تجربہ گاہ
تجربہ گاہ
تحریر: آفتاب احمد گورائیہ
پچھلے دو تین سال سے کہا تو یہ جا رہا تھا کہ لیبارٹری نے نئے تجربات کرنا بند کر دیے ہیں اور اب مزید تجربات نہیں ہوں گے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ لیبارٹری بند نہیں ہوئی بلکہ اب ڈبل شفٹ میں کام کر رہی ہے۔ آئینی ترامیم جس رفتار سے لائی جا رہی ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئینِ پاکستان میں ہر وہ فارمولا فٹ کیا جا رہا ہے جس سے لیبارٹری کے سائنسدان اُن جراثیم کا خاتمہ کر سکیں جن سے ان کے مفادات کو عوامی اور جمہوری انفیکشن کا خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
ابھی 27 ویں ترمیم کا شور پوری طرح تھما نہیں کہ 28ویں ترمیم کی سرگوشیاں شروع ہو چکی ہیں۔ 27ویں ترمیم کے پہلے ڈرافٹ میں 18 ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور این ایف سی ایوارڈ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پیپلزپارٹی نے بروقت اور دوٹوک موقف اختیار کیا تو نون لیگ کی وفاقی حکومت کو یہ تجاویز واپس لینا پڑیں۔ لیکن لیبارٹری کے سائنسدان شاید اب بھی قائل نہیں ہوئے، اسی لیے فوراً اٹھائسویں ترمیم کا ڈول ڈال دیا گیا ہے۔ نہ صرف اٹھارویں ترمیم کے رول بیک کی بات پھر سے اٹھائی جا رہی ہے بلکہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کی کمی اور بارہ نئے صوبوں کا شوشہ بھی چھوڑ دیا گیا ہے، جس پر ایم کیو ایم اور فیصل واوڈا جیسے لیبارٹری اسٹنٹس سرگرم بھی ہو چکے ہیں۔
اگر 28 ویں ترمیم سے متعلق سامنے آنے والی تجاویز کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک نیا امتحان شروع ہونے والا ہے۔ پیپلزپارٹی واحد قومی جماعت ہے جو 18 ویں ترمیم اور صوبائی حقوق کی حقیقی محافظ ہے۔ نون لیگ اور تحریک انصاف نے ماضی میں بھی صوبائی حقوق کے معاملے پر کوئی اصولی سیاسی کردار ادا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح اعلان کیا کہ “اٹھارویں ترمیم کو کسی کا باپبھی رول بیک نہیں کر سکتا”، وہیں دوسری طرف اپنے تئیں پنجاب کے حقوق کی سب سے بڑی دعوے دار مریم نواز اس پورے معاملے پر ایک لفظ بولنے کی جرات تک نہ کر سکیں۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کے مسلسل اور دوٹوک مؤقف کو دیکھ کر صاف لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں لیبارٹری اور پیپلزپارٹی کے درمیان ایک سخت معرکہ برپا ہونے والا ہے۔ صوبائی حقوق کی یہ لڑائی وہی لڑ سکتا ہے جس کا سیاسی DNA وفاق اور جمہوریت سے جڑا ہو، اور تاریخ گواہ ہے کہ پنجاب پر قابض خاندان ہر مشکل مرحلے پر ہمیشہ لیبارٹری کے سائنسدانوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ ان کی انگلی توڑ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اسی روایتی منافقانہ خاموشی میں پناہ لیے بیٹھی ہیں۔
صوبائی حقوق کے تحفظ کا یہ معرکہ پیپلزپارٹی ہر قیمت پر لڑے گی، کیونکہ یہ معاملہ صرف کسی ایک ترمیم، کسی ایک شوشے یا وقتی سیاسی چال کا نہیں بلکہ یہ اس پوری ذہنیت کے خلاف لڑائی ہے جو پاکستان کو ایک ملک نہیں بلکہ ایک تجربہ گاہ سمجھ کر چلانا چاہتی ہے۔ پیپلزپارٹی عوام کی آواز، آئین کی محافظ اور وفاق کی اصل وارث ہے، اور اسی کی مضبوط مزاحمت اس ریاست کی سالمیت، جمہوریت اور آئینی ڈھانچے کی حقیقی ضمانت ہے۔
Dated: 21-11-2025