کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں نسل انسانی کی دو ہی جنس مرد یا عورت ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، ایک تیسری جنس کا وجود بھی ہمیشہ سے رہا ہے جسے عرب میں مخنث کہا جاتا تھا اور ہمارے یہاں برصغیر ہند و پاک میں اسے خواجہ سرا یا ہیجڑا کہا جاتا ہے، انگریزی میں اسے ٹرانسجینڈر کہتے ہیں، لفظ مخنث کو لوگوں نے گالی بنا لیا جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو اس کی تذلیل کی نیت سے مخنث کہنے کو منع فرمایا ہے اور کسی کو تحقیر و تذلیل کے غرض سے "اے مخنث" کہنے پر بیس کوڑے حد مقرر کردی ہے، یہ حکم مخنثوں کے تحفظ کے لئے ہے تاکہ لوگ انہیں ذلیل نہ سمجھیں نہ ذلیل کریں، چنانچہ صحابہ و تابعین کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں نے ایک شخص کو مخنث کہہ دیا، جب عطاء بن ابی رباح کو پتہ چلا تو انہوں نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ تم نے اسے یہ نماز سے پہلے کہا تھا یا بعد میں، انہوں نے کہاکہ نماز کے پہلے، عطاء نے فرمایا تم دونوں دوبارہ وضو کرو اور نماز پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی، لفظ مخنث کا معنیٰ آسانی سے یہ سمجھیں کہ مخنث اس عورت کو کہتے ہیں جس میں مردانہ علامات ہوں یا کسی میں مردانہ و زنانہ علامات دونوں ہوں یعنیٰ وہ نہ مکمل مرد ہو نہ مکمل عورت ہو۔
مخنث کو مخنث کہنے میں اسی طرح کوئی قباحت نہیں ہے جیسے کسی مرد کو مرد یا عورت کو عورت کہنے میں نہیں ہے، جس طرح مرد کو عورت کہنا اور عورت کو مرد کہنا درست نہیں ہے اسی طرح مخنث کو مخنث کے علاوہ مرد یا عورت کہنا بھی درست نہیں ہے کیوں کہ یہ ایک تیسری جنس ہے، اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے فرمایاکہ جب ایک مرد دوسرے مرد کو مخنث کہے تو اس کو بیس کوڑے مارو، عام طور پر لوگ مخنث کا مطلب نامرد سمجھنے لگے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے، پیدائشی نامرد ہونے سے جنس تبدیل نہیں ہوتی نہ ہی اگر کوئی مرد کسی بھی صورت سے خود کو نامرد بنا لے تو بھی جنس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، بلکہ خود کو نامرد بنانے والے پر اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعنت فرمائی ہےاور ان عورتوں پر بھی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ان جیسوں کو گھروں سے نکال دینے کا حکم بھی دیا ہے، بہت سے مخنث ایسے ہو سکتے ہیں جو جسمانی تعلق بناسکتے ہیں، ان میں سے وہ آپس میں شادیاں بھی کر سکتے ہیں جو ایک دوسرے کے لئے عورت یا مرد کے واضح مخالف جنسی اعضاء خصوصیات و رغبت رکھتے ہوں، اس مخنث سے کوئی عام عورت یا مرد بھی نکاح کر سکتا ہے جو مرد کے لئے زنانہ اور عورت کے لئے مردانہ واضح علامات رکھتا ہو، مخنثوں کے لئے چند ایک باتوں کو چھوڑ کر الگ سے کوئی اسلامی قوانین نہیں ہیں بلکہ ان پر عام طور پر احکام مرد یا عورت والے ہی نافذ ہوتے ہیں، اس کا تعین کیسے ہوگا کہ کس مخنث پر مرد کا حکم لگے گا اور کس پر عورت کا تو یہ جاننے سے قبل ان کے بارے میں دور نبوی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم میں کیا ہوتا تھا تھوڑا سا جان لیں تو بہتر ہوگا۔
مساجد میں نماز کی صف میں مردوں بچوں کے بعد مخنثوں کو کھڑا کیا جاتا تھا پھر خواتین کی صفیں ہوتی تھیں، امام ابن شہاب زہری کا قول ہےکہ مخنث کے پیچھے مجبوری میں نماز پڑھنا بھی جائز ہے، وہ مخنث جو اپنی مخنثانہ شناخت کے ساتھ رہتے تھے انہیں ہر وہ آزادی میسر تھی جو سب کو تھی ہاں اگر کوئی مخنث ظاہری شکل و صورت زنانہ رکھتا ہوتا اور خواتین سے وہ دلچسپی دکھائے جو ان سے مردوں کو ہوتی ہیں یا کوئی مخنث ظاہری شکل و صورت مردانہ رکھتا ہو لیکن وہ مردوں سے زنانگی کا اظہار کرے یا مردوں اور عورتوں کے درمیان ایک دوسرے کے اجسام کے بارے میں شہوت انگیز باتوں کا تبادلہ کرے تو اس پر قید لگائی جاتی تھی، چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مخنث کو اسی جرم میں مدینہ بدر کر دیا تھا، اس مخنث کا نام ہیت تھا جو عبداللہ بن ابی امیہ کو طائف کے کسی غیلان نامی شخص کی بیٹی کے جسم کے متعلق شہوت انگیز بات بتا رہا تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سن لیا تھا، کچھ نے لکھا ہے کہ وہ ماتع تھا، مخنث پہلے ازواج مطہرات کے پاس بھی آجاتے تھے مگر اجسام کے تعلق سے شہوت انگیز باتیں کرنے کی وجہ سے رسول اللہ نے انہیں آنے سے منع فرما دیا تھا، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مخنث لایا گیا جس نے اپنے ہاتھ پر مہندی لگا رکھی تھی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس کو کیا ہوا ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ شخص ظاہر میں مرد ہے پر اپنے رہن سہن بول چال اور طور طریقوں میں عورتوں کی مشابہت کرتا ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے شہر سے باہر نکال دینے کا حکم دیا اور اس کو مدینہ کی ایک جگہ نقیع بھیج دیا گیا، بعض روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شہر بدر کئے جانے والے وہی مخنث ہوتے تھے جو کسی نہ کسی صورت میں زنانہ ظاہری علامات کے حامل ہونے کے باوجود مردانہ جنس کی یا ظاہری مردانہ علامات کے باوجود زنانہ جنس کی مشابہت اختیار کرتے رغبت رکھتے اور اس کو ظاہر بھی کرتے تھے کیوں کہ ایک روایت میں ایک ظاہری زنانہ صفات کے حامل مخنث سے جنسی معاملات میں دلچسپی رکھنےکا اظہار ہونے کے بعد اسے پردہ کرنے کا حکم ہوا، اسی طرح ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اسی جرم میں ملوث ایک ظاہری مردانہ صفات رکھنے والے مخنث سے خواتین کو پردہ کرنے کا حکم دیا گیا، مخنث اگر غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ میں سے نہ ہویعنیٰ شہوانی جذبات سے خالی نہ ہو تو خواتین کو اس سے بھی پردہ کرنا ہوگا اسی طرح اگر کوئی مخنث ظاہری اعضاء کے مطابق عورت نما ہوگا تو اس پر بھی پردے کا وہی حکم ہوگا جو عام خواتین کو ہے۔
مخنث کا میراث میں بھی اسی طرح حق ہوتا ہے جس طرح عام بچوں کا ہوتا ہے، جابر بن زید تابعی فقیہ تھے اور حجاج انہیں بہت تنگ کرتا تھا گرچہ یہ بنوامیہ کے قریبی سمجھے جانے والے فقیہ تھے، حجاج نے ان سے مخنث کی میراث کے بارے سوال کیا؟ جابر نے کہا کہ تم مجھے تکلیف دیتے ہو اورفتویٰ بھی مانگتے ہو؟ پھر کہا کہ جہاں سے وہ پیشاب کرتا ہے وہاں سے اندازہ لگا کر اس کو وارث بنادو، قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ اگر (کسی مخنث کے مردانہ وزنانہ دونوں جنسی اعضاء ہوں اور وہ) دونوں جگہ سے پیشاب کرے توکیا حکم ہے؟ سعید بن مسیب نے کہا کہ جہاں سے پیشاب کرنے میں سبقت لے جائے گا وہاں کے مطابق وارث بنایا جائے گا، جبکہ جابر بن زید کہتے ہیں کہ مخنث کھڑا ہو کر دیوار کی طرف پیشاب کرے، اگر دیوار کو پیشاب لگ جائے تو اس پر لڑکے کے احکام و میراث لاگوں ہونے اور اگر اس کی رانوں کے درمیان سے پیشاب بہہ جائے تو لڑکی کے احکام و میراث نافذ ہوں گے، ایک روایت میں پڑھا تھا کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف تین مخنث تھے جن کے نام ماتع، ہدم، اور ہیت تھے، اس میں سے ہیت یا ماتع میں سے کسی ایک کو عہد نبوی میں شہر بدر کیا گیا تھا،اس کے علاوہ بھی شہر بدر کئے جانے والے مخنثوں کا ذکر موجود ہے، انہیں ہفتے میں ایک دن مدینہ آنے کی اجازت تھی اور وہ اپنی ضرورت کی اشیاء لینے شہر آتے تھے، عہد صدیقی میں دوسرے اور عہد فاروقی میں تیسرے کو بھی شہر بدر کردیا گیا تھا، انہیں ہفتے کے علاوہ عیدین پر بھی مدینہ آنے کی اجازت تھی، یہ سلسلہ عہد صدیقی و عہد فاروقی تک جاری رہا، ان تینوں کے علاوہ بھی کچھ مخنثوں کے نام مزید ملتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ان تینوں کے علاوہ اور بھی مخنث اس دور میں موجود تھے، میڈیکل ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس بات کا فیصلہ تو بہت آسانی سے اور واضح طور پر ہو سکتا ہے کہ کس مخنث پر مرد کا حکم لگے گا اور کس پر عورت کا مگر اس حکم کی بنیاد پر انہیں مخنث کے علاوہ مرد یا عورت تسلیم کیا جانا کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے، وہ مخنث جنہیں کچھ علاج اور محدود آپریشن کے ذریعہ مکمل مرد یا مکمل عورت بنایا جا سکتا ہے تو اس کی گنجائش ہے بصورت یہ کہ وہ مرد یا عورت میں سے اسی جنس کو اختیار کریں جو ان پر شرعی اعتبار سے لاگو ہو رہی ہوں، آپریشن کے ذریعہ جنس کی جنس مخالف میں تبدیلی چاہے کوئی مرد کرائے چاہے عورت کرائے یا ایسا مخنث کرائے جو مرد کے حکم میں ہے اور عورت کی جنس اختیار کرلے یا عورت کے حکم والا مخنث مرد کی جنس اختیار کرے یہ سارےاسی لعنت کے مستحق ہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں اور عورتوں پر کی ہے جو جنس مخالف کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، مخنثوں کی جزوی جنسی تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے نہ ہی ایسا کرانے والے کو کسی بھی قسم سے نشانہ بنانا درست ہے، اور ایسے مخنث جو اللہ کی رضا پر راضی رہیں گرچہ دنیا والوں سے انہیں پریشانی ہورہی ہے تو یقیناً وہ اللہ سے اجر حسنہ کے مستحق ضرور ہیں۔