آج امت مسلمہ ہر محاذ پر جس زوال کا شکار ہے اس کی سب سے بڑی مشترک وجہ ہمارا فکری نقطۂ نظر سے جمود کا شکار ہونا ہے، زور و شور سے اٹھی ہرتحریک آخر ٹائیں ٹائیں پُھس کیسے اور کیوں ہو جاتی ہے؟اس پرغوروفکر کرنے سے ایک بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہماری ہر جماعت اپنی تحریک کے بانیوں کی فکروں سے آگے سوچنے سمجھنے اور اس پرمنظم ہونےکی ضرورت نہیں سمجھتی اور یہی جمود ہے،جس کی وجہ سے تحریک حالات حاضرہ کے مطابق خود کو وسیع ولچیلانہیں رکھ پاتی،پھر وہ امت کے لئے مفید کم اورمضر زیادہ ہونے لگتی ہے،اور اس المیہ کی سب سے بڑی وجہ جمود کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کو عام طور سے یہ طعنہ دیا یا سمجھایا جانا ہے کہ کیا تم یا ہم اپنے اکابرین سے زیادہ عقلمند ہو سکتے ہیں؟ کیا اتنے دوراندیش ہو سکتے ہیں؟وغیرہ وغیرہ، نتیجتاً ہماری فکری صلاحیتیں منجمد و محدود ہو جاتی ہیں،جمود کو شکست دئیے بنا ہم سرخ رو ہو سکیں یہ ناممکن ہے،اس لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے سوچنے کا زاویہ مثبت اور وسیع کرنا ہوگاکہ ہم میں کا کوئی بھی اپنے اکابرین سے زیادہ بزرگ محترم و معزز نہیں ہو سکتا مگر عقلمند اور دوراندیش ہو سکتا ہے۔