3-Months Programs: BIT (Basics of Information Technology) (Boys / Girls) ITA (Information Technology Assistant) (Boys / Girls) ITOA (Information
قواعدو ضوابت حاضری و رخصت
تمام طلباء و طالبات کو حاضری و رخصت کے متعلق قوانین کی پابندی کرنا ضروری ہوگی۔
خاص مقاصد کے پیش نظر طلباء و طالبات کو اتفاقیہ چھٹیوں کا حق ہوگا جو حسب ذیل طریقہ سے لی جا سکتی ہیں۔
رخصت کیلئے کم از کم ایک دن پہلے درخواست دینا ہوگی اور معقول جواز پیش کرنا ہوگا۔
طالب علم کی حاضری کی شرح 90 فیصد سے کم ہونے کی صورت میں چھٹی کی درخواست مسترد کر دی جائے گی اور کوئی عذر قبول نہ ہوگا۔
جو طلباء و طالبات غیر حاضری کی طرف رجحان رکھتے ہیں اُن کے سرپرست کو مطلع کر کے اُن کو تصیح کا موقع دیا جائے گا۔
ایک غیر حاضری پر 100 روپے جرمانہ ادارہ میں جمع ہوگا، لگاتار غیر حاضر ہونے پر پہلے دن کا جرمانہ 100 روپے، دوسرے دن کا 015 روپے، تیسرے دن کا 250 روپے اور چوتھے دن کا 500 روپے ہوگا۔
جرمانہ رسید ادارہ سے ضرور حاصل کریں۔
بغیر درخواست کے 4 یوم کی مسلسل غیر حاضری کے بعد بلا نوٹس نام خارج کر دیا جائے گا۔
جن طلباء و طالبات کی حاضری 90 فیصد سے کم ہوگی انہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہوگی بلکہ وہ اسی کلاس میں مزید تربیت حاصل کریں گے، تاوقتیکہ وہ اپنی کمی پوری نہ کر لیں۔
حاضری 80 فیصد سے کم ہونے کی صورت میں طالب علم کورس امتحان دینے کا حق ہمیشہ کیلئے کھو دے گا۔
ادارے کا شناختی کارڈ
داخلہ کے بعد ہر طالب علم کو ایک شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے جو کہ ہر وقت اس کے پاس رہنا چاہئے اسے کسی بھی وقت طلب کیا جا سکتا ہے۔
اس شناختی کارڈ کے بغیر طلباء و طالبات کو امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس کے علاوہ مفت سفر کی سہولت کیلئے یہ کارڈ کارآمد ہوتا ہے۔
کورس مکمل ہونے کے بعد طالب علم کو یہ کارڈ ادارہ ہذا کے دفتر میں جمع کروانا لازمی ہے۔
کارڈ گم ہونے کی صورت میں نیا کارڈ 200 روپے جرمانہ ادارہ میں جمع کروانے کے بعد جاری کیا جائے گا (جرمانہ رسید ضرور طلب کریں)۔
ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں داخلہ ہونے کی صورت میں حکومت پنجاب کے احکامات کے مطابق بساطت ضلعی زکوٰۃ کمیٹی ماہانہ وظیفہ 500 روپے اور کورس کی کامیاب تکمیل پر طالب علم کو 5000 روپے بطور بحالی الاؤنس بذریعہ بینک ادا کیا جائے گا (مالی امداد کی ادائیگی محکمہ زکوٰۃ کی منظوری سے مشروط ہوگی)۔ جس کیلئے ضروری ہے کہ ہر طالب علم کا اکاؤنٹ ادارے کی نامزد کردہ برانچ میں ہو۔
جن طلباء و طالبات کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہے اور وہ شناختی کارڈ رکھتے ہیں ان کا اکاؤنٹ ادارے کی نامزد کردہ شاخ (پنجاب بینک) میں فوراً کھول دیا جائے گا۔ جن طلباء و طالبات کی عمر 15 سے 18 سال کے درمیان ہوگی وہ ”ب“ فارم کی کاپی مہیا کریں گے، ان کا اکاؤنٹ ان کے سرپرست کے نام کھولا جائے گا۔ بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کیلئے ٹرینی کو کسی قسم کی زحمت نہ کرنا ہوگی۔ بینک والے انسٹیٹیوٹ کو بھرپور تعاون مہیا کرتے ہیں اور آپ اپنا یہ اکاؤنٹ ادارے سے فارغ ہونے کے بعد بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔
قواعد و ضوابط
ادارے کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
ادارے کی انتظامیہ، اساتذہ اور دیگر عملہ کا احترام کرنا ہوگا۔
طلباء و طالبات کیلئے اسمبلی میں حاضر ہونا لازمی ہے، ورنہ جرمانہ کیا جائے گا۔
دورانِ تربیت کسی بھی حادثہ یا نقصان کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہ ہوگا۔
دورانِ تربیت وقت کی پابندی لازمی ہے، دیر سے آنے والے طلباء و طالبات کو واپس بھیج دیا جائے گا اور اس دن انہیں غیر حاضر تصور کیا جائے گا۔
طلباء و طالبات انسٹیٹیوٹ کے مقرر کردہ اوقات سے پہلے پرنسپل کی اجازت کے بغیر باہر نہیں جا سکیں گے۔
ادارے کی حدود میں ہر قسم کا اسلحہ لانا ممنوع ہے، لائسنس دار کیلئے بھی یہی شرط ہے۔
ادارے میں کسی قسم کی سیاسی یا فرقہ وارانہ سرگرمی سختی سے منع ہے اور اس بناء پر داخلہ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی طالب علم کو دورانِ تربیت کسی بھی تنظیم کا رکن بننے یا کسی تنظیم کیلئے کام کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔
طلباء و طالبات جو اشیاء پریکٹیکل کے دوران استعمال کریں گے ان کی حفاظت اور کام کے بعد صحیح حالت میں واپسی کے ذمہ دار ہوں گے۔
ادارہ میں 90 فیصد حاضری لازمی ہے جس کے بعد ہی انہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔
طلباء و طالبات اپنی چیزوں کی حفاظت خود کریں گے، کوئی بھی چیز گم یا چوری ہونے کی صورت میں انتظامیہ کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گی۔
ادارہ کی املاک کو نقصان پہنچانا ناقابل معافی جرم ہے، جس کی تلافی پرنسپل صاحب کے فیصلہ کے مطابق کرنا ہوگی۔
پرنسپل صاحب کو نظم و ضبط کے قوانین کے تحت کاروائی کرنے، قوانین/قواعد و ضوابط کی تشریح اخذ کرنے اور کسی طالب علم کو قوانین/قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر انسٹیٹیوٹ سے خارج کرنے کا مکمل اختیار ہے۔
تمام امور پر پرنسپل صاحب کا فیصلہ حتمی اور قطعی تصور کیا جائے گا اور تمام طالب علموں کیلئے اس کو قبول کرنا لازمی ہوگا۔
انسٹیٹیوٹ میں طلباء و طالبات کیلئے موبائل فون لانے پر اور استعمال کرنے پر سخت پابندی ہے، دورانِ ٹریننگ اگر کسی طالب علم سے موبائل فون برآمد ہوا تو ضبط کر لیا جائے گا۔
طالبات کو شارٹ لیو ہرگز نہ دی جائے گی، ایمرجنسی کی صورت میں والد/ والدہ یا سرپرست کا آنا ضروری ہوگا اور والد/ والدہ یا سرپرست کو اپنا شناختی کارڈ ساتھ لانا لازمی ہوگا۔