آیت مباہلہ نازل ہونے کے بعد نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کے موقع پر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم حسن حسین فاطمہ اور علی علیہم السّلام کو لے کر مباہلہ کرنے آئے تھے، اس واقعے کے بارے میں مطالعہ کے دوران ایک حدیث پڑھنے کو ملی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام کو اہل نجران کے تعلق سے یہ نصیحت کی تھی کہ۔
ترجمہ: حضرت علی سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی! میرے بعد کسی بھی وقت زمام حکومت جب تمہارے ہاتھ میں آئے تو اہل نجران کو جزیرہ عرب سے نکال دینا۔ (مسند احمد جلد اول حدیث نمبر 625 مرفوع)
ہمارے معاشرے میں خلافائے ثلاثہ کی حکومتوں کے تعلق سے تو رسول اللہ کے بڑے اشارات و بشارتیں سنائی جاتی ہیں لیکن علی علیہ السلام کو منصب اور عہدے کا خواہش مند ظاہر کیا جاتا ہے، محدثین کے نزدیک یہ حدیث بلند پایہ اور مشہور ہونے کی باجود گرد میں ڈھانپ دی گئی، یہودیوں کے أفتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض کے عمل کی طرح تم اپنی کتابوں کی کن کن باتوں کو چھپاؤ گے، من تشبہ بقوم فھو منھم کا مفہوم یہ ہرگز نہیں ہے کہ ٹوپی بال اور لباس کی وجہ سے کوئی عام مسلمان یہودی نصرانی یا کچھ اور ہوجائے بلکہ اس کا درست مطلب یہ ہے کہ کوئی عالم مولوی پیر فقیر سمجھا جانے والا وہ راستہ اختیار کرے جو یہود نصاریٰ کے احبار و رھبان اور پیشواؤں نے اختیار کئے اور خدا کے یہاں سے سخت عذاب کے مستحق ٹھرے۔