یعنیٰ: بیشک (معتبر) دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے،اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے الگ راستہ لاعلمی میں نہیں بلکہ علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد کی وجہ سے اختیار کیااورجوشخص بھی اللہ کی آیتوں کو(زبانی یا عمل سے)جھٹلائے تو (اسے یاد رکھنا چاہئے کہ)اللہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔
اس دنیائے فانی کے قیام سے آج تک انسانی نظامِ حیات کے تعلق سے لوگوں کی فکروں کا بنیادی محور یا یہ کہا جائے کہ اجتماعی نظام کا بنیادی ڈھانچہ صرف دوحصوں میں ہی منقسم رہا ہے۔
پہلا مذہب دوسرا عقلیت
یعنیٰ کہ ایک نظام حیات کی جڑیں انبیاء علیہ الصلواۃ والسلام کی لائی گئی خدائی تعلیمات پر استوارکی گئیں،مگر دھیرے دھیرے خودساختہ مذہبی تانے بانے کا شکارہوکرکمزورہوئیں،تو دوسرے نظام کی بنیادیں انسانی دماغوں کے تخیلات وتفکرات کے نتیجوں اورمشاہدوں وتجربوں کی روشنی میں یعنیٰ انسانی دماغ کی اختراع پررکھیں گئیں،اوریہی دونوں بنیادی فکریں انسانی دنیا کے مختلف قدیم و جدیدادوار میں کبھی غلو تو کبھی گراوٹ کا شکارہوکر آپس میں یا ایک دوسرے سے دست وگریباں رہی ہیں۔
حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ تک دینی تعلیمات نے ہمیشہ ان (مذہب وعقلیت) میں مفاہمت پیدا کیں،مگر نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لایا ہوا،اسلامی نظام مذہب وعقلیت کی کسوٹی پرکھرااترتا، سب سے اعلیٰ وارفع انسانی نظام حیات ہے۔
دوسرے لفظوں میں اسے یوں سمجھ لیں کہ اسلام وہ مکمل نظام حیات ہے، جس کی انسانی زندگی کے ہر شعبے کی ہر ہر تعلیمات عقلیت کی روشنی میں کھری اترتی ہیں،اورجہاں پر عقل کام کرنا بند کر دیتی ہے وہاں سے شروع ہواہر معاملہ منجانب خالق کائنات تسلیم کیا جاتا ہے،لہذا ہم اسلام کی تعریف میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ایسا مکمل انسانی نظام حیات ہے جو مذہب وعقلیت میں تطبیق پیدا کرتا،ہر نیک عمل پرجزاکی خوشخبری سناتا،اورانسانیت مخالف ہر برے عمل کی تغلیط کرتا واس پرسزامقررکرتا ہے۔