یعنیٰ جو لوگ ایمان لائے اوران کی اولاد بھی ان کے نقش قدم پر ایمان کے ساتھ چلی، تو ہم ان کی ایسی اولادوں کو بھی ان کے ساتھ شامل کر دیں گے (جنت میں) اور ہم ان (متبوع اہل جنت) کے عمل میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کے بدلے میں گروی ہے۔
مطلب یہ کہ جن کے باپ دادا اپنے اخلاص و تقوٰی اور عمل و کردار کی بنیاد پر جنت کے اعلٰی درجوں پر فائز ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کی ایماندار اولادوں کے بھی درجے بلند کرکے، ان کو ان کے باپوں کے ساتھ ملا دے گا، یہ نہیں کرے گا کہ ان کے باپوں کے درجے کم کرکے ان کی اولادوں والے کمتر درجوں میں انہیں لے آئے یعنی اہل ایمان پر دو گنہ احسان فرمائے گا، ایک تو باپ بیٹوں کو آپس میں ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، بشرطیکہ دونوں ایماندار ہوں دوسرا یہ کہ کم درجے والوں کو اٹھا کر اونچے درجوں پر فائز فرما دے گا، ورنہ دونوں کے ملاپ کا یہ طریقہ بھی ہوسکتا ہے کہ اے کلاس والوں کو بی کلاس دے دے، یہ بات چونکہ اس کے فضل واحسان سے فروتر ہوگی اس لیے وہ ایسا نہیں کرے گا، بلکہ بی کلاس والوں کو اے کلاس عطا فرمائے گا، یہ تو اللہ کا وہ احسان ہے جو اولادوں پر آباء واجداد کے عملوں کی برکت سے ہوگا اور حدیث میں آتا ہے کہ اولاد کی دعا واستغفار سے آباء کے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے، ایک شخص کے جب جنت میں درجے بلند ہوتے ہیں تو وہ اللہ سے اس کا سبب پوچھتا ہے، تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تیری اولاد کی تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے ہے،(مسند احمد)، اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے البتہ تین چیزوں کا ثواب موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ دوسرا وہ علم جس سے لوگ فیض یاب ہوتے رہیں اور تیسری نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو،(صحیح مسلم)۔
رھین بمعنی مرھون (گروی شدہ چیز) یعنیٰ ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہوگا، یہ حکم عام ہے اور مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور مطلب ہے کہ جو جیسا اچھا یا برا عمل کرے گا، اس کے مطابق اچھی یا بری جزاء پائے گا، یا اس سے مراد صرف کافر ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوں گے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا "كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ" 74۔ المدثر:38) ہر شخص اپنے اعمال میں گرفتار ہوگا،ازتفسیرمکہ