اسرائیل میں عرب مسلمانوں کی کئی سیاسی پارٹیاں تھیں جن کے مختلف سیاسی نظریات تھے کوئی سیکولرزم کی دہائی دے رہا تھا کوئی سوشلزم کی کوئی نیشنلزم کی تو کوئی کمیونزم کی، ان کا آپسی طاقتور سیاسی اتحاد نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کا اس محاذ پر لگ بھگ وہی حال تھا جو ہندوستانی مسلمانوں کا ہے، انہیں کوئی پوچھتا نہ تھا پر دھیرے دھیرے انہیں عقل آئی اور انہوں نے 2015ء کے الیکشن میں کامن پوائنٹ پر اپنا سیاسی اتحاد بنا لیا جو یہ تھا کہ کسی بھی صورت میں اسرائیلی عربوں کو ان کے حقوق ملنے چاہیئں اور وہ مختلف سیاسی نظریات رکھتے ہوئے بھی اسی پر محنت سے جم گئے، چونکہ تفرقہ پر کنٹرول کرلینے پر مسلمانوں کا معاملہ اللّٰہ سے جڑ جاتا ہے لہذا اللّٰہ کا نظام بھی حرکت میں آگیا اور وہاں اگلے انتخاب سے دو سال میں چار بار انتخابات ہوئے۔
عربوں کے سیاسی اتحاد کے وجود میں آنے کے بعد اگلا انتخاب 9/اپریل/2019ء کو ہوا، کڑا مقابلہ تھا نیتن یاہو کی زیر قیادت دائیں بازو کی لیکود پارٹی اور بائیں بازو کے بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے درمیان جس کی قیادت بینی گینٹز کر رہے تھے، اس میں معاملہ برابری پر ختم ہوا، دونوں فریقوں کو 35/35 سیٹیں ملیں، متفرق پارٹیوں کو ملا کر بھی دونوں ہی ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہے، اسرائیل میں کل 120 انتخابی نشستیں ہیں اور حکومت تشکیل دینے کے لئے 61 درکار ہوتی ہیں، منصور عباس کی قیادت والی عربوں کی رام پارٹی کو اس الیکشن میں چار سیٹیں ملیں اور ایمن عودۃ کے عرب اتحاد کو چھ نشستیں حاصل ہوئیں۔
جب ایوان میں کوئی اکثریت ثابت نہیں کر سکا تو 17/ستمبر/2019 کو الیکشن دوبارہ کرانا پڑا، اس بار بھی معاملہ نہیں بن سکا، بینی گینٹز کی بلیو اینڈ وائٹ نے 33 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی لیکود پارٹی کو 32 نشستیں مل سکیں، حالات ایسے بن گئے کہ عربوں کو لئے بنا نہ حکمران پارٹی حکومت تشکیل دی سکتی تھی نہ اپوزیشن اس لئے ماہرین نے پاور شیئرنگ کو مسئلے کا حل بتایا پر دونوں رہنما پاور شیئرنگ کے کسی فارمولے پر متفق نہ ہو سکے لہٰذا کسی بھی پارٹی کی حکومت تشکیل نہ پا سکی، ایمن عودۃ کی قیادت میں عرب اتحاد کو اس بار 13/ نشستوں میں کامیابی ملی۔
اگر نیتن یاہو عربوں سے اتحاد کرتے تو ان کی مسلم مخالف سیاست کا برا حشر بنتا، ان کا تو کیرئر ختم ہوجاتا اور اگر اپوزیشن یہ کرتا تو اسے خطرہ تھا کہ اس سے نیتن یاہو اور مضبوط ہوجائیں گے اس لئے تیسرا الیکشن 2/مارچ/2020ء میں پھر منعقد کرنا پڑا، نیتن یاہو کی جماعت لیکود پارٹی کو 36 اور بلیو اینڈ وہائٹ پارٹی کو 33/نشستیں حاصل ہوئیں، ایمن عودۃ کے عرب اتحاد کو 15/سیٹیں ملیں، اس بار بھی حکومت سازی کا عمل مستحکم نہ ہوسکا، معاملہ جون کا توں بنا رہا لہذا چوتھے الیکشن کا انعقاد کرنا پڑا۔
چوتھا الیکشن 23/مارچ/2021ء کو ہوا جس میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کو 30 نشستیں حاصل ہوئیں اور بلیو اینڈ وہائٹ پارٹی کو صرف 8/ سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا، ایمن عودۃ کے عرب اتحاد کو 6 اور منصور عباس کی رام پارٹی کو 4 سیٹیں ملیں، طاقتور اپوزیشن یعنی بلیو اینڈ وائٹ کا ووٹ کھسک کر دیگر کو چلا گیا، لگاتار چار الیکشن اور پانچواں سر پر کھڑا دیکھ وہاں کی سیاسی اتھل پتھل ساری دنیا کے لئے ایک مزاق سی بن گئی، اس لئے یہ طے کیا گیا کہ جیسے تیسے سرکار بنائی جائے، ضدی اپوزیشن بھی راستے سے ہٹ گیا، راستہ صاف ہوگیا اس لئے اس بار دیگر آزاد پارٹیوں کا جھکاؤ عربوں کی طرف ہوا اور ان کے سیاسی اتحاد سے بینی گینٹز کو پچھاڑ کر یمینا پارٹی کے نفتالی بینٹ لگاتار چار بار حکمران رہے نیتن یاہو کو بے دخل کرتے ہوئے حکومت سازی میں کامیاب ہوگئے، جنہیں کوئی پوچھنے کو تیار نہیں تھا انہیں حکومت میں شامل کرنا پڑا جب کہ عربوں کی سیٹیں نہیں بڑھی تھیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کو اسرائیلی مسلمانوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے، سب سے پہلے تو ان کے قائدین کو یہ کرنا چاہئے کہ اپنی ساری چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا اتحاد بنائیں، اور اگر یہ نہیں ہوتا تو جہاں ایم آئی ایم ہو وہاں اسے انجام سے بے پرواہ ہوکر یک طرفہ ووٹ دیں کیوں کہ یہ واحد جماعت ہے جو خامیوں کے باوجود بھی ملکی سطح پر مسلمانانِ ہند کی قیادت کر سکتی ہے، جہاں ایم آئی ایم نہ ہو وہاں اپنا ووٹ خراب نہ کریں بلکہ اسے دیں جو جیت رہا ہو اور مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے میں چست درست ہو کیوں کہ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے نہ دشمن بلکہ معاملات و حقوق اہم ہوتے ہیں، اگر کسی مقام پر بی جے پی کے کسی قائد سے یہ طے ہو جائے کہ وہ مسلمانوں کا کام کرے گا تو اسے بھی ووٹ کرنے میں نہ ہچکچائیں، یاد رکھیں بی جے پی کے ووٹ نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کی طرح فکس ہیں، اس کا مخالف دھڑا یعنی کانگریس و اس کا اتحاد کسی متحدہ لائحہ عمل سے دور ہے اور دیگر بڑی و مضبوط علاقائی پارٹیوں سے اتحاد نہ کرنے پر بہ ضد بھی اس لئے مسلمان کانگریس یا اس کی ڈگر پر چل رہی دیگر علاقائی پارٹیوں کو بھی مضبوط کرنے کے چکر میں نہ پڑیں بلکہ ان کے مقابلے اپنی سیاسی طاقت خود پیدا کریں، اسرائیل کی طرز پر جب طاقت ور ضدی اپوزیشن بری طرح بکھرے گا تبھی دیگر پارٹیاں مضبوط ہونگی اور ان کا مسلمانوں سے سیاسی اتحاد ہوگا، اس وقت مشروط سیاسی اتحاد وقت کی ضرورت ہے اور کانگریس نے کبھی بھی مسلمانوں سے مشروط سیاسی اتحاد کیا ہے نہ کرے گا، مسلمان اپنے حقوق کی ادائیگی کی شرط پر بی جے پی سے بھی اتحاد کرنے کو تیار رہیں۔
اپوزیشن یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کی طرف جھکاؤ سے بی جے پی اور مضبوط ہوگی اس لئے وہ بھی اس وقت تک مسلمانوں کے لئے آواز نہیں اٹھائے گا جب تک کہ ہم خود اپنی سیاست کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے منظم نہ کریں گے کیوں کی یہ بٹا ہوا ہے اور اس کا متحد ہونا ممکن بھی نظر نہیں آتا، کانگریس و اس کے طرز پر جمی علاقائی پارٹیوں کو بلیو اینڈ وہائٹ پارٹی کی طرح کمزور ہونے دینے کی ضرورت ہے تاکہ دیگر پارٹیوں کو مینڈیٹ ملے اور بی جے پی کے خلاف ان کا اتحاد وجود میں آئے اور حکومت سازی کرے، میں ایم آئی ایم و دیگر مسلم سیاسی پارٹیوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ سیکولرزم کا نعرہ لگانا بند کر دیں، سیکولرزم ہندوستان میں مر چکا، اب سیکولرزم حقوق نہیں دے گا بلکہ حقوق دینے والا سیکولر کہلائے گا، اس لئے صرف اپنے حقوق سے مطلب رکھیں اور سب سے ہاتھ ملانے کو تیار رہیں، سیکولرزم اور آئین ہند بچانے کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کی نہیں ہے، یہ یاد رکھیں کہ ہندوتوا وادی طاقتوں نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ جو پارٹی بھی مسلمانوں کی طرف جھکے گی اس کے وجود کو خطرہ ہوگا اور جس پارٹی کو مسلمان ووٹ کرے گا وہ اگلے الیکشن میں اس کا خمیازہ بھگتے گی اور مزید کمزور ہوجائے گی اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بی جے پی مخالف پارٹیوں کو مضبوط کرنے کے لئے مسلمان اپنا ووٹ بینک خود ان سے الگ کرلے اور انہیں آزادی سے بی جے پی کا مقابلہ کرنے دے، انتخابات کے بعد اگر وہ بی جے پی کے مد مقابل کھڑی ہوسکنے کے لائق ہوں تو ان کی اسی طرح مدد کرے جیسے منصور عباس نے نفتالی بینٹ کی کی ہے۔