افسوس ہوتا ہے ایسے مسلمانوں پر جو سب کچھ جانتے ھوئے بھی صرف اپنی من مانی زندگی گزارنے کے لئے قرآن و احادیث کے معنی و مطالب میں تحریف کے مجرم بنتے ہیں، مزید افسوس سے دوچار تو تب ہونا پڑتا ہے جب وہ اپنی ہٹ دھرمی کی انتہا کرتے ہوئے طرح طرح کے دلائل اور فلسفے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم صحیح ہیں،باقی سب غلط ہیں۔
نادانی مزید یہ کہ اگر ان سے کہا جاتا ہے کہ نماز کی طرف آو نبی کریم آخرالزماں محمد رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کی طرف آو سنت کو اپناو تو ان کا سوال ہوتا ہے کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاضرو ناظر ہیں، کیا آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب ہیں،غرض یہ کہ ہزار سوالات کھڑے کر دیں گے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا دعوی بھی بڑے دعوے کے ساتھ کریں گے،مگر عمل کے میدان میں اترنے سے منھ موڑ جائیں گے۔
دوستو! کیا محبت یہ ہوتی ہے کہ محبوب سے محبت صرف جتائی جائے،محبوب کے عمل کو نہ اپنا کر محبوب کے طریقے کو نہ اپنا کر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ اس پر یہ اور کیا جائے کہ ہم اپنے محبوب کو بہت چاہتے ہیں، یا یہ کی محبوب کے ہر حکم اور طریقے کو اتنا مضبوطی اور خلوص سے اپنایا جائے کہ محبوب سے محبت کی گواہی جسم کا ہر حصہ ہر رویاں چیخ چیخ کر دے،اور ہر عمل پکار پکار کر کہے کہ یہ ہے اپنے محبوب کا سچا عاشق، جب یہ ایسا ہے اس کا نبی کیسا رہا ہو گا۔
پھر کسی کو عاشق رسول ہونے کا دعوی نہیں کرنا پڑے گا۔