یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیا کے حکومتی حلقوں پر دجالی قوتیں غالب آچکی ہیں،اقوامِ متحدہ، نیٹو، یورپی یونین،یہاں تک کہ تمام عرب اور غیر عرب اتحادوں کی سرگرمیاں بھی مشرقِ وسطیٰ میں مسلمانوں پر مظالم اور ان کے قتلِ عام کے حوالے سے مشکوک ہیں،میں دنیا کی حکومتوں سے مایوس ہوں کہ وہ انسانیت کو بچانے کے لیے کوئی طاقتور اقدام کریں گیں،اس معاملے پر میں مسلم اور غیر مسلم دنیا کی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں کرتا۔
میری اُمید صرف دنیا کے عام انسانوں سے ہے کہ وہ کھڑے ہوں اور انسانیت کو بچائیں، نہ کہ صرف عیسائیوں،مسلمانوں،یہودیوں،بُدھ مت والوں،ہندوؤں وغیرہ کو،ہم سب سے پہلے انسان پھر کچھ اور ہیں،میرا خیال ہے کہ شام،عراق، یمن،افغانستان،لیبیا،نائجیریا،برما اورفلسطین وغیرہ کی جنگیں اب صرف مذہبی،صلیبی،وسائل، تیل،گیس وغیرہ پر قبضے کی جنگیں نہیں رہیں،بلکہ یہ اب خدااور دجالی قوتوں کے درمیان جنگیں بن چکی ہیں،خدا نے مذہب اس لیے نازل کیا کہ انسانیت سیکھائی جائے، نہ کہ انسانیت کا قتلِ عام کیا جائے۔
میرا خیال ہے کہ یہ قتل و غارت دنیا بھر میں نہ تو عیسائی روک سکتے ہیں، نہ مسلمان، نہ یہودی، نہ بُدھ مت والے، نہ ہندو وغیرہ، لیکن ہم مل جل کرانسانیت کے اس وسیع قتلِ عام کو روک سکتے ہیں،اپنی آنے والی نسلوں کے لیے،امن کے لیے اور آسمانی بادشاہت کے سائے تلے رہنے کے لیے، کیونکہ انسانی یعنیٰ’’خدا کی تخلیق‘‘ کبھی یہ نہیں چاہتا کہ وہ دجالی اورشیطانی طاقتوں کے جبر کے نیچے زندگی گزارے۔