پی آئی اے نجکاری - میگا سکینڈل
پی آئی اے نجکاری - میگا سکینڈل
تحریر: آفتاب احمد گورائیہ
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری محض ایک انتظامی یا پالیسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا اقدام ہے جو آنے والے برسوں میں ملکی تاریخ کے بڑے معاشی، سیاسی اور اخلاقی سکینڈلز میں شمار ہو سکتا ہے۔ حکومت اور اس کی پوری مشینری اس عمل کو اصلاحات، خسارے سے نجات اور قومی مفاد کا نام دے رہی ہے مگر حقائق اس سرکاری بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پی آئی اے ایک ناقابلِ اصلاح بوجھ تھی حالانکہ اعداد و شمار، اثاثے اور مستقبل کی آمدنی کی صلاحیت اس دعوے کو مکمل طور پر جھٹلا دیتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ پی آئی اے کو دانستہ طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ آپریشنل ادارہ یعنی پی آئی اے سی ایل کو نجکاری کے لیے پیش کر دیا گیا جبکہ قرضے، واجبات اور کئی بھاری ذمہ داریاں ایک الگ ہولڈنگ کمپنی کے کھاتے میں ڈال دی گئیں۔ بلاشبہ پی آئی اے پر تقریباً 650 ارب روپے کا قرضہ موجود تھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس قرضے کے مقابلے میں موجود اثاثوں، روٹس اور مستقبل کی کمائی کی صلاحیت کو کبھی دیانت داری سے عوام کے سامنے رکھا گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے کے اثاثے ہزاروں ارب روپے کی مالیت رکھتے ہیں، جنہیں اونے پونے داموں فروخت کرنا کسی طور بھی قومی مفاد نہیں کہلا سکتا۔
گزشتہ برس پی آئی اے نے صرف 13 فعال طیاروں کے ساتھ 26 ارب روپے کا منافع کمایا، جبکہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ساڑھے 11 ارب روپے کا منافع حاصل کیا گیا۔ اس وقت پی آئی اے کے پاس مجموعی طور پر 30 طیارے موجود ہیں جن کی مالیت ہی تقریباً 100 ارب روپے بنتی ہے۔ اگر باقی طیاروں کو مرحلہ وار مرمت کر کے دوبارہ آپریشنل کیا جاتا تو منافع کئی گنا بڑھایا جا سکتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ منافع کمانے والے ادارے کو خسارے کا لیبل لگا کر بیچنے کی ایسی عجلت کیوں دکھائی گئی؟
یہ معاملہ صرف طیاروں تک محدود نہیں۔ پی آئی اے کے ملازمین کا تقریباً 20 ارب روپے کا پراویڈنٹ فنڈ، ملک کے بڑے شہروں میں واقع 8 قیمتی عمارتیں جن کی مالیت تقریباً 50 ارب روپے ہے، 10 ارب روپے کے اسپیئر پارٹس، ہینگرز، سپورٹنگ ایکوپمنٹ، 400 سے زائد گاڑیاں، فرنیشڈ دفاتر اور مکمل آپریشنل انفراسٹرکچر۔ یہ سب وہ اثاثے ہیں جنہیں یا تو کم قیمت لگا کر نظرانداز کیا گیا یا مکمل طور پر حساب سے باہر رکھا گیا۔ جس گھر کے برتن بیچ دیے جائیں اس کی خوشحالی کا دعویٰ آخر کیسے کیا جا سکتا ہے؟
پی آئی اے کے 64 بین الاقوامی لینڈنگ روٹس اس پورے معاملے کا سب سے قیمتی مگر سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا پہلو ہیں۔ آج کی عالمی ایوی ایشن مارکیٹ میں یہ روٹس 640 ارب روپے میں بھی حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ کئی بین الاقوامی ایئرلائنز دہائیوں سے آپریٹ کرنے کے باوجود ایسے روٹس حاصل نہیں کر سکیں۔ خاص طور پر یورپی روٹس کی بحالی کے بعد پی آئی اے کی آمدن میں نمایاں اضافے کے واضح امکانات موجود تھے کیونکہ صرف برطانیہ سے ہی تقریباً 40 فیصد منافع آتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب منافع بڑھنے کی تمام نشانیاں موجود تھیں تو پھر نجکاری کی ایسی جلدی کیوں؟
حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ پی آئی اے کا سب سے بڑا مسئلہ ملازمین کی تنخواہیں ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پی آئی اے میں سیلری شئیر محض 16 فیصد ہے، جبکہ سری لنکن اور ایتھوپین ایئرلائنز میں یہ شرح 22 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ دنیا کی کئی سرکاری ایئرلائنز اصلاحات، بہتر مینجمنٹ اور مرحلہ وار سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئیں، مگر پاکستان میں ہمیشہ آسان راستہ چنا جاتا ہے کہ فروخت کر دو۔
اس نجکاری ماڈل کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ ایک قومی اثاثہ فروخت تو کر دیا گیا، مگر اس کے قرضے، واجبات اور بہتری کے اخراجات بدستور ریاست کے ذمے رکھے گئے۔ یہ نجکاری کے عالمی اصولوں (ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، او ای سی ڈی) کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ نجکاری میں رسک، ذمہ داری اور مستقبل کی سرمایہ کاری نجی خریدار کو منتقل کی جاتی ہے۔ یہاں فروخت کی رقم کا 92 فیصد دوبارہ اسی ادارے پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ منافع نجی ہاتھوں میں جا رہا ہے۔ یہ واضح طور پر نقصان کی سماجی تقسیم اور منافع کی نجی ملکیت (Loss Socialization & Profit Privatization) ہے، جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ اور فِسکل رسپانسبلٹی قوانین کی روح کے منافی ہے۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 9، 18 اور 38 کے تحت ریاست عوامی اثاثوں کی امین (ٹرسٹی) ہے، مالک نہیں۔ ایسے میں اثاثہ بیچ کر قرض اور اخراجات خود اٹھانا ریاستی امانت کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو عدالتی جائزے کے قابل ہے۔ معاشی منطق کے مطابق جب ریاست سرمایہ، رسک اور قرض خود برداشت کرے تو ملکیت کی منتقلی کا کوئی معاشی جواز باقی نہیں رہتا، بلکہ اس سے بجٹ خسارہ، عوامی قرض اور ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھتا ہے۔
اس تمام عمل کا سب سے تشویشناک پہلو ملازمین کا مستقبل ہے۔ ریٹائرڈ پی آئی اے ملازمین کی پنشن، مراعات اور طبی سہولیات بدستور حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہوں گی، جو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، حالانکہ یہ کمپنی پہلے ہی 130 ارب روپے سے زائد قرضوں اور واجبات کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم کا بیشتر حصہ ایئرلائن پر ہی خرچ ہو جانے کے بعد قومی خزانے کو عملی طور پر محض تقریباً 10 ارب روپے حاصل ہوں گے، جبکہ قرضوں اور واجبات کا بوجھ عوام کی جیب پر ہی پڑے گا۔
نجکاری کے بعد پی آئی اے اب قومی ایئرلائن نہیں رہے گی بلکہ ایک نجی ایئرلائن بن جائے گی، مگر اس کے قرضے اور ذمہ داریاں مکمل طور پر حکومت کے کندھوں پر رہیں گی۔ دنیا میں ایسے ماڈلز کو جعلی نجکاری، اقربا پرور سرمایہ داری (Crony Capitalism) اور اثاثہ جاتی لوٹ کھسوٹ کا ماڈل (Asset Stripping Model) کہا جاتا ہے، جہاں اصلاحات کے نام پر قومی اثاثے مخصوص مفادات کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔
پی آئی اے کی نجکاری آج ایک ’’کامیابی‘‘ کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، مگر آنے والا وقت قوم سے یہ تلخ سوال ضرور کرے گا کہ کیا ہم نے واقعی اصلاحات کیں یا ایک اور قومی اثاثہ مخصوص ہاتھوں کے حوالے کر دیا؟ تاریخ ایسے فیصلوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔
Dated: 24-12-2025