گذشتہ جمعہ یعنیٰ 27/مارچ/2020 کا دن بہت ہی عجیب وغریب رہا، کرونا "لاک ڈاؤن" کے سبب ہمارے علاقے کی لگ بھگ تمام مساجد میں اعلان کردیا گیا کہ گھروں پر ظہر پڑھیں، لوگوں نے پھر بھی مساجد کا رخ کیا، جہاں جہاں اعلانات ہوچکے تھے وہاں وہاں پر مساجد انتظامیہ کچھ سخت نظر آئی تو لوگ منتشر ہوکر ان چند مساجد میں پہنچنے لگے جنہوں نے بڑی مساجد (جن کے اعلانات کو لوگ اہمیت دیتے ہیں) کی وجہ سے اعلان کی ضرورت نہیں سمجھی تھی، نہ ہی وہاں موت مٹی کے اعلانات کے سوا کبھی کسی (دیگرعوامی معامالات کے) تعلق سے اعلانات ہوتے ہیں،یا کسی کسی میں جمعہ بھی نہیں ہوتا، اب ان چھوٹی مساجد کی انتظامیہ نے کیسے ان سے چھٹکارا حاصل کیا ہوگاوہ وہی جانیں، میں اپنی بات پر آتا ہوں۔
میرے گھر کے قریب ایک چھوٹی سی قدیم مسجد ہے جس کی جدید تعمیر 2016ء میں ہوئی ہے، اس میں ہم چند گھر والے اور امام صاحب کے دو چار دوست نماز ادا کرتے ہیں، مجموعی تعداد معہ بچوں کے درجن تک کبھی کبھی ہی پہنچتی ہے، عام حالات میں کل ملا کر دو سےپانچ لوگ رہتے ہیں، کبھی کبھی اکیلے ہی اذان نماز سے کام چلانا پڑتا ہے، وجہ یہ نہیں کہ یہاں مسلم گھر نہیں ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ یہاں آس پاس آبادگھرانے یہاں کی ایک عظیم بزرگ شخصیت (جن سے لاکھوں لوگ فیضیاب ہوئے تھے) کی آل واولاد ہیں، جن میں سے چند ایک کے علاوہ (جو قریب ہی کی دوسری مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اور اچھے اخلاق والے ہیں) اکثریت کے لئے ان بزرگ رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت بزرگی اور دینداری کی وجہ سے نماز روزہ معاف اور بہت کچھ طبعی بھی ہے، ہم بھی ان کاانتہائی احترام کرتے ہیں اور اتنا کرتے ہیں کہ کچھ کہہ نہیں پاتے، خطر یہ ہے کہ انہیں کچھ کہنے سے ہم جیسوں پر جہنم کی آگ برہم نہ ہوجائے کیونکہ وہ بھی ان کی عقیدت مند ہے، انہیں جلا نہیں سکتی، خیر اصل بات پر آتے ہیں۔
چونکہ ہماراعلمی گھراناہے،کثرت سے علماء وحفاظ ہیں،تو انہوں نےطے کیا کہ یہاں جمعہ نہیں ہوتا اسلئے آج بھی یہاں جمعہ قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ جمعہ کی نماز پر تعداد کی شرط سبھی کے تعلق سےعارضی حفاظتی وجوہات کیوجہ سے ہے یعنیٰ پابندی نہیں ہے، اس لئے دیگر پر جمعہ ساقط ہے، لہذا ہم جمعہ کی طرح ہی نہا دھوکر سارااہتمام کریں گے مگرتھوڑا فاصلہ کرکے ڈھائی بجے تک ظہر ادا کر لیں گے، دوچار کے سوا یہاں آتا ہی کون ہے، مگرساڑھے بارہ بجے ہی بڑی پریشانی میں مبتلا لگ رہے امام صاحب نے دروازے پر آکر آواز دی، چھوٹے بھائی سے دوستی ہے اس لئے وہ آگے آگے اور میں پیچھے پیچھے نکلا، امام صاحب اس سےکہہ رہے تھے جلدی چلو وہاں کافی لوگ آگئے ہیں، یعنیٰ نپٹو ان سے، وہ مجھ سے جلدی آنے کو کہہ کر فوراً ان کے ساتھ چلا گیا، میں بڑی عجلت میں نہاکپڑے پہن باہر نکلا تو دیکھا مزیدکئی لوگ چلے آرہے تھے، مجھے دیکھتے ہی وہ کہنے لگے کہ تمہارے بھائی نے کٹرہ مسجد میں ہمیں نماز سے منع کر دیا اور بڑی مسجد والوں نے بھی، میں نے انہیں بنا توجہ دئیے پوچھا، انہوں نے کیا کہا، جواب ملا، گھر پر ظہر پڑھو، میں نے کہا، "تو یہاں کیوں چلے آئے؟ "عام طورپر میں چونکہ بات چیت میں معتدل رہتا ہوں اس لئے انہیں اندازہ نہیں تھا کہ میرالہجہ سخت ہوگا، بس اتنا جملہ ہی کافی ہوا اور انہیں معاملے کی سنگینی کا احساس ہوگیا، وہ کچھ نہ بولے اور واپس پلٹ گئے۔
مسجد کے سامنے کے رہائشی ایک بھائی تالا لئے کھٹرے نظر آئے، مجھ سے کہا جلدی اندر جائیں، میں تالا بند کردوں گا، میں نے کہا ارے بھائی اب اتنی بھی آفت نہیں ہے، انہوں نے کہا آفت یہ ہیں جو منع کرنے کے باوجود آرہے ہیں، اگر تالا بند رہے گا تو نئے آنے والے واپس چلے جائیں گے، اندر گیا تو کچھ لوگ پہلے سےجمع تھے، یہ وہ تھے جو کبھی یہاں نہیں آئے تھے ، کئی کافی دور کے تھے، نیت صاف ہو تو فکریں بھی مل جاتی ہیں، چنانچہ اسی دوران انداز وعلامات کو پرکھ کر دل ہی دل میں ہم نےیہ سمجھ لیا کہ یہ جمع لوگ جمعہ پڑھنے ہی آئے ہیں، جمعہ ظہر کریں گے تو معاملہ طوالت پکڑسکتا ہے، ہمیں انہیں جلداز جلد ہٹانا تھا، لہذا امام صاحب کے بجائے چھوٹے بھائی نے قیادت سنبھالتے ہوئے سنتوں کو گھر میں پڑھنے کو کہا،مختصر خطبہ دے کرمختصر نماز پڑھائی اور لوگوں کو چند الفاظ میں سمجھا یا کہ خوفزدہ نہ ہوں اورگھروں میں نماز پڑھیں، ان حالات میں ایسا کرنا زیادہ بہتر ہے، انشاء اللہ زیادہ ثواب ملے گا، لوگ مطمئن ہوکر چلے گئے، پانچ سات منٹ میں مسجد صاف ہوگئی، گھر پہنچ کر سوچ میں پڑگیا، حضرت انس سے مروی مسند احمد کی ایک روایت یوں ہے کہ رسول اللہؐ جمعہ زوال کے وقت پڑھتے تھے اور جب مکہ مکرمہ کے لئے نکلتے تو ظہر کی دو رکعتیں پڑھتے تھے، مگر مسند احمد سمیت دیگر کتب احادیث میں دیگر اور خود انہیں سے مروی احادیث سے بھی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ظہر کی قصرتھی جو مقام ذوالحیفہ میں پڑھی گئی تھی، بہت سی احادیث میں یہ ملتا ہے کہ جمعہ چھوٹ جانے پربھی صحابہ الگ جمعہ کی جماعت نہ کرکے ظہر اداکرتے تھے، لہذا جب بنا رفع الیدین کے ظہر کی چار رکعتیں پڑھ لیں تو اضطراب ختم ہوا، نہ میں نے کسی کو کچھ کہا نہ کسی نے مجھے کچھ کہا، اس لئے آپ یوں سمجھیں کہ اس دن میرا کوئی مسلک دین دھرم نہ رہ گیا، ٹہرا جو تھالی کا بیگن۔
میں مسجد میں چپ چاپ جمعہ کا سارا منظر نوٹ کر رہاتھا، سمجھ یہ سکا کہ لوگ کتنے بھولے ہیں، انہیں مسلک نظریات فرقہ شخصیت و جماعت پرستی وغیرہ کے تحفظ کے مقاصد سے یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ مسجدو ں خانقاہوں سے گھروں اور لوگوں میں دین زندہ ہے تاکہ لوگ اپنی اپنی مساجد خانقاہوں کا تحفظ کریں اورکاروبار چلتا رہے، وہ بے چارے اس نظریئے سے اختلاف کیسے کر سکتے ہیں؟ نتیجہ یہ ہوا کہ امت کا درد رکھنے والے علماء لوگوں کو مسجد بلاتے بلاتے تھک گئے، لوگ تو آئے نہیں البتہ اپنے اپنے گھروں سے بھی یہ سمجھ کر دین نکال بیٹھے کہ اگر مسجد کھلی ہے اور بستی کے معمولی سے کچھ فیصد لوگ وہ بھی روٹیشن میں نماز پڑھنے جاتے ہیں، اذان ہورہی توسمجھو دین زندہ ہے، جبکہ اصل یہ ہے کہ اگرحقیقی نبیؐ والے دین ابراہیمی کا تحفظ کیا گیا ہوتا تو یہ کہا جاتا کہ لوگوں اپنے دلوں اور گھروں کو اللہ کے دین سے آباد کرو، پھرپورا نظامِ کائنات درست اور محفوظ رہے گا، آفاقی سچ تویہی ہے کہ گھروں میں اگر دین زندہ ہے تو مساجدخانقاہوں مدارس مکاتب مقابر سمیت سبھی محفوظ رہیں گے، پر اگرلوگوں کودرست سمجھا دیا جائے توشدید خطرہ اس بات کا ہے کہ سب کچھ سارے خرافات ختم ہوجائیں گے اور نتیجے میں اخوت محبت بھائی چارے کی بنیاد پرامت پرستی پروان چڑھے گی، جو شاید ہمارے اکابرین بڑوں وغیرہ کو قوم کے لئے نقصان دہ لگتا ہو یا ہو سکتا ہے ایسا نہ کرنے میں کوئی مصلحت ہو جس کی گرد تک ہم کیا خاک پہنچیں گے؟ پھر خیال آیا کہ اللہ ٹھیک ہی تو کر رہا ہے، لوگوں کو گھروں میں دین زندہ کرنے کو مجبور کر رہا ہے، سکون کی ٹھنڈی سانس لینے کی کوشش کی پر وہ آتے آتے اچانک رک گئی، جب یہ خیال آیا کہ ترکوں نے تو یہ خوب اچھی طرح سمجھ لیا ہے پر برصغیر کے مسلمان اب بھی سمجھ سکیں گے یا نہیں؟ امت پرست علماء کی اطاعت کریں گے یا من مانی کرتے جائیں گے؟ ابھی تو منجانب اللہ یہ سب ہوا ہے، لوگ مزید کیا یہ چاہتے ہیں کہ حکومتیں خود ان کے مذہبی شعاروں پر پابندی لگانا شروع کردیں، یہاں تک کہ قرآن پر بھی پابندی لگا دی جائے، کیا لوگ تب سمجھیں گے؟ شاید لوگوں کو یاد نہیں کہ دین اختیار کرکے فانی دنیا کا غریب ترین شخص بھی آخرت کی دائمی زندگی میں امیرترین بن جاتا ہے، سب الٹ پلٹ ہے نا شاید اس لئے نہیں سمجھ میں آتا، ساری دنیا میں لاک ڈاؤن کے چلتے لوگوں کو ذرا فرصت ملی،ماحولیاتی آلودگی کم ہوئی، آسمان کا مطلع صاف ہوا تو لوگوں کو سیدھا چاند الٹا نظر آیا، اب جب تک ذہن کی گرد نہ بیٹھےگی،دماغ کا مطلع نہ صاف ہوگا، تب تک شاید لوگوں کو میری بات بھی الٹی ہی دیکھائی دے گی۔