دانہ، دام اور تقدیر
قرآن و سنت کی روشنی میں ایک سبق آموز مکالمہ
حکمت کا قول ہے کہ ہر ہاتھ جو دانہ ڈالتا ہے، وہ خیر خواہ نہیں ہوتا؛ بعض اوقات وہ شکاری کا جال ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ شام کا وقت تھا۔ جنگل میں ایک پرندہ زمین پر بکھرے ہوئے دانوں کے قریب آیا۔ اسے معلوم تھا کہ یہاں خطرہ بھی ہو سکتا ہے، مگر دانے کی کشش غالب آگئی۔ چند لمحوں بعد وہ شکاری کے جال میں پھنس گیا۔
قریب سے گزرتے ہوئے ایک بزرگ نے جب یہ منظر دیکھا تو رُک کر پرندے سے مخاطب ہوئے
اے نادان پرندے! تو اتنا بے وقوف کیسے ہو گیا کہ تجھے زمین پر بکھرا ہوا دانہ تو نظر آگیا، مگر اسے گھیرے جال کے دھاگے نظر نہ آئے؟
پرندے نے افسردگی سے جو جواب دیا
، وہ ہم سب کے لیے تازیانہ ہے۔
اس نے کہا: اے بزرگ! ہمیں سب نظر آتا ہے، لیکن جب قضا (قسمت) کا وقت آتا ہے تو نہ عقل کام کرتی ہے اور نہ ہی نظر۔
اے بزرگ! جال بھی نظر آیا تھا اور خطرہ بھی معلوم تھا، لیکن نفس نے کہا کہ کچھ نہیں ہوگا۔ پھر وہی ہوا جو اللہ نے مقدر فرمایا تھا۔
بزرگ مسکرائے اور بولے
یہ صرف تمہاری کہانی نہیں، یہ انسان کی بھی کہانی ہے۔
پھر انہوں نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی
(سورۃ البقرہ 2:216) " اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بری ہو۔"
اور فرمایا: کتنے لوگ دنیا کے دانوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپے ہوئے جال نہیں دیکھتے۔
پرندے نے پوچھا
"انسان کا جال کیا ہے؟"
بزرگ نے جواب دیا
"حرام مال، جھوٹ، سود، دھوکہ، ناجائز تعلقات، شہرت کی خواہش، اور نفس کی پیروی۔ یہ سب ایسے دانے ہیں
جو بظاہر خوشنما ہوتے ہیں مگر انجام میں جال ثابت ہوتے ہیں۔
پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنایا:
دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔(صحیح مسلم)
اور فرمایا مومن ہر چمکتی ہوئی چیز کی طرف نہیں دوڑتا، کیونکہ وہ انجام کو بھی دیکھتا ہے۔
پرندے نے کہا: اگر تقدیر لکھی جا چکی ہے تو پھر احتیاط کیوں؟
بزرگ نے جواب دیا:
"تقدیر پر ایمان رکھنا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب کو چھوڑ دے۔"
پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔(سورۃ البقرہ 2:195)
اور فرمایا اللہ نے تمہیں عقل دی، بصیرت دی، اور حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت دی۔ احتیاط کرنا تمہارا فرض ہے، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
یہ سن کر پرندہ خاموش ہوگیا۔
بزرگ نے آخری نصیحت کرتے ہوئے کہا:"یاد رکھو! شیطان ہمیشہ گناہ کو جال کی صورت میں نہیں لاتا، بلکہ دانے کی صورت میں لاتا ہے۔
حاصلِ سبق
. ہر دانہ نعمت نہیں ہوتا
ہر موقع، ہر دعوت، ہر تعلق اور ہر فائدہ خیر نہیں ہوتا۔ مومن صرف فائدہ نہیں دیکھتا بلکہ انجام بھی دیکھتا ہے۔
. بصارت سے زیادہ بصیرت ضروری ہے
آنکھ جال دیکھ سکتی ہے، مگر دل کی بصیرت ہی خطرہ پہچانتی ہے۔
"بے شک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔"
(سورۃ الحج 22:46)
. گناہ ہمیشہ خوبصورت لباس پہن کر آتا ہے
شیطان برائی کو برائی بنا کر پیش نہیں کرتا بلکہ اسے خواہش، ترقی، آزادی یا فائدے کا نام دیتا ہے۔
تقدیر پر ایمان تدبیر کو ختم نہیں کرتا
اونٹ باندھنا بھی سنت ہے اور اللہ پر بھروسہ کرنا بھی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلے اونٹ کو باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو۔ (جامع الترمذی)
. سب سے خطرناک جال وہ ہے جسے ہم جال نہیں سمجھتے
کبھی مال، کبھی شہرت، کبھی غصہ، کبھی حسد اور کبھی نفس کی خواہشات انسان کو وہاں لے جاتی ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
💡 یاد رکھیے!
شیطان انسان کو جال نہیں دکھاتا، دانہ دکھاتا ہے۔
اور مؤمن کی کامیابی یہ ہے کہ وہ دانے سے پہلے جال کو پہچان لے۔