وقف بورڈ ہو یا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہو، دونوں میں کرپشن اور لاقانونیت عام ہے، وقف بورڈ سے تو عام مسلمانانِ ہند کو کبھی کوئی فائدہ نہیں رہا ہاں مگر اس کے متولیوں کی پانچوں انگلیاں ہمیشہ گھی میں رہی ہیں، اس لئے عوام وقف کے معاملات متولیان حضرات پر چھوڑ دے، ان کرپٹ متولیوں کے چکر میں بالکل بھی نہ پڑے، رہی بات آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڑ کی تو ماضی میں یہ کچھ حد تک کام کا تھا مگر فی الحال مسلمانوں کا یہ بڑا پلیٹ فارم بھی کرپشن و لاقانونیت کا شکار اور چند مخصوص لوگوں کے ہاتھوں یرغمال ہے، میں نے لگ بھگ 2014ء ہی میں محمد لئیق خان ونڈر ٹاٹا موٹرز لمیٹڈ سے یہ کہہ دیا تھا کہ بورڈ مرچکا ہے اور آپ رابع حسنی صاحب کے چکر کاٹنا چھوڑ کر خود کچھ کیجئے میں آپ کے ساتھ ہوں پھر انہوں نے جو کیا میں اس میں بھرپور ان کے ساتھ رہا، دراصل وہ پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ مل کر آل انڈیا ذکواۃ فاؤنڈیشن بنانا چاہ رہے تھے، پھر لگ بھگ 2017ء میں میں نے دو واقعات کے بعد محمد لئیق خان کو اس بابت بورڈ سے رابطہ کی کوشش ترک کر دینے کا کہتے ہوئے خود ان کے ساتھ اس تعلق سے کہیں جانے سے انکار کردیا تھا، واضح رہے کہ وہ مجھے لے کر تین بار ندوۃ العلماء رابع حسنی صاحب سے اس نسبت ملاقات کرنے گئے تھے، ایک مرتبہ ایک واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ وہ دروازے سے آگے نکل گئے اور میں پیچھے رہ گیا، جب میں اندر جانے لگا تو ایک صاحب نے جو کہ انہیں اچھی طرح جانتے تھے اور یہ بھی کہ میں ان کے ساتھ ہوں پھر بھی مجھے روک لیا اور کہنے لگے کہ آپ کو اجازت نہیں ہے، مجھے ساتھ نہ پاکر محمد لئیق خان واپس پلٹے تو مجھکو دروازے پر روکنے والے سے کہا کہ تم انہیں جانتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، پھر انہوں نے پوچھا کہ اچھا تو کیا کڑا مانکپور کے بارے میں جانتے ہو؟ تو اس نے کہا کہ ہاں! تب انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ رابع صاحب کا گھرانہ وہیں کا ہے اور جنہیں تم نے روک رکھا ہے یہ بھی وہیں کے ہیں، اس کے چہرے پر پریشانی و شرمندگی نمایاں ہوئی اور شاید اسے احساس ہوا کہ اس نے کچھ غلط کردیا ہے، وہ ایک دم سے پیچھے ہٹ گیا اور ہم دونوں اندر چلے گئے۔
غالباً 2022ء میں بورڑ کے ایک رکن محمود پراچہ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ مجھے مانگے جانے پر بھی بورڈ کے اکاؤنٹ اسٹیٹمینٹ نہیں دیئے گئے جبکہ اس کے قوانین کے مطابق مانگے جانے پر ممبر کو اکاؤنٹ اسٹیٹمینٹ کی فراہمی کا ضابطہ بورڈ میں موجود ہے، اگر ماضی میں بورڈ نے کچھ کام کیا بھی ہو تو اسے اس بات کا استثنی حاصل نہیں ہے کہ اس کے بعد والے نااہل سو کالڈ رہنما جو چاہیں وہ کریں اور انہیں تقدس کا پروٹیکشن حاصل رہے، اگر کوئی قوم یا معاشرہ دین مذہب اور تقدس کے الجھاوے میں آکر کرپشن و لاقانونیت پر گرفت چھوڑ دے تو اس کا یہی حال ہوجائے گا جو حالیہ مسلمانوں کا ہے، دین مذہب تعلیمات نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم تو ہمیں یہ سکھلاتی ہیں کہ خیانت یعنی کرپشن اور لاقانونیت پر سخت گرفت کی جائے چاہے پھر سامنے والا کتنا بھی مقدس محترم دبنگ یا مقبول ہی کیوں نہ ہو، جب تک مسلمانانِ ہند وقف بورڈ پرسنل لاء بورڑ یا اپنی دیگر تنظیموں پر براجمان سوکالڈ قائدین کا خود احتساب نہ شروع کردیں گے تب تک حکومتی سطح پر وقف بورڈ اور مسلم پرسنل لاء ایکٹ وغیرہ کے خاتمے کی کوششیں جاری رہیں گیں، اگر مسلمانوں کو وقف بورڈ اور پرسنل لاء ایکٹ کا تحفظ چاہئے تو پہلے انہیں سوکالڈ قائدین کا کڑا احتساب کرنا پڑے گا، بہ صورت دیگر اگر لوگ مذہب شخصیت یا تقدس کے جھانسے میں آکر ان سوکالڈ قائدین کے پیچھے چل پڑیں گے تو یاد رکھنا کہ یہ خود تو ڈوبے ہی ہیں لوگوں کو بھی لے ڈوبیں گے، فی الحال وقف بورڈ یا یونیفارم سول کوڈ کے جو بھی معاملے ہیں اس میں نقصان صرف متولیوں اور سوکالڈ قائدین کا ہے اس لئے عوام مطمئن رہے و سکون سے انہیں اپنا دفاع خود کرنے دے، یہ حکومت سے لڑ سکیں گے تو کوئی بات نہیں، ان کی چودھراہٹ بنی رہے گی ورنہ پھر مضبوط نئی قیادت سامنے آئے گی، سرزمین ہند مسلمانانِ ہند کیا عالم اسلام کے لئے بھی کبھی بانجھ نہیں ہوئی ہے، میر عرب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو ہند سے یوں ہی خوشبو نہیں آئی تھی۔