رام مندر کا سیاسی پروپیگنڈا مغلیہ سلطنت کے خلاف کیا جاتا تھا جس میں جنوبی ہند کی مرہٹہ ریاست پیش پیش رہا کرتی تھی، مرہٹہ اس بات کے دعویدار تھے کہ وہ رام کی مورتی مغلوں کے داراحکومت دہلی میں نصب کریں گے، مگر ان کا یہ سیاسی حربہ رام سے جڑے حقائق یا افسانے کی زمینی حقیقت سے قریب نہیں تھا، اس لئے کہ رام کا تعلق دہلی سے نہیں بلکہ ایودھیا سے ہے، یہی وجہ تھی کہ یہ حربہ مغلوں کے خلاف کچھ خاص اثرانداز نہی ہوسکا، ظاہر ہے کہ ایودھیا کی مذہبی عظمت دہلی منتقل نہیں کی جاسکتی اس لئے اس پروپیگنڈے میں وہ جذباتی مذہبی رنگ نہیں بھرا جاسکا جس کی ضرورت تھی۔
احمد شاہ ابدالی کے حملے نے 1761ء میں مرہٹوں کی کمر توڑ دی اور دہلی سمیت شمالی ہند پر کنٹرول کی کشمکش میں مرہٹوں کو شکست فاش ہوئی، مغلوں کو قدرت نے پھر ایک موقع دیا کہ وہ ہندوستان میں اپنی عظمت کو دوبارہ اس سطح پر بحال کرسکیں جس پر وہ اورنگزیب عالمگیر کی موت 1707ء سے قبل تھی لیکن عیش پرستی آپسی کھینچ تان و طوائف الملوکی نے ان کا بیڑہ غرق کردیا، قتل سراج الدولہ و سقوط مرشدآباد 1757ء کے بعد شمالی ہند میں حافظ رحمت خاں کی شہادت 1774ء و ریاست روہیل کھنڈ کے خاتمے اور جنوبی ہند میں ٹیپو سلطان کی 1799ء میں شہادت اور سقوط ریاست میسور کے بعد انگریز مکمل ہندوستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔
آزادی ہند کی پہلی جنگ گرچہ بنگال سے نواب علی وردی خان کی قیادت میں شروع ہوئی مگر 1857ء میں اس کا مرکز دہلی سمیت جھانسی میرٹھ لکھنؤ اور کانپور بن گیا، چونکہ متحدہ ہندوستان رہا ہو یا پھر موجودہ بھارت ہو، ہر دور میں شمالی ہند کے سیاسی حالات اور اتار چڑھاؤ پورے برصغیر پر اثرانداز ہوتے ہیں اس لئے انگریزوں نے ان علاقوں میں اپنے خلاف اٹھی مذاحمت کو نظرانداز نہیں کیا، یہ جنگ مغل اور مرہٹہ حکمرانوں و مسلمان اور ہندو عوام نے مشترک ہوکر لڑی تھی اس لئے انگریزوں نے ان کے اتحاد کو بہت بڑا خطرہ مانا، انہوں نے اس جنگ کے دوران قتل ہوئے چار ہزار انگریزوں کے بدلے بارہ سے پندرہ لاکھ ہندوستانیوں کا قتل عام کیا، جنگ کے بعد سلطنت مغلیہ کا خاتمہ کردیا گیا اور ہندوؤں نے انگریزوں سے مکمل مفاہمت کرلی لیکن مسلمانوں نے پھر بھی لڑائی جاری رکھی اور انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے، پھر انگریزوں نے مسلمانوں سے ہندوؤں کو لڑانے کا فیصلہ کیا، اس کے لئے انہیں مذہبی و سیاسی دونوں قسم کے مضبوط عوامی اختلاف پیدا کرنے کی ضرورت تھی، اس کے لئے انہوں نے تین ایسے بنیادی اختلافات کو ہوا دی جن کے بعد انہیں نوے سال یہاں مزید حکمرانی کا موقع مل گیا اور جنگ عظیم دوئم کی بدولت جب برطانیہ کو یہاں سے جانے پر مجبور ہونا پڑا تو اسے یہ اطمینان تھا کہ اب صدیوں برصغیر سے مغلوں جیسی کوئی قوت کھڑی ہونے کا خطرہ نہیں ہے جو کہ مسلمانوں کے لئے وہی حیثیت اختیار کرجائے جو عثمانی ترکوں کی تھی۔
اس میں پہلا مذہبی جھگڑا گئوکشی اور دوسرا رام مندر کا تھا، بس فرق یہ تھا کہ رام کو دہلی کی جگہ ایودھیا پہنچا دیا گیا اور اس طرح یہ دونوں پروپیگنڈے ایک طاقتور عوامی مذہبی تشدد سے ہوتے ہوئے ریاستی جبر میں تبدیل ہوگئے، تیسرا جھگڑا اردو اور ہندی کی تفریق کا لسانی سیاسی پروپیگنڈا تھا اور یہ بھی کامیاب رہا، ان تینوں بنیادی پرتشدد و جبریہ مذہبی و لسانی جھگڑوں نے مزید فتنے کھڑے کئے اور متحدہ ہندوستان کو پہلے دو اور پھر تین ٹکڑوں میں بانٹ ڈالا، 2010ء میں جب آلہ آباد ہائیکورٹ نے ایک تہائی زمین پر مسجد کی ازسرنو تعمیر کے ساتھ بقیہ زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ کیا تھا جو سپریم کورٹ تک گیا تھا، تب میں نے یہ کہا تھا کہ اگر بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہی تقدیر کا فیصلہ ہے تو خدا کرے مندر کی تعمیر سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ہو تاکہ جمہوریت کا یہ آخری ستون بھی زمیں بوس ہوجائے، اور دنیا 22/جنوری/2024ء کے بعد یہ جان چکی ہے کہ بھارتی جمہوریت کا آخری ستون بھی مکمل زمیں بوس ہوچکا ہے، چونکہ مسلم قائدین کی طرف سے بارہا یہ کہا گیا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے اس لئے مسلمانانِ ہند کو یہ ماننا ہے گرچہ فیصلہ حقائق کے برخلاف آستھا کی بنیاد پر ہی کیوں نہ کیا گیا ہو، اور اسی میں ان کے لئے کہیں نہ کہیں سے بھلائی کا پہلو نکلے گا۔
اب ہوش و حواس والوں کے لئے فکرمندی کی بات یہ ہے کہ انگریزوں سے نجات حاصل کردہ تینوں ممالک دوبارہ ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں تاریخ اپنے آپ کو پھر سے دہرا سکتی ہے، یعنیٰ عوامی انقلاب، صوبوں کی خودمختاری یا پھر غلامی، دیکھنا یہ ہے کہ کون کون سے ملکوں کی قیادت اپنے ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر اپنی عوام کو ماضی کی تلخیوں سے نکال کر سنہرے مستقبل کی طرف لے جاسکتی ہے اور کون کون سے ملکوں کی قیادت اپنے ذاتی مفاد کے لئے اپنے لوگوں کو مذہب مسلک نسل اور زبان کا سستا اور جادوئی نشہ پلا پلا کر کینسر میں مبتلا کرتی رہتی ہے، یاد رکھیں کہ کینسر آج بھی چند اسٹیج کے بعد لاعلاج ہے، لاپرواہی میں چند اسٹیج گزرتے پتہ نہیں چلتا اور آخری آ پہنچتا ہے، تینوں ممالک کی عوام بہ خوبی جانتی ہے کہ ان کے حکمرانوں و حکومتی نظام کا کینسر کس اسٹیج پر چل رہا ہے اور اس کا علاج اب عوام ہی کرے گی جو اسے خوب اچھی طرح کرنا آتا ہے۔