وہ مسلمانوں کا ذرّیں دور اور عروج کا زمانہ تھا،جب یوروپ ترک افواج کے پہ در پہ حملوں کا شکار تھا،اس دور کو اہل مغرب اپنا ڈارک ایج یعنی سیاہ دور کہتے ہیں، اس لئے نہیں کہ وہ مسلمانوں کو تلوار سے ٹکر نہیں دے سکتے تھے بلکہ اس لئے کہ وہ کفر کے فتووں سے گھرے اور مسلکی و گروہ پرستی کی عداوتوں و نفرتوں میں الجھے ہوئے تھے، حال یہ تھا کہ فرانس کے پادری اعظم نے اپنے بادشاہ "فریڈریک ثانی" پر کفر کا فتویٰ صرف اس لئے لگا دیا تھا کیوں کہ اس نے مسلمانوں کی طرح روز نہانا شروع کر دیا تھا،وجہ یہ تھی کہ وہ صلیبی جنگوں میں سلطان ایوبی کے جانبازوں سے ہار کر واپس ہوا،اور جاتے جاتے مسلمانوں سےنہانا سیکھ کر گیا تھا،اس نے مسلمانوں سے اچھی بات ہی سیکھی تھی پھر بھی پاپائیت کا نشانہ بنا۔
ایک طرف اتنی جہالت کہ برطانیہ کا پادری اعظم جب اپنے گرجے سے باہر نکلتا تو اس کے کپڑوں پر گندگی کی وجہ سے جوئیں چلتی نظر آتیں تو دوسری طرف بہادری اتنی کہ انہوں نے اسلامی دنیا پر ان گنت چھوٹے اور متواتر نو سے زائد مرتبہ انتہائی بڑے شدید حملے کئے تھے جن میں زلاقہ، ملازگرد اور حطین وغیرہ بہت ہی فیصلہ کن و مشہور ہیں،تاریخ انہیں یوروپین مذہبی جنونیوں کی چھیڑی گئی "صلیبی جنگوں" کے نام سے یاد کرتی ہے،ان حملوں میں برطانیہ،جرمنی،اٹلی،سسلی،فرانس،یونان،قسطنطنیہ یعنی آج کا ترکی،سمیت تمام یوروپی ممالک کی بے شمار تعداد میں متحدہ بری وبحری افواج شامل ہواکرتی تھیں۔
کچھ زمانے بعد حالات بدلے اور اللّٰه نے سلاجقہ روم اور ترکوں کو اہل یورپ پر باقاعدہ مسلط کر دیا، پھر وہ دن بھی آیا کہ سلطان محمد فاتح کی افواج نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر رکھا تھااورعیسائی آپس میں لڑائی لڑ رہے تھے،اس وقت بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنا انہیں ہرگز گوارہ نہیں تھا،وجہ تھے مسلکی و ذاتی اختلافات،جس کا کبھی آغاز اس طرح ہوا تھا کہ قسطنطنیہ کا آرتھوڈوکس فرقہ کہتا تھا کہ عیسیٰؑ مکمل نور ہیں جبکہ رومن کیتھولک فرقے کا عقیدہ تھا کہ عیسیٰؑ نصف نور اور نصف بشر ہیں،مسئلہ سے مسائل بڑھے اور اتنے بڑھے کہ ان کے پادریوں نے ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگایااور مخالف فرقے کا خون بہانا اپنے لئے حلال کر لیا،ایک دوسرے کے خلاف مسلمانوں سے مدد بھی لی،نتیجتاً اسلامی افواج ان کے دروازوں پر کھڑی تھیں۔
بتانا صرف اتنا ہے کہ وہ اسلامی افواج کوسر پر کھڑا دیکھ بھی ہوش میں نہ آئے،ترک اپنے بحری جہازخشکی میں گھسیٹ کر گولڈن ہارن میں اتار چکے تھےاور آرتھوڈوکس قسطنطنیہ کا آخری بادشاہ "قسطنطین یازدہم"رومی کیتھولک بادشاہ سے جنگی مدد مانگنے جارہاتھا،لیکن مسلکی نفرت کی آگ میں جل رہے پادری اعظم (جس کا عہدہ کارڈینل کہلاتاتھا)نے فتویٰ دیا کہ ہم مسلمانوں کی پگڑیاں برداشت کرلیں گے مگر کیتھولک فرقے کی ٹوپیاں قسطنطنیہ میں ہرگز قبول نہیں کریں گے،پھر مسلمانوں نے صدیوں سے ناقابلِ تسخیر قسطنطنیہ 1453ء میں فتح کرلیا،بادشاہ قتل ہوا اور 1123 سالہ قدیم بازنطینی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا،قسطنطنیہ ہی آج کا ترکی ہےجو اب بھی مسلمانوں کے پاس ہے،اس کے بعد کا دور تھا جس میں یوروپ کی اصلاحی تحریکیں اٹھیں،کلیسا نےمصلحین کوزندہ جلایا قید کیا قتل کیا،اٹلی کے "نکولومیکاؤلی"نے جدید سیاست کے اصول وضع کئے اور جھوٹ فتنہ عیاری مکاری جبر وغیرہ کو کامیاب سیاست کے اصول قرار دیا،وہ اپنی ریاست کے بچاؤ کے لئے پڑوسی ریاستوں میں تخریب کاری و فتنہ گری کے اصول کا نظریہ ساز تھا،کلیساؤں نے اس کی شدید مخالفت کی مگر بعد میں یورپی نشأۃ ثانیہ نے اختیار کیا،وہ عیسائی دنیا کے زوال و کلیساؤں کے آپسی خلفشار سے تنگ تھا،آج کی دنیا کی سیاست اسی کے وضع کردہ اصولوں پر قائم ہے۔
اب آرتھوڈوکس چرچ کا پادری اعظم "پیٹریارک کیرل" روس میں رہتا ہے،اس نے 1054ء سے 926/سال بعد پہلی مرتبہ کیتھولک فرقے کے پاپائے روم "فرانسس" سے فروری/2016ء کو"کیوبا" میں ملاقات کی جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرکے دونوں فرقوں کے اتحاد کو خدا کی منظوری کہا گیااورمشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کومظالم سے بچانے کی اپیل کی گئی تھی، جبکہ دنیا جانتی ہے کہ وہاں کون کس پر مظالم کر رہا ہے۔
اگر ہم آج کی اسلامی دنیا کا حال دیکھیں تو یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ ہم اسلامی دنیا کے ڈارک ایج یعنی سیاہ دور میں جی رہے ہیں،صلیبی پادریوں کی طرح مسلکی نفرتوں میں اندھے مولویوں نے کفر کے فتوے بانٹنے کی دکانیں کھول رکھی ہیں اورمسلمان پرمسلمان کاخون حلال کر دیاہے،مسلمان مسلمان کی گردن کاٹ رہا ہے،مسلمانوں کویہودی وصلیبی پسند ہیں مگراپنے ہی مسلم بھائی صرف اس لئے قبول نہیں کہ ان سے ان کا مسلکی ذاتی یا نظریاتی اختلاف ہے،اللّٰه کے رسولؐ نے اہل کتاب کی خامیوں سے خوبیوں کو چھانٹ کر اختیار فرمایا تھا جو باقاعدہ شرعی احکامات میں شامل ہیں،اور قرآن میں اہل کتاب کو بھی اسلامی تعلیمات سے مماثلت پر قریب ہونے کی دعوت دی گئی ہے،مگر اپنوں کے حالات و رویّوں سے دلبرداشتہ ایسا کرنے والا مسلمان تو "جس نے جس مذہب کی تقلید کی وہ ان میں شامل ہے" کے فتوے کا شکار ہو جاتا ہے،غرض یہ کہ کوئی کسی کو ذلیل کرنے و نیچا دکھانے کا کوئی موقع ضائع کرنا نہیں چاہتا،یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا بڑا طبقہ خصوصاً مغربی تعلیم یافتہ لوگ علماء حق سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں۔
بیت المقدس تو چلا گیا،اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر اب بھی نہ جاگے تو نہ استنبول ہمارا ہوگا نہ تہران ہمارا ہوگا،نہ دمشق ہمارا ہوگا نہ بغداد ہمارا ہوگا،نہ جکارتہ ہمارا ہوگا نہ اسلام آباد ہماراہو گا،نہ دبئی ہمارا ہو گا نہ دوحہ ہمارا ہوگا، نہ قاہرہ ہمارا ہوگا نہ ریاض ہمارا ہوگا، ہمارا اب تک کا باقی دنیا سے نسبتاً پرامن ملکِ عزیز ہندوستان بھی اسپین بن جائے گا،کیوں کہ امت کے بدترین دور میں بھی ہم نبیؐ، صحابہ ؓ و اسلافؒ سبھی کی ذات پر مختلف مسلکوں وگروہوں میں بنٹے ہوئے ہیں،احادیث میں مردوں کو برا بھلا کہنے کو منع کیا گیا ہے مگر کیا مجال جو ہم باز آجائیں،قرآن و حدیث کو اپنے اپنے مسلک کی عینک سے سمجھتے اوراسلاف کے افکار وطریقوں کا دفاع کرتے رہیں گے تو کچھ بھی نہیں بچنے والا،اسلاف نے اپنے اپنے وقت کے تقاضوں کے حساب سے جو کیا درست کیا،اب ان کے طریقے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں مگر سب کے سب دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں،اب ناصحانہ باتیں پڑھنے سننے کا بالکل بھی دل نہیں کرتا،وعظ ونصیحت کے بجائے کاش کوئی امت مسلمہ کے مستقبل کا راستہ شناخت کر دے۔