والد محترم ڈاکٹر سید ہارونؒ حسینی ندوی فرماتے تھے کہ قبل ازظہورمہدی علیہ السلام حقیقی اہل بیت کی بڑی تعدادانتہائی غربت وافلاس میں جی رہی ہو گی،مفتی اعظم دارالعلوم مہدی حسنؒ سادات کو زکوٰۃ دینے کو جائز کہتےتھے،اور یہی رجحان محدث کبیر شیخ الحدیث مفتی سعید صاحب پالن پوری اور کئی متفکرینِ اہل بیت دیوبندی سنی علماءاکرام کا بھی ہے کیوں کہ فقہ حنفی کے بعض علماء وفقہاء میں اس کی گنجائش ہے اور بعض اسے رد کرتے ہیں،اس کی وجہ سے بہت سے لوگ اہل بیت کو زکوۃ دینے کے معاملے میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں،دورحاضر میں سنی ہی نہیں بلکہ نظام خمس ہونے کے باوجود بہت سےحقیقی مسکین شیعہ سادات کی بھی جوخستہ حالت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،جبکہ مرکزیت نہ ہونے کی وجہ سے شرعی اعتبارسے ہونا تو یہ چاہئے کہ جہاں کاخمس ہواسی علاقے پرپہلےخرچ کیا جائے،اور یہی حکم تمام واجبات کا ہے، جب میں 2014ء تا 2018ءتقسیم زکواۃ کا کام کیا کرتا تھا تو میرے پاس یہیں مانکپور کے کچھ مسکین شیعہ سادات بھی آتے تھے،میں ان سے پوچھتا کہ کیاتمہیں تمہارے صاحبِ مال خمس میں سے نہیں دیتے؟ تو وہ کہتے کہ بھیا کوئی پرسان حال نہیں ہے،میں اپنی تنخواہ یاعوامی عطیات سے جوہوسکتا ان کی مدد کردیا کرتا تھا،اس وقت مجھے علم ہوا کہ نظامِ خمس بھی رو بہ زوال ہے،دراصل علمی اختلاف رائے سے بڑھ کرمسلکی بغص وعناداس حد تک نفاق کا شکار ہے کہ خودساختہ اہل علموں کومسلکی کھینچاتانی اورلوگوں کولڑا بھڑا کراپناالوسیدھا کرنے سے ہی فرصت نہیں جوامت مسلمہ اوران کے حقیقی سرپرستوں یعنیٰ اصلی اہل بیت کی خبر لیں،ایک طرف کے لوگوں کواہل بیت کا نام لینااور ان کی حمایت میں ذرہ برابربھی بولنے والا شیعہ کافرنظرآتا ہے تو دوسری طرف علم النساب پر مہارت کے باوجود بھی لوگوں کواصل اہل بیت کی شناخت کا طریقہ معلوم نہیں ہے، کچھ اہل سنت بزرگ علماء نے نازک صورت حال اورحقیقی سادات کا دکھ درد محسوس کرتے ہوئےصرف اس لئے کہ (ابھی سب نفاق زدہ گروہ پرستی میں مست ہیں کوئی سننے سمجھنے والا نہیں لہذا) مجبوری میں حرام بھی کھایا جاسکتا ہے کے تحت سادات کوچھپاکرحیلہ بہانہ زکوۃ دینے کی اجازت دی، کیوں کہ اس دور میں انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں لوگ بہ مشکل صرف واجبات مصارف منصوصہ ہی ادا کرتےاوراسی کو دین سمجھتے ہیں،جبکہ ایسا ہرگزہرگزنہیں ہے کیونکہ یہ ایسےہی ہے جیسے کوئی شخص فرض پڑھے نیز وتر اور سنت و نوافل ترک کردے۔
انفاق فی سبیل اللہ کے تحت مصارف غیرمنصوصہ یعنی عشور و عطیات بھی امت مسلمہ پر واجب ہیں جس کی مقدار واجبات مصارف منصوصہ کی طرح متعین بھی ہے اورغیرمتعین بھی ہے،لیکن اس پرتحقیقی کام کرنے کی کسی گروہ پرست کوکبھی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ ابھی امت کے عظیم نفع کے لئے رمضان المبارک کے چاند پر ایک طبقے کوصحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کا اہم معاملہ جو چل رہا ہے،یا اسی طرح کا کچھ اوربھی آئے دن لایعنی کچھ نہ کچھ معاملہ گرم رہتا ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ اہل بیت کےتعلق سے سنی شیعہ دونوں مکتبہ فکرکے مانے والوں کو اپنا رویہ سرعت سے درست کرنے کی سخت ضرورت ہے،کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اہل بیت کی محبت میں غلو کی حد تک چورتودوسراعداوت وبے رخی میں اہل بیت سے حدسے زیادہ دور ہے،یہی اصل وجہ ہے جوامت مسلمہ لہو لہان ہے،کیوں کہ جس قوم کا سرپرست ہی قوت وطاقت میں نہیں اس قوم کی عزت وتوقیر کی کسی کوکیاضرورت؟ عیرہ غیرہ نتھو خیرا،جب جس کا دل کرتا ہے امت مسلمہ کو کوٹ پیٹ کر چل دیتا ہے، جیسے کسی بے سہارا کوگاؤں کے دبنگ چودھری صاحب اپنی جھوٹی عزت بنانے اور رعب طاری کرنے کے لئے بے وجہ بلا ثبوت جب دل کرتا ہےٹھونک پیٹ دیتے ہیں۔
اہل بیت پرواجبات مصارف منصوصہ حرام ہیں،انہیں کسی بھی صورت میں زکواۃ فطرہ اورصدقات کی رقم نہیں دی جاسکتی،بجزاس کے کہ ان کا کوئی حقداراس قسم کی رقومات کامالک بننے کے بعد کسی وجہ سےاپنی خوشی سے اسے اہل بیت کودے،یعنیٰ مال تملیک شدہ ہو،حضرت جویریہؓ کے ذریعہ اس قسم کا تحفے میں دیا گیاگوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھانا ثابت ہے،(بحوالہ صحیح مسلم/جلد اول/حدیث نمبر 2476) لیکن بہ غرض تملیک اگر کسی سے ایسا کرنے کو کہا جائے تو تملیک ہی درست نہیں ہوگی،صحیح تو یہ ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے تحت اللہ تبارک وتعالیٰ نےامت مسلمہ پرجو واجبات مصارف غیرمنصوصہ عشوراورعطیات یعنیٰ بنا کسی مدکی حدکے واجب کئے ہیں ان سے بےسروسامانی کی حالت میں زندگی گزاررہےحقیقی اہل بیت کی کفالت کی جائے،دینی خدمات میں لگے علماء اکرام کوموجودہ وقت میں کم وبیش بھارتی ہزار روپیہ یومیہ کے حساب سے تنخواہات دی جائیں،علم کی اشاعت وتوسیع میں اپنی زندگی وقف کردینے والوں کوبھاری معاوضہ دیاجائے،اس تجدیدی دور میں اس طرح کے لوگوں کا انفاق فی سبیل اللہ کے تحت مالی تعاون کاسوشہیدوں کے برابراجرملے گااور میدان محشرمیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم سے اس کی سفارش کروں گا کہ یہ اے اللہ کے محبوب یہ ہیں وہ ایمان والے جنہوں نے آپ کےاس بیٹے کے ساتھ آپ کے سابقون الاولون جیسے ساتھیوں والا تعاون کیا،انفاق فی سبیل اللہ کے تحت آپ کی اپیلوں پرانصارمدینہ جیسالٹادینےوالوں کی طرح میری درخواست پربھی لبیک کہہ کراللہ کےراستےمیں خرچ کیاتھا۔انشاء اللہ
اہل بیت وہ ہیں جن پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے زکوۃ حرام کردی ہے،جیساکئی روایات میں ہے کہ حضرت زیدؓ نے فرمایا! آپ کی ازواج مطہرات ؓ آپ کے اہل بیت میں سے ہیں اوروہ سب اہل بیت میں سے ہیں کہ جن پر آپ کے بعد صدقات وواجبات حرام ہیں،حضرت حصین ؓ نے عرض کیا وہ کون ہیں؟حضرت زید ؓ نے فرمایا کہ حضرت علیؑ کاخاندان،حضرت عقیل ؓ کا خاندان، آل جعفرو آل عباس اہل بیت ہیں،حضرت حصٰین نےعرض کیا،کیاان سب پر صدقہ وغیرہ حرام ہے؟حضرت زید ؓ نے فرمایا ہاں!ان سب پرصدقہ، زکوٰۃ وغیرہ حرام ہے،(بحوالہ مسلم،ترمذی،سنن دارمی،مسنداحمد)اور کچھ روایات میں ہے کہ اہل بیت میں بنوہاشم بن عبدمناف (جو کہ آل علی ، آل عباس، آل جعفر، آل عقیل،اورآل حارث بن عبدالمطلب ہیں) شامل ہیں، اسے امام احمدؒ نے زيد بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیاہے،کچھ بھی ہو لیکن رسول خداصلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کا بتایا گیا یہ بنیادی اصول یاد رہے کہ ظلم اور ظالموں کے راستے پر چلنے والا اہل بیت میں سے ہرگز نہیں ہے، چاہے پھر وہ اس کا کتنا بڑادعویدارکیوں نہ ہو۔واللہ اعلم