🤔جذباتی بلیک میلر ملالہ یوسف زئی اور پاکستان کا سیاسی مستقبل!
✍️ سلمان فاروق حسینی
پورے ملک کو ایک بار پھرایموشنل بلیک میل کرنے کی شروعات ہوچکی ہے،پاکستانیوں کو ملالہ کے ذریعہ بے وقوف بنائے جانے کا آغاز کردیا گیاہے،جس طرح سے اسے معروف ومشہور کیا گیا ہے اس کے پیچھےلمبی پلانگ پہلے سے ہی دیکھ رہی تھی۔
اس سے پہلے بے نظیر کا قتل کرواکر اس پورے ملک کو بلیک میل کیا گیا اورپیپلس پارٹی کوجذباتی تعاون دلا کر زرداری کو مسلط کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت اسلام پسند وہاں اس حد تک غالب آ رہے تھےکہ پیپلس پارٹی کو جتوانا بے نظیر کے رہتے ہوئے بھی ناممکن لگنے لگا تھا اور اگر بے نظیر جیت بھی جاتی تو وہ چالاک عورت تھی،اسلام پسندوں کی مخالف قوتوں کواس پر قابو پانا آسان نہیں تھا کیونکہ وہ سرپھری وسرکش تھی،اور پیپلس پارٹی کے علاوہ اس وقت مغرب پسندوں کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا، بلاول نےاپنی پارٹی کو اٹھانے کی سرتوڑ کوششیں کیں مگروہ فی الحال پاکستان کے پپو(راہل گاندھی) بن گئے ہیں۔
ادھ گدرے آدھا تیتر آدھا بٹیراسلام پسند سبکدوش وزیراعظم نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) کو کافی بدنام کیا جا چکا ہے، پیپلس پارٹی کی کمر توڑی جا چکی ہے،عمران خان کو بہت اٹھانے کی کوشش کی گئی مگر وفاقی حکومت کے لئے وہ کاغذی ثابت ہوئے اورصرف خیبر پختونخواہ میں ہی اثرانداز کئے جاسک،اس بار اگر وہ جیت بھی جاتے ہیں تو اسلام پسندوں کے مخالف ان سے کوئی زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ وہ مغرب پرستوں کی نس نس سے واقف ہیں اور ان کے لئے خطرہ بھی بن سکتے ہیں ہاں اگر انہیں نکیل لگا دی گئی ہوگی تو انہیں ہی اٹھایا جائے گا یا قتل کرکے تحریک انصاف کو پیپلس پارٹی کی طرح مسلط کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے بعد تحریک انصاف میں زرداری جیسوں کی جگہ پکی ہے۔
اس بارایک بار پھر وہاں کی فضا اسلام پسندوں کے حق میں بنتی جارہی ہےمگر اسلام پسندوں فضل الرحمٰن کی جمیعت علمائے اسلام پاکستان اور قاضی حسین احمد کے انتقال کے بعد سے لگاتار زوال کا شکارسراج الحق کی زیرقیادت جماعت اسلامی ایک دوسرے کا ووٹ کاٹیں گیں،اسلام پسندوں کو فکری طور پر گمراہ کرنے کے لئے علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں تحریک لیبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نامی سیاسی تنظیم سمیت کئی چھوٹی جماعتوں کو بھی میدان میں اتار دیا گیا ہے جو ان دونوں کا بے پناھ ووٹ کاٹیں گیں،طاہرالقادری صاحب ابھی خوابوں میں سیاست کی روحانی تربیت لے رہے ہیں کیونکہ ان کی روحانی تربیت مختلف جگہوں سے ہوتی رہتی ہے اس لئے ان کا کوئی بھروسہ نہیں کہ انہیں کیا روحانی ہدایات ملتی ہیں ہاں مگر یہ طے ہے کہ کچھ نہ کچھ ووٹ وہ بھی ضرور کاٹیں گے کیونکہ اسلام پسند ہونے کے باوجود بھی نفاق ان سب کو ایک ہونے نہیں دےگا۔
الطاف حسین کی متحدہ قومی مؤمنٹ (ایم کیو ایم) کوکراچی کا قاتل بناکرحکومت کی سرپرستی میں پٹوا دیا گیا ہے اس لئے یہ فی الحال کسی قابل نہیں بچی ہے،اب ملالہ کو اس کے مغربی آقاؤں نے کس پارٹی کے لئے چنا ہے یا اس کے مستقبل کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کا اندازہ لگانا ابھی تھوڑا مشکل ہے،لگتا ہے اب پرویز مشرف کی مسلم لیگ (ق) جوکہ کئی چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا متحدہ محاذ بن چکی ہے کو ملالہ کے ذریعہ چاہے جیسے بھی ہو اٹھایا جاسکتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ ملالہ پاکستانیوں کو جذباتی بلیک میل کرنے میں کامیاب ہوکر سیاست میں کس طرح اترتی اور اسلام پسندوں کوکس طرح روک پاتی ہے یا اپنی قربانی دے کرمغرب پسندوں کی نظر میں دونوں جہان کی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی واقوامتحدہ کے زیرنگرانی دنیا کے کس بابرکت چوراہے یا یادگاری جگہ پر اپنا مجسمہ لگواکراپنے آقاؤں کے کن کن مقاصد کو مستفید فرماتی ہے۔
سب کچھ عیاں ہے مگر افسوس کہ اسلامی دنیا میں اکثریت نسیان زدہ دانشوروں وصحافیوں اور احمقوں کی رہ گئی ہے۔