ووٹ کو عزت نہیں چاہئیے
ووٹ کو عزت نہیں چاہئیے
تحریر: آفتاب احمد گورائیہ
ہمارے ہاں ہر انتخاب کے بعد ایک جملہ ہمیشہ سننے کو ملتا ہے کہ “ہارنے والا تو دھاندلی کا رونا روتا ہی ہے”۔ یہ جملہ بظاہر معصوم مگر حقیقت کو مسخ کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ مانا کہ بعض حلقوں میں سیاسی جماعتیں شکست کا ملبہ دھاندلی پر ڈال کر جان چھڑانا چاہتی ہیں، لیکن اس فقرے کے پیچھے دہائیوں سے جاری انتخابی بددیانتی کو مکمل طور پر نظرانداز کر دینا نہایت غیرمنصفانہ ہے۔ یہ تلخ مگر اٹل حقیقت ہے کہ پاکستان میں انتخابات کبھی بھی مکمل طور پر شفاف نہیں رہے، فرق صرف یہ ہے کہ کبھی بڑے پیمانے کی دھاندلی کی ضرورت پڑتی ہے اور کبھی نتیجہ بدلنے کے لیے معمولی ردوبدل ہی کافی ہوتا ہے مگر اصولی سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے، کیا ووٹ واقعی اس ملک میں کبھی عزت پا سکا؟
میثاقِ جمہوریت، جو شہید بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پایا، پاکستانی سیاست کی ایک اہم اور معتبر دستاویز ہے۔ اس پر کتنا عمل ہوا یا نہیں ہوا اور کس نے سنجیدگی دکھائی یا کس نے نہیں یہ الگ بحث ہے، مگر سنجیدہ سیاسی حلقے آج بھی اس میثاق کو ایک معتبر دستاویز اور جمہوریت کے لئے ایک راستہ اور امید سمجھتے ہیں۔ اگرچہ اس میثاق میں ووٹ کو عزت اس طرح دی گئی ہے کہ جہاں جس جماعت کی اکثریت ہو وہاں اس جماعت کی حکومت بننے کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اس حکومت کو کسی غیر جمہوری طریقے سے ہٹائے جانے کا ساتھ دیا جائے گا۔
اگرچہ یہ بات میثاق جمہوریت میں پہلے سے شامل ہے کہ مقتدرہ کے ساتھ گل کرنے سے بھی پرہیز کیا جائے گا لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ اس دستاویز میں دھاندلی کا راستہ روکنے کے لئے “ووٹ کو عزت دو” جیسا بنیادی اصول بھی شامل کر دیا جائے کہ انتخابات میں مقتدرہ کے ساتھ گل ہو جانے کے باوجود انتخابات میں دھاندلی سے گریز کیا جائے گا۔ جب نواز شریف کو اقتدار سے بےدخل کیا گیا تو یہی نعرہ اُن کا منشور بن گیا۔ مگر جیسے ہی اُن کی مقتدرہ کے ساتھ مفاہمت ہو گئی، سب سے پہلے اور سب سے زیادہ جس نے ووٹ کی توہین کی، وہ خود نون لیگ ہی تھی۔ 2018 میں آر ٹی ایس کی مبینہ ناکامی نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے تھے تو 2024 میں فارم 47 نے نون لیگ کے سیاسی کردار اور بیانیے پر ایسا ٹھپہ لگا دیا ہے جس سے جان چھڑانا اب اُن کے لیے آسان نہیں رہا۔
حالیہ ضمنی الیکشن میں نون لیگ ایک بار پھر ووٹ کو عزت دینے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ نون لیگ کی ووٹ کو بے عزت کر کے جیتنے کی خوشیاں اپنی جگہ، لیکن حقائق کچھ اور ہیں۔ صرف پانچ سے دس فیصد ٹرن آؤٹ کو کیا واقعی “مریم نواز کی کامیابی” کہا جا سکتا ہے؟ یہ یاد رہے کہ نوّے فیصد ووٹر گھر بیٹھے رہے۔ یہ صورتحال نون لیگ کے لیے جیت نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے کہ دو سال کے بھرپور حکومتی وسائل، دعوؤں اور اشتہاری بیانیے کے باوجود نون لیگ آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں فروری 2018 میں کھڑی تھی۔ الیکشن میں اکیلے دوڑنے کے باوجود اب بھی اگر سہارا فارم 47 ہی ہے تو پھر “ووٹ کو عزت دو” کے نعرے، بیانیے اور دعووں کی حقیقت خود ہی بےنقاب ہو جاتی ہے۔
نون لیگ کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ جب بھی مقتدرہ کی قربت میں جاتی ہے تو سب سے پہلے ووٹ ہی کی عزت کا سودا کرتی ہے۔ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ صرف اس وقت بلند ہوتا ہے جب طاقت کے مراکز سے مفاہمت نہیں ہوتی، مگر جیسے ہی دروازے کھلتے ہیں، اصول پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں اور اقتدار کے لیے وہی ہتھکنڈے استعمال کرنے لگتی ہے جنہیں کبھی جمہوریت دشمن کہا جاتا تھا۔ یہی سیاسی دوغلا پن وہ سب سے بڑا سبب ہے جس نے ووٹ کو آج تک عزت پانے ہی نہیں دی۔ پاکستان میں ووٹ کی بےعزتی اس وقت ختم ہوگی جب سیاسی جماعتیں اقتدار کے بجائے اصول کو ترجیح دیں لیکن بدقسمتی سے مقتدرہ کی لاڈلی جماعتیں اس امتحان میں بار بار ناکام ہوتی آئی ہے۔
ہماری جمہوریت کی کمزوری کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 78 سال گزر جانے کے باوجود ہم اب تک ایسا شفاف اور فول پروف انتخابی نظام نہیں بنا سکے جس میں ووٹ واقعی عزت پا سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اتنے نااہل ہیں کہ آٹھ دہائیوں میں ایک قابلِ اعتماد انتخابی ڈھانچہ بھی تشکیل نہ دے سکے؟ یا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بطور ریاست اور بطور سیاسی اشرافیہ ووٹ کو عزت دینا ہی نہیں چاہتے؟
Dated: 28-11-2025