حضرت سعد بن معاذؓ کی (قریش کے لئےشام کا تجارتی راستہ بند کرنے کی) دھمکی سے ابوجہل اور امیہ بن خلف دباؤ میں آگئے اور انہیں طواف کرنے دیا پرجب صحابہ اکرامؓ نے ابوسفیان کے شام سے واپسی کررہے تجارتی قافلے کو روک کر اہل مکہ پر بھر پور اقتصادی و مالی ضرب لگانے کی کوشش کی تو ابوجہل بھڑک اٹھا،کعبہ کی چھت پر چڑھ گیااور لوگوں کومشتعل کرنے لگا،ایک طاقتور لشکر تیار کرکے جنگ کے ارادے سے مدینے کی طرف چل پڑا، تب تک ابوسفیان کا قافلہ اہل مدینہ کی گرفت سے بچ کر ساحل کے کنارے مکہ کی طرف دور نکل چکا تھا،سمجھدار لوگوں نےابوجہل کوسمجھایا کہ اب مت جاؤ،ہمارا قافلہ محفوظ ہے،پر وہ نہیں مانا اور 17/رمضان 2/ہجری کو غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا،مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی،ابوجہل اورامیہ دونوں اس جنگ میں قتل ہوگئے،اس شاندار جیت کے بعد بھی مجھے تو رسول اللہؐ اور عام مسلمانان مدینہ کی طرف سے اہل مکہ پر اقتصادی ومالی ضرب لگانے کی کسی کوشش کی مثال نہیں ملتی پر یہ ضرور ملتا ہے کہ کئی موقعوں پر آپؐ نے اہل مکہ پراقتصادی و غذائی اجناس کے معاملے میں نرمی کا معاملہ اختیار فرمایا جبکہ قریش نے مسلمانوں پر ہر طرح کا ظلم کیاتھا،سوشل بائیکاٹ کے نام پر شعب ابی طالب میں رسول اللہؐ اورآپ کے خاندان عورتوں بچوں سمیت بہت سے مسلمانوں کو تین سال تک بنا کھانا پانی قید رکھاتھا۔
یمامہ کے سردار ثمامہ بن اثالؓ 6/ہجری میں ایمان لائے اور عمرہ کرنے گئے تو کسی نے ان سے کہا کہ تو بے دین ہوگیا،انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا ہوں اور اللہ کی قسم!اب تمہارے پاس یمامہ سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت کے بغیر گندم کا ایک دانہ بھی نہیں پہنچے گا،انہوں نے یمامہ پہنچ کر اپنی طرف سے قریش کا غلّہ روک لیا جس سے اہل مکہ کی چیخیں نکل گئیں اور وہ سخت پریشان ہوگئے،مجبور ہو کر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں رشتہ داری کا حوالہ دے کر درخواست کی کہ ثمامہ کو مہربانی اور نرمی کرنے کا حکم دیں،رسول اللہؐ نے ثمامہ کو بائیکاٹ ختم کرنے کا حکم دیا اور اہل مکہ کو غلے کی فراہمی جاری کرادی۔
صلح حدیبیہ کا واقعہ بھی 6/ہجری میں پیش آیاتھا،اس کی ایک شرط مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری تھی جس میں یہ تھا کہ اہل مکہ میں کا مسلمان ہونے والا شخص اگر مدینے میں پناہ لیتا ہے تو وہ مسلمانوں سے واپس لے لیا جائے گااوراگرمسلمانوں میں سے کوئی مرتد ہو کراہل مکہ سے مل گیا تواسےمسلمانوں کولینے کا کوئی اختیار نہ ہوگا،اس کے نتیجے میں اسلام لانے کے بعدستائے جانے پر مکہ سے فرار ابو بصیرہؓ ابو جندلؓ اور ان کے کچھ ساتھیوں نے شام کے راستے پر ساحل سمندر کے قریب ایک جگہ اقامت اختیار کرلی، کچھ ہی عرصے میں وہ اچھی خاصی تعداد میں ہوگئے اور اہل مکہ کی ناک میں دم کردیا، ان کا جو بھی قافلہ شام تجارت کے لیے جاتا اسے لوٹ لیتے، قریش نے تنگ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہم اس شرط کا خاتمہ کرتے ہیں، انہیں اپنے پاس بلا لیں تاکہ ہمیں ان سے نجات ملے، آپؐ نے انہیں مدینے بلا لیا اور مکہ والوں کے تجارتی قافلے بہ حفاظت گزرنے لگے۔
یعنیٰ طاقت حاصل ہوجانے کے باوجود بھی رسول اللہ ؐ نے مسلمانوں یا اپنے کسی دیگر حلیف کو اہل مکہ کے اقتصادی معاشی یا غذائی اجناس کے بائیکاٹ کے لئے کبھی نہیں کہا جب کہ مدینہ مکہ سے اس پوزیشن پر ہے کہ آپؐ مکہ کی طرف اقتصادی معاشی اور غذائی اجناس کی ناکہ بندی کرسکتے تھے، ہاں اگر انفرادی حیثیت سے کسی نے ایسا کیا تو انہیں اس وقت تک نہیں روکا جب تک کہ قریش نے رسول اللہ ؐ سے منت سماجت نہ کی، اہل مکہ کی درخواست پر آپؐ بائیکاٹ ختم کرا دیتے تھے، ظاہر سی بات ہے کہ وہ اپنا سارا دم لگا نے کے بعد ہی رسول اللہؐ کے پاس جاتے رہے ہوں گے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے قریش کا کردار ادا کررہے سنگھی شدت پسند طبقے کی جانب سے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے آج کل مسلمانان ہند جس صورت حال سے دوچار ہیں اس میں کچھ جذباتی لوگ مسلمانوں کو بھی مشورہ دے رہے ہیں کہ ہندؤں سے سامان نہ خریدا جائے، میرے حساب سے یہ درست نہ ہوگا،کیونکہ یہاں مسلمانوں اور ہندؤں کی مخلوط آبادیاں ہیں،مسلم اکثریتی علاقوں کے درمیان سے راستہ ہندو اکثریت کی جانب اور ہندو اکثریتی علاقوں سے مسلم اکثریتی علاقوں کی جانب جاتا ہے،لہذا اس قسم کے اقدامات کا دونوں جانب منفی اثر پڑے گا،بے شمار کاروبار مسلمانوں کے ہیں جن میں کام کرکے دو وقت پیٹ بھرنے والی اکثریت اہل ہنود کی ہے اوراسی طرح بے شمار اہل ہنود کے کاروباروں سے مسلمانوں کی روزی روٹی چل رہی ہے،سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی کوئی متحدہ قیادت ایسی نہیں ہے جس کی سارے مسلمان نہیں تو مسلمانوں کی اکثریت ہی اطاعت کرتی ہواور وہ سمجھداری سے معاملہ سنبھال سکے،اس لئے بہتر یہی ہے کہ معاشی بائیکاٹ کا جواب معاشی بائیکاٹ سے دینے سے مکمل پرہیز کیا جائے،ورنہ صورتحال اتنی بگڑ جائے گی کہ پھر ہر سطح پر بائیکاٹ بائیکاٹ کا گھناونا کھیل کھیلا جائے گا۔
مسلمانوں کے لئے موجودہ حالات میں سب سے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی ضروریات زندگی کو انتہائی محدود کرلیں، آپ چاہے جتنے بھی مالدار ہوں پر اس وقت ایسے رہیں جیسے خط افلاس سے نیچے رہنے والا اپنی زندگی گزارتا ہے،اس سے انشاء اللہ دوہرا فائدہ ہوگا، پہلا یہ کہ مسلمانوں کی طرف سے ایک قسم کا غیراعلانیہ بائیکاٹ ہوجائے گا، موقعہ کی تلاش میں بیٹھے متشدد سنگھی عناصر ہندؤں کو بھڑکا نہیں سکیں گے کہ مسلمان بھی بائیکاٹ کررہے ہیں لہذا اے وہ ہندؤں تم بھی کرو جو ابھی تک اس میں شامل نہیں ہویا کترا رہے ہو، دوسرا یہ کہ مسلمان مالی حیثیت سے بہتر رہے گا کیونکہ لاک ڈاؤن کا مسئلہ ابھی جلد نہیں ختم ہونے والا، اگر یہ جلدختم ہو گیا تو بھی ابھی مسلمانوں کے لئے مسائل و مشکلات بہت اورمددگار کوئی نہیں ہے لہذا صرف اللہ پر بھروسہ رکھیں، جو لوگ عید سادگی سے منانے کی اپیلیں کررہے ہیں وہ درست ہیں، اپنا مال پیسہ بچا کررکھیں،اس سال پرانے کپڑوں میں ہی کام چلا لیں اورلمبے عرصے تک اپنے لوگوں کی اس قسم کی مدد کوتیار رہیں کہ خاندان رشتہ دار اور آس پڑوس والا کوئی بھوکا نہ رہے،مسلمان تاجروں متوسط اور چھوٹے دوکانداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے کردار و اخلاق کو درست کریں، بے جا منافع خوری اور ردی مال کی پالیسی کو ترک کردیں تاکہ لوگ زیادہ تعداد میں ان سے سامان خریدنے پر مجبورہوں، یہ یاد رکھیں کہ بڑا ہندو تاجر اپنا نقصان نہیں کرتا، وہ بائیکاٹ میں شامل ہو ہی نہیں سکتا، 1905ء میں ہندومہاسبھا کے بانیوں کے ذریعہ تقسیم بنگال کی پرزورحمایت کی گئی مگر تاجر طبقے سمیت کانگریس نے اس کی مخالفت کی تھی، وجہ صرف اتنی تھی کی مسلم اکثریتی علاقوں کے الگ ہونے پر ان کا اقتصادی نقصان ہورہا تھا اور مسلمانوں کو سیدھا فائدہ مل رہا تھا ، بنگال کی معیشت پر ہندؤں کا غلبہ تھا گرچہ یہ تقسیم انتظامی نقطہ نظر سے کی گئی تھی مگر شدید مخالفت کی وجہ سے انگریزوں کو تقسیم بنگال کا فیصلہ واپس لینا پڑاتھا۔
حکومت ہند اپنی ناکامی اور شرمندگی چھپانے کے لئے پروپگنڈہ مشنریوں کے ذریعہ مسلمانوں کو کرونا پھیلانے کا ملزم ٹھہرا چکی ہے، فاشسٹ حکومتوں کا یہی طرز حکمرانی ہوتا ہے، انہیں اپنی ناکامی پر تنقید ہرگز برداشت نہیں ہوتی اس لئے کسی نہ کسی کو ولن بنادیا جاتا ہے، مسلمانوں پر ایک غیراعلانیہ قسم کا کریک ڈاؤن بھی ہوا، یہ مسلمانوں کو برا لگا پر اس کے نتائج مسلمانوں کے حق میں ہیں، میں تو بہت پریشان تھا کہ نامناسب جگہ پر مسلمانوں کا ایمان زیادہ مضبوط ہوجاتا یاکرادیاجاتا ہےاس لئے خدا ناخواستہ بے احتیاطی کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت کرونا کی چپیٹ میں آگئی تو بڑی تباہی ہوگی، جانبدار حکومت کا طبی عملہ مسلمانوں پر دھیان نہیں دے گا نہ ہی بنیادی سہولیات ملیں گیں، خیر اب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے کہ اس سے مسلمانوں کو ہی فائدہ ہورہا ہے، وہ کرونا سے بھی بچ رہے ہیں اور عالمی سطح پر ان پر سنگھی مظالم عیاں ہوگئے ہیں اوران کے حق میں آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں، اسی لئے رمضان اور عید کے پیش نظر مخدوش حالات میں بھی اس طرح سے نرمی دی جارہی ہے تاکہ سڑکوں اور دوکانوں پر صرف مسلمانوں کی بھیڑ ہوجائے اور یہی اس کی زد میں آجائیں تب مسلمانوں پر کرونا پھیلانے کا الزام صحیح ثابت کیا جا سکے گا، فی الحال لاک ڈاؤن میں نرمی مجھے اس لئے سمجھ میں نہیں آتی کہ کرونا کیس کم نہیں ہورہے بلکہ بڑھ رہے ہیں اور اس کے مراکز بہت سےہندو اکثریتی علاقے بن چکے ہیں جنہیں چھپایا جا رہا ہے، اب میڈیا کو انتظار ہے کہ مسلمانوں میں یہ وباء پھیل کر بے قابو ہو جائے تو معاملہ بن جائے ورنہ حقیقت دیر تک چھپائی نہیں جاسکے گی۔