عمان میں اباضیہ فرقے کی حکمرانی ہے، اباضی خارجیوں کی بچی کھچی قوت ہیں، اس بات پر دنیا بھر کےسنی شیعہ سبھی علماءاکرام متفق ہیں کہ اسلام میں الگ گروہ کی شکل میں باقاعدہ طور پر فرقہ واریت کے جنم داتا خوارج ہیں، حضرت علیؓ کو خارجیوں ناصبیوں دونوں سے ایک ساتھ جنگ لڑنی پڑی تھی، طلقاء کے پروپیگنڈوں اور ناصبیوں کی شرارتوں کی وجہ سے عثمانؓ کی شہادت ہوئی اور جنگ جمل و جنگ صفین بھی ہوئی تھی، جنگ صفین سے خوارج الگ ہوئے پر جنگ نہروان میں حضرت علیؓ نے ان کی کی کمر توڑ دی تھی، عمان میں اسماعیلی جعفری اور زیدی شیعوں کی اچھی تعداد آباد ہے، اباضیوں اور شیعہ فرقوں کے عملی اتحاد نے عمان کو مثالی ریاست بنا رکھا ہے، ابھی حال ہی میں 10/جنوری/2020ء کو جب وہاں کے بادشاہ قابوس بن سعید کا انتقال ہوا تو بنا تفریق اباضیت شیعت پورے ملک عمان کا بوڑھا عورت جوان بچہ ان کے غم میں رویا ہے، اب وہاں کے بادشاہ ان کے چچا کے بیٹے ہثیم بن طارق ہیں اور وہ بھی اباضی ہیں، میں نے بائیس سالہ وسیع مطالعہ کرنے کے بعد یہ سمجھا ہے کہ عالم اسلام کا سب سے بدترین فرقہ ناصبی ہے، یہ فرقہ تقیہ کو کفر کہتا ہے پر مصلحت پر ایسا جان چھڑکتا ہے گویا یہ شریعت کا حصہ ہو، جبکہ حقیقتا تقیہ اور مصلحت اسلام کی عمارت میں لگی ایسی سیندھ یا ایسے چور دروازے ہیں جس سے منافق یہاں تک کہ کافر بھی اسلام کے قلعے میں بلا خوف و خطر رواں دواں رہتا ہے، یہ فرقہ سنیت کا لبادہ اوڑھے رکھتا ہے مگر اپنی من مانی اس کا مسلک ہے، یہ مصلحتاً ہر مسلک و سلسلے میں گھس جاتا ہے، نسب بھی تبدیل کر لیتا ہے اور ہر اس مسلک سلسلے اور خاندان کا ستیہ ناس کر دیتا ہے جسے اپنے مستقبل کے لئے خطرہ سمجھتا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ کہتا ہے کہ میں منافقین کو جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ڈالوں گا پر یہ فرقہ نفاق کو معمولی چیز سمجھتا ہے اور ذرہ ذرہ سی بات میں عام مسلمانوں پر کفر و شرک کے فتوے لگاتا ہے، اس کی اہم پہچان یہ ہے کہ یہ فرقہ اہل بیت سے بہت خار کھاتا ہے خصوصاً آل فاطمہ سے انتہاء کی نفرت و جلن رکھتا ہے، آل علی کی نسل کشی کی تلاش میں رہتا ہے کیونکہ حقیقی آل علی آج بھی ملوکیت کے نہیں بلکہ خلافت کے داعی ہیں، آل علی کو دفاعی انداز اپنانے پر باغی، رافضی کافر وغیرہ قرار دیتا ہے اور عام لوگوں کو ان کے خلاف اکساتا ہےکہ یہ ابوبکرؓ عمرؓ عثمانؓ کو نہیں مانتے اور عائشہؓ پر تہمت لگاتے ہیں، جبکہ اسی فرقے نے ہی عمرفاروقؓ پر تہمت لگا کر عائشہؓ اور علیؓ میں جنگ جمل کرائی تھی اورطلحہ بن عبیداللہؓ جیسے جلیل القدر صحابی کو تیر مار کر شہید کیا تھا، یہی وہ فرقہ ہے جو خمس کے معاملے کو زمین کے ایک ٹکڑے سے جوڑتا ہے اور فاطمہؓ کی عارضی ناراضگی کو خطاء قرار دیتا ہے، جبکہ ہر مؤمن چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ یہ جانتا ہے کہ ہر مؤمنہ معصومہ اور صدیقہ ہوتی ہے اور عورت کی ناراضگی کو خطاء شمار نہیں کیا جاتا، نیز ہر مؤمن صدیق فاروق غنی حیدر اور سیف اللہ ہوتا ہے، یہ فرقہ قرآن و حدیث کی من مانی تاویل کرتا ہے، مشیت خداوندی سمجھنے کی کوشش میں عقل لگا کر خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے، کٹر سنی سلفی یا اہل حدیث ہونے کی باتیں کرتا ہے پر جب قرآن و حدیث سے جواب دو اور یہ پھنس جاتا ہے تو گالیاں بکنے طرح طرح کے الزامات اور کافر سے بدتر ہونے کا فتویٰ بھی لگانے لگتا ہے، چوتھے خلیفہ علی کرم اللّٰہ وجہ کا تذکرہ اس فرقے کو بالکل بھی برداشت نہیں ہوتا، طلقاء کے نام پر مساجد بناتا ہے پر علی ؓ ابوایوب انصاریؓ، ابوزر غفاریؓ، سلمان فارسیؓ، عمار بن یاسرؓ، عبداللہ بن مسعودؓ جیسے بدری و سابقون الاولون صحابہ اکرام یا حجر بن عدیؓ جیسے صحابی کے نام پر ایک بھی مسجد بنانے کی بات کرو تو آئیں بائیں شائیں ہانکنے لگتا ہے، حد تو یہاں تک ہے کہ بسر بن ارطاۃؓ کو اہل مدینہ تابعی اور کاذب کہتے ہیں تو یہ فرقہ انہیں صحابی کہتا ہے جبکہ حجر بن عدیؓ کو اہل مدینہ نیک صحابی کہتے ہیں تو یہ انہیں تابعی اور باغی قرار دیتا ہے، حجر بن عدیؓ کے تعلق سے تو عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیان کرتے سنا کہ عنقریب عذراء میں کچھ لوگ قتل ہوں گے جن کی خاطر اللّٰہ اور آسمان والے غصہ ہو جائیں گے، یہ فرقہ اہل بیت کے صحابیوں سمیت بے شمار صحابہ اکرام کو ملوکیت کا باغی کہتا ہے پر اگر معاویہؓ کو خلافت کا باغی کہہ دو تو بکواس کرنے لگتا اور اواہی تواہی بکنے لگتا ہے، أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ کا ورد کرتا ہے پر حضرت ارقمؓ اور حضرت جابرؓ سمیت نو جید صحابہ اکرام سے مروی اور جنگ بدر کا معرکہ لڑنے والے تیس صحابہ کرام (جن میں حضرت ابوایوب انصاریؓ جیسے سابقون الاولون کے جلیل القدر صحابی بھی شامل ہیں) کی تصدیق شدہ حدیث "مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ" کا انکار کرتا ہے، غدیر خم واقعے کو نعوذباللّٰه افسانہ تک قرار دیتے خدا کا خوف نہیں کھاتا، مولاٰ کے معنی پر ستائیس اقسام کی بلا وجہ کی بحثیں کھڑی کرتا ہے جبکہ اس حدیث کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو شخص جتنی محبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتا ہے اے لازم ہے کہ وہ اتنی ہی محبت حضرت علی کرم اللہ وجہ سے بھی کرے، خود اہل سنت کی کتب احادیث میں روایت ہے کہ غدیرخم میں جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ" جس کا میں مو لا ہوں علی بھی اس کے مو لا ہیں" تو سب سے پہلے حضرت عمر فارقؓ علیؓ کے پاس آئے اور ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے ابوطالب کے بیٹے تجھے مبارک ہو، آج سے تو میرا بھی مولا ہے، میرے نزدیک ناصبی فرقے کا سب سے بڑا مددگار غالی فرقہ ہے جو "أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ" یعنیٰ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت پاو گے، حدیث کا سرے سے انکار کردیتا ہے، گرچہ اس کی سند بے انتہا کمزور ہے پر میرے نزدیک تمام صحابہ کرام کے اقوال یہاں تک کہ قرآن و سنت کی روشنی میں نیک اسلاف کے طور و طریقے پر چلنے والی شخصیات کے اقوال بھی حجت ہیں، اس لئے میں عام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ غالیوں اور ناصبیوں دونوں سے لاتعلقی اختیار کرلیں،خارجی رافضی متحد ہیں، سنی شیعہ ایک ہیں پر غالی ناصبی کبھی متحد نہ ہونگے نہ ہی امت کو متحد ہونے دیں گے، یہ امت کو آپس میں لڑانے کے لئے آپس میں لڑنے کا ڈرامہ کرتے رہیں گے پرخود کبھی بھی نہیں لڑیں گے، کیونکہ انہیں ان کے ابو جی یعنیٰ یہود و نصارٰی کی طرف سے شخصیات کے نام پر امت کو آپس ہی میں لڑاتے رہنے کا ٹھیکہ ملا ہوا ہے، یہ اندر سے ہمیشہ ایک ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ پڑھ لکھ سوچ سمجھ کر بہت سے غالی ناصبی اور ناصبی غالی بھی بننے کا ڈرامہ کرتے رہتےہیں تاکہ سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دیتے رہا جایا جا سکے، میرے نزدیک تو غالی ناصبی دونوں مردود فرقے ہیں، امت مسلمہ اگر اپنے ڈارک ایج یعنی سیاہ دور سے نکلنا چاہتی ہے تو ان دونوں مردود فرقوں سے جلد از جلد نجات حاصل کرلے، یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ امام مہدی علیہ السلام آل فاطمہؓ سے ہونگے اور جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی ناصبیت ہوگی وہ سفیانی کا لشکری بنے گا امام مہدی علیہ السلام کا لشکری ہرگز نہیں بن سکے گا، جو کٹر ناصبی فرقہ ہے وہ تو ظہور مہدیؑ و عیسیٰؑ کا بھی انکار کر دیتا ہے