سب کے دل غمزدہ تھے، ان کے بچھڑنے کا غم سب کے سکوت میں نمایاں تھا،مرد عورت، بوڑھے بچے، شجر حجر، چرند پرند سبھی پر خاموشی طاری تھی،ان کے آخری سفر کی شان و شوکت ایک عجیب سحرانگیز اثر پھیلارہی تھی، بادلوں کے جھنڈ چمکدار موتی بکھیرتے ہوئےسورج کی کرنوں کو زمین تک آنے سے روک رہے تھے اور سورج انہیں چیرچیر کرنظارہ دیکھنے کے لئے بیتاب تھا، ارض اولیاء مانکپور کی ہوا آج کچھ زیادہ ہی چنچل و خوش گوار ہو کر انہیں آخری سلامی یوں پیش کر رہی تھی گویا بادِبہشت پر سبقت لے جانے کی سعی کر رہی ہو، ہرشخص انہیں کاندھا دینے کوبیچین تھا، لوگوں کی عقیدت اور ان کاخاموش اضطراب اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ وہ انہیں کتنا عزیز تھے،لوگوں کی حرکات و سکنات ان کے جذبات کی ترجمانی بنا کسی لفظ کے کر رہے تھے، انہیں رخصت کرنے سب آئے تھے، وہ اپنا فرقہ مسلک بھول گئے تھے، وہ اپنا دھرم مذہب اور ذات پات بھول گئے تھے، ان میں کے بہت سے باہم کٹرمخالف تھے،ایک دوجے کے سامنے آناانہیں گوارا نہ تھا، وہ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے،مگر آج سبھی ان کے لئے کاندھا سے کاندھا ملائے سرجھکائے چپ کھڑے تھے،وہ اپنے جھگڑے بھول گئے تھے، وہ اپنی نفرتیں بھول گئے تھے، سب دل وجان سے یہ محسوس کر رہے تھے کہ انہوں نےکوئی چیز کھو دی ہے، ان کا کچھ بیش قیمت اثاثہ گم ہو گیا ہےجو سب کی یکساں ضرورت تھا، آج ان سے ہمیشہ کے لئے بچھڑجانے والے کی شان و شخصیت ہی کچھ ایسی تھی۔
لوگ انہیں کاندھوں پر اٹھائے ان کے آبائی قبرستان نالہ پار پہنچ گئے، املی کے دو درخت جو صدیوں سے یہاں کھڑے ہیں،جنہوں نے مانکپور کی تاریخ کا نشیب و فراز دیکھا ہے،جنھوں نے کبھی ان کا بچپن دیکھا ہے، اپنی ڈالوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں ان کوکھیلتے کودتے دیکھا ہے اوران کی بچپن کی بھولی شرارتوں سے لطف اندوز ہوئے ہیں،تھک ہار کر انہیں ایٹوں کا تکیہ لگا کرکبھی ننگی زمین پر تو کبھی گھاس پھوس کے بستر پراپنے سائے میں آرام کرتے توکبھی بارش کی بوندوں سے بچنے کی کوشش میں انہیں اپنے سبز آنچل میں پناہ تلاش کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ درخت ان کا آخری سفر دیکھ رہے تھے، آج وہ اپنے اس گھر میں منتقل ہو رہے تھے جسے زمین کی آغوش میں ان کے لئے ابھی ابھی تیار کرلیا گیا تھا، وہ دونوں بڑی حسرت سے تک رہے تھے، لوگ جا چکے تھے اوروہ آپس میں سرگوشیاں کررہے تھےکہ آج 26/جنوری کا دن ہے،آج یوم جمہوریہ ہے،لوگ خوش ہو رہے ہیں کہ انہوں نے آج ہی کے دن اپنے اوپر اپنا ہی بنایا ہوا نظام نافذ کیا ہے،لوگ اسے کامیابی سمجھ رہے ہیں،مگر اصل کامیاب تو یہ شخص تھاجس نے خاموشی سے اللہ کے بھیجے گئے نظام کواپنایا تواسے انسانوں کے بنائے قوانین کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی اور لوگوں کواسی کی تلقین کرتا رہا، دیکھو دیکھو!اسے دھرتی نے ایک بچھڑے ہوئے بچے کی ماں کی طرح اپنے کلیجے میں کیسے چھپا رکھا ہے اور اب یہ کس مزے سے محوے خواب ہے، یہ دنیا وآخرت کی ہر فکر سے آزاد ہوگیاہے، دفعتاًکہیں سے گرجدار آواز آئی، وہ سہم کرخاموش ہو گئے اور سننے لگے، کوئی کہہ رہا تھا، اللہ نے اسے ایک نمونے کے طور پر اس پرآشوب اور ناانصافی کے دور میں پیدا کیا تھا، وہ لوگوں کو دکھانا چاہتا ہے کہ اس کے نبیؐ کی سیرت کو اپنانے والا آج کی اس پر فتن اور نافرمان دنیا سے بھی کامیاب ہو کرنکلے گا، اگر لوگوں نے اس کی طرح آج کے کالے دور میں بھی اللہ کے قانون کو اپنے اوپر نافذ کیا تو وہ ضرور کامیاب ہو ں گے، اس کی زندگی لوگوں کے لئے انعکاسِ حیاتِ رَسول ہے۔
والدمحترم ڈاکٹر سید ہارون حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت03/اکتوبر/1957ءمطابق9/ربیع الاوّل1377ھ بروزجمعرات بوقت شام4/بجےان کے آبائی گھرمحلہ خانقاہ شریف نالہ پارمیں ہوئی،وفات25/جنوری2012ءمطابق3/ربیع الاوّل1433ھ بروزجمعرات بعدنمازِمغرب7/بجکر30/منٹ پر ان کے ذاتی مکان محلہ خانقاہ شریف میں اور تدفین آبائی قبرستان نالہ پار میں26/جنوری2012ءمطابق3/ربیع الاوّل1433ھ بروزجمعرات بعدنمازِظہر2/بجکر30/منٹ پرہوئی۔