محبت کے نام قائم رگو ناتھ مندر ٹیکسلا خستہ حالی کا شکار ۔ضرورت اقدامات کے لیے اہم ٹیکسلا بیٹھک کا پروگرام ۔
ریلوے روڈ ٹیکسلا شہر میں واقع رگوُناتھ مندر 1933 میں شریمتی رام رکھی نے بنوایا۔رام رکھی نے یہ مندر اپنے شوہر رگو ناتھ کے نام پر اسکے مرنے کے بعد بنوایا تھا جو راولپنڈی شہر کا ایک تاجر تھا۔
ٹیکسلا میں کم و بیش سات مندر ہیں اور ایک شمشان گھاٹ جو سرائے کھولا میں نالہ کالا کے کنارے واقعہ تھا۔یہ مندر ٹیکسلا ڈاک خانہ کے قریب واقعہ ھے اور ٹیکسلا کا سب سے بڑا مندر ھے اسکے علاؤہ حطار روڈ پر عثمان کھٹڑ گاؤں میں بھی دو مندر ھیں جن میں سے ایک چھوٹا اور ایک بڑا ۔
جبکہ مین بازار ٹیکسلا کا مندر بھی اس سے چھوٹا مندر ھے۔
تقسیم سے قبل ھندو اور سکھ زیادہ تر تجارت کے پیشے سے وابستہ تھے اور زیادہ تر دکانیں اور کاروبار بھی ھندوؤں کے تھے۔
رگو ناتھ مندر ٹیکسلا کی تاریخی حیثیت اور ضرورت اقدامات برائے بحالی کے سلسلے میں پروفیسر تراب حیدر صاحب کے ڈیرے پر ٹیکسلا بیٹھک کا اسپیشل پروگرام ہوا ۔ جس میں گندھارا ریسورس سینٹر پاکستان ( افتخار الدین صدیقی، ریاض احمد، انجنئیر ملک اشتر)، لوک چوپال ( ایاز کیانی ) ، ٹیکسلا پریس کلب ( حسن علی طاہر، ماسٹر نبیل ) کے نمائندوں کے علاوہ دیگر مقامی کمیونٹی اور تاریخ دان راجہ نور محمد نظامی صاحب ، میر طاہر ، ملک ذیشان بلاگر نے بھی شرکت کی اور اپنی تجاویز دیں ۔ پنجاب ارکالوجی ڈیپارٹمنٹ اور ٹیکسلا انتظامیہ غیر ضروری تجاوزات ختم کراۓ اور مندر کی بحالی کے لئے عملی اقدامات کرے ۔شرکاء محفل نے ٹیکسلا بیٹھک کے طاہر سلیمان ملک اور انجنئیر آصف فرید کو اسپیشل پروگرام کرانے پر خراج تحسین پیش کیا ۔ تقریب کے میزبان جناب قاصد شاہ صاحب چیئرمین سادات ویلفیئر فاؤنڈیشن ٹیکسلا تھے
A story derived from an incident that revolves around the Shiv Mander of Taxila.
************** شوالے کا سگ زرد *************
ٹیکسلا کے شوالے میں پروھت رام لال کے گھر جنم لینے والے بنسی رام کے دل و جاں میں بچپن سے ھی اس شھر کے کھیت کھلیان, اونچی نیچی پتھریلی گلیاں اور پرسکون بازار رچ بس رھے تھے تو ان کھیتوں اور گلیوں کے ارد گرد آباد مکانوں کے عام مکین اور بڑے بازار کے کاروبار پر پوری طرح سےچھائے ھندو دکاندار بھی اپنی نظروں کے سامنے کان میں مرکی , سر پر گندھی ھوئی چٹیا اور چمکتی ھوئی آنکھوں والے اس کھلنڈرے سے لڑکے کو ایک ھنستے مسکراتے نوجوان کے روپ میں ڈھلتا دیکھ رھے تھے.
بنسی رام کے پتا پنڈت رام لال جی ھر صبح شوالے کے کنویں پر اشنان کرنے کے بعد سیدھے مورتیوں والے کمرے میں آ جاتے ۔وھاں پر شیو بھگوان کی سیاہ پتھر سے بنی بڑی مورتی کے سامنے پوجا پاٹ کے بعد وہ اپنی جاپ مالا ھاتھ میں لے کر مندر سے جڑی بیس کنال اراضی کا ایک چکر لگانے نکل جاتے اور وہاں موجود کھیتوں کی اطراف کھبل گھاس سے منڈھی ھوئی منڈیروں پر چلتے ھوۓ سبزیوں اور اناج کے کھیتوں میں کام کرتے مالیوں کی خیر خبر بھی لیتے جاتے۔ پھر مندر کے احاطے میں بنی اپنے گھر کی کوٹھڑیوں کے قریب رھٹ والے اس تراشے ھوۓ پتھروں سے بنے کنویں کی اونچی پتھریلی سیڑھیوں پر آ کر بیٹھ رھتے اور وھاں جب وہ اپنی جاپ مالا پر زیر لب کوئی جاپ گنگنانے میں مصروف ھو جاتے تو ان کی پتنی رام لکشمی جی بھی پنڈت جی کو یوں آرام و سکون سے بیٹھا ھوا دیکھ کر دل جمعی سے اپنے گھر کے کام کاج سنوارنے میں لگی رھتیں .
پنڈت جی کا اکلوتا بیٹا بنسی رام اس دن تو بڑے ھی شوق سے پوجا پاٹ میں شامل ھوتا جس دن اسکے پتا کے انتہائی قریبی دوست اور ٹیکسلا میں غلے کے سب سے بڑے آڑھتی لالہ دیوان چند جی کی بیٹی کامنی اپنی ماتا پاروتی جی کے ھمراہ مندر میں شیو مہاراج کی بڑی مورتی کے درشن کو آتی . من موھن صورت کامنی صبح صبح جب اپنی دلکش آواز میں بھجن گاتی تو بنسی رام کو شیو بھگوان کی مورتی کے ٹھہرے نقوش سے پھوٹتی دیا کی لہریں ھلکورے لیتی دکھائی دینے لگتی تھیں.
بنسی رام اکثر کھیتوں کی منڈیروں پر سے گزرتا ھوا ساتھ والی چھوٹی سی پہاڑی چڑھ کر دوسری طرف کے قدیمی بازار میں اتر جاتا جہاں پر کامنی کے پتا لالہ دیوان چند جی کا ایک بہت بڑا گودام بھی تھا . بنسی رام بازار سے گزرتے وقت لالہ جی کو پرنام کرنا کبھی نہ بھولتا۔ اسکے بعد وہ قریب ھی قبرستان کے اندر ایک مزار کے ساتھ بنی اس دیو مالائی دیوار کے پاس آ جاتا جو گزرے زمانوں میں اپنے مالک کے اشارے پر گھوڑا بنتی تو سانپ کےچابک سے اسے ھانکا جاتا تھا. لیکن اب یہ دیوار بھی احاطے میں موجود قبروں کی طرح ایک عرصے سے شانت پڑی تھی۔ دیوار کے قریب رک کر بنسی رام صحن میں پھیلے ایک بوڑھے درخت پر طوطوں کے گھونسلوں کی تلاش میں نگاہ دوڑانے کے بعد مزار کی طرف دونوں ھاتھ جوڑ کر سلام کرتا اور پھر سیدھا نمبردار کے باغ ميں چلا جاتا جہاں پر اس کے من بھاتے کھیل چوپٹ کی بساط سارا سارا دن بچھی رھتی تھی. باغ کے چاروں اطراف اگی باڑ میں لگے ھوۓ کیکروں کی چھال سے تیار کی گئی شراب ,دیسی بھنگ اور پشاور سے لائی چرس کی خاطر یہاں آنے والے بھی تعداد میں کچھ کم نہ تھے۔
نمبر دار کے باغ کی کیکروں والی باڑ میں بنی ایک بھٹ کے منہ پر بیٹھا ذرد رنگ کا کتورا ایکدن اپنی جنم دینے والی کے دن بدن طویل ھوتے انتظار کے وقفوں سے اکتا کر اٹھا اور باغ سے واپس مندر کی طرف لوٹتے بنسی رام کے پیچھے پیچھے چل دیا . بار بار جھڑکنے کے باوجود اس کتورے نے بنسی رام کا پیچھا نہ چھوڑا اور مندر میں آ کر وہ سیدھا لکڑیوں والی کوٹھڑی میں گھس کر بیٹھ گیا. بنسی کی ماتا لکشمی جی جو اس وقت رسوئی میں مصروف تھیں انہوں نے بھی بنسی رام کے پیچھے پیچھے آنے والے کتورے کو اندر آتے ھوۓ دیکھ لیا تھا.وہ اپنی پیڑھی پر سے اٹھیں ,چنگیر سے رات کی بچی ایک گول, پتلی چپاتی نکالی, اسے توڑ کر مٹی کے پرانے پیالے میں تھوڑا سا دودھ ڈال کر بھگویا اور جب اس پیلے رنگ کے بھوکے کتورے کو پہلی بار موتی موتی پکار کر پچکارتے ھوۓ پیالہ اس کے آگے لا کر رکھا تو اس نے چپاتی کو سونگھنے سے پہلے ھی اپنی پتلی اور کڑے جیسی گول مڑی ھوئی دم اتنے جوش سے گھمائی کہ رام لکشمی جی کو اس چھوٹی سی اجنبی جان کی انکی گھر داری سے ایسی انسیت پر پیار آنے لگا تھا.
موتی نے مندر میں لکڑیوں والی اس کوٹھڑی کو اپنا گھر بنا لیا تھا ۔ اور پھر اسکا یہ روزانہ کا معمول بن گیا کہ جیسے ھی دور سے آنے والی ریل گاڑی کی دھمک اسے زمین کے اندر سے اٹھتی ھوئی محسوس ھوتی تو وہ دوڑ کر باھر آ جاتا,مندر کے سامنے والی پتلی سی سڑک کے ساتھ ھی بچھی ریل کی پٹڑی کے پاس آ کر کھڑا ھو کر وہ گاڑی کو اپنے قریب آتا دیکھ کر زور زور سے بھونکنے لگتا اور پھر یونہی بھونکتا ھوا وہ کافی دور تک گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتا چلا جاتا تھا.
موتی کے بارے میں یہ بات زبان زد عام تھی کہ مندر کا یہ کتا گوشت نہیں کھاتا. یہ حیرانی کی بات تو تھی لیکن تھی ایک حقیقت . اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ پنڈت رام لال ، رام لکشمی جی اور بنسی رام کے ھاتھوں دی گئی روٹی یا دودھ کے علاوہ موتی کسی اور شخص کی طرف سے دی گئی کسی بھی شے کو منہ نہ لگاتا تھا.
پنڈت رام لال جی اس دن بھی حسب معمول اپنی جاپ مالا لیۓ کنویں کی سیڑھیوں پر بیٹھے جاپ میں مگن تھے اور موتی کافی دیر سے ان کے قدموں میں بیٹھا سستا رھا تھا. بنسی رام جو سودا سلف لینے بازار گیا تھا ابھی تک واپس نہیں لوٹا تھا. پنڈت جی نے لمحوں کی طرح پھسلتی مالا کے دانوں کو چند ساعتوں کیلۓ اپنے ھاتھ سے روک لیا اور اپنی پتنی کی ڈھلتی عمر کے باوصف انکے اب تک دلکش دکھتے چہرے اور متناسب جسم پر ایک بھرپور نگاہ ڈالی. رام لکشمی جی نے جانتے بوجھتے ان کی اس نگاہ خاص کی طرف کچھ خاص توجہ نہ کی اور گھر کے کام کاج سے فارغ ھوتے ھی چپکے سے اپنی پیلے اور کالے گول دائروں سے سجی سبز رنگ کی چھاچھی چادر اٹھائی اور گھونگٹ کاڑھ کر لالہ دیوان چند کی بیوی اور اپنی بچپن کی سہیلی پاروتی سے ملنے اپنے میکے والے محلے کو چل دیں .موتی نے رام لکشمی جی کو مندر کے بڑے پھاٹک کی طرف جاتے دیکھا تو وہ پنڈت جی کے قدموں سے اٹھ کر ان کے پیچھے لپکا لیکن مالکن کی ایک ھی زور دار جھڑکی سہنے کے بعد وہ کھسیانا سا ھو کر واپس پنڈت جی کے پاس آ کر بیٹھ گیا.
رام لکشمی جی کے جانے کے بعد کنویں کی سیڑھیوں پر بیٹھے پنڈت رام لال جی دیر تک نظریں جمائے رھٹ میں جتے بیل کو اس کے دائمی چکر میں گھومتا ھوا دیکھتے رھے اور پھر وھیں بیٹھے بیٹھے انہوں نے تیرتھوں کی یاترا کا پکا ارادہ باندھ لیا تھا .
کچھ دن کی سوچ و بچار کے بعد بالآخر جب پنڈت جی نے اپنی پتنی رام لکشمی جی اور پتر بنسی رام کو اپنے یاترا پر جانے کی خبر دی تو رام لکشمی جی اسوقت تو منہ سے ایک شبد تک نہ بول پائی تھیں لیکن ان کے خوبصورت چہرے کی رنگت کچھ ایسی پھیکی پڑی کہ قریب کھڑے بنسی رام کو یوں لگا جیسے اس کی ماتا کے وجود کے اندر چھپے تمام دکھ اور خوف نیلے پیلے لبادے اوڑھ کر باھر آ گئے ھوں۔
چند روز کی تیاری کے بعد جب پنڈت رام لال جی اپنی پتنی سے وداع ھو کر مندر سے چلے تو انہیں یوں محسوس ھوا کہ جیسے مندر کے ساتھ ساتھ کھڑے تینوں مینار آج ان کا رستہ روک کر کھڑے ھو گئے ھوں. پنڈت جی کی رات بھر کی جاگی ھوئی سرخ آنکھیں ایک لحظے کے لیئے مندر کے سب سے اونچے مینار کے اوپر نصب ترشول پر جا کر رک سی گئیں. اپنی تینوں انیوں کو آسمان کی نیلی بے رحم وسعتوں کے اندر سونتے ھوۓ سنہرے رنگ کا یہ ترشول انہیں دوپہر کی تیز دھوپ میں شعلے بکھیرتا نظر آیا. پنڈت جی نے جلدی سے اپنی چندھیائی نگاہ نیچے کی اور ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ ٹیکسلا ریلوے سٹیشن کی جانب چل دیئے .
تھوڑی دیر کے بعد پشاور سے بمبئی جانے والی فرنٹیئر میل کے چھکا چھک چھکا چھک کرتے انجن کے ڈرائیور نے ریلوے سٹیشن کی حدود میں داخل ھونے سے پہلے مندر کے سامنے والے سگنل پر آ کر ایک زور دار سیٹی بجائی تو اسے سن کر پلیٹ فارم پر لگے درختوں کے اوپر آرام کرتے پرندے گھبرا کر ادھر ادھر اڑنے لگے. پیپل کی چھاؤں میں ایک بینچ کے اوپر کسی سوچ میں گم گاڑی کے انتظار میں بیٹھے پنڈت رام لال جی چونک کر اٹھ کھڑے ھو ۓ اور انہیں چڑھانے کیلۓ ساتھ آیا بنسی رام جلدی جلدی انکی گٹھڑی سنبھالنے میں لگ گیا. پلیٹ فارم پر ادھر ادھر بھاگتے پھرتے موتی نے جب قریب آتی گاڑی کی سیٹی سنی تو بے اختیار گاڑی کی طرف بھاگا اور ریلوے سٹیشن کی آخری حد پر موجود لوھے اور لکڑی کے موٹے شہتیروں سے بنے dead-end کے نیچے آ کر کھڑا ھو گیا ۔سٹیشن کی طرف بڑھتے ھوۓ ریل گاڑی کے دھواں اگلتے , چھک چھک کرتے, کالے دھوت انجن نے آج اسے خوف زدہ کر دیا تھا ۔موتی منہ اوپر اٹھا کر ریل گاڑی کو لگاتار بھونکنے لگ پڑا تھا ۔
مندر کے سامنے سے گزرتی ریل گاڑی کی سیٹی کی تیز آواز اور دھمک سے کانپتی ھوئی زمین نے کوٹھڑی کے آگے کھڑی رام لکشمی جی کے دل پر کچھ ایسا اثر کیا کہ ان کا پورا وجود لرزنے لگا اور وہ سنبھلنے کی کوشش میں پیچھے ھٹتے ھٹتے دیوار سے جا لگی تھیں .
ٹیکسلا ریلوے سٹیشن سے پنڈت جی کے روانہ ھونے کے کوئی ایک سال بعد بنسی رام کو انکا الہ آباد سے لکھا ھوا ایک خط ملا . اس خط میں اپنی خیر خیریت بتانے کے بعد پنڈت جی نے یہ خبر دی کہ بنارس کے شیو مندر میں قیام اور پھر گنگا جمنا کے سنگم اور کمبھ میلے کے مقام پر تپسیا کے بعد اب وہ سنیاسیوں کی ایک ٹولی کے ھمراہ ھمالیہ پہاڑ پر جا کر گنگوتری مندر کے درشن کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ھیں.
ادھر ھندوستان کے بٹوارے کا فیصلہ اتہاس کے پنوں پر لکھا جا چکا تھا اور پنجاب کے صاف بہتے پانی جب خوں رنگ ہو گئے تو ٹیکسلا کے ھندو باسی بھی جانیں بچانے کی خاطر بھری پری دکانیں اور پختہ اینٹوں سے بنے آبائی مکانات چھوڑ کر اپنے پرکھوں کی جنم بھومی ٹیکسلا سے کوچ کر نے لگے. ٹیکسلا میں غلے کے سب سے بڑے آڑھتی اور کئی ایک قیمتی جائیدادوں کے مالک لالہ دیوان چند جی نے ان سب سے کچھ الگ کیا. وہ جامع مسجد کےمولوی صاحب کے پاس گئے اور لالہ دیوان چند سے لالہ دیوان کریم بن کر واپس لوٹے.اس کے باوجود چند دنوں بعد جب ٹیکسلا کا ھندو بازار لٹا تو لالہ جی کے غلے سے بھرے گودام کو کسی نے نہ بخشا ۔
بنسی لال ,اسکی ماتا رام لکشمی اور موتی اس تمام تر فساد کے باوجود ابھی تک مندر میں ھی موجود تھے. شھر کی تمام ھندو آبادی کے اٹھ جانے کی وجہ سے شوالا اب ویران ھو چکا تھا ۔ اگست کی اس گرم صبح جب رام لکشمی جی کا دل اس ویرانی سے سخت گھبرایا تو انہوں نے فورأ اپنی چادر اٹھائی اور پاروتی کے گھر کو چل دیں.موتی بھی صحن سے اٹھ کر آہستہ آہستہ چلتا ھوا ان کے پیچھے مندر کے پھاٹک تک آیا لیکن پھر سڑک کنارے کچی جگہ پر آ کر بیٹھ گیا.
تھوڑی دیر کے بعد موتی نے لوگوں کے ایک شور مچاتے ھوۓ گروہ کو مندر کی طرف بڑھتے دیکھا تو وہ بھاگ کر اندر صحن میں چلا گیا . برچھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح یہ مشتعل ھجوم جب مندر کے پھاٹک کو زور سے دھکیل کر اندر داخل ھوا تو موتی تیزی کے ساتھ اپنی کوٹھڑی کی طرف بھاگا اور دروازے میں کھڑا ھو کر زور زور سے بھونکنے لگ پڑا .
بنسی رام نے لوگوں کے شور کے ساتھ موتی کے بھونکنے کی آواز سنی تو وہ اپنی کوٹھڑی سے باھر نکل آیا. مندر کا وسیع صحن ایک بپھرے ھوۓ ھجوم سے بھرا ھوا تھا. اس ھجوم میں شامل تقریباً تمام ھی چہرے بنسی رام کے جانے پہچانے تھے لیکن ان تمام چہروں پر ا سے اجنبیت کی ایسی وحشت چھائی ھوئی نظر آئی کہ بنسی رام کو ان سے خوف آنے لگا تھا. بنسی نے ان لوگوں سے کچھ بات کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اس شور میں کسی کو کچھ سنائی نہیں دے رھا تھا.
بنسی رام کو اس ھجوم میں شہر کا سب سے بڑا بدمعاش حمیدا بھی دکھائی دیا۔ وہ برچھی لہراتا بلوائیوں کے درمیان سے نکل کر آگے آیا اور بنسی رام کی طرف بڑھنے لگا۔ سارے ھجوم پر یکدم ایک خاموشی سی چھا گئی. بدمعاش حمیدے نے منہ بھر کر بنسی رام کو باپ کی ایک موٹی سی گالی دی اور پھر برچھی سونت کر اس پر حملہ آور ھو گیا . نہتے بنسی رام نے اپنے ھاتھوں اور بازوؤں کی آڑ لے کر حمیدے کی طرف سے پیٹ پر کیۓ گۓ وار سے بچنے کی پوری کوشش کی لیکن برچھی کا ایک ھی زخم کھانے کے بعد بنسی رام پیٹھ کے بل زمین پر جا کر گرا. شدید درد میں زمین پر پڑے اس کی نظر مندر کے سب سے اونچے مینار کے اوپر نصب ترشول پر جا کر ٹک گئی . دھوپ میں جلتے اس ترشول کی انیاں اسے پہلے سے بھی کہیں اونچی دکھائی دیں. اور پھر زمین پر گرے بنسی رام کے ماتھے پر شام چڑھی لاٹھی کی ایک ھی زور دار ضرب اس کی آنکھوں سے نیلا آسمان , چمکتی دھوپ اور سارے دیکھے ان دیکھے خواب چھین لے گئی۔
بھونکتے ھوۓ موتی نے جب یہ خوفناک منظر دیکھا تو اس نے ایک نہایت ڈری ھوئی آواز نکالی اور کوٹھڑی میں پڑی لکڑیوں کے نیچے جا کر دبک گیا. ھجوم میں شامل کچھ لوگ بنسی رام کی لاش گھسیٹتے ھوئے باھر سڑک تک لے آۓ لیکن پھر اس خونیں واقعے کے زیر اثر یہ تمام ھجوم سراسیمگی کے عالم جلدی جلدی منتشر ھونے لگا.
لالہ دیوان کریم جی کو جب ان کے ایک محلے دار نے دروازے پر آ کر اس خونی واقعے کی اطلاع دی تو وہ گھر میں کچھ بتاۓ بغیر سیدھے مندر کی طرف چل پڑے تھے۔ وھاں پھاٹک کے باھر ھی انہوں نے بنسی رام کی مسخ شدہ لاش پڑی دیکھ لی تھی. بنسی رام کو اس حالت میں مرا پڑا دیکھ کر لالہ جی کے منہ سے ڈر اور گھبراھٹ کی وجہ سے اچانک رام رام کے شبد نکل گیۓ . انہوں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں کسی نے ان کو یہ شبد بولتے سن تو نہیں لیا لیکن ان کے علاوہ اسوقت لاش کے آس پاس کوئی اور موجود نہ تھا. پولیس ابھی تک بنسی کی لاش اٹھانے نہیں پہنچی تھی. لالہ جی وھاں سے تیز تیز قدموں کے ساتھ واپس اپنے گھر کو ھو لیۓ .
گھر جا کر جب انہوں نے رسوئی میں مصروف اپنی پتنی پاروتی کو زیر لب بنسی رام کے ساتھ پیش آنے والے اس خونی واقعے کی اطلاع دی تو پاروتی جی کے منہ سے بے اختیار اک چیخ نکلی جسے سنتے ھی دالان میں رام لکشمی جی کے ساتھ ایک چارپائی پر بیٹھ کر بڑے لگاؤ سے باتیں کرتی ھوئی کامنی گھبرا کر ننگے پاؤں رسوئی کی طرف بھاگی تو لکشمی جی کا دل وھیں بیٹھے بیٹھے ڈوب گیا.
لالہ جی نے اپنی پتنی اور بیٹی کی اڑی رنگت دیکھ کر بڑی مشکل سے اپنی ھمت مجتمع کی اور چارپائی پر ساکت بیٹھی رام لکشمی جی کے قرہب جا کر انہیں بیٹے کے مرنے کی اندوہ ناک خبر سنائی تو وہ کچھ لمحوں کیلۓ خاموش بیٹھی کسی انتہائی کرب ناک کیفیت سے گزرتی رھیں پھر ایک جگہ ٹھہری ھوئی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے آنسو اپنی چادر کے پلو سے پونچھے اور اس کے بعد وہ مسلسل بولتی ھی چلی گئیں. اس دوران ایک بار بھی انہوں نے اپنے مرے ھوۓ جوان بیٹے بنسی رام کا نام تک نہ لیا بس اپنے پتی پنڈت رام لال جی کے جانے کا ذکر اور ان سے اپنے زندگی بھر کے گلے شکوے اونچی آواز میں بیان کرتی رھیں . پاروتی جی بچپن کی اپنی اس بہت ھی پیاری سہیلی کو خود سے چپکا کر چارپائی کے اوپر بیٹھے یہ سب کچھ سنتی رھیں جبکہ لالہ جی تھوڑی دیر بعد سر نیوڑاۓ دوسرے کمرے میں چلے گیۓ تھے .کامنی بھی اپنا آنسووؤں سے تر چہرہ لیئے وھاں سے اٹھی اور گھر کے بڑے کمرے میں جا کر اندر سے کنڈی لگا لی. اس نےبستروں والی پیٹی کھولی اور ایک رضائی کی تہہ سے شیو مہاراج کی ایک چھوٹی سی مورتی نکال کر پیٹی کے اوپر رکھ لی۔ اس نے اپنے کانپتے ھوۓ ھاتھ مورتی کے آگے جوڑے اور یونہی دیر تک کھڑی روتی رھی تھی ۔
شوالے میں پیش آنے والا خونیں منظر دیکھنے کے بعد موتی دو دن تک بھوکا پیاسا اپنی کوٹھڑی میں ھی چھپا رھا. اس دوران مندر کے سامنے والی پٹڑی سے ریل گاڑیوں کے گزرنے کی دھمک اور وسل کی آوازیں سننے کے باوجود موتی نے ریل گاڑی کے ساتھ بھاگنے کی خواھش کو اپنی شدید پیاس اور بھوک کے ساتھ ھی اپنے اندر دباۓ رکھا اور کوٹھڑی سے باھر نہ نکلا.
لیکن تیسرے روز جب دوپہر کے وقت پشاور سے آنے والی فرنٹیئر میل کے انجن ڈرائیور نے ٹیکسلا کے قریب آ کر ایک زور دار وسل دی تو اسے سن کر موتی بے اختیار اپنی کوٹھڑی سے باھر آ گیا. پیاس سے اس کا حلق سوکھا ھوا تھا. وہ آھستہ آھستہ چلتا ھوا پانی پینے کیلۓ رھٹ والے کنویں تک گیا. وہاں پر بنے پانی کے چھوٹے حوض میں ابھی تک تھوڑا سا پانی موجود تھا. موتی نے وھاں اپنی پیاس بجھائی اور ریل گاڑی کے ساتھ بھاگنے کیلۓ مندر کے کھلے پھاٹک تک آ یا تو اسے یہ ریل گاڑی آگے سٹیشن کی طرف جانے کی بجاۓ مندر کے سامنے رکتی ھوئی محسوس ھوئی. موتی نے گاڑی کی طرف منہ کرکے بھونکنے کی کوشش کی لیکن تین دن کی بھوک اور پیاس سے آنے والی نقاھت اس کوشش کے رستے میں حائل ھوئی تو وہ نڈھال ھو کر وھیں زمین پر بیٹھ گیا تھا۔
پٹڑی کے آس پاس چھپے بلوائیوں نے پشاور سے نقل مکانی کر کے آنے والے ھندوؤں اور سکھوں سے کھچا کھچ بھری اس ٹرین کو پٹڑی پر بڑے بڑے پتھر ڈال کر روک لیا. بلوائی ٹرین کے اندر داخل ھو گیۓ اور لوٹ مار شروع ھو گئی ۔ کھڑکی کے ساتھ بیٹھے ایک موٹے ھندو کی نظر جب قریب ھی موجود شوالے پر پڑی تو وہ مقدس عمارت میں پناہ لینے کی خاطر گاڑی سے نیچے اترا اور اپنی گھٹڑی بغل میں دباۓ پیدل رستے سے شوالے کی جانب بھاگنے لگا. ایک نوجوان بلوائی نے اس موٹے ھندو کو دیکھا تو تیزی سے بھاگ کر اسے جا لیا اور ان دونوں میں گھٹڑی کیلۓ کشمکش ھونے لگی. نوجوان بلوائی نے موٹے ھندو کی پرزور مزاحمت کو ختم کرنے کیلۓ اپنی پنڈلی کے ساتھ بندھی ھوئی چھری نکال لی اور پھر ایک ھی وار میں اس کا پیٹ کھول دیا. زخمی کی درد ناک چیخ اور پھوٹتا لہو دیکھ کر نوجوان بلوائی کے ھاتھ سے چھری چھوٹ کر گھاس پر جا گری اور وہ سامان کی گھٹڑی لے کر وھاں سے بھاگ گیا۔
کچھ دیر بعد جب ریلوے پولیس , سٹیشن پر موجود مزدوروں کو لے کر جاۓ وقوعہ پر پہنچی تو بلوائی اس وقت تک وھاں سے جا چکے تھے. پٹڑی سے رکاوٹیں ھٹنے کے بعد ٹرین آگے کو چل دی لیکن موٹے ھندو کی لاش ابھی تک وھیں گھاس میں پڑی تھی ۔
بہار کی تازہ گھاس سے اٹھتی خون کی تیز بو جب مندر کے باھر کچی زمین پر بیٹھے تین دنوں کے بھوکے موتی کے نتھنوں سے جا کر ٹکرائی تو پھر اس کا وھاں بیٹھے رھنا محال ھو گیا تھا ۔ وہ اٹھ کر آگے بڑھا لیکن ایک انسانی لاش پڑی دیکھ کر وہ سہم کے پیچھے کی جانب ھٹ گیا. لیکن اگلے ھی لمحے تین دن کے بھوکے موتی کی گول دم اوپر اٹھ کر تیزی سے گھومی اور اس نے آگے بڑھ کر لاش کے کٹے ھوۓ پیٹ کے اندر اپنی ساری تھوتھنی ڈال دی.موتی نے پہلے سے کٹی آنتوں کو دانتوں سے بھنبھوڑتے ھوۓ پورا منہ بھر لیا. وہ گردن اٹھا کر بھنگ سے باہر آیا اور اپنی تین دن کی بھوک مٹانے پتلی سڑک پار کر کے ویران پڑے شوالے کے اندر چلا گیا۔