین جمہوریت آمریت سے زیادہ اچھی ہے حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ بعض ممالک میں آمرانہ دور جمہوری دور سے ہزار درجہ بہتر رہے ہیں اور نہ صرف ان ممالک نے بہت ترقی کی ہے بلکہ اپنے عوام کا معیار زندگی بھی اچھا کردیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں لاتعداد جمہوری دور ایسے گزرے ہیں اور موجود ہیں جو نہ صرف ملک بلکہ عوام کے لئے ایک لعنت ہیں۔ جنوبی کوریا، چین، روس وغیرہ میں آہنی ہاتھوں سے حکومت نے ان ممالک کو نہایت خوش حال ترقی یافتہ ممالک میں شامل کردیا۔ جنرل پاک، ماؤزے تنگ اور اسٹالن کو لوگ آج بھی محبت اور خلوص سے یاد کرتے ہیں۔ ہمارے اپنے ملک میں موجودہ جمہوری حکومت نے ملک کو تباہ کردیا ہے گویا ”اب جو حالت ہے وہ تو کبھی ایسی نہ تھی“۔ عوام اس جمہوریت اور ایسے جھوٹے، چور، منافق اور بے رحم حکمرانوں پر صبح شام لعنت بھیج رہے ہیں۔ جہاں تک ”محب وطن جنرلوں“ کی بات ہے تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ یہ اُسی وقت تک محب وطن رہتے ہیں جب تک وہ سرحدوں اور اپنی یونٹوں میں رہتے ہیں مگر جب وہ اسلام آباد کے ایوانوں کی عیاشی کے عادی ہوتے ہیں بالکل ہی مختلف انسان ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں سے بڑھ کر عیاشی، رشوت ستانی، اقربا پروری عروج پر پہنچ جاتی ہے اور بات وہی ہوتی ہے کہ عوام کو اس تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ”بیل گیا اور خر آیا“۔

    اور اب صرف عوام یہ سوال کررہے ہیں کہ الطاف حسین کو آمریت کے حامی اور طرفدار بنتے ہوئے جمہوریت کیوں یاد نہیں آئی۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اُنہوں نے اس ملک پر موجودہ کرپٹ طبقہ مسلط کرتے وقت اور زرداری کو صدر بنانے کا سب سے پہلے مشورہ کیوں دیا۔ جب زرداری، گیلانی اور دوسرے حواریوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا، بیروزگاری، مہنگائی اور بجلی کے بحرانوں کو آسمان تک پہنچا دیا تو اب ان کو برائیاں نظر آرہی ہیں۔ جب بھوکے، بیروزگاروں اور غریبوں پر لاٹھیاں برسنے لگی ہیں عدلیہ کے فیصلوں کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے اس وقت ان کو تکلیف ہو رہی ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ جمہوریت میں عوام کی خواہشات کے مطابق اور آمریت میں ڈکٹیٹروں کی خبط الحواسی کے مطابق سرکاری کام کئے جاتے ہیں۔

    علامہ اقبال کی ہمہ دانی قابلیت، فلسفہ، رہبرانہ صلاحیت کا ہر پاکستانی معترف ہے۔ لوگ ان کو مفکر پاکستان کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ جمہوریت کے بارے میں ان کا یہ شعر نہایت معنی خیز ہے۔

    گریز اَز طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو

    کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آید

    یعنی اے تجربہ کار اور عقل مند غلام جمہوری طرز حکومت سے دور رہ، کبھی دو سو گدھوں کی عقل و فہم ایک انسانی عقل و فہم و تدبّر کے برابر نہیں ہوسکتی“۔ ایک اور جگہ ”جمہوریت“ نامی قطعہ میں فرمایا ہے۔

    اس راز کو اک مردِ فرنگی نے کیا فاش

    ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے

    جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں

    بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

    ایک جگہ علامہ نے سلطانی جمہور کی تعریف کی ہے۔ جمہوری طرز حکومت کی نہیں:

    سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ

    جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

    ان کا مطلب عوام کی حکمرانی ہے، نام نہاد جمہوریت جیسی منتخبہ سیاسی گٹھ جوڑ والی حکومت نہیں ہے۔ مغربی ممالک میں صدیوں سے جمہوری نظام قائم ہے اور تعلیم کی موجودگی میں کامیاب رہی ہے۔ مسلم ممالک میں ایشیائی ممالک میں خاص طور پر جمہوریت ایک مذاق ہے۔ ہمارے اپنے ملک میں خاندانی ڈکٹیٹر شپ چل رہی ہے۔ وہی لوگ بگھی میں بیٹھے رہتے ہیں اور عوام اس کے گھوڑے بن کر اس کو کھینچتے رہتے ہیں۔ بڑی بڑی پار ٹیاں خود آمرانہ طرز عمل اختیار کئے ہوئی ہیں جب پارٹی میں ہی جمہوریت نہیں تو حکومت میں کہاں سے آئے گی۔ ”چوں کفراز کعبہ بر خیز و کجا باشد مسلمانی“ یعنی جب کعبہ سے کفر پیدا ہو تو مسلمانیت کہاں رہے گی“۔ خلاصہ یہ ہے کہ بہتر حکومت کے لئے لازم ہے کہ خواہ فرد ہو یا جماعت نیک نیتی، ایمانداری، اخلاص اور انصاف لازمی شرط ہیں۔ بد قسمتی سے موجودہ حکمران ان تمام خصوصیات سے مبّرا ہیں۔ میں نے اس ملک میں کبھی حکمرانوں کے بارے میں ایسے گندے، غلیظ، ہتک آمیز، سخت الفاظ نہیں سنے تھے اور حقیقت یہ ہے عوام کی اکثریت ان الزامات پر پورا یقین کرتی ہے۔ صدر کا ماضی جس طرح کا ہے وہ سب پر عیاں ہے مگر عوام کو جو بہت دُکھ دینے اور غصّہ دلانے والی بات ہے وہ گیلانی کا روّیہ ہے جو شخص خود کو غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی کی اولاد میں سے ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کو منافقت کرنے اور جھوٹ بولنے میں قطعی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے بین الاقوامی اُمور کے سابق سربراہ نے چند دن پیشتر ٹی وی پروگرام میں گیلانی کو ان ہی القاب سے مخاطب کیا تھا۔ گیلانی کا سیّد زادہ ہونے اور دوسروں پر برتری حاصل ہونے کا دعویٰ ایسا ہی ہے جیسا کہ مشرف نے سیّد زادے ہونے کا اور کئی بار خانہ کعبہ میں اور روضہ مبارک میں داخل ہونے اور خود کو سب سے برتر ہونے کا دعویٰ کیا تھا حالانکہ فوج کے افسران اس کے سیاہ کرتوتوں سے پوری طرح واقف تھے اور اس کے کردار کی کہانیاں زبان زد تھیں۔ پچھلے تقریباً ایک سال سے این آر او اور اٹھارہویں ترمیم کیسوں کی سماعت نے پوری قوم کو اغوا کیا ہوا ہے۔ دونوں جانب سے لاتعداد وُکلاء پیش ہوئے ہیں اور عدالت روزانہ سماعت کر رہی ہے۔ نہ ہی میں نے قوانین پڑھے ہیں اور نہ ہی ایسے مقدمات کے بارے میں چلتے پھرتے تبصرہ کرنے کی جسارت کر سکتا ہوں۔ البتہ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اسلامی تاریخ کے سنہری انصافی فیصلوں سے واقف ہوں۔ کیا ہم حضرت عمر ، حضرت عمر بن عبدالعزیز ، خلیفہ ہارون الرشید، خلیفہ مامون الرشید، خلیفہ عبدالمالک، محمود غزنوی، جلال الدین خوارزم شاہ، علاؤ الدین خلجی کے دور حکومت میں انصاف کی فراہمی کو بھول سکتے ہیں۔ اس وقت نہ ہی تاخیر اور نہ ہی تفریق ہوتی تھی۔ آج کل کی وسیع بنچوں کے برعکس اس وقت صرف ایک قاضی ہوتا تھا اور وہ ایک سماعت میں فیصلہ دے دیتا تھا۔ کسی کو کبھی اس کی جانبداری اور اہلیت پر انگلی اُٹھانے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ قاضی کے سامنے حضرت عمر اور ایک حبشی غلام برابر تھے۔ قاضی بیانات سے نہیں فیصلوں سے عزّت و احترام کرتے تھے۔ موجودہ دور میں سعودی عرب اور چین میں نظام انصاف بہت جلد اور صحیح مل جاتا ہے۔ ان دونوں ممالک میں ایک ہی یا زیادہ سے زیادہ دو سماعتوں کے بعد فیصلہ ہوجاتا ہے۔ مجرم سزا سے نہیں بچ سکتا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں چھوٹے چھوٹے مقدمے برسوں چلتے رہتے ہیں اور کمزور اور غریب کو انصاف نہیں ملتا۔ جہاں دیکھئے مصلحت ہی نظر آتی ہے۔ ابھی ماضی قریب ہی کی بات ہے کہ مشرف کے صدر بننے کی اہلیت کا مقدمہ سنا جا رہا تھا وہ ایک سرکاری ملازم تھا۔ کئی ماہر قوانین نے کہا کہ اس کا فیصلہ آدھے گھنٹہ میں ہونا چاہیئے تھا۔ مقدمہ کو خواہ مخواہ اتنا طول دیا گیا کہ اس نے کاری ضرب لگا کر ملک کی بنیادیں ہلادیں اور عدلیہ کو اپاہج کردیا۔ اسی طرح آجکل بھی لاتعداد مقدمے ایک یا دوسری وجہ سے التوا کا شکار ہیں۔ عدالت میں خوب بحث ہوتی رہتی ہے۔ گرما گرم بیانات آتے ہیں اور پھر سماعت نہایت آسانی سے چند ہفتوں کے لئے ملتوی کردی جاتی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس مملکت خداداد پاکستان میں انصاف عنقا ہوگیا ہے۔ پہلے زمانے میں آپ حضرت عمر کو کھلے عام للکار سکتے تھے۔ آجکل حکمراں دس بارہ گاڑیوں اور تیس چالیس گارڈکے ساتھ آپ پر حقارت کی نگاہ ڈال کر نکل جاتے ہیں۔ میں نے خود خدا جانے کتنی بار اخبارات میں پڑھا اور ٹی وی پر سُنا کہ ججوں کی ہدایت کے باوجود پولیس افسران اور سرکاری اہلکار نہ حاضر ہوتے ہیں اور نہ ہی رپورٹ پیش کرتے ہیں اور معاملہ ”اگلی “ پیشی پر ٹل جاتا ہے۔ اگر جج صاحبان مصلحتی روّیہ ترک کردیں اور فوراً فیصلے سنا دیں تو لوگوں میں ان کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی جرأت نہ ہو۔ موجودہ حکومت نے جس طرح عدلیہ کے فیصلوں کا مذاق اُڑایا ہے وہ ہمارے لئے بُری خبر ہے۔ لوگ کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں اور عدلیہ پر طعنہ زنی کررہے ہیں۔ آہستہ آہستہ عوام بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ عدلیہ نے مصلحتانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ وزیر قانون نے عدلیہ اور قانون کو تختہ مشق بنایا ہوا ہے۔ ہتک عدلیہ کے تحت ایک فیصلہ میں ان کی طبیعت ٹھیک کی جاسکتی ہے۔حقیقت یہ ہے اور یہ کہتے بہت دُکھ ہوتا ہے کہ ہمارے قائد اعظم کے ملک میں ججوں اور عدلیہ سے زیادہ ایس ایچ ا و اور پٹواری کے احکامات کی عزّت اور سنوائی ہے۔ مجھے ابھی بھی اپنے پرانے جج صاحبان، جسٹس حمود الرحمن، جسٹس ایم آر کیانی، جسٹس شبیر، جسٹس صمدانی، جسٹس کارنیلس اور جسٹس ابرار حسن خان یاد آتے ہیں۔ وہ کیا سنہری وقت تھا۔ لوگ کانپتے تھے ان کے سامنے پیش ہوتے وقت۔ایک عرض یہ ہے کہ معذرت خواہانہ لہجہ میں ٹھیک فیصلہ دینا یا سچ بولنا غلط فیصلے اور جھوٹ بولنے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ قرآن اور احادیث بلا خوف و خطر اور صحیح انصاف کرنے کے احکامات سے پُر ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں اب احکام الٰہی اور احادیث الماریوں کی زینت بن کر رہ گئے ہیں۔

    نوٹ:گزشتہ کالم میں کتاب ”نقوش پائے مصطفےٰ“کے بارے میں لکھا تھا ،درستگی کرلیں، یہ ابو محمد عبدالمالک کی تصنیف ہے جبکہ تقریظ اور پیش لفظ مولانا محمد مکی حجازی کی ہے۔

     

                         

               

    ملک و قوم کی خدمت.....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان..... (گزشتہ سے پیوستہ)   10/26/2010

    یہ سب اس طرح لوٹ میں لگے ہیں جیسے یہ ان کا آخری دو ر حکومت ہے اور اس وقت وہی صورت حال ہے جو بینظیر کے دونوں حکمرانی کے ادوار میں تھی۔ ہر شخص کو رشوت ستانی کی تفصیلات معلوم تھیں اور باہر کے ملکوں میں بنک اکاؤنٹس کی جو تفصیلات آئی ہیں اس میں بینظیر، زرداری اور نصرت بھٹو سرِفہرست ہیں۔ ان کے پاس یہ اربوں روپیہ کہاں سے آگیا ۔ اگر آپ یہ سوال پی پی پی کے عہدیداروں سے پوچھیں تو ان کو بے حد تکلیف ہوتی ہے اور فوراً چلانے لگتے ہیں کہ صرف ایک شخص کو تختہ مشق بنایا ہوا ہے۔ جی ہاں اس لئے اس کو تختہ مشق بنایا ہے کہ وہ ملک کا سربراہ ہے، بین الاقوامی سطح پر ہمارا نمائندہ ہے اور رشوت ستانی کے ثبوت اس کے خلاف موجود ہیں۔ حضرت عمر کو ایک بدّو نے کھلے عام للکارا تھا کہ اُنہوں نے کسطرح طویل القامت ہوکر اپنے حصّہ کی چادر سے لباس بنوایا تھا ۔ اس بدّو نے کسی لکڑ ہارے یا چرواہے کو نہیں للکارا تھا، امیرالمومنین کو للکارا تھا اور آپ نے بتایا تھا کہ ان کے بیٹے نے اپنے حصّہ کا ٹکڑا ان کو دیدیا جس کو ملاکر وہ اپنا عبا یا بنوا سکے تھے۔

    رشوت ستانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو سُن سُن کر ہمارے کان عادی ہوگئے ہیں مگر اس سے بھی سخت تکلیف دہ اور باعث فکر وہ یہ بیان ہے کہ عوام کو انصاف نہیں مل رہا۔ میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ عدلیہ کے مصالحانہ اور تاخیری فیصلوں نے عوام کو سخت مایوس کر دیا ہے۔ ماہر قوانین، اعلیٰ وکلاء، سابق مشہور جج صاحبان اب ٹی وی پر کھل کر کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ کا یہ رویہّ اس ملک کو تباہ کر دے گا۔ بہت پہلے میں نے ایک کالم بعنوان ”بیوقوف یہ عدلیہ ہے“ میں صاف طور پر لکھا تھا کہ ہماری بہت سی لعنتوں کی ذمّہ دار عدلیہ ہے۔ گیارہ ماہ سے این آر او کا مقدمہ چل رہا ہے اور بحث جاری ہے۔ کیا سترہ اعلیٰ جج صاحبان اس قابل نہیں کہ اس کو سمجھ سکیں اور دو تین ہفتوں میں فیصلہ کرکے عوام کو اس عتاب اور لعنت سے نجات دلوادیں۔ تیرہ تاریخ سے پہلے وزیر اعظم گیلانی نے کہ دیا تھا کہ تیرہ تاریخ آئے گی اور چلی جائے گی اور کچھ نہ ہوگا۔ باعث تعجب اور فکریہ بات ہے کہ ان کو یہ راز کیسے معلوم ہوگیا تھا اور واقعی تیرہ تاریخ کو عدلیہ نے ان کی پیشگوئی پوری کردی۔

    اب نیب کے چےئرمین کا معاملہ بھی ہمیں مہینوں اُلجھائے رکھے گا۔ ساتھ ہی ساتھ دو چار پولیس کی اور وکلاء کی سرگرمیوں کے از خود نوٹس لئے جائیں گے اور اخبارات اور ٹی وی کی رونق بن جائیں گے۔حقیقت یہ ہے ان اڑھائی سالوں میں حکمرانوں نے تو ہمیں تباہ کر ہی دیا ہے مگر عدلیہ کی کارکردگی بھی ایسی نہیں کہ ہم فخر کرسکیں۔ میرے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ ایک فرد کے حقوق ملکی حقوق کے آگے کچھ حیثیت نہیں رکھتے یعنی جس شخص نے ملکی سلامتی کو یقینی بنایا وہ ایک استعمال شدہ بیکار کپڑا ہے اور جو شخص رشوت ستانی کا مصّدقہ مجرم ہے اس کو ہاتھ لگانا جرم ہے کہ ملک کی بدنامی ہوگی۔ ماشاء اللہ کیا نظام عدل اور کیا مساوات۔

    آپ کی خدمت میں یہ گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ معذرت خواہانہ لہجہ میں سچ بولنا اور صحیح انصاف نہ دینا یا تاخیر سے دینامنافقت سے بھی بدتر ہے۔

     

     

                         

               

    بجلی کا بحران و حل....سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   11/1/2010

    موجودہ حکمرانوں نے روز نت نئے بحرانات پیدا کرکے عوام کے دماغ سے مہنگائی، بے روز گاری اور لوڈ شیڈنگ کی لعنت کو نکال دیا ہے۔ سیلاب کیا آیا کہ ہر چیز بمعہ عوام کی حِس، غیرت، جان و مال سب کچھ لے گیا۔ حکومت نے پورے ملک اور عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ این آر او، اٹھارویں ترمیم، راشیوں اور چوروں کو اعلیٰ عہدوں پر لگانا، اقربا پروری نے عوام کی زندگی حرام کر دی ہے۔ میں نے سوچا کہ آج چند سطور آپ کی خدمت میں بجلی کی پیداوار کے حکومتی منصوبوں پر بیش کروں۔

    میں پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سیاست دان اور حکمراں طبقہ تو ہمیشہ مصلحتاً غلط بیانی اور جھوٹے وعدہ کرنے کے عادی ہیں لیکن پیشہ ور یعنی پروفیشنل طبقہ کو اس لعنت کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ آپ کی توجّہ 23ستمبر کے ڈیلی نیوز میں پاکستان اٹامک کمیشن کے نئے چےئر مین اَنصر پرویز کی ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی ادارہ کی چوّن ویں جنرل کانفرنس میں کی گئی تقریر کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ جناب پرویز نے وہاں اعلان کیا کہ پاکستان اِٹامک کمیشن کو حکومت نے یہ ذمّہ داری سپرد کی ہے 2030تک یعنی بیس سال میں 8800 میگا واٹ ایٹمی بجلی پیدا کرے۔ پہلے تو آپ کو یہ علم ہونا چاہئے کہ کراچی کا ایٹمی پلانٹ 137 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے بنا تھا مگر اب پرانے ہونے کی وجہ سے عموماً 80 میگاواٹ بجلی پیداکرتا ہے اور بار بار بند بھی ہو جاتا ہے۔ چشمہ میں چین کا دیا ہوا پہلا پلانٹ 300میگاواٹ بناتا ہے۔

    ڈاکٹر پرویز کے بیان کے مطابق چشمہ میں چین کا مہیا کردہ 300میگاواٹ 2011 میں کسی وقت کام کرنا شروع کردے گا۔ خدا کرے یہ پیشگوئی، وعدہ صحیح ثابت ہو۔ مگر میں اس وقت اُن 8800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے بیان کے بارہ میں پریشان ہوں۔ اگر 300 میگاواٹ کے پلانٹ لگائے جائیں تو ہمیں کم از کم 29 پلانٹ کی ضرورت پیش آئے گی اور اگر ہم 900 میگاواٹ کے بڑے پلانٹ لگائیں تو تقریباً دس پلانٹ لگانا پڑینگے۔ اگر آپ معلومات حاصل کریں تو علم ہوگا کہ 300 میگاواٹ کا پلانٹ سب کچھ ملا کر تقریباً ایک ارب ڈالر میں تیار ہوتا ہے اور اس کی تیاری میں کم ازکم نو، دس سال لگ جاتے ہیں۔ چشمہ پلانٹ کے اعداد و شمار ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اب میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہم کسطرح بیس سال میں29چھوٹے یا دس بڑے پلانٹ لگا سکیں گے اور اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی ۔ ایک اور بڑا مرحلہ یا مسئلہ ان پلانٹس کو ایندھن مہیا کرنے کا ہے جہاں تک میری معلومات ہیں ابھی ہم اتنی مقدار میں ایندھن بنانے کے قابل نہیں ہیں۔ کہوٹہ میں موجود سہولتوں کو بہت وسعت دینا ہوگا۔ اس سلسلہ میں مجھے اٹامک انرجی کمیشن کے سابق چےئر مین مرحوم منیر احمد خان کا ایک انٹرویو یاد آتا ہے۔ اُنھوں نے 1980میں جناب الطاف حسن قریشی کو اردو ڈائجسٹ کے لئے یہ انٹرویودیا تھا اور کہا تھا کہ سن دو ہزارتک ہر سال ایک ایٹمی پلانٹ لگایا جائے گا۔ ان کے دور میں1990 میں چین سے صرف 300میگاواٹ کے پلانٹ کا معاہدہ ہوا تھا اور یہ پلانٹ تقریباً دس سال میں تیار ہوا تھا۔ بہر حال میری نیک خواہشات اٹامک انرجی کمیشن کے ساتھ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے نیک ارادوں میں کامیاب کرے۔ آمین۔ ڈاکٹر اَنصر پرویز کا بین الاقوامی اٹامک ایجنسی کے بورڈ آف گورنر کا سربراہ چنا جانا پاکستان کے لئے باعث عزّت ہے۔

    تھرکول پروجیکٹ اور تھر میں کوئلہ کے ذخائر کے بارہ میں لاتعداد متضاد دعوے اور بیانات آتے رہے ہیں۔ چار جولائی 2010کے ڈیلی نیوز میں ہمارے قابل تجزیہ کار ڈاکٹر فرّخ سلیم نے ایک مختصر مگر جامع مضمون شائع کیا تھا۔ اس میں آپ نے بتلایا تھا کہ دعووں کے بر خلاف کہ 185بلین ٹن ذخائر ہیں ہمارے یہاں صرف تین بلین ٹن ذخائر ہیں۔ اس میں خراب کوالٹی کا لِگنائٹ کوئلہ بھی شامل ہے۔ اس کو لکڑی اور کوئلہ کی درمیانی حالت سمجھا جاتا ہے۔ اس کو عموماً خشک کرکے اور پریس کرکے بلاک میں تبدیل کرکے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو کوئلے کی سب سے نچلی کوالٹی تصور کیا جاتا ہے ۔ اس میں تقریباً 30فیصد کوئلہ کی مقدار ہوتی ہے، نمی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے یعنی 60 فیصد سے بھی زیادہ اور راکھ کی مقدار 15سے 20فیصد ہو سکتی ہے۔ اس کی کوالٹی پر منحصر ہوتا ہے کہ اس میں کسقدر انرجی ہوتی ہے اور یہ 10 سے 15ملین برٹش تھرمل یونٹ فی ٹن ہوتی ہے۔ اس قسم کے کوئلہ کی بین الاقوامی مارکیٹ میں کم قیمت ہوتی ہے اور اس وجہ سے زیادہ تجارت نہیں کی جاتی۔ پاکستان اس وقت صرف چار اعشاریہ تین ملین ٹن اس قسم کا کوئلہ تیار کرتا ہے۔ ڈاکٹر فرخ سلیم نے مزید تفصیلاً تمام دعووں کا نقطہ بہ نقطہ جواب دیا ہے اور اس سے یہ بات عیاں ہے کہ تھرکول پروجیکٹ ابھی ہمارے لئے چاند مانگنے کی خواہش ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ لِگنائٹ (تقریباً 180ملین ٹن) جرمنی میں، روس میں 85ملین ٹن، امریکہ میں 80ملین ٹن، ترکی میں 60ملین ٹن، چین میں 60ملین ٹن، رومانیہ میں 30ملین ٹن اور شمالی کویا میں تقریباً 27 ملین ٹن سالانہ پیدا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فرخ سلیم کے اعداد و شمار سرکاری اعداد شمار کی تردید کرتے ہیں کہ پاکستان میں 175بلین ٹن ذخائر موجود ہیں اور اس سے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ہماری روایت کے مطابق اس قسم کے دعوے عموماً غلط نکلتے ہیں اور دعوے کرنے والے غائب ہوجاتے ہیں اور بے چارہ یہ غریب ملک بُھگتتا رہتا ہے۔ 13اکتوبر کے ڈان میں دو مضامین شائع ہوئے تھے ایک مشہور صحافی جناب شمیم الرحمن صاحب کا تھا جو اُنھوں نے ڈان کی جانب سے منعقدہ کردہ ”پاور جنریشن اینڈ آلٹرنیٹ انرجی سورسز“ کانفرنس کی تفصیلات پر لکھا تھا۔ اس مضمون میں بہت سی تفصیلات موجود ہیں اور لاتعداد دعوے اور امیدیں۔

    دوسرا مضمون ایک خط کی شکل میں جناب اعجاز علی خان نے لکھا ہے۔ خان صاحب تھرکول اور انرجی بورڈ کراچی کے مینجنگ ڈائرکٹر میں انھوں نے تفصیل سے تھرکول پروجیکٹس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ توقع کے مطابق خان صاحب نے ابتک کئے گئے تمام اقدامات کی تعریف کی ہے اور درست قرار دیا ہے۔ میں نے تو جو خاص بات نوٹ کی ہے وہ یہ ہے کہ اینگرو پاکستان سے مشترکہ کمپنی کے علاوہ اس پرجیکٹ میں انگلستان کی دو کمپنیاں ”اوراکل کول فیلڈ“ اور” کُوگر انرجی“ بھی شامل ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے ایک بین الاقوامی کمپنی (نام ظاہر نہیں کیا) کوئلہ کی قیمت کا تعین کرنے میں مدد دے گی۔ اسی طرح کینڈا کی ایک فرم ” ایس این سی لا ویلن یا لاویلاں“ ٹرانسمیشن لائن ڈالنے کی قیمت کا تخمینہ لگائے گی۔ مجھے تھوڑی فکر ہے کہ اتنے ”باورچی“ ایک ڈش بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی ذمّہ داری کون لے گا اور کوارڈینیشن کون کرے گا۔ میں یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ مغربی ممالک صرف اس وقت کسی پروجیکٹ میں رقم لگاتے ہیں جب اُنھیں اس سے تین چار گنا رقم کی واپسی کی اُمید ہو۔ یہاں ان کو کوئی ایسی پُرکشش چیز نظر نہیں آرہی ہے۔

    جو اہم بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور جو عوام کو اب تک نہیں بتائی گئی ہے وہ اس سلسلہ میں چند سال پیشتر چین کی جانب سے نہایت مخلصانہ پیشکش تھی۔ اس وقت چین میں میرے عزیز دوست، سابق سیکرٹری خارجہ ریا ض محمد خان سفیر تھے۔ یہ چالیس سال پیشتر بھی جونیر افسر کے طور پر چین میں کام کرچکے تھے اور چینی زبان میں بھی کچھ مہارت حاصل کرلی تھی۔ یہ تقریباً آٹھ سال پیشتر کی بات ہے کہ اُنھوں نے تھرکول پروجیکٹ کے لئے چینی دوستوں سے رابطہ کیا اور ایک مشہور کمپنی شینفا (Shenfa) اسٹیٹ کارپوریشن کو تیار کر لیا کہ وہ اس پروجیکٹ کو ڈیویلپ کرنے کی ذمّہ داری قبول کرلیں۔ ان کی دعوت پر پاکستان کا ایک وفد اس وقت کے واپڈا کے چےئر مین کی سربراہی میں پیکنگ گیا۔ (جاری ہے)

     

                         

               

    بجلی کا بحران و حل....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان.... (گزشتہ سے پیوستہ)   11/2/2010

    گفت و شنید کے بعد شینفا کے پریزیڈنٹ نے نہایت پرکشش پیشکش کی کہ وہ 5.89 سینٹ فی یونٹ کی قیمت پر بجلی پیدا کرکے مہیا کرینگے اور پہلے دو عدد پلانٹ 325 میگاواٹ پیدا کرنے والے 2009میں تیار ہوجائینگے اور دو ایسے ہی پلانٹ 2010 میں تیار ہوجائینگے۔ واپڈا کے وفد نے بے جا بحث و بارگیننگ کی کہ قیمت 5.5 سینٹ فی یونٹ سے کم کی جائے ۔ شینفا والے اس میں مشکلات دیکھ رہے تھے مگر ریاض محمد خان کی محنت اور اصرار پر اس پر تیار ہوگئے کہ 5.39سینٹ فی یونٹ پر وہ بجلی پیدا کرکے دینگے۔ طے یہ پایا کہ واپڈا کا وفد پاکستان واپس آکر حکومت سے بات چیت کرکے ان کو فیصلہ سے مطلع کر دے گا۔ چےئر مین واپڈا ، ریاض محمد خان سے کہتے رہے کہ اتنی مہنگی قیمت پر بجلی لے کر وہ سولی پر چڑھنا نہیں چاہتے۔ بہر حال اس کے باوجود کہ شینفا کے پریزیڈنٹ نے کہا کہ ان کے اسٹاف کومناسب تنخواہ دینا بہت ضروری ہے مگر پھر بھی چونکہ پاکستان ہمارا پرانا دوست ہے ہم ہر طرح مدد کرنے کو تیار ہیں۔ ہمارے ملک اور قوم کی بد قسمتی ہے کہ ہم نے ہمیشہ ایسے لاتعداد اچھے مواقع ضائع کئے ہیں اور تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ اب ہم اس سے چار گنا قیمت پر بجلی لے رہے ہیں اور لوڈ شیڈنگ کی لعنت کا شکار ہیں۔

    میں اس بات سے بھی واقف ہوں کہ ہمارے ملک میں کوئلے اور ایٹمی پاور پلانٹس کے علاوہ ہمیشہ سولر اور ونڈملز سے بجلی پیدا کرنے کی باتیں ہوتی ہیں اور مشورہ دیئے جاتے ہیں اور پھر مسلسل ہائیڈل پاور کے بارہ میں بھی سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ نہ ہی راجہ پرویز اشرف اور نہ ہی دوسرے حکومتی عہدیداروں کے وعدے وفا ہوئے ہیں۔

    دیکھئے کسی بھی پروجیکٹ کی کامیابی کے لئے دو باتیں بہت اہم ہیں ایک تو قابل تجربہ کار سربراہ اور اسکی ٹیم اور دوسرے حکومت کی غیر مشروط سربراہی۔ پروجیکٹ کے سربراہ کی عقل و فہم، طریقہ کار اور اپنے ساتھیوں کے چناؤ کا بہت اہم رول ہوتا ہے۔ دوئم یہ کہ حکومت اس پروجیکٹ کو نہ صرف قومی سطح پر اپنائے اور جنگی بنیادوں پر اس کی تکمیل کا مُصمّم ارادہ کرے۔ اس کے علاوہ اس قسم کے پروجیکٹ کے لئے نہایت تجربہ کار کیمیکل انجینئرزکی ضرورت ہے۔ ایسے انجینئرز جن کو انڈسٹری کا وسیع تجربہ ہو۔ فی الحال تو ان تمام چیزوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ ہمیں چاہئے تھا کہ ہم چین کو اس پروجیکٹ کی تکمیل کا کام سونپتے۔ وہ تجربہ کار ہیں، مخلص ہیں اور نہایت قابل بھروسہ دوست ہیں۔ اب بھی وہی سب سے مناسب پارٹنر رہیں گے۔

     

               

     

               

               

    شکستیں کھاتا جاتا ہے۔ مقابل ہوتا جاتا ہے......سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان   11/8/2010

    ریاست بھوپال جنت مقام کے بارہ میں اکثر و بیشتر ان ہی کالموں میں لکھ چکا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ کیونکہ شاعر نہیں ہوں اسلیئے بھوپال کی خوبصورتی ، قدرتی مناظر، خوش اخلاق عوام، مذہبی روایات اور رواداری، ثقافت کی صحیح ترجمانی کرنے سے قاصر ہوں۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ جسطرح مکّہ شریف، مدینہ منوّرہ کی دید کرے بغیر انسان وہاں کے بارے میں صحیح کیفیت محسوس نہیں کرسکتا، یہی حال بھوپال کا ہے۔ نہ صرف قدرتی مناظر کے لحاظ سے جنت تھا بلکہ صحیح معنوں میں ایک فلاحی ریاست تھی، نہ بے روزگاری، نہ امن و امان کا مسئلہ، نہ فقیر یا بھکاری۔ جو صاحب ِ استعداد تھا وہ بھی قانع اور خوش اور جو صاحب استعداد نہ تھا وہ بھی قانع اور خوش۔ اردو چونکہ وہاں سرکاری اور عوام کی زبان تھی اور ماحول علمی اور ادبی تھا اسلئے لاتعداد اعلیٰ شعراء نے جنم لیا۔ اصغر شعری بھوپالی سادہ زبان میں پرکشش غزلیں کہتے تھے اور اُنھیں بادشاہ غزل کہا جاتا تھا۔ ان کی غزل کا ہی یہ شعر بے حد مشہور ہے:۔

    حریف جلوہ جاناں مِرا دل ہوتا جاتا ہے

    شکستیں کھاتا جاتا ہے مقابل ہوتا جاتا ہے

    یہ غزل اس قدر مشہور و ہر دلعزیز ہوئی کہ اسی بحر میں دوسرے شعراء نے بھی غزلیں کہہ ڈالیں۔ ایک غزل جو بے حد مشہور ہوئی وہ شکیل بدایونی کی ہے۔

    چمن میں رہ کے ویرانہ مرا دل ہوتا جاتا ہے

    خوشی میں آجکل کچھ غم بھی شامل ہوتا جاتا ہے

    یہ فلم دیدار کی زینت بنی جس میں اس غزل کو شمشاد نے اپنی پیاری زبان میں گایا تھا اور اسکی موسیقی نوشاد نے مرتب کی تھی۔ میں نے بھوپال میں متعدّد گلوکاروں کو یہ غزل گاتے سنا تھا۔بھوپال میں شاعروں کا بہت رواج تھا اور پورے ہندوستان سے مشہور شعرا ء کرام شرکت کرنے آتے تھے ۔ ان میں جوش ملیح آباد ی اور جگر # مراد آبادی سرفہرست تھے۔ بھوپال کے شعر أ میں باسط بھوپالی، محسن بھوپالی، حامد بھوپالی، احسن بھوپالی، اختر بھوپالی،معین احسن جذبی، ساحر بھوپالی، عنبر بھوپالی، عرشی بھوپالی، سُہا بھوپالی، مخمور بھوپالی، یکتا بھوپالی، اشکی بھوپالی، نسیم بھوپالی، نسیم بھوپالی، عیش بھوپالی، عرفان بھوپالی، سروش بھوپالی وغیرہ بہت اچھے شعرا ٴرہے ہیں۔

    دیکھئے کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ شعری# نے اپنے دل کی بہادری اور مستقل مزاجی کی تعریف کی ہے لیکن اس شعر کا مصرعہ ثانی، ”شکستیں کھاتا جاتا ہے مقابل ہوتا جاتا ہے“ مکمل طور پر موجودہ حکمراں ٹولے اور ان کے حواریوں پر صادق آتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے اور نہایت افسوس کی بات ہے کہ یہ مقابلہ کسی غیر دشمن سے نہیں بلکہ ملک کے ایک موقر ادارہ یعنی عدالت عظمیٰ کے خلاف ہے۔ دونوں اداروں کے کام جُداگانہ ہیں۔ عدالت کا کام قانون کی وضاحت اور تشریح اور حکومت کاکام اس کے احکام کی بغیر تاخیر اور تردّد تعمیل ہے۔ پچھلے دو سال میں ہم نے دیکھا ہے کہ عدالت کی جانب سے بار بار احکامات کی تعمیل نہیں کی جارہی ہے۔ بار بار حکومت کو پابند کیا جاتا ہے، تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ احکامات کی پابندی کریں مگر حکومت ان احکامات کا مذاق اُڑادیتی ہے اور سنجیدگی کا اظہار نہیں کرتی اور عدالت سے کھل کر تصادم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ مضحکہ خیز یہ بات ہے کہ گیلانی اور بابر اعوان یہ کہتے نہیں تھکتے کہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ جھوٹ کو حکومت نے ایک قومی پالیسی کے طور پر اپنا لیا ہے۔ سزا یافتہ بڑے بڑے مجرموں کو بلا خوف و خطر دوبارہ اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ یہ کبھی کبھی ایسے ایک دو افراد کو علیحدہ کرکے خوب تشہیر کی جاتی ہے اور عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے کہ حکومت عدالت کے احکامات کی تعمیل کررہی ہے اور اس کا حکم عدولی کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن میڈیا نے اب عوام کو بہت باشعور اور باخبر بنا دیا ہے۔ وہ حقیقت سمجھنے لگے ہیں اور دھوکا نہیں کھاتے۔

    دیکھئے آئین و قانون بنانے والوں نے حکومت کو تین حصّوں میں اسی لئے تقسیم کردیا کہ کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارہ کے کاموں میں مخل نہ ہو۔ قانون سازادارہ (لیجسلیچر)، ایگزیکٹیو (عمل کرنے والے) اور عدلیہ (جوڈیشری) یعنی فیصلہ کرنے والے۔ ملک میں خرابی جب پیدا ہوتی ہے کہ ایک ادارہ دوسرے ادارہ کے کام میں مخل اندازی کرے یا اس کی بات نہ مانے۔ اکثر ایگزیکٹیو ادارہ جس کا کام احکامات پر عمل کروانا ہوتا ہے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے عدالتوں کے احکام کو نظر انداز کرتا ہے۔ عدالت کے پاس چونکہ کوئی عمل درآمد کرنے والا طاقتور ادارہ نہیں ہے اسلئے وہ ایگزیکٹیو کے ”رحم و کرم“ پر گزارہ کرتی ہے۔ آجکل یہی خرابی بلکہ لعنت کا ملک کو سامنا ہے۔ عدالت قانون و دستور کے مطابق احکامات جاری کر رہی ہے مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ کھلے عام توہین عدالت ہو رہی ہے مگر عدلیہ کی نرم اور مصالحتانہ پالیسی کی وجہ سے انتظامیہ مزید شرارت پر کمر بستہ ہے۔ عدلیہ لوگوں کو مجرم قرار دیتی ہے انتظامیہ معاف کرکے ایسے لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر لگا دیتی ہے۔ ماضی قریب میں ایسے کئی واقعات عوام کے سامنے آئے ہیں۔ انتظامیہ کو سمجھ لینا چاہئے کہ قانون کی توضیع اور تشریح صرف عدالت کی ذمّہ داری ہے اور انتظامیہ کا اس کے احکامات کو من و عن قبول کرکے تعمیل کرنا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ انتظامیہ پر عدلیہ کی نگرانی اور پابندی نہ ہو تو بدترین آمریت جنم لیتی ہے اور ہر آمر سب سے پہلے عدلیہ پر وار کرکے اس کو یا تو بے بس کر دیتا ہے یا اگرضمیر فروش جج مل جائیں تو اسکو اپنا محکوم بنا لیتا ہے اور من مانے فیصلے کراتا ہے۔ ضیاء الحق اور مشرف کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اقتدار کا نشہ ایسا چڑھا کہ فرعون جیسا رویہّ اختیار کر لیا اور انجام بُرا نکلا۔ اس کے علاوہ بدقسمتی سے غیر معمولی مقبولیت اور کامیابی بھی انسان کو مغرور بنا دیتی ہے۔ آمروں کا اصول ہے کہ وہ کوئی چیز اپنی مرضی کے خلاف برداشت نہیں کرتے۔ خود ہمارے ملک میں مثالیں موجود ہیں، ایوب خان، ضیاء الحق، مشرف کا تھوڑا ابتدائی دور اچھا تھا مگر پھر جب ”خود اعتمادی“ آگئی تو آمر بن گئے اور خود کو مفاد پرستوں اور خوشامدیوں سے گھِر والیا۔ اور اپنی بدنامی اور زوال کا راستہ اختیار کرلیا۔

    ہم میں سے بہت سے لوگ ایک آمر کی سوچ اور طرز عمل سے واقف ہیں۔ جب وہ آتا ہے تو خود اعتمادی کا فقدان ہوتا ہے۔ اپنے چاروں طرف اپنوں اور غیروں سے مشورہ مانگتا ہے۔ چھ ماہ بعد اس کے رویہّ میں تبدیلی آجاتی ہے کہ دوستوں اور مخلص لوگوں کی باتیں دل برداشتہ خاموشی سے سنتا رہتا ہے مگر ایک سال بعد صحیح رنگ اختیار کرتاہے۔ ہر مخلص اور ہمدرد کی نصیحت و مشورہ کو حقارت و نفرت سے دیکھتا ہے اور جونہی کوئی کچھ نصیحت کر نا چاہے تو بات کاٹ کر کہتا ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو یہ کھوپڑی خالی ہے اور میں کچھ جانتا نہیں ہوں۔ میرے پاس لاتعداد خفیہ ادارے ہیں جو مجھے پل پل کی خبر دیتے رہتے ہیں اور میری انگلی عوام کی نبض پر رہتی ہے۔ جس مشیر یا دوست نے پھر بھی کچھ کہنا چاہا تو اس کو اپنے دائرہ اور نظروں سے دور پھینک دیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں طارق عزیز سے منصوب ایک بیان شائع ہوا تھا اور اُنھوں نے با لکل یہی بات مشورہ کے بارہ میں کہی تھی کہ این آر او کے بارہ جب انھوں نے مشورہ دینا چاہا تو ان کو جھڑک دیا کہ کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ اسکی کھوپڑی خالی تھی۔ یہی بات سابق وزیر داخلہ اور سابق گورنر سندھ جنرل مین الدین حیدر نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں بیان کی تھی کہ مشرف کچھ سننے کو تیار نہ تھا اور اگر وہ کوئی دوستانہ مشورہ دینا چاہتے تھے تو وہ ناراض ، چڑچڑا ہو جاتا تھا۔ اپنی ضد پر قائم رہا، خود کو عقل کل سمجھتا رہا اور ذلیل و خوار ہو کر ملک سے بھاگنا پڑا۔ دیکھئے ہوتا یہ ہے کہ آمر اپنے ہی کرتوتوں سے اس طرح جال میں پھنس جاتا ہے کہ تنگ آکر سوچنے لگتا ہے۔

    دوزخ میں ڈال دیے کوئی لے کر بہشت کو

    حکمراں طبقہ اور آمر صدیوں کی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے۔ تقریباً ایک ہزار سال پیشتر اس بلند پایہ مفکرّ ، عدیم النظیر فلسفی، بالغ نظر سیاست داں نطام الملک طوسی (وزیر اعظم سلطان الپ ارسلان اور سلطان ملک شاہ سلجوقی) نے ایک نایاب کتاب بعنوان سیاست نامہ تحریر کی تھی اور اس میں حکمرانوں کے لئے نہایت سنہری عملی ہدایات بیان کی ہیں جو ہر دور میں قابلِ عمل ہیں۔ اگر موجودہ حکمراں طبقہ عدلیہ سے مسلسل لڑنے کے بجائے ان ہدایات پر عمل کرے تو نہ خود اپنا مستقبل بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اس ملک کے مستقبل کو روشن اور پُر امید بنا سکتے ہیں۔

    تصحیح:۔ تھرکول پراجیکٹ۔ پچھلے ہفتہ کے کالم میں چینی کمپنی کا نام غلطی سے شینفا (Shenfa) لکھ گیا تھا۔ دراصل اس کا نام شین خوا (Shenhua) تھا۔ پاکستانی حکومت کے قبولیت کے فیصلہ میں تاخیر کے دوران چینی حکومت نے کمپنی کو پرائیویٹ کر دیا تھا اور پھر وہ حکومت پاکستان سے نیا معاہدہ کرنا چاہتے تھے اور 5.39سینٹ کی قیمت میں کچھ بہتری چاہتے تھے۔ اس کمپنی نے تھر کے علاقہ میں ابتدائی تخمینہ بھی ذخائر کے بارہ میں اور پانی کی موجودگی کے بارہ میں کیا تھا۔

     

     

     

               

               

               

    قابل تحسین عوامی خدمت....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان   11/15/2010

    ئیے آج ہم مہنگائی ، رشوت ستانی، بیروزگاری، قتل و گارتگری، دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کو بھول کر کچھ اچھے کاموں کی بات کریں۔ پچھلے دنوں مجھے دوجگہ جانے کی سعادت حاصل ہوئی اور دونوں ہی جگہ جاکر میرا دل باغ باغ ہوگیا اور یہ احساس ہوا کہ اس بے چارے کٹے پٹے ملک میں اب بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو نہایت اعلیٰ فلاحی کام انجام دے رہے ہیں اور خدمت خلق کر رہے ہیں۔ اور یہ کام نہایت ہی اچھے طریقے سے کیا جارہا ہے۔ میں پہلے 27اکتوبر کو پنڈی میں بحریہ ٹاؤن گیا۔ وہاں ایک کالج اور ایک ہسپتال کا افتتاح کرنے کا شرف حاصل ہوا اور پروجیکٹ کا دورہ بھی کیا۔ دوسرا دورہ تین نومبر کو گوجرانوالہ میں ہوا جہاں ایک گرلز ڈگری کالج میں تقسیم اسناد کے فنکشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ دونوں ہی دورے نہایت خوشگوار تھے اور ان کی یادیں دل پر نقش ہوگئی ہیں۔ میں آپ کو بھی اپنے تاثرات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔

    رمضان سے چند دن پیشتر مجھے ملک ریاض حسین صاحب نے بحریہ میں ایک نئے تعمیر کردہ کالج اور ایک نئے اسپتال دیکھنے کی دعوت دی تھی۔ میں وہاں گیا تو اس عجوبہ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میں اس سے تقریباً دس گیارہ سال پیشتر بحریہ ٹاؤن گیا تھا ۔ وہاں ملک صاحب نے بہت سے جانے پہچانے فوجی اور سول افسران کو بلایا تھا اور ایک کالج کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تھا جو میرے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ آپ کو غالباً علم ہے کہ 1976میں بھٹو صاحب کی درخواست پر پاکستان میں رُک کر اور ایٹمی پروگرام پر کام کرنے سے پیشتر میں تقریباً 15سال یورپ میں رہا تھا اور وہاں کے تمام ممالک کے دورے کئے تھے، امریکہ بھی گیا تھا۔ میں نے ان ممالک میں تعلیمی ادارے اور کئی ہاؤسنگ سوسائیٹزدیکھی تھیں لیکن جب بحریہ گیا تو بے حد متاثر ہوا اور بے حد خوش ہوا کہ ہمارے اپنے ملک میں بھی اتنا اعلیٰ پایہ کا کام ہو رہا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کی سڑکیں، باغات، مکانات کی تعمیر کا معیار، اعلیٰ پلاننگ ایک ناقابلِ فراموش تجربہ تھا۔ یہ ٹاؤن کسی بھی غیر ملکی ٹاؤن سے کہیں بہتر تھا اور میں مَلک صاحب کی صلاحیت کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔ میں کیونکہ تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بے حد دلچسپی رکھتا تھا ملک صاحب نے وہاں ایک کالج قائم کیا۔ یہ اعلیٰ پایہ کا کالج تھا (اور ہے) اور ازراہ قدردانی اس کا نام میرے نام پر رکھ دیا۔ اس کالج میں اس وقت ایک ہزار سے زیادہ بچّے، بچیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ قبل اس کے کہ میں اپنے موجودہ دورہ کا تذکرہ کروں ملک صاحب کی شخصیت کے بارے میں کچھ عرض کرنا پاہتا ہوں۔

    جب پہلی بار میں بحریہ کے دورہ پر گیا تو میں نے ملک صاحب کے بارے میں چند دوستوں سے معلومات حاصل کیں۔ مجھے بتایا گیا کہ ملک صاحب کا تعلق شہر اقبال سیالکوٹ سے ہے۔ ان کے والد 1970میں اسلام آباد آئے، چھوٹے موٹے تعمیراتی ٹھیکے لئے مگر نقصان ہوگیا۔ ملک صاحب نوجوان تھے ان کی ہمشیرہ بیمار ہوگئیں تو دو چار برتن فروخت کرکے ان کے لئے دَوائیں خرید سکے، مگر ان کا وژن تھا، جذبہ تھا اور ہمّت تھی۔ انھوں نے کسی دوست سے پندرہ سو روپیہ قرض لے کر اپنا کام شروع کردیا۔ محنتی تھے، نیت نیک تھی، اللہ تعالیٰ نے برکت دی اور نئے شہر کی ترقی و تعمیر کی وجہ سے کام ملتارہااور کاروبار میں ترقی ہوتی رہی۔ جہاں آجکل بحریہ ٹاؤن ہے میں اس علاقہ سے اچھی طرح واقف ہوں۔ یہاں ویرانہ تھا، بنجر علاقہ تھا، لوگ چوروں اور لٹیروں کے خوف سے اُدھر نہیں جاتے تھے۔ اِدھر اُدھر چند چھوٹی چھوٹی سی آبادیاں تھیں۔ یہ سرسبز و شاداب، منظم علاقہ نہ تھا۔ ایک ویران، خشک علاقہ کو ایک جنت مقام رہائشی علاقہ میں تبدیل کرنے کے لئے صرف رقم ہی نہیں اس سے کہیں زیادہ وژن کی ضرورت ہے۔ ملک صاحب نے غیر ملکی آرکیٹکٹ اور ٹاؤن پلانر کی خدمات حاصل کرکے اس اعلیٰ پروجیکٹ کی تکمیل کی۔ ملک صاحب نے لاہور اور مری ایکسپریس پر اعلیٰ پروجیکٹس شروع کی ہیں۔ میرا ابھی ان کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ میرے یقین کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ملک صاحب کو یہ ترقی و عزّت دو وجوہات سے دی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کبھی بنکوں سے سود پر قرض نہیں لیتے اور دوئم لاتعداد فلاحی کام کرتے ہیں۔ غریبوں کو مفت کھانا مہیا کرنا، مفت علاج مہیا کرنا ان کی زندگی کا اہم مقصد ہے۔

    27 اکتوبر کو میں پہلے نئے کالج کا افتتاح کرنے پہنچا اور کالج کی بلڈنگ اور اس کا فرنیچر، لیبارٹری کا سامان اور عمارت کا معیار دیکھ کر نہایت حیران اور خوش ہوا۔ ایسا محسوس ہوا کہ میں جرمنی، ہالینڈ یا بلجیم کی یونیورسٹی میں داخل ہوگیا ہوں۔ تمام فرنیچر اور سامان نہایت اعلیٰ پایہ کا درآمد کردہ ہے۔ اساتذہ تجربہ کار اور تعلیم یافتہ ہیں۔ کالج میں اس وقت 450 اسٹوڈنٹ ہیں۔ یہ فیز 8 میں واقع ہے۔ یہاں SSCتک تعلیم دی جارہی ہے اور یہ اسلام آباد کے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے منسلک ہے۔پوری عمارت ائیرکنڈیشنڈ ہے، اسپورٹ اور آڈیٹوریم و کیفے ٹیریا سے لے کر تمام سہولتیں موجود ہیں۔ بچوں کو لانے لیجانے کے لئے ٹرانسپورٹ اور میڈیکل سہولت دستیاب ہے۔ کالج میں مانٹیسوری کلاس سے لے کر آرٹس، انجینئرنگ اور میڈیکل میدان میں ایف ایس سی تک تعلیم دی جارہی ہے۔ کالج کے سربراہ کیپٹن کاظم ہیں جو تجربہ کار اور قابل استاد اور منتظم ہیں۔ ملک صاحب اور ان کے رفقائے کار نے ازراہ قدر شناسی اس کالج کا نام بھی مجھ سے منسوب کیا ہے جو اپنے لئے باعثِ عزّت و فخر سمجھتا ہوں۔کالج کا افتتاح کرنے کے بعد میں بیگم اختر رُخسانہ ٹرسٹ ہاسپٹل کا افتتاح کرنے گیا۔ آپ جب تک اس کو نہ دیکھیں آپ کو اس کی خوبصورت اور اعلیٰ سہولتوں کا احساس نہ ہوگا۔ یہ یورپ کے کسی بھی ہسپتال سے کم نہیں ہے بلکہ ان کے اکثر اسپتالوں سے بہتر ہے۔ آپ اسکی سہولتیں دیکھ کر ششدر رہ جائیں گے۔ نہایت قابل، تجربہ کار ڈاکٹر یہاں موجود ہیں۔ اسپتال کے انچارچ، سربراہ بریگیڈیر مقصودالحسن ہیں۔ فوج کے پرانے تجربہ کار ڈاکٹر ہیں اور میرے پرانے رفیق کار اور عزیز دوست،سابق سرجن جنرل آرمی جنرل ریاض احمدچوہان کے ساتھی ہیں۔ ہسپتال میں میڈیسن، سرجری، انیستھیسیالوجی، گائناکالوجی، یورولوجی، نیفرالوجی، ای این ٹی، ڈینٹسٹری، ریڈیالوجی، پیڈیاٹرکس سرجری، اور پیتھالوجی کے محکمہ جات ہیں اوران کی سربراہی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ڈاکٹر کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ایک سیکشن ڈائلیسس کا بھی ہے۔ یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ملک صاحب نے ڈائلیسس کے لئے ایک علیحدہ ہسپتال بھی قائم کیا ہوا ہے جہاں چوبیس گھنٹے غریب مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ بحریہ میں لنگر خانہ بھی ہے جہاں غریبوں کو مفت کھانا دیا جاتا ہے۔ آجکل ایک تعلیمی میڈیکل یونیورسٹی کے منصوبہ پر بھی کام جاری ہے۔ مکمل ہونے پر 400بستروں کی گنجائش ہوگی۔

    بحریہ کی اس معماری اور اعلیٰ کوالٹی قائم کرنے میں ملک صاحب کے علاوہ ان کے فرزند عزیز احمد علی ریاض ملک اور خاص طور پر کموڈور محمد الیاس صاحب کا بہت بڑا رول ہے۔ مجھے علم ہے کہ ملک صاحب کے خلاف ایک منظم مہم چلی ہوئی ہے اور طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ملک صاحب اور ان کے رفقائے کار نے بحریہ میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو رہائش، تعلیم، میڈیکل کی اعلیٰ سہولتیں مہیا کی ہیں جو نہایت قابل تحسین اقدام ہے۔(جاری ہے)

     

               

     

     

               

               

    قابل تحسین عوامی خدمت....سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان... (گزشتہ سے پیوستہ)

             

    11/16/2010

    تین نومبر کو میرے عزیز دوست و شفیق جناب عزیز ذولفقار نے گوجرانوالہ آنے کی دعوت دی کہ وہاں جامعةالبنات گرلز ڈگری کالج کی 28ویں تقسیم اسناد میں بطور مہمان خصوصی شرکت کروں۔ میں نے چار نومبر 1998میں اس کالج کا دورہ کیا تھا اس وقت اس میں تقریباً سترہ سو بچیاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ قبل اس کے کہ میں کالج اور وہاں قائم کردہ اسپتال کے بارے میں کچھ عرض کروں اپنے عزیز دوست جناب عزیز ذوالفقار کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

    عزیز بھائی سے میری دوستی، تعلقات 1985سے ہیں ۔ آپ اس وقت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدرتھے اور میرے عزیز مرحوم دوست جناب شیخ محمد فاروق کے جگری دوست تھے۔ ملک کی سلامتی کے لئے میری خدمات کو سراہنے کے لئے آپ نے کراچی میں ایک بڑی محفل منعقد کرنے کا اور مجھے گولڈ میڈل دینے کا فیصلہ کیا۔ مقررہ تاریخ سے ایک روز پیشتر جنرل ضیاء نے مجھے بلا کر کہا کہ آپ وہاں نہ جائیں۔ ہم آپ کو اس سے بڑا انعام دیں گے غالباً اس میں منیر احمد خان کی شرارت تھی۔ کراچی والوں کو بہت دُکھ ہوا اور عزیز بھائی، میاں فاروق اور چند ساتھی اسلام آباد تشریف لائے اور مجھے سپاس نامہ اور گولڈمیڈل پیش کردیئے۔ جنرل ضیاء کو اپنا وعدہ وفا کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ عزیز بھائی گوجرانوالہ کے اچھے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں کی صنعتی ترقی میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ آپ قانون داں بھی ہیں اور چند سال آپ نے پریکٹس بھی کی ہے۔ فیڈریشن کے صدر کے علاوہ آپ اسلامک چیمبرز آف کامرس، انڈسٹری اینڈ کموڈیٹی ایکسچینج کے نائب صدر، مجلس شوریٰ کے ممبر، لاتعداد بین الاقوامی وفود کے سربراہ اور نیشنل ڈس انوسٹمنٹ اتھارٹی (یعنی پرائیویٹائزیشن کمیشن) کے بھی سربراہ رہے ہیں۔ عزیز بھائی ایک مخلص، محب وطن اور انسان دوست شخصیت ہیں اور عوام کی خدمت آپ کی رگ رگ میں بسی ہوئی ہے۔ عزیز بھائی ایک فرشتہ سیرت انسان ہیں اور ان کے چہرے سے نور ٹپکتا ہے۔ عزیز بھائی ایک اعلیٰ صنعت کار ہی نہیں بلکہ ایک اعلیٰ پایہ کے ادیب و مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف کردہ مزاحیہ کتب، کرائے کی بیوی، چاچا گام، اُلٹا مذاق، قربانی کا بکرا، ما ما چپس، اور دو سفر نامے ، پیرس اور راؤنڈ دی ورلڈ اور ایک مضامین پر مبنی کتاب قوس و قزح اردو ادب کا بیش قیمت خزینہ ہیں اور ہر اردو داں کو ان کا مطالعہ کرکے لطف اندوز ہونا چاہئے۔ یہ سب کتابیں لاہور سے مکتبہ داستان لاہور اور نگارشات لاہور نے شائع کی ہیں۔

    عزیز بھائی کے بارہ میں آپ کو بتلادیا ہے اب کالج اور ہسپتال کے بارہ میں کچھ عرض کردوں۔ اور یہ بھی بتلادوں کہ اس وقت عزیز بھائی علم وصنعت ٹرسٹ گجرانوالہ اور رفیق انور میموریل ٹرسٹ گجرانوالہ کے چےئرمین ہیں اور خدمت خلق کی قابل ستائش خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    (ا)1972میں بھٹو حکومت نے ملک کے تمام تعلیمی ادارے قومی ملکیت میں لے کر اس ملک کے تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا اور ہم ابھی تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ حکومت نے علم و صنعت ٹرسٹ کے چھ تعلیمی ادارے اپنے قبضہ میں لے کر ان کو تباہ کردیا۔ لیکن عزیز بھائی اور ان کے ساتھیوں نے ہمت نہیں ہاری اور نئے عزم کے ساتھ 18فروری 1980کو ایک نئے اعلیٰ تعلیمی ادارہ کی بنیاد ڈالدی اور اس کانام جامعة البنات رکھا۔ 1982میں گرلز ہائی سکول کی بنیاد ڈالی۔ ضرورت کو مدِنظر رکھ کر 1983میں پرائمری اسکول کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ تعلیمی ادارے علم و صنعت ٹرسٹ کے حوالے کردیے گئے اور 1989میں یہ مدرسہ ایک ڈگری کالج میں تبدیل ہوگیا۔ چار نومبر1998میں جب میں نے کالج کا دورہ کیا تھا اس وقت یہ نہایت اعلیٰ تعلیمی ادارہ تھا۔پری میڈیکل، پری انجینئرنگ اور آرٹس کے مضامین پڑھائے جارہے تھے اور اس وقت تقریباً 1700طالبات تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ اس وقت کالج میں ماشاء اللہ تین ہزار سے زیادہ طالبات زیرِتعلیم ہیں اور ایم۔اے، ایم ایس سی، کے بھی چند مضامین پڑھائے جارہے ہیں۔ اُمید ہے کہ انشاء اللہ جلد ہی یہ کالج عزیز بھائی کی اعلیٰ قیادت میں ایک یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرلے گا۔ کالج کی عمارات اور تمام فرنیچر و تعلیم کے آلات اعلیٰ پایہ کے ہیں۔ کمرے کشادہ، لیبارٹریز نہایت اعلیٰ سامان سے مرصع ہیں۔ کھلے کشادہ میدان، کیفے ٹیریا، آڈیٹوریم اور صفائی قابل دید ہیں۔ بچیوں کے چہرے نہایت خوش اور مطمئن نظر آئے۔ بچیوں اور اساتذہ نے جو استقبال دیا وہ ناقابلِ فراموش تھا۔ عزیز بھائی، عبداللہ بھائی، خورشید بھائی کے علاوہ ٹیچر اَنعم صفدر وغیرہ نے نہایت دلجوئی سے اس کا انتظام کیاتھا۔ بچیوں نے نہایت پیارے ٹیبلو پیش کئے اور اس دورہ کو ناقابل فراموش بنا دیا۔ اور اگر لنچ پر گجرانوالہ کے کھانوں کی تعریف نہ کروں تو میزبانوں اور ہوٹل والوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ بہت لذیز کھانا تھا۔

    (ب) ایک دوسرا نہایت اعلیٰ خدمت خلق کا ادارہ جو عزیز بھائی کی سرپرستی میں عوام کی بے لوث خدمت کر رہا ہے وہ رفیق انور میموریل ٹرسٹ ہاسپٹل گجرانوالہ ہے۔ اس کے سربراہ ڈاکٹر عبد الرشید رندھاوا ہیں۔ یہ 250بستروں پر مشتمل ہسپتال ہے۔ نہایت صاف، شفاف، اعلیٰ فرنیچر، اعلیٰ آلات سے مرصّع ہے۔ اس ہسپتال میں پیڈیاٹرکس، جنرل سرجری، گائنا کالوجی، ڈینٹری، ڈرماٹولوجی، پیڈیا ٹرکس سرجری، ریڈیالوجی، جنرل میڈیسن وغیرہ کے شعبہ ہیں۔ مریضوں کو نہایت مناسب اور غریب مریضوں کو مفت علاج مہیا کیا جاتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے عزیز بھائی اور ان کے رفقائے کار گجرانوالہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتے اور مسیحا بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

    دیکھئے تمام مشکلات، نااہل حکمرانوں، رشوت ستانی، اقرباپروری، لوٹ مار کے باوجود پاکستان اس لئے خوش قسمت ہے کہ یہاں لاتعداد مُخیّر حضرات، پرائیویٹ ادارے اور برادریاں نہایت قابل تحسین کام انجام دیتے ہیں اور خدمت خلق کرتے ہیں۔ آپ دیکھئے میمن برادری، بوہری برادری، اسمٰعیلی برادری، چنیوٹی برادری، کس طرح عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ انھوں نے لاتعداد تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم کئے ہیں جن سے لاکھوں بلکہ کڑوڑوں پاکستانی مستفید ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عزیز بھائی اور ان کے رفقائے کار، ملک ریاض اور ان کے رفقائے کار اور تمام دوسری اوپر بیان کردہ برادریوں کے سربراہان پر اپنی رحمت قائم رکھے، تندرست، خوش و خرم رکھے، حفظ و امان میں رکھے، عمر دراز کرے اور اس نہایت اہم کام یعنی خدمت خلق جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

     

               

     

     

     

     

     

    Comments