پہلے مسلمانوں کے سرکاری مُلاؤں اور احبار و رُھبان میں یہ رجحان ہوا کہ انہوں نے لوگوں کو اپنے مفاد کے لئے یہ بتایا کہ دیکھوتمہیں سہولتیں چاہئے لے لو حکمرانوں کو نہ دیکھو کہ وہ کیسے ہیں اور کیا کرتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امام حسین علیہ السلام اپنے معصوم بچوں گھروالوں اور رفقاء کے ساتھ بچنے کی سعی کرتے ہوئے ہندوستان کی طرف ہجرت کے سفر کے دوران کربلا میں گھیر کرشہیدکردئیے گئے،حقیقت تو یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے قرآن کے نفاذ کے لئے جنگ کی اور علی علیہ السلام اس کی تفسیرکے تحفظ کے لئے جنگ کریں گے لیکن افسانوں نے کربلا کی سچائی پر گرد ڈال دی، پھر امام حسینؑ کی شہادت کے ساتھ تحفظ تفسیرِقرآن کی منظم تحریک کا خاتمہ ہوگیا، اس کے بعد سے لوگ لگاتار قرآن وحدیث کی حقیقیت کے مقابلے خود ساختہ تفسیروں اور جھوٹے اقوال کو ترجیح دیتے رہے اور ایک ایک کرکے مسلم نظامِ حکومت کے سارے ستون گرادئیے گئے، جب مُلاؤں اور احبار و رُھبان کے پاس کچھ بھی نہ رہا اور سرکاری امدادیں ملنی بند ہوگئیں توپھر انہوں نے عدالتیں اور سرکاری دفاتر کو چھوڑ کر ان لوگوں کی خانقاہوں اور علمی اداروں پر قبضہ کرناشروع کیا جنہوں نے عوامی اکثریت کی بے حسی کے چلتے ترکِ معاملاتِ حکومت و سیاست اختیار کرکے مومنانہ صفات کے حامل لوگوں کے تعاون سے آزادانہ جگہ جگہ علوم نبوت کے چراغ روشن کئے ہوئے تھے، مخالفت پر عوام کو سمجھانا شروع کیا کہ دیکھو تمہیں دین چاہئے چپ چاپ لے لو دینے والے سے مطلب غرض نہ رکھو کہ وہ کون اور کیسا ہے، یعنیٰ چندہ دو دین لو، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم عوام آج اس معاملے میں بھی ٹھیک اسی طرح غیر ذمہ دار اور بےحس ہوچکی ہے جیسے اپنے شورائی اور جمہوری نظامِ خلافت و حکومت کے لئے ہوئی تھی، فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا کے پس منظر میں عورت اور مرد کا چونکہ ایک دوسرے کی طرف خدائی فطری جنسی رجحان ہے بلکہ اگر کسی کو نہ ہو تو وہ مرد یا عورت نہیں ہے اس لئے موجودہ غیراسلامی معاشرتی حالات میں عشق و معاشقے والے معاملوں میں تو عذر کی گنجائش ہوسکتی ہے لیکن حد یہاں تک یہ ہے کہ مذکورہ حیلے کے چلتے عوام میں پیدا ہونے والی بے حسی اور بے شعوری کی انتہا کی وجہ سے اب ممبر و محراب پر جھوٹوں مکاروں حرام خوروں لونڈی بازوںکے ساتھ ساتھ فاعل اور مفعول دونوں قسم کے لونڈے بازبھی چڑھے بیٹھے ہیں جس کا مشاہدہ ان کے پکڑے جانے کی صورت میں آئے دن ہمیں ہوتا رہتا ہے، نیز یہ ہر حربے سے صالح علماء کو بھی ممبرومحراب تک پہنچنے سے روکتے ہیں،اگر اس سلسلے کو اب بھی نہ روکا گیا تو وہ دن دور نہیں جب لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ دیکھو بھائی ہمیں پیسہ چاہئے پھر وہ چاہے جھوٹ مکاری،زنا کاری،بدکاری،شراب،سور،سود خوری، یا پھر سدومیت سے ہی کیوں نہ ملے، کیوں کہ ہم خود اسے تھوڑی کرتے ہیں،ہم تو بس اس میں پیسہ لگاتے ہیں اور بدلے میں ہمیں پیسہ ملتا ہے،یعنیٰ بس پیسہ دو پیسہ لو والا معاملہ ہے، جب پیسہ دے کر دین لو چاہے جو دے تو پیسہ دے کر پیسہ لینے میں کیا حرج ہے پھر آخرچاہے جو دے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ درپردہ سب کچھ چل رہا ہے بس کھلے عام جواز کے ساتھ نہ کرنے کی تھوڑی بہت غیرت لوگوں میں فی الحال موجود ہے، اسی قسم کی حیلہ سازی سے جواز نکال کر ساری ممنوعہ باتیں یہود کرچکے ہیں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین کے مطابق مسلمانوں میں بھی ایک گروہ یہی سب کرے گا، یہاں تک کہ بعض روایات میں ہے کہ جیسے حیلہ سازی کے سہارے اس قسم کے جرائم کرنے کی وجہ سے یہودیوں کی شکلیں مسخ ہوئیں ویسے ہی مسلمانوں میں کے ایک گروہ کی مسخ ہوں گی، کچھ روایات میں یہ بات اتنی سختی سے کہی گئی ہے کہ ایسا واقعہ پیش آجانے سے پہلے قیامت نہیں آئے گی، ایک روایت یہاں تک موجود ہے کہ جیسے یہودیوں کو نافرمانیوں کی وجہ سے بندر اور خنزیر بنایا گیا اسی طرح مسلمانوں کے ایک گروہ کو بنایا جائے گا، یہ کوئی اخلاقی یا رویوں کی نہیں بلکہ اسی طرح کی حقیقی جسمانی تبدیلی ہوگی جیسی یہود میں ہوئی تھی۔
ابھی بھی معاشرے میں اتنی غیرت موجود ہے کہ لوگ کھلم کھلا برا کرنے والوں سے کم از کم عوامی سطح پر ترک تعلق اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیا ایسی ضرورت کسی کو محسوس نہیں ہوتی کہ ان ملاؤں اور احبار و رُھبان سے ترک تعلق اختیار کیا جائے جو معاشرے میں برائی کا سبب بن رہے ہوں، معاملہ خوب گرم تھا کہ مسلم لڑکیاں غیرمسلموں کے ساتھ فرار ہورہی ہیں، اس پر خوب لکھا اور اس قسم کی لڑکیوں اور ان کے گھروالوں کو برابھلا کہا جارہا تھا، میں بھی سوچنے لگا کہ اس پرکچھ ٹارچ ڈالوں مگر کوشش کے باوجود سیل ختم نظرآیا، پھر اسی درمیانایک واقعہ میرے علم میں آیا جب ایک کم عمر لڑکی دوسرے شہر فرار ہوگئی، گھر والے پریشان ہوئے، تلاش شروع کردی اورشام کاوقت گزرتے جانے کی ساتھ ساتھ متعلقہ سرکاری محکموں اور تنظیموں سے مدد مانگنے کی تیاری کررہے تھے کہ خیر سے اور وہ واپس آگئی، گھر والوں نے پوچھ تاچھ کی تو علم ہوا کہ کسی سے ملنے کم از کم ڈیڑھ سو کلومیٹر دور نکل گئی تھی،حیرت اور تشویش کی بات تو یہ ہے کہ اس نے اپنا ڈیفنس یوں کیا کہ دواساتذہ کا نام لے کر کہا کہ ہمارے مدرسے کے فلاں فلاں استاذ بھی تو ایسا کرتے ہیں، اگر محبت میں یہ کرنا غلط ہوتا تو وہ کیوں کرتے؟ اسکول کالج ہی نہیں مدارس کے اساتذہ بھی چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ دونوں آج کل اس قسم کی حرکتوں میں بلا روک ٹوک ملوث پائے جا رہے ہیں، یعنیٰ ہماری سوچ کہ "دین سیکھ لو چاہے جو سیکھائے" یہ ہمارے معاشرے کو انتہائی غلط سمت لے جارہی ہے، جب ہمارا اپنا نظریہ بلکہ عقیدہ ہی درست نہیں تو پھر اگر ہمارے سماج کی بے یا باحجاب لڑکیاں غیرمسلموں کے ساتھ بھاگ جائیں تو ہمیں اس پر اعتراض آخرکس منھ سے ہونا چاہئے؟ فکر کا مقام یہ ہے کہ ایک آزاد مسلمان مرد یا عورت اگر نام نہاد عشق ومحبت یا مالی مفاد کے لئے فقط مسلم اور غیر مسلم کا فرق کرتے ہوئے فحاشی بدکاری اور زناکاری کے راستے پر چلے تو کیا اس کے جرم پر سزا کے لئے خدا کے نظام میں کوئی فرق موجود ہے؟ جس دن لوگوں کو یہ باتیں سمجھ میں آگئیں اس دن سے لڑکیاں غیرمسلموں کیا کسی مسلمان کے ساتھ بھی نہیں بھاگیں گی۔