یعنیٰ وہ ایک امت تھی جو گزر گئی،جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے،اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے،اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے،امت مسلمہ میں نفاق زدہ مسلکی گروہ پرستی کی وبا ایسی عام ہوچکی ہے کہ انسانیت،امن،اتحادواتفاق اوراجتماعیت کی دعوت علیٰ منہاج النبوۃ بھی شکوک وشبہات کے گھیرے میں آجاتی ہے، مثال کے طور پر کسی مسلم گروہ کے افراد کوجب اجتماعیت کی طرف بلایا جاتا ہے توقرآن وسنت کاپیمانہ بھول کر دعوت دینے والے کوپہلے مسلک کی عینک لگا کر دیکھا جاتا ہے،تصدیق و جانچ پرکھ کے لئےاپنے مخالف سمجھے یا مانےجانے والے گروہوں کے کچھ مرے ہوئے اشخاص کا نام لے کربرابھلا کہا جاتا ہے،پھر مطالبہ کیا جاتاہےکہ پہلے آپ بھی فلاں،فلاں اورفلاں کو برا بھلاکہو،لعن طعن کرو،دین سے خارج سمجھو،نعوذباللہ کافرکہویا تسلیم کرو،تو ہی آپ کی بات سنیں گے ورنہ نہیں،اگر کہو کہ بھائی اللہ کے رسولؐ نے مُردوں کو بُرا بَھلا کہنے سے منع فرمایا ہے،توسوجھ بوجھ کا استعمال کئے بغیر یہ طے کرلیا جاتا ہے کہ یہ فلاں گروہ کا ہے اسی لئے فلاں فلاں کوبرابھلا نہیں کہتا،کچھ لوگ زیادہ ہی عقل کا استعمال کرجاتے ہیں اوراسے "صلح کل" فرقے کا قرار دے دیتے ہیں،یعنیٰ جومسلکی جتھوں کوجوڑنے نکلا اسے خودگروہ بنادیا گیا،جبکہ مشن نبویؐ تو بناسب کوساتھ لئے ہرگزممکن نہیں،یا پھر جواب ملتا ہے، ثبوت دو،جب احادیث پیش کرو تو کہاجاتا ہے،ہم نے تواپنے بڑوں کو ایسا ہی کرتے دیکھا اورکرنے کو کہتے سنا ہے تو ہم کیوں نہ کریں، کیا وہ غلط ہیں؟ کچھ نے تو (یہ بات بھول کرکہ اللہ اوراللہ کے رسولؐ پرایمان لانے پھرآپ کا آخرالزماں نبیؐ ہوناتسلیم کرنے والے کوہرگزکافر کہایاقرارنہیں دیا جاسکتا،چاہے اسے آپ جھوٹا ہی تصور کیوں نہ کرتے ہوں)سورہ مسد(ابی لہب) کوہی مردوں کو برابھلا کہنے کا جوازبنا ڈالا ہے،جب کہ یہ اسلام دشمن بدترین کفار کا معاملہ ہے،اب ان حالات میں کیا کیا جائے،اکابرین امت کے لئے یہ سوچنے کی ضرورت ہے؟ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہم کب اورکیسےکن راستوں پر چل پڑےہیں جوہمارے ہیں ہی نہیں؟فکر کریں کہ میدان محشر میں موجودہ مسلکی مذاہب کی عصبیت سے اوپر اٹھ کر(مسالک کا منبع جوخودہے یعنیٰ) قرآن وسنت اور اس پراتحاد واجتماعیت کی دعوت دینے والوں میں سے کسی نے اگرہمارا گریبان پکڑلیا تو ہم اپنے آقامحمدرسول اللہ ؐ کے سامنے اللہ تبارک وتعالیٰ کووہاں کیا جواب دیں گے؟
سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ ہر فرقہ خود کو جنتی اور دوسروں کو جہنمی قرار دیتا ہے،اور اس کے جواز میں 72/ فرقوں والی حدیث پیش کی جاتی ہے،اس بنیاد پر ایک دوسرے کو کافر قرار دے کربرابھلا کہنے کا جوازفراہم کیا جاتا ہے،اب پریشان کن بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو مردوں کو برابھلا نہ کہو،والی حدیث سمجھ نہیں آتی ،انہیں 72/ فرقوں والی حدیث کیسے سمجھ میں آگئی ہے؟ ایک حدیث کا مفہوم ہے،اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ قیامت کے نزدیک مسلمان 72/ فرقوں میں بٹ جائیں گے جس میں سے صرف ایک فرقہ جنت میں جائے گا،احادیث میں یہ بات بھی درج ہے کہ اُس وقت وہ لوگ جوقرآن وسنت کی روشنی اورطریقِ اہل بیت کی سرپرستی میں اعمال حسنہ اختیار کریں گے جنت میں جائیں گے، تو یہ ظاہر ہے کہ قرآن وسنت کو اپنانے والا فرقہ ہی حق پر ہے، مگر اب یہاں یہ بات ابہام پیدا کرتی ہے کہ سبھی فرقے اس کے دعویٰ دار ہیں کہ ہم قرآن وسنت پر چلنے والے اور ہم ہی وہ فرقہ ہیں جوجنتی ہیں،اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کوکوئی بات سمجھانے کے لئے مچھر کی بھی مثال دینے میں شرم محسوس نہیں کرتا تو میں کیوں کروں؟ اس بات کو آج کل کے دور میں تو سمجھنا بہت ہی آسان اس طرح ہے کہ ہمارے ملک سے جو مال باہر ملکوں میں بھیجا جاتا ہے وہ ایک ہی طرح کااورانتہائی اعلیٰ قسم کا ہوتا ہے، مگر کوئی طے نہیں کر سکتا کہ یہ کسی ایک ہی کاریگر کا بنایا ہوا ہے، کیونکہ بڑی کمپنیاں اب تو مختلف چھوٹے کارخانوں کو ٹھیکہ دے کر مال تیار کراتی اوراپنے مقررہ معیار پر جانچنے کے بعداپنا لیبل لگا کر دوسرے ملکوں کوبھیج دیتی ہیں،اب دوسرے کسی ملک میں بکنے کے بعد اس مال کوخود وہ کمپنی بھی نہیں بتا سکتی کہ ہمارے یہاں کس کارخانے یا کاریگر کا تیار کیا ہوا تھا،یعنیٰ مال کی شناخت پھر لیبل سےہی ہوتی ہے،بالکل اسی طرح اس معاملے کو بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم چاہے جس مسلک یاشخصیت کی اتباع کریں،مسلک یا شخصیت کے نام پر ہماری بخشش تب تک ممکن ہی نہیں جب تک کہ ان سے حاصل علم،دین،معرفت،روحانیت،سمجھ بوجھ وغیرہ کوقبرمیں فرشتے قرآن وسنت پر جانچ نہ لیں،اگر قبر میں فرشتوں نے ہمارےرب،نبیؐ،اوردین حنیف کے متعلق دوتین سوال پر ہمارامعیار چیک کرکے،مؤمن یا منافق وکافر کا لیبل لگا دیا،توقیامت تک دھنائی ہونا طے ہے پھر میدان محشر میں بھی ہم مؤمن،منافق یاکافر ہی کی صفوں میں شامل کئے جائیں گے،بات سمجھنے والوں کے لئے قرآن کی ایک آیت یا کسی مستند حدیث کی کتاب کی ایک حدیث یا کسی نیک شخص کی سلجھی بات ہی کافی ہے،اور نہ سمجھنے والے کے لئے پوراقرآن واحادیث اوربزرگوں کے اقوال کا مجموعہ بھی بے کار ہے،اوریہی بات نہ سمجھنے ونہ سمجھنے دینے پرضدپکڑنے والے کھلے منافق ہیں۔
میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ عیسائی مذہب کی طرح چپکے سے ہماری مذہبی صفوں میں بھی کب کون سینٹ پال گھس آیاہے؟جس نے غیر محسوس طریقے سے حق کو باطل سے،اورایمانی صفات کو منافقانہ روش سے ایساخلط ملط کردیا ہے کہ ہم سراب کوحقیقت اورحقیقت کو دھوکاسمجھنے لگے ہیں،اس پربھرپورقوت سے توجہ دینے اورسینٹ پالوں کو تلاش کرنےکی سخت ضرورت ہے،ورنہ ہم اللہ اوراللہ کے رسولؐ کے حکموں وطریقوں کوخواب غفلت میں یوں ہی پامال کرتے رہیں گےاوردنیا وآخرت دونوں جگہ ناکام ونامرادہوں گے،مرفوع ومتواتر احادیث میں تویہ لکھا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مردوں کو برا بھلا نہ کہو اس لئے کہ وہ لوگ اس سے مل چکے ہیں جو انہوں نے پہلے بھیجا (یعنیٰ مرنے سے پہلےدنیامیں جو عمل کیا)ہے۔(صحیح بخاری/جلد اول/حدیث نمبر 1333،صحیح بخاری/جلد سوم/حدیث نمبر 1463،مسند احمد/جلد نہم/حدیث نمبر 5410)،اگر کسی شخصیت سے ہمیں لگاؤ ہےتو اسے،یا ہمارے باپ دادا کو کوئی برا بھلا کہے،وہ بھی ڈنکے کی چوٹ پر،تو کیا ہم اسے چھوڑ دیں گے،معاف کردیں گے،نہیں ہرگز نہیں،بلکہ ہم طاقتور ہوئے تو منھ توڑ جواب دیں گے اوراگر کمزور ہوئے تو جب موقع ملے گا تب اینٹ کا جواب پتھر سے ہی دیں گے،اوراگروہ شخصیت اس دنیائے فانی میں نہیں ہے تومعاملہ اور بھی نازک اورحد سے بڑھا ہوا ہوجاتا ہے،کیونکہ اس صورت حال میں نہ تو وہ معاف کرسکتا ہے،نہ ہی اپنی کہی کسی بات پراپنامؤقف واضح کرسکتا ہے کہ کن صورتوں اور وجوہات کی بناپر اس نے کیا کہا یا لکھا تھا،اور اس شخصیت کے چاہنے والےتوہرگزنہیں،اس لئے کہ اس سے انہیں جو دلی تکلیف پہنچتی ہے وہ چوٹ لگنے سے بھی نہیں ہوتی،تو اس لئے چاہئے کہ ہم کسی بھی فرقے کے دنیا سے گزرچکے بزرگوں کی شخصیت کشی سے باز آجائیں کیونکہ حضرت مغیرہ بن شعبہ سےبھی مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس سے (مردے سےمحبت رکھنے والے)زندوں (زندہ لوگوں)کو تکلیف پہنچتی ہے۔(مسند احمد/جلد ہشتم/حدیث نمبر 106 اور 107)
ہر جگہ ہم یہ سناتے وایک دوسرے کو تلقین کرتے رہتےہیں کہ صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ہر چھوٹا سے چھوٹا بھی عمل ہمارے لئے نمونہ ومشعل راہ ہے،مگر کیا یہ حدیث ہماری نظر وں سے کبھی گزری ہے کہ حضرت قطبہ بن مالک سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کی زبان سے حضرت علیؑ کی شان میں کوئی نامناسب جملہ نکل گیا تو حضرت زید بن ارقم نے ان سے فرمایا کہ کیا آپ جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو برابھلا کہنے سے منع فرمایا ہے پھر آپ حضرت علیؑ کے متعلق ایسی بات کیوں کررہے ہیں جبکہ وہ فوت ہوچکے، (مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 1092 حدیث، مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 1117 ) حضرت مغیرہ بن شعبہ وہی صحابی رسولؐ ہیں جنہوں نے حضرت امیر معاویہ کو یزید کی ولی عہدی کی تجویز پیش کی تھی، صاف صاف کہوں تو حضرت مغیرہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے مخالف دھڑے میں شامل تھے اور اسی لئے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شہادت کے بعد کسی بات پر انہیں برا بھلا کہا، مگرجب حضرت زید بن ارقم (رض) نے انہیں صرف ایک حدیث یاددلائی تو اس پروہ وہیں رک گئے،کچھ روایات میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی یہی بات ملتی ہے کہ انہوں نے حضرت مغیرہ کو تنبیہ کی تھی،ابن حبان کی روایت میں ملتا ہے کہ یزید بن قیس حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا سرغنہ تھااور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کھلے عام برا بھلا کہتا تھا،ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ نے کسی سے پوچھا کہ" یزید بن قیس پر اللہ کی لعنت ہو اس کا کیا حال ہے؟"لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مرگیا،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا توبہ واستغفار کرنے لگیں،لوگوں نے عرض کیا،اے ام المؤمنین!ابھی تک تو آپ اسے برابھلاکہہ رہی تھیں اور اب استغفار پڑھ رہی ہیں،اس کا کیا مطلب ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے " مردوں کو برا بھلا نہ کہو اس لئے کہ وہ اپنے کئے کو پہنچ گئے ہیں، کیا ہم اہل سنت والجماعت بھی عصرحاضرمیں صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی اس جیسی مثالیں پیش کرسکتے ہیں؟کیونکہ یہی رسول اللہؐ سے سچی محبت و اطاعت کاثبوت،اور وقت کی اشد ضرورت ہے،رسول اللہ ؐ کے احکامات سے فرار کی سعی اور راستے ڈھونڈنا کھلے نفاق کی علامت ہے،اور نہ ماننے والے،اگرمگرکرنے والے،ایسا ویسا کہہ کر جواز نکالنے والے،اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سن لیں کہ
وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ ۔ حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا۔ قَالَ رَبُّكُمْ۔ قَالُوا الْحَقَّ ۔وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ O قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ قُلِ اللّٰهُ ۔ وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ O قُلْ لَّا تُسْـَٔــلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْـَٔــلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ O قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بِالْحَقِّ ۔ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ O قُلْ اَرُوْنِيَ الَّذِيْنَ اَلْحَــقْتُمْ بِهٖ شُرَكَاۗءَ كَلَّا ۭ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ O سبأ۔(23 تا 27 ) یعنیٰ اور اللہ کے سامنے کوئی سفارش کارآمد نہیں ہے، سوائے اس شخص کے جس کے لیے خود اس نے (اللہ نےسفارش کی) اجازت دے دی ہو، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ (بیقراری)دور کردی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ حق بات ارشاد فرمائی اور وہی ہے جو بڑا عالیشان ہے، کہو کہ کون ہے جو تمہیں آسمانوں سے اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کہو وہ اللہ ہے، اور ہم ہوں یا تم، یا تو ہدایت(ایمان) پر ہیں یا کھلی گمراہی(نفاق) میں مبتلا ہیں، کہو کہ ہم نے جو جرم کیا ہو، اس کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا،اورتم جو عمل کرتے ہو،اس کے بارے میں ہم سے سوال نہیں ہوگا، کہو کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان برحق فیصلہ کرے گا،اور وہی ہے جو خوب فیصلے کرنے والا،مکمل علم کا مالک ہے، کہو کہ ذرا مجھے دکھاؤ وہ کون ہیں جنہیں تم نے شریک بنا کر اللہ سے جوڑ رکھا ہے، ہرگز نہیں (اس کا کوئی شریک نہیں ہے) بلکہ وہ اللہ ہے، جس کااقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل ہے۔
نوٹ: ظالم برابھلا کہنے جانے کے عمل سے مستثنیٰ ہے،یعنیٰ ظالم پر تنقید یا اس کو برا کہناظلم کے خلاف آواز بلند کرنا شمار ہوگا۔