یوم غدیر 18/ذی الحجہ یعنیٰ اعلان ولایت علی علیہ السلام کا دن آتے ہی خلافت راشدہ کے قاتل فتنہ پرور ناصبی لوگوں کی طرف سے اسی دن عثمان بن عفانؓ کی شہادت کو سانحہ کربلا سے تشبیہ دینے اور اسی دن عثمان کا قتل کیا جانا قرار دیئے جانے کی کوششیں تیز کردی جاتی ہیں جبکہ ان کی ثابت شدہ تاریخ شہادت 12/ذی الحجہ ہے، اور دنیا جانتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کو جس بے دردی و بربریت سے مع ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں و رفقاء کے قتل کیا گیا، لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے، رسوائی کے مقصد سے ان کے سر نیزوں پر بلند کر کے کربلا سے دمشق لے جائے گئے اور پاکیزہ خواتین اہل بیتؑ کی توہین کی گئی، اس جیسا حضرت عثمان و ان کے اہل خانہ کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہوا تھا، ایک خاتون کی چند انگلیوں کے کٹ جانے پر اتنا فتنہ کہ اسے دمشق کی مسجد میں رکھ کر لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا جانا اور اس طرح خلافت راشدہ کے خلاف شامیوں کو مشتعل کرکے صفین برپا کرنا اہل مدینہ کو ہراساں کیا جانا پھر پہلے ایک طرف یمن اور بعد میں دوسری طرف کربلا میں خلافت راشدہ کے حامیوں کے چھوٹے معصوم بچوں کا بے دردی سے قتل خواتین کی بے حرمتی اور ان کو فسادی حربی کفار کی عورتوں کی طرح جنگی قیدی بنا کر بازاروں میں عربوں کے ایام جہالت کے رواج کی طرح برہنہ کر کے قیمتیں طے کرنا و بیچے جانے کے جرائم کرنا سانحہ حرہ اور قتل عثمان کا جرم برابر کیسے ہوسکتا ہے، جن لوگوں نے حدیبیہ کے وقت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول اللہ لکھنے پر معاہدے سے انکار کردیا تھا انہیں کی باقیات نے جب ذوالعشیرہ کے دن دنیا وآخرت میں قرار دیئے گئے نائب رسول اور "الیوم اکملت لکم دینکم" یعنیٰ دین کی تکمیل والے غدیر کے دن قرار دیئے گئے امت کے لئے رسول اللہ کے جانشین مولاعلی علیہ السلام کو امیرالمومنین لکھنے پر صلح سے انکار کردیا اور خلافت کا خاتمہ کر کے امت پر آمریت کو ٹھونس دیا، یہ جانتے بوجھتے بھی اگر کسی کی عقل نہیں کھلتی کہ یہ تو محمد الرسول اللہ کے لائے ہوئے دین کو تباہ کرنے والے لوگ تھے تو پھر وہ بھی انہیں ظالموں میں شامل ہے جن سے اللہ کا کوئی وعدہ ہرگز نہیں ہے لیکن وہ ان جیسوں کو کچھ مہلت دے دیا کرتا ہے، اگرصفین میں خلافت کے مقابلے پر آنے والے ایک خلیفہ کو ہٹا دیتے پھر اس کی جگہ دوسرا ہی لے آتے تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول ہوتا کہ انہوں نے قصاص لیا ہے، انہیں قصاص لینا ہوتا تو ان سے لیتے جنہوں نے خواص و عوام کے ذریعہ مدینہ کے ماتحت حکمرانوں کے خلاف کی گئی بدعنوانیوں اور قانون شکنیوں کی شکایات کے باوجود ابوبکر و عمر جیسے اقدامات نہ کئے جانے پر عثمان کو قتل کردیا، نہ کہ ان سب کے قاتل بن جاتے جنہوں نے ایک مقتول خلیفہ کی جگہ دوسرا نیا خلیفہ اس شخص کو منتخب کرکے نیک کام کیا جو ان کے درمیان تمام روئے زمین کے لوگوں میں سب سے افضل بزرگ مدبر اور برتر تھا، محمد صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے صحابہ تو محمد کے دین کے مقابلے پر آنے والوں کے لئے سخت اور آپس میں نرم تھے، پھر جنہوں نے حکومت الہیہ کا نمونہ اور نظام مصطفی کی جانشین خلافت راشدہ کے مقابلے اپنے دل اتنے سخت کرلئے کہ جبر و ظلم میں پڑ گئے اور خلافت کی عبا تار تار کرڈالی تو وہ لوگوں کے لئے قابل تقلید نمونہ آخر کیوں کر ہوسکتے ہیں؟ جبکہ اللہ نے آل ابراہیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بیت میں کے ظالموں تک سے کسی اچھے عہد کا انکار کر رکھا ہو، واقعہ تحکیم کے ذریعہ اور صحابہ پرستی کے پروپیگنڈوں تلے امت محمدیہ کے درمیان دجل و فریب کا جو بیج بودیا گیاہے اس نے ان لوگوں کو حکومت الہیہ کے قیام کے اس عظیم مقصد سے گمراہ کردیا ہے جن پر یہ آج بھی فرض ہے، غدیر صرف آغاز امامت کا دن ہی نہیں بلکہ اس بات کے اعلان کا دن بھی ہے کہ حکومت الہیہ کا قیام غدیر سے جدا ہوکر ہرگز نہیں ہو سکتا ہے۔