یوم عاشورہ کی عربوں کے یہاں صرف اتنی اہمیت تھی کہ حضرت عائشہؓ کے مطابق ایام جہالت میں اس دن قریش کعبہ کی دھلائی اور صفائی ستھرائی کیا کرتے تھے، عبد اللہ ابن عباس کے مطابق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے صرف ایک سال یوم عاشورہ کا روزہ رکھا اور فرمایا کہ اگر زندگی رہی تو اگلے سال (یہودیوں کی مخالفت کرتے ہوئے) دو روزے رکھوں گا لیکن اگلے عاشورہ سے قبل رسول اللّٰہ فوت ہوگئے، اسی لئے اس بات پر اختلاف ہے کہ روزہ نو دس رکھا جائے یا دس گیارہ کو رکھا جائے، اسلاف کی کثیر تعداد کا یہ عمل رہا ہے کہ وہ نو اور دس کو روزہ رکھنا بہتر سمجھتے تھے اور جس کا نو چھوٹ جاتا وہ دس گیارہ کو رکھا کرتا تھا، والد محترم ڈاکٹر سید ہارون حسینی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا بھی یہی موقف تھا لیکن عمل یہ تھا کہ کبھی رکھ لیتے تو پھر کئی سال نہ رکھتے، اس دن اچھے کپڑے پہننے یا اچھے کھانے پکانے اور کھلانے پر ثواب والی احادیث نواصب کی گڑھی ہوئی ہیں، چونکہ اہل کوفہ اس دن غم حسینؑ کی مجالس منعقد کرنے لگے تو اس کی مخالفت میں اہل دمشق نے جھوٹی روایات بنائیں اور خوشیاں منانے لگے، لیکن اس دن اگر صرف امام حسین علیہ السّلام کی طرف سے کھانا پکا کر اسی طرح کھلایا جائے جیسا کہ عام طور پر لوگ رسول اللّٰہ کی طرف سے قربانی کراتے ہیں اور اس کا گوشت تقسیم کرتے ہیں تو یہ عمل درست ہے۔