سن چھ ہجری میں دس سال کی صلح حدیبیہ واقع ہوئی اور امن قائم ہوا تو دین اسلام تیزی سے دور دراز علاقوں میں پھیلنے لگا، پرامن مقاصد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن شام اور اردن وغیرہ کے مختلف سربراہان و سرداروں کو خطوط لکھے اور سفراء روانہ کئے، اسی نسبت سے رسول اللہ نے حارث بن عمیر ازدی کے ہاتھوں بصری کے بادشاہ کو خط بھیجا تھا، حارث موتہ کے مقام پر پہنچے تو حاکم موتہ شرجیل بن عمرو غسانی نے انہیں صرف محمد کا سفیر ہونے کی وجہ سے قتل کرڈالا، یہ اسلام کے پہلے سفیر ہیں جنہیں قتل کیا گیا جب کہ اس وقت کے بھی انٹرنیشنل قانون کے مطابق سفیر کو قتل نہیں کیا جاتا تھا اور اگر قتل کردیا جائے تو سخت بدلہ لیا جاتا تھا، رسول اللہ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے تین ہزار کا ایک لشکر ترتیب دیا اور شرجیل بن عمرو غسانی کی سرکوبی کے واسطے روانہ کیا، رسول اللہ نے اس لشکر کا پہلا سپہ سالار جعفر بن ابی طالب کو دوسرا زید بن حارثہ کو اور تیسرا عبداللہ بن رواحہ کو بنایا اور فرمایا کہ اگر یہ تینوں شہید ہوجائیں تو مسلمان کسی کو اپنا سالار خود چن لیں، کچھ روایات میں پہلے سپہ سالار زید بن حارثہ اور دوسرے جعفر بن ابی طالب پھر تیسرے عبداللہ بن رواحہ کا بھی ذکر ہے۔
لشکرمدینہ جب وادی القری پہنچا تو شرجیل بن عمرو غسانی نے اپنے بھائی سدوس کو مقابلے پر بھیجا جو قتل ہوگیا، پھر اس نے اپنے دوسرے بھائی وبر بن عمرو کو مقابلے کے لئے بھیجا، وہ مقابلے سے فرار ہوگیا اور ایک قلعہ میں پناہ لے لی، لشکرمدینہ کی پیش قدمی جاری رہی یہاں تک کہ کرک کے دیہات مؤاب کے ایک علاقے موتہ کے مقام پر لشکرمدینہ اور لشکر روما و ان کے عرب اتحادیوں کے درمیان جمادی الاول سن آٹھ ہجری میں ایک سخت معرکہ پیش آیا، اس معرکہ میں تینوں سپہ سالار شہید ہوگئے اور لشکرمدینہ کی مرکزیت ختم ہوگئی، ایک انصاری مجاہد ثابت بن اقرم نے پرچم اٹھالیا اور سب کو جمع ہوجانے کے لئے آواز لگائی تو لشکری ان کے گرد جمع ہوگئے، ثابت بن اقرم نے خالد بن ولید سے کہا کہ تم یہ پرچم لو لیکن خالد نے اس لئے انکار کیا کہ ثابت بدری صحابی تھے، ثابت نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے پرچم اسی لئے اٹھایا ہے تاکہ تمہیں دوں، خالد نے پرچم لے لیا اور لشکرمدینہ پھر سے منظم ہو گیا، خالد یہ جنگ نہ جیتے نہ ہارے لیکن بارہ شہداء کے ساتھ اپنے لشکر کو مدینہ واپس لانے میں کامیاب رہے۔
جب یہ لشکر مدینہ پہنچا تو اہل مدینہ ان کے استقبال کے لئے مقام جرف تک گئے، لوگوں نے اپنے چہروں اور واپس ہوئے لشکریوں پر مٹی ڈال کر فرار پر موت بہتر کا طعنہ دیا، اس پر رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ فرار کرنے والے نہیں بلکہ کرار ہیں اور خدا نے چاہا تو دوبارہ دشمن پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہیں، بعضوں نے جب اپنے گھروں کا دروازہ کھٹکھٹایا تو گھر والوں نے نہیں کھولا، وہ ندامت سے اپنے دروازے پر بیٹھ گئے، جب رسول اللہ کو معلوم ہوا تو ان کے پاس پیغام بھیجوایا کہ تم لوگ خدا کی راہ میں واپس پلٹے ہو تاکہ دوبارہ دشمن پر حملہ کرسکو، ام المؤمنین ام سلمہ سلام اللہ علیہا کے بیٹے سلمہ بن ہشام بھی جنگ موتہ میں شامل تھے، واپسی کے بعد گھر میں گوشہ نشین ہوگئے، ایک دن ام سلمہ نے بہو سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے فرار ہونے والے کیا خدا کی راہ میں قتال سے فرار کیا جاتا ہے؟ اسی لئے گھر میں بیٹھا ہے اور باہر نہیں آتا، ام سلمیٰ نے اسے رسول اللہ سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ خدا کی راہ میں واپس لوٹے ہیں تاکہ دوبارہ دشمن کے ساتھ جنگ کر سکیں اور اسے گھر سے باہر آنا چاہئے، گرچہ جنگ موتہ واضح نتیجے کے بغیر ختم ہوگئی لیکن متحارب فریق اسے آج تک اپنی اپنی جیت قرار دیتے رہے ہیں، اہل قسطنطنیہ کا دعویٰ اس لئے درست نہیں کہ ریاست مدینہ نے اگلے کچھ سالوں ہی میں رومیوں کو مکمل اردن فلسطین اور شام سے بیدخل کردیا جس میں اسی سپہ سالار کا بڑا حصہ ہے جس نے موتہ میں لشکر روما کی گرفت سے لشکر مدینہ کو بہ حفاظت نکالا تھا، لیکن ریاست مدینہ کے لئے یہ جنگ دو وجہوں سے بہت مفید ثابت ہوئی، پہلی یہ کہ قریش مکہ نے اہل مدینہ کو کمزور سمجھ کر اپنے حلیف قبیلے بنوبکر سے ان کے حلیف قبیلے بنوخزاعہ پر حملہ کرا دیا جو صلح حدیبیہ کے خاتمے اور جنگ موتہ کے تین ماہ بعد رمضان المبارک سن آٹھ ہجری میں فتح مکہ کا باعث بنا، دوسری یہ کہ عربوں پر سے رومیوں کا رعب ختم ہوگیا اور ریاست مدینہ کو سلطنت روما سے جنگ کا تجربہ حاصل ہوا۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح جعفر بن ابی طالب زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ کی شہادت سے لشکر محمدی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نہیں رکا اور قلیل تعداد و وسائل کی کمی کے باوجود سلطنت روما اور فارس کو گھٹنوں بیٹھا کر دم لیا تھا ٹھیک اسی طرح آج چودہ سو سالوں بعد سید ابراہیم ریئسی، حسین امیر عبداللہیان، اسماعیل ہانیہ، سید حسن نصراللہ، عباس نیلفروشان یا یحیی سنوار کی شہادت سے اب لشکر مہدی علیہ السلام ہرگز رکنے والا نہیں ہے، بس فرق اتنا ہے کہ تب نبیؐ پہلے آئے پھر ان کا لشکر منظم ہوا اور اب ان کے بیٹے مہدیؑ کا لشکر پہلے لڑے گا پھر وہ ظاہر ہونگے، حالیہ جنگیں بنا تفریق دین مسلک و مذہب عدل اور ظلم کے مابین بپا معرکے ہیں جن میں ظلم کے خلاف عدل اگر ایک قدم پیچھے ہٹے گا تو پہلے کی نسبت زیادہ طاقتور ہوکر واپس پلٹے گا، کوئی قائد شہید ہوگا تو کوئی ثابت بن اقرم کھڑا ہوجائے گا اور اپنے قائد کے لہو میں ڈوبا پرچم اٹھالے گا، کوئی خالدبن ولید قیادت سنبھال لے گا، کوئی ضرار بن الازور کوئی قعقاع بن عمرو کوئی عمرو بن معدی کرب لشکر مخالف کی صفیں درہم برہم کر ڈالے گا، کوئی عکرمہ بن ابوجہل اپنے گرم لہو کا نذرانہ پیش کرکے دشمن کے قدم اکھاڑ پھینکے گا، کوئی ابومحجن ثقفی اپنی فہم و فراست سے مدمقابل کے چنگھاڑتے ہوئے بدمست ہاتھیوں کا رخ ان ہی کی جانب واپس پلٹ دےگا، کوئی ابوعبیدہ ابن الجراح کوئی سعد ابن وقاص ان کی ساری حکمت عملی سائنس و ریاضی بگاڑ دے گا، کیوں نہیں؟ آخر خدا کا وعدہ الصادق ہے کہ تم ہی سربلند رہوگے اگر واقعی تم مؤمن ہو۔