تمام منتظرین عیسیٰؑ کو یوم ولادت روح اللّٰہ سیدنا عیسیٰ بن مریمؑ کی تہہ دل سے مبارکباد، خدا سے دعا کرتا ہوں کہ میں حکومت الہیہ کے قیام کے اس منظر کو دیکھوں کہ جس کے لئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے بعد سورہ کوثر کی بشارت کے مطابق ہمارے اجداد یعنی آل علی علیہ السّلام اور ان کے صحابہ رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بے پناہ قربانیاں دیں، ان کی خواتین کو خود مسلمان ہونے کے دعویداروں کے ذریعہ غلام بناکر بیچا گیا، چند چند ماہ کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا، ایئر پروف کمروں میں عورتوں اور بچوں سمیت بند کرکے دم گھٹا گھٹا کر مارا گیا، منظم نسل کشی کی گئی اور گھر سے بے گھر کیا گیا، کتاب اللّٰہ اور دین میں تحریف کرنے کا الزام لگایا گیا، مذاق اڑایا گیا تذلیل و تحقیر کی گئی اور ہر طرح سے ستایا گیا پر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور ہمارے لئے صبر اور ثابت قدمی کی لازوال داستانیں چھوڑ گئے، آج عیسیٰ علیہ السّلام کی یوم ولادت والے دن جب کہ فلسطین میں حکومت الہیہ کے قیام کے سلسلے کے آغاز کی جنگ جاری ہے میں دعا گو ہوں کہ وہ دن دیکھوں کہ جب دجال کے مقابلے میں مہدی علیہ السّلام کی مدد کے لئے عیسیٰ علیہ السّلام آسمان سے اتریں، پھر اقوام متحدہ میں بلا اختلاف رائے ایک عالمی قانون پاس ہو کہ آج سے ساری دنیا پر ایک دین ایک قانون اور ایک حکمران کا نظام نافذ کیا جاتا ہے، اور دنیا سے تخت و تاج اور مذہب کی جنگ کا خاتمہ ہوجائے پھر خدا کی حکومت کے زیر سایہ لوگ امن و سکون کی زندگی گزارنے لگیں۔
نجات دہندہ کے منتظر صرف ابراہیمی مذاہب ہی نہی بلکہ دیگر بھی ہیں، اسلام کے علاوہ اہل ہنود کے یہاں بھی طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ دنیا مہاجل پلاون کے بعد پھر ازسرنو آباد ہوئی اور نسل انسانی منو اور ستروپا سے دوبارہ چلی، منو کی کشتی کو بھگوان وشنو کھے رہے تھے اور ان کے یہاں وہ قہر کے دیوتا ہیں، اس لفظ کو اگر قہار مان لیا جائے تو یہ اللٰ٘ہ کی اس وقت کی صفت ہے جب وہ غصے میں ہو اور عذاب خدا کا غصہ ہی ہے، ان کے مطابق اس کشتی میں منو کے حامی کچھ لوگ اور بھی تھے جن کی نسلیں دنیا میں پھیلیں اور ان کا مذہب آریہ ہوا، ہندو دراصل آریہ مذہب کا بگڑا ہوا روپ ہے، آریہ مذہب ہی سناتن ہوا پھر موجودہ دور میں ہندو کہلایا جانے لگا، دل چسپ بات ہے کہ آریہ آسمانی مذہب ہے اور اس کی آسمانی کتابوں کی باقیات آج تک موجود ہیں پھر بھی ان کا نبی کھویا ہوا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ قیامت والے دن ایک قوم لائی جائے گی جس کا نبی کھویا ہوا ہوگا، اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ نوح علیہ السّلام کی قوم اپنے نبی کو نہیں پہچانے گی، دونوں احادیث کو جمع کرنے پر یہ معاملہ بنتا ہے کہ جب وہ قوم انکار کردے گی کہ ہم تک اللّٰہ کا پیغام کسی نبی نے نہیں پہنچایا اور نوح علیہ السّلام بضد ہونگے کہ نہیں ہم نے پہنچایا ہے اور تم نے بھلا دیا تو اللّٰہ تعالیٰ ان دونوں سے کہے گا کہ اپنے اپنے گواہ پیش کرو، پھر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ نوح علیہ السّلام مجھے اور وہ قوم میری امت کو بطور گواہ پیش کریں گے، پھر میں نوح علیہ السّلام کی گواہی دوں گا اور میری امت اس بات کی گواہی دے گی کہ جو پیغام تمھیں ہم سے ملا وہ نوح علیہ السّلام ہی کا ہے جو ہمارے نبی محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے ہمیں ملا اور ہم نے اسے تم تک پہنچایا، پھر اللّٰہ تعالیٰ اس قوم کے حق میں جنت کا فیصلہ کردے گا، بہت سارے علماء کی طرح میں بھی یہ مانتا ہوں کہ اہل ہنود سناتنی یا آرین ہی قوم نوح ہیں، والد محترم ڈاکٹر سید ہارون حسینی ندوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے تھے کہ اہل ہنود اچانک تیزی سے اسلام قبول کریں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا امام مہدی علیہ السّلام کے دور میں ہوگا اور یہ قوم امام مہدی علیہ السّلام کے بعد اسلام کے ساتھ دنیا کی قیادت میں مرکزی کردار ادا کرے گی، اور اس طرح ان کے یہاں موجود وشو گرو کی پیشینگوئی پوری ہوجائے گی، اس قوم کو بھی آخری نجات دہندہ کا انتظار ہے، اب یہ اپنا آخری نجات دہندہ مہدی علیہ السّلام کو مانیں گے یا عیسیٰ علیہ السّلام کو تسلیم کریں گے یہ ان دونوں کی آمد پر ہی طے ہوگا، پارسی مذہب کے کچھ لوگوں نے خود کو شریعت آدم کو ماننے والے ہونے کا دعویٰ کیا مگر یہ آریہ مذہب کی ہی شاخ ہیں اور یہ بھی ابھی تک ایک آخری نجات دہندہ کے منتظر ہیں۔