عمر بن عبد العزیز وہ پہلے اور واحد اموی حکمران ہیں جنہوں نے 707ء میں ولید بن عبدالملک کے دباؤ کو خارج کرتے ہوئے مدینے کی گورنری اس شرط پر لی تھی کہ وہ اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح لوگوں پر ظلم اور زیادتی نہیں کریں گے،انہوں نے مدینہ کے بڑے فقہا کو جمع کرکے کہا کہ میں آپ لوگوں کی رائے مشورہ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرناچاہتا، آپ لوگ کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں یاکسی کو میرے عاملوں کے ظلم کا حال معلوم ہو تو میں خدا کی قسم دلا کر کہتا ہوں کہ وہ مجھ تک اس معاملہ کو ضرور پہنچائے،جس وقت ان کی خلافت کا اعلان ہو رہا تھا اس وقت ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّــآ اِلَـیْہِ رٰجِعُوْنَ‘‘ کی دو آوازیں بیک وقت سنی گئیں،ایک ہشام بن عبدالملک کے منہ سے جسے حکومت کھوجانے کا غم تھا، دوسرے عمر بن عبد العزیز کے منہ سے جنہیں حکومت مل جانے کا افسوس تھا،انہوں نے اعلان خلافت کے بعد کہا کہ لوگو! مجھے میری خواہش اورعام مسلمانوں کی رائے کے بغیر خلافت کی ذمہ داری میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے میری بیعت کا جوطوق تمہاری گردن پر ہے میں خود اسے اتارے دیتا ہوں، تم جسے چاہو اپنا خلیفہ بنا لو، لوگو! جس نے خدا کی اطاعت کی اس کی اطاعت انسان پر واجب ہے اورجس نے خدا کی نافرمانی کی اس کی فرمابرداری لوگوں پر ضروری نہیں،اگرمیں اللہ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت ضروری جانو اور اگر خدا کی نافرمانی کروں تو میری بات نہ مانو،انہوں نےخلیفہ بننے کے بعد کہا تھا کہ یہ تشویشناک ناک بات ہی تو ہے کہ اب مشرق سے مغرب تک امت محمدیہ کا کوئی فرد ایسا نہیں ہے جس کا مجھ پر حق نہ ہو اور بغیر مطالبہ و اطلاع اس کا ادا کرنا مجھ پر فرض نہ ہو۔
عمربن عبدالعزیز اموی عالم اسلام کے واحدایسے حکمران ہیں جنہوں نے باغ فدک اہل بیت کو واپس کردیا تھا، منبر و محراب سے علی علیہ السلام کو لعن طعن کرنے پر پابندی لگادی تھی اور نہ ماننے پر سزادیتے تھے، یزید کو درست کہنے یا اس کی مدح سرائی کرنے والوں کو کوڑے لگواتے تھے،عمر بن عبدالعزیز وہ واحد عادل اموی حکمران ہیں جنہوں نے وہ ساری زمین و جائیداد ان کے مالکان کو واپس کرادی تھیں جنہیں اموی حکمرانوں نے ان کے حقیقی مالکان سے زور زبردستی چھین لیا تھا، اس حکم پر عملدرآمد کے لئے انہوں نے اپنی ساری جائیداد پہلے ہی بیت المال میں جمع کرادی تھی، رسول اللہ ؐ کے فوراً بعد سے احادیث کی کتابت اور محفوظ کرنے پرلگی پابندی کا خاتمہ کرنا،مسلمانوں سے خراج اور نومسلموں سے جزیہ لینے کے جابرانہ اموی قوانین پرروک لگانا اورخوارج کو مذاکرات کے ذریعہ خونریزی سے دست برداری اختیار کرنے پر مجبور کرنا عمر بن عبدالعزیز کا زریں کارنامہ ہے،امام باقرؑ کا دور امامت اور عمربن عبد العزیز کا دورحکومت ساتھ ساتھ ہے،اہل تشیع کے یہاں بھی ان کے درمیان بہترین رابطوں کا ذکر ملتا ہے،اور یہ بھی کہ امام باقرؑعمربن عبد العزیز کی خیرخواہی میں انہیں نصیحت فرماتے اور ظلم و ستم کے انجام سے متنبہ کرتے رہتے تھے،شیعہ روایات کے مطابق امام باقرؑ عمر بن عبدالعزیز کو ان کے عدل و انصاف اور زرّیں کارناموں کی وجہ سے "نجیب بنوامیہ" کے لقب سے یاد فرماتے تھے،نجیب کا معنیٰ مدبّر شریف بزرگ فیاض وغیرہ ہوتا ہے، یا ایسا شخص بھی مراد ہے جس کے ماں باپ اس کی وجہ سے قابل فخر واحترام ہوجائیں۔
چونکہ عمربن عبدالعزیزنے عہد فاروقی کو نمونہ بنایا تھا اس لئے بنوامیہ کی لوٹ کھسوٹ اور ظلم تشدد پر لگام لگ گئی تھی،انہیں ان کی جابرانہ طرز حکمرانی کا خاتمہ نظر آنے لگا تھا، اس لئے وہ ان کے بھی خلاف ہوگئےتھے،ان کے اندازِ حکمرانی کی وجہ سے بنوامیہ کو شدید خطرہ لاحق ہوا کہ وہ اپنے بعد ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرح کہیں کسی غیربنوامیہ کو اپنے بعد جانشین مقرر نہ کردیں اس لئے وہ ان کے جانی دشمن بن گئے،افسوس کہ انہیں خود بنوامیہ نے ہی 720ء میں زہر دلا کر صرف 39/سال کی عمر میں شہیدکرادیا، آپ نے شہادت سے قبل ہی اپنے قاتل غدار غلام کو آزاد کردیا اور اس کو قتل کے بدلے دی گئی رقم کوضبط کرکے بیت المال میں جمع کرادیا تھا، بنوامیہ کے دور میں حضرت عمر بن عبد العزیز کی خلافت کے ڈھائی سال عالم اسلام کے لئے تاریکی میں روشنی کی حیثیت رکھتے ہیں،آپ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں بڑے مسلم فرقوں میں یکساں محترم ہیں، انہوں نے اس قلیل مدت میں ہی بہ یک وقت عہد صدیقی و فاروقی کی یاد تازہ کردی تھی۔
حجر بنعدیؓ کے بعد عمر بن عبدالعزیز کی قبر کی توہین کی گئی، یہ حرکتیں یہود و نصارٰی نواز خوارج اور روافض کے علاوہ کسی دوسرے کی ہرگز نہیں ہوسکتیں، کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ یہ دونوں علی اور آل علی سے محبت کرنےوالے تھے اور ان کا خاتمہ بھی اسی پر ہوا تھا، اگر کوئی صحابہ کی عظمت کوملحوظ نہ رکھتا ہو تو وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ عمر بن عبد العزیز عالم اسلام کی سب سے محتر م شخصیت ہیں کیونکہ انہوں نے ان سارے بڑے مسائل کا خاتمہ کر دیا تھا جن کی وجہ سے رسول اللہ ؐ کے فوراً بعد سے ہی عالم اسلام دو گروہوں میں بنٹا ہوا تھا،ان کے بعد سلطنت بنوامیہ زوال کا شکار ہوئی جسے کوئی نہیں روک سکا اور 30/سال کے قلیل عرصے میں اس کا خاتمہ ہوگیا، یہی حقیقت ہے کہ کفر و نفاق اور دجل و فریب کے مقابلے میں ایک بار پھر دنیا بھر کے حقیقی سنی اور شیعہ قریب آرہے ہیں جیسا کہ ان کے دور میں آئے تھے،مسلمانوں میں ڈیموکریسی یا شورائی نظام یعنیٰ مذہبی اصطلاح میں احیاء خلافت کے لئے کوشاں حق سے قریب ترین جماعتیں (گو کہ دجالی ایجنٹوں اورمنافقوں کی سازشوں کی وجہ سےنامساعدحالات میں آپس میں لڑی بھی ہیں پر) حتیٰ کہ عالمی دہشت گرد کہی جانے والی کچھ تنظیمیں بھی اپنے آغاز سے ہی یہود ونصاریٰ اور کفارکے بجائے سنی شیعہ اتحاد کی علم بردار ہیں پر عالمی دجالی قوتوں اوران کے حواریوں کے واویلوں اور فتنہ پروری کو نہ سمجھ پانے نیز پاگل تکفیری مفت کے مفتیوں (جن کا آغاز 1765ءسےہوا اورانہوں نے اسلامی تاریخ میں پہلی بار مسلمان کا خون مسلمانوں پر حلال سمجھ کر بہانا باعث ثوب قرار دیا پھر یہ 1924ء میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد یہود و نصاریٰ کی مدد سے جزیرۃ العرب میں قوت میں آئے اور اب بھی ہیں) کے کفرو شرک کے فتوؤں اور ان کے زیر اثر طبقے کی وجہ سے عام مسلمانوں تک ان کی آوازیں پہنچتے پہنچتے بے اثر ہوجاتی ہیں۔
اب عام مسلمانوں کو یہ بات اختیار کرنا ہی ہوگی کہ وہ امت مسلمہ میں تناؤ بڑھانے اور پھوٹ ڈالنے والے ہرواقعے کو صبر وتحمل اورہوشمندی سے سمجھنے کی کوشش کریں، یہ واقعہ عالم اسلام کو متحد نہ ہونے دینے کی بھیانک دجّالی سازشوں کا فقط ایک حصہ ہے، مزید ایسے واقعات ضرور ہونگے اوراگر امت مسلمہ الجھی تو اس طرح کے معاملات زورپکڑیں گے، جذباتی بالکل نہ ہوں اور یاد رکھیں کہ مشرق وسطیٰ میں گوریلا جنگ ہورہی ہے اور جنگجوؤں پر کسی کا بھی کنٹرول نہیں ہے نہ ہوسکتا ہے، چاہے جتنی ہی بڑی منظم فوج گوریلا جنگ کیوں نہ کرا رہی ہو، اس صورت حال میں تخریب کاروں کو آسانی ہوتی ہے، پاپائیت زدہ مولویوں سے مجھے تو کوئی امید نہیں کیونکہ وہ اس معاملے میں بنا سوچے سمجھے اتنی زور شور سے آگ اگل رہے ہیں جس کا ایک فیصد بھی حجر بن عدی کے معاملے میں نہیں دیکھنے کو ملا تھا، وجہ صرف اتنی تھی کہ حجر بن عدی علی کرم اللہ وجہ کے حمایتی تھے اور اسی جرم میں شہید کئے گئے تھے اور ان کی قبر کی توہین کرنے والے داعشی تھے جو آغاز میں خود کو شافعی مسلک کا کہتے اور ائمہ اربعہ کے نام کی مالا جپتے تھے کچھ لوگ انہیں اہل حدیث یا سلفی تحریک سے وابستہ قرار دیتے ہیں جبکہ میری تحقیق میں یہ بات درست نہیں نکلی اور اب تو ان کی مکمل قلعی کھل گئی ہے کہ یہ کسی کے بھی نہیں ہیں، اس بار عمربن عبدالعزیز کی قبر کی توہین کی گئی اور یہ ابھی تک صاف نہیں کہ ایسا کرنے والے کون ہیں اور ان کے کیا مقاصد ہیں، پر جو بھی ہیں بھیانک ہیں کیونکہ عمر بن عبدالعزیز بنا تفریق مسلک و فرقہ سارے مسلمانوں کے لئے قابل احترام ہیں، عام مسلمان طے کر لے کہ اب انہیں کسی کے بھڑکاوے جذباتی باتوں اور کفر وشرک کے فتوؤں کے چکر میں آکر مزید استعمال ہرگز نہیں ہونا، امت کا بہت قیمتی لہو بہہ چکا ہے، اب ایک قطرہ بھی فالتو بہے یہ ہمیں ہرگز گوارہ نہیں، علامہ اقبال نے آپس میں لڑائیوں کو پختہ کرنے اور چھوٹے چھوٹے مسائل میں امت کو الجھائے رکھنے والے ایسے ہی ملاؤں کے بارے میں کہا ہے کہ