آج کے زراور زن پرستی سے پُردورمیں ہمیں اپنا ایمانی تشخص قائم رکھنااوراس اعتبارسے دین اختیار کرتے ہوئے دینی،علمی،ادبی،اخلاقی،ثقافتی،معاشرتی اوراصلاحی ترقی کی جانب خودکوگامزن رکھنا بے حد کٹھن کام لگتاہے،انسانی معاشرےکوشرپسندعناصرنے اس راہ ڈال دیاہے جس پرچلتے ہوئے ایک عام انسان کے لئے حق گوئی،اخلاقیات،صداقت،صاف ستھرا معیشت اختیارکرنا مشکل ترین امر بن گیاہے،ترقی اورخوشحالی کے کھوکھلے نعروں نے انسانیت کواپناغلام بنارکھا ہے،دنیا کی ظاہری چمک دھمک کی محسورکن ادائیں اپنے شباب پرہیں جنہوں نے انسانوں کی اکثریت کےدولت کے من مانی طریقے سے حصول اورجنسی بے راہ روی پرڈال دیاہے،تہذیب وثقافت کے عالمی سطح پرٹکراؤاورمدافعانہ شعوررکھنے والوں کی کمی کے بحران نے اسلامی تعلیمات اورمعاشرتی نظام کے حسن کوبے دریغ نقصان پہنچایاہے،معاشی سطح پرعام انسان کی فطرت کے خلاف من چاہا نظام مسلط کرکے نظام معیشت کوظاہری طورسے پرکشش اورحقیقی طورپراتنا بوجھ بنادیا گیا ہے کہ ایک عام انسان اس نظام کے بارتلے شفافیت کادرس بھول جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں قسم کے کرپشن اورنکیرحقوق العباد کے واقعات سامنے آتے ہیں،غرض یہ کہ ہرکچھ انسان کے فطری وجودکے خلاف ہورہاہے اوروہ اسے کے مطابق اپنی فطرت کوڈھالنے پرمجبورہے جب کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح ارشادہے۔
اے نبی!یکسو ہوکراپنا چہرہ دین کی طرف متوجہ کرلیں،اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پراس نے لوگوں کووجودبخشاہے،کوئی بھی تبدیلی(درست) نہیں ہے اللہ کی تخلیق کے لئے،یہی سیدھا راستہ ہے لیکن لوگوں کے اکثرجانتے نہیں ہیں۔