کہانی کا دوسرا رُخ
کہانی کا دوسرا رُخ
تحریر: آفتاب احمد گورائیہ
ایک روز قبل ے ہمارے ایک نہایت عزیز دوست نے بڑی “شفقت” کے ساتھ سندھ حکومت کی جانب سے پنجاب، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں شروع کئے جانے والے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتالوں اور دوسرے پراجیکٹس کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سیاسی رشوت قرار دیا۔ سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی جب ہمارے عزیز دوست نے یہ کہہ دیا کہ “سندھ حکومت نے چند ہسپتالوں کے علاوہ سرے سے کوئی کام کیا ہی نہیں”۔
عام طور پر ایسی تنقید کرتے ہوئے صحافی اور اینکر حضرات تنقید کا نشانہ بننے والوں کو اتنا حق ضرور دیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اگر وہ اس تنقید کا جواب دینا چاہیں تو ان کے لئے ہمارا یہ فورم حاضر ہے لیکن ہمیں “اپیل” کا یہ حق بھی ہمارے عزیز دوست نے نہیں دیا اس لئے ہمیں اس تحریر کی صورت میں اپنی گزارشات پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ سوال صرف سندھ حکومت کی کارکردگی کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کی واحد قومی جماعت پیپلزپارٹی کی ساکھ کا بھی ہے جو دو بار اپنی قیادت کی قربانی پیش کرنے، بار بار الیکشن انجنئیرنگ کا شکار ہونے کے باوجود “پاکستان کھپے” کے نعرے پر قائم ہے اور قومی سیاست کے لئے دستیاب انتہائی نامساعد صورتحال کے باوجود قومی سیاست کرنے کی “کوشش” کر رہی ہے۔
ہمارے عزیز دوست “شفقت” بھرا سیاسی رشوت کا الزام لگاتے ہوئے یہ پہلو نہ جانے کیوں اگنور کر گئے کہ ان پراجیکٹس کے فنڈز سیاسی رشوت ہی سہی لیکن خرچ تو پاکستان کے عوام کی بھلائی کے کام پر ہی ہو رہے ہیں اور بلاامتیاز ہو رہے ہیں، اور ان علاقوں میں ہو رہے ہیں جہاں پیپلزپارٹی کی حکومت بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے سب سے “شریف خاندان” کی طرح صرف لاہور پر نہیں ہو رہے۔ پنجاب حکومت بھی ہمت کرے اور پنجاب تو کیا لاہور سے باہر بھی کوئی میگا پراجیکٹ شروع کرنے کی سوچ پیدا کرے، کس نے روکا ہے اور وفاقی حکومت کم از کم سکھر حیدرآباد موٹر وے ہی بنا دے یا کراچی حیدرآباد جس چیز کو موٹروے کا نام دے کر موٹروے والا ٹول وصول کر رہی ہے اسے بھی پنجاب کی موٹر ویز کے معیار کا بنا دے۔ ساری دنیا میں سب سے پہلے پورٹ سٹی کو موٹر وے سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے۔
جس بات پر سندھ حکومت، پیپلزپارٹی اور چیرمین بلاول بھٹو زرداری تعریف کے مستحق تھے کہ وہ ان فنڈز کو ان صوبوں اور ان علاقوں میں خرچ کر رہے ہیں جہاں ان کی حکومت ہی نہیں ہے لیکن ان کی اس قومی سوچ اور نیک نیت کو “شفقت” بھرے انداز میں متنازعہ بنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ قومی سوچ رکھنے والی واحد جماعت پیپلزپارٹی بھی اپنی قومی سوچ چھوڑ کر علاقائی سوچ تک محدود ہو جائے؟
اب آتے ہیں سندھ حکومت کے ان کاموں کی طرف جن کی وجہ سے سندھ “کھنڈر” بن چکا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر عالمی ادارے ان کاموں کی تعریف کر رہے ہیں۔
• سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے 22 لاکھ پکے گھروں کا منصوبہ شروع کیا، جن میں سے 8 لاکھ گھر مکمل کرکے متاثرین کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ قرار دیا جاتا ہے، جس کی تعریف عالمی بینک کے صدر بھی کر چکے ہیں۔ سیلاب تو پچھلے سال پنجاب میں بھی آیا تھا اور بہت بڑا سیلاب آیا تھا جس میں باقی نقصان کے علاوہ پچاس لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہوئے تھے لیکن نام نہاد “گُڈ گورننس” والی پنجاب حکومت کی جانب سے اتنا بڑا نہ سہی کوئی چھوٹا موٹا پراجیکٹ ہی سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے شروع کیا گیا ہو تو اپنے اس “کم علم” دوست کی “شفقت” بھرے انداز میں رہنمائی ضرور فرما دیں۔ پنجاب حکومت اور میڈم وزیراعلی تو سیلاب زدگان کو ایسے بھول چکی ہیں جیسے پنجاب میں سیلاب آیا ہی نہیں تھا اور ہمیں اپنے عزیز دوست کے “شفقت” بھرے وی لاگ کا بھی انتظار ہی رہا کہ کب پنجاب کے سیلاب زدگان کی بحالی پر بھی بات کریں۔
• سندھ میں قومی ادارۂ امراضِ قلب دنیا کا سب سے بڑا مفت امراضِ قلب کا نیٹ ورک ہے، بڑے نیٹ ورک تو شائد اور بھی ہوں لیکن مفت علاج کا یہ سب سے بڑا نیٹ ورک ہے جہاں لاکھوں مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے اور پنجاب سمیت پورے پاکستان سے مریض ان ہسپتالوں میں علاج کے لئے آتے ہیں۔ جواب میں ہمیں یہ نہ بتایا جائے کہ لاہور میں بھی کارڈیالوجی کا ہسپتال موجود ہے، پنجاب میں دو تین اور کارڈیالوجی ہسپتال بھی ہیں ہمیں اس کا معلوم ہے لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ چند ہفتے پہلے جب ہمارے ایک مشترکہ دوست کو دل کا معاملہ پیش آیا تو ان کا ٹریٹمنٹ اس سرکاری کارڈیالوجی ہسپتال میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی موجود ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ہوا۔ ویسے بھی پنجاب صرف لاہور کا نام نہیں ہے اٹک سے لے کر رحیم یار خان تک پنجاب ہی ہے۔ ہمیں یہ بتایا جائے کہ صادق آباد، راجن پور، لیہ وغیرہ میں اگر کسی کو دل کی تکلیف ہو تو وہ کہاں جائے؟
• جناح اسپتال کراچی میں سائبر نائف جیسی جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے کینسر کا علاج کیا جا رہا ہے، جو دنیا کے صرف چند ایک ممالک میں ہی دستیاب ہے۔
• گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں گردوں اور جگر کے مفت ٹرانسپلانٹ کیے جاتے ہیں اور پنجاب سمیت ملک بھر سے مریض یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔
• تھر کول منصوبے سے ملک کی نسبتاً سستی بجلی پیدا ہو رہی ہے، جبکہ تھر آج ترقی اور معاشی سرگرمیوں کی علامت بن چکا ہے۔
• خیرپور اکنامک زون کو بین الاقوامی سطح پر بہترین معاشی زونز میں شمار کیا گیا ہے۔
• محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے 1995 میں عوامی و نجی شراکت داری کے ماڈل کی بنیاد رکھی، اور آج سندھ اس شعبے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ نون لیگ حکومت کے موجودہ وزیرخزانہ خود کہہ چکے ہیں کہ دوسرے صوبوں کو بھی پیپلزپارٹی کے اس پبلک پرائیویٹ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔
• سندھ میں الیکٹرک بسیں کئی سال قبل چلنا شروع ہو چکی ہیں، جن کا کریڈٹ آج دیگر صوبوں کی حکومتیں لے رہی ہیں۔
• خواتین کے محفوظ سفر کے لیے سندھ میں گلابی بس سروس اور گلابی اسکوٹی پروگرام متعارف کرائے جا چکے ہیں۔
• سندھ میں 10 ہزار سے زائد اسکول اپ گریڈ کیے گئے اور تقریباً 90 ہزار اساتذہ کو میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا۔
• سندھ کا ایک سرکاری سکول دنیا کے بہترین سکولوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ ابھی چند روز پہلے کی خبر ہے جسے پیپلزپارٹی کا شدید مخالف جیو گروپ بھی نشر کرنے پر مجبور ہو گیا۔ یہ خبر ظاہر کرتی ہے کہ صوبہ سندھ صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کے بعد تعلیم کے شعبے میں بھی انقلاب کی بنیاد رکھ چکا ہے۔
• کتے کے کاٹے کی ویکسین سندھ کے شہر سکرنڈ میں تیار کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر صوبے بھی یہ ویکسین سندھ سے حاصل کرتے ہیں۔
• سندھ کے دور افتادہ شہر مٹھی میں تقریباً پندرہ سال قبل قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے علاج اور نگہداشت کے لیے خصوصی سہولت قائم کی گئی تھی۔
• اور ہاں، سندھ میں فرانزک لیبارٹری بھی موجود ہے۔ کراچی میں قائم سندھ فرانزک ڈی این اے اینڈ سیرولوجی لیبارٹری جدید ڈی این اے اور دیگر فرانزک ٹیسٹ انجام دیتی ہے اور قتل، زیادتی، دہشت گردی سمیت مختلف مقدمات کی تحقیقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کر رہی ہے۔
یہ تو صرف چند مثالیں ہیں۔ سندھ میں صحت، تعلیم، توانائی، ٹرانسپورٹ، سماجی بہبود اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں درجنوں ایسے منصوبے موجود ہیں جنہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ تنقید ہر حکومت پر ہونی چاہیے، مگر تنقید کا معیار حقائق ہونے چاہییں، تاثر نہیں۔ اگر “شفقت” کا تقاضا صرف خامیاں تلاش کرنا ہے تو پھر یہ انصاف نہیں کیونکہ حقائق کو نظرانداز کر دینے سے وہ ختم نہیں ہو جاتے۔
Dated: 01-07-2026