لفظ’’جہیز‘‘کے لغوی معنیٰ سامان،تیاری یا سامان کی تیاری کے ہیں اورہندی میں اسے "کنیا دان" بھی کہتے ہیں جس کے معنیٰ لڑکی کا دان یعنیٰ لڑکی کودی گئی’’خیرات‘‘ہے۔ایام جہالت میں عربوں میں توعورتوں کا کوئی مقام نہیں تھا نہ ہی ان کے کسی طرح کے حقوق کا تصوربلکہ لڑکیاں زندہ دفنا دی جاتی تھیں مگریونان مصروروم(جنہیں اس زمانے میں تہذیب وثقافت کا گہوارا اوراب حقوق نسواں کا علمبردارمانا جاتا ہے)میں بھی انہیں کثرت سے حقارت آمیزسلوک کا سامنا کرنا پڑتا رہتاتھا۔ہندوستانی معاشرے میں عورت اپنے باپ کی جائیداد میں کوئی حق نہ رکھتی تھی بلکہ یہاں’’ستی پرتھا‘‘ جیسی ظالمانہ رسم قائم تھی جس کے تحت خواتین کو اپنے فوت ہوگئے شوہرکی لاش کے ساتھ زندہ جلنا پڑتا تھا۔لڑکی کے تحفظ کے لئے رواج تھا کہ شادی پر والدین لڑکی کو کچھ اثاثہ بطور خیرات دے دیتے تاکہ سسرال میں اسے بہتر مقام مل سکے اورجولوگ ایسا کرنے سے قاصر ہوتے ان کی بیٹیوں کو سماج میں کوئی مقام حاصل نہ تھا۔ہندوستان میں اسلام آیا تومسلمانوں میں بھی یہی دان جہیز کے نام سے موسوم ہوااورمعاشرے میں ایک خودساختہ فرض کی حیثیت سے داخل ہوگیا۔ظاہر ہے ایسے فرض کا کوئی وجود نہیں۔
اسلام میں جہیز کا تصور: اسلام میں جہیز کا تصور سرے سے ہے ہی نہیں مگرکچھ لوگوں نے حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کی نسبت مشہور کرکے ایک فرضی جواز فراہم کرلیا ہے کہ یہ دیایالیاجا سکتا ہے مگر حقیقت دیکھی جائے تو ایسا تصور ایک گستاخی لگتا ہے۔واقعہ دراصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے جب اپنی سب سے چہیتی بیٹی کا گھربسانے کا فیصلہ فرمایا اورانتخاب حضرت علی کرم اللہ وجہ کا کیاتواس موقع پر ان کے پاس ایک تلوار،ایک گھوڑا اورایک زرہ کے سوا کچھ بھی نہ تھاکیونکہ وہ ہجرت کرکے مدینے آئے تو خالی ہاتھ تھے بلکہ ابوطالب کے بعد ان کے کفیل خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم تھے۔آپ ؐ نے انہیں اپنی زرہ بیچنے کا حکم دیا جسے حضرت عثمانؓ نے خرید لیااوراس رقم سے روزمرہ کے استعمال کی چند چیزیں خریدی گئیں۔اب اس واقعے سے واضح طور پرتین باتیں نکلتیں ہیں۔
۱۔لڑکی کا والد اگر لڑکے یا اس کے گھر والوں سے اپنی بیٹی کو گھریلوسامان کی فراہمی کے لئے کوئی تجویزعمل میں لانے کو کہے تواسے بلا چوں چراں تسلیم کر لیا جائے خواہ اپنی کوئی قیمتی چیز فروخت ہی کیوں نہ کرنا پڑجائے۔
۲۔ وقت کا سب سے بہترین والداس کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کرے جوغریب مگر صالح ہو۔
۳۔ ازدواجی زندگی میں روزمرہ کے استعمال والی اشیاء کا انتظام خودلڑکے پر ہے۔
کچھ لوگ تودلیل ڈھونڈتے ڈھونڈتے حددرجہ آگے چلے جاتے اوریہاں تک کہنے لگتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے بھی توحضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہاسے نکاح کیا کیونکہ وہ مالدار تھیں مگر یہ حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں اس کے پس منظر میں جانے پر توایسی باتیں نکلتی ہیں جودورحاضرکے معاشرے میں نظرآجا نا ہی مشکل ہے جیسے۔
۱۔غیر شادی شدہ نوجوان بیوہ خاتون کے پیغام پر اس سے نکاح کرلے۔
۲۔گھرکے بڑوں کے مشورے سے کرے اوراسے سب قبول کریں۔
۳۔تا عمراس کا ساتھ نبھائے اوردوسرا نکاح نہ کرے۔
اس طرح پہلے سے تو جہیز کی حرمت ثابت ہورہی ہے اوردوسرااس سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتانہ کہ ہمارا معاشرہ ان کی پاکیزہ نسبت سے ایک ایسی لعنت کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی مزید یہ کہ اس کے بغیرشادی کا تصور ایسا نا ممکن امربنا دیا گیا ہے جسے ترک کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں لہذا اس بات سے جواز نکالنے والوں کوکسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ اسلام جہیز مخالف نہیں ہے مگرمسئلہ یہ ہے کہ لوگ جانتے ہوئے اوربے شمارجہیزمخالف سرکاری وغیرسرکاری مہمات کی موجودگی نیزاسکے نتیجے میں پیداشدہ مسائل سے آگاہ ہونے کے باوجودبھی اسے چھوڑنے کو تیارکیوں نہیں؟اس بارے میں غورکرنے پر بہت عجیب وغریب صورت حال نظر آتی ہے جو پیچیدہ تو ہے مگرمشکل نہیں کہ درست نہ ہو سکے۔دراصل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کو غور سے پڑھا اورسمجھا جائے تو یقیناًاس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ آپؐ نے دعوت کا جوطریقہ اختیار کیا تھا وہعوام کومعاشرے کی ہربگڑی صورت حال سے نمٹنے کے لئے آج بھی یہ اصول اصلاح پیش کرتا ہے کہ ہم نرمی اختیارکرتے ہوئے عقلیت پرموزوں اترتی ہوئی فکردے کر لوگوں کواس کام پر آمادہ کر سکتے ہیں جسے سخت ترین قوانین بنا کرنہیں کیا جا سکتا۔تھوڑا سمجھنے کی ضرورت ہے بس پھر دیکھیں گے کہ یہ لعنت اسلامی معاشرے سے اس طرح صاف ہوگی جس طرح ہم اپنے گھروں سے مکڑی کا جالا صاف کرتے ہیں۔ہمیں صرف یہ یاد رکھنا ہے کہ ہر برائی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مکڑی کے جالے کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی اگرہم اس کوختم کرنے کی فکراورمخلوق کے لئے آسانی پیداکرنے کا مسمم عزم کرلیں اس کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کوالجھانے کے بجائے ان کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
اسلام میں جہیز کا متبادل کیاہے ؟ اسلام ایک ایسا نظام حیات ہے جو کہ معاشرے کو ہربگاڑ سے بچنے کا مکمل حل دیتا ہے جس کے تحت ’’حقوق العباد‘‘ کواتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کی وہ خطائیں تو معاف فرما دے گا جو اس سے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے میں ہوئیں مگر ان غلطیوں کو نہ معاف کرے گا جن کی وجہ سے اللہ کے بندوں کو وہ حقوق نہ دئے جائیں جنہیں ادا کرنافرض اوربنی نوع انساں کے لئے انتہائی مفیدہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے پس قرابت دارکومسکین کومسافرکوہرایک کو اس کا حق دیجئے،یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اورایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔سورۃ الروم ۳۸ پھرایک جگہ سورۃالنحل آیت۹۰میں فرماتا ہے کہ وہ عدل ،بھلائی اورقرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کاحکم دیتا ہے اوربے حیائی کے کاموں،ناشائستہ حرکتوں اورظلم وزیادتی سے روکتا ہے وہ خودتمہیں سمجھارہا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم پرجونظام حیات مکمل کیا اس میں انسانوں کے ساتھ جانوروں کے بھی حقوق مقرر کئے گئے۔چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے ایک طویل حدیث وارد ہے جس کا مفہوم اختصارکے ساتھ یہ ہے کہ
۱۔جو سونے اورچاندی کامالک ہے وہ اس کا حق(زکواۃ اس لئے کہ یہ غرباء ومساکین کاحق ہے)ادا نہیں کرتااس کے لئے قیامت کے دن آگ کی چٹانیں بنائیں جائیں گیں اوران کو جہنم کی آگ میں خوب گرم کیا جائے گاپھر اس کے پہلوپیشانی اور کوپشت کواس سے داغا جائے گا،جب وہ ٹھنڈے ہو جائیں گے تو ان کو دوبارہ گرم کیا جائے گااوراس دن برابر یہ عمل اس کے ساتھ ہوتا رہے گاجس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی یہاں تک کہ بندوں کا فیصلہ کردیا جائے تواس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھا دیا جائیگا۔
۲۔جوشخص اونٹوں کا مالک ہے اور ان کا حق ادا نہ کرے اوران کے حق میں سے یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن پانی پلائے بغیر دودھ نکال لے تو قیامت کے دن ایک ہموار زمین پر اس کو اوندھالٹا دیا جائے گااوروہ اونٹ نہایت فربا ہوکر آئے گاجواس کو اپنے کھروں سے روندے اورمنھ سے کاٹے گااوراس کے ساتھ یہ عمل ہوتا رہے گا یہاں تک کہ بندوں کا فیصلہ کردیا جائے تواس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھا دیا جائیگا۔
۳۔جو شخص گائے اوربکریوں کا مالک ہے اوروہ ان کا حق ادا نہیں کرتا تو اسے بھی قیامت کے دن ہموار زمین پر اوندھا لٹا دیا جائے گا اوروہ انہیں اپنے پاؤں تلے روندیں گیں اور ان میں سے کسی کی سینگیں نہ مڑی نہ ہی ٹوٹی ہوں گیں اوریہی عذاب پچاس ہزار سالوں والے دن میں ہوتا رہے گا یہاں تک کہ بندوں کا فیصلہ کردیا جائے تواس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھا دیا جائیگا۔
یعنیٰ اللہ تبارک وتعالیٰ کے یہاں انسانوں کے حقوق غصب کرنے پرجوپکڑہے وہ تواپنی جگہ بلکہ کسی جانور پرتھوڑی زیادتی کی گئی تو اس پر بھی گرفت ہے لہذا حقوق العباد سے انحراف کی صورت میں ہونے والی گرفت سے خلاصی کی کوئی گنجائش نہیں۔اسلام اپنے اعزاء واقرباء،رشتہ داروں،پڑوسیوں ،نوکروں وغلاموں کے لئے جوحقوق مقررکرتا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہو جاتا ہے کہ باہمی تعلقات میں بگاڑ کا آغاز حقوق ادا نہ کرنے کی صورت میں ہوتا ہے اوریہی بگاڑ معاشرے میں فساد کا باعث ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ایسے واقعات رونما ہوتے یا رواج پرورش پاتے ہیں جوہمارے معاشرتی نظام کے لئے انتہائی مضر ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرتی حقوق میں یہ بھی شمار ہوتا ہے کہ جب ایک دوسرے سے ملیں تو خوش اخلاقی سے ملیں۔ اگرہم لوگ اپنے لئے حقوق کی ادائیگی کوعملی طور سے نافذ کرلیں تومعاشرے کے بہت سے مسائل کوان کے لئے خاص طورپرچلائی گئی مہمات کے بغیر حل کیا جا سکتا ہے۔بلا شبہ ہمارے معاشرے میں پھیلی جہیز جیسی لعنت خواتین کے حقوق ادا نہ کئے جانے کی وجہ سے اس کے فطری ردعمل کی صورت میں غیرمناسب متبادل کے طورپر ایک خودساختہ اصول کی شکل میں موجود ہے ۔ایک جگہ سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَلْتَقُوْااللّٰہَ الَّذِیُ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ یعنیٰ اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے حق مانگتے ہو اوررشتہ وقرابت توڑنے سے بچو۔بلا شبہ ازواجی رشتہ توڑنے میں حقوق نسواں کی ادائیگی کا فقدان اصل وجہ ہے اس طرح جہیز کا متبادل ہے کہ عورتوں کو وہ حقوق دئیے جائیں جن سے انہیں محروم رکھا جاتا ہے۔
اسلام میں عورتوں کے وہ حقوق جوجہیزکے متبادل ہیں: اسلام نے آج سے چودہ سو سالوں پہلے عورتوں کے جو حقوق مقرر کیے ہیں اس کے برابریااس جیسا نظام مرتب کرنادنیا کے کسی قانون ساز کے بس کی بات نہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے لڑکی کی پیدائش کو رحمت قراردیااور ایک حدیث میں آتاہے کہ آپؐ نے فرمایاکہ جس شخص نے دوبچیوں کی اچھی پرورش کی اوراچھی جگہ نکاح کیا تووہ قیامت کے دن میرے ساتھ(ہاتھوں کی انگلیوں کوجوڑکراشارہ کرتے ہوئے) یوں رہے گا جیسے میری یہ دوانگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں اورابوداؤدکی ایک روایت میں تین پرجنت کی بشارت ہے۔یہاں پرہم صرف انہیں کومدنظررکھیں گے جن فرائض کے ادا نہ کرنے کی صورت میں عورت کاوہ استحصال ہوتاہے جس کاتعلق جہیزسے ہے۔
۱۔ مردکا اپنی استطاعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ مہر ادا کرنا ۔
۲۔باپ کی جائداد میں جتنالڑکے کاحصہ ہے اس کا نصف لڑکی کودیا جانا۔
مسلمانوں میں جہیز کی لعنت کیوں ہے؟ یہ بات حوصلہ افزاہے کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کے تعلق سے کافی بہترہوئے ہیں مگرحال یہ ہے کہ ان کا جائزحق دینے میں ابھی بہت بہت زیادہ پیچھے ہیں۔ہمارا معاشرہ صنفِ نازک پرسب سے پہلا جبرتویہ کرتا ہے کہ شادی کے معاملے میں ان کی رضامندی کوشامل کرنا اپنی حقارت سمجھتا ہے پھردوسرایہ کہ جہیزدے کران کا جائیدادپرحق تسلیم کرنا بس سے باہرہوجاتاہے۔لڑکے والے بھی شایدیہ گمان کرتے ہیں کہ لڑکی کے والدین یابھائیوں کے پاس جب اس رسم پرلٹانے کے لئے اتنی رقم ہے تواسے مہرکی کیا ضرورت یا یہ کہ اسے لے کروہ اب کیا کرے گی پھرتیسرا یہ کہ روناگانامچاکر مہرمعاف کرالو قصہ ختم یعنیٰ فرائض اور حقوق کی ادائیگی سے انحراف پرانحراف وفضولیات پرخرچ ہی خرچ جس کا نتیجہ ہے کہ اچھے اچھوں کواس لعنت کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں پڑتی نتیجتاًنہ جانے کتنی نوجوان لڑکیاں اپنے گھروں میں بن بیاہی بیٹھی ہوئی اوران کے والدین قسمت کو رو رہے ہیں۔
جہیز کی لعنت سے کیسے بچا جائے؟ اے کاش کہ ہم اتنے ہی متشدد ہوکررسومات ولغویات کو ختم کرنے کے لئے اپنی صلاحیت اورتحریروتحقیق کا استعمال کرتے جتنا کہ اپنے اپنے مسلک ونظریات کے تحفظ کے لئے کرتے ہیں توان کا وجود اب تک ہمارے معاشرے سے مٹ چکا ہوتا اورغلبہ اسی مکتب فکرکا ہوتا جوایسا کارنامہ انجام دینے میں پیش پیش رہتا مگر افسوس صد افسوس کہ ہم ایسا کرنے کی ہمت جٹا نہیں پاتے۔کچھ لوگ سوچتے ہونگے کہ کون اس چکر میں پڑے یہ تو معاشرے کے اصولوں سے بغاوت ہوگی مگروہی لوگ اختلافی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے دیکھائی دیتے ہیں۔شایدوہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہماری ملت جن اختلافی مسائل سے لہولہان ہے وہی ان سب رسومات کوقائم رکھنے میں اپنا اصل کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ جب ہمیں اس سے فرصت نہ ملے گی تواصلاح معاشرہ کے لئے ایسے نظریات کوفروغ کیسے دیں گے جوان سب مسائل کا قلع قمع کر دیں جو ہم پرایک عذاب کی طرح مسلط ہیں۔جہیز جیسی لعنت کا سدباب کرنے کے لئے کوئی لمبی چوڑی تحریک نہیں بلکہ ایسے چندضوابط کوعملی زندگی میں لانے کی ضرورت ہے جن سے خواتین کووہ مالی ومعاشی تحفظ فراہم کیا جا سکے جو اسے اسلام اوراس کے ماننے والوں نے عطا کیا ہے۔اس کے لئے ہمیں سادہ سے کچھ اصول پکڑ لینا ہے جن کا تعلق سیدھا’’ حقوق العباد‘‘ کے جذبے کوفروغ دینے سے ہے پھردیکھنا ہے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
۱۔ امراء اپنی بیٹیوں کو چاہے جہیز دیں نہ دیں مگرکم از کم اپنے گھر آئی پرائی لڑکی کواس کے والدین کی جائیداد میں مکمل حق دلانے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں یہ ان کے لئے بہت آسان ہے اوراللہ تبارک وتعالیٰ کے حضورسرخ روہونے کا ذریعہ بھی کہ اس دور میں جب لوگ اپنی بیٹیوں کواس کے جائزحقوق سے محروم کر رہے تھے تب وہ اسے اس کا حق دلانے عمل کے میدان میں اترے۔
۲۔ متوسط طبقہ بھی اس اصول کو پکڑے اوراپنی لاڈلی بیٹیوں کوجہیز کے بجائے اعلیٰ تعلیم وتربیت سے آراستہ کرکے ان کے اورخود اپنے لئے بھی دنیاوآخرت میں کامیابی وکامرانی کا تمغہ جیتنے کا راستہ ہموار کرے۔
۳۔ رہا بے چارہ غریب وبدحال طبقہ تو وہ خود بہ خوداپنے سے زیادہ حیثیت والوں کی اتباع کرکے اس لعنت سے نجات حاصل کرلے گا۔