آریہ سناتن یا اہل ہنود میں آدمؑ اور حواؑ کا کوئی مضبوط نظریہ نہیں ہے، انہوں نے آدم کے تذکرے کو بھلا دیا ہے اور آدم ثانی منو یعنیٰ نوحؑ کو آدمؑ سمجھ بیٹھے ہیں، یعنیٰ انہوں نے آدم و نوح کی شخصیت کو گڈمڈ کر دیا ہے، ان کے یہاں جس منو کا ذکر ملتا ہے ان کے دور میں مہا جل پلاون یعنیٰ ایک عظیم سیلاب آیا تھا اور اس میں ساری دنیا غرق ہونے کے بعد نسل انسانی دوبارہ منو اور ان کی بیوی ست روپا سے چلی تھی، منو کے ساتھ کشتی میں بچ جانے والے کچھ لوگ اور بھی تھے جن کی تعداد مختلف بیان ہوئی ہے، یہ بھی کہ منو کی کشتی کو وشنو بھگوان کھے رہے تھے، وشنو کا ترجمہ اگر عربی میں کیا جائے تو یہ اللہ کی صفت قہار ہوتا ہے، میں اپنی ذاتی تحقیق و مطالعے کی بنیاد پر یہ سمجھتا ہوں کہ آریہ مذہب کے ماننے والے اہل کتاب اور نوحؑ کی قوم ہیں، یہ قوم اپنے نبی کو بھلا بیٹھی ہے، احادیث میں بھی ایک ایسی قوم کا ذکرملتا ہے جو محشر کے دن اپنے نبی کے بغیر ہوگی اور نوحؑ کو جب اس قوم کے پاس لایا جائے گا تو وہ اس بات کا انکار کر دیں گے کہ نوحؑ نے انہیں دین پہنچایا ہے،اللہ تبارک وتعالیٰ نوحؑ اور اس قوم سے اپنے اپنے گواہ پیش کرنے کو کہے گا، پھر نوحؑ اپنی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بنائیں گے اور وہ قوم امت محمدیہ کو اپنی طرف سے بہ طورگواہ پیش کرے گی، اس طرح یہ مقدمہ حل ہوگا اور اس قوم کو جنت میں داخل کیا جائے گا، یہ وہ لوگ ہونگے جن تک کوئی نبی نہ پہنچا ہوگااورانہوں نے امت محمدیہ کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا ہوگا، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میرا ماننا ہے کہ نوحؑ کے بعد سے آریوں سناتنیوں یا ہندوں میں آج تک کوئی نبی نہیں بھیجا گیا ہے ہاں مجددین و مصلحین پیدا ہوتے رہے ہیں، یہ بھی واضح رہے کہ یہ قوم بھی دیگر تمام اہل کتاب کی طرح آخری نجات دہندہ کی منتظر ہے جسے وہ کلک اوتار کہتے ہیں، اور اس کے بعد ان کے یہاں بھی ست یگ کے آغاز کا عقیدہ موجود ہے، اترپردیش کے تو کچھ علاقوں میں کلک اوتار کے نام پر پوجا پاٹھ بھی شروع ہو چکی ہے، دہلی میں کلک اوتار سے جڑی باتوں کے پرچار پرسار کا کام بھی ہورہا ہے،سمبھل میں ان کے نام کا مندر بھی بن چکا ہے اور اس سرگرمی میں شامل کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ کالکی اوتار جنم لے چکے ہیں اور پرکٹ ہونے کا وقت نزدیک ہے اور کچھ یہ مانتے ہیں کہ ان کا جنم لینے کا وقت قریب ہے، کلک واٹیکا نامی ایک گروہ اترپردیش میں سرگرم ہے جس کا دعویٰ ہے کہ باطنی دنیا میں کلک اوتارکے زمین پر آنے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور وہ اپنے بھکتوں کو سوتے جاگتے اور مختلف ذرائع سے نردیش دے رہے ہیں بس ان کا ظاہر ہونا باقی ہے، والد محترم ڈاکٹر سید ہارون حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے ایک دلچسپ بات بتائی تھی کہ کلک اوتار کے پرکٹ ہونے سے قبل ہندوستان میں تین باتیں ہونگیں، پہلی بات ستی پرتھا کا خاتمہ جو کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے دور میں ہو چکا دوسری بات تین طلاق کا خاتمہ جس پر پابندی ابھی حال ہی میں نریند مودی حکومت میں لگائی گئی ہے، تیسری بات جہیز کا خاتمہ اور یہ بھی بتایا تھا کہ جب جہیز پر پابندی لگائی جائے گی تو تمام ملک میں اہل ہنودڈھول تاشے کے ساتھ جہیز کاعلامتی جنازہ نکالیں گے اور دریاؤں میں بہائیں گے یا دفن کریں گے اور اسی درمیان پاکستان میں مسلمانوں کے کسی بہت بڑے عالم کا انتقال ہوگا اور اسی کے ساتھ بر صغیر میں مسلمانوں کے ایک بڑے فرقے کا خاتمہ ہوجائے گا اس عالم کی موت کا غم پورے بر صغیر کا مسلمان منائے گا، اس کے بعدکیا ہوگا؟ انہوں نے اور بھی دلچسپ باتیں بتائی ہیں پر آج اتنا ہی، بس میں تو یہ سوچتا ہوں کہ ان کی بتائی تیسری بات میری زندگی میں پوری ہوسکےگی؟