Malik Muhammad Shaffi (Late)
ملک صاحب کا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے تھا، پاکستان بننے سے پہلے بھی ٹیکسلا کے چند ایک نمایاں خاندانوں میں سے تھے،اس لیے ان کی سوچ مختلف (، لالچ، خود نمائی ، جھوٹ، فنکاری، چاپلوسی، ) سے پاک تھی ، 25 سال کی عمر میں چیرمین منتخب ہوئے، اعلیٰ اخلاق ، دوست شرطیں لگاتے تھے ان کے منہ سے کسی کے لیے برا لفظ نکلے غیبت وغیرہ مگر ناکام رہتے
کسی نے مجھے کہا تھا اگر تم دُنیا کے لیے کارآمد ہو اور انسانیت سے محبت ہے اور تم اچھا کام کر کے جا چکے ہو یا کر رئے ہو دُنیا تمھیں ڈھونڈ کر نکال لے گی اور دُنیا کے سامنے لے آئے گی۔
کافی عرصہ سے ملک محمد شفیع صاحب (، میرئے والد کے چچا زاد بھائی میرئے ماموں، اور سُسر بھی)۔ ان کے کارنامے دُنیا سے سنے مگر دستاویز نہیں مل رہیں تھیں۔ اصل میں کسی کو دلچسپی ہی نہیں تھی ۔ چند دن سے میں اور میری بیٹی ان کے کاغذات اٹیچی کیس کچھ ڈھونڈ نکالے۔ حیرت انگیز ، ان کے تعلیمی ، سیاسی، اور فلاحی کارناموں کے دستاویزی ثبوت ملے۔
یونین کونسل عثمان کھٹر کے پہلے چیرمین منتخب ہوئے دوسری بار بھی منتخب ہوئے، اور ٹیکسلا بلدیہ کے بھی چیرمین رئے، اس وقت کونسل میں ایک طرف خرم گجر، خرم پراچہ، شاہ پور، بھڑ درگائی، موڑا شاہ ولی شاہ، جس میں موجودہ بازار ، ڈھبیاں گانگو جمعہ، گانگو بہادر، عثمان کھٹر، بھلڑ توپ، سلار گاہ ، تک شامل تھے۔
انسان کے پڑھے لکھے ہونے کا ضرور فائدہ ہوتا ہے۔ تعلیم ان کی ایم آے۔ اکنامکس اور ایم اے انگلش تھی۔
مختصر، صدر ایوب صاحب اسی راستہ سے گزر کر ہری پور جاتے تھے ، آئے اور ملاقات کی اور مسائل پوچھے ، بریف کیا ہمارئے اختیارات محدود ہیں، اختیارات دیے جائیں، اور دوسری دفعہ پنڈی سے لاہور تک صدر ایوب صاحب کے ساتھ سفر کیا، جو ان سے بہت متاثر ہوئے اور کابینہ میں ان کا ذکر کیا، محصالاحتی عدالتوں کا قیام کیا گیا جس کے ملک صاحب بھی ممبر تھے۔ ( ممران کے پاس موجودہ DC جتنے اختیارات تھےعدالت لگتی )ان کو منسٹر بنانا تھا لیکن سندھ سے بنا دیا جوکہ ایک سیاسی کام تھا،
امریکہ سے وزیر خوراک نے پاکستان کا دورہ کیا۔ گورنمنٹ کی طرف سے دو یونین کونسل کا انتخاب کیا گیا۔ ایک روات اور عثمان کھٹر کا۔ جب ان سے ملاقات ہوئی تو بتایا سکول کی عمارت کی کمی ہے، وزیر نے بتایا ہم کیش رقم نہیں دے سکتے۔ گندم دے سکتے ہیں، ملک صاحب نے پرپوزل بنا کر دی جو منظور ہوئی، گندم بیچ کر دس ہزار رقم بنی اور پندرہ ہزار لوکل افراد سب نے کیے۔ یہ اتنا آسان کام نہ تھا بہت زیادہ خط و کتابت ہوئی۔ ایک ایک چیز کا حساب دیا گیا ۔اعلی کارکردگی کی وجہ سے ان کو گورنمنٹ کی طرف ایک عدد گھڑی اورسرٹفیکٹ گورنمنٹ کی طرف سے ملا۔
اس رقم سے چار سکول( بچوں کو کافی عرصہ کھانا بھی دیا جاتا رہا)، کنوہیں، روڈ، نکاسی آب کا کام کیا گیا۔ اس ایڈ کا نام PL- 480 یو ایس تھا، جو ان کی وجہ سے منظور ہوئی اور بعد میں ایک مہذبی جماعت کی NGO لیتی رہی ۔
انشااللہ ان کے دستاویز کے مطابق کام ہو رہا ہے ۔ وقت لگے گا
https://www.facebook.com/share/v/1FBjYYMPPC/