رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تعلیمِ امن و انسانیت اوراصلاح مخلوق کائنات کے نبوی کام میں شب و روز مشغول رہتےتھے، آپ کی مجالس میں موجود تمام حاضرین آپؐ کی ذات مبارک سے فائدہ اٹھاتے، حضرت زید بن اسلم ؓکہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چاہے جو شخص بھی علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست کرتا،تو آپ اسے رد نہ فرماتے، جس کا جی چاہتا آ کر عرض کرتا کہ میں ذرا الگ بات کرنا چاہتا ہوں، اور آپ اسے موقع دے دیتے، یہاں تک کہ بہت سے لوگ ایسے معاملات میں بھی آپ کو تکلیف دینے لگے جن میں الگ بات کرنے کی کوئی حاجت نہ ہوتی، میرے خیال میں ایسا رہا ہوگا کہ کچھ لوگ ایسے تھے جو شرم عار (یا کچھ ایسی باتیں جنہیں وہ عام لوگ سے چھپانا چاہتے تھے وغیرہ) کے باعث آپؐ سے علیحدگی میں خفیہ بات کرنا چاہتے اور آپ انہیں وقت دے دیتے تھے، کچھ عرصہ تو یہ عمل مفید رہا مگر( بہت ساری روایات سے یہ ثابت ہے کہ) پھرکچھ منافقین کی شرارتیں بھی اس میں شامل ہوگئیں کہ وہ مخلص ایمان والےمسلمانوں کو ایذاء پہنچانے او رسول اللہؐ سے انہیں دور رکھنے کے لئے آپؐ سے علیحدگی اور سرگوشی کا وقت مانگتے اور اس میں بات چیت طویل کردیتے،بعض ناواقف ایمان والے بھی بات لمبی کر دیا کردیتے تھے،ایسے بھی شواہد ہیں کہ منافقین رسول اللہؐ کی مجالس میں یہ پلان بنا کر شامل ہوتے کہ بلا مقصد باتوں اورسوالات میں سب کو الجھائے رکھ کر لوگوں کو آپؐ سےمستفید نہیں ہونے دینا اور آپؐ کو تکلیف بھی پہنچانا ہے،پھر وہ وقت ضائع کرتے اور ایسی باتیں وسوالات کرتے جس سے رسول اللہؐ اور آپ سے محبت رکھنے والوں کو تکلیف ہو اور فائدہ کچھ بھی نہ ہوسکے، رسول اللہؐ چونکہ ہمدرد انسانیت تھے اسی لئے اس امیدپرانہیں برداشت فرماتےکہ اللہ انہیں شاید ہدایت دے دے، حضرت قتادہ ؓکہتے ہیں کہ بعض لوگ دوسروں پر اپنی بڑائی جتانے کے لیے بھی حضورؐ سے خلوت میں بات کرتے (یاکرنا چاہتے)تھے۔
کچھ روایات میں ہے کہ یہ وہ وقت تھا جس میں سارا عرب مدینہ کے خلاف اور برسر جنگ تھا، بعض اوقات کوئی تخلیہ چاہتا اور رسول اللہؐ سے گفتگو کرکے چلا جاتا تو شیطان لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتا کہ شاید یہ فلاں یا فلاں قبیلے کے حملہ آور ہونے کی خبر لایا ہوگا، یا اس کے علاوہ بھی طرح طرح کی بے بنیادباتیں مشہور ہو جاتیں،اور منافقین و یہودیوں کو ایمان والوں کے درمیان طرح طرح کی افواہیں پھیلانے کا سنہرا موقع مل جاتا، پھر اس طرح مدینہ میں افواہوں کا بازار گرم ہوجاتا، منافقین یہاں تک کہتے پھرتے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو کانوں کے نہایت ہی کچے ہیں ہر ایک کی سن لیتے ہیں،تو شیطان لوگوں کو یہ گمان کراتا کہ پتہ نہیں کس کس نے کیا کیا ( آپؐ کے کانوں میں)بھر رکھا ہوگا، ان سب وجوہات سے لوگوں میں افواہوں کے پھیلنے کی رفتار اور اس کا اثر تیز ہو جاتا جس سے ایمان والے لوگ بھی متاثر ہوتے تھے۔
ابن جریر کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت زیادہ باتیں (تخلیہ کی درخواست کر کے) پوچھنے لگے تھے حتیٰ کہ انہوں نے حضورؐ کو تنگ کردیا، آخر کار اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے نبیؐ پر سے یہ بوجھ ہلکا کر دے، پھرحق تعالیٰ نے ابتداً یہ حکم نازل فرمایا کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علیحدگی میں خفیہ بات کرنا چاہے وہ پہلے کچھ صدقہ کر دے، اس صدقہ کی کوئی مقدار قرآن میں مقرر نہیں کی گئی، یہ حکم اگرچہ جلد ہی منسوخ ہوگیا مگر جس مصلحت وتقاضے کے لئے جاری کیا گیا تھا وہ اس طرح حاصل ہوگیا کہ مسلمان تو اپنی دلی محبت کے تقاضہ سے ایسی مجالس طویل کرنے سے بچ گئے اور منافقین اس لئے کہ اگر انہوں نے عام مسلمانوں کے طرز کے خلاف کچھ بھی کیا تو پہچان لئے جائیں گے اور نفاق کھل جائے گا، چنانچہ اہل ایمان کو مخاطب کرکےاللہ تعالیٰ نے یہ پابندی لگا دی کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خلوت میں بات کرنا چاہے وہ پہلے صدقہ دے کیونکہ ایمان والا تو ہر بات بنا بنا چوں چراں تسلیم کرلے گا اور اس کا رسول اللہؐ کی ذات مبارک سے نفع جاری رہے گا مگر شامت تویقیناً منافقین کی ہی آئے گی، کیونکہ نہ انہیں انفاق فی سبیل للہ کی مد میں یعنیٰ خالص اللہ کے راستے میں بنا کسی دنیاوی فائدے کے مقصد وخواہش کے خرچ کرنا آتا ہے نہ ہی اللہ کے رسولؐ کی اطاعت پر لبیک کہنا، وہ تو صرف اس لئے اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی باتیں ماننے پر مارے باندھے مجبور ہوجاتے ہیں تاکہ ایمان والوں میں چھپے اور اجتماعی فائدوں سے نفع اٹھاتےرہیں، اور نیک کاموں میں اڑنگا ڈالنے روڑے اٹکانے کے مقاصد سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے شوشے چھوڑتے رہ سکیں، ان سب وجوہات،مصلحتوں، وقت کی ضرورت اور تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ کا یہ حکم نازل ہوا کہ
یعنیٰ اے ایمان والو ! جب تم رسولؐ سے تنہائی میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس تنہائی کی بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ کردیا کرو، یہ طریقہ تمہارے حق میں بہتر اور زیادہ صاف ستھرا طریقہ ہے، ہاں اگر تمہارے پاس (صدقہ کرنے کے لیے) کچھ نہ ہو تو اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ جب یہ حکم آیا تو حضورؐ نے مجھ سے پوچھا کہ کتنا صدقہ مقرر کیا جائے؟ کیا ایک دینار کر دیا جائے؟ میں نے عرض کیا یہ لوگوں کی استطاعت سے زیادہ ہے، آپؐ نے فرمایا کیانصف دینار؟ میں نے عرض کیا لوگ اس کی قدرت بھی نہیں رکھتے، فرمایا پھر کتنا؟ میں نے عرض کیا بس ایک جَو برابر سونا، فرمایا انک لزھید، یعنی تم نے تو بڑی کم مقدار کا مشورہ دیا (ابن جریر، ترمذی، مسند ابو یعلیٰ )،ایک دوسری روایت میں حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ قرآن کی یہ ایک ایسی آیت ہے جس پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا،اس حکم کے آتے ہی میں نے صدقہ پیش کیااور ایک مسئلہ آپ سے پوچھ لیا، (ابن جریر، حاکم، ابنالمنذر، عبد بن حمید) ۔
آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دین کے معاملوں میں منافقانہ حرکتیں کرتے ہیں، کیونکہ دینی معاملات میں ان کی نہیں، بلکہ حق اور عدل کی چلتی ہے، اسی لئے جہاں پر دین کے مطابق فیصلے کئے جاتے اور چلنے کی کوشش کی جاتی ہے وہاں پر یہ اپنی قرآن میں بیان کردہ خاص منافقانہ صفت (یعنیٰ انفاق فی سبیل للہ کے تحت بے لوث بلا کسی شرط کے خرچ نہ کرنے کی عادت) کے مطابق کوئی تعاون نہیں کرتے بلکہ جہاں تک ہوسکتا ہے صرف فائدہ اٹھانے کی غرض سے ہی شامل رہتے ہیں، اپنے اپنے ذاتی، گروہی،نسبی،علاقائی،لسانی،ذاتی،قبائلی ونسلی وغیرہ وغیرہ مفاد کو مدنظر رکھ کر لالچ دیتے ہیں کہ ایسا ایسا کرو تو ہم تمہارے لئے مال ودولت کے منھ کھول دیں انبار لگا دیں گے، اور جب ان کی شرارت کو سمجھتے ہوئے ان کی یہ بات رد کردی جاتی ہے تو خود تو کچھ اچھا کرتے نہیں، بلکہ عوام میں طرح طرح کی افواہیں پھیلا کر مشکلات کھڑی کرتے ہیں تاکہ اصل لوگوں تک نیک کاموں کا فائدہ نہ پہنچ سکے،اور پھراگر انسانی فطرت کے تقاضے کے سبب سہواًجب کچھ بگڑ جاتا اور نقصان ہوجاتا ہے تو یہ ہر کسی کے کانوں میں شیطانی صفت کے مطابق کانا پھوسی کرتے وسوسہ ڈالتے اورکہتے پھرتے ہیں کہ دیکھا ہماری نہیں مانی گئی، لوگوں کو جوڑ کر نہیں چلا گیا اس لئے یہ نقصان ہوگیا، مگر حق کے ساتھی تو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ نفع نقصان کا مالک اللہ ہے، اورجہاں معاملہ ایمان کا ہو وہاں ایمان والے لوگ بحث مباحثہ نہیں کرتے، بلکہ صرف اتنی ہی بات کرتے ہیں جتنی کی انہیں ضرورت ہوتی ہے، آج کے ان شرارت پسند لوگوں پر بھی اسی طرح کے جرمانہ لگانے کی اشد ضرورت ہے جو انبیاء کے حقیقی وارثین کو الجھائے رکھ کر امت مسلمہ کو ٹکڑوں میں بنٹے رہنا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کےذاتی دنیاوی فوائد انہیں حاصل ہوتے رہیں، موجودہ حالات میں میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ قوم کے اجتماعی مفاد میں کام کرنے والے کسی بھی امت پرست، اتحاد و اتفاق اور لوگوں کو جوڑنے کی بات کرنے والوں کو بے مقصد اورلغو بحث میں اگر کوئی الجھائے تو انہیں کہنا چاہئے کہ لاؤ کچھ ہدیہ تحفہ دو تو آپ سے بات کر سکتا ہوں ورنہ معاف کیجئے، میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ کون ہیں۔