تعارف: اسلام میں خوفِ خدا کو تمام نیکیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ جب انسان کے دل میں اپنے رب کے سامنے پیش ہونے کا سچا ڈر پیدا ہو جاتا ہے، تو وہ گناہوں کی دلدل سے نکل کر توبہ کی راہ اختیار کر لیتا ہے۔
درج ذیل حدیثِ مبارکہ میں اسی عظیم فضیلت کو ایک خوبصورت اور رقت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
حضرت ابودرداءؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے
”جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔“
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ فرمایا: جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔
میں نے دوسری مرتبہ عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔
تو میں نے بھی تیسری مرتبہ عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو۔
ماخذ: یہ حدیث مبارکہ مسند احمد اور سنن النسائی الکبریٰ میں موجود ہے، اور یہ سورہ الرحمٰن کی آیت نمبر 46 (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ) کی تفسیری تشریح ہے۔
مفہوم و حکمت: اس حدیث پاک کا مقصد گناہوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت اور خوفِ خدا کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔
سچی توبہ کا اثر: جب ایک انسان سچے دل سے اللہ کا خوف دل میں بسا لیتا ہے، تو وہ ماضی کے تمام گناہوں (خواہ وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں) سے سچی توبہ کر لیتا ہے۔ اللہ پاک اس کے اس خوفِ الٰہی کے بدلے اس کے پچھلے گناہ معاف فرما کر اسے جنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔
عربی محاورہ: حدیث کے آخر میں استعمال ہونے والا لفظ "ناک خاک آلود ہو" ایک عربی محاورہ ہے، جو یہاں حضرت ابودرداءؓ کی عاجزی اور نبی کریم ﷺ کی طرف سے بات کو حتمی اور یقینی طور پر ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔
جدہ — خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیر داخلہ اور سپریم حج کمیٹی کے چیئرمین شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف کو تہنیتی پیغامات بھیجے ہیں، جن میں انہوں نے عید الاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر رواں سال کے حج سیزن کی شاندار اور مثالی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔
اس سے قبل، وزیر داخلہ نے مختلف سعودی علاقوں کے امراء، سپریم حج کمیٹی کے ارکان، سیکورٹی اہلکاروں اور حج آپریشن میں شامل تمام اداروں کی طرف سے شاہی قیادت کو شکریہ کا پیغام بھیجا تھا، جس میں حج سیزن کو محفوظ بنانے کے لیے ان کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا گیا تھا۔
"یہ کامیابی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ممکن ہوئی، اور پھر ان تمام متعلقہ اداروں کی غیر معمولی کوششوں، جامع حفاظتی، طبی، اور تنظیمی منصوبوں کی بدولت ہے جنہیں انتہائی مہارت سے تیار اور نافذ کیا گیا۔" — خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز
شاہ سلمان نے اپنے پیغام میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ علاقائی چیلنجز کے باوجود تمام سیکیورٹی اور احتیاطی منصوبوں کو اتنی کامیابی سے نافذ کیا گیا کہ دنیا بھر سے آئے لاکھوں زائرین نے انتہائی سکون کے ساتھ اپنے مناسک ادا کیے:
حجاج کرام کی کل تعداد: رواں سال مجموعی طور پر 1,707,301 حجاج کرام کو سہولیات فراہم کی گئیں۔
سہولت اور نقل و حرکت: تمام سیکیورٹی، حفاظتی اور ٹریفک پلانز کی بدولت حجاج نے مقدس مقامات (منیٰ، عرفات، مزدلفہ) کے درمیان انتہائی آسانی، راحت اور اطمینان کے ساتھ نقل و حرکت کی۔
روحانی ماحول: پورا حج سیزن امن و امان، ایمان اور روحانیت سے بھرپور ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔
ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی اپنے پیغام میں حج منصوبوں پر تفصیلی اور منظم عمل درآمد کو سراہا۔ انہوں نے خاص طور پر تمام سرکاری اور نجی شعبوں کے باہمی تعاون کی تعریف کی جس نے ضیوف الرحمن (اللہ کے مہمانوں) کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا:
قابلِ فخر شعبے: سیکیورٹی، صحت، لاجسٹکس، اور ٹریفک مینجمنٹ کے اداروں نے دن رات خدمات سرانجام دیں۔
بنیادی ہدف: مملکت کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے زائرین کی حفاظت اور ذہنی سکون کو یقینی بنانا۔
سعودی قیادت نے اپنے پیغامات کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ وہ تمام حجاج کا حج قبول فرمائے، انہیں ان کے وطنوں کی طرف خیر و عافیت کے ساتھ واپس لوٹائے، اور مملکت کی خوشحالی اور امن و استحکام کو ہمیشہ قائم رکھے۔