والد محترم ؒ کے خواب بھی ان کی طبیعت کے عین مطابق ہواکرتےتھے، پچپن میں ہی اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہو گئی،دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے ہیں،اور دالان میں آہستہ آہستہ چہل قدمی کرتے ہوئے کچھ گنگنا رہے ہیں، والد صاحبؒ فرماتے تھے کہ میں خوش ہواکہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں کرتے ہیں، اورمیں نے خواب میں زیارت بھی کرلی، میں نے تو آپؐ کو دیکھ لیا،مگراتنی سمجھ نہ تھی کہ اپنے خواب کوکوئی اہمیت دیتا یا کسی سے تذکرہ کرتا،لہذا یہ میرے ذہن سے اتر گیا تھا،جب ندوۃ العلماء میں دوران مطالعہ حافظ شیرازی رحمۃاللہ علیہ کی یہ نعت پڑھی۔
نمی دانم چہ منزل بود ،شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سورقص بسمل بود، شب جائے کہ من بودم
یعنیٰ
مجھے نہیں معلوم وہ کون سا مقام تھا کہ جہاں رات کو میں تھا
جدھر بھی دیکھا کٹے مرغ کے طرح تڑپتے عاشقوں کا رقص بپاتھا
تب مجھے یاد آیا کہ ارے واہ! میں نے تو اس نعت کوحالتِ خواب میں خود رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سنا ہے،یہ تو واقعی بالکل اسی طرح ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گنگنا رہے تھے، دوسری مرتبہ پھر خواب میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی، تب وہ ضلع بستی میں زیرتعلیم تھے،اس بار کافی سمجھدار ہو گئے تھے، انہوں نے زیادہ سوچ لیا کہ میں نے خاتم النبیّن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، فرمایا کرتے تھے کہ میں عجیب کشمکش میں گرفتار تھا (کہ کیاواقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھا ہے؟)، کئی دنوں بعد ڈرتے ڈرتے اپنے استاذ محترم سے تذکرہ کیا، استاذصاحب بہت خوش ہوئے اور اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، جتنی رقم موجود تھی سب بطورانعام انہیں دے دی، والد صاحبؒ فرماتے تھے کہ عرصے تک میں نے وہ رقم بطور تبرک سنبھال کر رکھی، تیسری مرتبہ جب مشرف بہ زیارتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوئےتو اس وقت ندوۃ العلماء میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بازوؤں کو لہراتے ہوئے بلندی کی طرف پرواز کر رہے ہیں، جس پر انہوں نے بھی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح اپنے بازوؤں کو لہرایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پرواز کی، اپنے پھوپھاحکیم سید نورالدین حجرویؒ سے تذکرہ کیا، انہوں نے فرمایا، سنت کو اپنانے والے بنو گے۔
مانکپور میں مستقل قیام اختیار کرنے کے کچھ دنوں بعد خواب دیکھا کہ وہ اوران کےچچازاد و پھوپھی زاد تینوں کھیر کھا رہے ہیں،اس میں سے بہت سارے خوبصورت و چمکدار موتی نکل رہے ہیں، جن کوان کے پھوپھی زاد تو ساراکھا تے جا رہے ہیں،مگر وہ اور ان کے چچازاد کھا بھی رہے ہیں اور منھ سے نکال نکال بکھیرتے بھی جا رہے ہیں، والدمحترمؒ نےیہ بھی بتایا تھا کہ میرے منھ سے خود بہ خود بھی گررہے تھے،یہ خواب دیکھنے کے بعد ہی انہوں نے 1984ء سے ادارے کے قیام کی تحریک چلائی اور 1986ء میں "جامعہ عربیہ تعلیم الاسلام" کی بنیاد رکھی،اس کی تعبیر بھی انہوں نے خود ہی بیان فرمائی تھی کہ جوکھیر کے ساتھ موتیاں بھی کھائے جا رہا ہے اس کا علم صرف اسی تک محدود رہے گا، یعنی اس کے علم سے قوم کو کوئی نفع نہ ہو گا، اور جو موتیاں بکھیر رہا ہے، اس کے علم سے لوگوں کو نفع پہونچے گا،حقیقتاَایسا ہی یوں ہوا کہ 1989ء میں والدمحترمؒ نے اپنےایک چچازار کی حادثاتی موت کے بعد دوسرے (چچازاد جن کوخواب میں دیکھا تھا)کو بلاکران کی جگہ مقررکیا،اکثر دیکھا گیا ہے کہ بانی کی وفات کے بعد تحریکوں کے راستے خلط ملط ہوجایا کرتے ہیں اسی لئےمیرے خیال میں والدمحترمؒ کے منھ سے موتیاں خودبہ خود بکھرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بعد بھی ان کا کام ان کے منہج سے نہیں ہٹے گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے والدمحترمؒ کے علم سے لوگوں کو فیضیاب کرایا،بنیادی فکروں کو درست کیا،جمود کو توڑا،غلو کومعتدل کیا،دینی واجبات یا انفاق فی سبیل اللہ کی تثقيف و تجدید کرائی،لوگوں کے دلوں کو قریب کیا،قدیم نبویؐ طرز پر جدید جذبوں وضرورتوں کے ساتھ تعلیم امن و انسانیت کے پھیلانے کا کام لیا،لوگوں کوبنا تفریق مذہب و مسلک ہر فکر ونظریے کو دل میں جگہ دینے کا گر سیکھایااور ایک امت کے تصور کوعملی جامہ پہنانے کے کام کی ابتداء کے راستے سجھائے،ان سے وہ خدمات لیں کہ انشاءاللہ صدیوں تک لوگ ان کے ذریعہ مرتب و منظم کی گئی فکروں سے مستفید ہوتے رہیں گے۔
والد محترمؒ کےچند ماہ بعد کی میری پہلی تحریر"میرے والد میں اور میرا دیس" سے