شام عراق کابڑاحصہ فتح ہوچکاتھا،جنگ یرموک 635ء میں شکست کے بعد قیصر روم اور قادسیہ 636ء ہارنے کے بعد کسریٰ ایران دونوں کی کمریں ٹوٹ چکی تھیں،637ء میں بیت المقدس بھی فتح ہوچکا تھااور مجاہدین اسلام انتظامی امور بحال کرتے ہوئےآگے اڑان بھرنے کو پرتول رہے تھے کہ اچانک 639ء میں اس وقت کےشام کےعلاقےکی ایک بستی عمواس (جس نام کی بستی اب بیت المقدس اور رملہ کے بیچ واقع ہے) سے طاعون کی وبا پھوٹ پڑی جو کئی ماہ انتہائی شدت سے پھیلتی گئی، یہاں اسلامی افواج کا بڑا ملیٹری بیس تھا، امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروقؓ کو فوج کےنقصانات کی اطلاع ملی تو بہ ذات خود تدبیر اور راحت بچاؤ کے کام کے لئے شام روانہ ہوئے، مقام سرغ میں حضرت ابوعبیدہؓ سے ملاقات ہوئی، عمرؓ نے وہاں موجود مہاجرین وانصار کی اہم شخصیات کو بلایا اور مشورہ کیا، مختلف رائیں آئیں، کچھ نے کہا کہ"امیرالمؤمنین کا یہاں ٹہرنا مناسب نہیں" آپ نے حضرت عباسؓ کو حکم دیا کہ وہ اعلان کردیں کہ کل مدینہ واپسی کا کوچ ہے۔
حضرت ابوعبیدہؓ تقدیر کے مسئلے پر انتہائی سخت تھے اس لئے طیش میں آگئے، امیرالمؤمنین سےجارحانہ انداز میں مخاطب ہوئے اورکہنے لگے: اے عمر تقدیر الٰہی سے بھاگتے ہو! حضرت عمرؓ نے ان کی سخت بات کو بہت ہی اطمینان کے ساتھ ایسے لیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور کہا: ہاں! تقدیر الٰہی سے بھاگتا ہوں مگربھاگتا بھی تقدیرالٰہی کی طرف ہوں، عبدالرحمن بن عوفؓ مشورے میں نہیں تھے، کسی ضروری کام سےکہیں گئے تھے، خبر ملتے ہی وہاں پہنچ گئے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہؐ سے سنا ہے کہ جب تم کسی مقام پر وباء کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور وباء کسی ایسے مقام پر آجائے جہاں پہلے سے تم موجود ہو تو وہاں سے فرار ہوتے ہوئے مت نکلو، تب جا کر بات ختم ہوئی۔
حضرت عمرؓ مدینے آگئے اورامین الامت آرمی چیف امیر شام حضرت ابوعبیدہؓ بن جراح کو پیغام بھیجا کہ خط ملتے ہی مدینے آجاؤ تم سے کچھ انتہائی اہم کام ہے،روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ عمرؓ انہیں اپنے بعد خلیفہ نامزد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور وبا سے بچانا چاہ رہے تھے جس کا اظہار انہوں نے اپنی شہادت سے قبل بھی کیاتھا،انہوں نے امیرالمؤمنین کو جواب بھیجا کہ جو کچھ تقدیر میں ہے وہی ہوگا،میں مرتے ہوئے مسلمانوں کو چھوڑ کر صرف اپنی جان بچانے کے لئے یہاں سے ہرگز ہلنے والا نہیں ہوں،حضرت عمرؓ ان کا خط پڑھ کر رونے لگے اور انہیں لکھا کہ فوج جہاں مقیم ہے وہ نشیبی جگہ ہے، کسی اچھی جگہ کا انتخاب کرکے وہاں منتقل ہوجاؤ، ابوعبیدہؓ نے فوج سے خطاب کیا اور وباء کو رحمت کہا پھرخلیفہ کا حکم مانتے ہوئے جابیہ میں پڑاؤ ڈال دیا، یہ جگہ صاف ستھری آب و ہوا کے لئے مشہور تھی، طاعون نے انہیں بھی چپیٹ میں لے لیا اور یہیں پر وہ معاذ بن جبلؓ کوجانشین بناکر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
بیماری زوروں پر تھی، فوج اور لوگوں میں بری طرح انتشار پھیلا ہوا تھا، قیصر وکسریٰ جیسی وقت کی دو سپرپاوروں کا غرور خاک میں ملانے والا لشکرمر رہا تھا،متاثرلوگ دو حصوں میں بٹ گئے تھے، کچھ اسے عذاب تو کچھ رحمت قرار دے رہے تھے،خوف کا یہ عالم تھا کہ غیر متاثرہ علاقوں میں جھڑپوں پر قناعت کرتے ہوئے قیصر اور کسریٰ نے بھی بڑےجوابی حملوں کا منصوبہ ترک کردیا تھا،دوست دشمن سب اپنی اپنی جگہ جم گئے تھے،حضرت عمرو بن العاص نے لوگوں سے کہنا شروع کردیا کہ یہاں سے بھاگ چلویہ وباء ویسی ہی ہے جیسی بنی اسرائیل پر نازل کی گئی تھی(یعنیٰ عذاب الہی ہے)، حضرت معاذؓ کو پتہ چلا تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا کہ یہ وباء بلا نہیں بلکہ خدا کی رحمت ہے، ان کے بیٹے بیمار ہوئے اور وفات پائی پھر حضرت معاذؓ خود بھی بیمار ہوگئے اور عمرو بن العاص کو جانشین مقرر کرکے انتقال فرماگئے، مذہبی عقائد کا نشہ بھی عجیب ہوتا ہے، تقدیر پرایمان کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ قیصروکسریٰ کو گھٹنوں بیٹھادینے والے لوگ مر رہے ہیں، بڑے بڑے صحابہ اکرام وباء سےشہید ہورہے ہیں، مگر بچاؤ کی کوئی تدبیراختیار نہیں کر رہے بلکہ اسے رحمت الہی کہہ رہے ہیں، نتیجہ یہ ہوا کہ آدھی دنیا کو فتح کرنے کی طاقت رکھنے والا اسلامی لشکرمفلوج ہوگیا۔
حضرت عمرو بن العاص تقدیر کے ساتھ تدبیر کے بھی قائل تھے، اس لئے جب ان کے ہاتھ کمان آئی توانہوں نے عام خطاب کیا اور کہا کہ اس قسم کی وباء جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی جاتی ہے، جس طرح جنگل کی لکڑی ایک دوسرے سے قریب ہونے پر جل جاتی ہے اسی طرح وباء انسانوں کو لپیٹ میں لیتی جاتی ہے، اس لئے سب لوگ نشیبی علاقے چھوڑ کر پہاڑوں کی بلندی پر چلواورمنتشر ہوجاؤ، یہ تجویز انہوں نے اس لئے رکھی کہ اونچائی کی وجہ سےپہاڑوں پر ہوا کا دباؤ کم ہوتا ہے اور وہاں کا فطری ماحول وبائی امراض (جراثیم) پھیلنے کی رفتار میں رکاوٹ ڈالتا ہے، ان کی بات ابوعبیدہؓ اور معاذؓ کے عمل کے خلاف تھی لہذا بہت سےصحابہ اکرام کو پسند نہیں آئی یہاں تک کہ ایک بزرگ صحابی نے اعلانیہ کہنا شروع کردیاکہ"عمرو تو جھوٹ بولتا ہے" مگر انہوں نے کسی کی نہ سنی اور فوج عمرو کے حکم کے مطابق پہاڑوں پر چڑھ کر پھیل گئی، وباء کا زور ٹوٹ گیا اور دھیرے دھیرے یہ ختم ہوگئی جو شام عراق اور مصر تک پھیل گئی تھی، مگر یہ تدبیر اختیار کرنے میں اتنا وقت لگ گیا کہ یزید بن سفیان، حارث بن ہشام، سہیل بن عمر، عتبہ بن سہیل جیسے اہم اوراعلیٰ درجے کے کمانڈروں اور صحابہ سمیت تقریباً پچیس ہزار مجاہدین شہید ہوگئے، جبکہ اس سے زیادہ تعداد میں عام لوگوں کی اموات ہوئیں، روایات میں کل اموات کی تعداد پچاس ہزارسے زائد تک بھی ملتی ہیں اس میں مسلم عیسائی سبھی شامل تھے، علامہ شبلی نعمانیؒ عمرو بن العاص کی تدبیر کی مناسبت سے لکھتے ہیں کہ ان پر مذہب کا نشہ کم تھا، جسے میں اس طرح کہتا ہوں کہ انہوں نے مذہب اور عقل دونوں نگاہ سے برابر دیکھ کر یہ قدم اٹھایا تھا، نہ متاثرہ علاقوں سے نکلے نہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔
آج ہم چین کے ووہان شہر سے پھیلےکرونا وائرس کی وجہ سے جن حالات کا شکار ہیں اس سے سبھی واقف ہیں،اس پر کچھ لکھنا مضمون کو صرف طویل کرنا ہے،عمواس طاعون کے اس پورے واقعے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تقدیر توکل اور تدبیر کے معاملے میں اختلاف رائے رکھنے والے حضرات ایک دوسرے کا احترام رکھیں اور اپنے اپنے علاقائی وسائل اور ماحول کے مطابق ماہرین و ڈاکٹروں کی صلاح سے بچاؤ کی تدابیر بھی اختیار کریں،خوف وہراس نا پھیلائیں بلکہ حوصلہ مضبوط کرنے والی ایسی بات کریں جو جھوٹی نہ ہوں، ہرقسم کے اجتماعات سے بچیں جب تک وائرس کا پھیلاؤ قابو میں نہیں آتا،اکھٹا ہونے کے بجائے پھیل کر دور دور رہیں،حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہؓ کوتلخ جملہ کہنے کے بعد بھی کچھ برا نہیں کہا نہ ہی حضرت معاذؓ نے حضرت عمرو بن العاص کوکچھ کہا بلکہ انہوں نے تو اختلاف رائے کے باوجود بھی اپنے بعد عمرو بن العاص کو اپنا جانشین بنادیا، کچھ مورخین یہ بھی لکھتے ہیں کہ عمواس طاعون سے قبل وہاں کے مسلمانوں میں شراب کا رواج چل پڑا تھا، کچھ لوگ مختلف حیلے بہانے شراب نوشی کا جواز ڈھونڈھنے لگے تھے، حضرت ابوعبیدہؓ نے انہیں سمجھایا مگر وہ نہیں مانے، انہوں نے امیرالمؤمنین کو صورتحال سے آگاہ کیا، حضرت عمرؓ نے صحابہ سے رائے لینے کے بعدفرمان جاری کیا کہ جو شراب کو حرام سمجھ کےاستعمال کرے اس پر حد جاری کی جائے اور جو حلال قرار دے کر کرےاسے قتل کر دیا جائے،حضرت ابوعبیدہؓ نے اس پر عمل کیا، قتل تو کوئی نہ ہوا ہاں سب نے توبہ کرلی، ابوعبیدہؓ نے انہیں ڈرایا تھا کہ اگر تم نہ سدھرے توکہیں اللہ تم پر عذاب نازل نہ کردے،اس کو بنیاد بنا کر کچھ مورخین کہتے ہیں کہ انہوں نے بدعا کردی تھی،جبکہ یہ درست نہیں،ابوعبیدہؓ انتہائی رقیق القلب اور رحم دل تھے، چند نادان مسلمانوں کی وجہ سے سب کو بددعا دینے کی بات ان پر الزام ہی لگتی ہے،ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ مسلمان تو شہداء کو دفن کردیتے تھے مگرجنگوں میں بے شمار رومی افواج قتل ہوئی تھی جن میں سے اکثرکی لاشیں کھلے میدانوں میں سڑ گل رہی تھیں جس سے یہ وباء پھیلی تھی،اس لئے خود کی اور اپنے آس پاس صاف صفائی رکھیں اور برائی سے بچیں،توبہ استغفار اور انفرادی عبادات کا اہتمام کریں،مساجد میں بھی غیرضروری بھیڑ نہ اکھٹا ہونے دیں، کرنا ہوتوگھروں میں صرف اہل خانہ کے ساتھ اجتماعی عبادات کریں،غیر مسلم حضرات کو بھی ان کے مذہبی عقائد کے مطابق عبادات اور دعا کے اہتمام کی ترغیب دیں، یہ المیہ پوری نسل انسانی کا ہے، کسی خاص مذہب، مسلک، فرقے، ملک یا خطے کا ہرگز نہیں ہے، احتیاطی تدابیر نہ اختیار کریں گے تو یہ سبھی کو چپیٹ میں لے لے گا، کسی کو نہ چھوڑے گا، اللہ ہمیں ہر قسم کی مصیبتوں سے محفوظ رکھے۔ آمین