فقہی مسلکی ونظریاتی بحثوں میں الجھنے کا وقت نہیں ہے(وہ بعد میں ہوتا رہے گا) اس لئے سیدھا کہتا ہوں کہ مسلمان کے لئے پوری دنیا کی پاک صاف زمین مسجد ہے، وبائی مرض کرونا کیوجہ سے دنیا بھر میں جہاں جہاں پابندیاں ہیں وہاں پر مسجدوں میں ہی جمعہ یا پانچوں وقت اذان جماعت پر متشدد نہ ہوں، جو لوگ مساجدنہیں پہنچ سکتے وہ گھر وں ہی میں بنا مائک کے استعمال کے بہ آواز بلند پنج وقتہ اذان دیں، حی علی الصلوٰۃ کی جگہ "الصلوٰۃ فی رحال" یا " الصلوٰۃ فی رحالکم" یا پھر"الصلوٰۃ فی بیوتکم" ضرورکہیں، یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہم ایسا عارضی طور پر کر رہے ہیں،اس کی روایات بخاری،مسلم،ابوداؤد سمیت بہت سی کتب احادیث میں درج ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اذان میں یہ الفاظ جمعہ کی جماعت کو ظہر کی طرح گھر میں پڑھنے کے لئے بھی کہلوائے تھے، پھر اس کے بعد "حی علی الفلاح" کہیں، موجودہ صوت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر برائی سے بچنے و اچھائی کو اختیار کرنے کا پیغام عام کرنے کے لئے "حی علی الفلاح "کی جگہ عارضی طور پر " حی علی خیرالعمل" بھی کہا جاسکتا ہے، بس اس معاملے میں جھگڑیں نہیں جو نہ چاہے نہ کہے، مؤطامحمد، ابن شیبہ اورطبرانی وغیرہ میں اس کی روایتیں ملتی ہیں، باقی اذان اپنے اپنے مسلک کے مطابق دیں، اس عمل سے انشاء اللہ جتنے مسلمانوں کے گھر ہیں اتنی عارضی مسجدیں بن جائیں گیں، اس سے ان اسلام مخالف اور نفاق زدہ لوگوں پر ہیبت طاری ہو گی جو مساجد کے بند ہونے پر خوش ہیں اوراب بات بات پر بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، فتنہ پروروں کی کمر ٹوٹے گی اورہر ایمان والے ان دلوں کو چین سکون ملے گا جو حقیقی نمازی اور غمزدہ ہیں، مصیبت میں اذان والا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا، حالات اعتدال پر آتے ہی یہ عمل موقوف کردیا جائے۔
اذان بعد گھر کے سارے مرد عورت بوڑھے بچے گھر میں ہی جماعت سے نماز ادا کریں، گھر کا سب سے اچھا قرآن پڑھنے والا مرد امامت کرے بالغ موجود نہ ہو یا امامت نہ کرسکتا ہوتو سمجھدار بچے سے امامت کروائیں، جگہ و تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلی صف میں مرد کھڑے ہوں جن کے دائیں بائیں یا پیچھے بچے پھراس کے پیچھےاسی طرح عورتیں صفیں بنائیں، نماز بعد دعا و استغفار کا اہتمام کریں، ظالم حکمرانوں کےراہ راست پر آنے یا ان سے نجات اور عادل قائدین کی سرپرستی حاصل ہونے کی خصوصی دعا التجاء کریں، جابرانہ و سرمایہ دارانہ نظام حکومت کی تباہ کاریوں کی اس سے بڑی زندہ مثال کیا ہوگی کہ چند ہزار سرمایہ دار اور ان کے زیراثر رہنے والے یا معاشی تعلق سےان کے قریب رہنے والےمرے تو پوری دنیا کو سیل کردیا گیا، ایسا کرنے والے وہی لوگ ہیں جن کے کانوں پر ذرہ برابر بھی جوں اس وقت نہیں رینگتی جب لاکھوں متوسط غریب مختلف عام قابل علاج امراض میں مر جاتے یا کسی بھی طریقے سے بے گناہ قیدوقتل کر دئیے جاتے ہیں، جب سارے وسائل اورٹیکنالوجی فیل ہوگئی تو کہہ رہے ہیں یہ مرض گندگی سے پھیلتا ہے مگراٹلی،اسپین، فرانس اور امریکہ سمیت دنیا کے ان شہروں میں اس کا قہر زیادہ ہے جنہیں صفائی ستھرائی میں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس لئے یہ عذاب الہی نہیں تو پھر کیا ہے؟
اب اس کا رخ نچلے طبقے کی طرف ہے، سوچیں اگر یہ بیماری غریبوں میں پھیل گئی توانجام بہت برا ہوگا جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے اس لئے محکمہ صحت اور ڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل کریں، ہمیں موجودہ حکمرانوں سے لاکھ اختلاف مگرایک وقت روکھا سوکھا کھانا پڑے تو کھا کر اس معاملے میں حکومتوں کا تعاون کریں اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو غذائی و طبی امداد ان کے گھروں تک پہنچانے کے لئے اپنے خزانے کھول دیں، کالا بازاری کرنے والوں پر سخت گرفت کریں ورنہ لوگ موقع ملتے ہی ان کو حکومتوں سے بےدخل کرکے چھوڑیں گے، لوگ ظاہری باطنی دونوں قسم کی اصلاح کریں، دلوں کو ایمان کے نور سے منور کرنے اور نفاق کی تطہیر کا اس سے سنہرا موقع پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گا،جو جس پالے میں ہے اسی میں رہ جائے گا، زکوۃ سے زیادہ عطیہ کلچر کو فروغ دیں، عطیہ کی رقم کسی بھی اختلاف کے بغیر بنا تفریق مذہب و مسلک نسل انسانی کی حفاظت اور ہر حیات کے تحفظ کے لئے بے دریغ خرچ کی جاسکتی ہے، ایسے حالات میں جمعہ ساقط ہو کر ظہر میں تبدیل ہو جائے گا، جمعہ کی بھی ضد نہ پکڑیں، آن لائن،انٹرنیٹ، ریڈیو، ٹی وی وغیرہ کے ذریعہ جماعت کا کوئی جواز نہیں، ایسے مشیروں سے بچیں، برصغیر کے یا ان جیسے ممالک میں اس وائرس والی وباء سے نپٹنے کا واحد حل لاک ڈاؤن ہی ہے،آسانی سے اس طرح سمجھیں اور یاد رکھیں کہ بیکٹیریا اور وائرس میں فرق ہوتا ہے، بیکٹیریا سیلس رکھتا ہے اس لئے اسے مارا جا سکتا ہے جبکہ وائرس میں سیلس نہیں ہوتے اس لئے یہ زندہ یا مردہ نہیں ہوتا، یہ ایکٹیویٹ اورڈی ایکٹیویٹ ہوتا ہے اس لئےاسے ختم نہیں جاسکتا، ویکسین بنتے بنتے یہ اپنی فطرت تبدیل کرلیتا ہے جس سے بنائی گئی ویکسین بے اثر ہوجاتی ہے،اسے صرف ڈی ایکٹیویٹ کرکے فضا میں روکا جا سکتا ہے پھر یہ کسی کام کا نہیں رہ جاتا،اس کے ڈی ایکٹیویٹ کرنے کا اب تک کا مؤثر واحدراستہ انسانوں کا ایک دوسرے سے ضروری دوری بنانا ہے، اسلئےکسی قسم کی کوئی حماقت نہ کریں، مشکل کی اس گھڑی میں مجھے توصرف وہی دعا یاد آرہی ہے جو میری دادی مرحومہ ہمیں دیا کرتی تھیں کہ اے اللہ ہمارے بچوں کورزق حلال کھلانا اورحرام سے بچانا، انہیں ہر برائی اور وباء سے محفوظ رکھنا، زندگی بھرایمان کی حفاظت کرنا اور ایمان ہی پرانہیں موت دینا۔ آمین