ہم کون ہیں کہاں سے آئے ہیں ہمارے آباؤاجداد کس قوم سے تعلق رکھتے تھے اور ٹیکسلا شاہ ڈھیری میں کب سے آباد ہوئے ان تمام سوالات کا جواب آپ کو ہماری ریسرچ پر ملے گا جس کی بنیاد ایک مقامی شخص جناب مرحوم بابو چوہدری غلام فرید قوم راجپوت سے ہو گی ۔ہم ان کا مکمل شجرہ نسب اور ان کی قریبی برادری جو مختلف علاقوں تک پھیل گئی ھے ان کے آباؤاجداد انگریز دور میں کیا کاروبار کرتے تھے ان سے تعلق اور قوم سب پر مکمل تحقیقات کریں گے ۔
Ghulam Farid Legacy info about our family ancestors Taxilian coming soon a through research about our forefathers origin arrival and roots
Generation to Generation 25 to 30 years gaps
Mohammad Afsar
1920-1950
Ch. Ghulam Farid
1950-2025
Asif Farid
1980--
Mohammad Shaheer Farid
2010--------
Hazara University DNA Reports
ہزارہ یونیورسٹی کی DNA رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائرایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے تعاون سے ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ جینیات نے ہزارہ کے مختلف قبائل کے جینیاتی تجزیے پر مبنی رپورٹ 2014ء میں شائع کی ۔یہ رپورٹ ہزارہ یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر آج بھی موجود ہے ۔
لنک یہ ہے :
http://prr.hec.gov.pk/jspui/handle/123456789/2751
اس منصوبے پر اکتوبر 2010ء سے مارچ 2014ء تک کام کیا گیا جس میں ہزارہ کے بڑے نسلی گروہوں پر تحقیق کی گئی ۔
اس کے بعد 2017ء میں ایک اور رپورٹ صوابی اور بنیر کے پانچ بڑے نسلی گروہوں کے جینیاتی تجزیہ کے حوالے سے شائع کی گئی ۔ اس منصوبے کو بھی ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے ڈونیٹ کیا اور ہزارہ یونیورسٹی نے اس کی رپورٹ شائع کی ۔ لنک یہ ہے:
http://prr.hec.gov.pk/jspui/handle/123456789/9941
ان دونوں رپورٹس کے نتائج ایک جیسے تھے۔ ذیل میں اس کے اہم نکات کو درج کیا گیا ہے :
1۔ رپورٹ کے مطابق اس علاقے کے گجر ،سید ، کڑلال، اعوان ، یوسفزئی اور سواتی نسلی طور پر ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہیں۔ خاص طور پر اس علاقے کے گجروں ، سیدوں اور یوسفزئیوں کی بہت بڑی اکثریت کا ہیپلو گروپ ایک ہی ہے جو انہیں ایک ہی نسل سے ظاہر کرتا ہے ۔
2۔ J1e جو کہ بنو ہاشم عربوں کا جینیاتی کوڈ ہے وہ یہاں کی اکثر اقوام میں نہیں مل پایا جس سے وہ تمام تواریخ من گھڑت ثابت ہو گئی ہیں جن کے ذریعے یہاں کے مختلف لوگ اپنا شجرہ نسب عربوں سے ملاتے ہیں ۔
3۔ جینیاتی تجزیے کے مطابق اس خطے کا سب سے بڑا نسلی گروہ R1a سے تعلق رکھتا ہے (جس کو ٹیبل میں سرخ رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے) جو یہاں کی کل آبادی کا 53 فیصد ہے اور یہ ہپلو گروپ گجروں ، سیدوں ، اعوانوں، یوسفزئیوں ، سواتیوں میں سب سے زیادہ مشترک ہے ۔ جبکہ ایک بڑی تعداد تنولی میں اور ایک چھوٹی تعداد جدون میں بھی موجود ہے ۔
جینیٹک سائنسز کی رو سے R1a, R1b اور R2 آریاوں سے تعلق رکھتے ہیں اور
یہ ہپلو گروہ گجروں اور پشتونوں دونوں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ متذکرہ بالا کئی قبائل میں بھی موجود ہیں ۔ تاریخی طور پر بھی افغانستان اور شمال مغربی ہند کا یہ علاقہ آریانہ ہی کہلاتا رہا ہے جہاں سب سے زیادہ عرصہ تک گجر قبائل نے حکومت کی۔ یہ آریاوں کی سرزمین تھی اور آج کی جدید سائنس بھی اسی بات کی تصدیق کر رہی ہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس خطہ میں آریاوں کی ایک بڑی تعداد نے بظاہر اپنی آریائی شناخت کو خیر آباد کہہ کر اپنا تعلق عربوں ، ترکوں یا منگولوں سے جوڑ لیا ہے لیکن حقیقت میں آج بھی وہ اسی بڑے انسانی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔
.
4۔ تجزیہ کے مطابق 32 فیصد کا تعلق ہیپلوگروپ M سے ہے ۔ جس کو ٹیبل میں ایل سے ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ یہ اسی جینیاتی گروپ کا حصہ ہے ۔ اس ہپلو گروپ کا تعلق بنیادی طور پر جنوبی ایشیا سے ہے اور ان کو ہند کے قدیم آریاوں کے طور پر پہچانا جاتاہے ۔ حال ہی میں عالمی شہرت یافتہ روزنام "سیل" میں ہڑپہ سے ملنے والے ساڑھے چار ہزار سال قبل کے ایک ڈی این اے پر تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں ان کو قدیم آریا کہا گیا ہے ۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطہ کی 85 فیصد آبادی کا تعلق ان دو ہیپلو گروپس سے ہے جو براہ راست آریاوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی دو گروپ سب سے زیادہ گجر قوم میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ ہزارہ یونیورسٹی کی اس رپورٹ سے بھی ظاہر ہو رہا ہے ۔
برصغیر پر حملہ آور ہونے والے بڑے گروہ اور ان کے اثرات درج ذیل ہیں:
۱. آریائی (Indo-Aryans) - وسطی ایشیا
تقریباً 1500 قبل مسیح میں وسطی ایشیا (سٹیپس) سے ہند-آریائی قبائل برصغیر میں داخل ہوئے۔
* فتح کا علاقہ: دریائے سندھ اور گنگا کی وادیاں۔
* DNA میں شمولیت: برصغیر کی "اونچی ذاتوں" اور شمالی ہند/پاکستان کے لوگوں میں ان کا جینیاتی اثر (Haplogroup R1a) بہت نمایاں ہے۔ ان کی وجہ سے یہاں کی زبانوں (سنسکرت، پنجابی، ہندی) کی بنیاد پڑی۔
۲. یونانی (Greeks) - مقدونیہ
326 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے موجودہ پاکستان کے علاقوں کو فتح کیا۔ اس کے بعد یونانیوں نے یہاں "انڈو-گریک" سلطنتیں قائم کیں۔
* DNA میں شمولیت: یونانی سپاہی یہاں آباد ہوئے اور مقامی آبادی سے شادیاں کیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں (سوات، چترال) اور پنجاب کے بعض قبائل میں ان کا جینیاتی اثر پایا جاتا ہے۔
۳. سیتھی، پارتھی اور کشان (Scythians & Kushans) - وسطی ایشیا
یہ جنگجو قبائل موجودہ جنوبی روس اور وسطی ایشیا سے آئے۔ انہوں نے کشان سلطنت قائم کی جس کا دارالحکومت پشاور (پرشاپورہ) تھا۔
* DNA میں شمولیت: ان قبائل نے برصغیر کی موجودہ "جاٹ" اور "گجر" برادریوں کے جینیاتی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
۴. عرب فاتحین - جزیرہ نما عرب
712ء میں محمد بن قاسم نے سندھ اور ملتان کو فتح کیا۔
* DNA میں شمولیت: عربوں کی ایک بڑی تعداد سندھ اور ساحلی علاقوں (مالابار) میں آباد ہوئی۔ آج بہت سے خاندان جو خود کو "سید" یا "قریشی" کہتے ہیں، انہی عرب جڑوں سے جڑے ہیں۔
۵. ترک اور افغان - وسطی ایشیا و افغانستان
محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور بعد میں دہلی سلطنت کے سلاطین۔ یہ لوگ ترک یا تاجک نژاد تھے جو افغانستان کے راستے آئے۔
* DNA میں شمولیت: ان کے ساتھ آنے والے لشکری برصغیر میں مستقل آباد ہو گئے۔ ان کا اثر خاص طور پر پاکستان کے پشتونوں اور شمالی بھارت کے مسلمانوں میں زیادہ ہے۔
۶. مغل (Mughals) - ازبکستان/منگولیا
ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ لوگ نسلی طور پر ترک-منگول تھے۔
* DNA میں شمولیت: مغلوں نے مقامی راجپوتوں اور دیگر اشرافیہ کے ساتھ بڑے پیمانے پر رشتے داریاں کیں۔ ان کا جینیاتی اثر اج کل کے "مغل" کہلانے والے خاندانوں میں موجود ہے۔
خلاصہ: جینیاتی نقشہ (Genetic Map)
| فاتح گروپ | اصل خطہ | موجودہ اثرات |
|---|---|---|
| آریائی | وسطی ایشیا / روس | شمالی پاکستان اور بھارت کی اکثریت |
| یونانی | جنوب مشرقی یورپ | کالاش، سوات اور بعض پنجابی قبائل |
| منگول/ترک | منگولیا و ازبکستان | مغل، ہزارہ اور وسطی ایشیائی خدوخال |
| عرب | سعودی عرب / یمن | سندھ اور جنوبی بھارت کے ساحلی علاقے |
| ایرانی | فارس | بلوچستان اور سندھ کے بعض قبائل |
ڈی این اے (DNA) کی موجودہ صورتحال
جدید سائنسی تحقیق (جیسے ڈیوڈ ریخ کی ریسرچ) بتاتی ہے کہ برصغیر کے لوگوں کا DNA بنیادی طور پر تین بڑے گروہوں کا مرکب ہے:
* Ancestral North Indians (ANI): جن میں آریائی اور وسطی ایشیائی فاتحین کا اثر زیادہ ہے۔
* Ancestral South Indians (ASI): جو یہاں کے قدیم ترین باشندے تھے۔
* Austro-Asiatic: جو مشرقی جانب سے آئے۔