غیر جماعتی جمہوریت،ووٹ تمہارا مرضی ہماری
غیر جماعتی جمہوریت،ووٹ تمہارا مرضی ہماری
تحریر: آفتاب احمد گورائیہ
پنجاب حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا مقامی حکومتوں کا نیا قانون کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سب سے بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس قانون کے تحت بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جو براہِ راست آئینِ پاکستان سے متصادم ہے۔ آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ انتخابات صرف جماعتی بنیادوں پر ہی منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس آئینی تضاد کے باوجود ابھی تک اس قانون کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا گیا اور اگر کیا بھی گیا ہے تو کم از کم اس کی خبر عام نہیں ہو سکی۔
غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کے فیصلے کے علاوہ اس قانون میں انتخابی طریقِ کار سے متعلق بھی کئی ابہام موجود ہیں۔ تجویز کے مطابق، ہر یونین کونسل سے نو کونسلر منتخب کیے جائیں گے جو بعد میں چیئرمین کا انتخاب کریں گے۔ یعنی جس امیدوار کے ووٹ پہلے نو نمبروں میں آئیں گے، اسے کامیاب قرار دیا جائے گا۔ لیکن یہاں یہ واضح ہی نہیں کہ یہ انتخاب ون مین، ون ووٹ کے اصول پر ہوگا یا ترجیحی فہرست (Preferential List) کی بنیاد پر۔
اگر انتخاب ون مین، ون ووٹ کے اصول پر ہوتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس بلدیاتی قانون نے جمہوریت اور عوامی رائے کا محض گلا ہی نہیں گھونٹا بلکہ اسے پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا ہے کیونکہ ایک ووٹر کے پاس صرف ایک ووٹ ہوگا جبکہ منتخب ہونے والے اراکین نو ہوں گے۔ اس نظام میں عوامی نمائندگی کا توازن بری طرح بگڑ جائے گا، اور ووٹ کی قدر محض رسمی رہ جائے گی۔
اور اگر انتخابات ترجیحی فہرست کی بنیاد پر ہوتے ہیں تو یہ عمل بلدیاتی سطح پر اتنا پیچیدہ ہو جائے گا کہ عام ووٹر کے لیے یہ سمجھنا ہی دشوار ہوگا کہ بیلٹ پیپر پر امیدواروں کی درجہ بندی کیسے کرنی ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران جو بدنظمی اور ابہام پیدا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کے قانون میں یہ خامی محض اتفاقی نہیں لگتی بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے دانستہ طور پر رکھا گیا ہو تاکہ نتائج کو انتظامیہ کے ذریعے آسانی سے “مینج” کیا جا سکے۔ پنجاب حکومت لیکن یہ بھول رہی ہے کہ یہ انتخابات گلی محلوں کی سطح پر ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی بددیانتی کی بدنامی بہت جلد عوامی سطح پر عیاں ہو جائے گی اور ان بلدیاتی انتخابات کی ساکھ بھی پنجاب حکومت کی ساکھ کی طرح ہمیشہ متنازعہ ہی رہے گی۔
طریقہ کار خواہ ون مین، ون ووٹ ہو یا ترجیحی فہرست، دونوں صورتوں میں ایک سنگین ترین پہلو یہ ہے کہ منتخب ہونے والے ہر یونین کونسل کے نو کونسلرز کو ایک مقررہ مدت کے اندر کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونا لازمی ہوگا۔ یعنی غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے والے امیدواروں کو بعد از انتخابات جماعتی وابستگی اختیار کرنا پڑے گی۔
اب اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ جو بھی کونسلرز آزاد حیثیت میں کامیاب ہوں گے، انہیں دباؤ، دھونس یا انتظامی اثر و رسوخ کے ذریعے نون لیگ یں شامل کروا دیا جائے گا اور یوں یہ تاثر پیدا کیا جائے گا کہ مریم نواز کی مقبولیت کے باعث نون لیگ نے پورے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں “کلین سوئیپ” کر لیا ہے۔
یہ قانون دراصل جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں کمزور کرنے کی ایک نئی شکل ہے۔ عوامی نمائندگی کے نام پر سیاسی انجینئرنگ کی ایسی مثالیں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں، لیکن بلدیاتی سطح پر اس طرح کی چال نہ صرف جمہوریت کی روح کے منافی ہے بلکہ آئینی اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری کہلاتے ہیں لیکن پنجاب حکومت کے اس نئے قانون نے ان نرسریوں کو بیوروکریسی اور سیاسی کنٹرول کے ماتحت کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
اگر واقعی نیت مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا ہے تو سب سے پہلے انہیں آئینی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ غیر جماعتی انتخابات، پیچیدہ انتخابی طریقہ کار، اور بعد از انتخاب دباؤ کے ذریعے سیاسی جماعت میں شمولیت جیسے اقدامات عوامی اختیار کو محدود کرنے کے مترادف ہیں۔ جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ووٹ دینے والا یقین رکھتا ہو کہ اس کا ووٹ خود اس کی آواز بنے گا، کسی کے دباؤ یا منصوبہ بندی کا حصہ نہیں۔
Dated: 27-10-2025