شہید رانی - روشنی جو بجھ نہ سکی
شہید رانی - روشنی جو بجھ نہ سکی
تحریر: آفتاب احمد گورائیہ
ستائیس دسمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ سوگوار دن ہے جب وقت رک سا گیا تھا، اور فضاؤں میں ایک ایسی خاموشی اور اُداسی نے جنم لیا تھا جو آج تک ختم نہیں ہوئی۔ یہ تاریخ ایک ایسی بہن، بیٹی اور ماں کی یاد ہے جو مٹی کے ذائقے، دھرتی کی خوشبو اور عوام کی دھڑکنوں میں بسی ہوئی ہے۔ وہ قلعوں کی اسیر رہی، جلاوطنی کی خزاؤں سے گزری، مگر جب بھی وطن کے دروازے کھلے، وہ امید کی طرح لوٹ آئیں، سر اٹھائے، مسکراہٹ سجائے جیسے خوف اور شکست ان کے قاموس میں تھے ہی نہیں۔ بی بی شہید کی شہادت محض ایک سانحہ نہیں تھی بلکہ یہ اس جمہوری جدوجہد پر کیا گیا ایک وحشیانہ وار تھا جو جمہوریت، عوامی حقِ حکمرانی اور آئینی بالادستی کے لیے جاری تھی۔
بی بی شہید جب جلسوں میں آتی تھیں تو منظر بدل جاتا تھا۔ گڑھی خدا بخش کے کھیتوں سے لے کر کراچی کے ساحلوں تک، کوٹلی کے پہاڑوں سے لے کر پشاور کی گلیوں تک ہزاروں کے مجمعے میں ایک ایسی خاموشی اترتی تھی جیسے سب جانتے ہوں کہ ایک تاریخ ساز لمحہ ان کے سامنے کھڑا ہے۔ ان کی آواز میں وہ گونج تھی جو بڑے عزم والوں کے حصے میں آتی ہے اور ان کی مسکراہٹ میں وہ دلکشی تھی جو خوفزدہ قوموں کو بھی جرات سکھا دیتی ہے۔ وہ نہ صرف پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں بلکہ مسلم دنیا کی تاریخ میں سیاسی اختیار کا وہ باب تھیں جسے طاقت کے ایوان کبھی فراموش نہیں کر پائے۔
27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ کی وہ شام آج بھی پاکستانی سیاست کے ماتھے پر ایک مستقل داغ ہے۔ لیاقت باغ میں جب دھماکے کی گونج اُٹھی تو صرف ایک خاکی جسم نہیں گرا بلکہ ایک نظریہ زخمی ہوا، ایک تاریخ کانپ اٹھی، ایک قوم یتیم ہو گئی۔ اس دن پاکستان نے صرف ایک رہنما نہیں کھویا بلکہ وہ خواب بھی چکناچور ہوئے جو وہ اپنے ساتھ لئے پھر رہی تھیں شدت پسندی سے پاک پاکستان، آئین کی بالادستی، اور عوام کی حقیقی حکمرانی۔ ان کی شہادت نے ثابت کیا کہ جمہوریت کا راستہ آسان نہیں، اس راستے پر چلنے والوں کو اکثر اپنی جان کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔
آج ہم بی بی شہید کو یاد کرتے ہیں تو ماضی کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔ ضیاء کے کوڑے، جنرلوں کے احکامات، جلاوطنی کے برس، جیل کی تاریکی، عدالتوں کی چالیں یہ سب کچھ بی بی شہید کی اس سیاسی زندگی کا حصہ تھا جس پر عام انسان تو کیا بڑے بڑے رہنما بھی قدم نہیں رکھتے۔ مگر انہوں نے ہر رکاوٹ کو ایک نئے عزم سے شکست دی۔ بی بی شہید صرف سیاستدان نہیں تھیں وہ ریاستی جبر کے خلاف کھڑی وہ آخری دیوار تھیں جس نے دشمنی میں بھی شائستگی اور ظلم میں بھی دلیل کو قائم رکھا۔
محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی شہادت کے بعد بھی ان کے نظریے کی گونج باقی ہے۔ آج بھی ہر وہ عورت جو اپنے حق کیلئے کھڑی ہوتی ہے، ہر نوجوان جو ظلم کے سامنے ڈٹ جاتا ہے، اور ہر جیالا جو سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتا ہے وہ سب بی بی شہید کے زندہ ہونے کی علامت ہیں۔ وہ چلی گئیں، مگر ان کے قدموں کی دھمک آج بھی اس ملک کی گلیوں میں سنائی دیتی ہے۔
بی بی شہید کی برسی پر ہمارے سامنے ایک ہی سوال کھڑا ہوتا ہے، کیا ہم نے بی بی شہید کے خواب کو واقعی آگے بڑھایا؟ کیا ہم نے اُس پاکستان کے لیے وہ جدوجہد کی جس کے لیے وہ آخری دم تک لڑتی رہیں؟ یہ سوال ریاست یا نظام سے نہیں، بلکہ خود پیپلزپارٹی سے ہے جو بی بی شہید کی سیاسی وارث ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ آج ہم بی بی شہید کے جانے کا غم تو مناتے ہیں، مگر کیا ہم نے ان کی میراث، ان کے نظریے اور ان کے مقصد سے وہ انصاف کیا ہے جس کی وہ ہم سے توقع رکھتی تھیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے ان کے نام کو تو زندہ رکھا، مگر اس جدوجہد کو کمزور پڑنے دیا جس کا بوجھ انہوں نے اپنی جان دے کر اٹھایا تھا؟ کیا ہم نے ان کی سیاست کو واقعی زندہ رکھا، یا اسے محض ایک یادگار بنا دیا؟ اگر پیپلزپارٹی آج بھی خود کو بینظیر کی جماعت کہتی ہے تو پھر اسے یہ کڑا سوال برداشت کرنا ہوگا کہ ہم نے ان کے نظریے، ان کی بے خوف جدوجہد اور ان کے عوامی وعدوں سے کتنا انصاف کیا ہے کیونکہ تاریخ صرف شہادتوں کو نہیں بلکہ ان کے بعد کے کردار کو بھی لکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج بطور پیپلزپارٹی ہمیں اپنا کردار بھی دیکھنا ہوگا۔ بی بی شہید کی یاد محض برسی کے نعرے نہیں، بلکہ روزمرہ کی سیاست میں سچ، جرات، عوامی وابستگی اور آئینی مزاحمت کا تقاضا کرتی ہے، اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر آج پیپلزپارٹی کو خود کو پرکھنا ہوگا۔ کیونکہ اگر بی بی شہید کی یاد اور وراثت صرف نعروں تک محدود ہو گئی، تو یہ صرف سیاسی ناکامی نہیں بلکہ بی بی شہید کی قربانی اور مشن سے غداری ہوگی۔
بی بی شہید کی شہادت کو اب تقریباً دو دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس دوران ایک پوری نسل جوان ہو چکی ہے جس نے بی بی شہید کو دیکھا نہیں، انہیں صرف تاریخ، کتابوں اور روایتوں میں سنا ہے۔ مگر اس فاصلے کے باوجود اس نسل کے لیے بھی پیغام وہی ہے جو بی بی شہید نے اپنی زندگی اور شہادت سے دیا تھا، آئین کی بالادستی، جمہوریت کا تسلسل، عوامی حقِ حکمرانی، برداشت اور مفاہمت۔ یہی وہ رہنما اصول ہیں جن پر ایک مضبوط، باوقار اور جمہوری پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہی ان کا پیغام تھا، یہی ان کا نظریہ، اور یہی ان کی پہچان ہے جو وقت کے ساتھ کمزور نہیں بلکہ مزید واضح ہوتی جا رہی ہے۔
شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو محض ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک عہد، ایک سوچ اور مسلسل جدوجہد کی علامت ہیں۔ وہ روشنی جو گڑھی خدا بخش کی مٹی میں دفن تو ہو گئی، مگر بجھ نہ سکی اور وقت کے ساتھ ایک استعارہ بن گئی۔ آج بھی جب سیاست کے افق پر اندھیروں کے سائے گہرے ہوتے ہیں تو بی بی شہید کا نام امید، حوصلے اور مزاحمت کی ایک روشن کرن بن کر سامنے آتا ہے۔ ستائیس دسمبر کا دن ہمیں یہ یاد دہانی کرواتاہے کہ سچ، جمہوریت اور عوامی حقِ حکمرانی کی حفاظت قربانی مانگتی ہے اور بی بی شہید نے اس قربانی کا آخری اور سب سے بھاری حق اپنی جان دے کر ادا کیا ہے۔
ستائیس دسمبر دو ہزار سات کی سرد شام ایک گہری تاریک رات میں ڈھل چُکی تھی۰ سندھ جی نیانی، دخترِ مشرق، کنیزِ کربلا راولپنڈی کے کربلا میں شہید کی جا چُکی تھی۰ عوام کی روشن اُمید بُجھائی جا چُکی تھی اور تقریباً اٹھائیس برس کے بعد راولپنڈی سے ایک دفعہ پھر گڑھی خدا بخش تک کا سفر درپیش تھا۰ کراچی سے خیبر تک شامِ غریباں شروع ہو چُکی تھی اور اپنے بابا کی پنکی سے عوام کی شہید رانی تک کا سفرمکمل ہو چکا تھا۔
محترمہ بینظیر بھٹو شہید۔۔۔ آپ کی زندگی کا سفر تو ختم گیا لیکن آپ کی روشنی، آپ کا حوصلہ، اور آپ کا پاکستان ابھی بھی آپ کا منتظر ہے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ یہ روشنی بجھنے نہیں دیں گے۔
Dated: 27-12-2025